Urdu in Translation
Search

Chapter 10 of 16

Ghazals 182–204 (Radif Ye)

غزلیں ۱۸۲ تا ۲۰۴ (ردیف ی)

Mirza Asadullah Khan Ghalib

Script
Size

ردیف ی

۱۸۲۔ رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہے

رفتارِ عمر قطعِ رہ اضطراب ہےاس سال کے حساب کو برق آفتاب ہے

میناۓ مے ہے سروِ نشاطِ بہار سےبالِ تَدَر و جلوۂ موجِ شراب ہے

زخمی ہوا ہے پاشنہ پاۓ ثبات کانے بھاگنے کی گوں، نہ اقامت کی تاب ہے

جادادِ بادہ نوشیِ رنداں ہے شش جہتغافل گماں کرے ہے کہ گیتی خراب ہے

نظّارہ کیا حریف ہو اس برقِ حسن کاجوشِ بہار جلوے کو جس کے نقاب ہے

میں نامراد دل کی تسلّی کو کیا کروںمانا کہ تیری رخ سے نگہ کامیاب ہے

گزرا اسدؔ مسرّتِ پیغامِ یار سےقاصد پہ مجھ کو رشکِ سوال و جواب ہے

۱۸۳۔ دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہے

دیکھنا قسمت کہ آپ اپنے پہ رشک آ جائے ہےمیں اسے دیکھوں، بھلا کب مجھ سے دیکھا جائے ہے

ہاتھ دھو دل سے یہی گرمی گر اندیشے میں ہےآبگینہ تندئِ صہبا سے پگھلا جائے ہے

غیر کو یا رب وہ کیوں کر منعِ گستاخی کرےگر حیا بھی اس کو آتی ہے تو شرما جائے ہے

شوق کو یہ لت کہ ہر دم نالہ کھینچے جائیےدل کی وہ حالت کہ دم لینے سے گھبرا جائے ہے

دور چشمِ بد تری بزمِ طرب سے واہ واہنغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے

گرچہ ہے طرزِ تغافل پردہ دارِ رازِ عشقپر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے

اس کی بزم آرائیاں سن کر دلِ رنجور، یاںمثلِ نقشِ مدعائے غیر بیٹھا جائے ہے

ہو کے عاشق وہ پری رخ اور نازک بن گیارنگ کھلتا جائے ہے جتنا کہ اڑتا جائے ہے

نقش کو اس کے مصور پر بھی کیا کیا ناز ہیںکھینچتا ہے جس قدر اتنا ہی کھنچتا جائے ہے

سایہ میرا مجھ سے مثلِ دود بھاگے ہے اسدؔپاس مجھ آتش بجاں کے کس سے ٹھہرا جائے ہے

۱۸۴۔ گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھے

گرمِ فریاد رکھا شکلِ نہالی نے مجھےتب اماں ہجر میں دی بردِ لیالی نے مجھے

نسیہ و نقدِ دو عالم کی حقیقت معلوملے لیا مجھ سے مری ہمّتِ عالی نے مجھے

کثرت آرائیِ وحدت ہے پرستارئ وہمکر دیا کافر ان اصنامِ خیالی نے مجھے

ہوسِ گل کے تصوّر میں بھی کھٹکا نہ رہاعجب آرام دیا بے پر و بالی نے مجھے

۱۸۵۔ کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہے

کار گاہ ہستی میں لالہ داغ ساماں ہےبرقِ خرمنِ راحت، خونِ گرمِ دہقاں ہے

غنچہ تا شگفتن ہا برگِ عافیت معلومباوجودِ دل جمعی خوابِ گل پریشاں ہے

ہم سے رنجِ بیتابی کس طرح اٹھایا جائےداغ پشتِ دستِ عجز، شعلہ خس بہ دنداں ہے

۱۸۶۔ اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔ

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالبؔہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

۱۸۷۔ سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے

سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے

بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذّت ہماری سعئِ بے حاصل میں ہے

رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہےاٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم منزل میں ہے

جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شورِ قیامت کس کی آب و گل میں ہے

ہے دلِ شوریدۂ غالبؔ طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنا پر کہ کس مشکل میں ہے

۱۸۸۔ دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئیدونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

شق ہو گیا ہے سینہ، خوشا لذتِ فراغتکلیفِ پردہ داریِ زخمِ جگر گئی

وہ بادۂ شبانہ کی سرمستیاں کہاںاٹھیے بس اب کہ لذتِ خوابِ سحر گئی

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میںبارے اب اے ہوا! ہوسِ بال و پر گئی

دیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پاموجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کیاب آبروئے شیوۂ اہلِ نظر گئی

نظارے نے بھی کام کیا واں نقاب کامستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیاکل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی

مارا زمانے نے اسداللہ خاں تمہیںوہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی

۱۸۹۔ تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملے

تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوقِ نظر ملےحورانِ خلد میں تری صورت مگر ملے

اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتلمیرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے

ساقی گری کی شرم کرو آج، ورنہ ہمہر شب پیا ہی کرتے ہیں مے جس قدر ملے

تجھ سے تو کچھ کلام نہیں لیکن اے ندیممیرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے

تم کو بھی ہم دکھائیں کہ مجنوں نے کیا کِیافرصت کشاکشِ غمِ پنہاں سے گر ملے

لازم نہیں کہ خضر کی ہم پیروی کریںجانا کہ اک بزرگ ہمیں ہم سفر ملے

اے ساکنانِ کوچۂ دل دار دیکھناتم کو کہیں جو غالبؔ آشفتہ سر ملے

۱۹۰۔ کوئی دن گر زندگانی اور ہے

کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوزِ غم ہائے نہانی اور ہے

بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے

دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے

قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلائے آسمانی اور ہے

ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگِ ناگہانی اور ہے

۱۹۱۔ کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی

موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی؟

آگے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی

جانتا ہوں ثوابِ طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتی

ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی

کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیںمیری آواز گر نہیں آتی

داغِ دل گر نظر نہیں آتابو بھی اے چارہ گر نہیں آتی

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھیکچھ ہماری خبر نہیں آتی

مرتے ہیں آرزو میں مرنے کیموت آتی ہے پر نہیں آتی

کعبے کس منہ سے جاؤ گے غالبؔشرم تم کو مگر نہیں آتی

۱۹۲۔ دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے؟آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزاریا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟

میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوںکاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجودپھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟

یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟

شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے؟نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟

سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں؟ابر کیا چیز ہے؟ ہوا کیا ہے؟

ہم کو ان سے وفا کی ہے امیدجو نہیں جانتے وفا کیا ہے

ہاں بھلا کر، ترا بھلا ہوگااور درویش کی صدا کیا ہے

جان تم پر نثار کرتا ہوںمیں نہیں جانتا دعا کیا ہے

میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔمفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے

۱۹۳۔ کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے

کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی "کہ وو آئے"

ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّتکچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے

ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے

ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے

جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے

ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے

اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے

کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریراچّھے رہے آپ اس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے

اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے

۱۹۴۔ پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہے

پھر کچھ اس دل کو بیقراری ہےسینہ جویائے زخمِ کاری ہے

پھر جگر کھودنے لگا ناخنآمدِ فصلِ لالہ کاری ہے

قبلۂ مقصدِ نگاہِ نیازپھر وہی پردۂ عماری ہے

چشم دلالِ جنسِ رسوائیدل خریدارِ ذوقِ خواری ہے

وُہ ہی صد رنگ نالہ فرسائیوُہ ہی صد گونہ اشک باری ہے

دل ہوائے خرامِ ناز سے پھرمحشرستانِ بیقراری ہے

جلوہ پھر عرضِ ناز کرتا ہےروزِ بازارِ جاں سپاری ہے

پھر اسی بے وفا پہ مرتے ہیںپھر وہی زندگی ہماری ہے

پھر کھلا ہے درِ عدالتِ نازگرم بازارِ فوجداری ہے

ہو رہا ہے جہان میں اندھیرزلف کی پھر سرشتہ داری ہے

پھر دیا پارۂ جگر نے سوالایک فریاد و آہ و زاری ہے

پھر ہوئے ہیں گواہِ عشق طلباشک باری کا حکم جاری ہے

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھاآج پھر اس کی روبکاری ہے

بے خودی بے سبب نہیں غالبؔکچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

۱۹۵۔ جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی

جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کینمک پاشِ خراشِ دل ہے لذّت زندگانی کی

کشاکش ہاۓ ہستی سے کرے کیا سعیِ آزادیہوئی زنجیر، موجِ آب کو فرصت روانی کی

پس از مردن بھی دیوانہ زیارت گاہ طفلاں ہےشرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی

۱۹۶۔ نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کی

نِکوہِش ہے سزا فریادئِ بیدادِ دِلبر کیمبادا خندۂ دنداں نما ہو صبح محشر کی

رگِ لیلیٰ کو خاکِ دشتِ مجنوں ریشگی بخشےاگر بو دے بجاۓ دانہ دہقاں نوک نشتر کی

پرِ پروانہ شاید بادبانِ کشتئ مے تھاہوئی مجلس کی گرمی سے روانی دَورِ ساغر کی

کروں بیدادِ ذوقِ پَر فشانی عرض کیا قدرتکہ طاقت اُڑ گئی، اڑنے سے پہلے، میرے شہپر کی

کہاں تک روؤں اُس کے خیمے کے پیچھے، قیامت ہے!مری قسمت میں یا رب کیا نہ تھی دیوار پتھّر کی؟

۱۹۷۔ بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئے

بے اعتدالیوں سے سبُک سب میں ہم ہوئےجتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے

پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کےاڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے

ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قَسم ہوئے

سختی کشانِ عشق کی پوچھے ہے کیا خبروہ لوگ رفتہ رفتہ سراپا الم ہوئے

تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میںتیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے

لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خوں چکاںہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

اللہ ری تیری تندئ خو جس کے بیم سےاجزاۓ نالہ دل میں مرے رزقِ ہم ہوئے

اہلِ ہوس کی فتح ہے ترکِ نبردِ عشقجو پاؤں اٹھ گئے وہی ان کے علم ہوئے

نالے عدم میں چند ہمارے سپرد تھےجو واں نہ کھنچ سکے سو وہ یاں آ کے دم ہوئے

چھوڑی اسدؔ نہ ہم نے گدائی میں دل لگیسائل ہوئے تو عاشقِ اہلِ کرم ہوئے

۱۹۸۔ جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی

جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی

مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانیکبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی

یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتاکہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی

۱۹۹۔ ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہے

ظلمت کدے میں میرے شبِ غم کا جوش ہےاک شمع ہے دلیلِ سحر سو خموش ہے

نے مژدۂ وصال نہ نظّارۂ جمالمدّت ہوئی کہ آشتئ چشم و گوش ہے

مے نے کِیا ہے حسنِ خود آرا کو بے حجاباے شوق یاں اجازتِ تسلیمِ ہوش ہے

گوہر کو عقدِ گردنِ خوباں میں دیکھناکیا اوج پر ستارۂ گوہر فروش ہے

دیدار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مستبزمِ خیال مے کدۂ بے خروش ہے

اے تازہ واردانِ بساطِ ہواۓ دلزنہار اگر تمہیں ہوسِ ناۓ و نوش ہے

دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہومیری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہیمطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساطدامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صداۓ چنگیہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میںنے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئیاک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میںغالبؔ صریرِ خامہ نواۓ سروش ہے

۲۰۰۔ آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے

دل سے اٹھا لطفِ جلوہ ہاۓ معانیغیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارےوائے اگر عہد استوار نہیں ہے

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔتیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

۲۰۱۔ میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں

میں انہیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مے پیے ہوتے

قہر ہو یا بلا ہو جو کچھ ہوکاشکے تم مرے لیے ہوتے

میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی یا رب کئی دیے ہوتے

آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔکوئی دن اور بھی جیے ہوتے

۲۰۲۔ ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہے

ہجومِ غم سے یاں تک سر نگونی مجھ کو حاصل ہےکہ تارِ دامن و تارِ نظر میں فرق مشکل ہے

رفوۓ زخم سے مطلب ہے لذّت زخمِ سوزن کیسمجھیو مت کہ پاسِ درد سے دیوانہ غافل ہے

وہ گل جس گلستاں میں جلوہ فرمائی کرے غالبؔچٹکنا غنچۂ گل کا صداۓ خندۂ دل ہے

۲۰۳۔ پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نورد

پا بہ دامن ہو رہا ہوں بسکہ میں صحرا نوردخارِ پا ہیں جوہرِ آئینۂ زانو مجھے

دیکھنا حالت مرے دل کی ہم آغوشی کے وقتہے نگاہِ آشنا تیرا سرِ ہر مو مجھے

ہوں سراپا سازِ آہنگِ شکایت کچھ نہ پوچھہے یہی بہتر کہ لوگوں میں نہ چھیڑے تو مجھے

۲۰۴۔ جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے

جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوےجاں کالبدِ صورتِ دیوار میں آوے

سائے کی طرح ساتھ پھریں سرو و صنوبرتو اس قدِ دلکش سے جو گلزار میں آوے

تب نازِ گراں مایگئ اشک بجا ہےجب لختِ جگر دیدۂ خوں بار میں آوے

دے مجھ کو شکایت کی اجازت کہ ستمگرکچھ تجھ کو مزہ بھی مرے آزار میں آوے

اس چشمِ فسوں گر کا اگر پائے اشارہطوطی کی طرح آئینہ گفتار میں آوے

کانٹوں کی زباں سوکھ گئی پیاس سے یا رباک آبلہ پا وادیِ پر خار میں آوے

مر جاؤں نہ کیوں رشک سے جب وہ تنِ نازکآغوشِ خمِ حلقۂ زُنّار میں آوے

غارت گرِ ناموس نہ ہو گر ہوسِ زرکیوں شاہدِ گل باغ سے بازار میں آوے

تب چاکِ گریباں کا مزا ہے دلِ نالاںجب اک نفس الجھا ہوا ہر تار میں آوے

آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہاں سےاے وائے اگر معرضِ اظہار میں آوے

گنجینۂ معنی کا طلسم اس کو سمجھیےجو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.