
Capítulo 10 de 11
The Ninth Majlis: The Journey, the Quicksand and Istanbul
نویں مجلس: آتوجی کا بیان
نویں مجلس
آتو جی کا بیان
کہتے ہیں کہ سید عباس سولھویں برس میں تھا کہ اسے مدرسہ چھوڑنا پڑا۔ بات یہ تھی کہ زبیدہ خاتون کے چچا خواجہ کمیل، جن کا ذکر پہلے آ چکا ہے، بہت مدت سے ان کی کچھ خیر خبر معلوم نہ تھی؛ تیس پینتیس برس کی عمر میں وہ دلی سے نوکری چھوڑ کر کہیں کو چلے گئے تھے۔ اب آ کر یہ خبر لگی کہ ان کا بیٹا خواجہ ہذیل نام اورنگ آباد دکن میں موجود ہے۔ یہ خبر کچھ ایسی تحقیق نہ تھی، مگر زبیدہ اس کے سنتے ہی بیقرار ہو گئی۔ لوگوں نے ہر چند سمجھایا کہ ایسی ایسی خبروں پر یقین لانا دانائی سے بعید ہے، لیکن لہو کا جوش کب مانتا تھا۔ آخر یہ ارادہ ٹھیرا کہ سید عباس کو اورنگ آباد بھیجنا چاہیے۔
سارا کنبا سمجھا کر بیٹھ رہا کہ پندرہ برس کی جان کو کالے کوسوں بھیجنا کسی طرح مناسب نہیں، پر زبیدہ خاتون نے ایک نہ مانی اور یہ کہا کہ "یہ تو اس کے سفر کا ایک بہانہ ہو گیا ہے؛ اگر یہ بات پیش نہ آتی تو بھی میں اس کو شہر میں ہرگز نہ رکھتی، ضرور کسی نہ کسی طرف بھیجتی، کیونکہ آدمیت سی چیز شہر کی چار دیواری میں کہیں نہیں آ سکتی۔ بیشک اس کے مدرسہ چھوڑنے کا مجھے بھی افسوس ہے، مگر پھر جو دیکھتی ہوں تو کچھ افسوس کی بات نہیں؛ سفر آدمی کا سب سے بڑا استاد ہے؛ گویا میں اس کو ایک مدرسے سے اٹھاتی ہوں اور دوسرے میں بٹھاتی ہوں۔" یہ کہا اور سفر کی تیاری شروع کی۔ چند روز میں سب سامان لیس [1] کر کے بیٹے کو روانہ کیا؛ غلام امام، اس کی انا کا بیٹا، اور اسلام بیگ بندوقچی، یہ دونو آدمی اس کے ساتھ کیے۔ اور چلتے وقت یہ کہہ دیا کہ اگر خواجہ ہذیل اورنگ آباد سے کہیں چلے گئے ہوں تو ان کو اور شہروں میں بھی تلاش کرنا، اور جہاں کہیں ملیں فوراً انھیں ساتھ لے کر چلے آنا۔
غرض سید عباس اورنگ آباد پہنچا۔ تینوں آدمی ایک سرائے میں جا ٹھیرے اور خواجہ ہذیل کو شہر میں ڈھونڈنا شروع کیا۔ کئی دن کے بعد یہ معلوم ہوا کہ اسی نام کا ایک شخص یہاں آیا تھا، مگر بیس بائیس دن ہوئے کہ یہاں سے ایک قافلہ حج کو گیا ہے، وہ بھی اس کے ساتھ چلا گیا۔
سید عباس نے اسی وقت حج کا ارادہ کر لیا۔ نقدی اور ضروری کپڑے کے سوا ایک ایک گھوڑا اور ایک ایک بندوق اور رہنے دی، اور باقی تمام اسباب وہیں نیلام کر کے سیدھے بمبئی کو ہو لیے۔ چلتے وقت جو انھوں نے حساب کیا تو ابھی حج کے موسم میں چھ سات مہینے باقی تھے۔ سید عباس نے کہا: "بھئی، سو دو سو کوس کا پھیر پڑے تو پڑے، لیکن بڑے بڑے شہر جو تیس تیس چالیس چالیس کوس رستے سے بچے ہوئے ہیں ان کو بھی ساتھ کے ساتھ دیکھتے چلو؛ پھر خدا جانے ادھر آنے کا اتفاق ہو یا نہ ہو۔ اگر خدا کو منظور ہے تو حج کے موسم میں ماموں جان سے جا ملیں گے۔"
غرض وہ اور غلام امام اور اسلام بیگ تینوں بمبئی کی سڑک سے اتر کر بائیں ہاتھ کو ہو لیے۔ دن بھر چلتے، شام کو کہیں آبادی دیکھ کر اتر پڑتے۔ دو ڈیڑھ مہینے تک اسی طرح دائیں بائیں پھرتے رہے؛ جب پھرنے سے خوب جی بھر گیا تو بمبئی کا رستہ لیا۔
اس راہ میں عجب واردات گذری۔ دو تین دن سے ایک ندی ان کے بائیں ہاتھ پڑتی تھی؛ جانا تو اس کے پار تھا، مگر پار اترنے کا موقع نہ ملتا تھا۔ ایک روز چلتے چلتے جب پہر دن آیا تو کنارے کی زمین کچھ نرم نرم آنی شروع ہوئی۔ اوپر سے تو بالکل خشک معلوم ہوتی تھی، مگر جہاں گھوڑوں کے قدم پڑتے تھے وہاں سے گیلی مٹی نکلتی تھی؛ لیکن انھوں نے کچھ خیال نہ کیا؛ اسی طرح منہ اٹھائے [2] چلے گئے۔
دفعتہ سید عباس کا گھوڑا دھسن میں جا پھنسا۔ ایک ایک بالشت اس کے پاؤں زمین میں دھس گئے؛ مگر گھوڑا نہایت جاندار تھا، ہمٹ [3] کر نکل گیا۔ آگے اور زیادہ دھسن تھی؛ اب کے گھٹنوں تک جا رہا۔ اسلام بیگ اور غلام امام نے تو یہ نقشہ دیکھ کر اپنا گھوڑا وہیں روک لیا۔ سید عباس کا گھوڑا دوسری بار پھر ہمکا، اور چاروں پتلیاں جھاڑ کر آٹھ دس ہاتھ پرے جا اترا؛ لیکن اب کے جو پھنسا پھر نہ نکل سکا۔ انھوں نے اپنے دل میں کہا کہ گھوڑے کا نکلنا تو معلوم، مگر کسی طرح سید عباس کو نکالنا چاہیے۔ وہاں سے تھوڑی دور ایک آبادی نظر آتی تھی؛ دونو نے سید عباس کی خاطر جمع کر کے گھوڑوں کی باگ اٹھا دی، اور جھٹ پٹ اس آبادی میں پہنچ کر وہاں سے پانچ سات آدمی اور کچھ رسے اور بلیاں وغیرہ ساتھ لیں اور ندی پر آئے۔
یہاں آ کر جو دیکھا تو نہ سید عباس ہے، نہ کچھ گھوڑے کا پتا ہے؛ مگر ایک کپڑوں کا تھیلا اور کچھ اور اسباب ادھر ادھر پھیلا پڑا ہے۔ اس کو جا کر جو دیکھا تو سید عباس ہی کا اسباب ہے، مگر اسباب والے کا کہیں نشان نہیں۔ دونو ادھر ادھر دیکھنے لگے۔ وہی لوگ جو ان کے ساتھ آئے تھے، انھوں نے کہا: "تم کیا دیکھتے ہو؟ بس اپنے رفیق سے ہاتھ اٹھاؤ۔ اس دھسن میں سے ہم نے تو آج تک کوئی ابھرتا دیکھا نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ سوار اور گھوڑا دونو یہیں رہے۔ اور ہم نے تو تم سے اسی وقت کہہ دیا تھا کہ جب تک ہم وہاں پہنچیں گے، گھوڑے اور سوار کا پتا بھی نہیں ملنے کا۔"
ان کا یہ کہنا تھا کہ ان کے چھکے چھوٹ گئے اور ہوش و حواس بالکل جاتے رہے۔ اسلام بیگ تو پھر بھی کسی قدر سنبھلا رہا، پر غلام امام آخر بچہ ہی تھا، بے اختیار پھوٹ کر رونے لگا؛ آخر روتے روتے غش آ گیا۔ اسی حال میں اسلام بیگ اسے آبادی میں لے گیا۔ بارے وہاں جا کر کچھ ہوش آیا، لیکن کیسا ہوش اور کیسے حواس؟ دو گھڑی چپ ہو رہتا تھا، پھر جب سید عباس یاد آتا تھا، آپے سے باہر ہو جاتا تھا۔ ادھر اسلام بیگ کو یہ فکر تھا کہ اب بیگم صاحب کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے؟
غرض کہاں تک کہوں، اگلے دن دونو اپنا سارا اسباب گاؤں والوں کو دے دلا کر دم نقد [4] وہاں سے چل دیے، اور جی میں یہ ٹھان لی کہ وطن اور گھر بار سے ہاتھ اٹھائیے اور ساری عمر فقیری میں کاٹ دیجیے۔ برس دن تک یونہیں مارے مارے ادھر ادھر پھرتے رہے۔ آخر ایک قافلہ حج کو جاتا تھا، اس کے ساتھ ہو لیے۔ تین مہینے اس کے ہمراہ رہے۔ چوتھے مہینے جب حج اور زیارت سے فراغت پا چکے تو جی میں یہ آیا کہ روم میں چل کر چند روز وہاں بسر کیجیے۔ اس وقت ان کے پاس خرچ کی ایک کوڑی تک نہ تھی، مگر خدا کی ذات پر بھروسا کر کے اسی طرح چل نکلے۔ رستے میں بڑی بڑی سختیاں اٹھائیں۔ آخر جوں توں کر کے استنبول میں پہنچے۔ تین چار مہینے وہاں رہے۔ اگرچہ وہاں کوئی جان پہچان نہ تھا، لیکن اس شہر میں ان کا جی کچھ ایسا لگ گیا کہ کسی طرح اس سرزمین کے چھوڑنے کو دل نہ چاہا۔
ایک دن دونو بازار میں بے خبر چلے جاتے تھے؛ دیکھتے کیا ہیں کہ سامنے سے ایک لڑکا نوجوان عربی گھوڑے پر سوار گھوڑے کو دلکی کیے چلا آتا ہے۔ جب قریب آیا تو ان کو دیکھتے ہی گھوڑے سے کود پڑا، اور گھوڑا سائیس کو دے کر دونو سے آ کر لپٹ گیا۔ یہ جو دیکھتے ہیں تو صورت شکل سب سید عباس کی سی ہے، مگر دل میں سوچتے ہیں کہ ہم کہاں اور سید عباس کہاں؟ آخر جب پوچھا اور اس نے اپنا نام سید عباس بتایا، پھر تو ان کا یہ حال ہوا کہ دونو کی روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔ بارے [5] سید عباس ان کو تسلی دلاسا دے کر اپنے مکان پر لے گیا۔ مکان کو جو جا کر دیکھتے ہیں تو بالکل امیرانہ ٹھاٹھ [6] ہیں۔ اصطبل میں چار گھوڑے بھی بندھے ہیں؛ دو تین گاڑی بگیاں بھی کھڑی ہیں؛ نوکر چاکر، خدمتگار، باورچی، خانساماں، سب اپنے اپنے کام پر مستعد ہیں۔ آگے رہنے کا مکان بھی نہایت پرتکلف ہے؛ میز، کرسی، کوچ، مسہری، جھاڑ، فانوس سب کچھ موجود ہے۔ اب یہ حیران ہیں کہ الٰہی! یہ خواب ہے یا بیداری ہے؟
غرض وہاں پہنچتے ہی اول انھوں نے یہ پوچھا کہ "تم دھسن میں سے کیونکر نکلے؟" اس نے کہا: "تم تو وہاں گھوڑے دوڑا کر آبادی کی طرف گئے اور یہاں میرا گھوڑا دھسن میں اترنا شروع ہوا۔ جب گھوڑا سینے تک دھس گیا، میں نے اپنے جی میں کہا کہ بس گھوڑے سے ہاتھ اٹھاؤ [7]؛ نہیں تو اب کوئی دم میں تم کو بھی لے بیٹھتا ہے۔
یہ کہہ کر وہیں میں اس کی کمر سے جدا ہوا؛ مگر میں نے دھسن پر اپنا پاؤں نہیں ٹیکا، نہیں تو میں بھی وہیں رہتا۔ میں نے کیا کیا کہ جو کچھ اسباب میری کمر میں لگا ہوا تھا وہ تو جلدی جلدی کھول کر خشکی میں پھینکا، اور ایک ہاتھ میں بندوق لی، اور گھوڑے کے پٹھے پر سے پھسل کر دھسن میں چت آ کر پڑا۔ اس سے میرا سارا بوجھ ایک ہی جگہ نہ رہا بلکہ دور تک پھیل گیا۔ سخت زمین، جہاں تم نے اپنے گھوڑے روکے تھے، وہاں سے پچیس تیس قدم ہو گی۔ اب میں نے ہاتھ تو پھیلا لیے اور وہاں سے لوٹتا لوٹتا خشکی تک جا پہنچا؛ مگر بیچ میں جہاں ذرا سی دیر بھی ٹھیر جاتا تھا وہیں دھسنے لگتا تھا؛ مگر خدا نے مجھے اس وقت ایسی پھرتی دی کہ لوٹ پوٹ کر باہر نکل ہی آیا۔ کپڑے تمام گارے میں لت پت ہو گئے تھے۔ میں نے کہا: اتنے تم آبادی سے الٹے پھر کر آؤ، میں ندی پر چل کر کپڑے دھو لوں اور نہا بھی لوں۔ اسباب تو وہیں چھوڑا اور بندوق ہاتھ میں لے کر ندی پر آیا۔ ندی کو جو آ کر دیکھتا ہوں تو اس زور شور سے جاتی ہے کہ اس میں گھستے ہوئے خوف معلوم ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ وہاں کی زمین کچھ نیچی تھی، اس لیے پانی بہت زور سے آتا تھا۔
مگر یہ لڑکپن بھی آدمی کو خراب کرتا ہے؛ میں نے اپنے دل میں کہا کہ تیرنا تو مجھ کو خوب آتا ہی ہے؛ پانی اگر ایسا ہی زور کرے گا، کوس آدھ کوس بہا لے جائے گا، پھر نکل آؤں گا؛ خدا نے چاہا تو ڈوبنے کا نہیں۔ یہ سوچ کر کپڑوں سمیت ندی میں کود پڑا؛ مگر پانی کے ریلوں نے ہوش بھلا دیے؛ سات آٹھ کوس تک تو مجھے دم نہ لینے دیا۔ آخر جب کچھ پانی کا زور گھٹا اور میرے اوسان ذرا درست ہوئے تو پرلا کنارا وہاں سے بہت قریب تھا؛ خدا خدا کر کے وہاں پہنچا اور جناب باری کا شکر ادا کیا کہ اس نے دو بلاؤں سے نجات دی۔
مگر اب یہ سوچتا ہوں کہ تم سے ملوں تو کیونکر ملوں؟ اپنے میں تو اتنا دم نہیں پاتا کہ پھر پانی میں اتر کر ندی کے پار جاؤں، اور پل یا کشتی کہیں نظر نہیں آتی۔ اسی تردد میں وہاں بیٹھا ہوا کپڑے سکھا رہا تھا۔ جب کپڑے سوکھ گئے تو کنارے کنارے ناؤ کی تلاش میں چلا؛ مگر کہیں ناؤ نہ ملی۔ لاچار جب شام ہو گئی تو وہاں سے کوس آدھ کوس پر کچھ آبادی سی تھی، وہاں چلا گیا؛ رات وہاں بسر کی۔ صبح کو اٹھ کر پھر ندی پر آیا اور خدا کا نام لے کر پانی میں کود پڑا۔ یہاں پانی کا کچھ ایسا زور نہ تھا، اور ندی کا پاٹ بھی کچھ بہت چکلا نہ تھا؛ تھوڑی سی دیر میں اس پار اتر آیا۔ مگر جہاں تمھیں چھوڑا تھا، وہاں میں اور یہاں میں اب کوسوں کا فرق پڑ گیا؛ نو دس کوس تک تو مجھ کو پانی ہی بہا کر لے گیا تھا، پانچ سات کوس ناؤ کی تلاش میں بھی گیا ہوں گا۔
غرض صبح سے چلتے چلتے پانچ بجے شام کے قریب وہیں پھر پہنچا۔ پہلے تو دائیں بائیں تم کو دیکھا؛ جب کہیں پتا نہ ملا تو اپنے اسباب کو جا کر ڈھونڈا؛ اس میں سے بھی کوئی چیز نہ پائی۔ پھر ندی کے اسی کنارے پر، جہاں اول کپڑے دھونے گیا تھا، وہاں پہنچا؛ وہاں میری بندوق اسی طرح رکھی ہوئی تھی جس طرح میں چھوڑ کر گیا تھا۔ اس کو وہاں سے اٹھا کر وہی آبادی، جہاں تم گھوڑا دوڑا کر گئے تھے، اس میں پہنچا۔ وہاں کے لوگوں سے تمھارا اتنا پتا لگا کہ وہ ایک رات یہاں ضرور رہے تھے، پھر خبر نہیں کدھر کو چل دیے۔
میں پانچ سات روز تک تو تم کو اسی نواح میں ڈھونڈتا رہا، لیکن جب کہیں سراغ [8] نہ پایا تو مایوس ہو کر بمبئی کا رستہ لیا۔ میری جیب میں جو پانچ سات روپے رہ گئے تھے، بس وہی تو سمجھ لیجیے؛ اس کے سوا روپیہ پیسا جو کچھ تھا سب اسی اسباب کے ساتھ گیا۔ صرف میں تھا اور میری بندوق تھی یا خدا کی ذات کا سہارا تھا؛ مگر مجھ کو اللہ کی عنایت سے نہ کسی کی التجا کرنی پڑی، نہ کسی سے کچھ مانگنا پڑا۔ یہی چار پیسے جو میرے پاس بچ رہے تھے، اس میں سے دو جوڑے تو میں نے کپڑوں کے بنوا لیے تھے، اور کچھ گولی، چھرہ، بارود اور ٹوپیاں خرید لی تھیں، اور دو ایک چقماق کی پتھریاں لے لی تھیں؛ کچھ نمک باندھ لیا تھا۔ ایک چاقو مول لے لیا تھا۔ رستے میں جہاں بھوک لگتی، ایک آدھ جانور مار لیتا اور اس کے کباب کر کے کھا لیتا۔ شام کو اگر کوئی آبادی آ جاتی تو وہاں ٹھیر جاتا، اور نہیں تو کچھ اس کی بھی پروا نہ تھی، جنگل ہی میں پڑا رہتا۔
آخر جوں توں کر کے بمبئی پہنچا۔ وہاں میرے پاس اور خرچ تو کیا تھا، ایک بارود چھرہ تھا سو وہ بھی تمام ہو چکا۔ میں نے اپنی بندوق پچاس روپے کو دے ڈالی اور ایک دوکان میں جا ٹھیرا؛ دو چار کپڑے عزت کے بنوائے، ایک خدمتگار نوکر رکھا، اور اپنی حیثیت درست کر کے وہاں کے عمدہ لوگوں سے ملنا شروع کیا۔ وہاں شیخ فاروق نامی ایک تاجر یمنی بہت بڑے دولتمند ہیں، اور ان کے اخلاق اور علم و فضل بھی وہاں ایک ایک کے زبان زد تھے۔ رفتہ رفتہ وہاں بھی پہنچا۔ انھوں نے میری بہت خاطر داری کی، اور چلتے وقت بہت تاکید سے کہہ دیا کہ جب تک یہاں رہو ہم سے ضرور ملتے رہنا؛ اور میرا پتا نشان بھی سب پوچھ لیا۔
شام کو دیکھتا کیا ہوں کہ ان کا آدمی کھانے کا خوان مزدور کے سر پر رکھوائے لیے چلا آتا ہے، یہاں تک کہ وہ پوچھتا پوچھتا میرے ہی پاس آن پہنچا، اور مجھ کو اپنے سامنے کھانا کھلوا کر چلتے ہوئے یہ کہہ گیا کہ آپ جب تک یہاں رہیں، اپنے لیے کھانا نہ پکوائیں؛ کھانا آپ کے لیے دونو وقت وہیں سے آیا کرے گا۔ جب میں نے ان کی طرف سے اس قدر مدارات دیکھی، اب تو مجھے ان کے ہاں روز جانا پڑا۔
اگلے دن جو وہاں جانے کا اتفاق ہوا تو وہ اس وقت ایک تین نگینے زمرد کے ہاتھ میں لیے بیٹھے تھے، اور اپنے داروغہ سے یہ پوچھ رہے تھے کہ یہاں کون کون سے آدمی مہر کھودنے میں استاد ہیں؟ میں نے کہا: 'آپ کو کیا کھدوانا منظور ہے؟' انھوں نے کہا: 'یہ تینوں نگ میرے پاس زبید سے آئے ہیں، اور جنھوں نے یہ بھیجے ہیں ان کا نام حسن، اور ان کے چھوٹے بھائیوں کا نام محسن اور احسن ہے؛ ان پر یہ تینوں نام کھدیں گے۔ اور ان دنوں ایران سے ایک بہت بڑے خوشنویس وہاں گئے ہوئے ہیں؛ ان سے لکھوا کر تینوں ناموں کا نمونہ بھیجا ہے، اور یہ چاہتے ہیں کہ اس کے موافق نام کھد جائیں، اس میں سر مو فرق نہ ہو۔' میں نے کہا: 'پھر کسی مہرکن کو بلوا کر دکھائیے؟' انھوں نے اسی داروغہ کو بھیج کر ایک مہرکن کو بلوایا۔ اس نے نمونہ کو دیکھ کر پہلے تو انکار کیا کہ ہم سے ایسے حرف نہیں کھد سکتے، پھر کہنے لگا کہ اگر ایک اشرفی حرف دیجیے تو اپنی طرف سے جہاں تک ہو سکے گا اس میں محنت کی جائے گی۔ انھوں نے کہا: 'اس سے کچھ کم بھی لو گے؟' کہا: 'اگر ایک روپیہ حرف بھی کم دیجیے گا تو نگوں کے بگڑنے کا میں ذمہ دار نہیں ہونے کا؛ بگڑیں تو آپ کے اور سنوریں تو آپ کے۔' غرض اس سے تو معاملہ نہ بنا۔
جب وہ چلا گیا، میں نے ان کے آدمیوں سے پوچھا کہ یہاں کوئی اور مہرکن بھی ہے؟ انھوں نے کہا: 'صاحب! اس سے بہتر اس شہر میں تو کوئی ہے ہی نہیں؛ مگر ایک کشمیری چند روز سے آیا ہوا ہے، اس کی بہت دھوم سنتے ہیں؛ اگر کہیے تو اس کو بلا لائیں؟' میں نے کہا: 'کشمیر کے مہرکن تو عالم میں مشہور ہیں؛ بیشک وہ استاد ہو گا؛ اسی کو لاؤ۔' آدمی تو اسے لینے گیا، اور میں نے ایک چاقو لے کر اس نمونے کے تینوں ناموں میں سے نون کے نقطے چھیل ڈالے، اور انھیں حرفوں کے موافق قلم بنا کر محسن کا مجش بنا دیا، اور حسن کا جش، اور احسن کا اجش۔ شیخ نے جو دیکھا، گھبرا کر کہنے لگے کہ 'ہا! تم نے یہ کیا غضب کیا؟' میں نے کہا: 'آپ کے حرف تو میں نے بگاڑے ہی نہیں، نقطے البتہ بدل ڈالے ہیں؛ سو میں آپ کا مہمان ہوں، میرا یہ قصور معاف فرمائیے۔' وہ ہنس کر مجھ سے پوچھنے لگے کہ 'سچ کہو، یہ بات کیا ہے؟' میں نے کہا: 'ذرا مہرکن کو آ لینے دیجیے؛ دیکھیے، اس کا حال ابھی آپ پر کھلا جاتا ہے۔' وہ اس کاغذ کو اٹھا کر بہت دیر تک غور سے دیکھتے رہے، مگر کچھ ان کی سمجھ میں نہ آیا۔
اتنے میں مہرکن بھی آ گیا؛ اس کو تینوں نگ اور نمونہ دکھایا گیا۔ وہ حقیقت میں بہت بڑا استاد تھا؛ اس نے نمونے کو دیکھتے ہی بتا دیا کہ یہ حرف تو کسی بڑے کامل استاد کے لکھے ہوئے معلوم ہوتے ہیں، مگر نقطے اس کے ہاتھ کے نہیں معلوم ہوتے۔ غرض اس سے جو پوچھا تو اس نے بھی وہی اشرفی حرف کہا۔ میں نے کہا: 'جب ایک حرف کی ایک اشرفی ہوئی تو کم سے کم فی نقطہ ایک روپیہ تو ہونا چاہیے؟' کہا: 'اس میں کچھ شک بھی ہے؟ ان حرفوں کے مطابق نقطے لگانے کچھ ہنسی کھیل نہیں ہیں۔' میں نے کہا: 'جتنے نقطے ہم اس میں سے کم کر دیں گے، اتنے روپے بھی مجرا دو گے؟' وہ سمجھا کہ شاید یہ ہنستے ہیں؛ کہا: 'آنکھوں سے۔' میں نے کہا: 'بہت اچھا۔ اب آپ ان تینوں لفظوں کے حرف تو گن لیں، اور تینوں نگ اور یہ نمونے لے جائیں، اور نقطے ابھی نہ لگائیے گا۔ ان تینوں لفظوں میں اٹھارہ نقطے ہیں؛ ان میں سے جتنے کم کیے جائیں گے، اتنے ہی روپے تمھاری اجرت میں سے کاٹ لیے جائیں گے۔' اس نے کہا: 'بہت اچھا۔' اور وہ تینوں نگ اور نمونے لے کر چل دیا۔
جب وہ چلا گیا، میں نے شیخ سے کہا: 'لیجیے حضرت! میں نے آپ کے تین نقطے چھیل کر چار اشرفی کی بچت کرا دی۔' کہا: 'کیونکر؟' میں نے کہا: 'نون کے نقطے اڑانے سے ایک ایک حرف تو تینوں ناموں میں سے کم ہو گیا؛ تین اشرفیاں تو یہی بچیں۔ اب جس وقت وہ مہریں کھود لائے گا، اس سے کہہ دیا جائے گا کہ ان اٹھارہ نقطوں میں سے ایک ایک نقطہ شین کے دائروں میں لگا دو، اور پندرہ نقطے جو باقی رہے، ان کے پندرہ روپے مجرا دو۔ پہلے آپ کو گیارہ اشرفیاں دینی پڑتیں، اب سات ہی دینی پڑیں گی۔'
شیخ خدا کے فضل سے جیسے دولتمند ہیں ویسے ہی سیر چشم بھی ہیں؛ سو ان کو ایسی ایسی بچت کا تو کیا خیال ہوتا، ہاں مگر یہ لطیفہ ان کو نہایت پسند آیا۔ لیکن اس کے سوا خدا تعالیٰ نے میری زبان سے ان کا ایک اور بڑا فائدہ کرا دیا؛ اس پر البتہ وہ نہایت خوش ہوئے۔
بات یہ ہے کہ ان کے ہاں اکثر کپڑے کے جہاز ولایت سے آیا کرتے ہیں؛ اگر ان کو خاطر خواہ نفع مل جاتا ہے تو تو وہ یونہیں بھرے کے بھرے بمبئی والوں کے ہاتھ بیچ ڈالتے ہیں، اور نہیں تو سیدھے کلکتے بھیج دیتے ہیں؛ وہاں جا کر اچھی طرح بک جاتے ہیں۔ اسی طرح ایک جہاز کے آنے کی خبر تھی؛ اس کا بیجک تو ان کے پاس آ گیا تھا، مگر ابھی جہاز نہیں آنے پایا تھا کہ خریداروں کا ہجوم ہوا۔ اکنی روپے پر لینے کو بہت سے گاہک آئے، مگر انھوں نے کہا کہ میں دونی روپیہ سے کم کو ہرگز نہیں دینے کا۔ میں نے کہا: 'آپ کیا غضب کرتے ہیں؟ یہاں کے تھوڑے نفع کو بھی بہت سمجھنا چاہیے؛ دریا کا مقدمہ ہے، خدا جانے کیا افتاد پڑے؟ اور میرے نزدیک تو آپ ہمیشہ اونے پونے کر کے جہاں تک ہو سکے یہیں دے ڈالا کیجیے۔' اگرچہ ان کی مرضی تو نہ تھی، مگر وہ میرا لحاظ بہت کرنے لگے تھے؛ میری خاطر سے انھوں نے اسی وقت اکنی روپیہ پر سودا کر لیا۔ اس میں پچاس ہزار روپیہ کا کپڑا تھا، اور کچھ اوپر تین ہزار روپے منافع کے ہوئے۔ کل روپے کی طرف سے تو اطمینان کر لیا اور کپڑے کا بیجک خریدار کے حوالے کیا۔
خدا کی قدرت، جب عدن سے جہاز چل لیا اور اس کو چلے ہوئے چار دن بھی گذر گئے، دفعتہ یہ خبر آئی کہ جہاز ڈوب گیا؛ آدمی تو کشتیوں میں بیٹھ بیٹھ کر سب نکل آئے، مگر مال جس قدر تھا سب جہاز کے ساتھ غرق ہو گیا۔ شیخ نے یہ خبر سن کر خریدار کے حال پر بہت تاسف کیا، مگر اس بات کا نہایت شکر ادا کیا کہ خدا تعالیٰ نے ان کے مال پر کسی طرح کی آنچ نہ آنے دی۔ جس وقت یہ خبر آئی، میں بھی انھیں کے ہاں موجود تھا۔ مجھ سے کہنے لگے: 'حضرت! یہ آپ کی جوتیوں کا صدقہ ہے۔' میں یہ کلمہ سن کر شرم کے مارے پانی پانی ہو گیا، اور میں نے یہ کہا کہ 'سچ ہے، آپ بجا فرماتے ہیں؛ مجھے واقعی الہام ہوا تھا کہ یہ جہاز عدن سے آگے نکل کر غرق ہو جائے گا! اے حضرت! خدا خدا کیجیے؛ جب اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ آپ کا مال تلف نہ ہو، اگر میں نہ کہتا، آپ کے دل میں خود یہ بات پڑ جاتی۔ اور ایسی بات آپ کی زبان سے نکلنی نہایت بعید ہے؛ آدمی کو نفع نقصان جو کچھ پہنچتا ہے سب خدا کی طرف سے ہے؛ پھر اس کے کام کو بندے کی طرف نسبت کرنا بڑی غلطی کی بات ہے۔' اس بات سے میری جگہ ان کے دل میں بہت ہو گئی۔
اسی طرح ولایت سے ایک سوال آیا تھا کہ ہندوستان کی شائستگی کون کون سی بات پر موقوف ہے، اور زیادہ تر سرکار کی توجہ پر موقوف ہے یا ہندوستانیوں کی کوشش پر؟ اس کا جواب انھوں نے مجھ سے لکھوا کر بھیجا تھا۔ خدا کی عنایت سے وہ جواب کچھ ایسی نیک گھڑی لکھا گیا کہ انھوں نے تو نہایت ہی پسند کیا، مگر ولایت سے بھی اس کی تعریف اخبار میں چھپی ہوئی آئی۔
غرض قصہ مختصر، چار مہینے مجھ کو وہاں رہنے کا اتفاق ہوا۔ پانچویں مہینے جب حج کا موسم آیا، میں نے شیخ سے اجازت چاہی۔ انھوں نے کہا: 'حج کے بعد کہاں کے ارادے ہیں؟' میں نے کہا: 'روم جانے کا ارادہ ہے۔' انھوں نے دس ہزار روپیہ دے کر مجھ کو رخصت کیا۔ میں وہاں سے اول مکہ معظمہ میں آیا؛ ایک مہینے وہاں رہا؛ حج سے فراغت پا کر مدینہ منورہ گیا؛ سوا مہینے کے قریب وہاں رہا؛ وہیں ماموں جان سے بھی ملاقات ہو گئی۔ (غلام امام نے پوچھا: 'وہ کہاں ہیں؟' اس نے کہا: 'یہیں ہیں؛ اس وقت بازار گئے ہیں، گھڑی آدھ گھڑی میں آ جائیں گے۔')
وہاں سے میں اور ماموں جان استنبول میں آئے۔ یہاں آتے ہی یہ خبر سنی کہ سلطان کے ہاں ایک خدمت ترجمانی کی کئی برس سے خالی ہے، اور دو ہزار روپے مہینا اس کی تنخواہ ہے۔ میں نے لوگوں سے پوچھا کہ اتنی مدت تک خالی رہنے کا کیا سبب؟ انھوں نے کہا: 'اس میں شرط یہ ہے کہ جو شخص کم سے کم پانچ زبانیں جانتا ہو وہ اس خدمت پر مقرر ہو سکتا ہے؛ اور وہ پانچ زبانیں یہ ہیں: ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی۔' میں نے یہ خبر سنتے ہی ترکی سیکھنی شروع کی؛ چھ مہینے برابر رات دن محنت کر کے تقریر میں تو خوب مہارت پیدا کر لی، اور تحریر میں بھی بڑی بھلی طرح اپنا مطلب ادا کر لیتا ہوں؛ اور پانچ چار مہینے فرانسیسی زبان سیکھی، مگر یہ زبان ایسی نہ تھی کہ پانچ چار مہینے میں آ جاتی۔
میں نے خدا کا نام لے کر یہ درخواست دے دی کہ چار زبانوں میں تو میں اس وقت امتحان دے سکتا ہوں، اور فرانسیسی بھی اگرچہ کسی قدر جانتا ہوں مگر اس میں امتحان نہیں دے سکتا؛ میں چاہتا ہوں کہ جو زبانیں مجھے آتی ہیں ان میں میرا امتحان ہو کر یہ اسامی تو بالفعل میرے نام زد ہو جائے، اور چھ مہینے کی مہلت مل جائے؛ اس کے بعد میں فرانسیسی زبان میں بھی امتحان دے دوں گا۔ دربار میں پہنچتے ہی میری درخواست منظور ہو گئی، اور بعد امتحان کے اس اسامی پر مجھ کو مامور کر دیا۔ فرانسیسی زبان میں ابھی امتحان نہیں ہوا، اسی سبب سے تنخواہ بھی پوری نہیں ملتی؛ مگر خدا کی عنایت سے اس میں بھی مجھ کو خاصی دستگاہ ہو گئی ہے۔ لیکن ابھی چھ مہینے نہیں گزرے، کچھ دن اور ایک مہینا باقی ہے؛ اس کے بعد امتحان ہو گا۔"
غلام امام اور اسلام بیگ یہ باتیں سن کر ایسے خوش ہوئے کہ سفر کی تکلیفیں اور جدائی کے صدمے بالکل بھول گئے۔ دم بدم خدا کا شکر ادا کرتے تھے اور اس کی خدائی پر دیتے تھے، اور یہ کہتے تھے کہ "خداوندا! اگر تو ہم کو سرخرو نہ کرتا تو ہمارا منہ اس قابل نہ تھا کہ گھر والوں کو جا کر اپنی شکل دکھاتے۔ تو نے ہم کو دنیا میں بسا لیا اور ہمارے دکھتے دلوں کی دعا سن لی۔" اس کے بعد غلام امام نے کہا: "کیوں جی! بیگم صاحب نے آپ کو اسی لیے بھیجا تھا کہ ماموں جان کو لے کر استنبول چلے جانا اور وہاں امتحان دے کر ترجمانی کی نوکری کر لینا؟" سید عباس نے مسکرا کر کہا: "بیشک ہم سے قصور تو بہت بڑا ہوا، مگر امید ہے کہ اماں جان ضرور معاف کر دیں گی۔ اب میرا ارادہ ہے کہ اپنا سارا حال اماں جان کو لکھ بھیجوں، اور خرچ راہ بھیج کر ان کو یہیں بلا لوں۔ حج کا ارادہ تو ان کا مدت سے تھا ہی، اب یہ خاصا موقع نکل آیا؛ مگر تم دونوں صاحبوں کو وہاں جانا پڑے گا، اور یقین ہے کہ ماموں جان بھی تمھارے ساتھ تشریف لے جائیں۔" انھوں نے کہا: "ہم کو کیا عذر ہے؟ جس وقت آپ کہیں، اسی وقت ہم چلنے کو تیار ہیں۔"
غرض سید عباس نے دو مہینے کے بعد اسلام بیگ اور غلام امام اور خواجہ ہذیل کو ہندوستان کی طرف چلتا کر دیا، اور وہ زبیدہ خاتون کو دلی سے لے کر عرب کو چلے گئے۔ اول حج کیا، پھر مدینہ شریف کی زیارت کی، وہاں سے استنبول کا رستہ لیا۔ جب زبیدہ خاتون وہاں پہنچ گئی، چند روز کے بعد سید عباس کی شادی ایک بہت بڑے امیر کی بیٹی سے ہو گئی؛ سب نے وہیں کا رہنا اختیار کر لیا۔
بس یہ قصہ تمام ہوا۔ خدا تعالیٰ ہر ایک اولاد کو ایسی ماں اور ہر ایک ماں کو ایسی اولاد عنایت کرے۔ آمین۔
تمام شد
حواشی
[1] لیس: تیار۔
[2] منہ اٹھائے: بے پروائی کے ساتھ۔
[3] ہمٹ: اوپر کو زور لگا کر۔
[4] دم نقد: بغیر اسباب و سامان کے۔
[5] بارے: غرض۔ آخرکار۔
[6] ٹھاٹھ: ساز و سامان۔
[7] ہاتھ اٹھاؤ: ناامید ہو جانا چاہیے۔
[8] سراغ: پتہ۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.