
الفصل 10 من 10
Rebirth, Reunion and the Ending
نیا جنم، وصل اور خاتمہ
پیدا ہونا بکاؤلی کا دہقان کے گھر میں اور جوان ہو کر ملنا تاج الملوک سے
نقطوں سے ہے اب قلم کا دہقاںصفحے کی زمیں پہ دانہ افشاں
جب مٹھ کی رہی نہ بیخ و بنیادجیسے کہ ہو گرد باد برباد
دہقاں تھے نئے زمیں کے جویاسرسوں کا کھیت انھوں نے بویا
جب چین سے کر چکے ترددکھیتی کی ہوئی زمیں پہ واشد
دہقان کی زوجہ کے کھلے بھاگکھانے لگی نوچ نوچ کے ساگ
کھاتے ہی حمل کا ڈھنگ پایاسرسوں سا ہتھیلی پر جمایا
وہ بانجھ تھی جب حمل قبولیسرسوں آنکھوں میں سب کے پھولی
ایامِ مقرری گذر کرپیدا ہوئی اک حسینہ دختر
صورت میں پری جمال میں حورفلفل سی وہ مہ تھی پیشِ کافور
مشہور ہوئی وہ ماہ پارہلوگ آنے لگے پئے نظارہ
وہ منتظرِ ظہورِ نیرنگیعنے تاج الملوک دل تنگ
چرچا سن کر چلا کہ دیکھوںدیکھا تو کھپا نظر میں افسوں
جانا کہ پری وہ سوختہ تنسانچے میں سے ڈھل کے نکلی کندن
چہرے سے پری کا ڈھنگ پایااندر کا وہ قول یاد آیا
دہقاں سے کہا کہ سیم و زر لےدولت صدقے یہ سیمبر دے
دہقاں نے کہا کہ میرے صاحبیہ باتیں تمھیں نہیں مناسب
دختر جو پسند مہ لقا ہےبکتی نہیں لعلِ بے بہا ہے
پھل سے نہیں پیڑ کو سروکارجب تک کہ ہو کام کا نہیں بار
سمجھا وہ کہ میوہ ہے ابھی خامعورت ہو جواں تو نکلے کچھ کام
یہ سوچ کے گھر پھرا وہ دلسوزآیا کیا اُس کو دیکھنے روز
دن دن اُسے ہو گیا قیامتبوٹا سی بڑھی وہ سرو قامت
چلتی تو زمیں میں سرو گڑتےباتیں کرتی تو پھول جھڑتے
خواہاں ہوئے ہم وقار اُس کےدہقاں ہوئے خواستگار اُس کے
کہہ بے سر و برگی اپنی دہقاںبولا کہ ہے رب کے ہاتھ ساماں
شہزادے نے اک دن پھر آ کرشادی کو کہا حیا اٹھا کر
دہقاں نے کہا کہ یا شہنشاہتم کوہِ وقار میں پرِ کاہ
صحبت ہو برابری میں زیبانسبت ہے برادری میں زیبا
دہقان زادی وہ بے محابابول اٹھی کس آن سے کہ بابا
خواہاں سے مرے نہ ہو تو ناخوشہے دخترِ رز نصیبِ مے کش
مطلب کو سمجھ کے گھر پھرا وہوقت آنے کا منتظر رہا وہ
یاں تو یہ حساب کرتا تھا سنواں لوگ ارم کے گنتے تھے دن
گذرا بارے عہدِ سختیآئے ایامِ نیک بختی
دختر وہ پکڑ کے باپ کا ہاتھپچھواڑے مکاں کے لے گئی ساتھ
واں تھا کسی وقت کا دفینہدکھلا کے کہا یہ لے خزینہ
کہنا نہ کسی سے میں پری ہوںتو کیا جانے بکاؤلی ہوں
اک آدمی زاد کی بدولتلائی ترے گھر ہے مجھ کو قسمت
ناگاہ سمن پری لیے تختوارد ہوئی اور کہا کہ لے رخت
رخت اُس نے سج کے تخت اڑایادامانِ نظر سے منہ چھپایا
چتراوت کا محل جدھر تھاسوتا جس رخ وہ سیمبر تھا
واں جا کے ہوئی وہ نور آگیںپروانے کی اپنے شمعِ بالیں
بیدار کیا وہ ماہ پیکرجاگا تو تھا آفتاب سر پر
اٹھا جو وہ کہہ کے آؤ جانیآواز سے چونک اٹھی وہ رانی
منہ دیکھتے ہی بکاؤلی کاسایہ اُسے ہو گیا پری کا
بولی وہ بکاؤلی سیانیہے سوت مری یہی وہ رانی
بولا وہ کہ لونڈی ہے تمھارییہ کہہ کے اُسے کہا کہ پیاری
چوٹی ہے مری تو ہاتھ اُن کےچل آ کہ چلا میں ساتھ اُن کے
رانی نے کہا کہ گو یہ ہے غیرمیں تیری ہوں تو کسی کا ہو خیر
یہ بات بکاؤلی کو بھائیشہزادے کے ساتھ اُسے بھی لائی
اُڑتے ہی وہ تخت سحر آگیںکیا دُور تھا گلشنِ نگاریں
مدت کے بعد گھر میں آئےکھوئے ہوئے جیسے سب نے پائے
فردوس کی بیسوا وہ دلبرمحمودا دیونی کی دختر
چتراوت چترسین کی جانآرامِ ارم بکاؤلی جان
ان چاروں میں ایک مستِ بادہپورب کا وہ بادشاہزادہ
پانچوں سرِ پنجۂ وفا تھےیا خمسۂ مطلعِ صفا تھے
ہوتے ہی حواسِ خمسہ مجموعآمد ہوئی اقربا کی مسموع
فیروز شہ و جمیلہ داناحسن آرا اور روح افزا
پورب کا وہ شاہ و شاہ بانواطراف سے مملکت کے ہیں تو
جو جو آیا بلا تکلفاک قافلہ سے ملا وہ یوسف
سلطانوں کی قدردانیاں کیںمہمانوں کی میزبانیاں کیں
چندے رہا مجمعِ بد و نیکرخصت ہوا رفتہ رفتہ اک ایک
روح افزا سے بکاؤلی کوالفت تھی روکی دل لگی کو
رکنا ہوا اس پری کا مشکلیہ دل لگی اب لگائے گی دل
عاشق ہونا بہرام وزیر زادہ تاج الملوک کا روح افزا پری پر اور شادی ہونی بکاؤلی کی سعی سے اور کامیاب رہنا
جب ختم پہ داستان آئییوں شاخِ قلم شگوفہ لائی
روح افزا کو بکاؤلی نےروکا جو یہاں کئی مہینے
اک شب کو وہ زلفِ مہ خال تھییا آتشِ مہر کا دخاں تھی
وہ مستِ مئے فسانہ گوئیمہتابی پہ چاندنی سی سوئی
سلطاں کا وزیر زادہ بہرامگلگشتِ چمن میں تھا گل اندام
لٹکی دیکھی پری کی چوٹیناگن سی اُس کے دل پہ لوٹی
کھٹکے سے مگر بکاؤلی کےبھاگا سایہ سے اس پری کے
جب کاکلِ شب سے روئے خورشیدتاباں ہوا بہرِ چشمِ امید
دیکھا تو وہ ماہِ نو کا تھا برجرکھتا تھا درِ یگانہ وہ درج
بیتابی نے کچھ قرار پایامجبوری میں اختیار پایا
مہتابی پہ چاندنی جب آئیسایہ نے پری پہ کی چڑھائی
اس فتنے کی خوابگہ تک آیامانندِ سُہا وہ مہ تک آیا
تجویز رہا تھا گھات گوں کیناگاہ وہ مستِ خواب چونکی
آغوش کی موج سے وہ مضطرمچھلی سی نکل گئی تڑپ کر
پیچھا کیے صحن تک وہ آیامہتاب کے پیچھے جیسے سایا
ملتی اُسے خاک وہ ہوائیانساں کو پری نہ ہاتھ آئی
ہوتے ہی سحر وہ روح افزارخصت ہوئی گھر کو رکھ کے پردا
معشوق سے رہ گیا جو ناکامتھا غم سے کنارِ گور بہرام
تنہا وہ سمن پری تھی اک روزقدموں پہ گرا کہا بصد سوز
دل سے ہوں فدائے روح افزامرتا ہوں برائے روح افزا
بولی وہ ارے بشر سڑی ہےروح افزا کیا بکاؤلی ہے
شہزادے کے ڈھنگ پر تو چلہمتائے فلک نہ ہوگا بادل
بولا وہ کہ مجھ سے اُس سے ہے راہشبنم کی ہے آفتاب کو چاہ
واقف تھی پری کے دیس سے وہلے پہنچی زنانے بھیس سے وہ
فردوس میں مالن ایک تھی حورگل چہرہ پری بنفشہ مشہور
پوشیدہ گھر اُس کے لائی اُس کومنہ بولی بہن بتائی اُس کو
فردوس کی سیر کے بہانےچھوڑا منزل پہ رہنما نے
روح افزا کے لیے بنفشہگلدستہ بناتی تھی ہمیشہ
حاجت کو ذرا گئی جو باہربہرام نے پشتِ آئینہ پر
تحریر کیا کہ بے مروتآئینہ ہے تجھ پہ میری صورت
افسوس مجھے تو آرزو ہواور آئینہ تیرے روبرو ہو
لیکن تو زبسکہ خود نما ہےخود بینی سے جو کرے بجا ہے
یہ لکھ کے ہٹا تو مالن آئیگلدستہ پری کے پاس لائی
روح افزا کا سنگار کر کےمحو اُس کی ہوئی جو پیار کر کے
الٹا اُسے آئینہ دکھایاخط سمجھی وہ کاکلوں کا سایا
مضموں جو پڑھا پری تھی دانانقشِ عملِ نگار خانہ
مشاطہ کو دیکھ کر اکیلیبولی کہ بتاؤ یہ پہیلی
ہاتھ آ کر جو نہ پائے وہ کونہو کر جو نظر نہ آئے وہ کون
سوچی تو بوجھی وہ کہا کلکہہ دوں گی یہ کہہ کے آئی بیکل
بہرام اس سوچ کو سمجھ کربولا کیا ہے کہا الجھ کر
وہ جانتا تھا نہ اُس کو سوجھیبولا لو بات کیا ہے بوجھی
ہاتھ آ کے نہ پائے جو وہ مجذوبہو کر نہ دکھائی دے وہ محبوب
وہ سن کے جو دوسرے دن آئیتقریرِ سنی ہوئی سنائی
سمجھی وہ کہ پوچھ آئی ہے یہپوچھا کس نے بتائی ہے یہ
بولی وہ کہ ہاں مجھے نہ سوجھیمنہ بولی بہن نے میری بوجھی
روح افزا نے کہا کہ ناداںہمراہ اُسے کیوں نہ لائی تو یاں
بولی وہ ابھی چلی میں لائیجا کر طلبی اُسے سنائی
اس مژدہ کا منتظر ہی تھا وہساتھ اُس کے زنانہ میں گیا وہ
امرد کا لباس تھا زنانادھوکا کچھ کھا گئی وہ دانا
پوچھا کہو نام کیا کہا ننگپوچھا کہ نشاں کہا دل تنگ
یہ سن کے اشارے سے بٹھایابادام بنفشہ کو دکھایا
وہ سمجھی کہا یہ پردہ پوشیگندم کے بہانے جو فروشی
بہرام ہے تو ارے وہی چوررہ تجھ کو بناؤں سحر سے گور
بدبین سمجھ کے گور کا نامپنجرہ اک لائی وہ گل اندام
طوق اُس کو طلسم کا پنہایاقمری اُسے سرو نے بنایا
دن بھر تو وہ فاختہ پڑھاتیشب کو اُسے آدمی بناتی
غماز تھی اک خواص اُس کیدمساز تھی وقتِ خاص اُس کی
اک دن پنجرا اڑا کے لائیحسن آرا کو وہ کل سجھائی
کھولا جو وہ بندِ سحر بنیاددیکھا تو مجسم آدمی زاد
گستاخ جو اس بشر کو پایاغصہ غضب اس پری کو آیا
لوگوں سے کہا ہٹاؤ اس کوآتشکدہ میں جلاؤ اس کو
لوگ اس کو لے چلے جلانےتقدیر کے سنیے کارخانے
شہزادہ بکاؤلی کے ہمراہگذرا اُسی راستے سے ناگاہ
دیکھا تو وزیر زادہ بہرامبوتہ میں تھا شکلِ نقرۂ خام
جلنے سے پناہ دے کے اُس کوفردوس میں آئے لے کے اُس کو
زندہ اُسے پا کے حسن آرابولی یہ کہ چور ہے ہمارا
قابل یہ جلانے کے ہے فاسقروح افزا کا بنا ہے عاشق
بولی وہ بکاؤلی کہ قرباںیہ کون سی فہم ہے چچی جاں
پیاری کا جو اپنے ہو پیاراکیونکر ستم اُس پہ ہو گوارا
حسن آرا نے کہا بجا ہےتم کیوں نہ کہو کہ خود کیا ہے
بولی وہ کہ پھر عبث ہے انکارجب عیب نہ تھا تو اب ہے کیا عار
کیا کہتی وہ دم بخود سنا کیسوچی سمجھی رضا خدا کی
مرسوم تھے جس طرح کے اندازشادی کا خوشی خوشی کیا ساز
دو سازِ طرب ملے خوش آہنگدو رازِ ادب کھلے بصد ننگ
شادی جو ہوئی تو غم ہوا دورفردوس سے گھر کو آئی وہ حور
گلزار جو اہریں میں آ کرآباد ہوئی وہ یاسمن بر
حاصل ہوئی ان گلوں کو بہارسیرِ شبِ زلف و صبحِ رخسار
جس طرح انھیں بہم ملایابچھڑے ہوئے سب ملیں خدایا
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.