Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 12 из 29

Образование и воспитание

Education and Training

تعلیم و تربیت

Сэр Саййид Ахмад-хан

Письмо
Размер

ایک مصنف کی ایک بات کو ہم اپنی طرز پر اپنے لفظوں میں بیان کرتے ہیں

تعلیم اور تربیت کو ہم معنی سمجھنا بڑی غلطی ہے، بلکہ وہ جدا جدا دو چیزیں ہیں۔ جو کچھ کہ انسان میں ہے اس کو باہر نکالنا انسان کو تعلیم دینا ہے اور اس کو کسی کام کے لائق کرنا اس کا تربیت کرنا ہے۔ مثلاً جو قوتیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہیں ان کو تحریک دینا اور شگفتہ و شاداب کرنا انسان کی تعلیم ہے اور اس کو کسی بات کا مخزن اور مجمع بنانا اس کی تربیت ہے۔

انسان کو تعلیم دینا درحقیقت کسی چیز کا باہر سے اس میں ڈالنا نہیں ہے، بلکہ اس کے دل کی سوتوں کا کھولنا اور اندر کے سرجی چشمے کے پانی کو باہر نکالنا ہے جو صرف اندرونی قویٰ کو حرکت میں لانے اور شگفتہ و شاداب کرنے سے نکلتا ہے اور انسان کو تربیت کرنا، اس کے لیے سامان کا مہیا کرنا اور اس سے کام کا لینا ہے۔ جیسے جہاز طیار ہونے کے بعد اس پر بوجھ لادنا اور حوض بنانے کے بعد اس میں پانی کا بھرنا۔

پس تربیت پانے سے تعلیم کا بھی پانا ضرور نہیں ہے۔ تربیت جتنی چاہو کرو اور اس کے دل کو تربیت کرتے کرتے منہ تک بھر دو، مگر اس سے دل کی سرجی سوتیں نہیں کھلتیں، بلکہ بالکل بند ہو جاتی ہیں۔ اندرونی قویٰ کو حرکت دیے بغیر تربیت تو ہو جاتی ہے مگر تعلیم کبھی نہیں ہوتی۔ اس لیے ممکن ہے کہ ایک شخص کی تربیت تو بہت اچھی ہو اور تعلیم بہت بری۔ یہی ٹھیک ٹھیک حال ہم مسلمانوں کے عالموں اور تربیت یافتہ لوگوں کا ہے کہ تربیت تو نہایت اچھی ہے اور تعلیم کچھ نہیں۔ ظاہر میں دیکھو تو طمطراق بہت کچھ، مگر جب اصلیت ڈھونڈو تو کچھ نہیں۔ بھاری بھرکم تو عمامہ و دستار، جبہ اور کرتہ سے بہت کچھ، مگر دل کی اور اندرونی قویٰ کی شگفتگی دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ نہایت عمدہ قول ہے کہ کتابوں کا پڑھا دینا تو تعلیم کا نہایت ادنیٰ اور سب سے زیادہ حقیر جزو ہے۔ بلکہ اس قسم کے بہت سے پڑھنے سے جس میں اندرونی قویٰ کی تحریک اور شگفتگی نہ ہو جس قدر دل کے قویٰ کمزور اور ناکارہ ہو جاتے ہیں ایسے اور کسی چیز سے نہیں ہوتے۔

ہم اپنے ہاں کے عالموں کا حال بالکل یہی دیکھتے ہیں کہ ان کے روحانی قویٰ بالکل نیست و نابود ہو جاتے ہیں اور صرف زبانی بک بک یا تکبر و غرور اور اپنے آپ کو بے مثل و نظیر قابلِ ادب سمجھنے کے اور کچھ باقی نہیں رہتا۔ زندہ ہوتے ہیں مگر دلی اور روحانی قویٰ کی شگفتگی کے اعتبار سے بالکل مردار ہوتے ہیں۔ کتابیں پڑھتے ہیں اور جس قدر عمدہ کتابیں افراط سے بہم پہنچیں ان کو اور زیادہ پڑھتے ہیں اور ان سے تربیت حاصل کرتے ہیں اور ایسے بیل کی مانند ہو جاتے ہیں جو برابر چرتا ہے اور پھر بھی چراگاہ ہی میں رہنے کی خواہش کرتا ہے۔ پس کتابیں پڑھ لینے سے انسانیت نہیں آ جاتی بلکہ وہ کتابی علم خود ان پر بوجھ ہوتا ہے۔

اس تقریر سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ تمام خرابیوں کی جڑ جو ہم پر نازل ہیں یہی ہے کہ ہم نے اپنے دل کو اور اپنے اندرونی قویٰ کو بالکل خراب کر دیا ہے۔ علم جو حاصل کرتے ہیں وہ بھی بعوض اس کے کہ روحانی قویٰ کو شگفتہ و شاداب کرے ان کو پژمردہ بلکہ مردہ کر دیتا ہے اور ہمارے قویٰ کو جو درحقیقت سرچشمے تمام نیکیوں کے ہیں بالکل کمزور اور ناکارہ کر دیتا ہے اور ہماری حالت تمام معاملات میں کیا دین کے اور کیا دنیا کے خراب ہوتی چلی جاتی ہے۔ پس ہم کو اپنے پر رحم کرنا چاہیے اور ایسی تعلیم کو اختیار کرنا چاہیے جو اندرونی قویٰ کو شگفتہ و شاداب کرے اور دل کی سوتوں کو کھول کر سرجی چشمہ سے پانی باہر نکالے جس سے ہماری زندگی سرسبز و شاداب ہو۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.