Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 3 из 9

To Hargopal Tafta: Letters 22–42

تفتہ کے نام: خط ۲۲ تا ۴۲

Мирза Асадулла-хан Галиб

Письмо
Размер

خط ۲۲

صاحب،

دیکھو پھر تم دنگا کرتے ہو۔ وہی "بیش" و "بیشتر" کا قصہ نکلا۔ غلطی میں جمہور کی پیروی کیا فرض ہے؟ یاد رکھو، یاے تحتانی تین طرح پر ہے:—

جزو کلمہ:

ہماے بر سر مرغان از آن شرف دارد۔

اے سرِ نامہ نامِ تو عقلِ گرہ کشاے را،

یہ ساری غزل اور مثل اِس کے جہاں یاے تحتانی ہے جزوِ کلمہ ہے۔ اِس پر ہمزہ لکھنا گویا عقل کو گالی دینا ہے۔

دوسری تحتانیِ مضاف ہے۔ صرف اِضافت کا کسرہ ہے۔ ہمزہ وہاں بھی مخل ہے؛ جیسے "آسیاے چرخ" یا "آشناے قدیم"۔ توصیفی، اضافی، بیانی، کسی طرح کا کسرہ ہو، ہمزہ نہیں چاہتا۔ "فداے تو شوم"، "رہنماے تو شوم"، یہ بھی اِسی قبیل سے ہے۔

تیسری دو طرح پر ہے: یاے مصدری، اور وہ معروف ہوگی۔ دوسری طرح: توحید و تنکیر۔ وہ مجہول ہوگی۔ مثلاً مصدری: "آشنائی"۔ یہاں ہمزہ ضرور، بلکہ ہمزہ نہ لکھنا عقل کا قصور۔ توحیدی: "آشنائے" یعنی ایک آشنا یا کوئی آشنا۔ یہاں جب تک ہمزہ نہ لکھو گے دانا نہ کہاؤ گے۔

"نیم گناہ" و "نیم نگاہ" و "نیم ناز"، یہ روزمرّۂ اہلِ زبان ہے۔ "نیم" بہ معنی "اندک"؛ ورنہ "گناہ کا آدھا" اور "نگاہ کی ادھواڑ" اور "ناز آدھا"، یہ مہملات میں ہے۔ اِن چیزوں کا مناصفہ کیا؟ اگر تم کو "نیم گناہ" پسند نہیں، "تازہ گناہ" رہنے دو۔

"خستہ"، "بستہ"، "تازہ"، "غازہ"، "خانہ"، "دانہ"، "آوارہ"، "بیچارہ"، "روزہ"، "بوزہ"، ہزار لفظ ہیں کہ اون کے آگے جب یاے توحید آتی ہے، تو اوس کی علامت کے واسطے ہمزہ لکھ دیتے ہیں۔ "زرہ"، "گرہ"، "کُلاہ"، "شاہ"، "آگاہ"، "آگہ"، "صبحگاہ"، "صبحگہ"؛ ایسے الفاظ کے آگے اگر تحتانی آتی ہے، تو "زِرہے"، "گِرہے"، "کُلاہے"، "شاہے"، "آگاہے"، "آگہے"، "گاہے"، "گہے"، لکھ دیتے ہیں۔

غالب۔

خط ۲۳

"دید مست"، یہ لفظ نیا بنایا ہے۔ مقصود تمہارا میں نے تو سمجھ لیا؛ مگر زنہار اور کوئی نہ سمجھے گا۔ "المعنیٰ فی بطنِ القائل" کے یہی معنی ہیں۔

"چشمانِ پُر خمار"، و "چشمانِ بےحیا"، اِن دونوں ترکیبوں میں سے ایک لکھ لو۔ اِن سب اشعار میں نہ عیب، نہ لطف۔

دیکھو صاحب، خط میں تم پھر وہی "بیش" و "بیشتر" کا قصہ لائے ہو۔ "چہ جُرم" و "چہ سبب" و "چہ گناہ"، پر جو سند لاتے ہو:

"عشق است و صد ہزار تمنا، مرا چہ جرم"

اِس کی حاجت کیا ہے؟ "جانان مددے"، "یاران مددے"، یہ تمام غزل اِسی طرح کی ہے۔ اگر یہ ترکیب درست نہ ہوتی، تو میں ساری غزل کیوں نہ کاٹ ڈالتا؟ دیکھو، رفیع السودا کہتا ہے:

نہ ضرر کفر کو، نے دین کو نقصاں مجھ سےباعثِ دشمنی، اے گبر و مسلماں، مجھ سے؟

غالب کہتا ہے:

مجھ تک کب اون کی بزم میں آتا تھا دورِ جام؟ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں!

یعنی: اب جو دَور مجھ تک آیا ہے، تو میں ڈرتا ہوں۔ یہ جملہ سارا مقدر ہے۔ میرا فارسی کا دیوان جو دیکھے گا، وہ جانے گا کہ جملے کے جملے مقدّر چھوڑ جاتا ہوں؛ مگر

ہر سخن وقتے و ہر نکتہ مکانے دارد۔

یہ فرق البتہ وجدانی ہے، بیانی نہیں۔

اگر دریافتی، بر دانشت بوسوگر غافل شدی، افسوس، افسوس!

روزِ جمعہ، ۱۳ جنوری سنہ ۱۸۵۴ع۔

از اسد اللہ۔

خط ۲۴

بندہ پرور،

ایک مہربانی نامہ سکندرآباد سے اور ایک علی گڑھ سے پہُنچا۔ یقین ہے کہ بابو صاحب تمہارے خط کے جواب میں کچھ حال لکھیں گے اور تم موافق اپنے وعدے کے مجھ کو لکھو گے۔ اب جب اوس خط کا جواب تمہارے پاس سے آئے گا، تب تمہارے اشعار تم کو پہُنچیں گے۔ ہائے ہائے! میر تفضل حسین خاں، ہائے ہائے!

رفتی و مرا خبر نہ کردیبر بیکسیم نظر نہ کردی۔

یہاں یہ سنا گیا ہے کہ میر احمد حسین، بڑا بیٹا اون کا، اون کے کام پر مقرر ہوا اور میر اِرشاد حسین بدستور نائب رہے۔

۲۳ فروری سنہ ۱۸۵۴ع۔

اسد اللہ۔

خط ۲۵

منشی صاحب،

تمہارا خط اوس دن، یعنی کل بدھ کے دن، پہُنچا کہ میں چار دن سے لرزے میں مبتلا ہوں اور مزا یہ ہے کہ جس دن سے لرزہ چڑھا ہے، کھانا مطلق میں نے نہیں کھایا۔ آج پنجشنبہ پانچواں دن ہے کہ نہ کھانا دن کو میسر ہے، اور نہ رات کو شراب۔ حرارت مزاج میں بہت ہے؛ ناچار اِحتراز کرتا ہوں۔ بھائی، اِس لطف کو دیکھو کہ پانچواں دن ہے کھانا کھائے؛ ہرگز بھوک نہیں لگی اور طبیعت غذا کی طرف متوجہ نہیں ہوئی۔ بابو صاحب والامناقب کا خط تمہارے نام کا دیکھا، اب اوس اِرسال میں وہ آسانی نہ رہی اور بندہ دشواری سے بھاگتا ہے۔ کیوں تکلیف کریں؟ اور اگر بہر حال، اون کی مرضی ہے؛ تو خیر، میں فرماں‌پزیر ہوں۔ اشعارِ سابق و حال میرے پاس امانت ہیں۔ بعد اچھے ہونے کے اون کو دیکھوں گا اور تم کو بھیج دوں گا۔ اِتنی سطریں مجھ سے بہ ہزار جرِّ ثقیل لکھی گئی ہیں۔

روزِ پنجشنبہ، ۲ مارچ سنہ ۱۸۵۴ع۔

اسد اللہ۔

خط ۲۶

میرا سلام پہنچے،

خط اور کاغذِ اشعار پہنچا۔ سابق و حال ابھی سب یوں ہی دھرے رہیں گے، اگرچہ گرمی رفع ہوگئی، مینہ برسنے لگے، ہواے سرد چلنے لگی؛ مگر دل مکدر ہے اور حواس ٹھکانے نہیں۔ بادشاہ کا قصیدہ سارا اور ولی‌عہد کا قصیدہ بے خاتمہ آگے سے کہہ رکھا تھا، اوس کا خاتمہ بہ ہزار مشقت رمضان میں کہہ لیا اور عید کو دونوں پڑھ دیے۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کو پرسوں یا اترسوں بھیجوں گا، اون سے لے کر تم بھی دیکھنا۔ میں نے اون کو لکھ کر بھیجا ہے کہ منشی ہرگوپال صاحب کو بھی دینا کہ وہ پڑھ لیں اور چاہیں تو نقل لے لیں۔ اِس کے سوا اور جو کچھ تمہارے خط میں لکھا تھا، وہ جواب طلب نہیں اور یوں ہی ہے جو تم سمجھے ہو۔

[جولائی ۱۸۵۴ع]

اسد اللہ۔

خط ۲۷

صاحب،

دیباچہ و تقریظ کا لکھنا ایسا آسان نہیں ہے کہ جیسا تم کو دیوان کا لکھ لینا۔ کیوں روپیہ خراب کرتے ہو اور کیوں چھپواتے ہو؟ اور اگر یوں ہی جی چاہتا ہے، تو ابھی کہے جاؤ، آگے چل کر دیکھ لینا۔ اب یہ دیوان چھپوا کر اور تیسرے دیوان کی فکر میں پڑو گے۔ تم تو دو چار برس میں ایک دیوان کہہ لوگے، میں کہاں تک دیباچہ لکھا کروں گا؟ مدعا یہ ہے کہ اِس دیوان کو اوس دیوان کے برابر ہو لینے دو۔ اب کچھ قصیدہ و رباعی کی فکر کیا کرو۔ دو چار برس میں اِس قسم سے جو کچھ فراہم ہو جاوے، دوسرے دیوان میں اوس کو بھی درج کرو۔

صاحب، جہاں تقطیع میں الف نہ سمائے وہاں کیوں لکھو؟

اسد۔

خط ۲۸

صاحب،

تم جانتے ہو کہ یہ معاملہ کیا ہے اور کیا واقع ہوا؟ وہ ایک جنم تھا کہ جس میں ہم تم باہم دوست تھے اور طرح طرح کے ہم میں تم میں معاملاتِ مہر و محبت درپیش آئے۔ شعر کہے، دیوان جمع کیے۔ اوسی زمانے میں ایک اور بزرگ تھے کہ وہ ہمارے تمہارے دوستِ دلی تھے اور منشی نبی بخش اون کا نام اور "حقیر" تخلص تھا۔ ناگاہ، نہ وہ زمانہ رہا، نہ وہ اشخاص، نہ وہ معاملات، نہ وہ اِختلاط، نہ وہ اِنبساط! بعد چند مدت کے پھر دوسرا جنم ہم کو ملا، اگرچہ صورت اِس جنم کی بعینہ مثل پہلے جنم کے ہے۔ یعنی ایک خط میں نے منشی نبی بخش صاحب کو بھیجا، اوس کا جواب مجھ کو آیا اور ایک خط تمہارا کہ تم بھی موسوم بہ منشی ہرگوپال و متخلص بہ "تفتہ" ہو، آج آیا۔ اور میں جس شہر میں ہوں، اوس کا نام بھی دلّی اور اوس محلے کا نام "بلّی ماروں کا محلہ" ہے؛ لیکن ایک دوست اوس جنم کے دوستوں میں سے نہیں پایا جاتا! واللہ! ڈھونڈھنے کو مسلمان اِس شہر میں نہیں ملتا! کیا امیر، کیا غریب، کیا اہل حرفہ۔ اگر کچھ ہیں، تو باہر کے ہیں۔ ہنود البتہ کچھ کچھ آباد ہوگئے ہیں۔ اب پوچھو کہ تو کیوں کر مسکنِ قدیم میں بیٹھا رہا۔ صاحبِ بندہ، میں حکیم محمد حسن خاں مرحوم کے مکان میں نو دس برس سے کرائے کو رہتا ہوں اور یہاں قریب کیا، بلکہ دیوار بہ دیوار ہیں گھر حکیموں کے، اور وہ نوکر ہیں راجہ نرندر سنگھ بہادر والیِ پٹیالہ کے۔ راجہ نے صاحبان عالی‌شان سے عہد لے لیا تھا کہ بر وقت غارتِ دہلی یہ لوگ بچ رہیں۔ چنانچہ بعدِ فتح راجہ کے سپاہی آ بیٹھے اور یہ کوچہ محفوظ رہا؛ ورنہ میں کہاں، اور یہ شہر کہاں؟ مبالغہ نہ جاننا، امیر غریب سب نکل گئے۔ جو رہ گئے تھے، وہ نکالے گئے۔ جاگیردار، پنسن‌دار، دولتمند، اہلِ حرفہ، کوئی بھی نہیں ہے۔ مفصل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ ملازمانِ قلعہ پر شدّت ہے، اور بازپُرس اور دار و گیر میں مبتلا ہیں؛ مگر وہ نوکر جو اِس ہنگام میں نوکر ہوئے ہیں اور ہنگامے میں شریک رہے ہیں۔ میں غریب شاعر دس برس سے تاریخ لکھنے اور شعر کی اِصلاح دینے پر متعلق ہوا ہوں۔ خواہی اوس کو نوکری سمجھو، خواہی مزدوری جانو۔ اِس فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں میں نے دخل نہیں دیا۔ صِرف اشعار کی خدمت بجا لاتا رہا، اور نظر اپنی بےگناہی پر شہر سے نکل نہیں گیا۔ میرا شہر میں ہونا حکام کو معلوم ہے؛ مگر چونکہ میری طرف بادشاہی دفتر میں سے یا مخبروں کے بیان سے کوئی بات پائی نہیں گئی، لہذا طلبی نہیں ہوئی۔ ورنہ جہاں بڑے بڑے جاگیردار بُلائے ہوئے یا پکڑے ہوئے آئے ہیں، میری کیا حقیقت تھی؟ غرض کہ اپنے مکان میں بیٹھا ہوں، دروازے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ سوار ہونا اور کہیں جانا تو بہت بڑی بات ہے۔ رہا یہ کہ کوئی میرے پاس آوے، شہر میں ہے کون جو آوے؟ گھر کے گھر بےچراغ پڑے ہیں۔ مجرم سیاست پاتے جاتے ہیں۔ جرنیلی بندوبست یازدہم مئی سے آج تک، یعنی شنبہ پنجم دسمبر سنہ ۱۸۵۷ع تک، بدستور ہے۔ کچھ نیک و بد کا حال مجھ کو نہیں معلوم؛ بلکہ ہنوز ایسے اُمور کی طرف حکام کو توجہ بھی نہیں۔ دیکھیے، انجامِ کار کیا ہوتا ہے۔ یہاں باہر سے اندر کوئی بغیر ٹکٹ کے آنے جانے نہیں پاتا۔ تم زنہار یہاں کا اِرادہ نہ کرنا۔ ابھی دیکھا چاہیے مسلمانوں کی آبادی کا حکم ہوتا ہے یا نہیں۔ بہر حال، منشی صاحب کو میرا سلام کہنا اور یہ خط دکھا دینا۔ اِس وقت تمہارا خط پہنچا اور اِسی وقت میں نے یہ خط لکھ کر ڈاک کے ہرکارے کو دیا۔

[شنبہ، ۵ دسمبر ۱۸۵۷ع۔]

خط ۲۹

آج سنیچر بار کو دوپہر کے وقت ڈاک کا ہرکارہ آیا اور تمہارا خط لایا۔ میں نے پڑھا اور جواب لکھا اور کلیان کو دیا۔ وہ ڈاک کو لے گیا۔ خدا چاہے، تو کَل پہنچ جائے۔ میں تم کو پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ دلّی کا قصد کیوں کرو اور یہاں آکر کیا کرو گے؟ بلکہ گھر میں سے، خدا کرے، تمہارا روپیہ مل جائے۔

بھائی، میرا حال یہ ہے کہ دفترِ شاہی میں میرا نام مندرج نہیں نکلا۔ کسی مخبر نے بہ نسبت میرے کوئی خبر بدخواہی کی نہیں دی۔ حکام وقت میرا ہونا شہر میں جانتے ہیں۔ فراری نہیں ہوں، روپوش نہیں ہوں، بلایا نہیں گیا، دار و گیر سے محفوظ ہوں۔ کسی طرح کی بازپرس ہو، تو بلایا جاؤں۔ مگر ہاں، جیسا کہ بُلایا نہیں گیا، خود بھی بروے کار نہیں آیا، کسی حاکم سے نہیں ملا، خط کسی کو نہیں لکھا، کسی سے درخواستِ ملاقات نہیں کی۔ مئی سے پنسن نہیں پایا۔ کہو، یہ نو دس مہینے کیوں کر گزرے ہوں گے؟ انجام کچھ نظر آتا نہیں کہ کیا ہوگا۔ زندہ ہوں، مگر زندگی وبال ہے۔ ہرگوبند سنگھ یہاں آئے ہوئے ہیں۔ ایک بار میرے پاس بھی آئے تھے۔ والدعا۔

روزِ شنبہ، سیٔ‌ام جنوری سنہ ۱۸۵۸ع، وقتِ نیم‌روز۔

غالب۔

خط ۳۰

از عمر و دولت برخوردار باشند،

بدھ کا دن تیسری تاریخ فروری کی، ڈیڑھ پہر دن باقی رہے ڈاک کا ہرکارہ آیا اور خط مع رجسٹری لایا۔ خط کھولا، سَو روپئے کی ہنڈوی، بِل، جو کچھ کہیے، وہ ملا۔ ایک آدمی رسیدِ مُہری لے کر "نیل کے کٹرے" چلا گیا۔ سو روپئے چہرۂ شاہی لے آیا۔ آنے جانے کی دیر ہوئی اور بس۔ چوبیس روپئے داروغہ کی معرفت اوٹھے تھے وہ دیے گئے۔ پچاس روپئے محل میں بھیج دیے۔ چھبیس روپئے باقی رہے، وہ بکس میں رکھ لیے۔ روپئے کے رکھنے کے واسطے بکس کھولا تھا، سو یہ رقعہ بھی لکھ لیا۔ کلیان سودا لینے بازار گیا ہوا ہے۔ اگر جلد آ گیا، تو آج، ورنہ کل یہ خط ڈاک میں بھیج دوں گا۔ خدا تم کو جیتا رکھے اور اجر دے۔ بھائی، بُری آ بنی ہے۔ انجام اچھا نظر نہیں آتا۔ قصہ مختصر یہ کہ قصہ تمام ہوا۔

چار شنبہ، ۳ فروری سنہ ۱۸۵۸ع، وقت دوپہر۔

غالب۔

خط ۳۱

صاحب،

تم نے لکھا تھا کہ میں جلد آگرے جاؤں گا۔ تمہارے اوس خط کا جواب نہ لکھ سکا۔ جواب تو لکھ سکتا تھا، مگر کلیان کا پانو سوج گیا تھا، وہ چل نہیں سکتا تھا۔ مسلمان آدمی شہر میں سڑک پر بِن ٹکٹ پھر نہیں سکتا۔ ناچار، تم کو خط نہ بھیج سکا۔ بعد چند روز کے جو کہار اچھا ہوا، تو مَیں تم کو آگرے میں سمجھ کر سکندرآباد خط نہ بھیج سکا۔ مولوی قمرالدین خاں کے خط میں تم کو سلام لکھا۔ کل اون کا خط آیا، وہ لکھتے ہیں کہ میرزا "تفتہ" ابھی یہاں نہیں آئے۔ اِس واسطے آج یہ رقعہ تم کو بھیجتا ہوں۔ میرا حال بدستور ہے؛ دیکھیے، خدا کو کیا منظور ہے۔ حاکم اکبر نے آ کر کوئی نیا بندوبست جاری نہیں کیا۔ یہ صاحب میرے آشناے قدیم ہیں، مگر میں مِل نہیں سکتا۔ خط بھیج دیا ہے۔ ہنوز کچھ جواب نہیں آیا۔ تم لکھو کہ اکبرآباد کب جاؤ گے۔ والدعا۔

جمعہ، ۵ مارچ سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۲

جانِ من و جانانِ من،

کل میں نے تم کو سکندرآباد میں سمجھ کر خط بھیجا۔ شام کو تمہارا خط آیا، معلوم ہوا کہ تم اکبرآباد پہنچے۔ خیر، وہ خط پوسٹ پیڈ گیا ہے، شاید اولٹا نہ پھرے۔ اگر پھر آئے گا، تو خیر۔ آج یہ خط تم کو اکبرآباد بھیجتا ہوں، پہنچنے پر جواب لکھنا۔

تقطیع رباعی کی بہت خوب! مگر خیر، ہر ایک بات کا ایک وقت ہے۔ ہم کو ہر طرح لطفِ صحبت اور لطفِ شعر اوٹھا لینا! بھائی منشی نبی بخش صاحب کے نام کا خط پڑھ کر اون کو دے دینا اور اوس کا مضمون معلوم کرلینا۔ جس حاکم کو میں نے خط اور قطعہ بھیجا ہے، اوس کے سررشتہ‌دار کوئی صاحب ہیں، من‌پھول اون کا نام ہے، مجھ سے ناآشناے محض ہیں۔ اگر تعارف ہوتا، تو اِستدعا کرتا کہ اوس تحریر کو پیش کیجیے۔ کاش تم سے آشنائی ہوتی، تو تُمھیں اوپر اوپر خط لکھ کر اون کو بھیج دیتے کہ غالب ایک فقیرِ گوشہ نشین اور بے گناہِ محض اور واجب‌الرحم ہے، اوس کے حصولِ مطالب میں سعی سے دریغ نہ کرنا۔

می توان آورد اِستغنا ستارہ شناسانہچرخِ کج رو را اگر دانیم کز یارانِ کیست۔

باقی جو حال ہے وہ بھائی کے نام کے ورق میں لکھ چُکا ہوں۔ تم پڑھ لوگے۔ دوبارہ لکھنا کیا ضرور؟

شنبہ، ۶ مارچ سنہ ۱۸۵۸ع۔ جواب طلب۔

خط ۳۳

صاحب،

تمہاری سعادت مندی کو ہزار ہزار آفریں۔ تم کو یوں ہی چاہیے تھا؛ لیکن میں نے تو ایک بات بہ طریقِ تمنّا لکھی تھی، جیسا کہ عربی میں "لَیْتَ" اور فارسی میں "کاشکے"۔

اب، تم روداد سنو: عرضی میری سر جان لارنس چیف کمشنر بہادر کو گزری، اوس پر دستخط ہوئے کہ یہ عرضی مع کواغذ ضمیمہ سائل کے پاس بھیج دی جائے اور یہ لکھا جائے کہ معرفت صاحب کمشنر دہلی کے پیش کرو۔ اب سررشتہ‌دار کو لازم تھا کہ میرے نام موافق دستور کے خط لکھتا؛ یہ نہ ہوا۔ وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی میرے پاس آگئی۔ میں نے خط صاحب کمشنر دہلی چارلس ساڈرس کو لکھا اور وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی اوس میں ملفوف کر کے بھیج دی۔ صاحب کمشنر نے صاحب کلکٹر کے پاس یہ حکم چڑھا کر بھیجی کہ سائل کے پنسن کی کیفیت لکھو۔ اب وہ مقدمہ صاحب کلکٹر کے یہاں آیا ہے۔ ابھی صاحب کلکٹر نے تعمیل اوس حکم کی نہیں کی۔ پرسوں تو اون کے ہاں یہ روبکاری آئی ہے۔ دیکھیے، کچھ مجھ سے پوچھتے ہیں یا اپنے دفتر سے لکھ بھیجتے ہیں۔ دفتر کہاں رہا ہے، جو اوس کو دیکھیں گے! بہر حال، یہ خدا کا شکر ہے کہ بادشاہی دفتر میں سے میرا کچھ شمول فساد میں پایا نہیں گیا، اور میں حکام کے نزدیک یہاں تک پاک ہوں کہ پنسن کی کیفیت طلب ہوئی ہے اور میری کیفیت کا ذکر نہیں ہے۔ یعنی سب جانتے ہیں کہ اِس کو لگاؤ نہ تھا۔ مولوی قمرالدین خاں کا "کول" نہ جانا اور راہ سے پھر آنا معلوم ہوا۔ حق تعالیٰ اون کو زندہ اور تندرست رکھے۔ میرا سلام کہنا اور یہ خط پڑھا دینا۔ بھائی منشی نبی بخش صاحب کو سلام اور اون کے بچوں کو دعا کہنا اور یہ خط ضرور ضرور پڑھا دینا اور کہنا کہ بھائی بدایت تو اچھی ہے، نہایت بھی خدا اچھی کرے۔ وہ عزت اور وہ ربط و ضبط جو ہم رئیس زادوں کا تھا، اب کہاں! روٹی کا ٹکڑا ہی مل جائے، تو غنیمت ہے۔ گورنریِ کلکتہ اور گورنریِ آگرہ اور اجنٹی و کمشنری و دیوانی و فوجداری و کلکٹریِ دہلی سے جو حکم میرے خط اور عرضی پر ہوا ہے، مشتمل اوس حکم پر خط میرے نام آیا ہے۔ حاکم نے اب بھی یہی حکم دیا تھا کہ لکھا جاوے کہ یوں کرو۔ عملے نے خط نہ لکھا۔ صرف وہ عرضی حکم چڑھی ہوئی بھیج دی۔ خیر،

ہرچہ از دوست میرسد نیکوست۔

سنو، میرزا "تفتہ" اب میں جو اپنا حال تم کو لکھا کروں، وہ تم میرے بھائی کو اور مولوی قمرالدین خاں کو دکھا دیا کرو۔ تین تین جگہ ایک بات کو کیوں لکھوں؟

جمعہ، ۱۲ مارچ سنہ ۱۸۵۸ع۔

خط ۳۴

صاحب،

کیوں مجھے یاد کیا؟ کیوں خط لکھنے کی تکلیف اوٹھائی؟ پھر یہ کہتا ہوں کہ خدا تم کو جیتا رکھے کہ تمہارے خط میں مولوی قمرالدین خاں کا سلام بھی آیا اور بھائی منشی نبی بخش کی خیر و عافیت بھی معلوم ہوئی۔ وہ تو پنسن کے فکر میں تھے۔ ظاہرا یوں مناسب دیکھا ہوگا کہ نوکری کی خواہش کی۔ حق تعالیٰ اون کی جو مراد ہو بر لاوے۔ اون کو میرا سلام کہہ دینا، بلکہ یہ رقعہ پڑھوا دینا۔ مولوی قمرالدین خاں کو بھی سلام کہنا۔ تم اپنے کلام کے بھیجنے میں مجھ سے پُرسش کیوں کرتے ہو؟ چار جزو ہیں تُو، بیس جزو ہیں تُو، بے تکلف بھیج دو۔ میں شاعرِ سخن‌سنج اب نہیں رہا۔ صرف سخن‌فہم رہ گیا ہوں۔ بوڑھے پہلوان کی طرح پیچ بتانے کی گَوں ہوں۔ بناوٹ نہ سمجھنا۔ شعر کہنا مجھ سے بالکل چھوٹ گیا۔ اپنا اگلا کلام دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں کہ یہ میں نے کیوں کر کہا تھا! قصہ مختصر، وہ اجزا جلد بھیج دو۔

یکشنبہ، ۱۱ اپریل سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۵

میرزا تفتہ،

عجب اتفاق ہوا؛ پنجشنبے کے دن، ۲۲ اپریل کو، کلیان خط ڈاک میں ڈال کر آیا کہ اوس کے متعاقب پارسل کا ہرکارہ آیا اور تمہارا بھیجا ہوا پاکٹ لایا۔ رسید لکھنی میں نے زائد سمجھی اور اوس کا دیکھنا شروع کیا۔ بےکارِ محض اور تنہا ہوں؛ پانچ پہر کا دن؛ میری بڑی دل‌لگی ہوگئی۔ خوب دیکھا۔ سچ تو یوں ہے کہ اِن اشعار میں میں نے بہت حظ اوٹھایا۔ جیتے رہو۔ تمہارا دم غنیمت ہے۔

بھائی کا حال مفصل لکھو۔ پنسن کے طالب ہیں یا نوکری کے؟ منشی عبداللطیف کہاں ہے اور کس طرح ہے؟ علاقہ بنا ہوا ہے یا جاتا رہا؟ صاحب لفٹنٹ گورنری کا محکمہ بالکل اِلہ‌آباد کو گیا یا ہنوز کچھ یہاں بھی ہے؟ منشی غلام غوث صاحب کہاں ہیں؟ نوکر ہیں یا مستعفی؟ عدالتِ دیوانی کا محکمہ یہیں رہے گا یا اِلہ‌آباد جائے گا؟ اِس کا اور گورنری کے محکمے کا ساتھ ہے؛ چاہیے یہ بھی وہیں جاوے۔

آج تمہارے اشعار کا کاغذ پمفلٹ پاکٹ اِسی خط کے ساتھ ڈاک میں بھیجا گیا ہے۔ یقین ہے کہ یہ خط کل پرسوں اور وہ پاکٹ پانچ چار دن میں پہنچ جائے۔

یکشنبہ، ۲۵ اپریل سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۶

صاحب،

۲۵ اپریل کو ایک خط اور ایک پارسل ڈاک میں اِرسال کرچکا ہوں۔ آج ۳۰ ہے۔ یقین ہے کہ خط اور پارسل دونوں پہنچ گئے ہوں گے۔ ایک امرِ ضروری باعث اِس تحریر کا ہے کہ جو میں اِس وقت روانا کرتا ہوں۔ ایک میرا دوست اور تمہارا ہمدرد ہے۔ اوس نے اپنے حقیقی بھتیجے کو بیٹا کرلیا تھا۔ اٹھارہ اونیس برس کی عمر، قوم کا کھتری، خوب‌صورت، وضعدار، نوجوان، سنہ ۱۲۷۳ھ میں بیمار پڑکر مرگیا۔ اب اوس کا باپ مجھ سے آرزو کرتا ہے کہ ایک 'تاریخ' اوس کے مرنے کی لکھوں، ایسی کہ وہ فقط 'تاریخ' نہ ہو؛ بلکہ مرثیہ ہو کہ وہ اوس کو پڑھ پڑھ کر رویا کرے۔ سُو بھائی، اوس سائل کی خاطر مجھ‌کو عزیز اور فکرِ شعر متروک۔ معہذا یہ واقعہ تمہارے حسب حال ہے۔ جو خونچکاں شعر تم نکالوگے، وہ مجھ سے کہاں نکلیں گے؟ بہ طریقِ مثنوی بیس تیس شعر لکھ دو۔ مصرع آخر میں مادّۂ تاریخ ڈال دو۔ نام اوس کا "برج موہن" تھا اور اوس کو "بابو" "بابو" کہتے تھے۔ چنانچہ میں بحرِ ہزجِ مسدس مخبون میں ایک شعر تم کو لکھتا ہوں۔ چاہو اِس کو آغاز میں رہنے دو اور آیندہ اِسی بحر میں اور اشعار لکھ لو، چاہو کوئی اور طرح نکالو۔ لیکن یہ خیال میں رہے کہ سائل کو متوفیٰ کے نام کا درج ہونا منظور ہے اور "بابو برج موہن" سواے اِس بحر کے یا بحرِ رمل کے اور بحر میں نہیں آسکتا۔ وہ شعر میرا یہ ہے:

برم چون نام بابو برج موہنچکد خونِ دلِ ریش از لبِ من۔

نگاشتۂ روزِ جمعہ، سیٔ ام اپریل سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۷

بھائی،

وہ خط پہلا تم کو بھیج چکا تھا کہ بیمار ہوگیا۔ بیمار کیا ہوا، توقّع زیست کی نہ رہی۔ قولنج اور پھر کیسا شدید کہ پانچ پہر مرغِ نیم‌بسمل کی طرح تڑپا کیا۔ آخر، عُصارۂ ریوند اور ارنڈی کا تیل پیا۔ اوس وقت تو بچ گیا، مگر قصہ قطع نہ ہوا۔ مختصر کہتا ہوں، میری غذا تم جانتے ہو کہ تندرستی میں کیا ہے۔ دس دن میں دو بار آدھی آدھی غذا کھائی۔ گویا دس دن میں ایک بار غذا تناوُل فرمائی۔ گلاب اور اِملی کا پنّا اور آلو بخارا کا افشردہ، اِس پر مدار رہا۔ کل سے خوفِ مرگ گیا ہے اور صورت زیست کی نظر آئی ہے۔ آج صبح کو بعد دوا پینے کے تم کو یہ خط لکھا ہے۔ یقین تو ہے کہ آج پیٹ بھر کر روٹی کھا سکوں۔

صاحب، وہ جو میں نے ۲۲ شعر مرثیے کے لکھ کر تم کو بھیجے، اوس سے مقصود یہ تھا کہ تم اپنے اشعار دوسرے ماتم‌زدہ کو دے دو، کس واسطے کہ تمہاری تحریر سے معلوم ہوا تھا کہ کوئی اور بھی فلک‌زدہ ہے۔ اور یہ جو تم لکھتے ہو کہ کچھ اوپر اسّی شعر میں سے ایک شعر بھی تو نے نہ لیا، اِس کا حال یہ ہے کہ وہ شعر سب دست و گریبان تھے؛ ایک کو ایک سے ربط۔ ایک یا دو شعر اوس میں سے کیوں کر لیے جاتے؟ اشعار سب میرے پسند، بے سقم، بے عیب۔ وہ جو تم لکھتے ہو کہ

حرفِ بابو برج موہن میزنم،

اور اِس کا دوسرا مصرع میں بھول گیا ہوں، مگر قافیے میں "من" ہے، یہ شعر غالب کو برا معلوم ہوا ہوگا؛ واللہ، باللہ! جب تک کہ تم نے نہیں لکھا؛ میرے خیال میں بھی یہ بات نہ تھی۔ بہر حال، بات وہی ہے، جو میں اوپر لکھ آیا ہوں۔

بارے، اب کہیے: بھائی منشی نبی بخش صاحب اور مولوی قمرالدین خاں صاحب، روزوں کے متوالے، ہوش میں آئے یا نہیں؟ آج ۱۰ شوال کی ہے؛ ششۂ عید کا بھی زمانہ گزر گیا۔ خدا کے واسطے اون کی خیر و عافیت لکھو اور یہ عبارت بھائی صاحب کی نظرِ انور سے گزرانو۔ شاید وہ مجھ کو خط لکھیں۔

محررہ و مرسلۂ دوشنبہ، ۲۴ مئی سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۸

کیوں صاحب،

مجھ سے کیوں خفا ہو؟ آج مہینا بھر ہو گیا ہوگا، یا بعد دو چار دن کے ہوجائے گا، کہ آپ کا خط نہیں آیا۔ اِنصاف کرو کتنا کثیرالاحباب آدمی تھا۔ کوئی وقت ایسا نہ تھا کہ میرے پاس دو چار دوست نہ ہوتے ہوں۔ اب یاروں میں ایک شیو جی رام برہمن اور بال مکند اوس کا بیٹا، یہ دو شخص ہیں کہ گاہ گاہ آتے ہیں۔ اِس سے گزر کر، لکھنؤ اور کالپی اور فرخ‌آباد اور کس کس ضلع سے خطوط آتے رہتے تھے۔ اون دوستوں کا حال ہی نہیں معلوم کہ کہاں ہیں، اور کس طرح ہیں؟ وہ آمد خطوط کی موقوف؛ صرف تم تین صاحبوں کے خط کے آنے کی توقع، اوس میں وہ دونوں صاحب گاہ گاہ۔ ہاں، ایک تم کہ ہر مہینے میں ایک دو بار مہربانی کرتے ہو۔ سنو صاحب، اپنے پر لازم کرلو ہر مہینے میں ایک خط مجھ کو لکھنا۔ اگر کچھ کام آ پڑا، دو خط، تین خط؛ ورنہ صرف خیر و عافیت لکھی اور ہر مہینے میں ایک بار بھیج دی۔

بھائی صاحب کا بھی خط دس بارہ دن ہوئے کہ آیا تھا۔ اوس کا جواب بھیج دیا گیا۔ مولوی قمرالدین خاں یقین ہے کہ اِلہ‌آباد گئے ہوں، کس واسطے کہ مجھ کو مئی میں لکھا تھا کہ اوائلِ جون میں جاؤں گا۔ بہر حال، اگر آپ آزردہ نہیں، تو جس دن میرا خط پہنچے، اوس کے دوسرے دن اوس کا جواب لکھیے۔ اپنی خیر و عافیت، منشی صاحب کی خیر و عافیت، مولوی صاحب کا احوال۔ اِس سے سوا گوالیار کے فتنہ و فساد کا ماجرا، جو معلوم ہوا ہو وہ، الفاظِ مناسبِ وقت میں ضرور لکھنا؛ راجہ جو وہاں آیا ہوا ہے اوس کی حقیقت، دھول‌پور کا رنگ۔ صاحبانِ عالی شان کا اِرادہ وہاں کے بندوبست کا کس طرح پر ہے؟ آگرے کا حال کیا ہے؟ وہاں کے رہنے والے کچھ خائف ہیں یا نہیں؟

نگاشتۂ شنبہ، ۱۹ جون سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۳۹

جیتے رہو اور خوش رہو،

اے وقتِ تو خوش کہ وقتِ ما خوش کردی۔

زیادہ خوشی کا سبب یہ کہ تم نے تحریر کو تقریر کا پرداز دے دیا تھا۔ گرمی ہنگامۂ انطباعِ دیوان وغیرہ میں پہلے سے جانتا ہوں؛ بلکہ گھر کا روپیہ مصرفِ کاغذ و کاپی ہے۔ خدا تم کو سلامت رکھے؛ مغتنمات سے ہو۔ رجب علی بیگ "سرور" نے جو "افسانۂ عجائب" لکھا ہے، آغازِ داستان کا شعر اب مجھ کو بہت مزا دیتا ہے:

یادگارِ زمانہ ہیں ہم لوگیاد رکھنا، فسانہ ہیں ہم لوگ۔

مصرعِ ثانی کتنا گرم ہے اور "یاد رکھنا"، "فسانہ" کے واسطے کتنا مناسب!

منشی عبداللطیف کے گھر میں لڑکے کے پیدا ہونے کی خبر مجھ کو ہوچکی ہے اور تہنیت میں بھائی کو خط لکھ چکا ہوں۔ اب جو اون سے ملو، تو میرا سلام کہہ کر اوس خط کے پہنچنے کی اِطلاع لے لینا۔ مولوی معنوی جب کان‌پور سے معاودت فرمائیں مجھ کو اِطلاع دینا۔ میرا حال بدستور:

ہمان پہلو، ہمان بستر، ہمان درد۔

شنبہ، ۲۶ جون [۱۸۵۸ع]، روزِ ورودِ نامہ۔

غالب۔

خط ۴۰

رکھیو، "غالب" مجھے اِس تلخ نوائی میں معاف؛آج کچھ درد میرے دل میں سوا ہوتا ہے۔

بندہ پرور،

پہلے تم کو یہ لکھا جاتا ہے کہ میرے دوست قدیم میر مکرم حسین صاحب کی خدمت میں میرا سلام کہنا: اور یہ کہنا اب تک جیتا ہوں اور اِس سے زیادہ میرا حال مجھ کو بھی معلوم نہیں۔ میرزا حاتم علی صاحب "مہر" کی جناب میں میرا سلام کہنا اور یہ میرا شعر میری زبان سے پڑھ دینا:

شرطِ اسلام بُوَد ورزشِ ایمان بالغیباے تو غائب ز نظر، مہرِ تو ایمانِ منِ ست

تمہارے پہلے خط کا جواب بھیج چُکا تھا کہ اوس کے دو دن یا تین دن کے بعد دوسرا خط پہنچا۔ سنو صاحب، جس شخص کو جس شغل کا ذوق ہو اور وہ اوس میں بے تکلف عمر بسر کرے، اِس کا نام عیش ہے۔ تمہاری توجّہ مفرط بہ طرف شعر و سخن کے تمہاری شرافتِ نفس اور حسنِ طبع کی دلیل ہے۔ اور بھائی، یہ جو تمہاری سخن‌گستری ہے، اِس کی شہرت میں میری بھی تو نام‌آوری ہے۔ میرا حال اِس فن میں اب یہ ہے کہ شعر کہنے کی روش اور اگلے کہے ہوئے اشعار سب بھول گیا۔ مگر ہاں، اپنے ہندی کلام میں سے ڈیڑھ شعر یعنی ایک مقطع اور ایک مصرع یاد رہ گیا ہے۔ سُو گاہ گاہ جب دل اولٹنے لگتا ہے، تب دس پانچ بار یہ مقطع زبان پر آجاتا ہے:

زندگی اپنی جب اِس شکل سے گزری، "غالب"ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے؟

پھر جب سخت گھبراتا ہوں اور تنگ آتا ہوں، تو یہ مصرع پڑھ کر چپ ہو جاتا ہوں:

اے مرگِ ناگہاں! تجھے کیا انتظار ہے؟

یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں۔ جو دُکھ مجھ کو ہے اوس کا بیان تو معلوم، مگر اوس بیان کی طرف اِشارہ کرتا ہوں۔ انگریز کی قوم میں سے جو اِن روسیاہ کالوں کے ہات سے قتل ہوئے، اوس میں کوئی میرا امید گاہ تھا اور کوئی میرا شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندستانیوں میں کچھ عزیز، کچھ دوست، کچھ شاگرد، کچھ معشوق، سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے! جو اِتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو، اوس کو زیست کیوں کر نہ دشوار ہو! ہائے، اِتنے یار مرے کہ جو اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا! اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلیہِ راجِعُون۔

خط ۴۱

میرزا تفتہ کو دعا پہنچے۔

بہت دن سے خط کیوں نہیں لکھا؟ آگرے میں ہو یا نہیں؟ میرزا حاتم علی صاحب کا شفقت نامہ آیا۔ یہاں سے اوس کا جواب بھیجا گیا، وہاں سے اوس کا جواب آگیا۔ میر مکرم حسین صاحب کا خط پرسوں آیا۔ دو چار دن میں اوس کا جواب لکھوں گا۔ میرا حال بدستور ہے:

نہ نویدِ کامیابی، نہ نہیبِ نااُمیدی۔

بھائی صاحب کا خط کئی دن ہوئے کہ آیا ہے اور وہ میرے خط کے جواب میں ہے۔ دو ایک دن کے بعد جب جی باتیں کرنے کو چاہے گا، تب اون کو خط لکھوں گا۔ تم اگر ملو، تو اون سے کہہ دینا کہ بھائی قاسم علی خاں کے شعر نے مجھ کو بڑا مزا دیا۔ حسنِ اِتفاق یہ کہ کئی دن ہوئے تھے جو میں نے ایک ولایتی چغہ اور ایک شالی رومال ڈھائی‌گزا دلال کو دیا تھا اور وہ اوس وقت روپیہ لے کر آیا تھا۔ میں روپیہ لے کر اور خط پڑھ کر خوب ہنسا کہ خط اچھے وقت آیا۔

۱۸ جولائی سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

خط ۴۲

میرزا تفتہ،

کل قریب دوپہر کے ڈاک کا ہرکارہ، وہ جو خط بانٹا کرتا ہے، آیا اور اوس نے پارسل موم جامے میں لپٹا ہوا دیا۔ پہلے تو میں بھی حیران رہا کہ پاکٹ خطوں کی ڈاک میں کیوں آیا! بارے، جب اوس کی تحریر دیکھی، تو تمہارے ہات کا پمفلٹ لکھا ہوا اور دو ٹکٹ لگے ہوئے۔ مگر اوس کے آگے کالی مُہر اور کچھ انگریزی لکھا ہوا۔ ہرکارے نے کہا کہ ایک روپیہ دس آنے دلوائیے۔ دلوا دیے اور پارسل لےلیا۔ مگر حیران کہ یہ کیا پیچ پڑا؟ قیاس ایسا چاہتا ہے کہ تمہارا آدمی جو ڈاک گھر گیا، اوس کو خطوں کے بکس میں ڈال دیا۔ ڈاک کے کارپردازوں نے غور نہ کی اور اوس کو بیرنگ خطوں کی ڈاک میں بھیج دیا۔

وہ صاحب جو میرے عرف سے آشنا اور میرے نام سے بیزار ہیں یعنی منشی بھگوان پرشاد، مثل خوان، میرا سلام قبول کریں۔

۲۸ جولائی سنہ ۱۸۵۸ع۔

غالب۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.