
Chapter 19 of 29
Hypocrisy
ریا
دنیا میں ایسے لوگ بھی بہت ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ ہوتا ہے۔ دنیادار اور رند مشرب آدمی جس قدر کہ دراصل وہ بد ہیں اس سے زیادہ اپنے تئیں بد بناتے ہیں۔ دینداری کی بناوٹ کرنے والے جس قدر کہ ہوتے ہیں اس سے زیادہ نیک اپنے آپ کو جتلاتے ہیں۔ وہ تو دینداری کی ذرا ذرا سی باتوں سے بھی بھاگتے ہیں اور دن رات عشق و تماش بینی اور لچ پنے کی باتوں کی جن کو دراصل انہوں نے کیا بھی نہیں گپیں اڑاتے ہیں اور یہ حضرت بے شمار گناہوں اور بدیوں کو ایک ظاہری دینداری کے پردے میں چھپاتے ہیں اور ٹٹی کی اوجھل شکار کھیلتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں قسم کے آدمی چنداں برے نہیں ہیں، مگر ایک اور تیسری قسم کے لوگ ہیں جو ان دونوں قسموں سے علیحدہ ہیں اور انہیں کا کچھ ذکر میں اس تحریر میں کرنا چاہتا ہوں۔ ان کی بناوٹ ایک اور ہی عجب قسم کی ہے۔ وہ اپنی بناوٹ سے دنیا کے لوگوں ہی کو فریب نہیں دیتے، بلکہ اکثر خود آپ بھی دھوکے میں پڑتے ہیں۔ وہ بناوٹ خود ان سے انہیں کے دل کے حال کو چھپاتی ہے۔ جس قدر کہ درحقیقت وہ نیک ہیں اس سے زیادہ ان کو نیک جتاتی ہے۔ پھر تو وہ لوگ یا اپنی بدیوں پر خیال ہی نہیں کرتے یا ان بدیوں کو نیکیاں سمجھتے ہیں۔ مقدس داؤدؑ نے نہایت دلچسپ لفظوں میں اس برائی سے پناہ مانگی ہے اور اس طرح پر خدا کی مناجات کی ہے ''کون اپنی غلطیوں کو سمجھ سکتا ہے تو ہی مجھ کو میرے پوشیدہ عیبوں سے پاک کر۔'' جو لوگ علانیہ بدی کرتے ہیں اگر ان کو بدیوں اور گناہوں سے بچانے کے لیے نصیحت کی ضرورت ہے تو وہ لوگ جو درحقیقت موت کی راہ چلتے ہیں اور اپنے تئیں نیکی اور زندگی کے رستے پر سمجھتے ہیں، کس قدر رحم کے لائق ہیں اور کتنی نصیحت کے محتاج ہیں۔ پس میں چند قاعدے بیان کرنا چاہتا ہوں جن سے وہ بدیاں جو دل کے کونوں میں چھپی ہوتی ہیں اور جن کے چھپے رہنے سے انسان خود اپنے دل کا سچا حال آپ نہیں جان سکتا معلوم ہو سکیں۔
عام قاعدہ تو اس کے لیے یہ ہے کہ ہم خود اپنے آپ کو ان مذہبی اصولوں سے جو ہماری ہدایت کے لیے مقدس کتاب اللہ میں لکھے ہیں جانچیں اور اپنی زندگی کو اس پاک شخص کی زندگی سے مقابلہ کریں جس نے یہ فرمایا کہ ''انا بشر مثلکم یوحیٰ الیّ انما الٰھکم الٰہ واحد'' اور جو اس درجۂ کمال تک پہنچا جہاں تک انسان کا پہنچنا ممکن ہے اور جس کی زندگی ہماری زندگی کے لیے نمونہ ہے اور جو اپنی پیروی کرنے والوں کے لیے، بلکہ تمام دنیا کے لیے بڑا ہادی اور بہت بڑا دانا استاد ہے۔ ان دونوں قاعدوں کے برتنے میں بڑی بڑی غلطیاں پڑتی ہیں۔ کچھ تو لوگوں کی سمجھ میں غلطیاں ہوتی ہیں اور کچھ آپس میں اختلافِ رائے ہوتا ہے جو بن ہوئے رہ نہیں سکتا اور کچھ زمانے کے گزرنے سے ٹھیک ٹھیک حالت اور کیفیت ان واقعات کی جو گزرے معلوم نہیں ہو سکتی، اس لیے برخلاف اگلے مسلمان مصنفوں کے صرف انہی قاعدوں کے بیان کرنے پر میں اکتفا نہیں کرتا، بلکہ اور بھی قاعدے بیان کرتا ہوں جو انسان کو ٹھیک ٹھیک مطلوبہ راہ پر لے آتے ہیں۔
اپنے پوشیدہ عیبوں کے معلوم کرنے کا ایک عمدہ قاعدہ یہ ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں کہ ہمارے دشمن ہم کو کیا کہتے ہیں۔ ہمارے دوست اکثر ہمارے دل کے موافق ہماری تعریف کرتے ہیں، یا تو ہمارے عیب ان کو عیب ہی نہیں معلوم ہوتے اور یا ہماری خاطر کو ایسا عزیز رکھتے ہیں کہ اس کو رنجیدہ نہ کرنے کے خیال سے ان کو چھپاتے ہیں یا ایسی نرمی سے کہتے ہیں کہ ہم ان کو نہایت ہی خفیف سمجھتے ہیں۔ برخلاف اس کے دشمن ہم کو خوب ٹٹولتا ہے اور کونے کونے سے ڈھونڈ کر ہمارے عیب نکالتا ہے۔ گو وہ دشمنی سے چھوٹی بات کو بہت بڑا کر دیتا ہے، مگر اکثر اس کی کچھ نہ کچھ اصلیت ہوتی ہے۔
تانباشد چیزکے مردم نگویند چیزہا
دوست ہمیشہ اپنے دوست کی نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور دشمن عیبوں کو، اس لیے ہم کو اپنے دشمن کا زیادہ احسان مند ہونا چاہیے کہ وہ ہم کو ہمارے عیبوں سے مطلع کرتا ہے۔ اگر ہم نے اس کے طعنوں کے سبب ان عیبوں کو چھوڑ دیا تو دشمن سے ہم کو وہی نتیجہ ملا جو ایک شفیق استاد سے ملنا چاہیے تھا۔
دشمن جو عیب صحیح یا غلط ہم میں لگاتا ہے ہمارے فائدے سے خالی نہیں۔ اگر وہ ہم میں ہوتا ہے تو ہم اپنے عیب سے مطلع ہوتے ہیں اور اگر نہیں ہوتا تو خدا کا شکر کرتے ہیں کہ وہ عیب ہم میں نہیں۔ سچ ہے کہ ''دشمن از دوست ناصح تراست، این جز نکوئی نگوید و این جز بدی نجوید۔''
پلوٹارک کا دشمنی کے فائدوں پر جو مضمون ہے اس میں اس نے یہ بات لکھی ہے کہ دشمن جو ہم کو بدنام کرتے ہیں اس سے ہم کو ہماری برائیاں معلوم ہوتی ہیں اور ہماری گفتگو میں اور ہمارے چال چلن میں اور ہماری تحریر میں جو نقص ہیں وہ بغیر ایسے دشمن کی مدد کے کبھی معلوم نہیں ہوتے۔
علیٰ ہذا القیاس اگر ہم خود اپنے آپ کو سمجھنا چاہیں کہ ہم کیا ہیں تو ہم کو اس بات پر غور کرنی چاہیے کہ جو لوگ ہماری تعریف کرتے ہیں اس میں سے ہم کس قدر کے مستحق ہیں اور پھر یہ سوچنا چاہیے کہ جن کاموں کے سبب سے وہ تعریف کرتے ہیں وہ کام ہم عمدہ غرض سے اور نیک نیتی سے دنیا کو فائدہ پہنچانے کے لیے کرتے ہیں یا نہیں اور پھر ہم کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وہ نیکیاں جن کے سبب ہماری تعریف کرنے والے ہماری تعریف کرتے ہیں دراصل ہم میں کہاں تک ہیں۔ ان باتوں پر انسان کو بخوبی غور کرنا نہایت ضرور ہے، کیونکہ ہمارا یہ حال ہے کہ کبھی تو ہم لوگوں کی رایوں کو جو ہماری نسبت ہیں پسند کر کر اپنے تئیں بہت بڑا سمجھنے لگتے ہیں اور کبھی ان کو ناپسند کرتے ہیں اور جو کچھ ہمارا دل کہتا ہے اس کے مقابلہ میں ان تمام رایوں کو نہیں مانتے۔
ہم کو ایسی نیکی پر بھی جس کو ہم نے اپنے خیال میں نیک سمجھا ہے، مگر درحقیقت اس کی نیکی مشتبہ ہے زیادہ اصرار کرنا نہیں چاہیے، بلکہ ان لوگوں کی رایوں کی بھی نہایت قدر و منزلت کرنی چاہیے جو ہم سے اختلاف رکھتے ہیں اور جو عقل مند اور نیک دل ہیں اور جس طرح ہم نیک دلی سے بات کہتے ہیں اسی طرح وہ بھی نیک دلی سے ہم سے مخالفت کرتے ہیں، مگر یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان اختلاف کرنے والوں نے صرف آزادیِ رائے اور اس دلی نیکی سے جس کے سرچشمے کی سوت قدرت نے ہر ایک انسان کے دل میں کھولی ہے اختلاف کیا ہے یا کسی بیرونی دباؤ یا پابندیِ رسم و رواج اور تعصب اور تقلید نے ان کے دل کو پھیرا ہے، کیونکہ اگر یہ پچھلی بات اختلافِ رائے کا سبب ہو تو وہ نہایت بے قدر ہو جاتی ہے۔
جہاں ہم کو دھوکا کھانے کا احتمال ہے وہاں ہم کو نہایت ہوشیاری اور بہت خبرداری سے کام کرنا چاہیے۔ حد سے زیادہ سرگرمی اور تعصب اور کسی خاص فرقے کو یا کسی خاص رائے کے لوگوں کو برا اور حقیر سمجھنا یہ ایسی باتیں ہیں جن سے ہزاروں آفتیں پیدا ہوتی ہیں۔ وہ فی نفسہ نہایت ہی بری ہیں، گو کہ وہ ہم سے کمزور دل آدمیوں کو اچھی معلوم ہوتی ہوں، مگر اس پر بھی خیال رکھنا چاہیے کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو دینداری اور نیکی کے لیے نہایت مشہور ہیں، مگر نہایت لغو اور نرے شیطانی اصولوں کو نیکی سمجھ کر اپنے دلوں میں ان کی جڑ گاڑ دی ہے۔ میں اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ میں نے آج تک کوئی ایسا عقلمند اور انصاف پسند شخص نہیں دیکھا جس میں پوری پوری یہ سب باتیں ہوں اور پھر بھی وہ گناہ سے پاک ہو۔
اسی طرح ہم کو ان کاموں سے بھی ڈرنا چاہیے جو انسان کے کمزور دل کی قدرتی بناوٹ سے یا کسی خاص شوق سے یا کسی خاص تعلیم کے اثر سے یا کسی اور سبب سے ہوتی ہیں جس میں ہمارا دنیوی فائدہ ہے۔ ایسی حالت میں انسان کی سمجھ نہایت آسانی سے حق بات کی طرف سے پھر جاتی ہے اور اس کا دل غلطی کی طرف مائل ہو جاتا ہے اور یہی باتیں ہیں جن کے سبب سے تعصب اور ہزاروں غلطیاں اور پوشیدہ برائیاں اور لامعلوم عیب انسان کے دل میں گھس جاتے ہیں۔ جس کام کے کرنے میں عقل کے سوا اور جذبوں کی بھی ترغیب ہو اس کے کرنے میں عقل مند آدمی کو ہمیشہ ڈرنا اور ہمیشہ اس پر شبہ کرنا چاہیے کہ ضرور اس میں کوئی نہ کوئی برائی چھپی ہوئی ہو گی۔
ان اصولوں پر اپنے خیالوں کو جانچنا اور اپنے دل کو ٹٹولنا اور دل کے تاریک جذبوں کو ڈھونڈنا ہمارے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز مفید نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے دل میں ایسی مضبوط نیکی بٹھانی چاہیں جو قیامت کے دن ہمارے کام آوے، جس دن کہ ہمارے بھیدوں کا جاننے والا ہمارے دل کو جانچے گا جس کی عقل اور انصاف کی کچھ انتہا نہیں، تو ان اصولوں پر چلنے سے بہتر ہمارے لیے کوئی راہ نہیں۔ ہمارے بانیِ اسلام نے جب ہم کو یہ سکھلایا ہے کہ خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے، ہمارے دل کے چھپے بھیدوں کو جانتا ہے تو اس نے کس خوبی اور خوبصورتی سے اس ریاکاری کی برائی ہم کو بتلا دی جس سے انسان دنیا کو دھوکا دیتا ہے اور خود اپنے آپ کو ہی فریب میں ڈالتا ہے۔ داؤدؑ نے بھی اپنی مناجات میں اس ریاکاری کے خوف کو جس سے انسان خود اپنے آپ کو دھوکا دیتا ہے نہایت دلچسپ لفظوں میں ادا کیا ہے جہاں اس نے کہا ہے کہ اے خدا تو مجھ کو جانچ، میرے دل کی تہ کو ڈھونڈ، میرے خیالوں کو دیکھ، مجھ کو ٹٹول، مجھ کو بخوبی پرکھ کہ مجھ میں کس برائی نے راہ کی ہے اور مجھ کو ایسی راہ پر لے چل جو ہمیشہ کو قائم رہے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.