Urdu in Translation
Search

Chapter 13 of 29

Воспитание детей

The Upbringing of Children

تربیتِ اطفال

Сэр Саййид Ахмад-хан

Script
Size

اگر ہم اس بات پر خیال کریں کہ انسانوں کے عیوب مثل کالے بادلوں کے جمع ہو کر ہم ہی پر برستے ہیں تو دنیا سے انسانوں کے عیوب بہت ہی کم ہو جاویں اور اگر ہم مرے ہوئے لوگوں کی آواز پر کان دھریں اور سمجھیں کہ وہ قبروں میں پڑے ہوئے زبانِ حال سے کیا کہہ رہے ہیں، تو شاید ایک بھی برائی دنیا میں نہ رہے۔ مگر افسوس کہ ہماری آنکھیں اندھی اور ہمارے کان بہرے ہیں۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب وقت گزر جاتا ہے تو بہت سی باتوں کا پچھتاوا آتا ہے کہ افسوس ہم نے یہ نہ کیا اور وہ نہ کیا اور اس وقت پچھتانے سے کیا ہوتا ہے کیونکہ گیا وقت پھر ہاتھ نہیں آتا اور لاعلاج رنج کا نہایت ہی جانکاہ رنج ہوتا ہے۔ پس اگر ہم ایسے سخت رنج سے بچنا چاہیں تو اس کا علاج صرف یہی ہے کہ موجودہ وقت کو غنیمت جانیں۔

غنیمت داں ہمیں دم کہ حالست

یہ بات جو ہم نے لکھی ٹھیک ٹھیک انسانوں کی طفولیت کی حالت سے نہایت ہی مناسبت رکھتی ہے۔ اس لیے کہ جو عمر اور وقت تربیت کا ہے جب وہ گزر جاتا ہے تو بجز لاعلاج رنج رہ جانے کے اور کچھ نہیں ہوتا اور پھر ان کا نا تربیت یافتہ رہنا مثل کالی گھٹا کے ہم پر کڑکتا ہے اور ہم پر برستا ہے اور کسی کے گھر کو بہا دیتا ہے اور کسی کے خانماں کو جلا دیتا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزوں میں قدرتی تبادلہ ہوتا رہتا ہے اور بجز انسان کے ایسی اور کوئی چیز نہیں ہے جس کو اس تبادلہ میں کچھ دخل ہو۔ اگرچہ انسان کو کسی چیز کے پیدا کرنے کی طاقت نہیں ہے مگر اس میں اتنی قدرت ہے کہ بہت سی چیزوں کو اپنے اختیار اور قابو میں کر کر اس قدرتی تبادلہ میں شریک ہو۔ انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جو تھوڑا بہت کارخانۂ قدرت کے بگاڑنے یا سنوارنے میں دخل رکھتا ہے۔ وہی ایسا ذی عقل اور ذی شعور مخلوق ہے کہ دنیا کی آئندہ رفتار کو روک سکتا ہے یا ترقی کر سکتا ہے یا ابتر و خراب حالت میں ڈال سکتا ہے۔

یہ اقتدار اس ناکامل اور فانی وجود کا جیسا کہ لڑکوں کے تربیت یافتہ یا نا تربیت یافتہ رکھنے سے ظاہر ہوتا ہے ایسا اور کسی چیز سے ظاہر نہیں ہوتا جبکہ ہم لڑکوں کی حالت پر غور کرتے ہیں اور ان کی بھولی بھالی اور سیدھی سادی طبیعتوں کو ہر ایک قسم کے گناہ سے پاک پاتے ہیں اور ہر قسم کی تربیت کی استعداد ان میں دیکھتے ہیں تو ہم کو خدا کی کامل قدرت کا نمونہ دکھائی دیتا ہے اور یقین ہوتا ہے کہ وہ اس ذاتِ کامل کی دلی بخشش کی ہوئی چیزیں ہیں۔ اس کے بعد ایک زمانے تک وہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں۔ ہمارے سامنے ان کی عقل و فہم کی ترقی ہوتی ہے اور ہماری تعلیم اور تربیت ان میں اثر کرتی ہے اور یا تو اچھی اچھی مثالوں کے دیکھنے سے ان میں عمدہ عمدہ عادتیں اور خصلتیں بیٹھ جاتی ہیں اور یا بری بری نظیروں کے دیکھنے سے شروع ہی سے ان میں بد عادتیں اور خراب خصلتیں پڑ جاتی ہیں۔ بہر حال لڑکپن کا موسم نکل جاتا ہے اور جو کچھ کہ لڑکوں نے ہماری صحبت اور تربیت سے نیک یا بد حاصل کیا ہو اس کا اثر دنیا میں رہ جاتا ہے۔

لڑکپن کے زمانے میں جو عمر کہ سات برس سے پندرہ برس تک ہے وہی ایسا زمانہ زندگی کا ہے جس میں آئندہ کی بہبودی کے لیے زیادہ تر کوشش ہو سکتی ہے۔ اس زمانے میں لڑکوں کا دل ہر چیز کا متلاشی رہتا ہے۔ حافظہ تیز ہوتا ہے، قوتِ غور مضبوط ہوتی ہے، اچھی عادتوں کا دیکھنا اور عمدہ عمدہ نظیروں سے تربیت پانا جس کو عموماً نیک صحبت کہتے ہیں نہایت ہی مؤثر ہوتا ہے۔ یہ زمانہ لڑکوں کے لیے ذہنی و عقلی اور اخلاقی تخم ریزی کا ہوتا ہے کیونکہ اس وقت تعلیم کو دل نہایت جلد قبول کرتا ہے اور اس کے تخم کو جس میں آئندہ نہایت عمدہ عمدہ پھل پھول پیدا ہوں گے بہت جلد اگا دیتا ہے لیکن اگر اس زمانے میں تربیت نہیں ہوئی تو پھر بہت ہی کم فائدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جوں جوں دن گزرتے جاتے ہیں، عادت میں مضبوطی آتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ آخرکار عادت طبیعت سے مل جاتی ہے اور طبیعتِ ثانی کہلاتی ہے جس کا بدلنا نہایت ہی دشوار ہوتا ہے۔

ایک نہایت لائق شخص کا حکیمانہ قول ہے کہ ''لڑکپن کی طبیعت کتنی بڑے امر اہم کی چیز ہے کہ آئندہ کی بھلائی یا برائی اسی کی احتیاط و غیر احتیاط پر منحصر ہے جو لڑکوں کے مربیوں کی طرف سے ہوتی ہے''۔ پس جو لوگ کہ قومی تربیت یا قومی ترقی کے خواہاں ہیں ان کا سب سے بڑا کام یہی ہے کہ لڑکوں کی تربیت کے لیے عمدہ انتظام کریں جن سے ہم کو آئندہ کی بہبودی کی توقع ہے ورنہ ہم پر یہی مثل صادق آوے گی کہ ''میاں کہیں بوڑھے طوطے بھی پڑھے ہیں''۔

ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں تربیتِ اطفال کا کوئی ذریعہ موجود نہیں ہے اور بڑا سبب ان کی حالت کے تباہ ہونے اور اولاد کے نالائق رہنے یا آوارہ ہو جانے کا یہی ہے۔ ہم ان حالتوں کا ذکر نہیں کرتے جن میں اطفال آوارہ اور خراب ہو جاتے ہیں کیونکہ اس کو تو سب برا جانتے ہیں بلکہ ہم اس حالت کا ذکر کرتے ہیں جس میں غلطی سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ہماری اولاد نے خوب تربیت پائی ہے۔ غلطی اس لیے ہے کہ حقیقت میں وہ تربیت عمدہ تربیت نہیں ہے اور یہی سبب ہے کہ ان کو کچھ لیاقت نہیں آتی اور ان کے دل میں اخلاقی فیاضی اور تربیت کی آزادگی اور دل کی کشادگی نہیں ہوتی۔ تمام قویٰ جو ان میں خدا تعالیٰ نے رکھے ہیں سب پژمردہ اور ناکارہ رہ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ ان میں وہ قویٰ جن سے انسان اپنے کسی زمانہ عمر میں نام آور اور دل چلا اور عالی حوصلہ غیرت والا ہوتا ہے باقی نہیں رہتے۔

مسلمانوں میں اگر کسی شخص کی اولاد عوام الناس کے لونڈوں میں کھیل کود سے بچے اور اپنے ہی ہمجولیوں میں رہے اور اپنے یا اپنے ہمسر خاندان کی صحبت اٹھائے اور دوزانو بیٹھنا اور جھک کر سلام کرنا یا عین کو ٹھیک اس کے مخرج سے نکال کر سلامٌ علیک کرنا اور ہاتھ جوڑ کر مزاج شریف پوچھنا سیکھ جاوے تو نہایت سعادت مند اور تربیت یافتہ گنا جاتا ہے اور جب اس کے ساتھ اس کو کچھ لکھنا پڑھنا بھی آتا ہو اور کسی میاں جی یا ملا سے پڑھتا بھی ہو تو وہ تربیت کے کنگورہ پر پہنچا ہوا سمجھا جاتا ہے اور اگر بخت و اتفاق سے اس نے دو چار کتابیں زیادہ پڑھ لیں اور صدرہ شمس بازغہ پڑھنے لگے تو پھر تو باوا جان پھولے بھی نہیں سماتے اور لڑکے کا میاں مولوی اور میاں فاضل محمد کے سوا اور کوئی نام ہی نہیں لیتے اور اگر ایسا اتفاق ہوا کہ چند تعصباتِ مذہبی نے ان کا گلا گھونٹا اور نماز پڑھ پڑھ کر ماتھے پر سیاہ گٹا ڈال لیا اور دو چار فقہ حدیث کی کتابیں پڑھ لیں اور مسئلہ مسائل بھگارنے لگے پھر تو وہ عرش سے بھی آگے بڑھ گئے اور شبلیؒ و جنیدؒ کو بھی ٹرخانے لگے۔

مگر صرف اتنا ہی جتنا کہ بیان ہوا کافی نہیں ہے بلکہ مفید تربیت ہونے کے لیے اور بہت کچھ ہونا چاہیے۔ پس اگر غور سے دیکھا جاوے اور انصاف کیا جاوے تو یہ تربیت کچھ تربیت نہیں ہے۔ ایسی تربیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکوں کے خیالات مثل جانوروں کے خیالات کے محدود ہو جاتے ہیں اور کسی قسم کی ترقی کا مادہ ان میں نہیں رہتا۔ ان کی حرکات مؤدبانہ صرف ایسے بندر کی سی حرکات ہوتی ہیں جس کو سلام کہنا اور ادب سے بیٹھنا اور کھڑے رہنا سکھایا ہو۔ ان حرکات میں ان اخلاقی اوصاف کا جن سے ازخود حرکاتِ انسانی بلا تصنع قدرتی ادب و اخلاق کے مقتضیٰ پر ہوتی ہیں کچھ بھی اثر نہیں پایا جاتا بلکہ انسان میں جو ایک مہذب دلیری اور مؤدب بہادری اور ممدوح خود داری ہونی چاہیے جس کو مختصر لفظ غیرت سے تعبیر کیا جاتا ہے ایسے ادب سکھانے سے باقی نہیں رہتی۔ اس کی طبیعت بعوض اس کے کہ بلند ہونے پر مائل ہو پست ہونے پر رجوع کرتی ہے جس کا بد اثر اس کی آئندہ عمر میں ظاہر ہوتا ہے۔

پڑھنا لکھنا آ جانے سے اور منطقی یا فلسفی ہو جانے سے کامل تربیت خیال نہ کر لینی چاہیے۔ قطعِ نظر اس کے کہ علومِ غیر مفیدہ کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتے صرف پڑھ لکھ لینے سے تربیت کامل نہیں ہو جاتی۔ بہت سے پڑھے لکھے ایسے موجود ہیں جو بلحاظ تربیت کے محض ایک کندۂ ناتراش ہونے سے کچھ زیادہ رتبہ نہیں رکھتے۔ پس تربیتِ کامل کے لیے جیسا کہ علومِ مفیدہ کا پڑھنا شرط ہے ویسا ہی اس کے ساتھ لڑکے کی زندگی کا ایسے طور پر اور ایسی حالت پر بسر ہونا ضرور ہے جس سے روز بروز اس کے خیالات کو وسعت ہوتی جاوے، اس کی امنگ بڑھتی جاوے، اس کے قویٰ شگفتہ و شاداب رہیں۔ غیرت جو ایک بڑا جوہر انسان کا ہے اور برائیوں سے بچانے کے لیے نہایت عمدہ اور سچا محافظ ہے ہمیشہ ترقی پر رہے۔ ظاہری اخلاق اور مؤدبانہ حرکات اوپر اوپر مثل روغنِ قاز کے نہ لگائے جاویں بلکہ مثل چشمۂ شیریں کے خود اندر سے نکلیں۔ نماز و روزہ اور کتبِ مذہبی کا پڑھنا فی نفسہ نہایت عمدہ چیز ہے مگر جب اس کی تعلیم ایسے بد طریقے سے ہوتی ہے جیسے کہ اب مسلمانوں میں مروج ہے اس سے بجز اس کے کہ بد تعصبات بڑھ جاویں اور بعوض نیکی اور نیک دلی کے صفاتِ ذمیمہ ترقی پکڑیں اور مثل کانٹے دار سخت پوست کے دل کو گھیر لیں جس میں نیکی اور رحم اور رقت اور ہمدردی سچائی اور راست بازی مطلق اثر کرنے نہ پائے اور کچھ نتیجہ نہیں ہوتا ایسا تربیت یافتہ شخص بجائے اس کے کہ فخرِ اسلام ہوتا ننگِ اسلام ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو جہاں اپنی اولاد کی تعلیم کی فکر ہونی چاہیے اسی کے ساتھ اس بات کی بھی بہت بڑی فکر لازم ہے کہ زمانہ تربیت اور تحصیلِ علم میں لڑکوں کی زندگی بسر کرنے کی کیا تدبیر کرنی چاہیے جس سے مقاصدِ مذکورہ بخوب ترین وجوہ حاصل ہوں۔

کچھ خفا ہونے کی بات نہیں ہے۔ ٹھنڈے دل سے سمجھنا چاہیے کہ مذہبی تعلیم اور پند و نصائح کا اثر صرف دل پر ہوتا ہے۔ یہ ضرور نہیں ہے کہ خواہش پر بھی اس کا اثر ہو اور اس لیے راست باز اور متدین اور پرہیزگار عالی ہمت، مستقل مزاج اور رنج و مصیبت میں ثابت قدم ہونے کے لیے یہ بات ضرور ہے کہ لڑکوں کا دل اور ان کی طبیعت ان صفات پر بخوبی حاوی ہو جاوے ورنہ تمام پند و نصائح اور نماز و روزہ نقش برآب ہوتا ہے اور نہایت جلد سب میں فتور آ جاتا ہے اور تمام زندگی کی امیدیں اور بہبودیاں جاتی رہتی ہیں اور اس کا سبب صرف یہی ہے کہ ان سے کہا گیا پر سمجھنے نہیں دیا کہ فلانی چیز درحقیقت عمدہ ہے اور ہر چیز کی قدر صرف اس کی عمدگی ہی پر منحصر ہے۔

اگرچہ لڑکوں کی تعلیم کا فرضِ مقدم ان کے ماں باپ پر ہے مگر جیسی تعلیم کہ مطلوب ہے وہ بغیر اس کے کہ تمام قوم آپس میں متفق ہو کر اس کو قائم نہ کرے ممکن نہیں ہے اور اس لیے وہ فرض تمام قوم سے متعلق ہوتا ہے اور کچھ شک نہیں ہے کہ ایسے سامانِ تعلیم کے موجود نہ ہونے سے تمام قوم گنہگار اور شرمسار ہے اور اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ اب لوگ ہوشیار ہوں گے اور اس فرضِ کفایہ کے پورا کرنے پر جو بسبب ضرورت و حاجتِ شدید کے رتبہ میں فرضِ عین سے زیادہ بڑھ گیا ہے توجہ فرماویں گے۔

واللہ ولی التوفیق وھو حسبی و نعم الرفیق۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.