Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 9 из 11

The Eighth Majlis: Man and Beast, and the Government School

آٹھویں مجلس: آدمی اور جانور، اور سرکاری مدرسہ

Altaf Husain Hali

Письмо
Размер

آٹھویں مجلس

سید عباس کہتا ہے کہ میری مخدومہ نے پھپھی صاحب سے بحث تو اس قدر کی، لیکن اگلے ہی دن ان کی ناخوشی کے خیال سے مجھے اور غلام امام کو پڑھنے بٹھا دیا۔ ایک مولوی صاحب پورب کے رہنے والے دلی میں فقہ حدیث پڑھنے کو آئے ہوئے تھے؛ ان کی استعداد عربی میں تو بہت ہی اچھی تھی، مگر فارسی میں بھی ان کی انشا پردازی شہر میں مشہور ہو گئی تھی۔ پہلے تو اماں جان نے ان کے سپرد کیا اور پانچ روپیہ مہینا اور ایک وقت کا کھانا ان کے لیے مقرر کر دیا؛ اور پانچ روپیہ مہینا اور ایک وقت کا کھانا ان کو ایک اور جگہ سے ملتا تھا؛ اور دو ایک لڑکوں کو وہ بے تنخواہ بھی پڑھاتے تھے۔ غرض ہم پانچ چار لڑکے ان سے پڑھتے تھے۔ میں نے اور غلام امام نے برس دن کے قریب ان سے پڑھا۔ اس عرصے میں عربی صرف و نحو کے دو تین رسالے جو باقی رہے تھے وہ پڑھے؛ ایک آدھ کتاب فارسی میں دیکھی؛ کچھ مسودہ لکھا۔

مگر جیسا اماں جان کی تعلیم میں میرا شوق اور استعداد روز بروز بڑھتی جاتی تھی، وہ بات یہاں بالکل نہ رہی، کیونکہ اول تو کوئی میرا ہم سبق نہ تھا جس کی لاگ پر کچھ پڑھنے میں تندہی کرتا؛ سب لڑکے اپنے اپنے سبق جدا پڑھتے تھے؛ اور غلام امام جو میرا شریک تھا، بیچ میں چند روز کو بیمار ہو گیا تھا؛ پھر جو آیا تو اس کا سبق مجھ سے کہیں پیچھے تھا؛ مولوی صاحب نے اس کو وہیں سے پڑھانا شروع کر دیا۔ دوسرے امتحان کا بھی ان کے ہاں دستور نہ تھا؛ اس سے اور بھی ہم بے فکر رہتے تھے۔ اس کے سوا تم جانتے ہو ہمعمروں کی صحبت بھی غضب ہوتی ہے؛ جب تک وہاں رہتے اشاروں سے باتیں کرتے رہتے؛ جب چھٹی ملتی تو ترکمان دروازے پتنگ بازی کی سیر دیکھنے چلے جاتے۔ آخر یہ ہوا کہ رفتہ رفتہ ہم کو بھی پتنگ اڑانے کا شوق ہو گیا؛ آنہ دو آنے جو اماں جان سودے کو دیتی تھیں وہ بھی اسی میں صرف ہونے لگا؛ چند روز میں جو کچھ پڑھا لکھا تھا سب چوپٹ [1] ہو گیا۔

مولوی صاحب نے بھی دیکھا کہ یا تو اس کا وہ حال تھا کہ مطالعہ بھی اچھا نکال لاتا تھا، سبق بھی روز یاد کر لیتا تھا، کبھی کبھی جو پچھلی پڑھی ہوئی کوئی بات پوچھی جاتی تھی اس کا جواب بھی خاصا دے دیتا تھا؛ یا اب روز بروز بگڑتا جاتا ہے۔ دو چار بار تو انھوں نے تنبیہ کی، مگر جب دیکھا کہ اس کو کچھ اثر نہیں ہوتا، ایک دن میرے پس غیبت ڈیوڑھی پر آن کر سارا حال ماماں کے ہاتھ اماں جان کو کہلا بھیجا؛ اور پتنگ بازی کی بھی ان کو کچھ خبر لگ گئی تھی، یہ بھی ماماں سے کہہ دیا۔ اماں جان نے ماماں سے کہا کہ جاؤ، مولوی صاحب سے میرا سلام کہو اور یہ کہو کہ "آپ جانتے ہیں، اس کی عمر اب مار کھانے کی نہیں ہے؛ سلامتی سے کوئی دن میں اب گیارھواں سال لگنے والا ہے؛ دو تین برس میں، اللہ رکھو، جوان ہو جائے گا؛ دوسرے اس کو غیرت بھی بہت ہے؛ مجھے گھرکتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے؛ اگر مقابلہ کر بیٹھا تو مشکل، اور جو دور پار کہیں چلا گیا تو اور زیادہ مشکل؛ پھر مجھے زندگی کاٹنی دشوار ہو جائے گی۔ مگر مجھے امید ہے کہ جو میں کہوں گی وہ مان جائے گا۔ الٰہی! دنیا ہو اور میرا سید عباس ہو؛ آج تک تو کبھی میرے کہنے سے باہر نہیں ہوا؛ مگر زمانہ بہت نازک ہے، آج کل اولاد کو ماں باپ سے پھرتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ خیر جس طرح ہو گا میں اس کو سمجھاؤں گی؛ مگر جن لڑکوں کی صحبت میں وہ بگڑا ہے ان کا بندوبست آپ کے ہاتھ ہے۔"

یہ سن کر مولوی تو چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں جو گھر میں آیا تو اماں جان کو اور دنوں سے زیادہ مہربان پایا؛ خفگی کا تو کیا ذکر تھا، الٹی بات بات میں خاطر داری کرنے لگیں۔ میں نے کچھ اڑتی سی خبر سنی تھی کہ مولوی صاحب آج کچھ فریاد لے کر آئے تھے، لیکن ان باتوں سے وہ کھٹکا بھی جاتا رہا۔

رات کو جب سب کھانا کھا چکے، اماں جان اپنے معمول کے موافق بیٹھ کر کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگیں۔ اس میں آپا خدیجہ بھی آ گئیں، اور میں تو پہلے ہی سے بیٹھا تھا۔ اماں جان ان سے کہنے لگیں: "لو بی! تم روز کہا کرتی ہو کہ مجھے پہیلیاں بوجھنی خوب آتی ہیں؛ بھلا ایک ہماری پہیلی تو بوجھ دو؟" انھوں نے کہا: "فرمائیے؛ سمجھ میں آ جائے گی تو بتا دوں گی۔" اماں جان نے کہا: "بھلا یہ تو بتاؤ کہ خدا کی پیدائش آدمی بھی ہے، جانور بھی؛ ان دونوں میں اچھا کون ہے؟" ابھی باجی جان جواب دینے نہ پائی تھیں، میں نے کہا: "اماں جان! آپ کہیں تو میں بتاؤں۔" انھوں نے کہا: "اچھا میاں، تم ہی بتاؤ۔" میں نے کہا: "آدمی اچھا ہے۔" انھوں نے کہا: "کیوں میاں! آدمی میں جانور سے کون سی بات سوا ہے؟ کیا جانور کے دیکھنے کو آنکھ نہیں؟ یا سننے کو کان نہیں؟ یا سونگھنے کو ناک نہیں؟ یا مزا چکھنے کو زبان نہیں؟ یا وہ اپنے دشمن کو نہیں پہچانتا؟ یا وہ اپنے ہم جنسوں کو دیکھ کر خوش نہیں ہوتا؟ ہمارے نزدیک تو جو باتیں آدمی میں ہیں، وہی جانور میں ہیں۔" میں نے کہا: "جانور میں آدمی کی سی سمجھ کہاں ہے؟"

اماں جان نے کہا: "جانور تو بات کو ایسا سمجھتا ہے کہ آدمی بھی نہیں سمجھتا۔ میں نے ایک کتاب میں لکھا دیکھا ہے کہ ایک دریا پر کچھ آدمی کشتی میں بیٹھے چلے جاتے تھے کہ ایکبارگی طوفان آیا، اور اس کے زور سے کشتی ریتے میں جا بیٹھی؛ اب وہاں سے ان کے نکلنے کی کوئی سبیل نہ تھی۔ ایک خدا کا بندہ دریا پر جا پہنچا؛ اس کے ساتھ ایک کتا تھا؛ اس نے جو کشتی والوں کا یہ حال دیکھا، فوراً ایک چھوٹی سی لکڑی کتے کے منہ میں دے کر کشتی کی طرف اشارہ کیا؛ وہ اس کے اشارہ کو سمجھ گیا، اور دریا میں کود کر پانی کو چیرتا ہوا کشتی کے لگ بھگ جا پہنچا؛ مگر آگے دھسن تھی، وہاں کیونکر جاتا؟ اب کشتی والوں کا منہ تک رہا ہے اور یہ جتا رہا ہے کہ اگر تم سے کچھ ہو سکے تو کرو۔ آخر ان کی سمجھ میں بھی آ گئی؛ انھوں نے رسی میں ایک لکڑی باندھ کتے کی طرف پھینکی؛ اس نے اپنے منہ کی لکڑی تو وہیں چھوڑ دی، اور آپ لپک کر اس لکڑی کو منہ میں تھام لیا، اور اس کو کھینچتا ہوا کنارے پر پہنچا اور اپنے مالک کو دے دی۔ اب رسی کا ایک سرا تو اس کے مالک نے تھام لیا اور دوسرا کشتی والوں نے کشتی میں مضبوط باندھ دیا، اور رسی کے سہارے سے ایک ایک آدمی وہاں سے نکل آیا۔ سچ کہنا، جس طرح وہ کتا اپنے مالک کے دل کی بات کو اور کشتی والوں کے منصوبے کو فوراً سمجھ گیا، اگر تم وہاں ہوتے تو تم بھی سمجھ جاتے؟"

میں نے کہا: "نہیں صاحب! یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اچھا، ہم نے مانا کہ جانور بھی آدمی کی سی سمجھ رکھتا ہے، لیکن اس میں آدمی کی سی محبت اور وفاداری کہاں؟" اماں جان نے کہا: "بیٹا! بھلا کتے کی وفاداری تو مشہور ہے، اس کو تو سینکڑوں آدمی جانتے ہوں گے؛ مگر تم اس کو بھی جانے دو؛ تیتر کی بھی کچھ حقیقت ہے؟ ابا جان کسی انگریز سے سنی ہوئی کہتے تھے کہ ایک شخص نے تیتر کو ایسا ہلایا تھا کہ وہ جہاں چاہتا تھا اڑ کر چلا جاتا تھا، اور پانچ پانچ چھ چھ دن کے بعد پھر اسی کے پاس چلا آتا تھا۔ جب تیتر کا مالک بیمار ہوا اور اس کی حالت غیر ہوئی تو تیتر نے سب دانہ پانی چھوڑ دیا۔ جب وہ مر گیا اور اسے دفن کرنے کو لے چلے، تو تیتر کا یہ حال تھا کہ بار بار اس کے جنازہ پر قربان ہوتا تھا۔ جب لوگ اسے گاڑ داب کر چلے آئے تو وہیں ایک سرو کا درخت تھا، اس پر رہنے لگا؛ جب بھوک لگتی تو وہاں سے اڑ کر اس کے گھر چلا جاتا؛ اس کی ماں کچھ دانہ پانی اس کے آگے ڈال دیتی؛ جہاں پیٹ بھرا، پھر اسی سرو کے درخت پر چلا آتا۔ آخر تین چار مہینے کے بعد وہیں مر رہا۔ بھلا اس سے زیادہ اور کیا وفاداری ہو گی؟"

میں نے کہا: "اماں جان! خیر یہ بھی میں نے مانا، مگر آدمی میں اور ہزاروں خوبیاں ایسی ہیں جو جانوروں میں نہیں۔ ہمارا سا صبر و استقلال ان میں کہاں ہے؟ ہماری سی تمیز ان میں کہاں؟ ہم اپنے ہاتھ سے طرح طرح کی چیزیں بناتے ہیں؛ کوئی جانور کی کاریگری تو دکھا دیجیے! ہمیں جہاں دشمن کا ڈر ہوتا ہے وہاں اپنے بچاؤ کے لیے کیسی کیسی تدبیریں کرتے ہیں؛ بھلا جانور بیچارے یہ باتیں کیا جانیں؟ اس کے سوا ہمیں جو کچھ سکھائیے سیکھ سکتے ہیں؛ جانور بھلا کیا سیکھے گا؟"

اماں جان نے کہا: "یہ بھی غلط ہے؛ ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو جانوروں میں نہ پائی جائے۔ خارپشت کے بدن میں تم لکڑی چبھو کر دیکھو، وہ فوراً سمٹ کر گیند کی صورت بن جائے گا، اور جو چلتا ہو گا تو ٹھیر جائے گا؛ وہ جو مثل مشہور ہے کہ ایک چپ سو کو ہرائے، سو یہ بات ہم نے اسی میں دیکھی ہے۔ بیٹا! اور صبر و استقلال کسے کہتے ہیں؟ آگے تمیز کی جو پوچھو، تو گلہری کو دیکھو کہ جب کسی پیڑ پر بیٹھ کر اس کا پھل کھاتی ہے تو پہلے کتر کتر کر اس کا چھلکا اتار ڈالتی ہے اور گودا کھا لیتی ہے۔ کاریگری میں بھڑ اور مکڑی اور بیا تم سے ہزار درجہ بہتر ہے؛ بھڑ کا سا چھتا اور بیے کا سا گھونسلا اور مکڑی کا سا جالا تم سے ہرگز نہیں بن سکتا۔ مکڑی کو خدا نے یہ کیسی سمجھ دی ہے کہ جب کوئی بڑی مکھی اس کے جال میں آ پھنستی ہے اور وہ دیکھتی ہے کہ اس کے تڑپنے سے جالا ٹوٹ جائے گا، تو وہ مکھی کے پاس سے جالے کے تاروں کو اپنے دانتوں سے کاٹ دیتی ہے، مکھی فوراً نکل جاتی ہے۔

اور اپنے بچاؤ کی تدبیر تو جیسی جنگلی بطخ کرتی ہے ایسی کسی سے بھی نہیں ہو سکتی۔ میں نے سنا ہے کہ جب یہ اکٹھی ہو کر اڑتی ہیں اور کسی کھیت میں چگنے کو اترتی ہیں تو پہلے اسی کھیت کے گرد بیسیوں چکر لگا لیتی ہیں؛ جب خوب دیکھ لیتی ہیں کہ یہاں کچھ کھٹکا نہیں ہے تو نیچے اترتی ہیں؛ اس پر بھی ٹھیر کر دو دو گھڑی منہ اٹھائے ہوئے چپ چاپ ادھر ادھر دیکھتی رہتی ہیں؛ جب کہیں کچھ آہٹ نہیں پاتیں تو جو بطخ ان سب میں بڑی ہوتی ہے وہ ان کو کچھ ایسا اشارہ کرتی ہے کہ سب قرینہ کے ساتھ کھیت میں پھیل جاتی ہیں؛ مگر ایک بطخ برابر چوکسی کرتی رہتی ہے، اور ایک پاؤں سے کھڑی رہتی ہے، اور دانہ چگنے کے پاس نہیں جاتی؛ جب وہ اپنا پہرہ دے چکتی ہے تو جو بطخ اس کے پاس ہوتی ہے، زور سے اس کو ٹھونگ مار دیتی ہے؛ اور جو وہ پہلی ہی ٹھونگ میں ہوشیار نہ ہوئی تو اس کے پر گھسوٹ لیتی ہے اور چلانے لگتی ہے جیسے کوئی فریاد کرتا ہو۔ پس اگر آدمی بھی اپنی چوکسی کرے گا تو اتنی ہی کرے گا۔

اور یہ جو تم نے کہا کہ جانور آدمی کی برابر تربیت نہیں قبول کرتا، یہ تمھاری ناتجربہ کاری کی بات ہے؛ اس بات میں کتا اور گھوڑا کسی طرح آدمی سے کچھ کم نہیں؛ سدھے ہوئے کتے اور گھوڑے نے ہزاروں جگہ ایسے کام کیے ہیں کہ کیا کوئی شائستہ آدمی کرے گا۔"

آخر جب ہم سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو میں نے کہا: "اماں جان! پھر آپ ہی بتائیے کہ آدمی اور جانور میں کیا فرق ہے؟" اماں جان نے کہا: "بیٹا! آدمی اور جانور میں یہ فرق ہے کہ خدا تعالیٰ نے آدمی کو وہ طاقت دی ہے کہ اگر چاہے تو اپنی عقل کے زور سے بڑھتے بڑھتے کہیں کا کہیں پہنچ جائے، اور جانور بیچارہ اپنے جس حال میں ہے اس سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔

دیکھ لو، مکڑی کا جالا اور بیے کا گھونسلا اور بھڑ کا چھتا، جہاں دیکھو گے اور جب دیکھو گے، ایک ہی وضع کا پاؤ گے؛ جو گھونسلا بیے نے حضرت نوح کی کشتی میں بنایا ہو گا، اس میں اور اب کے گھونسلوں میں بال برابر فرق نہیں۔ اور آدمی کا کمال عقل کی بدولت یہاں تک پہنچ گیا کہ اگر کوئی جنگلی آدمی دلی کی جامع مسجد اور آگرہ کا تاج گنج دیکھ پائے تو بیشک اس کو ایک طلسمات کا عالم سمجھے۔ اسی طرح بھینس یا ہاتھی جب دریا میں اتریں گے، تیر کر اپنے سینہ کے زور سے جائیں گے؛ اور آدمی نے اپنی عقل کے زور سے طرح طرح کے پل اور جہاز بنا کر دریا کا سفر ایسا آسان کر دیا کہ آنکھ بند کر کے جہاں چاہو چلے جاؤ۔ اسی طرح گھوڑے کو جب بھوک لگے گی، جنگل میں جا کر گھانس پھونس سے اپنا پیٹ بھر لے گا؛ اور آدمی نے اپنے دل کی اپج سے ایسے ایسے کھانے نکالے ہیں کہ اگر کوئی پہاڑی آدمی دلی اور لکھنؤ کے کھانوں کا مزہ چکھ لے تو انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔

بیٹا! ایک زمانہ وہ تھا کہ آدمی درختوں کے پتوں سے اپنا بدن ڈھک کر زندگی کے دن پورے کرتے تھے، اور ایک یہ زمانہ ہے کہ ایک سے ایک عجیب کپڑا ولایت سے چلا آتا ہے۔ آگے دنیا میں چاند اور سورج کی روشنی کے سوا اور کوئی روشنی کی چیز نہ تھی؛ پھر چراغ اور شمع اور لالٹین اور جھاڑ اور فانوس نکلے؛ اب سنتی ہوں کہ کلکتے میں لندن کے عقلمندوں نے ایک کارخانہ بنایا ہے، وہاں سے رات کو شہر کے ایک ایک مکان اور ایک ایک دوکان میں خود بخود روشنی ہو جاتی ہے، اور ہر ایک مکان کو تمام رات روشن رکھتی ہے، اور کتنا ہی بڑا مکان کیوں نہ ہو اس کے ایک ایک کونے میں برابر پہنچتی ہے۔ آگے چل کر انگریزی دیاسلائیوں کو دیکھو: پہلے جب کہیں گھانس پھونس سے آگ جلاتے تھے جب جا کر چراغ جلتا تھا؛ اس کے بعد گندک کی دیاسلائی نکلی، اس سے گھانس پھونس کی ضرورت نہ رہی؛ اب اس دیاسلائی سے آگ کی بھی حاجت نہ رہی؛ دیاسلائی کو جہاں بکس کے ڈھکنے پر رکھ کر ذرا گھسا، فوراً دہک اٹھی۔

پہلے لو کا بچاؤ کہیں نہ تھا؛ کسی درخت کے سایہ میں یا پہاڑ کی کھوہ میں بیٹھ کر دن کاٹ دیتے تھے؛ رفتہ رفتہ مکان بننے لگے؛ ان کی چھت اور دیواروں سے ہوا کی کچھ کچھ روک ہو گئی؛ پھر لوگوں نے تہ خانے نکالے؛ اب خس کی ٹٹیاں اور چرخے کے پنکھے ایسے نکلے کہ جہاں لگا دو وہیں جنت کی ہوا آنے لگے۔ پہلے گرم ولایتوں میں پانی ٹھنڈا کرنے کی کوئی چیز نہ تھی؛ ہر موسم میں جیسا پانی ہوتا تھا پی لیتے تھے؛ لوگوں نے سوچتے سوچتے شورہ نکالا؛ شورے میں ہلانے سے پانی ٹھنڈا ہونے لگا؛ پھر برف جمانے کی ترکیب نکالی، اور جاڑے کی برف سے گرمی اور برسات کے موسم میں کام لیا؛ مگر اس کا انتظام ذرا مشکل تھا؛ جب تک کوئی راجہ یا نواب یا بہت سے سوداگر مل کر اس کا کھٹراگ [2] نہیں کرتے، جب تک یہ کام نہیں چل سکتا؛ اب ایک کل ایسی نکلی کہ ایک دفعہ ہزار پانسو کو خرید لو، پھر جہاں چاہو اور جب چاہو اور جتنی چاہو برف جما لو۔

پہلے رستہ کاٹنے کی کیسی دقت تھی: گھوڑا، اونٹ، چھکڑا، بہلی، رتھ، دن بھر میں پندرہ بیس کوس سے زیادہ نہ چل سکتی تھی؛ جہاں آدمی کو ہزاروں کوس کا سفر کرنا ہوتا تھا وہاں سینکڑوں ہی روپیوں کا صرف بھی تھا؛ آدمی چلتا چلتا جدا ہلکان [3] ہو جاتا تھا؛ آگے رستے صاف نہ تھے؛ چور، اچکے، ڈاکو، ٹھگ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے؛ بیس بیس کوس پانی کی ایک بوند نہ ملتی تھی۔ اب دیکھو رستے کیسے صاف ہو گئے؛ چپے چپے کوئیں، نہریں، تالاب بنے ہوئے ہیں؛ رستہ لوٹنے والوں کا کہیں نام نہیں۔

پہلے کلکتے سے پشاور تک گھوڑوں کی ڈاک بیٹھی ہوئی تھی؛ آدمی آٹھ سات دن میں بے تکان ہزاروں کوس پہنچ جاتا تھا؛ اب اتنی دیر بھی نہیں لگتی۔ سنتی ہوں کہ ولایت میں ایک ریل گاڑی ایسی نکلی ہے جس میں ایک لشکر رات دن میں آٹھ سو چالیس میل پہنچ سکتا ہے۔ آگے کہیں خبر بھیجنی ہو تو وہ بات کی بات میں ہزاروں کوس پہنچ سکتی ہے؛ سڑک کے کنارے پر جو تار لگا ہوا ہے، اس میں خدا جانے کیا طلسم [4] ہے کہ جس طرح اب میں اور تم باتیں کر رہے ہیں، اسی طرح اس سے ہزاروں کوس پر بیٹھے بات چیت کر سکتے ہیں۔ آگے رڑکی کا حال جو سننے میں آیا ہے، وہ تو کچھ سمجھ ہی میں نہیں آتا؛ جو کام سو کاریگروں سے سارے دن میں نہیں ہو سکتا، وہاں ایسے ایسے ہزاروں کام ایک چٹکی بجانے میں ہو جاتے ہیں۔

غرض جہاں تک غور کرو گے، اسی طرح کی ہزاروں باتیں آدمی کی نکالی ہوئی دیکھو گے؛ یہ بات البتہ جانور میں نہیں ہے۔ اب جو آدمی اپنی عقل سے کچھ کام نہ لے، اور جس حال میں ہے اسی حال میں خوش رہے، اس میں اور جانور میں کیا فرق رہا؟ بلکہ سچ پوچھو تو وہ جانور سے بھی گیا گزرا ہے، کیونکہ جانور میں تو سرے سے عقل ہی نہیں جو اس سے کچھ کام لے اور اس کے زور سے قدم آگے بڑھائے؛ اور آدمی جو عقل کے ہوتے ساتے ایک بھنور میں پھنس جائے اور ہاتھ پاؤں مار کر باہر نہ نکلے، اس سے زیادہ نکما کون ہو گا؟ اسی واسطے بزرگوں نے کہا ہے کہ جس شخص کے دو دن یکساں گذر جائیں اس سے زیادہ ٹوٹے میں کوئی نہیں؛ یعنی آدمی کو چاہیے کہ ہمیشہ علم و ہنر سیکھنے میں قدم بڑھاتا چلا جائے؛ جو آج معلوم ہے وہ کل نہ تھا، اور جو کل معلوم ہو گا وہ آج نہیں۔

واری! بھلا آگے بڑھنا تو درکنار رہا، تم تو اور الٹے پیچھے ہٹتے جاتے ہو۔ آج تمھارے پیچھے مولوی صاحب ڈیوڑھی پر آئے تھے؛ وہ کہتے تھے کہ سید عباس نے جو کچھ پڑھا لکھا تھا سب بھلا دیا؛ آگے سبق پڑھنے بیٹھتا ہے تو عبارت غلط پڑھتا ہے، مطالعہ میں ایک حرف نکال کر نہیں لاتا۔ بیٹا! اگر پڑھنے لکھنے کا شوق نہیں تو کیا تمھاری غیرت بھی اڑ گئی؟ تم کو یہ شرم نہ آئی کہ آج تک مولوی صاحب نے مجھے ہوں سے توں نہیں کیا، لڑکوں میں میری بات بنی ہوئی ہے؛ اگر مولوی صاحب کو غصہ آ گیا اور ہاتھ اٹھا بیٹھے یا کچھ منہ سے برا بھلا کہہ اٹھے تو میری کیسی شیخی کرکری ہو جائے گی؟ تم کو یہ خیال نہ آیا کہ میرے بڑوں میں آج تک کوئی جاہل نہیں ہوا، اگر میں نے چار حرف نہ سیکھے تو لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ تم نے یہ نہ سمجھا کہ چار برس کی عمر سے جو میری ماں میرے پیچھے جان کھپا رہی ہے، اس کی محنت کیسی اکارت [5] جائے گی؟ تم نے یہ نہ دیکھا کہ اب کوئی دن میں میرا بیاہ ہونے والا ہے، اگر ان پڑھ رہ گیا تو کنبے میں اپنی بیٹی کون دے گا؟"

غرض اماں جان کی ان باتوں سے میرا یہ حال ہوا کہ شرم کے مارے زمین میں گڑ گیا۔ اس وقت تو مجھ سے کوئی بات نہ بن آئی، مگر اگلے دن جب مولوی صاحب کے ہاں جانے کا وقت آیا تو میں نے اماں جان سے ہاتھ باندھ کر عرض کیا کہ "اگر آپ کو یہ منظور ہے کہ مجھے کچھ آ جائے تو سرکاری مدرسے میں بٹھا دیجیے؛ اگر پھر پڑھنے میں قصور کروں تو جو چاہیے سزا دیجیے۔" اماں جان کو یہ بات پسند آئی؛ اسی دن مجھ کو مدرسے میں بھجوا دیا۔

اب میرا یہ معمول ہو گیا کہ صبح سے نو بجے تک تو مولوی صاحب سے عربی اور فارسی پڑھتا، اور اسی میں مسودہ بھی لکھتا؛ نو بجے گھر میں آ کر کھانا کھاتا؛ دس بجے مدرسے چلا جاتا۔ اتوار کے دن مجھے اماں جان نے صبح سے دس بجے تک تو شکار کی اجازت دے رکھی تھی، اور دو بجے سے پانچ بجے تک دریا پر جا کر اسلام بیگ سے تیرنا سیکھتا تھا۔ پندرہ برس کی عمر تک میرا یہی قرینہ رہا۔ ریاضی، طبیعی، جغرافیہ، تاریخ، انگریزی حاصل کی؛ اور فارسی میں شاہنامہ، سکندر نامہ، آئین اکبری وغیرہ، اور عربی میں ایک ایک دو دو کتاب فقہ، حدیث، تفسیر کی، اور الف لیلہ اور نفحۃ الیمن اور تاریخ تیموری وغیرہ ادب میں مولوی صاحب سے پڑھیں۔ اور فارسی کی عبارت لکھنی بھی انھیں سے سیکھی۔ غرض جو کچھ مجھے آتا ہے یہ اسی پانچ برس کی کمائی ہے، اور اگر سچ پوچھیے تو سب اماں جان کا صدقہ ہے۔

حواشی

[1] چوپٹ: بھول گیا۔

[2] کھٹراگ: انتظام۔

[3] ہلکان: پریشان۔ خستہ۔

[4] طلسم: جادو۔

[5] اکارت: بیکار۔ ضائع۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.