
Chapitre 9 sur 16
Ghazals 159–181 (Radif Ye)
غزلیں ۱۵۹ تا ۱۸۱ (ردیف ی)
ردیف ی
۱۵۹۔ صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیے
صد جلوہ رو بہ رو ہے جو مژگاں اٹھائیےطاقت کہاں کہ دید کا احساں اٹھائیے
ہے سنگ پر براتِ معاشِ جنونِ عشقیعنی ہنوز منّتِ طفلاں اٹھائیے
دیوار بارِ منّتِ مزدور سے ہے خماے خانماں خراب نہ احساں اٹھائیے
یا میرے زخمِ رشک کو رُسوا نہ کیجیےیا پردۂ تبسّمِ پنہاں اٹھائیے
۱۶۰۔ مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودیرو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
۱۶۱۔ بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریاۓ بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
۱۶۲۔ ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سے
ہے بزمِ بتاں میں سخن آزردہ لبوں سےتنگ آئے ہیں ہم ایسے خوشامد طلبوں سے
ہے دورِ قدح وجہ پریشانیِ صہبایک بار لگا دو خمِ مے میرے لبوں سے
رندانِ درِ مے کدہ گستاخ ہیں زاہدزنہار نہ ہونا طرف ان بے ادبوں سے
بیدادِ وفا دیکھ کہ جاتی رہی آخرہر چند مری جان کو تھا ربط لبوں سے
۱۶۳۔ تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جا
تا ہم کو شکایت کی بھی باقی نہ رہے جاسن لیتے ہیں گو ذکر ہمارا نہیں کرتے
غالبؔ ترا احوال سنا دینگے ہم ان کووہ سن کے بلا لیں یہ اجارا نہیں کرتے
۱۶۴۔ گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتا
گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اسے غارت کرتاوہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرتِ تعمیر، سو ہے
۱۶۵۔ غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا ربقسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت دل میں سوزِ غم چھپانے کی
انہیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
لکد کوبِ حوادث کا تحمل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی
کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
۱۶۶۔ بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہوگا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریاۓ بیتابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیِ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
۱۶۷۔ حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی
اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھائےمیں بھی جلے ہؤوں میں ہوں داغِ نا تمامی
۱۶۸۔ کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہے
کیا تنگ ہم ستم زدگاں کا جہان ہےجس میں کہ ایک بیضۂ مور آسمان ہے
ہے کائنات کو حَرَکت تیرے ذوق سےپرتو سے آفتاب کے ذرّے میں جان ہے
حالانکہ ہے یہ سیلیِ خارا سے لالہ رنگغافل کو میرے شیشے پہ مے کا گمان ہے
کی اس نے گرم سینۂ اہلِ ہوس میں جاآوے نہ کیوں پسند کہ ٹھنڈا مکان ہے
کیا خوب! تم نے غیر کو بوسہ نہیں دیابس چپ رہو ہمارے بھی منہ میں زبان ہے
ہستی کا اعتبار بھی غم نے مٹا دیاکس سے کہوں کہ داغ جگر کا نشان ہے
ہے بارے اعتمادِ وفاداری اس قدرغالبؔ ہم اس میں خوش ہیں کہ نا مہربان ہے
۱۶۹۔ درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائے
درد سے میرے ہے تجھ کو بے قراری ہائے ہائےکیا ہوئی ظالم تری غفلت شعاری ہائے ہائے
تیرے دل میں گر نہ تھا آشوبِ غم کا حوصلہتو نے پھر کیوں کی تھی میری غم گساری ہائے ہائے
کیوں مری غم خوارگی کا تجھ کو آیا تھا خیالدشمنی اپنی تھی میری دوست داری ہائے ہائے
عمر بھر کا تو نے پیمانِ وفا باندھا تو کیاعمر کو بھی تو نہیں ہے پائداری ہائے ہائے
زہر لگتی ہے مجھے آب و ہوائے زندگییعنی تجھ سے تھی اسے ناسازگاری ہائے ہائے
گل فشانی ہائے نازِ جلوہ کو کیا ہو گیاخاک پر ہوتی ہے تیری لالہ کاری ہائے ہائے
شرمِ رسوائی سے جا چھپنا نقابِ خاک میںختم ہے الفت کی تجھ پر پردہ داری ہائے ہائے
خاک میں ناموسِ پیمانِ محبت مل گئیاٹھ گئی دنیا سے راہ و رسمِ یاری ہائے ہائے
ہاتھ ہی تیغ آزما کا کام سے جاتا رہادل پہ اک لگنے نہ پایا زخمِ کاری ہائے ہائے
کس طرح کاٹے کوئی شب ہائے تارِ برشکالہے نظر خو کردۂ اختر شماری ہائے ہائے
گوش مہجورِ پیام و چشم محرومِ جمالایک دل تس پر یہ ناامیدواری ہائے ہائے
عشق نے پکڑا نہ تھا غالبؔ ابھی وحشت کا رنگرہ گیا تھا دل میں جو کچھ ذوقِ خواری ہائے ہائے
۱۷۰۔ سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے
سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے
لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے
کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے
ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے
پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے
۱۷۱۔ گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہےخوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
کس کو سناؤں حسرتِ اظہار کا گلہدل فردِ جمع و خرچِ زباں ہاۓ لال ہے
کس پردے میں ہے آئینہ پرداز اے خدارحمت کہ عذر خواہ لبِ بے سوال ہے
ہے ہے خدا نہ خواستہ وہ اور دشمنیاے شوقِ منفعل! یہ تجھے کیا خیال ہے
مشکیں لباسِ کعبہ علی کے قدم سے جاننافِ زمین ہے نہ کہ نافِ غزال ہے
وحشت پہ میری عرصۂ آفاق تنگ تھادریا زمین کو عرقِ انفعال ہے
ہستی کے مت فریب میں آ جائیو اسدؔعالم تمام حلقۂ دامِ خیال ہے
۱۷۲۔ تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھوحذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخرنہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
۱۷۳۔ ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیا
ایک جا حرفِ وفا لکّھا تھا، سو بھی مٹ گیاظاہرا کاغذ ترے خط کا غلط بردار ہے
جی جلے ذوقِ فنا کی نا تمامی پر نہ کیوںہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صداہر کوئی در ماندگی میں نالے سے ناچار ہے
ہے وہی بد مستیِ ہر ذرّہ کا خود عذر خواہجس کے جلوے سے زمیں تا آسماں سرشار ہے
مجھ سے مت کہہ "تو ہمیں کہتا تھا اپنی زندگی"زندگی سے بھی مرا جی ان دنوں بیزار ہے
آنکھ کی تصویر سر نامے پہ کھینچی ہے کہ تاتجھ پہ کھل جاوے کہ اس کو حسرتِ دیدار ہے
۱۷۴۔ پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرے
پینس میں گزرتے ہیں جو کوچے سے وہ میرےکندھا بھی کہاروں کو بدلنے نہیں دیتے
۱۷۵۔ مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہے
مری ہستی فضاۓ حیرت آبادِ تمنّا ہےجسے کہتے ہیں نالہ وہ اسی عالم کا عنقا ہے
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو؟ کوئی موسم ہووہی ہم ہیں، قفس ہے، اور ماتم بال و پر کا ہے
وفاۓ دلبراں ہے اتّفاقی ورنہ اے ہمدماثر فریادِ دل ہاے حزیں کا کس نے دیکھا ہے
نہ لائی شوخئ اندیشہ تابِ رنجِ نومیدیکفِ افسوس ملنا عہدِ تجدیدِ تمنّا ہے
۱۷۶۔ رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہے
رحم کر ظالم کہ کیا بودِ چراغِ کشتہ ہےنبضِ بیمارِ وفا دودِ چراغِ کشتہ ہے
دل لگی کی آرزو بے چین رکھتی ہے ہمیںورنہ یاں بے رونقی سودِ چراغِ کشتہ ہے
۱۷۷۔ چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہے
چشمِ خوباں خامشی میں بھی نوا پرداز ہےسرمہ تو کہوے کہ دودِ شعلہ آواز ہے
پیکرِ عشّاق سازِ طالعِ نا ساز ہےنالہ گویا گردشِ سیّارہ کی آواز ہے
دست گاہِ دیدۂ خوں بارِ مجنوں دیکھنایک بیاباں جلوۂ گل فرشِ پا انداز ہے
۱۷۸۔ عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
عمر ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے اے فلکِ ناانصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
۱۷۹۔ ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھے
ہے آرمیدگی میں نکوہش بجا مجھےصبحِ وطن ہے خندۂ دنداں نما مجھے
ڈھونڈے ہے اس مغنّیِ آتش نفس کو جیجس کی صدا ہو جلوۂ برقِ فنا مجھے
مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیِ خیالتا باز گشت سے نہ رہے مدّعا مجھے
کرتا ہے بسکہ باغ میں تو بے حجابیاںآنے لگی ہے نکہتِ گل سے حیا مجھے
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہشعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
۱۸۰۔ زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔ
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
۱۸۱۔ اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیے
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کیےبیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہوا کیے
دل ہی تو ہے سیاستِ درباں سے ڈر گیامیں اور جاؤں در سے ترے بِن صدا کیے
رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجّادہ رہنِ مےمدّت ہوئی ہے دعوتِ آب و ہوا کیے
بے صرفہ ہی گزرتی ہے، ہو گرچہ عمرِ خضرحضرت بھی کل کہیں گے کہ ہم کیا کیا کیے
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنج ہاۓ گرانمایہ کیا کیے
کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟
صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خودینے لگا ہے بوسہ بغیر التجا کیے
ضد کی ہے اور بات مگر خو بری نہیںبھولے سے اس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے
غالبؔ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیامانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.