
第 8 章,共 11 章
The Seventh Majlis: Sayyid Abbas's Upbringing
ساتویں مجلس: سید عباس کا بیان
ساتویں مجلس
سید عباس کا بیان
سید عباس نے یہ وصیت نامہ پڑھ کر اپنے تربیت پانے کا حال بیان کرنا شروع کیا۔ وہ کہتا تھا کہ آٹھ نو برس کی عمر تک میری والدہ نے مجھ کو مکتب میں نہیں بٹھایا، بلکہ آپ ہی پڑھاتی لکھاتی رہیں: تین گھنٹے دوپہر سے پہلے اور دو گھنٹے دوپہر کے بعد؛ یہ پانچ گھنٹے تو میرے پڑھنے لکھنے کے تھے۔ اس کے سوا صبح سے لے کر رات کے دس بجے تک میرے تمام اوقات اور کاموں میں صرف ہوتے تھے۔ صبح کی نماز کے بعد ایک آدمی کو ساتھ لے کر جنگل کی ہوا کھانے جاتا تھا، اور سورج نکلتے ہی الٹا پھر آتا تھا۔ وہاں سے آتے ہی گرم پانی سے نہا کر اجلے کپڑے پہنے، اور جو کچھ ناشتا تیار رہا وہ کھا لیا۔ اس میں اکثر سات بج جاتے تھے۔
اب میرے پڑھنے کا وقت آیا۔ دس بجے تک مجھ کو اماں جان برابر پڑھاتی رہتی تھیں۔ اس کے بعد میں اور میری انا کا بڑا بیٹا غلام امام، جو میرے کوکا سے عمر میں ایک برس بڑا تھا، گیارہ بجے تک برابر اصطبل میں کھیلتے رہتے تھے؛ اس میں دو چار محلے کے لڑکے اور بھی ہمارے ساتھ کھیلنے کو آ جاتے تھے۔ گیارہ بجے وہاں سے آ کر کھانا کھایا، پھر بارہ بجے تک اخبار دیکھتا رہا۔ اس کے بعد ہمارے پڑوس میں ایک خوشنویس رہتے تھے، ان کے ہاں جا کر نستعلیق کی مشق کرتا تھا۔ ایک بجے وہاں سے آتا تھا۔ ظہر کی نماز پڑھ کر تین بجے تک پھر اماں جان پڑھاتی رہتی تھیں۔ تین بجتے ہی پڑھنے سے مجھے چھٹی ہو جاتی تھی۔ اب پانچ بجے تک میں اپنی بندوق سے کام رکھتا تھا۔ اسلام بیگ، جو ابا جان کے وقت سے ہمارے ہاں نوکر تھا، اس کو بندوق لگانی خوب آتی تھی؛ وہ مجھ کو اصطبل میں لے جا کر نشانہ لگانا سکھاتا تھا۔ اسی پر عصر کی نماز بھی پڑھ لی۔
پانچ بجے کے بعد اگر گرمی کا موسم ہوا تو نہا کر، اور نہیں تو اسی طرح، گھوڑے پر سوار ہو کر شہر کے باہر ہوا کھانے چلا جاتا تھا۔ شام کو وہاں سے آ کر مغرب کی نماز پڑھی، پھر کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد تھوڑی دیر صحن میں ٹہلتا رہا؛ اس میں عشا کی نماز کا وقت بھی ہو گیا؛ پہلے وضو کر کے نماز پڑھی، پھر ایک گھنٹہ کتاب کا مطالعہ دیکھا۔ اس کے بعد اماں جان کی خدمت میں جا بیٹھا۔ اب دس بجے تک ان کی باتیں سنتا رہتا تھا۔ اس میں کبھی تو امتحان کے طور پر کچھ پوچھنے لگتی تھیں، کبھی کوئی قصہ کہنے لگیں، کبھی کچھ نصیحت کرنے لگیں۔ دس بجتے ہی پھر میں اپنے پلنگ پر جا کر سو رہتا تھا۔
اب اس کی تفصیل سنیے۔ اماں جان ہمیشہ میرے لیے موٹا کپڑا بنواتی تھیں، اور یہ کہتی تھیں کہ مہین کپڑے کی اول تو احتیاط بہت کرنی پڑتی ہے، دوسرے اس سے بدن قابو میں نہیں رہتا، اس کے سوا پسینا اچھی طرح نہیں آتا؛ اور یہ قاعدہ ہے کہ جب تک مسام کھلے رہتے ہیں، انسان اکثر بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔ مگر اجلے کپڑے پہننے کی نہایت تاکید رکھتی تھیں؛ اور جو لوگ کپڑا ہوتے ساتے میلے کچیلے رہتے ہیں ان کی طرح طرح سے ہجو کرتی رہتی تھیں، تاکہ مجھے میلے کپڑے سے نفرت ہو جائے۔ اور ہمیشہ سادہ کپڑا پہناتی تھیں؛ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ میں نے کبھی بنت کی ٹوپی تک بھی پہنی ہو، یا گریبان میں کنٹھی یا گھیر میں بیک لگائی ہو۔ جو کبھی کسی کے ساتھ کوئی لڑکا بالا مصالح کے کپڑے پہن کر آ جاتا تو میرے روبرو ان سے یوں کہتیں: "بوا! تم جو اپنے لڑکے کو ایسے کپڑے پہناتی ہو، کہیں اس کے دشمنوں کو ہیجڑا یا زنانہ بناؤ گی؟" اور گرمی، جاڑا، برسات، کوئی موسم کیوں نہ ہو، انگرکھے کے نیچے سینہ بند ضرور پہناتی تھیں، اور یہ تاکید تھی کہ سینہ کہیں سے کھلنے نہ پائے۔ اور نہانے کی تاکید بھی حد سے زیادہ رکھتی تھیں؛ بیماری کاہلی کے سوا مجھے یاد نہیں کہ کسی دن میرا غسل ناغہ ہوا ہو۔ وہ فرماتی تھیں کہ یہ جو پسینے سے روز میل پیدا ہوتا ہے اس سے مسام بند ہو جاتے ہیں؛ اس کا علاج یہ ہے کہ آدمی روز نہاتا رہے تاکہ بدن پر میل جمنے نہ پائے۔
کھانا کھانے میں مجھ کو حکم تھا کہ روٹی کم کھایا کرو؛ زیادہ اناج کھانے سے بدن تو بیشک موٹا ہو جاتا ہے مگر دل و دماغ کا زور گھٹ جاتا ہے؛ ہاں دودھ یا گوشت کا مضائقہ نہیں، یہ جتنا چاہو کھاؤ۔ اور یہ حکم تھا کہ ایک ہی بار پیٹ بھر کر نہ کھایا کرو؛ چاہو دن بھر میں چار دفعہ کھاؤ، مگر بھوک رکھ کر کھاؤ؛ پیٹ بھر کر کھانے سے اول تو کھانا ہضم دیر میں ہوتا ہے، دوسرے طبیعت بوجھل ہو جاتی ہے، ہاتھ پاؤں کہنا نہیں کرتے، ذہن کند ہو جاتا ہے، طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں؛ اور نوالے کو خوب چبا کر نگلا کرو۔ اور زیادہ پانی پینے سے اس قدر روکتی تھیں جیسے کوئی کسی برے کام سے روکتا ہے، اور یہ فرماتی تھیں کہ جو آدمی اپنی پیاس کو نہ روکے اس میں اور جانور میں کچھ فرق نہیں؛ آدمی کو اکثر جھوٹی پیاس لگا کرتی ہے؛ اس میں پانی پینا بہت برا ہے؛ کھانا کھانے کے بعد کم سے کم گھنٹہ بھر ضبط کرنا چاہیے؛ اور سوتے سے اٹھ کر، راہ چل کر، محنت کر کے اسی وقت پانی پینا نہیں چاہیے۔
کھیلنے کی یہ صورت تھی کہ ہمارے رہنے کے مکان سے تھوڑی دور ایک بہت بڑا کچا احاطہ کھنچا ہوا تھا؛ اس میں گائے، بھینس اور گھوڑا بندھتا تھا، اور ان کے لیے نیار بھوس بھی وہیں رہتا تھا۔ وہاں ہم نے ایک اکھاڑا بنا رکھا تھا؛ وہیں کھیلتے تھے اور وہیں کشتی لڑتے تھے۔ ہمارے ساتھ جو آدمی رہتا تھا اس کو اماں جان کا یہ حکم تھا کہ گیند بلا یا کبڈی یا بھاگ دوڑ یا کشتی کے سوا اور کوئی کھیل نہ کھیلیں۔ اسلام بیگ، جو مجھ کو بندوق لگانی سکھاتا تھا، اس کو بندوق کے بڑے بڑے کرتب یاد تھے؛ مگر اماں جان نے یہ کہہ رکھا تھا کہ اس کو فقط سیدھا نشانہ لگانا سکھا دو، اور کرتب ورتب میں نہیں چاہتی۔ اسی طرح چابک سوار جو گھوڑے پر چڑھنا سکھاتا تھا وہ بھی اپنے فن کا بڑا استاد تھا، اس کو گھوڑا پھیرنے کے ہزاروں کرتب یاد تھے، مگر اس کو بھی تاکید تھی کہ لڑکے کو اتنا کر دو کہ گھوڑے پر ران خوب جمنے لگے، باگوں کا حساب اس کی سمجھ میں آ جائے، نشست بے قاعدہ نہ ہو، دلکی، سرپٹ، گشت، پھرت کسی بات میں عاجز نہ رہے، گھوڑا اڑانے میں پٹڑی نہ اکھڑے، گھوڑوں کے مزاج اور خو بو سے واقف ہو جائے، لگام دینی، زین باندھنا، قائزہ کرنا، اگاڑی پچھاڑی لگانی، کھریرا ہاتھی کرنی، ان چیزوں میں سائیس کا محتاج نہ رہے، جو بیماریاں گھوڑوں کو اکثر ہوتی رہتی ہیں ان کے علاج معالجے سے خبردار ہو جائے۔ اسی طرح میرے استاد جن سے میں خط کی اصلاح لیتا تھا وہ بھی بہت سے خط لکھنے جانتے تھے: خط نسخ، خط گلشن، خط غبار، خط طغرا، اور ان کے سوا اور بہت سے خطوں میں ان کو کمال تھا؛ مگر اماں جان کی یہ تاکید تھی کہ اس کو جس قدر ہو سکے نستعلیق لکھنا بتا دو؛ بس اتنا ہو جائے کہ کوئی اس کا لکھا دیکھ کر ناک نہ چڑھائے اور پڑھا اچھی طرح جائے؛ مجھے کچھ زیادہ خوشنویس بنانا نہیں ہے۔
جو کمرہ مجھ کو اماں جان نے رہنے کے لیے دے رکھا تھا وہ مکان کے صحن میں ایک طرف کو بنا ہوا تھا۔ ہمارے گھر میں اور تو سب مکان پرانی چال کے بنے ہوئے تھے، مگر یہ کمرہ والد مرحوم نے اپنے رہنے کے لیے نئی قطع کا بنوایا تھا۔ اس میں پورب، پچھم، اتر، دکھن، چاروں طرف کی ہوا خاطر خواہ آتی تھی؛ اور اس کے گرد ڈیڑھ گز چکلا برآمدہ نکلا ہوا تھا؛ اور اس کے چاروں طرف تین تین گز زمین چمن کے لیے چھٹی ہوئی۔ مجھ کو حکم تھا کہ رات دن اسی کمرے میں بیٹھا اٹھا کرو؛ اور میری کتابیں اور پلنگ اور اوڑھنا بچھونا بھی اسی کمرے میں رہتا تھا۔ گھر میں اور مکان نہایت عمدہ عمدہ بنے ہوئے تھے، مگر مجھے یہاں کے سوا اور جگہ بہت کم بیٹھنے دیتی تھیں، اور یہ کہتی تھیں کہ ہوا سب مکانوں میں ہر وقت بھری رہتی ہے، اور ہوا کا خواص پانی کا سا ہے: جس طرح پانی کہیں ٹھیر جاتا ہے تو چند روز میں سڑ جاتا ہے، اسی طرح جس مکان کی ہوا روز نکلتی نہیں رہتی وہاں بیماری پیدا ہوتی ہے؛ اور ہوا جب ہی نکلتی رہے گی جب دوسری طرف سے تازی ہوا کے آنے کا رستہ ہو گا؛ اسی واسطے حکیموں نے یہ بات نکالی ہے کہ مکان کے دونوں طرف ہوا کے آنے جانے کا رستہ رکھنا چاہیے۔ بیٹا! اگلے وقتوں کے لوگ سیدھے آدمی تھے؛ مکانوں کی جو قطع قدیم سے چلی آتی تھی اسی کو جانتے تھے؛ مگر تمھارے ابا نے جو نئے نئے علم سیکھے، ان کو ان باتوں میں کمال سلیقہ ہو گیا تھا۔ انھوں نے تو کئی بار یہ ارادہ کیا کہ اس مکان کو توڑ کر نئے سرے سے اپنے طور کا مکان بنواؤں، مگر یہ بزرگوں کی نشانی تھی، میں نے زبردستی ان کو اس ارادہ سے باز رکھا؛ جب انھوں نے لاچار ہو کر یہ کمرہ بنوایا۔
جب تک میں مکتب میں نہیں بیٹھا، اماں جان کو زیادہ خیال میری خصلتیں درست کرنے کا رہتا تھا۔ حق یہ ہے کہ اولاد کے اخلاق اور عادات سنوارنے سے زیادہ کوئی مشکل کام نہیں؛ مگر ان کو اس کا ایسا گر ہاتھ لگا تھا کہ اگر میں کسی قابل ہوتا تو ان کی تربیت سے بہت کچھ فائدہ اٹھاتا۔ اول ان کی عادتیں اور خصلتیں ایسی تھیں جن کے دیکھنے سے خود بخود آدمیت آتی تھی۔ دوسرے انھوں نے باہر اور اندر کے نوکر بدلتے بدلتے ایسے آدمی چھانٹ لیے تھے کہ کیا مرد اور کیا عورت سب خیر خواہی کے پتلے بنے ہوئے تھے؛ اور جب سے انھوں نے یہ جان لیا تھا کہ بیوی کو جتنا لڑکے کی تربیت کا خیال ہے اتنا اور کسی چیز کا نہیں، جب سے اماں جان تو مجھ پر کیا روک ٹوک رکھتی تھیں جو وہ رکھتے تھے؛ گھر میں رہتا تھا تو، اور باہر جاتا تھا تو، چاروں طرف سے مجھ کو یہی آواز آتی تھی کہ "دیکھو میاں! یہ کیا کرتے ہو؟ یہ بات اچھی نہیں؛ یہ بات بہت بری ہے؛ یہ بات کرنے کی ہے؛ یہ بات کرنے کی نہیں ہے۔" تیسرے اماں جان میرے ساتھ کچھ برتاؤ ایسا برتتی تھیں کہ مجھ کو ہر طرح سے ان کا کہنا کرنا ہی پڑتا تھا۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی اماں جان نے میرے ایک طمانچہ تک بھی مارا ہو، بلکہ ایک دو دفعہ کے سوا شاید کبھی برا بھلا بھی نہ کہا ہو گا۔
باوجود اس کے ان کا خوف مجھ پر ایسا غالب تھا کہ ان کے سامنے ہوں سے توں نہ کر سکتا تھا۔ ساری بات یہ تھی کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا، کھیلنا تو درکنار، انھوں نے کبھی مجھے اپنے سامنے قہقہہ مار کر ہنسنے نہیں دیا؛ جو قاعدہ ان کے سامنے بیٹھنے کا تھا ہمیشہ اسی قاعدہ سے بیٹھتا تھا؛ اور ہر وقت منہ چومنا، گلے لگانا، پیار کرنا، یہ بھی ان کی عادت نہ تھی۔ اس کے سوا نوکریں ہر وقت ان کی خفگی سے مجھ کو ڈراتی رہتی تھیں؛ اور میں نے جو کبھی مار کا مزا تک نہ چکھا تھا، اس لیے مار کے نام سے میری بھی روح قبض ہوتی تھی؛ اس سبب سے جو انھوں نے کہا وہی کیا۔
چوتھے ان کی عادت تھی کہ اگر مجھ سے کوئی خطا ہو جاتی تو آپ بالکل انجان بن جاتیں، گویا ان کو خبر ہی نہیں؛ اور جو وہی خطا دو چار بار دیکھتیں تو الگ لے جا کر چپکے سے سمجھا دیتیں کہ "بیٹا! دیکھو، اب کی بار تو میں نے تمھارا عیب چھپا دیا؛ اگر پھر ایسا کرو گے تو سب کے سامنے تمھیں ذلیل کروں گی؛ اگر تم کو کچھ اپنی عزت کا پاس ہے تو پھر اس کام کے پاس نہ جانا۔"
سات آٹھ برس کی عمر تک ہمیشہ مجھ پر ان باتوں کی تاکید رہی کہ کھانا کپڑا جیسا گھر میں ملا کرے ویسا کھا پہن لیا کرو؛ جن کو اچھا کھانے اچھا پہننے کا لپکا پڑ جاتا ہے وہ برے وقت میں یا تو بھیک مانگتے ہیں یا چوری کرتے ہیں یا جوا کھیلتے ہیں۔ جب تک ایک نوالہ نگل نہ لو، دوسرے پر ہاتھ نہ دوڑایا کرو۔ کھانا کھانے میں کپڑا دال سالن سے نہ بھرنے پائے۔ بڑوں سے پہلے کھانے کی طرف ہاتھ لپکانا نہیں چاہیے۔ جن باتوں سے اوروں کو نفرت آئے، جیسے ہاتھ جھٹکنا، نوالہ کو زور زور سے چبانا، منہ کی چیز دسترخوان پر گرانی، زور سے ڈکار لینی، نوالہ منہ میں لے کر پھر برتن میں ڈالنا، ایسی باتیں دسترخوان پر بیٹھ کر نہ کرنی چاہییں۔ اسی طرح کسی کی طرف تھوکنا، کسی کے آگے ناک پاک کرنی، کسی کی طرف پیٹھ پھیر کر بیٹھنا، جو کوئی کچھ چیز دے اس سے بے تکلف لے لینا، کسی کے آگے ہاتھ پسارنا، کسی کی بات میں دخل دے بیٹھنا، بیہودہ بک بک کرنی، گالی دینی، جھوٹ بولنا، قسم کھانی، دوپہر کو سونا، صبح کو سویرے نہ اٹھنا، اندھیرے میں بے ٹٹولے جھک جانا، دھوپ میں بیٹھنا، آگ سے تاپنا، آگا دیکھ کر نہ چلنا، بہت دوڑ کر یا بہت آہستہ چلنا، قدم جما کر نہ رکھنا، ننگے بدن رہنا، ان باتوں سے روکتی رہتی تھیں۔
اور سب سے زیادہ بول چال کی غلطیوں پر ٹوکتی رہتی تھیں۔ اول تو مجھ کو یہ قاعدے سکھائے کہ بڑوں سے کیونکر بولنا چاہیے اور چھوٹوں سے کیونکر گفتگو کرنی چاہیے۔ مجھ کو ہمیشہ یہ تاکید تھی کہ تو کہہ کے ادنیٰ حلال خوری سے بھی کبھی نہ بولنا؛ جب کہنا تم کہنا۔ اور بڑوں سے یا برابر کے نئی جان پہچان والوں سے آپ یا حضرت کہہ کر بولنا چاہیے؛ اور جو شخص عمر یا رتبے میں برابر ہو اور اس سے ایسی ہی بے تکلفی ہو تو چاہو آپ کہو، چاہو تم کہو۔ اور بڑوں کے آنے کو تشریف لانا، اور جانے کو تشریف لے جانا، اور بلانے کو یاد کرنا، اور ان کے مزاج کو مزاج مبارک یا مزاج عالی، اور ان کے سلام کو تسلیم یا آداب یا کورنش یا بندگی، اور ان کے گھر کو دولت خانہ، اور ان کے کہنے کو فرمانا یا ارشاد کرنا، اور ان کی اولاد کو صاحب زادہ یا صاحب زادی، اور ان کے نام کو اسم مبارک یا اسم سامی یا اسم شریف، اور ان کے وطن کو وطن مالوف کہنا چاہیے۔ اسی طرح اپنے آنے کو حاضر ہونا، اور کہنے کو عرض کرنا، اور گھر کو غریب خانہ، اور اولاد کو بندہ زادہ یا بندہ زادی کہنا چاہیے، اور اپنے تئیں ہم کہنا اور اپنے نام کے ساتھ سید یا شیخ یا مرزا لگانا بڑی بیوقوفی کی بات ہے۔
اس کے سوا جب میری زبان سے کوئی غلط لفظ نکل جاتا تو اس کو صحیح کر کے بتا دیتی تھیں۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے منہ سے پھول والوں کی سیل نکل گیا؛ اماں جان نے جو سنا، مسکرا کر کہنے لگیں: "بیٹا! اس شہر سے اور ساری خوبیاں تو بہت دن سے جا چکی تھیں، ایک لے دے کے ٹوٹی پھوٹی زبان رہ گئی تھی، سو اس کو بھی تم کھویا چاہتے ہو۔ سنو! آج سے یہ بات یاد رکھو کہ جب کوئی نیا لفظ کسی سے سنا کرو، ہم سے پوچھ لیا کرو کہ یہ لفظ صحیح ہے یا غلط ہے۔ بعض غلطیاں تو ایسی ہیں جن کو جاہل اور بازاری لوگ ہی بولتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا، جیسے سیر کو سیل، مزاج کو مجاز، نسخہ کو نخسہ، کبوتر کو قبوتر، پتھر کو پھتر، دروازہ کو دروزہ، بازار کو بزار، محروم کو نامحروم، ناحق کو بے ناحق؛ اور ان کے سوا اور سینکڑوں لفظ ہیں؛ سو ان کا بولنا بڑے عیب کی بات ہے۔ اور بعض غلطیاں ایسی ہیں جو پڑھے لکھے اور ان پڑھ سب کی زبان پر چڑھی ہوئی ہیں، جیسے تابعدار، بادشاہت، خیراو، چاکو، بکرید، مرغن، شاباش، شاباشی، لاچار وغیرہ؛ سو ایسی غلطیوں کا کچھ مضائقہ نہیں۔ اس کے سوا بہت سے اچھوتے لفظ ایسے ہیں کہ عورتیں ہی بولتی ہیں، مرد نہیں بولتے، جیسے نوج، دور پار، چھائیں پھوئیں، اب سے دور، چل دور، سدھارنا، موا، پچھل پائی، واری، اچھی، اجڑا، مرنے جوگا، بھیا، بھینا، نگھوڑا، جانا، پنڈا [1]، بوا، مردوا، رسنا بسنا، نگوڑا، جھلسا، بھاڑ میں جائے، چولھے میں جائے، آگ لگو، درگور، بختاوری، بودلی وغیرہ۔ دیکھو، کبھی کسی کے سامنے ایسے لفظ بول اٹھو؛ لوگ تمھیں تو کچھ نہیں کہنے کے، ہاں یہ کہیں گے کہ لڑکا ماں کی صحبت میں رہ کر بولی بھی عورتوں ہی کی بولنے لگا۔ غرض آدمی کو چاہیے کہ سب سے پہلے اپنی زبان کو درست کرے، پھر اور زبانیں سیکھنے کا ارادہ کرے؛ نہیں تو وہی مثل ہو گی: کوا چلا ہنس کی چال، اپنی بھی چال بھول گیا۔ بس اس کا قاعدہ یہی ہے کہ جب کسی سے کوئی نیا لفظ سنو، پہلے یہ دیکھ لو کہ اس شخص کے بولنے کی سند بھی ہے یا نہیں؛ اگر کوئی ان پڑھ یا بازاری آدمی ہے تو اس لفظ کو جب تک کسی قابل آدمی کی زبان سے نہ سنو، کبھی زبان پر نہ لاؤ۔ اور سنو! کچھ زبان پڑھنے لکھنے سے درست نہیں ہوتی، بلکہ دھیان رکھنے سے ہوتی ہے؛ جو پڑھے لکھے اس کا خیال نہیں رکھتے ہمیشہ غلط لفظ بولتے ہیں، اور جن کو یہ خیال رہتا ہے وہ ان پڑھ ہوں یا باہر کے رہنے والے ہوں، چند روز میں شہر کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔"
اس کے سوا وقت بے وقت مجھ کو اور کام کام کی باتیں سکھاتی رہتی تھیں: جو لفظ عربی یا فارسی کے اردو میں بولے جاتے ہیں ان کے معنی؛ عربی، انگریزی، فارسی، ہندی مہینوں کے نام؛ سنہ ہجری، عیسوی، فصلی، بکرمی کی مفصل؛ جنتری سے تاریخ نکالنے کا طریقہ؛ چھوٹے بڑوں کے القاب؛ گھڑی گھنٹے کی کوک اور سوئیوں کا حساب؛ مقیاس الموسم، قطب نما، دوربین، خوردبین، ان سب چیزوں کے دیکھنے کا قاعدہ؛ نقشہ سمجھنے کا گر؛ اور اسی طرح کی اور بیسیوں باتیں زبانی بتاتی رہتی تھیں۔
اس کے سوا ایک بڑی بی بغداد کی رہنے والی اتفاق سے شہر میں آ گئی تھیں؛ یہ عربی اور فارسی دونوں زبانیں خوب بولتی تھیں، اور ان کو منظور یہ تھا کہ اگر کوئی میرے کھانے کپڑے کا ذمہ کر لے تو یہیں رہ پڑوں، کیونکہ اول تو عمر زیادہ تھی، دوسرے وطن بہت دور تھا، آگے چل کر خرچ کی ایک کوڑی پاس نہ تھی؛ انھوں نے یہ سمجھا کہ جو دن زندگی کے ہیں یہیں کاٹ دیجیے۔ شہر میں نواب ذوالفقار الدولہ کے ہاں ٹھیری ہوئی تھیں۔ اماں جان نے جو ان کی تعریف سنی، ایک دن دعوت کے بہانہ سے ان کو بلایا؛ دیکھا تو حقیقت میں ان کی دونوں زبانیں نہایت اچھی تھیں۔ اماں جان نے ان کے خرچ کا ذمہ کر کے اپنے ہاں رکھ لیا، اور ان کی ایسی خاطر داری کی کہ ان کا بھی جی یہاں سے کہیں اور جانے کو نہ چاہا۔ وقت بے وقت جب مجھے اور کاموں سے فرصت ہوتی، ان سے گفتگو کرنے بیٹھ جاتا۔ اگرچہ میں نے عربی فارسی کچھ بہت نہیں پڑھی، مگر ان کی صحبت میں مجھے یہ دونوں زبانیں بولنی ایسی آ گئیں کہ جس طرح اپنی بولی میں میری زبان کہیں نہیں رکتی، یہی حال ان دونوں زبانوں میں ہے۔ خیر یہاں تک تو زبانی تربیت کا بیان ہوا؛ اب پڑھنے کا حال سنیے۔
جب مجھ کو ساتواں برس لگا اور ایک سیپارہ اور پنج سورہ میں حفظ کر چکا، اماں جان نے مجھے اردو اور حساب شروع کرایا۔ نو برس کی عمر تک جس طرح انھوں نے مجھے تعلیم کیا اس کی تفصیل بیان کرنے کو تو ایک مدت چاہیے، مگر چند باتیں جن سے پڑھنے لکھنے میں میری لے روز بروز بڑھتی جاتی تھی وہ یہ تھیں کہ اول تو جس دن سے میں نے کتاب پڑھنی شروع کی، اماں جان نے میرے کمرے میں پڑھنے لکھنے کے سامان کے سوا کچھ نہ رکھا۔ سارے کمرے میں یا کتابیں تھیں، یا ملکوں کے نقشے دیواروں میں لگے ہوئے تھے، یا تختی، دوات، قلم، کاغذ، سلیٹ، ابر مردہ، پنسل، ربڑ، یہ چیزیں تھیں، یا لکھنے کی میز تھی، یا میرا پلنگ اور اوڑھنا بچھونا، اور فتیل سوز، اور فرش، چاندنی تھی، یا گھڑی گھنٹہ تھا؛ اس کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی؛ گویا وہ سارا کمرہ ہر وقت مجھے تعلیم کرتا رہتا تھا۔
اس کے سوا جب اماں جان نے مجھے پڑھانا شروع کیا تو دس پندرہ دن تک میرا جی پڑھنے میں جیسا چاہیے ویسا نہ لگا؛ جب تک وہ بیٹھی پڑھائے جاتیں، میں بھی ان کے خوف سے پڑھے جاتا؛ جہاں وہ اٹھ کر کسی کام کو گئیں، میں نے کھیلنا شروع کیا۔ انھوں نے میری لاگ بڑھانے کے لیے غلام امام کو، جو انا کا بڑا بیٹا تھا، اس کو بھی میرے سبق میں شریک کر دیا۔ وہ مجھ سے عمر میں بھی بڑا تھا، اور اس کا ذہن اور حافظہ بھی بہت اچھا تھا۔ اب مجھ کو یہ فکر ہوئی کہ ایسا نہ ہو اس سے کسی بات میں جھینپنا [2] پڑے؛ اور ایک دو بار جو اماں جان نے پڑھنے میں اسے شاباشی دی اور مجھے کچھ نہ کہا، اس بات سے میرے دل پر ایک اور چوٹ لگی؛ اب دم بدم میرا شوق بڑھنا شروع ہوا۔
اس کے سوا امتحان کی ایک ایسی گر لگی ہوئی تھی کہ خواہی نخواہی محنت کرنی پڑتی تھی۔ اماں جان کا قاعدہ تھا کہ اتنا پڑھاتی نہ تھیں جتنا پوچھتی تھیں۔ اول تو جس وقت سبق پڑھانے بیٹھتیں، پہلے پانچ سات باتیں پچھلے سبق کی ضرور پوچھ لیتیں؛ دوسرے رات کو جو ان کے بیٹھنے کا معمول تھا اس میں بھی اکثر سوال کرتی رہتی تھیں؛ پھر جمعرات کا دن خاص امتحان ہی کے لیے مقرر تھا؛ مگر سوال ایسے آسان کرتیں جن کے جواب دینے میں ہم کو زیادہ دقت نہ پڑے، کیونکہ جس دن ہم امتحان میں برے رہتے تھے، ہمارا ذہن رنج کے مارے اور بھی کند ہو جاتا تھا۔
اور اکثر ایسے سوال کرتیں جن کے جواب میں ہم کو زیادہ تقریر کرنی پڑے؛ اس سے ہماری بول چال بھی درست ہوتی جاتی تھی۔ اور تقریر ہی کی درستی کے لیے کتاب کا مطلب بھی ہم سے بار بار پوچھتی تھیں؛ جب تک ہم صاف صاف مطلب ادا نہ کر لیتے تھے، آگے نہ چلتیں؛ اور اس سے ہمارے سمجھنے نہ سمجھنے کا حال بھی کھل جاتا تھا۔
اردو کی عبارت پڑھنی ہم کو فقط اخبار کے دیکھنے سے آئی۔ ایک پرچہ اخبار کا اماں جان کے ہاں آگرہ سے آیا کرتا تھا؛ پہلے آپ دیکھتیں، پھر مجھے دے دیتیں؛ میں جس قدر روز دیکھ لیتا تھا، رات کو اس کا مطلب اماں جان کو سنانا پڑتا تھا۔ کچھ تو اس خوف سے اور کچھ نئی نئی خبروں کے اشتیاق میں اخبار کو ہم خوب غور اور توجہ سے دیکھتے تھے۔ ساتویں دن اخبار آیا کرتا تھا؛ اس دن میرا یہ حال ہوتا تھا کہ شوق کے مارے بار بار چٹھی رساں کے انتظار میں کبھی باہر جاتا تھا، کبھی اندر آتا تھا۔
کتاب کی عبارت صحیح اور درست پڑھوانے کا میری مخدومہ کو بڑا خیال تھا۔ پہلے تو ایک ایک حرف مجھ سے اٹھواتیں؛ جب میں سارا سبق نکال لیتا تو ایک ایک فقرہ الگ الگ آپ پڑھ کر بتاتیں؛ اگر ہم بری طرح پڑھتے، یا ایک فقرے کو دوسرے فقرے میں ملا دیتے، یا اضافت چھوڑ جاتے، تو ایک دو بار پھر اپنی زبان سے بتا دیتیں؛ اور جو اس پر بھی ہم اچھی طرح نہ پڑھتے تو ہماری نقل اتار کر ہم کو غیرت دلاتیں۔ مجھے آہستہ پڑھنے کی بہت عادت تھی؛ آپ ہم سے بہت دور جا بیٹھتیں اور یہ فرماتیں: "بیٹا! ایسا پڑھو جو میں بھی سنوں۔" مجھے خواہی نخواہی پکار کے پڑھنا پڑتا۔ اور جو میں زیادہ چیخ کر پڑھنے لگتا تو یوں فرماتیں: "بیٹا! کتاب کو اس طرح پڑھنا چاہیے جیسے کوئی کسی سے باتیں کرتا ہو؛ کتاب کو یہ سمجھو کہ ہمارے سامنے ایک دوست بیٹھا ہے، اس سے باتیں کر رہے ہیں۔"
جو بات فقط یاد ہی کرانے کی ہوتی، اس میں کچھ سمجھنے کا کام نہ ہوتا، اس کو اس قدر یاد کراتیں کہ ہم پڑھتے پڑھتے ہلکان [3] ہو جاتے۔ مجھے خوب یاد ہے کہ اماں جان نے مجھ سے پہاڑے یاد کرانے میں ایسی محنت لی تھی کہ مجھے یہ یقین ہو گیا تھا کہ شاید ساری عمر مجھ سے یہی پہاڑے یاد کرائے جائیں گے۔ ہم روز پانچ چار پہاڑے یاد کر کے سنا دیا کرتے تھے، مگر وہ یہی کہتیں: "میاں! ابھی خوب زبان پر نہیں چڑھے، اور یاد کرو۔" میں غلام امام سے کہا کرتا تھا کہ بھئی جس دن ان پہاڑوں سے پیچھا چھوٹے گا، میں تو ایک آنے کے بتاشے بانٹوں گا۔
جب ہم کسی بات کا جواب غور سے نہ دیتے اور یوں ہی واہی تباہی بک اٹھتے، تو کسی نہ کسی حکمت سے ہماری فکر پر زور ڈالتیں۔ کبھی کہتیں: "جو صحیح صحیح جواب دے گا اس کو کل آدھے دن سے چھٹی مل جائے گی۔" کبھی کہتیں: "جو اس وقت ہمارا دل خوش کر دے گا ہم اس کو ایک بہت اچھی چیز دیں گے۔" اور جب ہم خوب فکر کر کے ٹھیک ٹھیک بات بتا دیتے تو جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیتیں اور یہ فرماتیں: "کیوں جی! اگر میں لالچ نہ دیتی تو تم کاہے کو غور کرتے؟"
ایک دن کا ذکر ہے کہ ہم اسی وقت باہر سے بھان متی کا تماشا دیکھ کر آئے تھے؛ اماں جان نے آتے ہی ہم سے کچھ عدد لکھوائے۔ یہاں تو دھیان ادھر لگا ہوا تھا، لکھتا کون؟ خیر جوں توں کر کے کچھ لکھا، مگر ایک آدھ عدد کے سوا سب غلط لکھے۔ انھوں نے تین یا چار بار لکھوائے، پھر بھی صحیح نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا: "لو بیٹا! جلدی سے یہ سب عدد لکھ لو تو ہم تمھیں ایک بڑے مزے کی بات سنائیں۔" ہم نے فوراً سوچ سوچ کر سب صحیح لکھ دیے۔ پھر میں نے کہا: "اماں جان! وہ کیا بات ہے؟ اب سنا دیجیے۔" فرمایا: "بیٹا! تم نے ماماں کو بھی جا کر دیکھا، اس کا کیا حال ہے؟" میں نے کہا: "خیر تو ہے؟ کیا ہوا؟" کہا: "تم اس وقت باہر تھے؛ یہاں کوٹھے پر مور ناچ رہا تھا؛ ماماں صاحب جو باورچی خانہ سے گھی کی ہانڈی کوٹھڑی میں رکھنے چلیں، پیچھے پھر پھر کے مور کو دیکھتی جاتی تھیں؛ آگے کہیں پنسیری پڑی تھی، ٹھوکر جو لگی، چاروں شانے چت جا پڑیں؛ ہانڈی کی ہانڈی گئی، گھی کا گھی برباد ہوا، اپنے ہاتھ پاؤں میں چوٹ لگی سو جدا؛ ذرا ان کو جا کر دیکھو تو سہی۔" میں نے کہا: "ماماں بھی نری احمق ہی ہیں۔" اماں جان نے کہا: "میاں! اسی پر کیا موقوف ہے؛ آدمی جب ایک کام کرنے میں دوسری طرف دھیان رکھے گا، اس کا یہی حال ہو گا۔ میں تم سے بارہا کہہ چکی ہوں کہ جب تم سے کوئی بات پوچھا کریں تو تم اسی میں دھیان رکھا کرو؛ اس وقت کھیل تماشے کا خیال چھوڑ دیا کرو۔"
غرض قصہ تو بہت طول طویل ہے، مگر خلاصہ یہ ہے کہ نو برس کی عمر میں اماں جان نے مجھ کو ایک سیپارہ اور پنج سورہ تو نوک زبان یاد کرا دیا؛ اور اردو عبارت پڑھنی اور سمجھنی مجھے ایسی آ گئی جیسی چاہیے؛ فارسی میں گلستاں، بوستاں، مالابد، اخلاق محسنی؛ عربی میں صرف نحو کے دو دو تین تین رسالے؛ حساب میں اربعہ متناسبہ اور کسور عام؛ اس کے سوا جغرافیۂ ہندوستان، تاریخ ہند، یہ سب چیزیں مجھ کو پڑھا دیں۔ اس میں نستعلیق کی تمام تختیاں اور کچھ کچھ قطعے بھی میں نے صاف کر لیے۔
مگر مجھ کو جو اماں جان نے اب تک مکتب میں نہیں بٹھایا تھا، اس لیے ہمارے سارے کنبے میں اس بات کا چرچا تھا کہ "دیکھو، میر امجد علی مرحوم کے لڑکے کو اس کی اماں نے اب تک مکتب میں نہیں بٹھایا؛ آج کو میر صاحب جیتے ہوتے تو وہ کہیں کا کہیں پہنچتا؛ دیکھیے عورتوں کے پھندے میں جا پھنسا ہے؛ خدا ہی ہو جو یہ لڑکا پڑھ لکھ کر کسی قابل ہو۔"
ہمارے مکان کے برابر دو مکان اور ملے ہوئے تھے؛ ایک میں تو دادی جان رہتی تھیں اور دوسرے میں پھپھی اماں رہتی تھیں۔ دروازے تو تینوں مکانوں کے الگ الگ تھے، مگر اندر کھڑکیاں لگی ہوئی تھیں؛ ان میں سے عورتوں کی آمد و رفت برابر رہتی تھی۔ دادی صاحب تو کدھی کدھار تشریف لے آتی تھیں، مگر پھپھی اماں کا ایک پھیرا روز ہوتا تھا؛ اور ان کی صاحبزادی خدیجہ خاتون، جن کو میری مخدومہ ہی نے پڑھایا لکھایا تھا، وہ جب اپنی سسرال سے آتی تھیں، سارے دن ہمارے ہی گھر رہتی تھیں۔
مجھے خوب یاد ہے کہ میری عمر کچھ کم نو برس کی تھی اور رمضان کا مہینا تھا کہ ایک دن پھپھی اماں ہمارے ہاں بیٹھی تھیں اور آپا خدیجہ بھی اس دن آئی ہوئی تھیں۔ باتوں باتوں میں اماں جان سے کہنے لگیں: "بوا! سید کی کیا عمر ہو گی؟" انھوں نے کہا: "بکرید کی اٹھارویں کو دسواں برس لگے گا۔" پھپھی اماں نے کہا: "بی! میں جانتی ہوں، شاید تمھارا ارادہ اسے پڑھانے لکھانے کا نہیں ہے؟ زمانہ کا دستور ہے کہ جہاں بچہ کی بسم اللہ ہوئی، اسے مکتب میں بٹھا دیا؛ تمھارے بچے کو سلامتی سے اب دسواں برس لگنے لگا ہے، تم نے آج تک اسے استاد کی شکل نہیں دکھائی۔ سچ تو کہو، تمھارا ارادہ کیا ہے؟ کہیں اس کے دشمنوں کو دور پار جاہل رکھو گی؟ ہمارے گھرانے میں تو آج تک کوئی جاہل نہیں ہوا تھا۔" اماں جان نے کہا: "صاحب! پڑھتا تو ہے؛ اور کس طرح پڑھا کرتے ہیں؟ اب خدا کرے گا اس کو دسواں برس لگے گا تو مکتب میں بھی بٹھا دوں گی۔"
پھپھی اماں نے بدمزہ ہو کر کہا: "بوا! تمھاری باتیں تو سارے جہان سے نرالی ہیں۔ اگر بچے گھروں ہی میں پڑھ لیا کریں تو استاد کے پاس کوئی کاہے کو بٹھائے؟ ہم نے تو کسی کے بچے اس طرح پڑھتے سنے نہیں۔ ذرا مجھے بھی تو بتاؤ، وہ سلامتی سے پڑھتا کون سے وقت ہے؟ میں تو جب سنتی ہوں، یہی سنتی ہوں کہ لڑکا ہوا خوری کو گیا ہے، نہا رہا ہے، اصطبل میں کبڈی یا گیند بلا کھیل رہا ہے، کشتی لڑ رہا ہے، بچوں کے ساتھ دوڑتا پھرتا ہے، بندوق کے نشانے لگا رہا ہے، گھوڑا پھیرنے گیا ہے؛ یا یہ سنتی ہوں کہ گھر میں بیٹھا اماں جان سے کہانیاں سن رہا ہے، یا بیٹھا بڑی بی کے ساتھ مغز زنی کر رہا ہے۔ اسے کبھی ڈانٹتیں تم نہیں، دھمکاتی تم نہیں؛ بھلا یہ بھی کہیں پڑھنے لکھنے کے قرینے [4] ہوتے ہیں؟ صاحب! بچے کو جب تک چار پہر برابر استاد کی قید نہ رہے، پڑھنا لکھنا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ میرے نزدیک کل سے اس کو مدرسے میں بھیج دیا کرو؛ بس بہت آوارہ رہ چکا؛ اتنی بھی ڈھیل ڈور چھوڑنی اچھی نہیں۔ کیا تم نہیں جانتیں کہ بھائی بہشتی کو علم کا کیسا شوق تھا؟ اس کی آوارگی سے ان کے دشمنوں کی روح پر صدمہ ہو گا۔"
یہ سن کر اماں جان مسکرائیں اور یہ کہا کہ "باجی جان [5]! اگر آپ اور میں اور میرا سید دس برس اور جیتے رہے اور خدا کو بھی منظور ہوا تو اس آوارگی کا ثمرہ [6] دکھا دوں گی۔ اگر آج کو تمھارے بھائی جیتے ہوتے تو میری محنت کی داد دیتے۔ آپ میری بڑی ہیں، میری بزرگ ہیں، آپ کا کہنا میرے سر آنکھوں پر؛ مگر گستاخی معاف! آپ کو اس میں تجربہ نہیں ہوا۔ بچوں کا تعلیم کرنا نہایت مشکل کام ہے؛ اس میں جلدی کرنی اور دیر لگانی دونوں بری؛ بچے کو نہ بہت تنبیہ کرنی اچھی نہ بہت سر چڑھانا اچھا؛ نہ اس سے اتنی محنت لینی چاہیے کہ گھبرا اٹھے، نہ ایسی مہلت دینی چاہیے کہ آوارہ ہو جائے۔ بچہ پڑھنے لکھنے کی طرف سے ایک وحشی جانور ہوتا ہے؛ اس کو پرچانا اور قابو میں لانا کچھ ہنسی کھیل نہیں ہے۔ آپ بہت دور کیوں جائیں؟ یہ کل کی بات ہے کہ خدیجہ خاتون مجھ سے پڑھتی تھیں؛ پانچ برس کی عمر سے میرے ہی طور پر تعلیم پاتی رہیں؛ آج خدا کے فضل سے ہماری ساری قوم کی لڑکیوں میں جس قدر علم اور آدمیت اور ہر ایک بات کا سلیقہ ان میں ہے کسی اور میں ہو تو بتا دو؟ انھی سے پوچھیے کہ میں نے ان کو کون سے دن مارا؟ کون سے دن دھمکایا؟ تین چار گھنٹے کے سوا میں نے کبھی پڑھنے میں ان سے محنت نہیں لی، اور نہ آٹھ برس کی عمر تک میں نے ان پر کسی طرح کی روک رکھی؛ وہ کون سا کھیل ہے جو یہ نہیں کھیلیں؟"
پھپھی اماں نے کہا: "بی! یہاں میری بیٹی کا کیا ذکر ہے؟ یہ تو عورت ذات تھی، پڑھتی پڑھتی، نہ پڑھتی نہ پڑھتی۔ ہمارے ہی کنبے میں سینکڑوں لڑکیاں ان پڑھ ہیں؛ کیا دور پار ان کو کہیں بر [7] نہیں ملنے کا؟ یا ان کو کوئی مجلس میں نہیں بٹھانے کا؟ پر بھلے مانس کا بیٹا، خدا نہ کرے، جو جاہل رہے۔ اور بوا! برا مانو یا بھلا مانو، ہم نے تو اپنی یاد میں کوئی لڑکا ماں سے پڑھتا دیکھا نہیں۔ خیر اپنی اپنی سمجھ ہے؛ تمھاری سمجھ میں یوں ہی آیا؛ اب تم کسی کا کہنا کاہے کو مانو گی؟"
اماں جان نے کہا: "سچ کہنا باجی جان! جب خدیجہ خاتون پانچ چھ مہینے کی تھیں تو تم ان کو گھٹی کیونکر پلایا کرتی تھیں؟" کہا: "تو بھوا اسے پلاتی تھی اور کیونکر پلاتی؟" اماں جان نے کہا: "جب یہ گھٹی پیتے پیتے رونے لگتی تھیں تو بھی آپ برابر گھٹی ہی پلائے جاتی تھیں؟" کہا: "بی! جیسا زمانہ کا دستور ہے، تھوڑی دیر انا کو دودھ پلانے کے لیے دے دیتی تھی؛ جب خاموش ہو جاتی، پھر پلانے لگتی تھی۔" اماں جان نے کہا: "اور اب جو کبھی ان کے دشمن ماندے ہوتے ہیں، اب بھی انھیں ٹھنڈائی چمچوں ہی سے پلاتی ہو یا ایک ہی قدح بھر کر پلوا دیتی ہو؟" پھپھی اماں نے کہا: "بوا! خیر ہے؟ میں کوئی دیوانی ہوں جو اب چمچوں سے پلواؤں؟"
اماں جان نے کہا: "بس یہی سمجھ لیجیے۔ میرے نزدیک بچے کو علم پڑھانا اور کڑوی دوا پلانی برابر ہے؛ اسی لیے جب تک وہ علم کے فائدوں کو نہ سمجھے، اس کو تعلیم بھی اسی طرح دینی چاہیے جس طرح گھٹی کو تھوڑا تھوڑا کر کے پلاتے ہیں؛ اور جس وقت اس کا جی پڑھنے لکھنے سے گھبرانے لگے تو کھیل کود میں اس کا دل بہلانا چاہیے۔ اور میں نے تو اس کے کھیلنے کا کوئی وقت ہی نہیں چھوڑا۔ یہی باتیں جو آپ کے نزدیک آوارگی میں داخل ہیں، اگر مجھ سے پوچھیے تو پڑھنے لکھنے سے بھی زیادہ مفید ہیں۔ آگے روز پانچ گھنٹے برابر پڑھتا ہے؛ بڑی بی سے فارسی عربی بولنی سیکھتا ہے؛ رات کو جو میرے پاس گھنٹہ آدھ گھنٹہ بیٹھتا ہے اس میں بھی اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے: اول تو میں اس سے یہی پڑھنے لکھنے کی باتیں امتحان کے طور پر پوچھتی رہتی ہوں؛ اس کے سوا جو کوئی قصہ کہانی کہتی ہوں، اس سے بھی اس کو کچھ نہ کچھ نصیحت حاصل ہوتی رہتی ہے۔ آدمی کا قاعدہ ہے کہ لاکھ اس سے کسی بات کو کہو یا کسی کام سے منع کرو، اس کے کان پر جوں نہیں چلتی؛ اور جو قصے کہانیوں میں کسی چیز کی برائی یا بھلائی سنتا ہے تو اس کے دل پر نقش ہو جاتی ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایک دن اماں جان نے میرے سامنے یہ نقل بیان کی کہ ایک بھلے مانس کا لڑکا کہیں بیاہنے چڑھتا تھا؛ اس نے دو چار گھڑی کو کسی اپنے دوست کا دوشالہ مانگ لیا۔ جب بیٹی والوں کے ہاں جا کر برات اتری، ایک آدمی نے پوچھا: 'کیوں صاحب! دولھا کون سے ہیں؟' جس سے دولھا نے دوشالہ مانگا تھا، کہیں وہ بھی وہیں کھڑا تھا؛ کہا: 'حضرت! دولھا تو وہ بیٹھے ہیں، پر دوشالہ مانگے کا ہے۔' دولھا بیچارہ یہ بات سن کر پانی پانی [8] ہو گیا اور دوشالہ اتار کر اس کے حوالے کیا۔ اس نے کہا: 'بھئی! اب کے تو مجھ سے قصور ہو گیا؛ خیر اسے تو معاف کیجیے، پر اب ایسا نہیں ہونے کا۔' اور دوشالہ دولھا ہی کو پھر دے دیا۔ تھوڑی دیر میں ایک اور شخص اسی طرح پوچھتا ہوا چلا آیا؛ اس نے کہا: 'صاحب! دولھا یہ بیٹھے ہیں، اور دوشالہ بھی انھیں کا ہے۔' دولھا نے دوشالہ اتار کر پھینک دیا اور کہا: 'ایسے اوچھے کے احسان سے خدا بچائے۔' اس نے پھر منت معذرت کر کے دوشالہ دے دیا۔ تھوڑی دیر میں ایک تیسرا اور پوچھتا چلا آیا؛ اس نے جلدی سے دوڑ کر کہا: 'حضرت! دولھا تو یہ ہیں، اور دوشالے کا کچھ ذکر نہیں۔' آخر لاچار ہو کر دولھا نے اس کا دوشالہ اس کے حوالے کیا، اور پھر تمام عمر اس سے کوئی چیز نہ مانگی۔ جس دن سے میں نے یہ نقل سنی ہے، احسان جتانے کو میرا کبھی جی نہیں چاہتا۔ یہاں تک تو ہوا کہ اماں جان کی زندگی ہی میں ایک دن رات کے وقت دس گیارہ بجے مغلانی کی بیٹی کو پیاس لگی؛ اس نے پانی مانگا؛ میں اس وقت کچھ سی رہی تھی؛ میں نے اٹھ کر اسے پانی پلا دیا۔ اماں جان بھی کہیں اس وقت جاگ رہی تھیں؛ صبح کو جان بوجھ کر مجھ سے پوچھنے لگیں: 'کیوں جی! تم رات کو بیٹھی سیا کیں [9] اور انا کی بیٹی کو اٹھ کر پانی نہ پلایا گیا؟' میں نے ان کی خفگی تو اٹھائی، مگر میرے منہ سے یہ نہ نکلا کہ میں نے تو اسی وقت اٹھ کر پانی پلا دیا تھا؛ میں نے کہا: ایسا نہ ہو کہیں اس سے میرا اوچھا پن پایا جائے۔ جب اماں جان نے دیکھا کہ یہ اس خیال سے نہیں کہتی، کہا: 'بیٹا! جب اپنے اوپر کسی طرح کا الزام آئے، وہاں احسان جتانا کچھ بری بات نہیں ہے۔' اور یہ کہہ کر مجھے گلے لگایا۔
اور یہ جو آپ نے کہا کہ عورت ذات کو پڑھنے لکھنے کی کچھ ضرورت نہیں، اگر مجھ سے پوچھیے تو عورتوں کو مردوں سے بھی زیادہ پڑھنے لکھنے کی ضرورت ہے۔ باجی جان! آپ کو میرے ہی سر کی قسم، جب بھائی جان کا خط آتا ہے اور اس وقت کوئی پڑھنے والا گھر میں نہیں ہوتا تو آپ کا جی گھبراتا ہے یا نہیں؟ اور جو پہر دوپہر کوئی خط پڑھنے والا میسر نہ آئے اور اس میں کوئی بات جلدی کی لکھی ہو تو کیسی مشکل پڑے؟ اگر مرد ان پڑھ ہو گا تو بلا سے کہیں نہ کہیں جا کر پڑھوا تو لے گا۔"
حواشی
[1] پنڈا: بدن۔
[2] جھینپنا: شرمندہ ہونا۔
[3] ہلکان: تھک جاتے۔
[4] قرینے: طریقے، ڈھنگ۔
[5] باجی جان: بڑی بہن۔
[6] ثمرہ: پھل۔ نتیجہ۔
[7] بر: شوہر۔
[8] پانی پانی: بہت شرمندہ ہوا۔
[9] سیا کیں: سیتی رہیں۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。