
Chapitre 3 sur 8
His Looks, His House and His Day
حلیہ، گھر اور معمولات
مولوی صاحب کی کوئی بات نہ تھی جس میں خوش مذاقی کا پہلو نہ ہو۔ کوئی قصہ نہ تھا جس میں ظرافت کوٹ کوٹ کر نہ بھری ہو۔ کوئی طرز بیان نہ تھا جو ہنساتے ہنساتے نہ لٹا دے۔ وہ دوسروں کو ہنساتے تھے اور چاہتے تھے کہ دوسرے اپنی باتوں سے ان کو ہنسائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم (اور خاص کر میں) مولوی صاحب کے سامنے بہت شوخ ہو گئے تھے، لیکن وہ طرح ہی نہیں دیتے تھے، بلکہ کہا کرتے تھے کہ مجھے مقطع اور مسمسے شاگردوں سے نفرت ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی صاحب یہ توقع رکھیں کہ میں مولوی صاحب کے حالات، متانت کا پہلو اختیار کر کے لکھوں، تو میں اس کا صرف یہی جواب دوں گا کہ ’’ہائے کم بخت! تونے پی ہی نہیں۔‘‘
لیجئے، اب مولوی صاحب کا حلیہ سنیئے۔۔۔ رنگ سانولا مگر روکھا، قد خاصا اونچا تھا، مگر چوڑان نے لمبان کو دبا دیا تھا۔ دہرا بدن، گدرا ہی نہیں بلکہ مٹاپے کی طرف کسی قدر مائل۔ فرماتے تھے کہ بچپن میں ورزش کا شوق تھا۔ ورزش چھوڑ دینے سے بدن جس طرح مرمروں کا تھیلا ہو جاتا ہے، بس یہی کیفیت تھی۔ بھاری دن کی وجہ سے چونکہ قد ٹھنگنا معلوم ہونے لگا تھا س لیے اس کا تکملہ اونچی ترکی ٹوپی سے کر دیا جاتا تھا۔ کمر کا پھیر ضرورت سے زیادہ تھا۔ توند اس قدر بڑھ گئی تھی کہ گھر میں ازاربند باندھنا بھی بے ضرورت ہی نہیں، تکلیف دہ سمجھا جاتا تھاا ور محض ایک گرہ کو کافی خیال کیا گیا تھا۔ گرمیوں میں تہمد ( تہ بند) باندھتے تھے، اس کے پلو اڑسنے کی بجائے ادھر ادھر ڈال لیتے تھے۔ مگر اٹھتے وقت بہت احتیاط کرتے تھے۔ اول تو قطب بنے بیٹھے رہتے تھے اگر اٹھنا ہوتو پہلے اندازہ کرتے تھے کہ فی الحال اٹھنے کو ملتوی کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ضرورت نے بہت مجبور کیا تو ازار بند کی گرہ یا تہمد کے کونوں کو اڑسنے کا دباؤ توند پر ڈالتے تھے۔
سر بہت بڑا تھا مگر بڑی حد تک اس کی صفائی کا انتظام قدرت نے اپنے اختیار میں رکھا تھا۔ جو تھوڑے رہے سہے بال تھے وہ اکثر نہایت احتیاط سے صاف کرا دیے جاتے تھے، ورنہ بالوں کی یہ کگر سفید مقیش کی صورت میں ٹوپی کے کناروں پر جھالر کا نمونہ ہو جاتی تھی۔ آنکھیں چھوٹی چھوٹی، ذرا اندر کو دھنسی ہوئی تھیں۔ بھنویں گھنی اور آنکھوں کے اوپر سایہ افگن تھیں۔ آنکھوں میں غضب کی چمک تھی۔ وہ چمک نہیں جو غصے کے وقت نمودار ہوتی ہے، بلکہ یہ وہ چمک تھی جس میں شوخی اور ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اگر میں اس کو مسکراتی ہوئی آنکھیں کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔
کلہ جبڑا بڑا زبر دست پایا تھا۔ چونکہ دہانہ بھی بڑا تھا اور پیٹ کے محیط نے سانس کے لیے گنجائش بڑھا دی تھی، اس لئے نہایت اونچی آواز میں بغیر سانس کھینچے بہت کچھ کہہ جاتے تھے۔ آواز میں گرج تھی مگر لوچ کے ساتھ، کوئی دور سے جو سنے تو یہ سمجھے کہ مولوی صاحب کسی کو ڈانٹ رہے ہیں۔ لیکن پاس بیٹھنے والا ہنسی کے مارے لوٹ رہا ہو۔ جوش میں آکر جب آواز بلند کرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ ترم بج رہا ہے، اسی لیے بڑے بڑے جلسوں پر چھا جاتے تھے اور پاس اور دور بیٹھنے والے دونوں کو ایک ایک حرف صاف صاف سنائی دیتا تھا۔
ناک کسی قدر چھوٹی تھی اور نتھنے بھاری، ایسی ناک کو گنواروں کی اصطلاح میں ’’گاجر‘‘ اور دلی والوں کی بول چال میں ’’پھلکی‘‘ کہا جاتا ہے۔ گو متانت چھو کر نہیں گئی تھی لیکن جسم کے بوجھ نے رفتار میں خود بہ خود متانت پیدا کر دی تھی۔ ڈاڑھی بہت چھدری تھی۔ ایک ایک بال بہ آسانی گنا جا سکتا تھا۔ کلے تو کبھی قینچی کے منت کش نہ ہوئے۔ البتہ ٹھوڑی پر کا حصہ کبھی کبھی ہموار کرا لیا جاتا تھا۔ ڈاڑھی کی وضع، قدرت نے خود فرنچ فیشن بنا دی تھی۔ بالوں میں ٹھوڑی اس طرح دکھائی دیتی تھی جیسے ایکس ریز (X- Rays) ڈالنے سے کسی بکس کے اندر کی چیز۔ ٹھوڑی چوڑی اور ان کے ارادے کے پکے ہونے کا اظہار کرتی تھی۔ گردن چھوٹی مگر موٹی تھی۔ لیجئے یہ ہیں، مولوی نذیر احمد خاں صاحب۔
اب رہی لباس کی بحث تو اس کا بھی حال سن لیجئے۔ جنہوں نے ان کو شالی رومال باندھے، کشمیری جبہ یا ایل ایل ڈی کا گون پہنے دیکھا ہے انہون نے عالی جناب شمس العلماء مولوی حافظ ڈاکٹر نذیر احمد خاں صاحب ایل ایل ڈی مدظلہ العالی کو دیکھا ہے، مولوی نذیر احمد صاحب کو نہیں دیکھا۔ ان کے گھر کے اور باہر کے لباس میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اگر ان کو روزانہ باہر نکلنے کا شوق نہ ہوتا تو لباس کی مدہی ان کے اخراجات کی فہرست سے نکل جاتی۔ جب شام کو گھر سے نکلتے تو عموماً ترکی ٹوپی یا چھوٹا سفید صافہ باندھ کر نکلتے تھے۔ گرمیوں میں نہایت صاف شفاف سفید اچکن اور سفید کرتا پائجامہ ہوتا اور جاڑوں میں کشمیرے کی ا چکن یا کشمیری کام کا جبہ۔
چونکہ سراج الدین صاحب سے لین دین تھا س لئے لال نری کا سلیم شاہی جوتا زیادہ استعمال کرتے تھے۔ پھر بھی وقت بے وقت کے لیےدو انگریزی جوڑے لگا رکھے تھے جن پر میری یاد میں پالش ہونے کی کبھی نوبت نہ آئی۔ یہاں تک کہ دونوں سوکھ کر کھڑنک ہو گئے تھے۔ انہی کا پاؤں تھا کہ ان چینیوں کے سے سخت جوتوں کی برداشت کرتا تھا۔ جرابوں سے انہیں ہمیشہ نفرت تھی۔ گو دربار میں جانے کے لیے دو ایک جوڑیاں پاس رہتی تھیں۔
یہ تو پبلک کے مولوی صاحب ہوئے، اب ہمارے مولوی صاحب کو دیکھئے۔ آئیے میرے ساتھ چوڑی والوں سے چلئے۔ چوڑی والوں سے نکل کر چاوڑی میں آئیے۔ الٹے ہاتھ کو مڑ کر قاضی حوض پر سے ہوتے ہوئے، سر کی والوں پر سے گزر کر لال کنویں پہنچئے۔ آگے بڑھیئے تو بڑیوں کا کٹرا ہے، وہاں سے آگے چل کر نئے بانس میں آئیے۔ یہ سیدھا راستہ کھاری باولی کو نکل گیا ہے۔ نکڑ سے ذرا ادھر ہی دائیں ہاتھ کو ایک گلی مڑی ہے۔ یہ بتاشے والوں کی گلی ہے۔ بتاشے بنتے ہوئے ہم نے سب سے پہلے یہیں دیکھے۔ یہاں اچار، چٹنیوں والوں کی بیسیوں دکانیں ہیں، انہی دکانوں کے بیچ میں سے ایک گلی سیدھے ہاتھ کو مڑی ہے، تھوڑی ہی دور جا کر بائیں طرف ایک پتلی سی گلی اس میں سے کٹ گئی ہے، اس گلی میں پہلا ہی مکان مولوی صاحب کا ہے۔
مکان دو منزلہ ہے اور نیا بنا ہوا ہے۔ صفائی کی یہ حالت ہے کہ تنکا پڑا ہوا نظر نہیں آتا۔ دروازے کے باہر دونوں پہلوؤں میں دو سنگیں چوکیاں ہیں۔ دروازے کو عبور کرنے کے بعد صحن میں آتے ہیں، صحن کسی قدر چھوٹا ہے۔ سیدھی طرف دفتر ہے جہاں اکثر دو تین آدمی بیٹھے ہوئے کلام مجید پر حنا کیا کرتے ہیں۔ اس کے مقابل بائیں طرف باورچی خانہ ہے، چولہے بنے ہوئے ہیں، آگ جل رہی ہے مگر برتن اور ہنڈیاں وغیرہ جو باورچی خانے کا جزو لاینفک ہیں، سرے سے ندارد ہیں۔ آگ صرف حقے کے لیے سلگائی جاتی ہے، کھانا دوسرے گھر سے پک کر آتا ہے۔ دروازے کے بالکل سامنے اکہرا دالان ہے او راندر ایک لمبا کمرا۔ گرمی کا موسم ہے اور مولوی صاحب ایک چھوٹی سی میز کے سامنے بیٹھے کچھ لکھ رہے ہیں۔ کمرے کے دو دروازے بند ہیں، ایک کھلا ہے۔ باہر ایک بڑھیا پھونس چماری بیٹھی پنکھے کی رسی کھینچ رہی ہے۔
ہاں تو میں کیا تصویر دکھانا چاہتا تھا؟ مولوی صاحب کا لباس، مگر خدا کے فضل سے ان کے جسم پر کوئی لباس ہی نہیں ہے جس کا تذکرہ کیا جائے۔ نہ کرتا ہے نہ ٹوپی نہ پائجامہ، ایک چھوٹی سی تہمد برائے نام کمر سے بندھی ہوئی ہے۔ بندھی ہوئی نہیں ہے محض لپٹی ہوئی ہے لیکن گرہ کے جنجال سے بے نیاز ہے۔ کمرے میں نہایت اجلی چاندنی کا فرش ہے۔ ایک طرف پلنگ بچھا ہواہے کبھی اس پر چادر ہے کبھی نہیں ہے۔ سرہانے تکیہ رکھا ہے۔ مگر اس کی رنگت کا بیان احاطہ تحریر سے باہر ہے۔ البتہ جس گاؤ تکیے سے مولوی صاحب لگے بیٹھے ہیں وہ بہت صاف ہے۔ قالین بھی عمدہ اور قیمتی ہے۔ اگر مولوی صاحب کی حالت دیکھ کر آپ سوال کر بیٹھیں کہ ’’مولانا! ایں چہ کار است کہ کردہ ای؟‘‘ تو انشاء اللہ یہی جواب ملے گا کہ ’’محتسب را درون خانہ چہ کار۔‘‘
جاڑوں میں مکان کے اوپر کے حصے میں رہتے تھے۔ چلئے وہاں کا بھی رنگ دکھا دوں۔ صدر دروازے سے ملا ہوا ہوا زینہ ہے۔ اور سیڑھیوں کے ختم ہونے پر غسل خانہ اور بیت الخلا ہے۔ اس کے بعد ایک دروازہ آتا ہے۔ دروازے سے گزر کر چھت پر آتے ہیں۔ سامنے ہی ایک کمرا ہے اوراس کے دونوں جانب کوٹھریاں۔ غسل خانے کے بالکل مقابل دوسری طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ آخر آخر میں مولوی صاحب یہیں رہا کرتے تھے۔ جس زمانے میں ہم پڑھتے تھے تو ان کی نشست سامنے والے بڑے کمرے میں تھی۔ یہاں بھی چاندنی کا فرش ہے، اس پر قالین، پیچھے گاؤ تکیہ۔ سامنے ایک چھوٹی نیچی میز، پہلو میں حقہ۔ اس کی حقیقت کما حقہ بیان کرنا مشکل ہے۔
مولوی صاحب کو حقے کا بہت شوق تھا مگر تمباکو ایسا کڑوا پیتے تھے کہ اس کے دھویں کی کڑواہٹ بیٹھنے والوں کے حلق میں پھندا ڈال دیتی تھی۔ فرشی قیمتی تھی مگر چلم پیسے کی دو والی اور نیچہ تو خدا کی پناہ! اس کے تیار ہونے کی تاریخ لوگوں کے دلوں سے مدت کی محو ہو چکی تھی۔ ایک آدھ دفعہ ایک صاحب نے نیچا بدلنے کا ارادہ بھی کیا مگر مولوی صاحب نے نیچے کو جورو کا مترادف قرار دے کر ایسا سخت فقرہ کسا کہ بے چارے ٹھنڈے ہو کر رہ گئے۔
خیر جاڑے کا موسم ہے۔ مولوی صاحب بیٹھے حقہ پی رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں۔ سر پر کنٹوپ ہے، مگر بڑا دقیانوسی کبھی کانوں کو ڈھکے ہوئے اور ڈوریاں نیچے لٹکتی ہوئیں، کبھی اس کے دونوں پاکھے اوپر کی طرف سیدھے کھڑے ہو کر لاٹ پادری کی ٹوپی کا نمونہ بن جاتے اور ڈوریاں طرے کا کام دیتیں۔ کبھی پاکھوں کو سر پر اوپر تلے ڈوریوں سے کس دیا جاتا اور اس طرح کنٹوپ، فلٹ کیپ کی شکل اختیار کر لیتا۔ جسم پر روئی کی مرزئی، مگر ایسی پرانی کہ اس کی روئی کی گرمی مدت سے مائل بہ سردی ہو چکی ہے۔ اوپر صندلی رنگ کا ڈھسا پڑا ہوا۔ لیجئے دیکھا آپ نے ہمارے مولوی صاحب کو!
چار بجے اور مولوی صاحب نے آواز دی! پانی تیار ہے؟ جواب ملا، جی ہاں۔ مولوی صاحب غسل خانے میں گئے، کپڑے بدل (یا یوں کہو کہ جون بدل) باہر نکل آئے اور چلے ٹاؤن ہال کو۔ اب یہ ہمارے مولوی صاحب نہیں رہے، آپ کے مولوی صاحب ہو گئے۔
گھر میں اس لباس سے استغنا کے کئی باعث تھے۔ اول تو یہ بات تھی کہ ان کواپنے کاموں ہی سے فرصت نہ تھی، پڑھنے پڑھانے اور لکھنے لکھانے میں ان کا سارا دن گزر جاتا تھا۔ دوسرے یہ کہ وہ بہت کم لوگوں سےمکان پر ملتے تھے۔ جس کو ملنا ہوتا تھا شام کو ٹاؤن ہال کی لائبریری میں ان سے جا کر مل آتا تھا۔ جو لوگ مکان پر آتے تھے، وہ یا تو ان کے شاگرد ہوتے تھے یا خود صاحب کمال اور ظاہر ہے کہ ایسے صحاب کمال لوگ ظاہری حالت کو نہیں دیکھتے، یہ دیکھتے ہیں کہ مولوی صاحب ہیں کتنے پانی میں۔ لباس سے اس بے اعتنائی کی تیسری وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھر کو اپنا گھر سمجھتے تھے کسی دوسرے کا دولت خانہ نہیں جانتے تھے۔ ان کو جس طرح آرام ملتا اسی طرح رہتے۔ جی چاہتا پہنتے، نہ جی چاہتا نہ پہنتے، البتہ جب باہر جاتے تو ’کھائے من بھاتا، پہنے جگ بھاتا‘‘ پر عمل کرتے۔ اصل عالم تو گھر پر تھے۔ باہر نکل کر ظاہری عالم بھی بن جاتے۔
سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ گھر میں کوئی عورت نہ تھی جو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتی، یا کم سے کم ان کا کنٹوپ، مرزئی یا سرہانے کے تکیے کا غلاف تو بدل دیا کرتی۔ گھر میں تھا کون، ایک مولوی صاحب، دوسرا ایک کانڑا ٹٹو، بدھو نفر، ان کا نوکر خدا بخش۔ وہ بھی ایسابے پروا کہ خدا کی پناہ! ظالم نے بہرا بن کر کام سے اور اپنا پیچھا چھڑا لیا تھا۔ مولوی صاحب کی آواز جس سے مردے قبر میں چونک پڑیں، اس کو کبھی نہ سنائی دی اور جب تک کسی نے جا کر اس کا شانہ نہ ہلایا، اس نے ہمیشہ سنی کو ان سنی کر دیا۔
البتہ حقے کے معاملے میں بڑا تیز تھا۔ یا تو اس کو یہ خیال تھا کہ حقے بغیر مولوی صاحب کے ہاں گزارا ہونا مشکل ہے، یا یہ وجہ تھی کہ تمباکو زیادہ صرف کرنے میں اس کو دو ایک پیسے روز مل جاتے تھے۔ غرض یہ حال تھا کہ حقہ پورا سلگا بھی نہیں کہ وہ چلم اٹھا کر چلا۔ مولوی صاحب ’’ہاں ہاں‘‘ کرتے ہی رہے، اس نے جا چلم الٹ دی، دوسرا سلفہ رکھ، آگ بھر، چلم حقے پر لا کر رکھ دی۔ توا گرم، حقہ بھڑک گیا۔ میاں نوکر صاحب کو پھر بلا کر توا ٹھنڈا کرنے اور چلم بھروانے کی ضرورت پیش آئی۔ غرض سارے دن ان کا یہی کام تھا اور وہ اس میں خوش اور بہت مگن تھے۔
جرمنی کے مشہور فلسفی کانٹ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ وقت کاا س قدر پابند تھا کہ لوگ اس کو دیکھ کر اپنی گھڑیاں ٹھیک کر لیتے تھے۔ بعض یورپ پرست اس کی پابندی اوقات کو یورپ والوں کا ہی حصہ خیال کریں تو خیال کریں، میں تو یہ کہتا ہوں کہ صرف دہلی میں میں نے تین ایسے شخص دیکھے ہیں جو آندھی آئے، مینہ آئے، روزانہ چھے بجے ٹاؤن ہال کی لائبریری میں آتے تھے۔ ادھر انہوں نے لائبریری کے دروازے میں قدم رکھا، ادھر گھنٹا گھر نے ٹن ٹن چھے بجائے۔ لطف یہ ہے کہ ان میں سے ایک مشرق میں رہتا تھا تو دوسرا مغرب میں۔ یہ تین شخص کون تھے، ایک منشی ذکاء اللہ صاحب، دوسرے رائے بہادر پیارے لال صاحب اور تیسرے مولوی صاحب۔
ایک چیلوں کے کوچے سے آتا تھا، دوسرا دریبے سے اور تیسرا کھاری باولی سے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ایک نے آ کر دوسرے کا انتظار کیا ہو۔ اگر ان میں سے کوئی ایک نہ آتا تو ایک ہی نتیجہ نکل سکتا تھا کہ نہ آنے والا ایسا بیمار ہے کہ چلنا دشوار ہے اور یہ نتیجہ کبھی غلط ثابت نہیں ہوا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا او رکانوں سے سنا ہے کہ اگر کسی شخص کو ان تینوں میں سے کسی سے ملنا ہوتا اور چھے بجے سے ذرا پہلے لائبریری کے کسی ملازم سے جا کر دریافت کرتا تو یہی جواب ملتا کہ اب آتے ہی ہوں گے، چھے میں دو ہی منٹ تو رہ گئے ہیں۔
دوسرے دو صاحبوں کا ٹائم ٹیبل تو مجھے معلوم نہیں البتہ مولوی صاحب کی مصروفیتوں کا حال لکھتا ہوں۔ ان کے اس نظام اوقات میں گرمی اور جاڑے کے لحاظ سے کچھ کچھ تغیر ہو جاتا تھا۔ وہ ہمیشہ بہت سویرے اٹھنے کے عادی تھے۔ گرمیوں میں اٹھتے ہی نہاتے اور ضروریات سے فارغ ہو کر نماز پڑھتے۔ ان کی صبح کی اور عصر کی نماز کبھی ناغہ نہ ہوتی تھی، باقی کا حال اللہ کو معلوم ہے نہ میں نے دریافت کیا اور نہ مجھ سے کسی نے کہا۔ صبح کی نماز پڑھ کر کچھ تلاوت کرتے۔ ادھر ذرا دن چڑھا ادھر مولویوں کی جماعت اور خود مولوی صاحب کا ناشتا داخل ہوا۔ اس جماعت میں بخارا، کابل سرحد وغیرہ کے لوگ تھے۔
ان کی تعداد کوئی 15، 16 تھی۔ محنت ایسی کرتے تھے کہ دوسرا کرے تو مرجائے، لیکن ٹھوٹھ ایسے تھے کہ مولوی صاحب بھی زچ ہو جاتے تھے۔ خوش مذاقی تو انہیں چھوکر نہیں گئی تھی۔ خود مذاق کرنا تو کجا، دوسرے کا مذاق بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ متانت اور ادب کا یہ حال تھا کہ آنکھ اٹھا کر صاحب کو دیکھنا سوء ادبی سمجھتے تھے۔ اب ان کے وہ عمامے اونچے اونچے، یہ یہ لمبی ڈاڑھیاں دیکھو اور مولوی صاحب کی حالت کا اندازہ کرو، بچارے ناشتا کرتے جاتے تھے اور اپنا فرض اتارتے جاتے تھے۔ عالم تھے، دوسروں کو عالم بناتے تھے، لیکن کہا کرتے تھے کہ ان فتح پوری کے ملانوں کو پڑھا کر میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔ کیا کہوں ’’میں ہوں ہنسوڑ اور تو ہے مقطع، میرا تیرا میل نہیں‘‘ کا نقشہ ہے۔
یہ جماعت اٹھی اور مولوی رحیم بخش صاحب آ نازل ہوئے۔ کاغذوں کا مٹھا بغل میں، ہاتھ میں پنسل، کان میں قلم۔ ادھر فتح پوری کی جماعت نے کمرے سے قدم نکالا، ادھر انہوں نے کمرے میں قدم رکھا۔ اب سلسلہ تصنیف و تالیف شروع ہوا۔ چونکہ آخر میں مولوی صاحب کے ہاتھ میں رعشہ آ گیا تھا اس لئے لکھوانے کا کام اکثر انہیں سے لیا جاتا تھا۔ سب سے پہلے کلام مجید اور حمائل شریف کی کاپیوں کی صحت کی جاتی۔ اس کے بعد مطبع کا حساب دیکھا جاتا اور پھر جدید تصنیفات کا سلسلہ شروع ہوتا۔ یہ کام سمیٹتے سمیٹتے ساڑھے گیارہ، پونے بارہ بج جاتے۔ رحیم بخش صاحب کےاٹھتے ہی کھانا آتا۔ کھانا کھایا پلنگ پر لیٹ گئے۔ ادھر ڈیڑھ بجا اور ادھر ہم دونوں داخل ہوئے۔ ہمارا قدم رکھنا تھا کہ مولوی صاحب اٹھ بیٹھے، سارھے تین بجے تک ہم سے سر مغزنی کرتے رہے۔ اگر کوئی دلچسپ بحث یا قصہ چھڑ گیا تو چار بج گئے۔
چار بجے اور مولوی صاحب غسل خانے میں گئے۔ نہائے دھوئے، کپڑے پہن نکل کھڑے ہوئے۔ پہلے شمس العارفین کی دکان پر ٹھہرے۔ یہاں بھی ان کا حساب کتاب تھا۔ وہاں کا کھاتا دیکھا، جو کچھ لینا دینا تھا، لیا دیا اور سیدھے ٹاؤن ہال کی لائبریری میں پہنچ گئے۔ سات بجے تک وہاں ٹھہرے، جس کو ملنا ہوا، وہ وہاں مل لیا۔ سات بجے وہاں سے اٹھ کر سراج الدین صاحب کی دکان پر آئے۔ یہاں بھی حساب کتاب کیا، عبد الرحمان کو پڑھایا۔ گھنٹا بھر یہاں ٹھہر کر مکان پہنچ گئے۔ کھانا کھایا، کچھ لکھا پڑا اور دس بجے سو رہے۔ جاڑے میں پروگرام میں یہ تبدیلی ہو جاتی تھی کہ پہلے صبح ہی صبح ہم پہنچتے تھے، اس کے بعد مولویوں کی جماعت آتی تھی۔ رحیم بخش صاحب کا نمبر سہ پہر میں آتا تھا۔
خوش خوراک تھے اور مزے لے لے کر کھانا کھاتے تھے۔ ناشتے میں دو نیم برشت انڈے ضرور ہوتے تھے۔ میوے کا بڑا شوق تھا۔ ناشتے اور کھانے کے ساتھ میوے کا ہونا لازم تھا۔ پڑھاتے جاتے تھے، مگر مجھ کو ایک حسرت رہ گئی کہ کبھی شریک طعام نہ ہو سکا۔ خیر ان پٹھانوں کی جماعت کی تو کیا صلا کرتے۔ ان کے لئے تو مولوی صاحب کا ناشتہ، اونٹ کے منہ میں زیرہ ہو جاتا، البتہ ہم دونوں کی صلا نہ کرنا غضب تھا۔ کہتے بھی جاتے تھے، بھئی کیا مزے کا خربوزہ ہے! میاں، کیا مزے کا آم ہے! مگر بندہ خدا نے کبھی یہ نہ کہا کہ بیٹا ذرا چکھ کر تو دیکھو یہ کیسا ہے۔ میں نے تو تہیہ کر لیا تھا (میاں دانی اب انکار کریں تو کریں، لیکن ان کا بھی یہی ارادہ تھا) کہ مولوی صاحب اگر جھوٹے منہ بھی شریک ہونے کو کہیں، تو ہم سچ مچ شریک ہو جائیں۔
مولوی صاحب کو مسلمانوں میں تجارت پھیلانے کا شوق تھا اور اس غرض کے حاصل کرنے میں ان کو مالی مدد دینے میں کبھی انکار نہ ہوتا تھا۔ بے دریغ روپیہ دیتے تھے اور اکثر بڑی بڑی رقمیں ڈبو بیٹھتے تھے۔ کہا کرتے تھے، ’’میاں! میں سچ کہتا ہوں کہ اس تجارت کے شوق میں تین لاکھ روپے کھو بیٹھا ہوں۔ پھر بھی جوکچھ مجھے بعض کھرے دکان داروں سے فائدہ پہنچا ہے اس نے میرے نقصان کی تلافی ہی نہیں کردی بلکہ کچھ نفع ہی پہنچا دیا۔ بیٹا! تم بھی تجارت کرو، روپیہ میں دیتا ہوں۔ نوکری کی کھکھیڑ اٹھاؤ گے، تو مزا معلوم ہوگا۔‘‘
جس طرح روپیہ دل کھول کر دیتے تھے اسی طرح حساب بھی بڑی سختی سے لیتے تھے۔ گرمی ہو یا جاڑا، دھوپ ہو یا مینہ، قرض داروں کے ہاں ان کا روزانہ چکر نہیں چھوٹتا تھا۔ گئے اور جاتے ہی پہلے غلق پر قبضہ کیا، اس کے بعد کھاتا دیکھا، کِروی دیکھی۔ سامان دیکھ کر بکری کا اندازہ کیا، روپیہ جیب میں ڈالا، سلام علیکم وعلیکم السلام کیا اور چل دیے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.