
Chapter 8 of 10
At the Court of Raja Indar
راجہ اندر کی محفل میں
طلب ہونا بکاولی کا راجہ اندر کی محفل میں اور آگاہ ہو کر ہمراہ جانا تاج الملوک کا
تقدیر سے ہیں جو شادی و رنجاب یوں نئے خامہ ہے نوا سنج
از بس کہ یہ چرخ فتنہ انگیزہے خرمن عیش پر شرر ریز
یکچند وہ مہ تھی کاہشوں میںگذری اک عمر خواہشوں میں
تقدیر سے جب مراد پائیراجہ اندر کو یاد آئی
اندراسن امر نگر ہے شہر ایکخلقت ہے وہاں کی زندہ دل نیک
اندر ہے بادشاہ اس کاآسن ہے تخت گاہ اس کا
مصئون وہ قضا سے اس قدر ہےاس بستی کا نام امر نگر ہے
یزدانیوں کا ہے مسکن اس میںروحانیوں کا نشیمن اس میں
کہتے ہیں مورخان ہندیآباد ہوا پہ ہے وہ بستی
راجہ کہ کمال پارسا ہےمقبول جناب کبریا ہے
خالق نے دیا ہے فوق اس کونغمے سے ہے ذوق شوق اس کو
انساں کا سرود رقص کیا ہےپریوں کا ناچ دیکھتا ہے
باری باری سے جو پری ہےراجہ اندر کی مجرئی ہے
لیکن جو بکاولی دل افگارباری پہ پہونچ سکی نہ بیمار
اک شب راجہ تھا محفل آرایاد آئی بکاولی دل آرا
پوچھا پریوں سے کچھ خبر ہےشہزادی بکاولی کدھر ہے
منہ پھیر کے ایک مسکرائیآنکھ ایک نے ایک کو دکھائی
چتون کو ملا کے رہ گئی ایکہونٹوں کو ہلا کے رہ گئی ایک
بولا وہ کہ چپ ہو کیوں سبب کیابولیں وہ کہ کہیے بے ادب کیا
ناتا پریوں سے اس نے توڑارشتہ اک آدمی سے جوڑا
وہ سن کے خفا ہوا کہا جاؤجس طرح سے بیٹھی ہو اٹھا لاؤ
پریاں اڑیں اوپر اوپر آئیںمہتابی پہ مثل ابر چھائیں
دیکھا تو وہ دونوں کرتے تھے خوابگل تکیے تھے آفتاب و مہتاب
ہم بستر آدمی پری تھیسایہ کے بغل میں چاندنی تھی
غافل جو مؤکلوں نے پایااُس نقشِ مراد کو جگایا
جاگی تو سب اُس کے جوڑ کی تھیںاندر کے اکھاڑے کی پری تھیں
بولیں کہ طلب کیا ہے چلیےجوڑا یہ خراب ہے بدلیے
اٹھی اُسے جی کی طرح چھوڑابدلا مانندِ رنگ جوڑا
ساتھ اُن کے وہ تا بہ محفل آئیلرزاں لرزاں مقابل آئی
راجہ نے نگاہ کی غضب سےپوچھا کہ یہ بے حیائی کب سے
بو آتی ہے آدمی کی جاؤناپاک ہے آگ اسے دکھاؤ
شعلہ سا پری کا جسم کانپامنہ دامنِ اشک تر سے ڈھانپا
پریوں نے کشاں کشاں نکالاصندل آتشکدے میں ڈالا
کافور سی جل اٹھی سراپاٹھنڈی ہوئیں تھا جنہیں جلاپا
جو آتشِ گل نہ لے چمن سےجھونکا اُسے آگ میں جلن سے
جس رخ پہ تھی کاکلِ معنبرتھا چشم زدن میں دودِ اخگر
جس جسم پہ تھی نفیس پوشاکشعلے کے سوا نہ کچھ تھا خاشاک
عیسیٰ نفس ایک خضر آئیچھینٹے سے جلی ہوئی جلائی
شعلے سے زیادہ پاک داماںآکر ہوئی انجمن میں رقصاں
ناچی گائی غریب ناچاراغیار ادا سے کر لیے یار
برخاست کا وقت صبحدم تھاراجہ وہ کہ صاحبِ کرم تھا
بولا جا یوں ہی آئیو روزجل بجھ کے سدا اٹھائیو سوز
رخصت پاتے ہی وہ ہوائیپرّاں پرّاں ہوا سی آئی
پشواز کنارِ حوض اتاریشب کی پوشاک پہنی ساری
بیتاب آرام گہ تک آئیہمخواب کی آنکھ بند پائی
یوں سیج پہ آ کے سوئی بیتابجس شکل سے آئے آنکھ میں خواب
وہ آہوئے مست خوابِ خرگوشیعنے تاج الملوک بیہوش
اُس شب کو بغل میں آ کے جاگاپر دوسری شب وہ جا کے جاگا
دیکھا تو وہ متصل نہیں ہےپہلو میں جگر کے دل نہیں ہے
حاجت کے گماں سے جب ہوئی دیرجھنجھلا کے پلنگ سے اٹھا شیر
دائیں دیکھا نظر نہ آئیبائیں دیکھا کہیں نہ پائی
عورت تھی گمانِ بد سے کھٹکاجانا کہیں دل کسی سے اٹکا
اژدر نظر آیا در کا سایہسمجھا وہ پلنگ چار پایہ
آنکھوں میں جو چھا گیا اندھیراپل مارتے ہو گیا سویرا
جاگا تو پری بغل میں پائیوہ نقشِ وفا عمل میں پائی
دانستہ خبر ہوا نہ بیتابگویا کہ وہ شب کا حال تھا خواب
جب مہرِ فلک گیا لبِ باممہتابی پہ آیا مہ سرِ شام
معمول سے بزم میں ہوئے جمعمینا و کباب و مجمر و شمع
جام اُس نے بھرا کہا پی لےدل اُس کا بھرا تھا جام کیا لے
ٹھانی تھی کہ آج رہ کے بیداردیکھوں جاتی کہاں ہے عیار
بولا کہ ہیں دردِ سر کے کچھ طورمیں آج نہ ہوں گا شاملِ دور
ہٹ اُس نے جو کی تو ہاتھ ماراشیشہ ہوا چور چور سارا
ہوتی ہے جو نوکِ شیشہ نشترچرکے لگے اُس کے انگلیوں پر
بیداریِ شب کی گھات پائیحکمت سرِ دست ہاتھ آئی
کف میں نمکیں کباب لے کرچھڑکا نمک اُن جراحتوں پر
بند آنکھیں کیے ہوئے شکر لببیدار رہا تو آخرِ شب
پریوں نے ہوا سے تخت اتاراثابت ہوا ٹوٹتا ستارہ
سوتا اسے جان کر اٹھی وہپوشاک بدلنے کو گئی وہ
اُس تخت کا یہ پکڑ کے پایہپوشیدہ ہوا برنگِ سایہ
بن ٹھن کے جب آئی رشکِ ناہیدذرہ ہوا ہم رکابِ خورشید
جاتے ہی زمیں سے آسماں پرپہنچی اُس بزم میں سماں پر
لوگوں سے بھرا وہ دائرہ تھاپُر صوت و صدا وہ دائرہ تھا
ٹھیکے پہ پہنچ کے تخت ٹھہرامرکز پہ وہ نجم بخت ٹھہرا
آتشکدہ پریوں نے بنا کرپھینکا اُسے پھول سا اٹھا کر
شہزادہ کہ زیرِ تخت زرکارتھا پہلوئے گل میں صورتِ خار
فریاد نہ کرنے پایا مضطرتاباں ہوئی راکھ میں سے اخگر
راجہ جس رخ تھا محفل آرادل لینے اُدھر چلی دل آرا
ہمراہ چلا وہ چھوڑ پایہآگے تھی پری تو پیچھے سایہ
محفل میں جو آئی شمعِ محفلپروانوں کا ہاتھ سے گیا دل
جو گاتی تھیں بیٹھیں مثلِ آوازمجرے کو اٹھی وہ صورتِ ناز
وہ ناچنے کیا کھڑی ہوئی تھیخود راگنی آ کھڑی ہوئی تھی
رقص اُس کا اگرچہ خوشنما تھاسنگت کا پکھاوجی تھکا تھا
شہزادے نے دیکھ دائیں بائیںلیں طبلہ نواز کی بلائیں
آہستہ کہا کہو تو آؤںفرماؤ تو بندگی بجاؤں
اُس نے جو پکھاوج اُس کو دے دیکیفیت اتفاق نے دی
تھا سم پہ یہ اُس پری کا نقشاسب آنکھ ملا کے کہتے تھے آ
محظوظ کیا جو سب کو یکباربخشا راجہ نے نولکھا ہار
انداز سے اُس نے لے کے مالاکاندھے پہ پکھاوجی کے ڈالا
برخاست کا تھا وہ رخصتی ہاربرہم ہوئی بزم اٹھے سب اک بار
لے ہار وہ شاہزادہ فی الفورپنہاں ہو زیرِ تخت اُسی طور
بادِ سحری چلی جو سن سےوہ شمع سدھاری انجمن سے
خورشید سے پہلے اُڑ کر آئیتاروں کی چھاؤں میں گھر آئی
وہ حوض کے رخ چلی اتر کریہ آنکھ بچا کے سوئے بستر
وہ آئی تو غافل اُس کو پایاآغوش میں آ گلے لگایا
جب پردۂ صبح ہو گیا فاشخنداں خنداں اٹھا وہ بشاش
اُس غنچہ دہن کا مسکرانابیرنگ بکاؤلی نے جانا
ہنستے ہنستے کہا ہنسے کیوںہنستا نہیں بے سبب کوئی یوں
بولا وہ کہ خواب دیکھتا تھاآتش پہ کباب دیکھتا تھا
بولی وہ کہ ہم بتائیں تعبیردلسوزی کرے گا کوئی دلگیر
بولا وہ کہ رات کو افق میںخورشید تھا آتشِ شفق میں
بولی وہ کہ مہر سے شب و روزعالم میں رہو گے رونق افروز
بولا وہ کہ اک مقام ہو تھاگلزارِ خلیل روبرو تھا
بولی کہ بشر ہو تم دلاورسرسبز ہو قومِ آتشی پر
بولا وہ دیکھی اک شبستاںشعلہ ہوا انجمن میں رقصاں
بولی کہ وہ شعلہ میں پری ہوںجو ناچ نچاؤ ناچتی ہوں
بولا وہ کہ جب ہوا اُجالابخشا مہِ انجمن نے ہالا
ہالہ مہِ انجمن کا کیا تھاوہ ہار تھا جو گلے پڑا تھا
گھبرائی پری کہ ہیں یہ کیا ہےبولا وہ کہ ہار نولکھا ہے
کاندھے پہ تھا جس کے رات ڈالاپہچانتی ہو وہ طبلے والا
کیوں جی یہ اکیلے شب کو جانااوپر اوپر مزے اڑانا
یہ سن کے پری وہ سوختہ تنبولی کہ سن اے صلاح دشمن
میں جا کے جلی تو غم نہیں ہائےڈر ہے کہ نہ تجھ پہ آنچ آ جائے
میرے چلنے پہ خاک ڈالوتم نام نہ واں کے چلنے کا لو
افروختہ آتشِ حسد ہےجلنا یہ سپندِ چشمِ بد ہے
بولا وہ کہ یہ نہ ہوگا مجھ سےمیں دو قدم آگے ہوں گا تجھ سے
سمجھاتی رہی اُسے وہ دانالیکن اُس نے کہا نہ مانا
عازم ہوا شب کو آتے ہی تختیا قسمت یا نصیب یا بخت
واں جا کے وہ سوجھی اُس کو بے لاگلے چلیے تو راجہ لائے گا راگ
سنگت کا پکھاوجی بنا کےگائی یہ غزل مقام پا کے
غزل
ساقی قدحِ شراب دے دےمہتاب میں آفتاب دے دے
ساقی باقی جو کچھ ہو لے لےباقی ساقی شراب دے دے
اُس بت سے نہیں سوال کچھ اوراپنے منہ سے جواب دے دے
لیلیٰ میں نے تجھے بنایامجنوں مجھ کو خطاب دے دے
اُس گل سے نسیم زر نہیں مانگجو چاہے وہ بے حساب دے دے
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.