Urdu in Translation
搜索
书签

第 18 章,共 29 章

L'opposition

Opposition

مخالفت

Sir Syed Ahmad Khan

文字
字号

دشمنی اور عداوت، حسد اور رنجش اور ناراضی کے سوا ایک اور جذبہ انسان میں ہے جو خود اسی شخص میں کمینہ عادتیں اور رذیل اخلاق پیدا کرتا ہے اور بعوض اس کے کہ وہ اپنے مخالف کو کچھ نقصان پہنچاوے خود اپنا آپ نقصان کرتا ہے۔ اس انسانی جذبے کو ہم مخالفت کہتے ہیں۔

دشمنی اور عداوت کا منشاء اکثر اتلافِ حقوق کے سبب سے ہوتا ہے۔ زن یا زر، زمین یا خون اس جذبے کے جوش میں آنے کے باعث ہوتے ہیں۔

حسد کا منشاء صرف وہ اوصافِ حمیدہ ہوتے ہیں جو محسود میں ہیں اور حاسد ان کا خواہاں ہے، مگر وہ اس میں نہیں ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔

رنجش اور ناراضی اکثر باہمی معاشرت میں خلل واقع ہونے سے ہوتی ہے۔

مگر ان سب کے سوا ایک اور جذبہ انسان میں ہے جو بغیر ان سببوں کے جوش میں آتا ہے۔ اس کا منشاء نہ زر و زمین و زن کی دشمنی ہوتی ہے اور نہ مخالف کے اوصافِ حمیدہ کی خواہش ہوتی ہے، کیونکہ یہ شخص اپنے مخالف کے اوصافِ حمیدہ کو اوصافِ حمیدہ ہی نہیں تصور کرتا اور نہ باہمی معاشرت کا خلل اس کا باعث ہوتا ہے۔ اس لیے کہ اکثر ان دونوں میں ملاقات اور واقفیت بھی نہیں ہوتی، بلکہ اس کا منشاء صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کی مخالف رائے یا عقل و سمجھ دوسرے فریق کی رائے اور سمجھ کے مخالف ہوتی ہے۔

یہ جذبۂ مخالفت قریباً کل انسانوں میں پایا جاتا ہے، مگر مہذب اور تربیت یافتہ اور نیک دل آدمیوں میں اس کا ظہور اور طرح پر ہوتا ہے اور نامہذب اور نا تربیت یافتہ بد ذات آدمیوں میں اس کا ظہور دوسری طرح پر ہوتا ہے۔ پہلا اس مخالفت سے ہر قسم کے فائدے اٹھاتا ہے اور دوسرا ان فائدوں سے بھی محروم رہتا ہے اور دنیا میں خود اپنے تئیں بد طینت اور کذاب اور نامہذب ثابت کرتا ہے۔

دنیا میں یہ بات قریباً ناممکن ہے کہ تمام لوگ ایک رائے پر، گو وہ کیسی ہی صحیح و سچ ہو متفق ہو جاویں، پس ضرور ہے کہ آپس میں اختلافِ رائے ہو۔ نیک آدمی اپنے مخالف کی رائے کو نہایت نیک دلی سے سوچتا ہے اور ہمیشہ یہ ارادہ رکھتا ہے کہ اگر اس میں کوئی اچھی بات ہو تو اس کو چن لوں اور اگر مجھ میں کوئی غلطی ہو تو اس کو صحیح کر لوں اور جب ایسی کوئی بات اس میں نہیں پاتا تو اپنے مخالف کی غلطیوں کی اصلاح کے درپے ہوتا ہے اور ان غلطیوں کو اس طرح پر بتاتا ہے جیسے ایک دل سوز دوست بتاتا ہے۔ کہیں کہیں طبیعت کو تر و تازہ کرنے کے لیے نہایت دلچسپ ظرافت بھی کر بیٹھتا ہے اور کبھی کبھی کوئی لطیفہ بھی بول اٹھتا ہے اور باوجود مخالفت کے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔

کمینہ طبیعت اور نامہذب ناشائستہ آدمی یہ راستہ نہیں چلتا۔ وہ بات کی حسن و قبح کی طرف متوجہ نہیں ہوتا، بلکہ اپنے مخالف کے عیوبِ ذاتی سے بحث کرنے لگتا ہے۔ سخت کلامی و زشت گوئی، سب و شتم اپنا پیشہ کر لیتا ہے۔ اپنے مخالف کے عیوبِ واقعی ہی کے بیان پر بس نہیں کرتا، بلکہ ہر قسم کے بہتان اس پر لگاتا ہے، اور جھوٹی جھوٹی باتیں اس کی طرف منسوب کرتا ہے اور خود مورد ''لعنۃ اللہ علی الکاذبین'' بنتا ہے۔ اس راہ چلنے سے اور جھوٹ اتہام کرنے سے اور لعنتِ خدا کا مورد بننے سے اس کا مطلب اپنے مخالف کو بدنام کرنا اور عام لوگوں میں جو اس کے مخالف کے حال سے واقف نہیں ہیں ناراضی پیدا کرنا ہوتا ہے، مگر درحقیقت اس کا یہ مطلب حاصل نہیں ہوتا اور بعوض اس کے کہ اس کا مخالف بدنام ہو خود وہی زیادہ رسوا اور بدنام ہوتا ہے۔ اس لیے کہ جب اس مخالف کی برائی جو اس نے براہِ کذب و اتہام اس کی نسبت منسوب کی ہے مشہور ہوتی ہے، تو کوئی تو اس کو سچ سمجھتا ہے اور بہت لوگ اس کی تحقیق کے درپے ہوتے ہیں اور جب اس کی کچھ اصل نہیں پاتے تو بعوض اس کے مخالف کے خود اسی کذاب پر لعنت اور تھوہ تھوہ کرتے ہیں اور بقول شخصے کہ دروغ کو فروغ نہیں ہوتا، تھوڑے ہی دنوں میں اس کی قلعی کھل جاتی ہے اور وہ جھوٹا بدگو خود اسی گڑھے میں گرتا ہے جو اس نے اپنے مخالف کے لیے کھودا تھا۔ پس انسان کو چاہیے کہ اپنے مخالف سے بھی مخالفت کرنے میں سچائی اور راست بازی، نیکی اور نیک دلی کو کام میں لاوے کہ یہی طریقہ اپنے مخالف پر فتح پانے کا ہے، ورنہ بعوض اپنے مخالف کے خود اپنے تئیں آپ رسوا کرنا ہے۔

ہم کو بڑا افسوس ہے کہ ہمارے مخالف اس پچھلے طریقے پر ہم سے مخالفت کرتے ہیں۔ ہم کو اپنی مخالفت کا یا اپنے پر اتہام کرنے کا یا اپنی بدنامی کا کچھ اندیشہ نہیں ہے، بلکہ اس بات کا افسوس ہے کہ انجام کو ہمارے مخالف ہی رسوا و بدنام ہوتے ہیں اور دنیا انہی کو دروغ گو و کذاب قرار دیتی ہے۔ اگر ان کو ہمارے حال پر رحم نہیں ہے تو خود ان کو اپنے حال پر رحم کرنا چاہیے۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。