
Chapitre 4 sur 8
Money Matters and Early Schooling
لین دین اور ابتدائی تعلیم
دوسرے دوکاندار کے پاس پہنچے اور وہاں بھی وہی پہلا سبق دہرایا۔ کوڑی کوڑی کا حساب دیکھتے، اعتراضوں کی بوچھاڑ سے پریشان کرتے اور کہتے جاتے، ’’بھئی، حساب جو جو، بخشش سو سو۔‘‘ فقرے کے پہلے جزو سے تو بچاروں کو روزانہ واسطہ پڑتا، لیکن دوسرے جزو کا دیکھنا کبھی کسی کو نصیب نہ ہوا۔ یہ ضرور ہے کہ اگر واقعی بازار کے مندا ہونے یا کسی اور وجہ سے ان کے کسی قرض دار کا نقصان ہو جاتا یا دیوالیہ نکل جاتا، تو پھر اس قرضے کا ذکر زبان پر نہ لاتے۔
ان کو خیال تھا کہ دہلی کے پنجابی تجارت کو خوب سمجھتے ہیں، ان کو دل کھول کر روپیہ دیتے تھے اور اکثر انہیں کے ہاتھوں نقصان اٹھاتے تھے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ بیان کرتا ہوں۔ ایک صاحب جن کا نام ظاہر کرنا مناسب نہیں، مولوی صاحب کے پاس آئے۔ تجارت کا ذکر چھیڑا اور مولوی صاحب کو ولایتی جوتوں کے فائدے کے وہ سبز باغ دکھائے کہ تیسرے ہی روز بلا کسی طمانیت کے، گیارہ ہزار روپے کا چک مولوی صاحب نے ان کے نام لکھ دیا۔ بڑے ٹھاٹھ سے سنہری مسجد کے قریب دکان کھولی گئی۔ مولوی صاحب جاتے، گھڑی دو گھڑی وہاں بیٹھتے، دکاندار صاحب کی لچھے دار باتیں سنتے، چلتے وقت کچھ روپے جیب میں ڈالنے کو مل جاتے، اس لئے خوش خوش بغیر حساب کتاب کئے گھر آ جاتے۔ یہی ٹھوکر تھی جس نے مولوی صاحب کو چوکنا کر دیا ور وہ بغیر حساب کتاب دیکھے، روپے کو ہاتھ لگانا گناہ سمجھتے تھے۔
قصہ مختصر، اصل میں سے دو ڈھائی ہزار روپیہ مولوی صاحب کو تھما، اس نے دیوالیہ نکال دیا۔ قرقی ہوئی، مال نیلام چڑھا اوراس میرے یار نے کل سامان دوسروں کے ذریعے خود خرید لیا۔ مولوی صاحب کو اس چال کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس کے بعد آیا، بہت رویا، بہت ٹسوے بہائے۔ مولوی صاحب سمجھے بچارے کو بڑا رنج ہوا۔ کہا، جاؤ بھئی جاؤ، تجارت میں یہی ہوتا ہے، یا اس پار یا اس پار۔ چلو گئی گزری بات ہوئی۔
ایک روز خدا کا کرنا کیا ہوتا ہے کہ یہ چاوڑی میں جا رہے تھے، کچھ جھٹپٹا ہوا تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ دکاندار صاحب خوب پیے ہوئے، عطر میں بسے، پھولوں کا کنٹھا گلے میں ڈالے، ایک رنڈی کا ہاتھ پکڑے، کوٹھے سے اترے اور آکر ایک کھلی گاڑی میں سوار ہوئے۔ مولوی صاحب نے جو یہ رنگ دیکھا و وہیں ٹھٹک گئے۔ اتنے میں انہوں نے بھی مولوی صاحب کو دیکھا، بہت مسکرا کر سلام کیا، رنڈی نے چپکے چپکے کچھ دریافت کیا، تو ایک قہقہہ لگایا اور اونچی آواز میں کہا، ’’یہ سب کچھ مولوی صاحب ہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔‘‘ مولوی صاحب کے آگ لگ گئی۔ دوسرے ہی دن نالش ٹھونک دی اور آخر ٹھکانے لگا کر دم لیا۔ لوگوں نے سفارشیں بھی کیں، انہوں نے خود بھی آ کر بہت کچھ توبہ تلا کی لیکن یہ نہ ماننا تھا نہ مانے اور آخر جب اس کو کھک کر دیا، اس وقت ان کو چین آیا۔
دین لین سب کچھ کرتے تھے مگر حساب کتاب صرف دوسروں کی کتابوں یا ان کے دل میں تھا، کچھ تھوڑا بہت، لوگوں کے کہنے سننے سے متفرق پرچوں پر لکھ بھی لیا تھا لیکن اتنے بڑے بیوپار کے لئے جیسا دفتر چاہئے، وہ انہوں نے نہ رکھنا تھا نہ رکھا۔ سود لینا وہ جائز سمجھتے تھے۔ اگر کوئی حجت کرتا تو مارے تاویلوں کے اس کا ناطقہ بند کر دیتے۔ ایک تو حافظ دوسرے عالم، تیسرے لسان، بھلا ان سے کون اور آ سکتا تھا۔ اور تو اور خود مجھ سے سود لینے کو تیار ہو گئے۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم پر متفرق قرضے تھے، خیال آیا کہ ایک جگہ سے قرض لے کر سب کو ادا کر دیا جائے۔ قرضہ کس سے لیا جائے یہ ذرا ٹیڑھا سوال تھا۔ ہر پھر کر مولوی صاحب ہی پر نظر جاتی تھی۔ آخر ایک دن جی کڑا کر کے میں نے مولوی صاحب سے سوال کر ہی دیا۔ کہنے لگے، کتنا روپیہ چاہئے؟ میں نے کہا، بارہ ہزار۔ بولے، ضمانت؟ میں نے کہا، چوڑی والوں والا مکان۔ پوچھا، کتنی مالیت کا ہے؟ میں نے کہا، کوئی ساٹھ ستر ہزار روپے کا۔ فرمایا، کل قبالہ لیتے آنا۔ میں نے دل میں سوچا، چلو چھٹی ہوئی، بڑی جلدی معاملہ پٹ گیا۔
دوسرے دن قبالہ لے کر پہنچا۔ پڑھ کر کہا، ٹھیک ہے، مگر بیٹا سود کیا دوگے؟ میں نے کہا، مولوی صاحب آپ اور سود؟ کہنے لگے، کیوں، اس میں کیا ہرج ہے؟ میں نہ دوں گا تو کسی ساہوکار سے لوگے، اس کو خوشی سے سود دوگے۔ ارے میاں! مجھے کچھ فائدہ پہنچاؤ گے تو دین دنیا دونوں میں بھلا ہوگا۔ آخر میں تمہارا استاد ہوں یا نہیں! میرا بھی کچھ حق تم پر ہے یا نہیں؟ جاؤ شاباش بیٹا! اپنے چچا سے جا کر تصفیہ کر آؤ، کل ہی چک بنگال بنک کے نام لکھے دیتا ہوں۔ میں نے کہا، مولوی صاحب! لوگ کیا کہیں گے کہ مولوی ہو کر سود لیتے ہیں، اور لیتے ہیں کس سے، اپنے شاگردوں سے۔ کہنے لگے، اس کی پروا نہ کرو۔ جب مجھ پر کفر کا فتویٰ لگ چکا ہے تو اب مجھے ڈر ہی کیا رہا، جاؤ تمہارے ساتھ یہ رعایت کرتا ہوں کہ اوروں سے روپیہ سیکڑا لیتا ہوں، تم سے چودہ آنے لوں گا۔
میں نے آ کرگھر میں ذکر کیا۔۔۔ ہم کو دوسری جگہ سے آٹھ آنے سیکڑے پر روپیہ مل گیا، اس لئے یہ معاملہ یوں کا یوں ہی رہ گیا۔
لیجئے، یہ قصہ تو سنا چکا، اب اصل کہانی کی طرف رجوع کرتا ہوں اور مولوی صاحب کی ابتدائی تعلیم کے واقعات جو ان کی زبانی سنے تھے، بیان کرتا ہوں۔
ایک روز مولوی صاحب معلقات پڑھا رہے تھے، عمر بن کلثوم کا قصیدہ تھا، جب اس شعر پر پہنچے،
ابا ہند فلا تعجل علیناوانظرنا نخبرک الیقینا
تو بہت ہنسے، کتاب رکھ دی اور ہنستے ہنستے لوٹ گئے۔ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ الہی یہ کیا ماجرا ہے! شعر میں تو کوئی ہنسی کی بات نہیں پھر مولوی صاحب کو یہ کیا مرض اٹھا ہے۔ آخر جب ہنسنے کا ذرا زور کم ہوا، تو وجہ دریافت کی۔ مولوی صاحب پھر ہنسنے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد سنبھل کر بولے، میاں! بعض شعر قصہ طلب ہوتے ہیں۔ یہ شعر میری زندگی کے قصے کا آغاز ہے۔ اچھا لو، سناتا ہوں مگر پہلے تمہید سن لو۔
بھئی ہم بہت غریب لوگ تھے، نہ کھانے کو روٹی نہ پہننے کو کپڑا۔ تعلیم کا شوق تھا اس لیے پھرتا پھراتا پنجابیوں کے کٹرے کے مسجد میں ٹھہر گیا۔ یہاں کے مولوی صاحب بڑے عالم تھے، ان سے پڑھتا اور توکل پر گزارا کرتا۔ مولوی صاحب کے دو چار شاگرد اور بھی تھے، انہیں بھی پڑھاتے تھے، مجھے بھی پڑھاتے۔ دن رات پڑھنے کے سوا کچھ کام نہ تھا۔ تھوڑے دنوں میں کلام مجید پڑھ کر میں نے ادب پڑھنا شروع کیا۔ چار پانچ برس میں معلقات پڑھنے لگا۔ گو عمر میری بارہ سال کی تھی، مگر قد چھوٹا ہونے کی وجہ سے نو دس برس کامعلوم ہوتا تھا۔
پڑھنے کے علاوہ میراکام روٹیاں سمیٹنا بھی تھا۔ صبح ہوئی اور میں چھڑی ہاتھ میں لے کر گھر گھر روٹیاں جمع کرنے لگا۔ کسی نے رات کی بچی ہوئی دال ہی دے دی، کسی نے قیمے کی لگدی ہی رکھ دی، کسی نے دو تین سوکھی روٹیوں ہی پر ٹرخایا، غرض رنگ برنگ کا کھانا جمع ہو جاتا۔ مسجد کے پاس ہی عبد الخالق صاحب کا مکان تھا، اچھے کھاتے پیتے آدمی تھے۔ انہیں کے بیٹے ڈپٹی عبد الحامد صاحب ہیں جو سامنے والے مکان میں رہتے ہیں۔ ان کے ہاں میرا قدم رکھنا مشکل تھا۔ ادھر میں نے دروازے میں قدم رکھا، ادھر ان کی لڑکی نے ٹانگ لی۔ جب تک سیر دو سیر مسالا مجھ سے نہ پسوا لیتی، نہ گھر سے نکلنے دیتی، نہ روٹی کا ٹکڑا دیتی۔ خدا جانے کہاں سے محلے بھر کا مسالا اٹھا لاتی تھی۔ پیستے پیستے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے تھے۔ جہاں میں نے ہاتھ روکا، اس نے بٹا انگلیوں پر مارا، بہ خدا جان سی نکل جاتی تھی۔ میں نے مولوی صاحب سے کئی دفعہ شکایت بھی کی مگر انہوں نے ڈال دیا۔ خبر نہیں مجھ سے کیا دشمنی تھی، چلتے چلتے تاکید کر دیا کرتے تھے کہ عبد الخالق صاحب کے مکان میں ضرور جانا۔
بہر حال مارا دھاڑی روز وہاں جانا پڑتا اور روز یہی مصیبت جھیلنی پڑتی۔ تم سمجھے بھی کہ یہ لڑکی کون تھی؟ میاں! یہ لڑکی وہ تھی جو بعد میں ہماری بیگم صاحبہ ہوئیں۔ جب سوچتا ہوں تو پچھلا نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے اور بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے۔ اکثر ہم دونوں پہلی باتوں کو یاد کر کے خوب ہنستے تھے۔ خدا غریق رحمت کرے۔ جیسی بچپن میں شریر تھیں، ویسی ہی جوانی میں غریب ہو گئیں۔ ان کے مرنے کے بعد ہماری تو زندگی کا مزا جاتا رہا۔ بھئی دیکھنا، میں نے کیسے مزے کی تاریخ کہی ہے! اس کے بعد انہوں نے عربی کے چار پانچ اشعار کا قطعہ سنایا، مادہ تاریخ لہا غفر تھا۔ میں نے بڑی زور سے ’اوں ہوں‘ کی۔ بگڑ کر میری طرف دیکھا اور کہا، آپ کو اس پر کوئی اعتراض ہے؟ میں نے عرض کی، جی نہیں، لیکن اس قطعے کو سن کر مجھے دبیر کی ایک رباعی یاد آ گئی، کیا خوب لکھی ہے، فرماتے ہیں،
ہم شان ِنجف نہ عرش ِانور ٹھہرا
میزاں میں یہ بھاری، وہ سبک تر ٹھہرا
اس پلے میں تھا نجف اور اس پلے میں عرش
پہنچا وہ فلک پر، یہ زمین پر ٹھہرا
بڑے غور سے سنتے رہے، پھر کہنے لگے، یہ تو بے معنی ہے۔ نجف کی جگہ دنیا کی جس چیز کو رکھ دو، اس سے یہ رباعی متعلق ہو جائے گی اور وہ عرش سے بھاری ثابت ہوگی۔ میں نے عرض کی کہ آپ کے قطعے کو اس سال میں مرنے والی جس عورت سے متعلق کر دو، متعلق ہو جائے گا۔ اس تاریخ میں خوبی ہی کیا ہے۔ اول تو ایسی عام تاریخیں کچھ قابل تعریف نہیں ہوتیں۔ دوسرے سر سید کی تاریخ انتقال غفر لہ پر آپ نے صرف الف کا اضافہ کر کے اس کا پنا مال کر لیا ہے۔ مسکرا کر کہنے لگے، اچھا بھئی تو ہی سچا سہی، اب اس جھگڑے کو چھوڑ و اور میری اصل کہانی کو لو۔
ہاں تو فرصت کے وقت ہم دہلی کی گلیوں کا چکر لگاتے، کبھی کبھی کشمیری دروازے کی طرف بھی نکل جاتے۔ ایک روز جو کشمیری دروازے کی طرف گیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ دہلی کالج میں بڑا ہجوم ہے۔ کالج وہاں تھا جہاں اب گورنمنٹ اسکول ہے۔ میں بھی بھیڑ میں گھس گیا۔ معلوم ہوا کہ لڑکوں کا امتحان لینے مفتی صدر الدین صاحب آئے ہوئے ہیں۔ ہم نے کہا، چلو، ہم بھی دیکھیں۔ بر آمدے میں پہنچا، قد چھوٹا تھا، لوگوں کی ٹانگوں میں سے ہوتا ہوا، گھس گھسا کر کمرے کے دروازے تک پہنچ ہی گیا۔ دیکھا کہ کمرے کے بیچ میں میز بچھی ہے، اس کے سامنے کرسی پر مفتی صاحب بیٹھے ہیں۔ ایک ایک لڑکا آتا ہے، اس سے سوال کرتے ہیں اور سامنے کاغذ پر کچھ لکھتے جاتے ہیں۔ میز کے دوسرے پہلو کی کرسی پر ایک انگریز بیٹھا ہے، یہ مدرسے کے پرنسپل صاحب تھے۔
تماشے میں محو تھا کہ صاحب کسی کام کے لئے اٹھے، چپراسیوں نے رستہ صاف کرنا شروع کیا۔ جو لوگ دروازہ روکے کھڑے تھے، وہ کسی طرح پیچھے نہ ہٹتے تھے، چپراسی زبر دستی ڈھکیل رہے تھے۔ غرض اس دھکا پیل میں میرا قلیہ ہو گیا۔ دروازے کے سامنے سنگ مرمر کا فرش تھا، اس پر میرا پاؤں رپٹا اور دھم سے گرا۔ اتنی دیر میں پرنسپل صاحب بھی دروازے تک آ گئے تھے۔ انہوں نے جو مجھے گرتے دیکھا، تو دوڑ کر میری طرف بڑھے، مجھے اٹھایا، پوچھتے رہے کہ کہیں چوٹ تو نہیں آئی۔ ان کی شفقت آمیز باتیں اب تک میرے دل پر کالنقش فی الحجر ہیں۔
باتوں باتوں ہی میں پوچھا، میاں صاحب زادے کیا پڑھتے ہو؟ میں نے کہا، معلقات۔ ان کو بڑا تعجب ہوا۔ پھر پوچھا، میں نے پھر وہی جواب دیا۔ میری عمر پوچھی۔ میں نے کہا مجھے کیا معلوم۔ وہ میرا ہاتھ پکڑ بجائے اپنے کام کو جانے کے، سیدھا مجھ کو مفتی صاحب کے پاس لے گئے اور کہنے لگے، مفتی صاحب! یہ لڑکا کہتا ہے میں معلقات پڑھتا ہوں، ذرا دیکھئے تو سہی، سچ کہتا ہے یا یوں ہی باتیں بناتا ہے۔ مفتی صاحب نے کہا، تو کیا پڑھتا ہے؟ میں نے کہا، معلقات۔ کہنے لگے، کہاں پڑھتا ہے؟ میں نے کہا، پنجابیوں کے کٹرے کی مسجد میں۔ پھر کہا معلقات دوں، پڑھے گا؟ میں نے کہا لائیے۔ انہوں نے میز پر سے کتاب اٹھائی، میرے ہاتھ میں دی اور کہا یہاں سے پڑھ۔ جس شعر پر انہوں نے انگلی رکھی تھی، وہ یہی شعر تھا،
ابا ہند فلا تعجل علیناوانظر نا نخبرک الیقینا
میں نے پڑھا، معنی بیان کئے۔ انہوں نے ترکیب پوچھی، وہ بیان کی۔ میاں دانی! تمہاری طرح میں نے شعر نہیں پڑھا تھا۔ اور میاں فرحت! تمہاری طرح ترکیب نہیں کی تھی (مولوی صاحب کا یہ اشارہ ہماری کمزوریوں کی طرف تھا، اس کا ذکر آئندہ آئے گا۔) مفتی صاحب بہت چکرائے، پوچھنے لگے، تجھ کو کون پڑھاتا ہے؟ میں نے کہا، مسجد کے مولوی صاحب۔ کہا، مدرسے میں پڑھے گا؟ میں نے کہا ضرور پڑھوں گا۔ مفتی صاحب نے قلم اٹھایا، کاغذ پر چند سطریں لکھیں اور پرنسپل صاحب کو دے کرکہا، اس کو پریسیڈنٹ صاحب کے پاس پیش کر دینا۔ ہم وہاں سے نکل کر اپنے گھر آئے، مولوی صاحب سے کچھ نہ کہا۔
کوئی سات آٹھ روز کے بعد کالج کا چپراسی مولوی صاحب کے پاس آ، ایک کاغذ دے گیا، اس میں لکھا تھا کہ نذیر احمد کو کالج میں داخل کرنے کی اجازت ہو گئی ہے، کل سے آپ اس کو کالج میں آنے کی ہدایت کر دیجئے، اس کا وظیفہ بھی ہو گیا ہے۔ چپراسی تو یہ حکم دے چلتا بنا، مولوی صاحب نے مجھ کو بلایا، خط دکھایا، پوچھا، یہ کیا معاملہ ہے؟ میں نے کچھ جواب نہ دیا۔ جب ذرا سختی کی، تو تمام واقعہ بیان کیا۔ وہ بہت خوش ہوئے اور دوسرے روز لے جا میرا ہاتھ پرنسپل صاحب کے ہاتھ میں دے دیا۔ اس زمانے میں سید احمد خاں فارسی کی جماعت میں، منشی ذکاء اللہ حساب کی جماعت میں اور پیارے لال انگریزی کی جماعت میں پڑھتے تھے۔ میں عربی کی جماعت میں شریک ہوا۔ ایک تو شوق، دوسرے پڑھانے والے ہوشیار، تیسرے ایک مضمون اور وہ بھی ایسا جس کا مجھے بچپن سے شوق تھا۔ تھوڑے ہی دنوں میں اپنی جماعت والوں میں سب کو دبا لیا۔ اب جب کبھی یہ شعر پڑھتا ہوں، تو پہلا زمانہ یادآ جاتا ہےاور میں بے اختیار ہنسنے لگتا ہوں۔ یہ کہتے ہی انہوں نے لہک لہک کر یہ شعر،
ابا ہند فلا تعجل علیناوانظرنا نخبرک الیقینا
پڑھنا اور ہنسنا شروع کیا۔
میں نے کہا، مولوی صاحب! آپ کی جماعت کہاں بیٹھی تھی؟ کہنے لگے، پرنسپل صاحب کے کمرے کے بازو میں جو چھوٹا کمرا ہے، اس میں ہماری جماعت تھی۔ دوسرے پہلو میں جو کمرا ہے اس میں فارسی کی جماعت۔ دانی نے کہا، مولوی صاحب! آپ کے اختیاری مضمون کیا تھے۔ مولوی صاحب ہنسے اور کہا، میاں دانی! ہم پڑھتے تھے، آج کل کے طالب علموں کی طرح چوتڑوں سے گھاس نہیں کاٹتے تھے (مولوی صاحب اس فقرے کا اکثر استعمال کیا کرتے تھے، معلوم نہیں کہاں کا محاورہ ہے) ارے بھئی! ایک ہی مضمون کی تکمیل کرنا دشوار ہے۔ آج کل پڑھاتے نہیں لادتے ہیں۔ آج پڑھا کل بھولے، تمہاری تعلیم ایسی دیوار ہے جس میں گارے کا بھی ردا ہے، ٹھیکریاں بھی گھسیڑ دی گئی ہیں، مٹی بھی ہے، پتھر بھی ہے، کہیں چونا اور اینٹ بھی ہے۔ ایک دھکا دیا اور اڑا اڑا دھم گری۔ ہم کو اس زمانے میں ایک مضمون پڑھاتے تھے مگر اس میں کامل کر دیتے تے۔ پڑھانے والے بھی ایرے غیرے پچکلیان نہیں ہوتے تھے۔ ایسے ایسے کو چھانٹا جاتا تھا جن کے سامنے آج کل کے عالم، محض کاٹھ کے الو ہیں۔ اچھا بھئی اچھا، آگے چلو۔
بانا نورد الرايات بیضاو نصدر ہن حمرا قد روینا
میں نے کہا، مولوی صاحب پہلے شعر کے معنی تو رہ ہی گئے۔ کہنے لگے، اتنا بڑا قصہ سنا دیا ور اس کے بعد بھی اس شعر کے معنی کی ضرورت ہے۔ پس اس کے یہی معنی ہیں کہ تحقیق ایک ملا کا بیٹا ڈاکٹر، ڈپٹی، شمس العلماء، ایل ایل ڈی ہو گیا ساتھ آسانی کے، بیچ اسی دلی کے، بہ وجہ شعر کے۔
مولوی صاحب کی تعلیم کا حال سن چکے، ہم ہماری تعلیم کا حال سنیئے اور قصے کو سراج الدین صاحب کی دکان کے واقعے کے دوسرے روز سے لیجئے۔
میں اور میاں دانی ساڑھے گیارہ بجے مدرسے سے ا ٓئے۔ کھانا وانا کھایا، سبق کا مطالعہ کیا اور ایک بجے نکل کھڑے ہوئے۔ مکان کا پتا پوچھتے پچھاتے ڈیڑھ میں پانچ منٹ تھے کہ مولوی صاحب کے دروازے پر جا دھمکے۔ دروازے کی ایک چوکی پر میں اور دوسری پر میاں دانی ڈٹ گئے۔ سامنے ہی کمرا تھا۔ بی چماری رسی ہاتھ میں لیے اونگھ رہی تھیں۔ کبھی کبھی رسی کو ایک آدھ جھٹکا دے دیتی تھیں۔ کمرے کے اندرمولوی صاحب تھے، لیکن دروازہ بند تھا، ا س لئے دکھائی نہ دیتے تھے۔ اب یہ خیال ہوا کہ یہ مولوی صاحب ہی کا مکان ہے یا کسی دوسرے کا۔ اندر زنانہ تو نہیں ہے! غرض اس شش و پنج میں تھے کہ مولوی صاحب کے کمرے کے گھنٹے نے ٹن سے ڈیڑھ بجایا۔ ہم دونوں اٹھے اور دبے پاؤں چوروں کی طرح اندر داخل ہوئے۔
گھر میں سناٹا تھا۔ بی چماری نے سر بھی اٹھا کر نہ دیکھا کہ کون جا رہا ہے۔ کمرے کا ایک دروازہ کھلا تھا اس میں گردن ڈال کر جھانکا۔ چونکہ روشنی سے اندھیرے میں آئے تھے اس لئے کچھ دکھائی نہ دیا۔ اندر سے کسی نے ڈانٹ کر کہا، کون ہے؟ اس آواز کو پہچان کر ہم تو سنبھل گئے مگر بی چماری اچھل پڑیں اور بے اختیار ان کے منہ سے گنبد کی آواز کی طرح نکلا، کون ہے؟ میں نے کہا، میں اور دانی۔ مولوی صاحب نے کہا، آؤ بیٹا اندر آؤ۔ مولوی صاحب فوراً پلنگ پر اٹھ بیٹھے اور تہمد کو سنبھالتے ہوئے نیچے اتر آئے۔ پوچھا، کیا پڑھتے ہو؟ ہم نے کتاب پیش کی۔ تھوڑی دیر تک الٹ پلٹ کر دیکھتے رہے، اس کے بعد کہا، بھئی ایک کتاب میرے لئے بھی لیتے آنا۔ ہم نے اپنی ایک کتاب ان کو دے دی اور دوسری دونوں نے مل کر کام نکالا۔ کب پڑھایا اور کس طرح پڑھایا، اس کا میں آئندہ ذکر کروں گا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب پڑھ کر اٹھے تو سب کچھ یاد تھا، مگر دماغ پر کسی قسم کا بار نہ تھا۔ خوشی خوشی گھر آئے، چلو اللہ دے اور بندہ لے۔
ہم نے بھی کالج میں مولوی صاحب کی تعریفوں کے پل باندھ دیے۔ یہاں تک کہ یہ آواز ہندو کالج کے طلبہ کے کان تک پہنچی۔ وہاں کے ایک طالب علم مسٹر رضا کے دل میں گدگدی اٹھی، وہ آئے، ہم سے ملے اور کہا، بھئی میں بھی تمہارے ساتھ چلوں، مولوی صاحب انکار تو نہ کریں گے؟ ہم نے کہا، بھائی چلو اور ضرور چلو، مولوی صاحب کا کیا بگڑتا ہے، دو کو نہ پڑھایا تین کو پڑھایا۔ انہوں نے کہا، نہیں، پہلے مولوی صاحب سے پوچھ لو، ہم نے کہا، یار چلو بھی، اگر انہوں نے کچھ کہا، تو ہمارا ذمہ۔ وہ راضی نہ ہوئے اور یہی کہا کہ پہلے پوچھ لو۔
اس عرصے میں ہماری ہمت مولوی صاحب کے سامنے بہت بڑھ گئی تھی۔ دوسرے دن جاتے ہی رضا کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، لیتے کیوں نہ آئے۔ ہم نے کہا، وہ ذرا شرمیلے ہیں، بغیر اجازت آنا نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا، طالب علم شرمیلا ہوا اور ڈوبا۔ خیر کل ضرور ساتھ لانا، ذرا ان کا بھی رنگ دیکھ لوں۔ شام کو واپسی کے وقت جاتے جاتے فراش خانے میں ہم نے رضا کومولوی صاحب کا اجازت نامہ پہنچا دیا اور کہہ دیاکہ بھئی پورے ڈیڑھ بجے پہنچ جانا ورنہ اندر گھسنا نہ ملے گا۔
دوسرے دن جو ہم پہنچے تو وہ پہلے ہی سے دروازے پر ڈھئی دیے بیٹھے تھے۔ ٹھیک ڈیڑھ بجے ہم اندر داخل ہوئے۔ مولوی صاحب ہم کو دیکھتے ہی پلنگ پر اٹھ بیٹھے اور کہا، لاؤ کتاب۔ ہم نے کتاب طاق پر سے اتار ان کے ہاتھ میں دی اور وہ کتاب لیتے لیتے نیچے آ بیٹھے اور کہا، اچھا، یہ ہیں میاں رضا! بے چارے رضا نے گردن جھکا کر کہا، جی ہاں۔ مولوی صاحب نے کہا، اچھا بھئی شروع کرو۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.