
Глава 5 из 9
To Mir Mehdi Majrooh: Letters 1–24
میر مہدی مجروح کے نام: خط ۱ تا ۲۴
میر مہدی حسین ’’مجروح‘‘
خط ۱
میاں،
آج یکشنبے کا دن، ساتویں فروری کی اور شاید بائیسویں جمادی الثانی کی ہے۔ دوپہر کے وقت شیخ مشرف علی، رہنے والے ’’اُستا حامد کے کوچے‘‘ کے، میرے پاس آئے اور اونھوں نے تمھارا خط، لکھا ہوا ۱۵ جمادی الثانی کا، دیا۔ ڈاک کا خط ہرگز مجھ تک نہیں پہنچا؛ اور نہ میں شہر سے کہیں گیا۔ جہاں رہتا تھا وہیں ہوں۔ خدا جانے، وہ خط مسترد کیوں ہوا۔ بھلا، یہ ہوسکتا ہے کہ تمھارا خط آوے اور میں پھیر دوں۔ تم خود کہتے ہو کہ اوس پر یہ لکھا ہوا آیا کہ مکتوب اِلیہ یہاں نہیں ہے۔ میں ہوتا اور یہ لکھتا کہ میں نہیں ہوں۔ آگرے اور الور اور کول سے برابر خط چلے آتے ہیں۔
تمھاری والدہ کا مرنا سن کر مجھ کو بڑا غم ہوا۔ خدا تم کو صبر دے اور اوس عفیفہ کو بخشے۔ میرا حقیقی بھائی میرزا یوسف خاں دیوانہ بھی مر گیا۔
کیسا پنسن اور کہاں اوس کا ملنا! یہاں جان کے لالے پڑے ہیں۔
ہے موج زن اِک قلزم خوں، کاش یہی ہوآتا ہے، ابھی دیکھیے، کیا کیا مرے آگے؟
اگر زندگی ہے اور پھر مل بیٹھیں گے، تو کہانی کہی جائے گی۔ تم کہتے ہو کہ آیا چاہتا ہوں۔ اگر آؤ، تو بے ٹکٹ کے نہ آنا۔ میر احمد علی صاحب کو لکھتے ہو کہ یہاں ہیں۔ مجھ کو نہیں معلوم کہ کہاں ہیں؛ مجھ سے ملتے تو اچھا کرتے۔ میں مختفی نہیں ہوں، روپوش نہیں ہوں۔ حکام جانتے ہیں کہ یہ یہاں ہے؛ مگر نہ بازپرس و گیر و دار میں آیا ہوں، نہ خود اپنی طرف سے قصد ملاقات کا کیا ہے۔ با اینہمہ، ایمن بھی نہیں ہوں۔ دیکھیے، انجام کار کیا ہے؟
نثر کیا لکھوں گا اور نظم کیا کہوں گا؟ وہ نثر جو تم دیکھ گئے ہو، وہی دو چار ورق اور بھی سیاہ کیے گئے ہیں۔ بھیجنا ممکن نہیں۔ جب آؤ گے اور مجھ کو جیتا پاؤ گے، تو دیکھ لو گے۔
’’میکش‘‘ چین میں ہے، باتیں بناتا پھرتا ہے۔ ’’سلطان جی‘‘ میں تھا؛ اب شہر میں آ گیا ہے۔ دو تین بار میرے پاس بھی آیا۔ پانچ سات دن سے نہیں آیا۔ کہتا تھا کہ بی بی کو اور لڑکے کو بہرام پور، میر وزیر علی کے پاس، بھیج دیا ہے۔ خود یہاں لوٹ کی کتابیں خریدتا پھرتا ہے۔
میرن صاحب کی خیر و عافیت معلوم ہوئی، مگر نہ معلوم ہوا کہ وہ وہاں مع قبائل ہیں یا تنہا ہیں۔ اگر تنہا ہیں، تو قبائل کہاں ہیں؟
تمھارے چھوٹے بھائی کو تو میں جانتا ہوں کہ وہ یہاں ہیں اور اچھی طرح ہیں۔ بڑے بھائی کا حال کیوں نہ لکھا؟ یقین ہے کہ وہ اور تم یکجا ہو۔ گو اون کو ربط مجھ سے زیادہ نہیں، لیکن فرزند ہونے میں تم اور وہ برابر ہو۔
خط بھیجنے میں تردد نہ کرو، اور ڈاک میں بے تامل بھیجا کرو۔ زیادہ، زیادہ۔
یکشنبہ، ہفتم فروری سنہ ۱۸۵۸ع، وقت رسیدن نامہ۔
غالب۔
خط ۲
صاحب،
دو خط تمھارے بہ سبیل ڈاک آئے۔ کل دوپہر ڈھلے ایک صاحب اجنبی، سانولے سلونے، ڈاڑھی منڈے، بڑی بڑی آنکھوں والے، تشریف لائے۔ تمھارا خط دیا۔ صرف اون کی ملاقات کی تقریب میں تھا۔ بارے، اون سے اِسم شریف پوچھا گیا۔ فرمایا: اشرف علی۔ قومیت کا اِستفسار ہوا۔ معلوم ہوا سید ہیں۔ پیشہ پوچھا، حکیم نکلے۔ یعنی حکیم میر اشرف علی۔ میں اون سے مل کر خوش ہوا۔ خوب آدمی ہیں اور کام کے آدمی ہیں۔
کتنے اوچھے ہو! ’’مصطلحات الشعرا، مصطلحات الشعرا‘‘! بھائی، وہ کتاب تمھاری ہے؛ میں نے غصب نہیں کی۔ میرے پاس مستعار ہے؛ دیکھ چکوں گا، بھیج دوں گا۔ تقاضا کیوں کرو؟ میاں محمد افضل تصویر کھینچ رہے ہیں، جلدی نہ کرو۔ دیر آید درست آید۔
سرفراز حسین اور میرن صاحب اور میر نصیرالدین کو دعائیں۔
صبح چہارشنبہ، ہفتم رمضان، ہشتم مارچ۔
غالب۔
خط ۳
کیوں یار، کیا کہتے ہو؟ ہم کچھ آدمی کام کے ہیں یا نہیں؟ تمھارا خط پڑھ کر دو سو بار یہ شعر پڑھا:
وعدۂ وصل چوں شود نزدیکآتشِ شوق تیزتر گردد
کلو کو مولوی مظہر علی صاحب کے پاس بھیج کر کہلا بھیجا کہ آپ کہیں جائیے گا نہیں؛ میں آتا ہوں۔ بھلا بھائی، اچھی حکمت کی۔ کیا وہ میرے بابا کے نوکر تھے کہ میں اون کو بلاتا؟ اونھوں نے جواب میں کہلا بھیجا کہ آپ تکلیف نہ کریں، میں حاضر ہوتا ہوں۔ دو گھڑی کے بعد وہ آئے۔ اِدھر کی بات، اودھر کی بات، کوئی انگریزی کاغذ دکھایا، کوئی فارسی خط پڑھوایا۔ ’اجی کیوں حضرت! آپ میرن صاحب کو نہیں بلاتے؟‘ ’صاحب، میں تو اون کو لکھ چکا ہوں کہ تم چلے آؤ اور ایک مقام کا اون کو پتا لکھا ہے کہ وہاں ٹھہر کر مجھ کو اِطلاع کرو، میں شہر میں بلا لوں گا‘۔ ’صاحب، اب وہ ضرور آئیں گے‘۔ آخرکار، اون سے اِجازت لے کر، اب تم کو لکھتا ہوں کہ اون سے مختصر یہ کلمہ کہ دو کہ ’’بھائی، یہ تو مبالغہ ہے کہ روٹی وہاں کھاؤ تو پانی یہاں پیو۔ یہ کہتا ہوں کہ عید وہاں کرو تو باسی عید یہاں کرو‘‘۔
یہ میرا حال سنو کہ بےرزق جینے کا ڈھب مجھ کو آ گیا ہے۔ اِس طرف سے خاطر جمع رکھنا۔ رمضان کا مہینا روزہ کھا کھا کر کاٹا۔ آیندہ خدا رزاق ہے۔ کچھ اور کھانے کو نہ ملا تو غم تو ہے۔ بس صاحب، جب ایک چیز کھانے کو ہوئی، اگرچہ غم ہی ہو، تو پھر کیا غم ہے؟
میر سرفراز حسین کو میری طرف سے گلے لگانا اور پیار کرنا۔ میر نصیرالدین کو دعا کہنا اور شفیع احمد صاحب کو اور میر احمد علی صاحب کو سلام کہنا۔ میرن صاحب کو، نہ سلام نہ دعا، یہ خط پڑھا دو اور اِدھر کو روانا کرو۔
کیا خوب بات یاد آئی ہے! کیوں وہ شہر سے باہر ٹھہریں اور کیوں کسی کے بلانے کی راہ دیکھیں؟ شکرم میں، کرانچی میں، چوپہیے میں، یعنی ڈاک میں آئیں، بلی ماروں کے محلے میں میرے مکان پر اوتر پڑیں۔ مرزا قربان بیگ کے مکان میں مولوی مظہر علی رہتے ہیں۔ میرے اون کے مسکن میں ایک میر خیراتی کی حویلی درمیان ہے۔ ڈاک کو زنہار کوئی نہیں روکتا۔ یہ صلاح تو ایسی ہے کہ اگر اِس خط کے پہنچتے ہی چل دیں تو عید بھی یہیں کریں۔
[مئی ۱۸۵۸ع]
خط ۴
خوبی دین و دنیا روزی باد۔
میر اشرف علی صاحب نے تمھارا خط دیا۔ وہ، جو تم نے لکھا تھا کہ تیرا خط میرے نام کا میرے ہم نام کے ہات جا پڑا؛ صاحب، قصور تمھارا ہے۔ کیوں ایسے شہر میں رہتے ہو جہاں دوسرا میر مہدی بھی ہو؟ مجھ کو دیکھو کہ میں کب سے دلی میں رہتا ہوں؛ نہ کوئی اپنا ہم نام ہونے دیا، نہ کوئی اپنا ہم عرف بننے دیا، نہ اپنا ہم تخلص بہم پہنچایا۔ فقط۔
پنسن کی صورت یہ ہے کہ کوتوال سے کیفیت طلب ہوئی۔ اوس نے اچھی لکھی۔ کل ہفتے کا دن، ساتویں اگست کی، مجھ کو اجرٹن صاحب بہادر نے بلایا۔ کچھ سہل سوال مجھ سے کیے۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنخواہ ملے اور جلد ملے۔ تردد اگر ہے تو اِس میں ہے کہ ۱۵ مہینے پچھلے بھی ملتے ہیں یا صرف آیندہ کو مقرر ہوتی ہے۔ غلام فخرالدین خاں کی دو ایک روبکاریاں ہوئی ہیں۔ صورت اچھی ہے۔ خدا چاہے، تو رہائی ہو جائے۔
صاحب، ہم نے گھبرا کر اوس تحریر فارسی کو تمام کیا۔ دفتر بند کر دیا اور یہ لکھ دیا کہ یکم اگست سنہ ۱۸۵۸ع تک میں نے ۱۵ مہینے کا حال لکھا اور آیندہ لکھنا موقوف کیا۔ تم کو آگے اِس سے لکھا تھا کہ تم اپنے اوراق کا فقرۂ اخیر لکھ بھیجو۔ اب پھر تم کو لکھا جاتا ہے کہ جلد لکھو، تاکہ میں اوس کے آگے کی عبارت تم کو لکھ کر بھیج دوں۔ ہاں صاحب، میر اشرف علی صاحب بھی یہی فرماتے تھے کہ میر سرفراز حسین پانی پت آیا چاہتے ہیں۔ اگر آ جائیں تو مجھ کو اِطلاع کرنا۔
[۸ اگست ۱۸۵۸ع]
خط ۵
میاں،
تم کو پنسن کی کیا جلدی ہے؟ ہر بار پنسن کو کیوں پوچھتے ہو؟ پنسن جاری ہو، اور میں تم کو اِطلاع نہ دوں؟ ابھی تک کچھ حکم نہیں۔ دیکھوں، کیا حکم ہو اور کب ہو؟ میرن صاحب چھپور پہنچے؛ تم شاپوری بتاتے ہو۔ شاید سچ یہی ہو۔ ہاں، میر محمود علی اور یہ، بیربر اور ابوالفضل تو تھے؛ مگر دیکھا چاہیے۔ درخت جگہ سے اوکھڑ کر بہ دشواری جمتا ہے۔ خلاصہ میری فکر کا یہ ہے کہ اب بچھڑے ہوئے یار کہیں قیامت ہی کو جمع ہوں، تو ہوں۔ سو وہاں کیا خاک جمع ہوں گے؟ سنّی الگ، شیعہ الگ؛ نیک جدا، بد جدا۔
میر سرفراز حسین کو دعا۔ میر نصیرالدین کو پہلے بندگی، پھر دعا۔
کتاب کا نام ’’دستنبو‘‘ رکھا گیا۔ آگرے میں چھاپی جاتی ہے۔ تم سے تمھارے ہات کے اوراق لکھے لوں گا، تب ایک کتاب تم کو دوں گا۔
روزِ ورودِ نامہ، پنجشنبہ، ۹ ستمبر سنہ ۱۸۵۸ع۔
از غالب۔
خط ۶
سید صاحب،
تمھارے خط کے آنے سے وہ خوشی ہوئی جو کسی دوست کے دیکھنے سے ہو؛ لیکن زمانہ وہ آیا ہے کہ ہماری قسمت میں خوشی ہے ہی نہیں۔ خط سے معلوم ہوا، تو کیا معلوم ہوا کہ ڈھائی سو دیے۔ ان دنوں میں ڈھائی روپئے بھی بھاری ہیں؛ ڈھائی سو کیسے؟ سبحان اللّٰہ! باوجود اِس تہیدستی کے پھر بھی کہنا پڑتا ہے کہ روپئے گئے، بلا سے؛ آبرو بچی، جان بچی۔ اب میر سرفراز حسین کو چاہیے کہ الور چلے جائیں۔ شاید نئے بندوبست میں کوئی صورت نوکری کی نکل آئے۔ میری دعا کہو اور یہ کہو کہ اپنا حال اور اپنا قصہ، اپنے ہات سے مجھ کو لکھیں۔ پنسن کا حال کچھ معلوم ہوا ہو، تو کہوں۔ حاکم خط کا جواب نہیں لکھتا۔ عملے میں ہرچند تفحص کیجیے کہ ہمارے خط پر کیا حکم ہوا، کوئی کچھ نہیں بتاتا۔ بہر حال، اِتنا سنا ہے اور دلائل اور قرائن سے معلوم ہوا ہے کہ میں بےگناہ قرار پایا ہوں، اور ڈپٹی کمشنر بہادر کی راے میں پنسن پانے کا اِستحقاق رکھتا ہوں۔ بس، اِس سے زیادہ نہ مجھے معلوم، نہ کسی کو خبر۔
میاں، کیا باتیں کرتے ہو؟ میں کتابیں کہاں سے چھپواتا؟ روٹی کھانے کو نہیں، شراب پینے کو نہیں۔ جاڑے آتے ہیں، لحاف توشک کی فکر ہے؛ کتابیں کیا چھپواؤں گا؟ منشی اُمیدسنگھ، اِندور والے، دلی آئے تھے۔ سابقۂ معرفت مجھ سے نہ تھا۔ ایک دوست اون کو میرے گھر لے آیا۔ اونھوں نے وہ نسخہ دیکھا۔ چھپوانے کا قصد کیا۔ آگرے میں میرا شاگرد رشید منشی ہر گوپال ’’تفتہ‘‘ تھا۔ اوس کو میں نے لکھا۔ اوس نے اِس اِہتمام کو اپنے ذمے لیا۔ مسودہ بھیجا گیا۔ ’’۸ آنے‘‘ فی جلد قیمت ٹھہری۔ پچاس جلدیں منشی اُمیدسنگھ نے لیں۔ پچیس روپئے چھاپےخانے میں بہ طریق ہنڈوی بھجوا دیے۔ صاحب مطبع نے بشمولِ سعیِ منشی ہر گوپال ’’تفتہ‘‘ چھاپنا شروع کیا۔ آگرے کے حکام کو دکھایا۔ اِجازت چاہی۔ حکام نے بہ کمالِ خوشی اِجازت دی۔ پانسو جلد چھاپی جاتی ہے۔ اوس پچاس جلد میں شاید پچیس جلد منشی اُمیدسنگھ مجھ کو دیں گے۔ میں عزیزوں کو بانٹ دوں گا۔ پرسوں خط ’’تفتہ‘‘ کا آیا تھا، وہ لکھتے ہیں کہ ایک فرما چھپنا باقی رہا ہے۔ یقین ہے کہ اِسی اکتوبر میں قصہ تمام ہو جائے۔ بھائی، میں نے ۱۱ مئی سنہ ۱۸۵۷ع سے اِکتیسویں جولائی سنہ ۱۸۵۸ع تک کا حال لکھا ہے اور خاتمے میں اِس کی اِطلاع دے دی ہے۔ امین الدین خاں کی جاگیر کے ملنے کا حال، اور بادشاہ کی روانگی کا حال، کیوں کر لکھتا؟ اون کو جاگیر اگست میں ملی۔ بادشاہ اکتوبر میں گئے۔ کیا کرتا اگر تحریر موقوف نہ کرتا؟ منشی اُمیدسنگھ اِندور جانے والے تھے۔ اگر ختم کر کر مسودہ اون کے سامنے آگرے نہ بھیج دیتا تو پھر چھپواتا کون؟
اہل خطہ کا حال از روے تفصیل مجھ کو کیوں کر معلوم ہو؟ سنتا ہوں کہ دعوی خون پیش کیا چاہتے ہیں؛ سودا ہوگیا ہے۔ مسودہ ہو رہا ہے۔ بلنک صاحب کے چھپور میں ٹکڑے اوڑ گئے؛ گورنر مدعی نہ ہوئے، قصاص نہ لیا۔ اب ایک ہندستانی کے خون کا قصاص کون لے گا؟
اے سبزۂ سر راہ! از جور پا چہ نالی؟در کیش روزگاران گل خوں بہا ندارد۔
خیر، جو ہونا ہے ہو رہے گا۔ بعد وقوع، ہم بھی سن لیں گے۔ تم اِتنا کیوں دل جلا رہے ہو۔
[اکتوبر ۱۸۵۸ع]
خط ۷
بھائی،
ایک خط تمھارا پہلے پہنچا اور ایک خط کل آیا۔ پہلے خط میں کوئی امر جواب طلب نہ تھا۔ اگرچہ کل کے خط میں بھی صرف کتابوں کی رسید تھی، لیکن چونکہ دو امر لکھنے کے لائق تھے، اِس واسطے ایک لفافہ تمھاری پسند کا تمھارے نذر کرنا پڑا۔ پہلا امر یہ کہ آج میر نصیرالدین دو پہر کو میرے پاس آئے تھے۔ اون کو دیکھ کر دل خوش ہوا۔ تم نے بھی خط میں لکھا تھا کہ میر سرفراز حسین الور گئے تھے، اور میر نصیرالدین بھی کہتے تھے کہ میں اور وہ ایک دن پانی پت سے چلے؛ وہ اودھر گئے، میں اِدھر آیا۔ ظاہرا، پارسل کے پہنچنے سے پہلے وہ روانا ہوئے ہیں۔ اون کی کتاب رہ گئی۔ اب اون تک کیوں کر پہنچے گی؟ خدا خیر کرے۔
میاں لڑکے، سنو! میر نصیرالدین اولاد میں سے ہیں شاہ محمد اعظم صاحب کے۔ وہ خلیفہ تھے مولوی فخرالدین صاحب کے؛ اور میں مرید ہوں اوس خاندان کا۔ اِس واسطے میر نصیرالدین کو پہلے بندگی لکھتا ہوں اور پھر تمھارے علاقے سے دعا۔ صوفیِ صافی ہوں، اور حضرات صوفیہ حفظ مراتب ملحوظ رکھتے ہیں:
گر حفظ مراتب نکنی، زندیقی۔
یہ جواب ہے تمھارے اوس سوال کا کہ جو پہلے خط میں تم نے لکھا تھا۔
اب کے خط میں تم نے میرن صاحب کی خیر و عافیت کیوں نہ لکھی؟ یہ بات اچھی نہیں۔ میں تو ڈر گیا کہ اگر تمھارے خط میں اون کو دعا سلام لکھوں گا تو اون سے تم کاھے کو کہو گے۔ پیرزادہ صاحب یعنی میر نصیرالدین نے اون کی بندگی مجھ سے کہی ہے۔ واسطے خدا کے میری دعا اون کو کہ دینا۔
خط ۸
واہ واہ! سید صاحب،
تم تو بڑی عبارت آرائیاں کرنے لگے، نثر میں خودنمائیاں کرنے لگے۔ کئی دن سے تمھارے خط کے جواب کی فکر میں ہوں؛ مگر جاڑے نے بے حس و حرکت کر دیا ہے۔ آج جو بہ سبب ابر کے وہ سردی نہیں، تو میں نے خط لکھنے کا قصد کیا ہے۔ مگر حیران ہوں کہ کیا سحرسازی کروں، جو سخن پردازی کروں؟ بھائی، تم تو اُردو کے مرزا ’’قتیل‘‘ بن گئے ہو۔ اُردو بازار میں نہر کے کنارے رہتے رہتے رود نیل بن گئے ہو۔ کیا ’’قتیل‘‘ کیا رود نیل، یہ سب ہنسی کی باتیں ہیں۔ لو، سنو! اب تمھاری دلی کی باتیں ہیں۔ چوک میں بیگم کے باغ کے دروازے کے سامنے، حوض کے پاس، جو کنواں تھا اوس میں سنگ و خشت و خاک ڈال کر بند کر دیا۔ بلی ماروں کے دروازے کے پاس کی کئی دکانیں ڈھا کر راستہ چوڑا کرلیا۔ شہر کی آبادی کا حکم، خاص و عام، کچھ نہیں۔ پنسن داروں سے حاکموں کا کام کچھ نہیں۔ تاج محل؛ مرزا قیصر؛ مرزا جواں بخت کے سالے ولایت علی بیگ چھپوری کی زوجہ؛ اِن سب کی اِلہ آباد سے رہائی ہوگئی۔ بادشاہ، مرزا جواں بخت، مرزا عباس، شاہ زینت محل، کلکتے پہنچے اور وہاں سے جہاز پر چڑھائی ہوگی۔ دیکھیے کیپ میں رہیں یا لندن جائیں۔ خلق نے از روے قیاس، جیسا کہ دلی کے خبرتراشوں کا دستور ہے، یہ بات اوڑا دی ہے؛ سو سارے شہر میں مشہور ہے کہ جنوری، شروع سال، سنہ ۱۸۵۹ع میں لوگ عموماً شہر میں آباد کیے جائیں گے اور پنسن داروں کو جھولیاں بھر بھر روپئے دیے جائیں گے۔
خیر، آج بدھ کا دن، ۲۲ دسمبر کی ہے۔ اب شنبے کو ’’بڑا دن‘‘، اور اگلے شنبے کو جنوری کا پہلا دن ہے۔ اگر جیتے ہیں تو دیکھ لیں گے کہ کیا ہوا۔ تم اِس خط کا جواب لکھو اور شتاب لکھو۔
میری جان، سرفراز حسین، تم کیا کر رہے ہو اور کس خیال میں ہو؟ اب صورت کیا ہے اور آیندہ عزیمت کیا ہے؟
اشرف علی صاحب، آپ تو دائر سائر تھے۔ پانی پت میں مقیم کیوں کر ہوگئے؟ کچھ لکھیے تو میں جانوں۔
میر نصیرالدین کو صرف دعا اور اِشتیاق دیدار۔
’میرن صاحب کہاں ہیں؟ کوئی جائے اور بلا لائے‘۔ ’حضرت، آئے‘۔ ’سلام علیکم، مزاج مبارک‘۔ کہیے، مولوی مظہر علی نے آپ کے خط کا جواب بھیجا یا نہیں؟ اگر بھیجا، تو کیا لکھا؟، میں جانتا ہوں کہ میر اشرف علی صاحب اور میر سرفراز حسین کم، اور یہ ستم پیشہ میر مہدی بہت، آپ کی جناب میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ کیا کروں! میں کہوں، تم کہیں۔ وہاں ہوتا تو دیکھتا کہ کیوں کر تم سے بےادبیاں کر سکتے ہیں۔ اِن شاءاللّٰہ تعالیٰ، جب اِکٹھا ہوں گے، تو اِنتقام لیا جائے گا۔ ہے ہے! کیوں کر اِکٹھا ہوں گے؟ دیکھیے، زمانہ اور کیا دکھائے گا۔ اللّٰہ! اللّٰہ! اللّٰہ!
[بدھ، ۲۲ دسمبر ۱۸۵۸ع]
خط ۹
سید صاحب،
نہ تم مجرم، نہ میں گنہگار؛ تم مجبور، میں ناچار۔ لو، اب کہانی سنو؛ میری سرگزشت، میری زبانی، سنو۔ نواب مصطفیٰ خاں، بہ میعاد سات برس کے، قید ہوگئے تھے؛ سو اون کی تقصیر معاف ہوئی اور اون کو رہائی ملی۔ صرف رہائی کا حکم آیا ہے۔ جہانگیر آباد کی زمینداری اور دلی کی آملاک اور پنسن کے باب میں ہنوز حکم کچھ نہیں ہوا۔ ناچار وہ رہا ہو کر، میرٹھ ہی میں ایک دوست کے مکان میں، ٹھہرے ہیں۔ میں بمجرد اِستماع اِس خبر کے ڈاک میں بیٹھ کر میرٹھ گیا۔ اُون کو دیکھا، چار دن وہاں رہا؛ پھر ڈاک میں اپنے گھر آیا۔ تاریخ آنے جانے کی یاد نہیں؛ مگر ہفتے کو گیا، منگل کو آیا۔ آج بدھ، دوم فروری ہے۔ مجھ کو آئے ہوئے نواں دن ہے۔ اِنتظار میں تھا کہ تمھارا خط آئے، تو اوس کا جواب لکھا جائے۔ آج صبح کو تمھارا خط آیا؛ دوپہر کو میں جواب لکھتا ہوں۔
روز اِس شہر میں اِک حکم نیا ہوتا ہےکچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ کیا ہوتا ہے
میرٹھ سے آکر دیکھا کہ یہاں بڑی شدت ہے اور یہ حالت ہے کہ گوروں کی پاسبانی پر قناعت نہیں ہے۔ لاہوری دروازے کا تھانےدار مونڈھا بچھا کر سڑک پر بیٹھتا ہے۔ جو باہر سے، گورے کی آنکھ بچا کر، آتا ہے اوس کو پکڑ کر حوالات میں بھیج دیتا ہے۔ حاکم کے یہاں سے پانچ پانچ بید لگتے ہیں؛ یا دو روپیہ جرمانہ لیا جاتا ہے، آٹھ دن قید رہتا ہے۔ اِس سے علاوہ سب تھانوں پر حکم ہے کہ دریافت کرو: کون بےٹکٹ مقیم ہے اور کون ٹکٹ رکھتا ہے۔ تھانوں میں نقشے مرتب ہونے لگے۔ یہاں کا جماعہ دار میرے پاس بھی آیا۔ میں نے کہا: بھائی، تو مجھے نقشے میں نہ رکھ۔ میری کیفیت کی عبارت الگ لکھ۔ عبارت یہ کہ اسد اللّٰہ خاں پنسن دار سنہ ۱۸۵۰ عیسوی سے حکیم پٹیالے والے کے بھائی کی حویلی میں رہتا ہے۔ نہ کالوں کے وقت میں کہیں گیا، نہ گوروں کے زمانے میں نکلا اور نہ نکالا گیا۔ کرنیل برون صاحب بہادر کے زبانی حکم پر اوس کی اِقامت کا مدار ہے۔ اب تک کسی حاکم نے وہ حکم نہیں بدلا۔ اب حاکم وقت کو اِختیار ہے۔ پرسوں یہ عبارت جماعہ دار نے محلے کے نقشے کے ساتھ کوتوالی میں بھیج دی ہے۔ کل سے یہ حکم نکلا کہ یہ لوگ شہر سے باہر مکان دکان کیوں بناتے ہیں؟ جو مکان بن چکے ہیں اونھیں ڈھا دو اور آیندہ کو ممانعت کا حکم سنا دو۔ اور یہ بھی مشہور ہے کہ پانچ ہزار ٹکٹ چھاپے گئے ہیں۔ جو مسلمان شہر میں اِقامت چاہے، بقدر مقدور نذرانہ دے۔ اوس کا اندازہ قرار دینا حاکم کی راے پر ہے۔ روپیہ دے اور ٹکٹ لے۔ گھر برباد ہو جائے، آپ شہر میں آباد ہو جائے۔ آج تک یہ صورت ہے۔ دیکھیے، شہر کے بسنے کی کون مہورت ہے؟ جو رہتے ہیں وہ بھی اِخراج کیے جاتے ہیں؛ یا جو باہر پڑے ہوئے ہیں وہ شہر میں آتے ہیں؟ الملک للّٰہ و الحکم للّٰہ۔
نور چشم میر سرفراز حسین اور برخوردار میر نصیرالدین کو دعا؛ اور جناب میرن صاحب کو سلام بھی اور دعا بھی، اِس میں سے وہ جو چاہیں قبول کرلیں۔
[بدھ، ۲ فروری ۱۸۵۹ع]
خط ۱۰
میری جان،
خدا تجھ کو ایک سو بیس برس کی عمر دے۔ بوڑھا ہونے آیا، ڈاڑھی میں بال سفید آ گئے؛ مگر بات سمجھنی نہ آئی۔ پنسن کے باب میں اولجھے ہو اور کیا بیجا اولجھے ہو۔ یہ تو جانتے ہو کہ دلی کے سب پنسن داروں کو مئی سنہ ۱۸۵۷ع سے پنسن نہیں ملا۔ یہ، فروری سنہ ۱۸۵۹ع، بائیسواں مہینا ہے۔ چند اشخاص کو اِس بائیس مہینے میں سال بھر کا روپیہ بہ طریق مدد خرچ مل گیا۔ باقی چڑھے ہوئے روپئے کے باب میں اور آیندہ ماہ بہ ماہ ملنے کے واسطے ابھی کچھ حکم نہیں ہوا۔ تو اب اپنے سوال کو یاد کرو کہ اِس واقعے سے اوس کو کچھ نسبت ہے یا نہیں؟ یہ حضرت کا سوال ’’امیر خسرو‘‘ کی انملی ہے:
چیل بسولا لے گئی، تو کاھے سے پھٹکوں راب؟
علی بخش خاں پچاس روپیہ مہینا پاتے تھے؛ بائیس مہینے کے گیارہ سو ہوتے ہیں، اون کو چھ سو روپئے مل گئے۔ باقی روپیہ چڑھا رہا؛ آیندہ ملنے میں کچھ کلام نہیں۔ غلام حسن خاں سو روپئے مہینے کا پنسن دار؛ بائیس مہینے کے بائیس سو روپئے ہوتے ہیں، اوس کو بارہ سو ملے۔ دیوان کشن لال کا ڈیڑھ سو روپیہ مہینا؛ بائیس مہینے کے تین ہزار تین سو ہوتے ہیں؛ اوس کو اٹھارہ سو ملے۔ مثلاً جماعہ دار، دس روپئے مہینے کا سکھ لمبر، سال بھر کے ایک سو بیس لے آیا۔ اِسی طرح پندرہ سولہ آدمیوں کو ملا ہے؛ آیندہ کے واسطے کسی کو کچھ حکم نہیں۔ مجھ کو پور مدد خرچ نہیں ملا۔ جب کئی خط لکھے تو اخیر خط پر صاحب کمشنر بہادر نے حکم دیا کہ سائل کو بہ طریق مدد خرچ سو روپئے مل جائیں۔ میں نے وہ سو روپئے نہ لیے اور پھر صاحب کمشنر بہادر کو لکھا کہ میں باسٹھ روپئے آٹھ آنے مہینا پانے والا ہوں، سال بھر کے ساڑھے سات سو روپئے ہوتے ہیں۔ سب پنسن داروں کو سال سال بھر کا روپیہ ملا، مجھ کو سو روپئے کیسے ملتے ہیں؟ مثل اوروں کے مجھے بھی سال بھر کا روپیہ مل جائے۔ ابھی اِس میں کچھ جواب نہیں ملا۔
آبادی کا یہ رنگ ہے کہ ڈھنڈھورا پٹوا کر، ٹکٹ چھپوا کر، اجرٹن صاحب بہادر بہ طریق ڈاک کلکتے چلے گئے۔ دلی کے حمقا، جو باہر پڑے ہوئے ہیں، منہ کھول کر رہ گئے۔ اب جب وہ معاودت کریں گے تب شاید آبادی ہوگی، یا کوئی اور نئی صورت نکل آئے۔
میر سرفراز حسین اور میر نصیرالدین اور میرن صاحب کو دعائیں پہنچیں۔
[فروری ۱۸۵۹ع]
خط ۱۱
میاں،
کیوں تعجب کرتے ہو یوسف مرزا کے خطوط کے نہ آنے سے؟ وہ وہاں اچھی طرح ہے؛ حاکموں کے ہاں آنا جانا، نوکری کی تلاش۔ حسین مرزا صاحب بھی وہیں ہیں۔ وہاں کے حکام سے ملتے ہیں؛ وہاں پنسن کی درخواست کر رہے ہیں۔ اِن دونوں صاحبوں کے ہر ہفتے میں ایک دو خط مجھ کو آتے ہیں۔ جواب بھیجتا ہوں۔ بھائی، لکھنؤ میں وہ امن و امان ہے کہ نہ ہندستانی عملداری میں ایسا امن و امان ہوگا، نہ اِس فتنہ و فساد سے پہلے انگریزی عملداری میں یہ چین ہوگا۔ اُمرا اور شرفا کی حکام سے ملاقاتیں، بقدرِ رتبہ تعظیم و توقیر، پنسن کی تقسیم علی العموم، آبادی کا حکم عام؛ لوگوں کو کمال لطف اور نرمی سے آباد کرتے جاتے ہیں۔
اور ایک نقل سنو، وہاں کے صاحب کمشنر بہادر اعظم نے جو دیکھا کہ عملے میں ہنود بھرے ہوئے ہیں، اہلِ اِسلام نہیں ہیں؛ ہنود کو اور علاقوں پر بھیج دیا اور اون کی جگہ مسلمانوں کو بھرتی کیا۔ یہ تو آفت دلّی ہی پر ٹوٹ پڑی ہے۔ لکھنؤ کے سوا اور سب شہروں میں عملداری کی وہ صورت ہے جو غدر سے پہلے تھی۔ اب یہاں ٹکٹ چھاپے گئے ہیں۔ میں نے بھی دیکھے۔ فارسی عبارت یہ ہے:
’’ٹکٹِ آبادی درونِ شہر دہلی بہ شرطِ اِدخالِ جرمانہ‘‘
مقدار روپئے کی حاکم کی راے پر ہے۔ آج پانچ ہزار ٹکٹ چھپ چکا ہے۔ کل، اِتوار، یوم التعطیل ہے۔ پرسوں، دوشنبے، سے دیکھیے یہ کاغذ کیوں کر تقسیم ہوں۔
یہ تو کیفیت عموماً شہر کی ہے۔ خصوصاً میرا حال سنو: بائیس مہینے کے بعد پرسوں کوتوال کو حکم آیا ہے کہ اسد اللّٰہ خاں پنسن دار کی کیفیت لکھو کہ وہ بےمقدور اور محتاج ہے یا نہیں۔ کوتوال نے موافق ضابطے کے مجھ سے چار گواہ مانگے ہیں۔ سو کل چار گواہ کوتوالی چبوترے جائیں گے اور میری بےمقدوری ظاہر کر آئیں گے۔ تم کہیں یہ نہ سمجھنا کہ بعد ثبوت مفلسی چڑھا ہوا روپیہ مل جائے گا اور آیندہ کو پنسن جاری ہو جائے گا۔ نہ صاحب، یہ تو ممکن ہی نہیں۔ بعدِ ثبوتِ اِفلاس مستحق ٹھہروں گا چھ مہینے کا یا برس دن کا روپیہ علی الحساب پانے کا۔
میرن صاحب جو بلائے گئے ہیں، اوس طلب کے جواب میں یہی کیوں نہیں لکھتے کہ ٹکٹ میرے نام کا حاصل کرکے بھیج دو، تو میں آؤں۔ دیکھو، اب دس پانچ دن میں سب حال کھلا جاتا ہے۔
میر سرفراز حسین کو دعا کہنا اور میری طرف سے گلے لگانا اور پیار کرنا۔ میر نصیرالدین کو دعا کہنا اور میرن صاحب کو مبارکباد کہنا۔
[فروری ۱۸۵۹ع]
خط ۱۲
میری جان،
سنو داستان۔ صاحب کمشنر بہادر دہلی، یعنی جناب سانڈرس صاحب بہادر نے مجھ کو بلایا۔ پنجشنبہ، ۲۴ فروری کو میں گیا۔ صاحب شکار کو سوار ہوگئے تھے۔ میں اولٹا پھر آیا۔ جمعہ، ۲۵ فروری کو گیا۔ ملاقات ہوئی۔ کرسی دی۔ بعد پرسشِ مزاج کے ایک خط انگریزی چار ورق کا اُٹھا کر پڑھتے رہے۔ جب پڑھ چکے تو مجھ سے کہا کہ یہ خط ہے مکلوڈ صاحب حاکم اکبرِ صدر بورڈ پنجاب کا۔ تمہارے باب میں لکھتے ہیں کہ اِن کا حال دریافت کر کے لکھو، سو ہم تم سے پوچھتے ہیں کہ تم ملکۂ معظمہ سے خلعت کیا مانگتے ہو؟ حقیقت کہی گئی۔ ایک کاغذ آمدِ ولایت لے گیا تھا، وہ پڑھوا دیا۔ پھر پوچھا کہ تم نے کتاب کیسی لکھی ہے؟ اوس کی حقیقت بیان کی۔ کہا: ایک مکلوڈ صاحب نے دیکھنے کو مانگی ہے، اور ایک ہم کو دو۔ میں نے عرض کیا: کل حاضر کرونگا۔ پھر پنسن کا حال پوچھا وہ بھی گزارش کیا۔ اپنے گھر آیا، اور خوش آیا۔
دیکھو، میر مہدی، حاکم پنجاب کو مقدمۂ ولایت کی کیا خبر؟ کتابوں سے کیا اِطلاع؟ پنسن کی پرسش سے کیا مدعا؟ یہ اِستفسار بحکمِ نواب گورنر جنرل بہادر ہوا ہے؛ اور یہ صورت مقدمۂ فتح و فیروزی ہے۔ غرض کہ دوسرے دن یکشنبہ، یوم التعطیل، تھا۔ میں اپنے گھر رہا۔ دوشنبہ، ۲۸ فروری کو گیا۔ باہر کے کمرے میں بیٹھ کر اِطلاع کروائی۔ کہا: اچھا، توقف کرو۔ بعد تھوڑی دیر کے گڑھ کپتان کی چٹھی آئی۔ سواری مانگی۔ جب سواری آگئی، باہر نکلے۔ میں نے کہا: وہ کتابیں حاضر ہیں۔ کہا: منشی جیون لال کو دے جاؤ۔ وہ اودھر سوار ہو گئے۔ میں اِدھر سوار ہو کر اپنے مکان پر آیا۔ سہ شنبہ، یکم مارچ کو پھر گیا۔ بہت اِستنباط اور اِختلاط سے باتیں کرتے رہے۔ کچھ سارٹیفکٹ گورنروں کے لے گیا تھا، وہ دکھائے۔ ایک خط، مکلوڈ صاحب بہادر کے نام کا، لے گیا تھا؛ وہ دے کر یہ اِستدعا کی کہ کتاب کے ساتھ یہ بھی بھیجا جائے۔ ”بہت اچھا“ کہہ کر رکھ لیا۔ پھر مجھ سے کہا کہ ہم نے تمہارے پنسن کے باب میں اجرٹن صاحب کو کچھ لکھا ہے۔ تم اون سے ملو۔ عرض کیا: ”بہتر“۔ اجرٹن صاحب بہادر، جیسا کہ تم کو معلوم تھا، گئے ہوئے تھے۔ کل وہ آئے؛ آج میں نے اون کو خط لکھا ہے۔ جیسا کہ وہ حکم دیں گے اوس کے موافق عمل کروں گا۔ جب بلائیں تب جاؤں گا۔ دیکھو، سید اسد اللّٰہ الغالب علیہ السلام کی مدد کو، کہ اپنے غلام کو کس طرح سے بچایا۔ بائیس مہینے تک بھوکا پیاسا بھی نہ رہنے دیا، پھر کس محکمے سے، کہ وہ آج سلطنت کا دھندہ ہے، میرے تفقد کا حکم بھجوایا؛ حکام سے مجھ کو عزت دلوائی۔ میرے صبر و ثبات کی داد ملی۔ صبر و ثبات بھی اوسی کا بخشا ہوا تھا۔ میں کیا اپنے باپ کے گھر سے لایا تھا؟
میر سرفراز حسین کو یہ خط پڑھا دینا اور اون کو اور نصیرالدین ”چراغ دہلی“ کو اور میرن صاحب کو دعا کہنا۔
[مارچ ۱۸۵۹ع]
خط ۱۳
میر مہدی، جیتے رہو،
آفریں، صد ہزار آفریں! اُردو عبارت لکھنے کا اچھا ڈھنگ پیدا کیا ہے، کہ مجھ کو رشک آنے لگا۔ سنو، دلی کے تمام مال و متاع و زر و گوہر کی لوٹ پنجاب احاطے میں گئی ہے۔ یہ طرز عبارت خاص میری دولت تھی؛ سو ایک ظالم، پانی پت، انصاریوں کے محلے کا رہنے والا، لوٹ لے گیا۔ مگر میں نے اوس کو بحل کیا؛ اللّٰہ برکت دے۔ میرے پنسن اور ولایت کے اِنعام کا حال، کما ہو حقّہٗ، سمجھ لو۔ و للرحمن ألطاف خفیہ۔ ایک طرز خاص پر تحریک ہوئی۔ نواب گورنر جنرل بہادر نے حاکم پنجاب کو لکھا کہ حاکم دہلی سے فلاں شخص کے پنسن کے کل چڑھے ہوئے روپئے کے یکمشت پانے کی، اور آیندہ ماہ بماہ ملنے کی، رپوٹ منگوا کر، اپنی منظوری لکھ کر، ہمارے پاس بھیج دو تاکہ ہم حکم منظوری دے کر تمہارے پاس بھیج دیں۔ سو یہاں اوس کی تعمیل بہ طرز مناسب ہوگئی۔ کم و بیش دو مہینے میں سب روپیہ مل جائے گا؛ اور ہاں، صاحب کمشنر بہادر نے یہ بھی کہا کہ اگر تم کو ضرورت ہو تو سو روپیہ خزانے سے منگوا لو۔ میں نے کہا: صاحب، یہ کیسی بات ہے کہ اوروں کو برس دن کا روپیہ ملا اور مجھے سو روپیہ دلواتے ہو؟ فرمایا کہ تم کو اب چند روز میں سب روپیہ اور اِجرا کا حکم مل جائے گا؛ اوروں کو یہ بات برسوں میں میسر آئے گی۔ میں چپ ہو رہا۔ آج دوشنبہ یکم شعبان اور ہفتم مارچ ہے۔ دو پہر ہو جائے تو اپنا آدمی مع رسید بھیج کر سو روپیہ منگا لوں۔ پر، یار، ولایت کے اِنعام کی توقع خدا ہی سے ہے۔ حکم تو اِسی حکم کے ساتھ اوس کی رپوٹ کرنے کا بھی آیا ہے مگر یہ بھی حکم ہے کہ اپنی رائے لکھو۔ اب دیکھیے یہ دو حاکم یعنی حاکم دہلی اور حاکم پنجاب اپنی رائے کیا لکھتے ہیں۔ پنجاب کے گورنر بہادر کا یہ بھی حکم ہے کہ ”دستنبو“ منگا کر اور تم دیکھ کر ہم کو لکھو کہ وہ کیسی ہے اور اوس میں کیا لکھا ہے۔ چنانچہ حاکم دہلی نے ایک کتاب، یہی کہہ کر، مجھ سے مانگی اور میں نے دی۔ اب دیکھوں، حاکم پنجاب کیا لکھتا ہے۔
اِس وقت تمہارا ایک خط اور یوسف مرزا کا ایک خط آیا، مجھ کو باتیں کرنے کا مزا ملا، تو دونوں کا جواب ابھی لکھ کر روانا کیا۔ اب میں روٹی کھانے جاتا ہوں۔ میر سرفراز حسین، میرن صاحب، میر نصیرالدین کو دعا۔
[۱۲۷۵ھ، م ۱۸۵۹ع]
خط ۱۴
سید،
خدا کی پناہ! عبارت لکھنے کا ڈھنگ ہات کیا آیا ہے کہ تم نے سارے جہاں کو سر پر اُٹھایا ہے۔ ایک غریب سید مظلوم کے چہرۂ نورانی پر مہاسا نکلا ہے؛ تم کو سرمایۂ آرایش گفتار بہم پہنچا ہے۔ میری اون کو دعا پہنچاؤ اور اون کی خیر و عافیت جلد لکھو۔
بھائی، یہاں کا نقشا ہی کچھ اور ہے؛ سمجھ میں کسی کی نہیں آتا کہ کیا طور ہے۔ اوائل ماہ انگریزی میں روک ٹوک کی شدت ہوتی تھی، آٹھویں دسویں سے وہ شدت کم ہو جاتی تھی۔ اِس مہینے میں برابر وہی صورت رہی ہے۔ آج ۲۷ مارچ کی ہے، پانچ چار دن مہینے میں باقی ہیں۔ آنچ ویسی ہی تیز ہے۔ خدا اپنے بندوں پر رحم کرے۔
مجھ پر میرے اللّٰہ نے ایک اور عنایت کی ہے اور اِس غمزدگی میں ایک گونہ خوشی، اور کیسی بڑی خوشی، دی ہے! تم کو یاد ہوگا کہ ایک ”دستنبو“ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر کی نذر بھیجی تھی۔ آج پانچواں دن ہے کہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر کا خط مقام اِلہآباد سے بہ سبیل ڈاک آیا۔ وہی کاغذ افشانی، وہی القاب قدیم، کتاب کی تعریف، عبارت کی تحسین، مہربانی کے کلمات۔ کبھی تم کو خدا یہاں لائے گا تو اوس کی زیارت کرنا۔ پنسن کے ملنے کا بھی حکم آج کل آیا چاہتا ہے اور یہ بھی توقع پڑی ہے کہ گورنر جنرل بہادر کے ہاں سے بھی کتاب کی تحسین اور عنایت کے مضامین کی تحریر آ جائے۔
میرن صاحب کو سلام پہلے لکھ چکا ہوں۔ میر سرفراز حسین اور میر نصیرالدین کو دعا کہہ دینا اور یہ خط دکھا دینا۔
[۲۷ مارچ ۱۸۵۹ع]
خط ۱۵
مار ڈالا یار، تیری جواب طلبی نے۔ اِس چرخ کجرفتار کا برا ہو۔ ہم نے اِس کا کیا بگاڑا تھا؟ ملک و مال و جاہ و جلال کچھ نہیں رکھتے تھے۔ ایک گوشہ و توشہ تھا۔ چند مفلس و بےنوا ایک جگہ فراہم ہو کر کچھ ہنس بول لیتے تھے۔
سو بھی نہ تو، کوئی دم، دیکھ سکا، اے فلک!اور تو یاں کچھ نہ تھا، ایک مگر دیکھنا۔
یاد رہے، یہ شعر خواجہ ”میر درد“ کا ہے۔ کل سے مجھ کو ”میکش“ بہت یاد آتا ہے۔ سو صاحب، اب تم ہی بتاؤ کہ میں تم کو کیا لکھوں؟ وہ صحبتیں اور تقریریں جو یاد کرتے ہو، اور تو کچھ بن نہیں آتی؛ مجھ سے خط پر خط لکھواتے ہو۔ آنسوؤں پیاس نہیں بجھتی۔ یہ تحریر تلافی اوس تقریر کی نہیں کر سکتی۔ بہر حال، کچھ لکھتا ہوں۔ دیکھو، کیا لکھتا ہوں!
سنو، پنسن کی رپوٹ کا ابھی کچھ حال نہیں معلوم۔ دیر آید درست آید۔
بھئی، میں تم سے بہت آزردہ ہوں۔ میرن صاحب کی تندرستی کے بیان میں نہ اِظہار مسرت، نہ مجھ کو تہنیت؛ بلکہ اِس طرح سے لکھا ہے کہ گویا اون کا تندرست ہونا تم کو ناگوار ہوا ہے۔ لکھتے ہو کہ میرن صاحب ویسے ہی ہو گئے جیسے آگے تھے؛ اچھلتے، کودتے پھرتے ہیں۔ اِس کے یہ معنے کہ: ہے ہے، کیا غضب ہوا کہ یہ کیوں اچھے ہو گئے؟ یہ باتیں تمہاری ہم کو پسند نہیں آتیں۔ تم نے ”میر“ کا وہ مقطع سنا ہوگا؛ بہ تغیر الفاظ لکھتا ہوں:
کیوں نہ ”میرن“ کو مغتنم جانوں؟دلی والوں میں اِک بچا ہے یہ۔
میر تقی کا مقطع یوں ہے:
”میر“ کو کیوں نہ مغتنم جانیں؟اگلے لوگوں میں اِک رہا ہے یہ۔
”میر“ کی جگہ ”میرن“ اور ”رہا“ کی جگہ ”بچا“۔ کیا اچھا تصرف ہے!
ارے میاں! تم نے کچھ اور بھی سنا؟ کل یوسف مرزا کا خط لکھنؤ سے آیا۔ وہ لکھتا ہے کہ نصیر خاں عرف نواب جان والد اون کا دائم الحبس ہو گیا۔ حیران ہوں کہ یہ کیا آفت آئی۔ یوسف مرزا تو جھوٹ کاہے کو لکھے گا۔ خدا کرے، اوس نے جھوٹ سنا ہو۔
لو بھئی، اب تم چاہو بیٹھے رہو، چاہو جاؤ اپنے گھر؛ میں تو روٹی کھانے جاتا ہوں۔ اندر باہر سب روزہدار ہیں؛ یہاں تک کہ بڑا لڑکا باقر علی خاں بھی۔ صرف ایک میں اور ایک میرا پیارا بیٹا حسین علی خاں، یہ ہم روزہ خوار ہیں۔ وہی حسین علی خاں جس کا روزمرا ہے: ”کھلونے منگا دو“، ”میں بھی بجار جاؤں گا“۔
میر سرفراز حسین کو دعا کہنا اور یہ خط اون کو ضرور سنا دینا۔ برخوردار میر نصیرالدین کو دعا پہنچے۔
[اپریل ۱۸۵۹ع]
خط ۱۶
برخوردار کامگار میر مہدی،
قطعہ تم نے دیکھا؟ سچ مچ میرا حلیہ ہے۔ واہ، اب کیا شاعری رہ گئی ہے! جس وقت میں نے یہ قطعہ وہاں کے بھیجنے کے واسطے لکھا، اِرادہ تھا کہ خط بھی لکھوں۔ لڑکوں نے ستایا کہ: دادا جان چلو، کھانا تیار ہے، ہمیں بھوک لگی ہے۔ تین خط اور لکھے ہوئے رکھے تھے۔ میں نے کہا کہ اب کہاں لکھوں۔ اوسی کاغذ کو لفافے میں رکھ کر، ٹکٹ لگا، سرنامہ لکھ، کلیان کے حوالے کر، گھر میں چلا گیا؛ اور ہاں، ایک چھیڑ بھی تھی کہ دیکھوں میرا میر مہدی خفا ہو کر کیا باتیں بناتا ہے۔ سو وہی ہوا۔ تم نے جلے پھپھولے پھوڑے۔ لو اب بتاؤ، خط لکھنے بیٹھا ہوں۔ کیا لکھوں؟ یہاں کا حال، زبانی میرن صاحب کے، سن لیا ہوگا؛ مگر وہ، جو کچھ تم نے سنا ہوگا، بے اصل باتیں ہیں۔ پنسن کا مقدمہ کلکتے میں نواب گورنر جنرل بہادر کے پیش نظر؛ یہاں کے حاکم نے اگر ایک روبکاری لکھ کر اپنے دفتر میں رکھ چھوڑی، میرا اوس میں کیا ضرر۔
یہاں تک لکھ چکا تھا کہ دو ایک آدمی آ گئے۔ دن بھی تھوڑا رہ گیا۔ میں نے بکس بند کیا۔ باہر تختوں پر آ بیٹھا۔ شام ہوئی؛ چراغ روشن ہوا۔ منشی سید احمد حسین سرہانے کی طرف مونڈھے پر بیٹھے ہیں۔ میں پلنگ پر لیٹا ہوا ہوں، کہ ناگاہ چشم و چراغ دودمانِ علم و یقین سید نصیرالدین آیا؛ ایک کوزا ہاتھ میں اور ایک آدمی ساتھ، اوس کے سر پر ایک ٹوکرا، اوس پر گھاس ہری بچھی ہوئی۔ میں نے کہا: اہا ہا ہا! سلطان العلما مولانا سرفراز حسین دہلوی نے دوبارہ رسد بھیجی ہے۔ بارے، معلوم ہوا کہ وہ نہیں ہے؛ یہ کچھ اور ہے۔ فیضِ خاص نہیں، لطف عام ہے۔ شراب نہیں، آم ہے۔ خیر، یہ عطیہ بھی بےخلل ہے بلکہ نعم البدل ہے۔ ایک ایک آم کو ایک ایک سر بہ مہر گلاس سمجھا لکور سے بھرا ہوا؛ مگر واہ، کس حکمت سے بھرا ہے کہ پینستھ گلاس میں سے ایک قطرہ نہیں گرا ہے! میاں کہتا تھا کہ یہ اسّی تھے۔ پندرہ بگڑ گئے بلکہ سڑ گئے۔ تا اون کی برائی اوروں میں سرایت نہ کرے، ٹوکرے میں سے پھینک دیے۔ میں نے کہا: بھائی، یہ کیا کم ہے؟ مگر میں تمہاری تکلیف اور تکلّف سے خوش نہیں ہوا۔ تمہارے پاس روپیہ کہاں جو تم نے آم خریدے؟ خانہ آباد دولت زیادہ۔
لکور ایک انگریزی شراب ہوتی ہے؛ قوام کی بہت لطیف اور رنگت کی بہت خوب اور طعم کی ایسی میٹھی جیسا قند کا قوام پتلا۔ دیکھو، اِس لغت کے معنی کسی فرہنگ میں نہ پاؤ گے۔ ہاں، فرہنگ سرور[ی] میں ہو تو ہو۔
”مجتہد العصر“ اور حکیم میر اشرف علی کو، کہ وہ اون کے علم کی کنجی ہیں اور ٹکے ٹکے کی کتابیں چالیس پچاس روپئے کو لے گئے ہیں، میری دعا کہہ دینا۔
[۱۸۵۹ع]
خط ۱۷
بھائی،
تم تو لڑکوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ جو ماجرا میں نے سنا تھا وہ البتہ موجب تشویش تھا۔ تمہاری تحریر سے وہ تشویش رفع ہو گئی۔ پھر تم کیوں ہائے واویلا کرتے ہو؟ اوپر کا حاکم موافق ہے؛ ماتحت کا حاکم جو مخالف تھا سو گیا۔ پھر کیا قصہ ہے؟
”قاطع برہان“ کے مسودے سب میں نے پھاڑ ڈالے، اِس واسطے کہ ہر نظر میں اوس کی صورت بدلتی گئی؛ وہ تحریر بالکل مغشوش ہو گئی۔ ہاں، اوس کی نقلیں صاف، کہ جس میں کسی طرح کی غلطی نہیں، نواب صاحب نے کر لی ہیں: ایک میرے واسطے، ایک بھائی ضیاءالدین خاں کے واسطے۔ میری ملک کی جو کتاب ہے اوس کی جلد بندھ جائے تو بطریق مستعار بھیج دوں گا۔ تم اوس کی نقل لے کر میری کتاب مجھ کو پھیر دینا۔ اور یہ امر بعد محرم واقع ہوگا۔ مگر یاد رہے کہ جو صاحب اِس کو دیکھیں گے وہ ہرگز نہ سمجھیں گے؛ صرف ”برہان قاطع“ کے نام پر جان دیں گے۔ کئی باتیں جس شخص میں جمع ہوں گی وہ اوس کو مانے گا: پہلے تو، عالم ہو۔ دوسرے، فن لغت کو جانتا ہو۔ تیسرے، فارسی کا علم خوب ہو اور اِس زبان سے اوس کو لگاو ہو۔ اساتذۂ سلف کا کلام بہت کچھ دیکھا ہو، اور کچھ یاد بھی ہو۔ چوتھے، منصف ہو، ہٹدھرم نہ ہو۔ پانچویں، طبع سلیم و ذہن مستقیم رکھتا ہو؛ معوجالذہن اور کجفہم نہ ہو۔ نہ یہ پانچ باتیں کسی میں جمع ہوں گی اور نہ کوئی میری محنت کی داد دے گا۔
”فہمایش“ کا لفظ میاں بدھا ولد میاں جما اور لالہ گنیشی داس ولد لالہ بھیروں ناتھ کا گھڑا ہوا ہے۔ میری زبان سے کبھی تم نے سنا ہے؟ اب تفصیل سنو: امر کے صیغے کے آگے شین آتا ہے، تو وہ امر معنی مصدری دیتا ہے اور اِس کو حاصل بالمصدر کہتے ہیں۔ ”سوختن“ مصدر، ”سوزد“ مضارع، ”سوز“ امر، ”سوزش“ حاصل بالمصدر۔ اِسی طرح ہیں: ”خواہش“ و ”کاہش“ و ”گزارش“ و ”گدازش“ و ”آرایش“ و ”پیرایش“ و ”فرمایش“۔ ”فہمیدن“ فارسی الاصل نہیں ہے، مصدر جعلی ہے؛ ”فہم“ لفظ عربی الاصل ہے؛ ”طلب“ لفظ عربی الاصل ہے۔ اِن کو موافق قاعدۂ تفریس ”فہمیدن“ و ”طلبیدن“ کر لیا ہے۔ اور اِس قاعدے میں یہ کلیہ ہے کہ لغت اصلی عربی آخر کو امر بن جاتا ہے۔ ”فہم“ یعنی ”بفہم“، ”سمجھ“۔ ”طلب“ یعنی ”بطلب“، ”مانگ“۔ ”فہمد“ مضارع بنا؛ ”طلبد“ مضارع بنا۔ خیر، یہ فرض کیجیے کہ جب ہم نے مصدر اور مضارع اور امر بنایا تو اب حاصل بالمصدر کیوں نہ بنائیں۔ سنو، حاصل بالمصدر ”فہمش“ اور ”طلبش“ چاہیے۔ ”فہم“ تھا صیغۂ امر، ”فہمد“ میں سے نکلا تھا؛ الف اور یے کہاں سے لایا؟ ”فہمائے“ تو نہیں، جو ”فہمایش“ درست ہو۔ کہیں ”فرمایش“ کو اِس کا نظیر گمان نہ کرنا۔ وہ مصدر اصلی فارسی ”فرمودن“ ہے؛ ”فرماید“ مضارع، ”فرمائے“ امر، حاصل مصدر: ”فرمایش“۔ زیادہ زیادہ۔
پہلے حکیم میر اشرف علی کو دعا اور بیٹا پیدا ہونے کی مبارکباد۔ میاں، میں نے رات کو اپنے عالم سرخوشی میں تاریخی نام کا خیال کیا۔ ”میر کاظم دین“ کے بارہ سو پچھتر ہوتے ہیں۔ لیکن یہ اِسم بھی مانند لفظ ”فہمایش“ ٹکسال سے باہر ہے۔
[جولائی ۱۸۵۹ع]
خط ۱۸
میری جان،
تم کو تو بیکاری میں خط لکھنے کا ایک شغل ہے۔ قلم دوات لے بیٹھے؛ اگر خط پہنچا ہے تو جواب، ورنہ شکوہ و شکایت و عتاب و خطاب لکھنے لگے۔
کل حکیم میر اشرف علی آئے تھے؛ سر منڈوا ڈالا ہے۔ ”محلّقین رؤسکم“ پر عمل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ سر منڈوایا ہے تو داڑھی رکھو۔ کہنے لگے: ”دامن از کجا آرم، کہ جامہ ندارم“۔ واللّٰہ، اون کی صورت قابل دیکھنے کے ہے۔ کہتے تھے کہ میر احمد علی صاحب آ گئے اور بحال و برقرار رہے۔ خدا کا شکر بجا لایا؛ کبھی تو ایسا بھی ہو کہ کسی عزیز کی اچھی خبر سنی جائے۔ میرا سلام کہنا اور مبارکباد دینا۔ خبردار! بھول نہ جائیو۔
تمہاری شکایتہاے بیجا کا جواب یہ ہے کہ تم نے جو خط مجھ کو پانیپت سے بھیجا تھا اور کرنال کی روانگی کی اِطلاع دی تھی؛ میں نے تجویز کر لیا تھا کہ جب کرنال سے خط آئے گا تو میں جواب لکھوں گا۔ آج شنبہ، ۱۵ اکتوبر، صبح کا وقت۔ ابھی کھانا پکا بھی نہیں؛ تبرید پی کر بیٹھا تھا، کہ تمہارا خط آیا اور پڑھا اور یہ جواب لکھا۔ کلیان بیمار ہے، ایاز کو خط دے کر ڈاک گھر روانا کیا۔ بولو، تمہارا گلہ بیجا یا بجا؟ بھائی گلہ کرو تو اپنے سے کرو؛ تم نے کرنال پہنچ کر خط لکھنے میں کیوں دیر کی؟ اور ہاں، یہ کیا سبب ہے کہ بہت دن سے میر نصیرالدین کا نام تمہارے قلم سے نہیں نکلتا؟ نہ اون کی خیر و عافیت، نہ اون کی بندگی۔ اگر وہ مجھ سے خفا ہیں تو اون کی بندگی نہ لکھتے؛ خیر و عافیت تو لکھتے۔ یہ باتیں اچھی نہیں۔
میرن صاحب کے باب میں حیران ہوں۔ تنہا تمہارے ساتھ گئے ہیں۔ والدہ اون کی پانیپت میں ہیں۔ وہاں کوئی مکان لے کر والدہ کو وہیں بلائیں گے یا خود بعد چند روز کے یہاں آ جائیں گے؟ یہ دو باتیں جواب طلب ہیں۔ میر نصیرالدین کی بندگی نہ لکھنے کا سبب اور میرن صاحب کی بود و باش کی حقیقت لکھو۔ رہا، میرا پنسن؛ اوس کا ذکر نہ کرو۔ اگر ملے گا تو تم کو اِطلاع دی جائے گی۔ شہر کی آبادی کا چرچا ہوا۔ کرائے کو مکان ملنے لگے۔ چار پانسو گھر آباد ہوئے تھے کہ پھر وہ قاعدہ مٹ گیا۔ اب خدا جانے، کیا دستور جاری ہوا ہے؛ آیندہ کیا ہوگا؟
سلطان العلما مجتہد العصر مولوی سید سرفراز حسین کو اگرچہ، نظر اون کے مدارج علم و عمل پر، بندگی چاہیے؛ مگر خیر، میں عزیزداری و یگانگی کی راہ سے دعا لکھتا ہوں۔ میرن صاحب کو دعا اور بعد دعا بہت سا پیار۔ میر نصیرالدین کو دعا۔ زیادہ کیا لکھوں۔
[۱۵ اکتوبر ۱۸۵۹ع]
خط ۱۹
بھائی،
نہ کاغذ ہے، نہ ٹکٹ ہے۔ اگلے لفافوں میں سے ایک بیرنگ لفافہ پڑا ہے؛ کتاب میں سے یہ کاغذ پھاڑ کر، تم کو خط لکھتا ہوں اور بیرنگ لفافے میں لپیٹ کر بھیجتا ہوں۔ غمگین نہ ہونا۔ کل شام کو کچھ فتوح کہیں سے پہنچ گئی ہے؛ آج کاغذ و ٹکٹ منگا لوں گا۔ سہشنبہ، ۸ نومبر؛ صبح کا وقت ہے، جس کو عوام بڑی فجر کہتے ہیں۔ پرسوں تمہارا خط آیا تھا۔ آج جی چاہا کہ ابھی تم کو خط لکھوں۔ اِس واسطے یہ چند سطریں لکھیں۔
برخوردار میر نصیرالدین پر اون کی بیٹی کا قدم مبارک ہو۔ نام تاریخی تو مجھ سے ڈھونڈھا نہ جائے گا۔ ہاں، ”عظیمالنساء بیگم“ نام اچھا ہے کہ اِس میں ایک رعایت ہے شاہ محمد عظیم صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نام کی۔ ”مجتہد العصر“ کو میری دعا کہنا۔ تم کو کیا ہوا ہے کہ تم اون کو اپنا چھوٹا بھائی جان کر ”مجتہد العصر“ نہیں لکھا کرتے؟ یہ بے ادبی اچھی نہیں۔ میرن صاحب کو بہت بہت دعا کہنا اور میری طرف سے پیار کرنا۔
شہر کا حال، میں کیا جانوں کیا ہے؟ ”پون ٹوٹی“ کوئی چیز ہے؛ وہ جاری ہو گئی ہے۔ سواے اناج اور اوپلے کے کوئی چیز ایسی نہیں جس پر محصول نہ لگا ہو۔ جامعمسجد کے گرد پچیس پچیس فٹ گول میدان نکلے گا۔ دکانیں، حویلیاں ڈھائی جائیں گی۔ ”دار البقا“ فنا ہو جائے گی۔ رہے نام اللّٰہ کا! خان چند کا کوچہ ”شاہ بولا کے بڑ“ تک ڈھیے گا۔ دونوں طرف سے پھاوڑا چل رہا ہے۔ باقی خیر و عافیت ہے۔ حاکم اکبر کی آمد آمد سن رہے ہیں۔ دیکھیے، دلی آئیں یا نہیں۔ آئیں، تو دربار کریں یا نہیں۔ دربار کریں، تو میں گنہگار بلایا جاؤں یا نہیں۔ بلایا جاؤں، تو خلعت پاؤں یا نہیں۔ پنسن کا تو، نہ کہیں ذکر ہے، نہ کسی کو خبر ہے۔
سہشنبہ، ۸ نومبر سنہ ۱۸۵۹ع۔
غالب۔
خط ۲۰
میری جان،
تو کیا کہہ رہا ہے؟ بنیے سے سیانا، سو دیوانا۔ صبر و تسلیم و توکل و رضا، شیوہ صوفیہ کا ہے۔ مجھ سے زیادہ اِس کو کون سمجھے گا، جو تم مجھ کو سمجھاتے ہو؟ کیا میں یہ جانتا ہوں کہ اِن لڑکوں کی پرورش میں کرتا ہوں؟ استغفر اللّٰہ؛ لا مؤثر فی الوجود اِلا اللّٰہ۔ یا تم یہ سمجھے ہو کہ میں شیخ چلّی کی طرح سے یہ خیال باندھتا ہوں کہ مرغی مول لوں گا اور اوس کے انڈے بچے بیچ کر بکری خریدوں گا اور پھر کیا کروں گا اور آخر کیا ہوگا۔ بھائی، یہ تو میں نے اپنا راز دل تم سے کہا تھا کہ آرزو یوں تھی اور اب وہ نقش باطل ہو گیا۔ ایک حسرت کا بیان تھا، نہ خواہش کا۔ دیکھا اِس پنسنِ قدیم کا حال؟ میں تو اِس سے ہات دھوئے بیٹھا ہوں؛ لیکن جب تک جواب نہ پاؤں کہیں اور کیوں کر چلا جاؤں؟ حاکم اکبر کے آنے کی خبر گرم ہے۔ دیکھیے کب آئے۔ آئے، تو مجھے بھی دربار میں بلائے یا نہ بلائے۔ خلعت ملے یا نہ ملے۔ اِس پیچ میں ایک اور پیچ آ پڑا ہے۔ اوس کو دیکھ لوں؛ اور پھر صرف اوسی کا اِنتظار نہیں۔ اِس مرحلے کے طے ہونے کے بعد پنسن کے ملنے نہ ملنے کا تردد بدستور رہے گا۔ سبکسیر کیوں کر بن جاؤں، کہ یہ سب اُمور ملتوی چھوڑ کر نکل جاؤں؟ پنسن جاری ہوئے پر بھی تو سوا رامپور کے کہیں ٹھکانا نہیں ہے۔ وہاں تو جاؤں اور ضرور جاؤں۔ تین برس ثبات قدم اِختیار کیا؛ اب، انجام کار میں، اِضطراب کی کیا وجہ؟ چپکے ہو رہو اور مجھ کو کسی عالم میں غمگین اور مضطر گمان نہ کرو۔ ہر وقت میں جیسا مناسب ہوتا ہے ویسا عمل میں آتا ہے۔
صاحب، یہ میرن صاحب نے جو دو سطریں دستخطِ خاص سے لکھی تھیں؛ واللّٰہ، میں کچھ نہیں سمجھا کہ یہ کس مقدمے کا ذکر ہے۔
خط ۲۱
بھائی،
کیا پوچھتے ہو؟ کیا لکھوں؟ دلی کی ہستی منحصر کئی ہنگاموں پر تھی: قلعہ، چاندنی چوک، ہرروزہ بازار مسجدِ جامع کا، ہر ہفتے سیر جمنا کے پل کی، ہر سال میلا پھول والوں کا۔ یہ پانچوں باتیں اب نہیں۔ پھر کہو: دلی کہاں؟ ہاں، کوئی شہر قلمرو ہند میں اِس نام کا تھا۔
نواب گورنر جنرل بہادر ۱۵ دسمبر کو یہاں داخل ہوں گے۔ دیکھیے کہاں اوترتے ہیں اور کیوں کر دربار کرتے ہیں؟ آگے کے درباروں میں سات جاگیردار تھے، کہ اون کا الگ الگ دربار ہوتا تھا: جھجر، بہادر گڑھ، بلّب گڑھ، فرخ نگر، دوجانہ، پاٹودی، لوہارو۔ چار معدوم محض ہیں۔ جو باقی رہے اوس میں سے دوجانہ و لوہارو تحت حکومت ہانسی حصار، پاٹودی حاضر۔ اگر ہانسی حصار کا کمشنر اون دونوں کو یہاں لے آیا، تو تین رئیس، ورنہ ایک رئیس؛ بس۔ رہے دربار عام والے مہاجن لوگ؛ سب موجود۔ اہلِ اِسلام میں سے صرف تین آدمی باقی ہیں: میرٹھ میں مصطفیٰ خاں، ”سلطان جی“ میں مولوی صدرالدین، بلّیماروں میں سگِ دنیا موسوم بہ ”اسد“۔ تینوں مردود و مطرود، محروم و مغموم:
توڑ بیٹھے جبکہ ہم جام و سبو، پھر ہم کو کیا؟آسماں سے بادۂ گلفام گر برسا کرے۔
تم آتے ہو، چلے آؤ۔ جاں نثار خاں کے چھتّے کی سڑک، خانچند کے کوچے کی سڑک، دیکھ جاؤ۔ بولاقی بیگم کے کوچے کا ڈھینا، جامع مسجد کے گرد ستر ستر گز گول میدان نکلنا، سن جاؤ۔ ”غالبِ“ افسردہدل کو دیکھ جاؤ۔ چلے جاؤ۔
”مجتہد العصر“ میر سرفراز حسین کو دعا۔ ”حکیم الملک“ حکیم میر اشرف علی کو دعا۔ ”قطب الملک“ میر نصیرالدین کو دعا۔ ”یوسف ہند“ میر افضل علی کو دعا۔
مرقومۂ صبح جمعہ، ۶ جمادیالاول، ۲ دسمبر سال حال [۱۲۷۶ھ، ۱۸۵۹ع]
خط ۲۲
بے مے نکند در کفِ من خامہ روانیسرد است ہوا، آتشِ بےدود! کجائی؟
میر مہدی،
صبح کا وقت ہے۔ جاڑا خوب پڑ رہا ہے، انگیٹھی سامنے رکھی ہوئی ہے۔ دو حرف لکھتا ہوں، آگ تاپتا جاتا ہوں۔ آگ میں گرمی سہی؛ مگر ہائے، وہ آتش سیال کہاں، کہ جب دو جرعے پی لیے، فوراً رگ و پے میں دوڑ گئی، دل توانا ہو گیا، دماغ روشن ہو گیا، نفس ناطقہ کو تواجد بہم پہنچا۔ ساقیِ کوثر کا بندہ اور تشنہ لب! ہائے غضب! ہائے غضب!
میاں، تم ”پنسن، پنسن“ کیا کر رہے ہو؟ گورنر جنرل کہاں اور پنسن کہاں! ڈپٹی کمشنر، صاحب کمشنر، لفٹنٹ گورنر بہادر؛ جب اِن تینوں نے جواب دیا ہو، تو اوس کا مرافعہ گورمنٹ میں کروں۔ مجھے تو دربار و خلعت کے لالے پڑے ہیں؛ تم کو پنسن کی فکر ہے۔ یہاں کے حاکم نے میرا نام دربار کی فرد میں نہیں لکھا۔ میں نے اِس کا اپیل لفٹنٹ گورنر کے ہاں کیا ہے۔ دیکھیے، کیا جواب آتا ہے۔ بہر حال جو کچھ ہو گا، تم کو لکھا جائے گا۔
اجی، وہ ”یوسفِ ہند“ نہ سہی؛ ”یوسفِ دہر“ سہی، ”یوسفِ عصر“ سہی، ”یوسفِ ہفت کشور“ سہی؛ اون کی زلیخا نے ستم برپا کر رکھا ہے۔ مجھے تو خبر نہیں، کہیں حضرت کہہ گئے ہیں کہ میں ساڑھے سات روپیہ مہینا بھیجے جاؤں گا۔ اب اوس کا تقاضا ہے۔ رحیم بخش روز آتا ہے اور کہتا ہے کہ پھوپھا جان کو لکھو کہ پھوپی جان بھوکی مرتی ہیں؛ خرچ جلد بھیجو، ورنہ نالش کی جائے گی اور تم کو گواہ قرار دیا جائے گا۔ بہر حال میرن صاحب کو یہ عبارت پڑھوا دینا۔
میر سرفراز حسین کو دعا۔ میر نصیر الدین کو دعا۔ حکیم میر اشرف علی کو دعا۔ ”یوسفِ ہفت کشور“ کو دعا۔
سہ شنبہ، ۱۳ دسمبر سنہ ۱۸۵۹ع۔
خط ۲۳
میاں لڑکے،
کہاں پھر رہے ہو؟ اِدھر آؤ، خبریں سنو۔ دربار لارڈ صاحب کا میرٹھ میں ہوا۔ دلی کے علاقے کے جاگیردار، بموجب حکم کمشنر دہلی، میرٹھ گئے؛ موافق دستور قدیم مل آئے۔ غرض کہ پنجشنبہ، ۲۹ دسمبر کو پہر دن چڑھے لارڈ صاحب یہاں پہنچے۔ کابلی دروازے کی فصیل کے تلے ڈیرے ہوئے۔ اوسی وقت، توپوں کی آواز سنتے ہی، میں سوار ہو کر گیا۔ میر منشی سے ملا؛ اُن کے خیمے میں بیٹھ کر صاحب سکرتر کو خبر کروائی۔ جواب آیا کہ فرصت نہیں۔ یہ جواب سن کر، نومیدی کی پوٹ باندھ کر لے آیا۔ ہرچند پنسن کے باب میں ہنوز لا و نعم نہیں، مگر کچھ فکر کر رہا ہوں۔ دیکھوں، کیا ہوتا ہے۔ لارڈ صاحب کل یا پرسوں جانے والے ہیں۔ یہاں کچھ کلام و پیام نہیں ممکن۔ تحریر ڈاک میں بھیجی جائے گی؛ دیکھیے، کیا صورت پیش آئے گی۔
مسلمانوں کی املاک کی واگزاشت کا حکم عام ہوگیا ہے۔ جن کو کرائے پر ملی ہے اون کو کرایہ معاف ہوگیا ہے۔ آج یکشنبہ، یکم جنوری سنہ ۱۸۶۰ع ہے؛ پہر دن چڑھا ہے کہ یہ خط تم کو لکھا ہے۔ اگر مناسب جانو، تو آؤ، اپنی املاک پر قبضہ پاؤ۔ چاہو یہیں رہو، چاہو پھر چلے جاؤ۔
میر سرفراز حسین، میر نصیرالدین، میرن صاحب کو میری دعائیں کہنا اور حکیم میر اشرف علی کو بعد دعا کے یہ کہہ دینا کہ وہ حبوب جو تم نے مجھ کو دی تھیں اون کا نسخہ جلد لکھ کر بھیج دو۔ اللّٰہ موجود، ماسوی معدوم۔
[یکم جنوری ۱۸۶۰ع]
اپنی مرگ کا طالب، غالب۔
خط ۲۴
اہا ہا ہا! میرا پیارا میر مہدی آیا۔ آؤ بھائی، مزاج تو اچھا ہے؟ بیٹھو، یہ رامپور ہے، دار السرور ہے؛ جو لطف یہاں ہے وہ اور کہاں ہے؟ پانی، سبحان اللّٰہ! شہر سے تین سو قدم پر ایک دریا ہے اور کوسی اوس کا نام ہے۔ بےشبہہ چشمۂ آب حیات کی کوئی سوت اوس میں ملی ہے۔ خیر، اگر یوں بھی ہے تو، بھائی، آب حیات عمر بڑھاتا ہے، لیکن اِتنا شیریں کہاں ہوگا؟
تمہارا خط پہنچا۔ تردد عبث، میرا مکان ڈاک گھر کے قریب اور ڈاک منشی میرا دوست ہے؛ نہ عرف لکھنے کی حاجت، نہ محلے کی حاجت۔ بے وسواس خط بھیج دیا کیجیے اور جواب لیا کیجیے۔ یہاں کا حال سب طرح خوب ہے اور صحبت مرغوب ہے۔ اِس وقت تک مہمان ہوں۔ دیکھوں، کیا ہوتا ہے۔ تعظیم و توقیر میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں ہے۔ لڑکے دونوں میرے ساتھ آئے ہیں۔ اِس وقت اِس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔
[فروری ۱۸۶۰ع]
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.