Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 4 из 9

To Hakim Ghulam Najaf Khan

حکیم غلام نجف خاں کے نام

Мирза Асадулла-хан Галиб

Письмо
Размер

عضدالدولہ حکیم غلام نجف خاں

خط ۱

میاں،

حقیقتِ حال اِس سے زیادہ نہیں ہے کہ اب تک جیتا ہوں، بھاگ نہیں گیا؛ نکالا نہیں گیا، لٹا نہیں، کسی محکمے میں ابھی تک بلایا نہیں گیا، معرضِ بازپرس میں نہیں آیا۔ آیندہ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ شیر زماں خاں نے مجھے آگرے سے خط لکھا، اوس میں ایک رقعہ شیخ نجم الدین حیدر صاحب کی طرف سے بنام ظہیرالدین کے۔ اب مجھ کو ضرور آ پڑا کہ اوس کو تمھارے پاس بھیجوں۔ آدمی کوئی ایسا نظر نہ چڑھا؛ ناچار، بطریقِ ڈاک بھیجتا ہوں۔ اگر پہنچ جائے تو آگرے کا جواب لکھ کر میرے پاس بھیج دینا۔ میں یہاں سے آگرے کو روانا کر دوں گا۔

مرسلۂ دوشنبہ، چہارم جمادی الاول سنہ ۱۲۷۴ھ۔

جواب طلب۔ غالب۔

خط ۲

میاں،

تمھارا خط پہنچا، آج میں نے اوس کو اپنے خط میں ملفوف کر کے آگرے کو روانا کیا۔ تم جو کہتے ہو کہ تم نے کبھی مجھ کو خط نہیں لکھا اور اگر شیخ نجم الدین حیدر کا خط نہ آتا تو اب بھی نہ لکھتے؛ اِنصاف کرو، لکھوں تو کیا لکھوں؟ کچھ لکھ سکتا ہوں، کچھ قابل لکھنے کے ہے؟ تم نے جو مجھ کو لکھا تو کیا لکھا اور اب جو میں لکھتا ہوں تو کیا لکھتا ہوں؟ بس اِتنا ہی ہے کہ اب تک ہم تم جیتے ہیں؛ زیادہ اِس سے نہ تم لکھو گے نہ میں لکھوں گا۔ ظہیر الدین کو دعا کہنا اور میری طرف سے پیار کرنا۔ تم کو اور ظہیرالدین اور اوس کی ماں کو اور اوس کی بہن کو اور اوس کی لڑکی کو تمھاری ماں دعا کہتی ہے اور دعائیں دیتی ہے۔ یہ رقعہ حیدر حسن خاں کے نام کا ہے۔ اون کو حوالے کر دینا۔

نگاشتۂ شنبہ، ۲۶ دسمبر سنہ ۱۸۵۷ع۔

اسد اللّٰہ۔

خط ۳

سعادت و اقبال نشان حکیم غلام نجف خاں طال بقاءہٗ۔

تمھارا رقعہ پہنچا۔ جو دم ہے، غنیمت ہے۔ اِس وقت تک میں مع عیال و اطفال جیتا ہوں۔ بعد گھڑی بھر کے کیا ہو، کچھ معلوم نہیں۔ قلم ہات میں لیے پر جی بہت لکھنے کو چاہتا ہے، مگر کچھ نہیں لکھ سکتا۔ اگر مل بیٹھنا قسمت میں ہے، تو کہ لیں گے ورنہ اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلیہ راجعُون۔

نواسی کا حال معلوم ہوا۔ حق تعالیٰ اوس کی ماں کو صبر دے اور زندہ رکھے۔ میں یوں سمجھتا ہوں کہ یہ چھوکری قسمت والی اور حرمت والی تھی۔ تمھاری اُستانی تم کو اور ظہیر الدین کو اور اوس کی ماں کو اور اوس کی بہن کو دعا کہتی ہیں اور میں ظہیر الدین کو پیار کرتا ہوں اور دعا دیتا ہوں۔

سہ شنبہ، ۱۹ جنوری سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۴

بھائی،

ہوش میں آؤ۔ میں نے تم کو خط کب بھیجا اور رقعے میں کب لکھا کہ شیر زماں خاں کا خط تمھارے پاس بھیجتا ہوں۔ میں نے تو ایک لطیفہ لکھا تھا کہ شیر زماں خاں نے میرے خط میں تم کو بندگی لکھی تھی اور میں وہ بندگی اِس رقعے میں لپیٹ کر تم کو بھیجتا ہوں۔ بس بات اِتنی ہی تھی۔ وہی بندگی، لکھی ہوئی، گویا لپٹی ہوئی تھی؛ سو حضرت کو پہنچ گئی۔ خاطر عاطر جمع رہے۔

[۱۸۵۸ع]۔

غالب۔

خط ۵

میاں،

تم کو مبارک ہو کہ حکیم صاحب پر سے وہ سپاہی، جو اون کے اوپر متعین تھا، اوٹھ گیا اور اون کو حکم ہو گیا کہ اپنی وضع پر رہو مگر شہر میں رہو۔ باہر جانے کا اگر قصد کرو، تو پوچھ کر جاؤ؛ اور ہر ہفتے میں ایک بار کچہری میں حاضر ہوا کرو، چنانچہ وہ کٹرے باغ کے پچھواڑے مرزا جاگن کے مکان میں آ رہے۔ صفدر میرے پاس آیا تھا، یہ اوس کی زبانی ہے۔ جی اون کے دیکھنے کو چاہتا ہے، مگر از راہِ اِحتیاط جا نہیں سکتا۔

میرزا بہادر بیگ نے بھی رہائی پائی۔ اب اِس وقت سنا ہے کہ وہ خاں صاحب کے پاس آئے ہیں۔ یقین ہے کہ بعد ملاقات باہر چلے جائیں گے، یہاں نہ رہیں گے۔ قدم شریف میں وہ رہتے ہیں۔

آج پانچواں دن ہے کہ حکیم محمود خاں مع قبائل اور عشائر پٹیالے کو گئے۔ میں بہ مقتضاے وقت اپنی سکونت کے مکان چھوڑ کر یہاں آ رہا ہوں، اِس طرح کہ محل سرا میں زنانہ اور دیوان خانے میں مردانہ۔

پنسن کی دراخواست کا ابھی کچھ حکم نہیں معلوم ہوا۔ کلکٹر سے کیفیت طلب ہوئی ہے۔ دیکھیے بعد کیفیت کے جانے کے پنسن ملتا ہے یا جواب۔

پنجشنبہ، ۱۶ شعبان سنہ ۱۲۷۴ھ، مطابق یکم اپریل سنہ ۱۸۵۸ع۔

خط ۶

بھائی،

میرا دکھ سنو۔ ہر شخص کو غم موافق اوس کی طبیعت کے ہوتا ہے۔ ایک تنہائی سے نفور ہے، ایک کو تنہائی منظور ہے۔ تاہّل میری موت ہے۔ میں کبھی اِس گرفتاری سے خوش نہیں رہا۔ پٹیالے جانے میں ایک سبکی اور ذلت تھی۔ اگرچہ مجھ کو دولت تنہائی میسر آجاتی، لیکن اِس تنہائی چند روزہ اور تجرید مستعار کی کیا خوشی؟ خدا نے لاولد رکھا تھا؛ شکر بجا لاتا تھا۔ خدا نے میرا شکر مقبول و منظور نہ کیا۔ یہ بلا بھی قبیلہ داری کی شکل کا نتیجہ ہے، یعنی جس لوہے کا طوق اوسی لوہے کی دو ہتکڑیاں بھی پڑگئیں۔ خیر، اِس کا کیا رونا ہے؟ یہ قید جاودانی ہے۔

جناب حکیم صاحب ایک روز از راہ عنایت یہاں آئے۔ کیا کہوں کہ اون کے دیکھنے سے دل کیا خوش ہوا ہے۔ خدا اون کو زندہ رکھے۔ میاں، میں کثیرالاحباب شخص ہوں۔ سیکڑوں بلکہ ہزاروں دوست اِس باسٹھ برس میں مر گئے، خصوصاً اِس فتنہ و آشوب میں تو شاید کوئی میرا جاننے والا نہ بچے گا۔ اِس راہ سے مجھ کو، جو دوست اب باقی ہیں، بہت عزیز ہیں۔ واللہ دعا مانگتا ہوں کہ اب اِن احبّا میں سے کوئی میرے سامنے نہ مرے؛ کیا معنی: کہ جو میں مروں، کوئی میرا یاد کرنے والا اور مجھ پر رونے والا بھی تو دنیا میں ہو۔

مصطفیٰ خاں کا حال سنا ہوگا۔ خدا کرے مرافعے میں چھوٹ جائے؛ ورنہ حبس ہفت سالہ کی تاب اوس نازپرورد میں کہاں؟ احمد حسین ’’میکش‘‘ کا حال کچھ تم کو معلوم ہے یا نہیں؟ مخذوق ہوا، گویا اِس نام کا آدمی شہر میں تھا ہی نہیں۔

پنسن کی درخواست دے رکھی ہے۔ بشرط اِجرا بھی میرا کیا گزارا ہوگا؟ ہاں دو باتیں ہیں ایک تو یہ کہ میری صفائی اور بےگناہی کی دلیل ہے۔ دوسرے یہ کہ موافق قول عوام: چولھے دلدّر نہ ہوگا۔

تجھ کو میری جان کی قسم، اگر میں تنہا ہوتا، تو اِس وجہ قلیل میں کیسا فارغ البال اور خوش حال رہتا؟ یہ بھی خبط ہے جو میں کہ رہا ہوں؛ خدا جانے پنسن جاری ہوگا یا نہ ہوگا۔ اِحتمال تعیش و تنعم بشرط تجرید صورت اِجراے پنسن میں سونچتا ہوں، اور وہ موہوم ہے۔ ’’بیدل‘‘ کا شعر مجھ کو مزا دیتا ہے:

نہ شام ما را سحر نویدے، نہ صبح ما را دم سپیدے؛چو حاصل ماست نا اُمیدی، غبار دنیا بفرق عقبیٰ۔

اِس وقت جی تم سے باتیں کرنے کو چاہا؛ جو کچھ دل میں تھا وہ تم سے کہا۔ زیادہ کیا لکھوں؟

از غالب، بنام جان و جاناں۔ و از جان و جاناں عزیز تر، حکیم غلام نجف خاں، سلمہ اللہ تعالیٰ۔

[اپریل ۱۸۵۸ع]۔

خط ۷

میاں،

پہلے ظہیرالدین کا حال لکھو پھر حکیم صاحب کی حقیقت لکھو؛ کہیں اور جائیں گے یا یہاں آئیں گے؟ اگر یہاں آئیں گے، تو کب تک آئیں گے؟ پھر تم خط لکھو میاں نظام الدین کو اور اوس میں لکھو کہ تم نے غالب کے خط کا جواب نہیں لکھا وہ کہتا ہے کہ میں حیران ہوں کہ میاں نظام الدین اور میرے خط کا جواب نہ لکھیں! خدا جانے مجھ سے ایسی کیا تقصیر ہوئی ہے۔

نجات کا خدا سے، اور تم سے اِس رقعے کے جواب کا، طالب،

[۱۸۵۸ع]۔

غالب۔

خط ۸

بھائی،

تمھارے رقعے کا جواب پہلے تم کو شیر زماں خاں نے دیا ہوگا، پھر ظہیرالدین خاں نے تم سے کہا ہوگا۔ کہو، کوئی طرح شہر میں تمھارے آنے کی بھی ٹھہری یا نہیں؟ بُعد، تیس کوس اور آدھ کوس کا برابر ہے۔ میری جان، تم ہنوز دوجانے میں ہو۔ مجھ کو بھی تم جانتے ہو کہ میرا شہر میں رہنا بہ اِجازت سرکار کے نہیں اور باہر نکلنا بےٹکٹ ممکن نہیں۔ پھر میں کیا کروں، کیوں کر وہاں آؤں؟ شہر میں تم ہوتے، تو جرأت کر کے تمھارے پاس چلا آتا۔ شیر زماں خاں صاحب ایک بار آئے تھے؛ کہ گئے تھے کہ پھر بھی آؤں گا مگر نہیں آئے۔ خدا جانے اون کے والد کی رہائی ہوئی یا نہیں۔ اگر تم سے ملیں تو میرا سلام کہنا اور اون کو میرے پاس بھیج دینا۔ اور تم، اون کے والد کا جو حال اون کی زبانی معلوم ہوا ہو، وہ مجھ کو لکھ بھیجو۔ ظہیرالدین کو دعا۔ والدعا۔

[جولائی ۱۸۵۸ع]۔

از غالب۔

خط ۹

بھائی،

ہاں غلام فخرالدین خاں کی رہائی، زندگی دوبارہ ہے۔ خدا تم کو مبارک کرے۔ سنا ہے لوہارو بھی اون دونوں صاحبوں کو مل گیا۔ یہ بھی ایک تہنیت ہے۔ خدا سب کا بھلا کرے۔ مجھ کو ڈپٹی کمشنر نے بلا بھیجا تھا۔ صرف اِتنا ہی پوچھا کہ غدر میں تم کہاں تھے؟ جو مناسب ہوا وہ کہا گیا۔ دو ایک خط آمد ولایت میں نے پڑھائے۔ تفصیل لکھ نہیں سکتا۔ انداز ادا سے پنسن کا بحال و برقرار رہنا معلوم ہوتا ہے، مگر ۱۵ مہینے پچھلے ملتے نظر نہیں آتے۔

میاں یہ الور میں کیا فساد برپا ہوا ہے؟ خدا خیر کرے۔ واسطے خداؐ کے جو تم کو معلوم ہوا ہو اور جو معلوم ہو جائے اوس سے مجھ کو بھی اِطلاع دینا۔

[اگست ۱۸۵۸ع]۔

غالب۔

خط ۱۰

قبلہ،

یہ تو معلوم ہوا کہ بعد قتل ہونے دس آدمی کے، کہ دو اوس میں عزیز بھی تھے، یہ سب وہاں سے نکالے گئے۔ مگر صورت نہیں معلوم کہ کیوں کر نکلے، پیادہ یا سوار؟ تہی دست یا مالدار؟ مستورات کو رتھیں دے دی تھیں۔ ذکور کا حال کیا ہوا اور پھر وہاں سے نکلنے کے بعد کیا ہوا؟ کہاں رہے اور کہاں رہیں گے؟ سرکار انگریزی کی طرف سے مَوردِ تفقّد و ترحم ہیں یا نہیں؟ رنگ کیا نظر آتا ہے؟ جبر کسر کی توقع ہے یا نہیں؟

تفضل حسین خاں کا حال خصوصاً اور اِن سوالات کا جواب عموماً لکھو۔ میرزا مغل میرا حقیقی بھانجا، کہ وہ منشی خلیل الدین خاں مرحوم کا خویش ہے؛ اوس کی بی بی ہے اور شاید ایک یا دو بچے بھی ہیں۔ اذعانی ہے یہ امر کہ وہ بھی قافلے کے ساتھ ہوگا۔ اگر آپ کو معلوم ہو تو اوس کا حال بہ اِنفراد لکھیے۔ خواجہ جان اور خواجہ اماں کی حقیقت بھی بشرط اِطلاع ضرور تحریر فرمائیے۔ اور ہاں صاحب، آپ جانتے ہوں گے علی محمد خاں کو، وہ جو میر منشی عزیزاللہ خاں کا خویش ہے۔ اگر کچھ اوس کا بھی ذکر سنا ہو تو میں اوس کا خیر طلب ہوں۔

جواب طلب، غالب۔

[۱۸۵۸ع]۔

خط ۱۱

میاں،

میں تم سے رخصت ہو کر اوس دن مرادنگر میں رہا۔ دوسرے دن یعنی جمعے کو میرٹھ پہنچا۔ نواب مصطفیٰ خاں نے ایک دن رکھ لیا۔ آج شنبہ ۱۲ جنوری یہاں مقام ہے۔ نو بج گئے ہیں۔ بیٹھا ہوا یہ خط لکھ رہا ہوں۔ مفت کا کھانا ہے، خوب پیٹ بھر کر کھاؤں گا۔ کل شاہجہاں پور، پرسوں گڑھمکتیسر رہوں گا۔ مرادآباد سے پھر تم کو خط لکھوں گا۔ لڑکوں کے ہات کے دو خط لکھے ہوئے اون کی دادی کو بھجوا دیے ہیں۔ تم اِس اپنے نام کے خط کو لے کر ڈیوڑھی پر جانا اور اپنی اُستانی جی کو پڑھ کر سنا دینا؛ اور خیر و عافیت کہ دینا۔ جناب خاں صاحب کو میرا سلام نیاز اور ظہیرالدین احمد کو دعا کہ دینا۔

ہاں بھائی، میں از روے مصلحت اپنے کو مقامات مختلف کا عازم کہ آیا ہوں۔ اب جو شخص تم سے پوچھا کرے اوس سے پردہ نہ کرنا اور صاف کہ دینا کہ رامپور کو گیا ہے۔ یعنی سب کو معلوم ہو جائے اور کوئی تذبذب میں نہ رہے۔

مرقومۂ چاشتگاہ شنبہ، ۱۲ جنوری [۱۸۶۰ع]۔

خط ۱۲

برخوردار سعادت و اقبال نشان حکیم غلام نجف خاں کو میری دعا پہنچے۔

تمھاری تحریر پہنچی۔ تم جداگانہ خط کیوں نہ لکھا کرو؟ خط لکھا اور بیرنگ یا پوست پیڈ، جس طرح چاہا، اپنے آدمی کے ہات ڈاک گھر بھیج دیا۔ مکان کا پتا ضرور نہیں؛ ڈاک گھر میرے گھر کے پاس، ڈاک منشی میرا آشنا۔ اب تم ایک کام کرو: آج یا کل ڈیوڑھی پر جاؤ اور جتنے خط جمع ہیں وہ لو، مان سنگی مضبوط کاغذ کا لفافہ کرو اور ’’بیرنگ‘‘ لکھ کر کلیان کے ہات ڈاک گھر میں بھجوا دو۔ اور اپنے خط میں جو حال شہر میں نیا ہو وہ مفصل لکھو۔ جناب حکیم صاحب کو سلام نیاز اور ظہیر الدین احمد خاں کو دعا کہنا۔

اب میرا حال سنو۔ تعظیم و توقیر بہت؛ ملاقاتیں تین ہوئی ہیں؛ ایک مکان، کہ وہ تین چار مکانوں پر مشتمل ہے، رہنے کو ملا ہے۔ یہاں پتھر تو دوا کو بھی میسر نہیں؛ خشتی مکان گنتی کے ہیں؛ کچی دیواریں اور کھپریل۔ سارے شہر کی آبادی اِسی طرح پر ہے۔ مجھ کو جو مکان ملے ہیں؛ وہ بھی ایسے ہیں۔ ہنوز کچھ گفتگو درمیان نہیں آئی۔ میں خود اون سے اِبتدا نہ کروں گا۔ وہ بھی مجھ سے بالمشافہہ نہ کہیں گے، مگر بواسطۂ کارپردازان سرکار۔ دیکھوں، کیا کہتے ہیں اور کیا مقرر کرتے ہیں۔ میں سمجھا تھا کہ میرے پہنچنے کے بعد جلد کوئی صورت قرار پائے گی؛ لیکن آج تک، کہ جمعہ آٹھواں دن میرے پہنچنے کو ہے، کچھ کلام نہیں ہوا۔ کھانا دونوں وقت سرکار سے آتا ہے اور وہ سب کو کافی ہوتا ہے۔ غذا میرے بھی خلاف طبع نہیں۔ پانی کا شکر کس منہ سے ادا کروں۔ ایک دریا ہے ’’کوسی‘‘۔ سبحان اللّٰہ! اِتنا میٹھا پانی کہ پینے والا گمان کرے کہ یہ پھیکا شربت ہے؛ صاف، سبک، گوارا، ہاضم، سریع النفوذ۔ اِس آٹھ دن میں قبض و اِنقباض کے صدمے سے محفوظ ہوں۔ صبح کو بھوک خوب لگتی ہے؛ لڑکے بھی تندرست، آدمی بھی توانا۔ مگر ہاں ایک عنایت اللّٰہ دو دن سے کچھ بیمار ہے۔ خیر، اچھا ہو جائے گا۔ والدعا۔

جمعہ، ۳ فروری سنہ ۱۸۶۰ع۔

خط ۱۳

میاں،

تم نے برا کیا کہ لفافہ کھول کر نہ پڑھ لیا۔ بارے آج سہ شنبہ، ۱۴ فروری، صبح کے وقت یہ لفافہ پہنچا اور اوسی وقت پڑھوایا گیا۔ خط لفٹنٹ گورنر بہادر کا نہیں۔ یہ خط نواب گورنر جنرل بہادر کے چیف سکرتر کا ہے۔ ترجمہ اوس کا یہ ہے:

’’از دفترخانۂ سکرتر اعظم۔ حکم دیا جاتا ہے عرضی دینے والے کو کہ جواب اِس عرضی کا نواب گورنر جنرل بہادر بعد دریافت کے اِرشاد فرمائیں گے۔ از کیمپ لودھیانہ، ۲۸ جنوری سنہ ۱۸۶۰ع‘‘۔

یہاں کا یہ حال ہے کہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر آگرہ، مرادآباد آیا چاہتے ہیں۔ مرادآباد یہاں سے بارہ کوس ہے۔ نواب صاحب دورے کو اپنے ملک کے گئے ہیں؛ دو چار دن میں پھر آئیں گے۔ اگر اون کی ملاقات کو مرادآباد جائیں گے، میں بھی ساتھ جاؤں گا۔ اگرچہ گورنر غرب و شمال کو دلی سے کچھ علاقہ نہیں، مگر دیکھوں کیا گفتگو درمیان آتی ہے۔ جو واقع ہوگا تمھیں لکھوں گا۔

یہ تم کیا لکھتے ہو کہ گھر میں خط جلد جلد لکھا کرو۔ تم کو جو خط لکھتا ہوں گویا تمھاری اُستانی جی کو لکھتا ہوں۔ کیا تم سے اِتنا نہیں ہو سکتا کہ جاؤ اور پڑھ کر سناؤ؟ اب اون کو خیال ہوگا کہ اِس انگریزی خط میں کیا لکھا ہے۔ تم یہ خط میرا ہات میں لیے جاؤ اور حرف بہ حرف پڑھ سناؤ۔

لڑکے دونوں اچھی طرح ہیں؛ کبھی میرا دل بہلاتے ہیں، کبھی مجھ کو ستاتے ہیں۔ بکریاں، کبوتر، بٹیریں، تُکّل، کنکوّا، سب سامان درست ہے۔ فروری مہینے کے دو دو روپئے لے کر دس دن میں اوٹھا ڈالے۔ پھر پرسوں چھوٹے صاحب آئے کہ دادا جان کچھ ہم کو قرضِ حسنہ دو۔ ایک روپیہ دونوں کو قرض حسنہ دیا گیا۔ آج ۱۴ ہے؛ مہینا دور ہے۔ دیکھیے کے بار قرض لیں گے۔ یہاں کا رنگ نواب صاحب کے آنے پر جو ہوگا اور جو قرار پائے گا وہ مفصل تم کو لکھوں گا۔ اور تم اپنی والدہ کو سنا دینا۔ اور ہاں بھائی، یہ بھی گھر میں پوچھ لینا کہ کدارناتھ نے اندر باہر کی تنخواہ بانٹ دی؟ میں نے تو وفادار اور حلال خوری تک کی بھی تنخواہ بھیج دی ہے۔

سہ شنبہ، ۱۴ فروری سنہ ۱۸۶۰ع۔

غالب۔

خط ۱۴

صاحب،

کل آخر روز تمھارا خط آیا۔ میں نے پڑھا، آنکھوں سے لگایا؛ پھر بھائی ضیاءالدین خاں صاحب کے پاس بھجوایا۔ یقین ہے کہ اونھوں نے پڑھ لیا ہوگا۔ ما کُتِبَ فیہ معلوم کیا ہوگا۔ تمھارے یہاں نہ ہونے سے ہمارا جی گھبراتا ہے۔ کبھی کبھی ناگاہ ظہیرالدین کا آنا یاد آتا ہے۔ کہو، اب خیر سے کب آؤ گے؟ کے برس، کے مہینے، کے دن راہ دکھاؤ گے؟ یہاں کا حال جیسا کہ دیکھ گئے ہو بدستور ہے۔

زمیں سخت ہے، آسماں دور ہے

جاڑا خوب پڑ رہا ہے۔ توانگر غرور سے، مفلس سردی سے اکڑ رہا ہے۔ آبکاری کے بندوبست جدید نے مارا، عرق کے نہ کھینچنے کی قیدِ شدید نے مارا۔ اِدھر انسدادِ دروازۂ آبکاری ہے، اودھر ولایتی عرق کی قیمت بھاری۔ اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلیہ راجعُون۔

مولوی فضل رسول صاحب حیدرآباد گئے ہیں۔ مولوی غلام اِمام ’’شہید‘‘ آگے سے وہاں ہیں۔ محی الدولہ محمد یار خاں سورتی نے اِن صورتوں کو وہاں بلایا ہے؛ پر یہ نہیں معلوم کہ وہاں اِن کو کیا پیش آیا ہے۔ اگر تم معلوم کر سکو، یا کچھ تم کو معلوم ہوگیا ہو، تو مجھ کو ضرور لکھو۔ زیادہ کیا لکھوں؟

کیوں ظہیرالدین، کیا میں اِس لائق نہ تھا کہ تو ایک خط مجھ کو الگ لکھتا، یا اپنے باپ کے خط میں اپنے ہات سے اپنی بندگی لکھتا؟ حکیم غلام نجف خاں خط لکھتے بیٹھے تیری بندگی لکھ دی؛ تیرے فرشتوں کو بھی خبر نہیں۔ اِس بندگی کے آنے کی مجھے کیا خوشی؟

صبح یکشنبہ، ۱۱ جنوری سنہ ۱۸۶۳ع۔

غالب۔

خط ۱۵

بھائی،

میں تم کو کیا بتاؤں کہ میں کیسا ہوں؟ طاقت یک قلم جاتی رہی ہے۔ پھوڑا بدستور ہے؛ رستا ہے۔ خیر، محلِّ اندیشہ نہیں ہے؛ رس رس کر مادّہ نکل جائے گا۔ اِس سے اور زیادہ خستہ و افسردہ ہوں: قبض، کہ وہ دشمنِ جانی ہے، اِن دنوں میں حد کو پہنچ گیا ہے۔ بہر حال:

مرگیست بہ نامِ زندگانی

حضرت، غور کی جگہ ہے۔ ایک مکان دلکشا، کوچے کی سیر، بازار کا تماشا، دو کمرے، دو کوٹھریاں، آتشدان، صحن وسیع۔ اِس کو چھوڑ کر وہ مکان لوں جو ایک تنگ گلی کے اندر ہے؛ دروازہ وہ تاریک کہ دن کو بغیر چراغ کے راہ نہ ملے اور پھر ڈیوڑھی پر حلال خوروں کا مجمع، گوہ کے ڈھیر؛ کہیں حلال خوروں کا بچہ ہگ رہا ہے، کہیں بیل بندھا ہوا ہے؛ کہیں کوڑا پڑا ہوا ہے۔ عیاذاً باللّٰہ۔ خدا نہ لے جائے ایسے مکان میں۔

تم نے وہ مسودہ کیوں نہیں بھیجا؟ میں خدمت گزاری کو آمادہ ہوں۔

[۱۸۶۴ع]۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۱۶

شنبہ، ۴ ذیقعدہ [۱۲۸۱ھ]، یکم اپریل [۱۸۶۵ع]۔

میاں،

تمھارا گلہ میرے سر و چشم پر، لیکن میرا حال سن لو اور اپنے وہم و قیاس پر عمل نہ کرو۔ پہلے ظہیر دلپذیر کا خط آیا۔ پڑھتے ہی اوس کا جواب لکھ رکھا۔ دوسرے دن ڈاک میں بھجوایا۔ مضمون بہ تغیّر الفاظ یہ: تم جو پھوڑے پھنسی میں مبتلا رہتے ہو، اِس کا سبب یہ کہ مجھ میں تمھارا لہو ملتا ہے اور میں اِحتراق خون کا پتلا ہوں۔ پھر تمھارا خط آیا، تیسرے دن اوس کا جواب بھجوا دیا۔ مضمون یہ کہ تم سے تو میرا پیارا پوتا ظہیرالدین اچھا کہ جاتے وقت مجھ سے مل گیا اور وہاں پہنچتے ہی مجھ کو خط لکھا۔ رسید ڈاک گھر سے ملتی نہیں۔ خط دونوں پیڈ تھے۔ یہاں کے ڈاک گھر میں ممکن نہیں کہ میرے وہ دونوں خط رہ گئے ہوں، شیخوپور کی ڈاک کے ہرکاروں نے نہ پہنچایا؛ میرا کیا قصور؟ البتہ سرنامے پر صرف بستی کا نام اور تمھارا نام تھا۔ محلے کا نام نہ تھا۔ شاید اِس سبب سے خط نہ پہنچا ہو۔ اِسی وقت تمھارا خط آیا، میں نے لیٹے لیٹے یہ سطریں لکھیں۔ اب عنایت اللّٰہ کو تمھارے گھر بھیجتا ہوں اور پچھوا منگواتا ہوں کہ پتا وہاں سے کیا لکھا جاتا ہے۔ لو صاحب، عنایت اللّٰہ آیا اور یہ پرزہ لایا ہے۔ پتا سرنامے پر لکھتا ہوں، مگر ڈاک کا وقت نہیں رہا؛ کل بھیج دوں گا۔

حکیم ظہیرالدین خاں کو دعا۔ بیٹا، اب اِس وقت مجھ میں دم نہیں، دعا پر قناعت کر۔ تیرے خط کا جواب جیسا کہ اوپر لکھ آیا ہوں بھیج چکا ہوں۔ جھوٹے پر لعنت۔ تو بھی کہ: ’’بیش باد‘‘۔

نواب مصطفیٰ خاں کل شہر میں آ گئے؛ مع قبائل آئے ہیں۔ ذیقعدہ میں چھوٹے لڑکوں کی ختنہ اور ذی الحجہ میں محمد علی خاں کی شادی کریں گے۔

آج پانچواں دن ہے، شہر میں مرغ کے انڈے برابر اولے پڑے؛ کہیں کہیں اِس سے بڑے بھی۔ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر جدید آئے، دربار کیا؛ میری تعظیم اور مجھ پر عنایت میری تمنا سے زیادہ کی۔ آؤ گے تو مفصل سن لو گے۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۱۷

میاں،

چانول برے: بڑھتے نہیں، لمبے نہیں، پتلے نہیں۔ اب زیادہ قصہ نہ کرو۔ پرانے اور پتلے چانول آئیں، ایک روپئے کے خرید کر کے بھیج دو۔ یاد رہے، نئے چانول قابض ہوتے ہیں اور پرانے چانول قابض نہیں ہوتے۔ یہ میرا تجربہ ہے۔

شام کو میر مجدالدین صاحب کہتے تھے کہ حکیم غلام نجف خاں کے پاس ایک کاتب ہے۔ بھائی، دس بارہ جزو کی ایک کتاب نثر کی مجھ کو لکھوانی ہے۔ یہ معلوم کر لو کہ وہ صاحب روپئے کے کے جزو لکھیں گے اور روز کس قدر لکھ سکتے ہیں۔ یہ تو اب لکھو اور پھر دوپہر کے بعد اون کو میرے پاس بھیج دو، تاکہ میں اون کو کاغذ اور منقول عنہ حوالے کروں۔

ظہیرالدین کو دعا کہو اور اوس کا حال لکھو۔

غالب۔

خط ۱۸

برخوردار حکیم غلام نجف خاں کو فقیر غالب علی شاہ کی دعا پہنچے۔

بدھ کا دن، پہر بھر دن چڑھا ہوگا کہ میں فقط پالکی پر مرادآباد پہنچا۔ ۲۰ جمادی الاول کی اور ۱۱ اکتوبر کی ہے۔ دونوں لڑکے، دونوں گاڑیاں اور رتھ اور آدمی سب پیچھے ہیں؛ اب آئے جاتے ہیں۔ رات بخیر گزرے، بشرطِ حیات کل رامپور پہنچ جائیں گے۔ گھبرایا ہوا ہوں تیسرا دن ہے پاخانہ پھرے کو۔ لڑکے بخیر و عافیت ہیں، اپنی اُستانی سے کہ دینا۔ میرزا شہاب الدین خاں کو دعا، نواب ضیاءالدین کو سلام۔ میرا رقعہ اِن دونوں صاحبوں کو پڑھا دینا۔ ضرور ضرور۔ ظہیرالدین ’’دعا‘‘ سے خفا ہوگا، اوس کو میری بندگی کہنا۔

غالب۔

خط ۱۹

صبح شنبہ، ۲۱ ماہ اکتوبر سنہ ۱۸۶۵ع۔

اِقبال نشان عضدالدولہ حکیم غلام نجف خاں کو غالب علی شاہ کی دعا پہنچے۔

تمھارے خط سے معلوم ہوا کہ تم کو میرے کھانے پینے کی طرف سے تشویش ہے۔ خدا کی قسم، میں یہاں خوش اور تندرست ہوں۔ دن کا کھانا ایسے وقت آتا ہے کہ پہر دن چڑھے تک میرے آدمی بھی روٹی کھا چکتے ہیں۔ شام کا کھانا بھی سویرے آتا ہے۔ کئی طرح کے سالن، پلاؤ، متنجن، پسندے؛ دونوں وقت روٹیاں خمیری، چپاتیاں؛ مربے، آچار۔ میں بھی خوش لڑکے بھی خوش۔ کلو اچھا ہوگیا ہے۔ سقا، مشعلچی، خاکروب، سرکار سے متعین ہے۔ حجام اور دھوبی نوکر رکھ لیا ہے۔ آج تک دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ تعظیم، تواضع، اخلاق، کسی بات میں کمی نہیں۔

ظہیرالدین خاں بہادر کو دعا پہنچے۔ یہ خط لے کر تم اپنی دادی صاحب پاس جاؤ اور یہ خط پڑھ کر سناؤ اور اون سے یہ کہ دو کہ وہ بات، جو میں نے تم سے کہی تھی، وہ غلط ہے؛ اوس کی کچھ اصل نہیں ہے۔ باقی خیر و عافیت۔

خط ۲۰

صاحب،

تم سچ کہتے ہو۔ بھائی فضل اللّٰہ خاں کی غمخواری اور مددگاری کا کیا کہنا ہے! مگر الور سے مجھ کو لینا نہیں، یاد رکھنا کہ وہاں سے مجھے کچھ نہ آئے گا۔ بفرضِ محال اگر ملا تو ڈھائی سو روپیہ؛ سو وہ بھی مجھے بھائی فضل اللّٰہ خاں کا دینا ہے، اون کا قرض ادا ہو جائے گا۔ اِحیاناً اگر، خلاف میرے عقیدے کے، پان سو روپئے کا حکم ہوا، اور وہ آ جائیں، تو تم بعد اِطلاع ڈھائی سو میاں فضل کو دے کر مجھ کو لکھنا۔ باقی کے واسطے میں جس طرح لکھوں اوس طرح کرنا۔ لو صاحب، شیخ چلّی بنا، خیالی پلاو پکا لیا۔

اب روداد سنو۔ نواب صاحب کا اِخلاص و اِلتفات روزافزوں ہے۔ آج منگل کا دن، ۴ جمادی الثانی کی اور ۲۴ اکتوبر کی ہے۔ کھانے کی اور گھوڑوں اور بیلوں کے گھانس دانے کی نقدی ہوگئی؛ لیکن اِس میں میرا فائدہ ہے، نقصان نہیں۔

دسمبر کی پہلی سے جشن شروع ہو گا۔ ہفتے دو ہفتے کی مدت اوس کی ہے۔ بعد جشن کے رخصت ہوں گا۔ خدا چاہے تو آخر دسمبر تک تم کو آ دیکھتا ہوں۔ ظہیرالدین خاں کو دعا۔

خط ۲۱

صاحب،

تمھارے دو خط متواتر آئے۔ ظہیرالدین کا آگرے جانا، میرا خط اوس کا موسومہ تمھارے پاس پہنچنا اور اوس کا آگرے کو روانا ہونا، ظہیرالدین کی دادی کا بہ عارضۂ سرفہ و سعال رنجور ہونا، کدارناتھ کا مجھ سے خفا ہونا، مکان کے روکنے کی اِجازت کا مانگنا، فضل حسن سے میرے واسطے دریوزہ تنقّد کرنا، یہ مدارج و مطالب معلوم ہوئے۔ ظہیرالدین کا خط تم نے کیوں کھولا، وہ مغلوب الغضب ہے؛ تم پر خفا ہو گا۔ اوس کی دادی اِس موسم میں ہمیشہ اِن امراض میں مبتلا ہو جاتی ہے۔ ایک نسخہ اوس کے پاس ماءاللحم کا ہے، وہ کھنچوا دو اور زرا خبر لیتے رہو۔ کدارناتھ لڑکا ہے، وہ مجھ سے کیا خفا ہوگا؟ روپیہ جو خزانے میں جمع ہوگا، آخر وہی لائے گا۔ خفا میں ہوں کہ روپیہ دام دام پایا اور میرا تمسک نہ دیا اور چٹھا ’’۲۳ روپئے ۸ آنے‘‘ کا نہ بانٹا۔ مکان کے روکنے کو اور کس طرح لکھوں؟ شہاب الدین خاں کو لکھا؛ شمشاد علی بیگ کو لکھا؛ اب تم کو لکھتا ہوں۔ ستمبر کے ’’۵ روپئے ۸ آنے‘‘ دے آیا ہوں۔ اکتوبر، نومبر، دسمبر، یہ ’’۱۶ روپئے ۸ آنے‘‘ آ کر دوں گا؛ بلکہ اگر موقع بنے گا تو یہ سہ ماہہ یہاں سے بطریق ہنڈوی بھیج دوں گا۔

اِسمعیل خاں صاحب کو میری دعا کہو اور کہو کہ ڈیوڑھی کی سیڑھی بنوا دیں اور حویلی کے پاخانے کی صورت درست کروا دیں۔ ہاے قسمت! اِس قسمت پر لعنت کہ میاں فضل حسن میرے مربی و محسن بنیں اور پھر واے محرومی کہ مطلب برآری نہ ہو! خدا کرے نہ ہو۔ لونڈوں کا اِحسان زہر قاتل ہے۔ فضل اللّٰہ خاں میرا بھائی ہے۔ اوس کا احسان مجھ کو گوارا؛ سو بار اوس سے کہا اور ہزار بار کہوں گا۔ خیر جو ہوا، سو ہوا۔ اب آپ اوس سے زنہار نہ کہیے گا؛ نہ لکھیے گا۔ اگر کچھ کہو تو فضل سے کہو، تفضل سے کہو، و اِلّا لا۔ نواب صاحب دورے سے، یا آج شام کو یا کل، آ جائیں گے۔ جشنِ جمشیدی کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

یکشنبہ، ۱۲ نومبر سنہ ۱۸۶۵ع، صبح کا وقت۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۲۲

میاں،

آج صبح کو تم آئے تھے؛ میں اوس ٹکٹ کے قصے میں ایسا اولجھا کہ تم سے کہنا بھول گیا۔ اب میر عنایت حسین صاحب تمھارے پاس پہنچتے ہیں۔ جس امر میں یہ تم سے کوشش چاہیں، تم کو میری جان کی قسم، بدل متوجہ ہو کر اوس کام کو انجام دو۔ امر سہل ہے، کچھ بات نہیں ہے، مگر در صورت سعی خدا کے ہاں سے تم کو بڑا اجر ملے گا اور میں تمھارا ممنون ہوں گا۔

[۱۸۶۶ع]۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۲۳

حکیم غلام نجف خاں،

سنو: اگر تم نے مجھے بنایا ہے، یعنی اُستاد، اور باپ کہتے ہو؛ یہ امر از روے تمسخر ہے، تو خیر؛ اور اگر از روے اِعتقاد ہے، تو میری عرض مانو اور ہیرا سنگھ کی تقصیر معاف کرو۔ بھائی، اِنصاف کرو؛ اوس نے اگر حکیم احسن اللّٰہ خاں سے رجوع کی، وہ تمھارے بھائی بھی ہیں اور تم کو اون سے اِستفادہ بھی ہے۔ اگر گھبرا کر حکیم محمود خاں کے پاس گیا تو اون کے باپ سے تم کو نسبت تلمّذ کی ہے؛ اِبتدا میں اون سے پڑھے ہو۔ پس یہ غریب سواے تمھارے اگر گیا تو تمھارے ہی علاقے میں گیا، وہ بھی گھبرا کر اور خفقان سے تنگ آ کر۔ اب جو حاضر ہوتا ہے تو لازم ہے کہ اِس پر بہ نسبت سابق کے توجہ زیادہ فرماؤ اور بدل اوس کا معالجہ کرو۔

[۱۸۶۶ع]۔

اِلتفات کا طالب، غالب۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.