Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 8 sur 16

Ghazals 142–158 (Radifs Vav to He)

غزلیں ۱۴۲ تا ۱۵۸ (ردیف و تا ہ)

Mirza Asadullah Khan Ghalib

Écriture
Taille

ردیف و

۱۴۲۔ حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہو

حسد سے دل اگر افسردہ ہے، گرمِ تماشا ہوکہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظّارہ سے وا ہو

بہ قدرِ حسرتِ دل چاہیے ذوقِ معاصی بھیبھروں یک گوشۂ دامن گر آبِ ہفت دریا ہو

اگر وہ سرو قد گرمِ خرامِ ناز آ جاوےکفِ ہر خاکِ گلشن، شکلِ قمری، نالہ فرسا ہو

۱۴۳۔ کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیں

کعبے میں جا رہا، تو نہ دو طعنہ، کیا کہیںبھولا ہوں حقِّ صحبتِ اہلِ کُنِشت کو

طاعت میں تا رہے نہ مے و انگبیں کی لاگدوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو

ہوں منحرف نہ کیوں رہ و رسمِ ثواب سےٹیڑھا لگا ہے قط قلمِ سرنوشت کو

غالبؔ کچھ اپنی سعی سے لہنا نہیں مجھےخرمن جلے اگر نہ مَلخ کھائے کشت کو

۱۴۴۔ وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہو

وارستہ اس سے ہیں کہ محبت ہی کیوں نہ ہوکیجے ہمارے ساتھ، عداوت ہی کیوں نہ ہو

چھوڑا نہ مجھ میں ضعف نے رنگ اختلاط کاہے دل پہ بار، نقشِ محبت ہی کیوں نہ ہو

ہے مجھ کو تجھ سے تذکرۂ غیر کا گلہہر چند بر سبیلِ شکایت ہی کیوں نہ ہو

پیدا ہوئی ہے، کہتے ہیں، ہر درد کی دوایوں ہو تو چارۂ غمِ الفت ہی کیوں نہ ہو

ڈالا نہ بیکسی نے کسی سے معاملہاپنے سے کھینچتا ہوں خجالت ہی کیوں نہ ہو

ہے آدمی بجائے خود اک محشرِ خیالہم انجمن سمجھتے ہیں خلوت ہی کیوں نہ ہو

ہنگامۂ زبونئِ ہمّت ہے، انفعالحاصل نہ کیجے دہر سے، عبرت ہی کیوں نہ ہو

وارستگی بہانۂ بیگانگی نہیںاپنے سے کر، نہ غیر سے، وحشت ہی کیوں نہ ہو

مٹتا ہے فوتِ فرصتِ ہستی کا غم کوئی؟عمرِ عزیز صرفِ عبادت ہی کیوں نہ ہو

اس فتنہ خو کے در سے اب اٹھتے نہیں اسدؔاس میں ہمارے سر پہ قیامت ہی کیوں نہ ہو

۱۴۵۔ ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کرو

ابر روتا ہے کہ بزمِ طرب آمادہ کروبرق ہنستی ہے کہ فرصت کوئی دم دے ہم کو

۱۴۶۔ ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کو

ملی نہ وسعتِ جولان یک جنون ہم کوعدم کو لے گۓ دل میں غبارِ صحرا کو

۱۴۷۔ قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کو

قفس میں ہوں گر اچھا بھی نہ جانیں میرے شیون کومرا ہونا برا کیا ہے نوا سنجانِ گلشن کو

نہیں گر ہمدمی آساں، نہ ہو، یہ رشک کیا کم ہےنہ دی ہوتی خدایا آرزوئے دوست، دشمن کو

نہ نکلا آنکھ سے تیری اک آنسو اس جراحت پرکیا سینے میں جس نے خوں چکاں مژگانِ سوزن کو

خدا شرمائے ہاتھوں کو کہ رکھتے ہیں کشاکش میںکبھی میرے گریباں کو، کبھی جاناں کے دامن کو

ابھی ہم قتل گہ کا دیکھنا آساں سمجھتے ہیںنہیں دیکھا شناور جوئے خوں میں تیرے توسن کو

ہوا چرچا جو میرے پاؤں کی زنجیر بننے کاکیا بیتاب کاں میں جنبشِ جوہر نے آہن کو

خوشی کیا، کھیت پر میرے اگر سو بار ابر آوےسمجھتا ہوں کہ ڈھونڈے ہے ابھی سے برق خرمن کو

وفاداری بشرطِ استواری اصل ایماں ہےمرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

شہادت تھی مری قسمت میں جو دی تھی یہ خو مجھ کوجہاں تلوار کو دیکھا، جھکا دیتا تھا گردن کو

نہ لٹتا دن کو تو کب رات کو یوں بے خبر سوتارہا کھٹکا نہ چوری کا، دعا دیتا ہوں رہزن کو

سخن کیا کہہ نہیں سکتے کہ جویا ہوں جواہر کےجگر کیا ہم نہیں رکھتے کہ کھودیں جا کے معدن کو

مرے شاہِ سلیماں جاہ سے نسبت نہیں غالبؔفریدون و جم و کیخسرو و داراب و بہمن کو

۱۴۸۔ واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمسار

واں اس کو ہولِ دل ہے تو یاں میں ہوں شرمساریعنی یہ میری آہ کی تاثیر سے نہ ہو

اپنے کو دیکھتا نہیں ذوقِ ستم کو دیکھآئینہ تاکہ دیدۂ نخچیر سے نہ ہو

۱۴۹۔ واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کو

واں پہنچ کر جو غش آتا پئے ہم ہے ہم کوصد رہ آہنگِ زمیں بوسِ قدم ہے ہم کو

دل کو میں اور مجھے دل محوِ وفا رکھتا ہےکس قدر ذوقِ گرفتاریِ ہم ہے ہم کو

ضعف سے نقشِ پئے مور، ہے طوقِ گردنترے کوچے سے کہاں طاقتِ رم ہے ہم کو

جان کر کیجے تغافل کہ کچھ امّید بھی ہویہ نگاہِ غلط انداز تو سَم ہے ہم کو

رشکِ ہم طرحی و دردِ اثرِ بانگِ حزیںنالۂ مرغِ سحر تیغِ دو دم ہے ہم کو

سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرّر چاہاہنس کے بولے کہ ’ترے سر کی قسم ہے ہم کو!‘

دل کے خوں کرنے کی کیا وجہ؟ ولیکن ناچارپاسِ بے رونقیِ دیدہ اہم ہے ہم کو

تم وہ نازک کہ خموشی کو فغاں کہتے ہوہم وہ عاجز کہ تغافل بھی ستم ہے ہم کو

لکھنؤ آنے کا باعث نہیں کھلتا یعنیہوسِ سیر و تماشا، سو وہ کم ہے ہم کو

مقطعِ سلسلۂ شوق نہیں ہے یہ شہرعزمِ سیرِ نجف و طوفِ حرم ہے ہم کو

لیے جاتی ہے کہیں ایک توقّع غالبؔجادۂ رہ کششِ کافِ کرم ہے ہم کو

۱۵۰۔ تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو

تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہومجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو

بچتے نہیں مواخذۂ روزِ حشر سےقاتل اگر رقیب ہے تو تم گواہ ہو

کیا وہ بھی بے گنہ کش و حق ناشناس ہیںمانا کہ تم بشر نہیں، خورشید و ماہ ہو

ابھرا ہوا نقاب میں ہے ان کے ایک تارمرتا ہوں میں کہ یہ نہ کسی کی نگاہ ہو

جب مے کدہ چھٹا تو پھر اب کیا جگہ کی قیدمسجد ہو، مدرسہ ہو، کوئی خانقاہ ہو

سنتے ہیں جو بہشت کی تعریف، سب درستلیکن خدا کرے وہ تری جلوہ گاہ ہو

غالبؔ بھی گر نہ ہو تو کچھ ایسا ضرر نہیںدنیا ہو یا رب اور مرا بادشاہ ہو

۱۵۱۔ گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہو

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیوں کر ہوکہے سے کچھ نہ ہوا، پھر کہو تو کیوں کر ہو

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصالکہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں؟ ہو تو کیوں کر ہو

ادب ہے اور یہی کشمکش، تو کیا کیجےحیا ہے اور یہی گومگو، تو کیوں کر ہو

تمہیں کہو کہ گزارا صنم پرستوں کابتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیوں کر ہو

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہجو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیوں کر ہو

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا ساوہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیوں کر ہو

ہمیں پھر ان سے امید، اور انہیں ہماری قدرہماری بات ہی پوچھیں نہ وہ تو کیوں کر ہو

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلی کانہ مانے دیدۂ دیدار جو، تو کیوں کر ہو

بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قراریہ نیش ہو رگِ جاں میں فرو تو کیوں کر ہو

مجھے جنوں نہیں غالبؔ، ولے بقولِ حضور’فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیوں کر ہو‘

۱۵۲۔ کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہونہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے، ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیںسبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو

کیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کونہ لاوے تاب جو غم کی، وہ میرا رازداں کیوں ہو

وفا کیسی، کہاں کا عشق، جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو

قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

یہ کہہ سکتے ہو ’ہم دل میں نہیں ہیں‘ پر یہ بتلاؤکہ جب دل میں تمہیں تم ہو تو آنکھوں سے نہاں کیوں ہو

غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ، دیکھو جرم کس کا ہےنہ کھینچو گر تم اپنے کو، کشاکش درمیاں کیوں ہو

یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہےہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

یہی ہے آزمانا تو ستانا کس کو کہتے ہیںعدو کے ہو لیے جب تم تو میرا امتحاں کیوں ہو

کہا تم نے کہ کیوں ہو غیر کے ملنے میں رسوائیبجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو

نکالا چاہتا ہے کام کیا طعنوں سے تو غالبؔترے بے مہر کہنے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو

۱۵۳۔ رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہو

رہیے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئی نہ ہوہم سخن کوئی نہ ہو اور ہم زباں کوئی نہ ہو

بے در و دیوار سا اک گھر بنایا چاہیےکوئی ہمسایہ نہ ہو اور پاسباں کوئی نہ ہو

پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو بیمار داراور اگر مر جائیے تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

ردیف ہ

۱۵۴۔ شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہ

شبِ وصال میں مونس گیا ہے بَن تکیہہوا ہے موجبِ آرامِ جان و تن تکیہ

خراج بادشہِ چیں سے کیوں نہ مانگوں آج؟کہ بن گیا ہے خمِ جعدِ پُرشکن تکیہ

بنا ہے تختۂ گل ہاۓ یاسمیں بسترہوا ہے دستۂ نسرین و نسترن تکیہ

فروغِ حسن سے روشن ہے خوابگاہ تمامجو رختِ خواب ہے پرویں، تو ہے پرن تکیہ

مزا ملے کہو کیا خاک ساتھ سونے کارکھے جو بیچ میں وہ شوخِ سیم تن تکیہ

اگرچہ تھا یہ ارادہ مگر خدا کا شکراٹھا سکا نہ نزاکت سے گلبدن تکیہ

ہوا ہے کاٹ کے چادر کو ناگہاں غائباگر چہ زانوۓ نل پر رکھے دمن تکیہ

بضربِ تیشہ وہ اس واسطے ہلاک ہواکہ ضربِ تیشہ پہ رکھتا تھا کوہکن تکیہ

یہ رات بھر کا ہے ہنگامہ صبح ہونے تکرکھو نہ شمع پر اے اہلِ انجمن تکیہ

اگرچہ پھینک دیا تم نے دور سے لیکناٹھاۓ کیوں کہ یہ رنجورِ خستہ تن تکیہ

غش آ گیا جو پس از قتل میرے قاتل کوہوئی ہے اس کو مری نعشِ بے کفن تکیہ

شبِ فراق میں یہ حال ہے اذیّت کاکہ سانپ فرش ہے اور سانپ کا ہے من تکیہ

روارکھونہ رکھو، تھاجو لفظ تکیہ کلاماب اس کو کہتے ہیں اہلِ سخن "سخن تکیہ"

ہم اور تم فلکِ پیر جس کو کہتے ہیںفقیر غالبؔ مسکیں کا ہے کہن تکیہ

۱۵۵۔ از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہ

از مہر تا بہ ذرّہ دل و دل ہے آئینہطوطی کو" شش جہت" سے مقابل ہے آئینہ

۱۵۶۔ ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہ

ہے سبزہ زار ہر در و دیوارِ غم کدہجس کی بہار یہ ہو پھر اس کی خزاں نہ پوچھ

ناچار بیکسی کی بھی حسرت اٹھائیےدشوارئِ رہ و ستمِ ہمرہاں نہ پوچھ

۱۵۷۔ نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھ

نہ پوچھ حال اس انداز، اس عتاب کے ساتھلبوں پہ جان بھی آجاۓ گی جواب کے ساتھ

۱۵۸۔ ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھا

ہندوستان سایۂ گل پاۓ تخت تھاجاہ و جلال عہدِ وصالِ بتاں نہ پوچھ

ہر داغِ تازہ یک دلِ داغ انتظار ہےعرضِ فضاۓ سینۂ درد امتحاں نہ پوچھ

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.