
第 9 章,共 10 章
Half Turned to Stone
نصف پتھر ہو جانا
نصف پتھر ہو جانا بکاؤلی کا راجہ اندر کی بددعا سے اور بت خانے میں رہ کر ملنا تاج الملوک سے اور کھدنا بت خانے کا رانی چتراوت کے حکم سے
ہے اب جو بیانِ سنگسارییوں پائے قلم ہوا ہے بھاری
خوش لہجہ بہت بکاؤلی تھیگاتی اور ناچتی بڑی تھی
راجہ نے کہا کہ خوش ہوں تجھ سےجو چاہے آج مانگ مجھ سے
دکھلا کے اُسی پکھاوجی کومانگا کہ یہ دو بکاؤلی کو
ارمان یہی ہوس یہی ہےخاطر کی مراد بس یہی ہے
مانگا جو بشر پری نے بیباکراجہ اندر ہوا غضبناک
بولا کہ اس آدمی کی یہ تابلے چشمۂ آفتاب سے آب
کھویا تجھے تیری آرزو نےجا تیری سزا یہ ہے کہ تو نے
کی ہے حرکت خلافِ آئیںپتھر کا ہو نصف جسم پائیں
اس سختی سے کچھ دنوں رہے توبعد اس کے خاک میں ملے تو
قالب ترا انقلاب پائےجامے میں تو آدمی کے آئے
بارہ برس اس طرح گذر کرپھر تجھ کو ملے پری کا پیکر
اُس وقت جہاں تو چاہے جائےتو اُس کو ملے وہ تجھ کو پائے
روئی وہ بکاؤلی یہ سن کےتڑپا شاہزادہ سر کو دھن کے
خواہش جو بلائے جاں ہوئی وہہلکا ہوا یہ گراں ہوئی وہ
ناری تھی پری ہوا بتائیخاکی تھا بشر زمیں جھنکائی
سایہ سا زمیں پہ جب گرا وہافتاد کو سوچنے لگا وہ
سبزے کی دھوپ چھاؤں مخملصحرا میں بچھی تھی سو گیا شل
چشمہ اک آفتاب سا تھاعاشق کی طرح بھرا ہوا تھا
پریاں کچھ اُدھر نہانے آئیںدیکھا وہ بشر تو کھلکھلائیں
بولیں یہ وہی پکھاوجی ہےعاشق جس پر بکاؤلی ہے
وہ چونک کے بول اٹھا کہ اللہبتلاؤ کہاں ہے وہ کہا آہ
اندر کے غضب سے ہو کے پتھرہے بت سی وہ ایک مٹھ کے اندر
پوچھا کہ کہاں کہا بہت دوربولا وہ پھر کہا کہ مجبور
یہ کہہ کے اتاری سب نے پوشاکباہر ہوئیں جامے سے وہ بیباک
پردے کا خیال کچھ جو آیاتن چادرِ آب سے چھپایا
بے ننگ یہ سب نہا رہی تھیںموجیں باہم اُڑا رہی تھیں
سوچا وہ کہ اُن کو دیجیے جُلخس پوش کیے وہ جامۂ گل
جب خوب وہ شعلہ رو نہائیںباہر بصد آب و تاب آئیں
پوشاک دھری ہوئی نہ پائیجانا کہ حریف نے اڑائی
جھک جھک کے بدن چراتی آئیںرک رک کے قدم بڑھاتی آئیں
دکھلائی کسی نے چشمِ جادوچمکائی کسی نے تیغِ ابرو
جھنجھلا کے کہا کہ لاؤ مانوہم کو بھی بکاؤلی نہ جانو
بولا وہ چہ خوش تم ایسی کیا ہوڈرنے کا نہیں میں کیا بلا ہو
پوشاک جو لینی ہو تو پہنچاؤبولیں وہ چلو کہا قسم کھاؤ
عریانی کے ننگ سے لجائیںستار کی قسمیں سب نے کھائیں
شہزادے نے کر کے پاس اُن کاخلعت سا دیا لباس اُن کا
پریاں ہوئیں رخت سج کے خرسندہو جیسے ہوا حباب میں بند
شانے پہ چڑھا کے مثلِ گیسواُس گل کو اڑایا صورتِ بو
واقف اُس سنگدیپ سے تھیں وہسنگدیپ اُس کو لے گئیں وہ
وہ جائے بکاؤلی بتائیدیوانے کو باولی بتائی
بت خانے میں تھا طلسم کا درششدر رہا چار سمت پھر کر
عقدہ وہ کھلا شام ہو کر اُس کاشق مثلِ قمر ہوا در اُس کا
دیکھا تو وہ بت تھی مٹھ کے اندرجسم آدھا پری تھا آدھا پتھر
تھا ناف سے لے کے تا بہ پا سنگتھا کوہ سریں کے آگے پاسنگ
چومے جو قدم اُس آدمی نےسینے سے لگا لیا پری نے
نرمی سے کہا بخیر گذریکس سختی سے تم بغیر گذری
ہم پر تو پڑے وہاں یہ پتھرتم کیونکر بچے کہا مقدر
گر پڑ کے زمیں پہ مثلِ شبنمپھر پریوں کی مہر سے اُڑے ہم
جذبہ تم پاس کھینچ لایاسختی اب دور ہو خدایا
تا آخرِ شب فسانے کہہ کربولی وہ پری کہ اے دلاور
یہ در مانندِ چشمِ بے خوابہوتا ہے سحر کو بند بے تاب
پیش از دمِ صبح تم نکل جاؤکل پھر سرِ شام خیر سے آؤ
مصرف کو جو ہو ضرورتِ زرزیور مرا مجھ سے لو یہ کہہ کر
کانوں میں سے موتی کچھ نکالےدامن پہ مثالِ اشک ڈالے
صدقے وہ بشر ہوا پری کےقدموں پہ گرا بکاؤلی کے
پانو اُس کے چھوئے تو یخ پائےآنسو چھوڑے گہر اٹھائے
نکلا جیسے ہی مٹھ کے باہرپتھرا گئی چشمِ حلقۂ در
آنکھوں سے وہ دیکھتا ہوا قہرآگے کو بڑھا چلا سوئے شہر
بازار میں جا کے بیچے گوہرمفلس سے ہوا وہ صاحبِ زر
گھوڑا جوڑا نفر حویلیجو جو شے چاہیے تھی لے لی
جب منزلِ شب میں رہروِ روزلے گوہرِ شبنم آیا پرسوز
گنبد گردوں کا تھا جو بے درتاباں ہوئے اس میں ماہ و اختر
سیاروں سے کر کے استخارااُس برج کے رخ وہ مہ سدھارا
دیکھا تو درِ قبول وا تھارگڑا انھیں ایڑیوں پہ ماتھا
شب سایۂ زلف میں بسر کیلی صبح کے ہوتے راہ گھر کی
تقدیر نے راستا بھلایاراجہ کے محل کی جانب آیا
چتراوت اُس کی ماہ پارہغرفے میں سے کرتی تھی نظارہ
دیکھا تو جوان تھا یہ تصویرصورت پہ فدا ہوئی وہ بے پیر
یاں پردۂ در نظر سے گذراواں تیرِ نظر جگر سے گذرا
دستور تھا جس کو بیٹی چاہےباپ اُس کا اُسی کے ساتھ بیاہے
راجہ سے یہ خوش خبر بیاں کیمشاطۂ خوش ادا رواں کی
شادی کی خبر سے وہ یکایکخوش خوش آئی کہا مبارک
اس شہر کا چترسین راجادختر رکھتا ہے ماہ سیما
ہر ملک کے شہریار آئےہر شہر کے تاجدار آئے
راضی تجھ سے ہوئی وہ بے پیرطالع قسمت نصیب تقدیر
بیجاں وہ ہوا کہا کہ جا جاکیسی رانی کہاں کا راجا
دکھلا نہ مجھے ہرے ہرے باغغنچے کی گرہ میں کیا ہے جز داغ
الفت میں ہے آبرو گنوانیکب چشمۂ مہر میں ہے پانی
مکار تو مجھ سے کرتی ہے زوردُر ہو مرے سامنے سے چل دُور
ہٹ دیکھ کے اُس کی ہٹ گئی وہقسمت کی طرح پلٹ گئی وہ
پایا جو جواب منتظر نےآنکھوں میں لگا خیال پھرنے
تقدیر کی بات ہونے والیزر سے ہوا اُس کا ہاتھ خالی
من سانپ کا ران سے نکالابازار آیا وہ سروِ بالا
کیا جوہری مول کرتے اُس کاراجہ تک رفتہ رفتہ پہنچا
جو مدعیوں کا مدعا تھاموقع جو ملا تو کیا برا تھا
جھنجھلا کے ڈرا کے غل مچا کےسمجھا کے دبا کے دست پا کے
من چھین کے چوری کے بہانےبھیجا کھلے بندوں قید خانے
زنداں میں وہ نیم جان و بسملزنجیر میں پاؤں زلف میں دل
غم کھا کے لہو کے گھونٹ پینادم کے دھاگوں سے ہونٹ سینا
داروغۂ محبسِ جفا نےرانی سے کہا کسی بہانے
یوسف کی خبر لے او زلیخازنداں میں ہے وہ عزیز مرتا
اس چاہ میں کام ہو نہ جائےیہ ماہ تمام ہو نہ جائے
دانا تھی وہ جیلخانے آئیبگڑے ہوئے کو منانے آئی
دیکھا تو وہ سرنگوں تھا دلگیرتھی حلقہ بحلقہ زلف و زنجیر
آنکھ اُس سے نہ جب ملائی اُس نےزنجیر اُس کی ہلائی اُس نے
پابندِ بلا وہ مبتلا تھاکب اُس کو خیالِ بندِ پا تھا
رانی نے جو بیدلی نگہ کیبیڑی کٹوائی بے گنہ کی
قدموں پہ گری کہا اٹھو آؤانکار و گریز جانے دو آؤ
اٹھا وہ پری کی آرزو میںیہ سمجھی کہ پھانسا گفتگو میں
واں دھن کہ صنم سے کدخدا ہوںیاں دھیان کہ بت کا پارسا ہوں
تجویز میں اپنے اپنے مفہومآئی تو محل میں مچ گئی دھوم
راجہ نے ستارہ داں بلایاسعدین کا زائچہ ملایا
دن ڈھل کے وہ ماہِ نو سرِ شامغائب ہوا سیر کر کے کچھ گام
دروازے کا مٹھ کے دیدہ وا تھاتوبہ کا در کھلا ہوا تھا
آیا تو وہ کب سے تکتی تھی راہدیکھا تو کہا کہاں رہے واہ
دیکھے جو حنائی ہاتھ بے لاگتلووں سے پری کے لگ گئی آگ
پوچھا کہ بن آئی کس بنی کیکس راہ کی زن نے رہزنی کی
توفیق یہاں تلک جو لاتیمنہدی پاؤں کی گھس نہ جاتی
قدموں سے لگا پسا ہوا وہمنہدی کا جو رنگ تھا کہا وہ
رانی کی وہ مہر و سرگرانیراجہ کی وہ قہر حکمرانی
من بیچتے اپنا قید ہوناداموں کے لیے وہ صید ہونا
چتراوت کا وہ آپ آناسب کہہ کے کہا خدا ہے دانا
شادی نہیں کچھ خوشی سے مانیبے تیرے تھی مرگ زندگانی
غم تھا کہ ترے قدم سے چھوٹاشادی کے بہانے غم سے چھوٹا
پیاری یہ نہیں حنائی چنگالہاتھ ایسے ملے کہ ہو گئے لال
زنجیروں سے پاؤں ہے نکالازلفوں پہ نہیں یہ ہاتھ ڈالا
کالے ڈسیں بال اگر چھوئے ہوںچھالے پڑیں گال اگر چھوئے ہوں
بگڑی وہ کہ چل بنا نہ باتیںمجھ سے کوئی سیکھے ایسی گھاتیں
میری تجھے ایسی کیا لگی تھیتلووں سے ترے حنا لگی تھی
تنگ آیا تو دیکھ قید خاناآسان نہیں کڑی اٹھانا
پتھر کی اگر کہو تو میں ہوںفولاد جگر کہو تو میں ہوں
سہتی ہوں جہاں کی سختی سستیآسایشِ جاں نہ تندرستی
اس تنگ قفس کو سمجھی ہوں باغسنگینیِ گراں نہ جلنے کا داغ
قسمت سے مفر ہے اب نہ مامنپتھر کے تلے دبا ہے دامن
کب چاہے گی عقلِ مصلحت سنجتم تو کرو شادی ہم کریں رنج
راضی ہیں خدا کی جو رضا ہوہوتی ہے سحر چلو ہوا ہو
وہ معتقد اُس کے پاؤں چھو کراٹھا چھاتی پہ رکھ کے پتھر
آیا تو وہ نو عروسِ زیبابستر پہ تھی شکلِ نقشِ دیبا
نیند آئی جو تھی بصد کدورتتھی چیں بجبیں شکن کی صورت
سوئی تو تھی انتظار میں وہجاگی تو بلا کنار میں وہ
سوتے جو کٹی شبِ جوانیسوخفتہ نصیبی اپنی جانی
تھے صبح سے دونوں شام جویاںشب کو ہوئے داخلِ شبستاں
دونوں تھے تصورِ دل میں کاملخلوت خانہ تھا گوشۂ دل
دو آنکھوں کی طرح ایکجا تھےپر دل جو ملا نہ تھا جدا تھے
کروٹ لے کر وہ عنبریں مواٹھ چلنے کا سوچتا تھا پہلو
چپکی ہوئی پیٹھ سے وہ دلگیرآئینہ کی پشت پر تھی تصویر
حیرت چھائی تو کھو گئی وہغفلت آئی تو سو گئی وہ
غافل اسے چھوڑ کر اٹھا یہلپکا تو پری کے رخ گیا یہ
یہ جاگا ہوئی وہ فتنہ بیداردیکھا تو تھا تکیہ جائے دلدار
دوری نے جو حد سے کی درازیجانا کہ کہیں ہے عشق بازی
اس رات کو چپکی ہو رہی وہکل سمجھوں گی کہہ کے سو رہی وہ
وقتِ سحر اُس کو پا کے رانیہمبسترِ خوابِ سرگرانی
خلوت خانے سے باہر آئیدربانوں کے پاس در پر آئی
حکم اُن کو دیا کہ شام کو آججانا ہمراہِ صاحبِ تاج
سایہ کی طرح سے ساتھ رہناجو آنکھ سے دیکھنا وہ کہنا
جس وقت چلا پری کا مانوسسایہ سے پس قدم تھے جاسوس
وہ مٹھ وہ پری مقام دیکھاوہ برج وہ مہ تمام دیکھا
اک آن میں رانی پاس آیاکی عرض کہ لو سراغ پایا
صورت یہ ہے جو نگاہ کی ہےاک مٹھ میں مورت اک پری ہے
آنکھوں سے اس انجمن کو دیکھایکجا بت و برہمن کو دیکھا
لعل و گہر ایک درج میں ہےشمس و قمر ایک برج میں ہے
آنکھ اُس کی یہ سن کے خوں میں ڈوبیمریخ بنی وہ ماہِ خوبی
یاں اُس نے کہا وہ برج کھدواؤواں بولی بکاؤلی کہ لو جاؤ
یاں سے چلے لوگ واں سے وہ زارلپکا یہ اِدھر اُدھر وہ خونخوار
توڑا وہ مٹھ حباب آساپھوڑا جلے دل کا آبلہ سا
شہزادے کے آگے بے حیا نےانعام دیا کھلے خزانے
پاس اُس کا ذرا نہیں کیا کچھاور اُس سے کہا کہ لو سنا کچھ
بنیادِ فساد کھود ڈالیجاسوسوں نے کھود کر نکالی
غائب رہتے تھے روز شب بھراب دیکھ لو جا کے خاک پتھر
سنتے ہی وہ بے قرار لپکادوڑا بے اختیار لپکا
دیکھا تو وہ ماہ رو نہ وہ برجوہ لعلِ گراں بہا نہ وہ درج
شور اُس نے کیا کہ کیا یہ شر ہےآواز آئی کہ بے خبر ہے
بنیاد برافگنی کی بانیہے سوت مری تری وہ رانی
کھدوایا جب اُس نے مٹھ بصد جوررہنے کو ملا ہمیں مکاں اور
واں ٹھوکریں کھاتی سخت تھیں سنگسنگ است بجائے خویشتن سنگ
ہونا تھا یہی تو شکوہ کیا ہےجا کچھ دنوں صبر کر خدا ہے
حیرت زدہ چپ خموش سنسانٹوٹا ہوا دل بندھا ہوا دھیان
آیا تو ہنسی وہ شوخ رانیگویا ہوا وہ بخوش بیانی
تقدیر کو گل کھلانا تھا یوںتو خار سے بیخ کن ہوئی کیوں
دوراں کو تھا انقلاب منظورمختار خدا ہے بندہ مجبور
اُس دن سے ہوا وہ اس سے مانوسراتوں کو رہی وہ شمعِ فانوس
جب کام روا ہوئی وہ رانیگذری بہزار کامرانی
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。