
Chapitre 6 sur 10
The Spell; Bakavali in Chains; Taj-ul-Muluk and Ruh-afza
طلسم؛ بکاؤلی پابہ زنجیر؛ تاج الملوک اور روح افزا
افشائے راز ہو کر پھنسنا تاج الملوک کا طلسم میں اور مقید ہونا بکاولی کا
خونی رتی سے کلک شنجرفہے سرخ کشائے معنی و حرف
ازبسکہ یہ عشق فتنہ پردازہے شمع فروز پردۂ راز
ہمدم جو بکاولی نے پایاغماز یہ غم خوشی میں لایا
بھڑکائی جمیلہ مادر اس کیگزرانی خبر برابر اس کی
اک شب کہ تھی خال روئے شامتیا مردم دیدۂ قیامت
آ کر جو ہے دیکھتی جمیلہروشن ہے چراغ اور فتیلہ
وہ شعلۂ آتشیں لپک کےبجلی سی گری چمک دمک کے
دونوں کی رہی نہ جان تن میںکاٹو تو لہو نہ تھا بدن میں
شہزادے پہ اس نے مار چنگالدریائے طلسم میں دیا ڈال
بیٹی کی طرف کیا اشارہجھلا کے کہا کہ خام پارہ
حرمت میں لگایا داغ تو نےلٹوائی بہار باغ تو نے
تھمتا نہیں غصہ تھامنے سےچل دور ہو میرے سامنے سے
خجلت سے پری زمیں میں گڑ کےسایہ سی رہی قدم پکڑ کے
مادر نے ہزار پاسباں میںرکھا اسے قید کے مکاں میں
پابزنجیر ہونا بکاولی کا سودائے فراق تاج الملوک میں
سودائے الم ہے اب جو تحریرحرفوں سے قلم ہے پابزنجیر
سنسان وہ دم بخود تھی رہتیکچھ کہتی تو ضبط سے تھی کہتی
کرتی تھی جو بھوک پیاس بس میںآنسو پیتی تھی کھا کے قسمیں
جامے سے جو زندگی کے تھی تنگکپڑوں کے عوض بدلتی تھی رنگ
یکچند جو گزرے بے خور و خوابزائل ہوئی اس کی طاقت و تاب
صورت میں خیال رہ گئی وہہیئت میں مثال رہ گئی وہ
آنے لگے بیٹھے بیٹھے چکرفانوس خیال بن گیا گھر
پریاں وہ جو اس کی پاسباں تھیںدانا و عقیل و خوش بیاں تھیں
سمجھانے لگیں کہ مرتی ہے کیوںترک خور و خواب کرتی ہے کیوں
ثابت کچھ اثر ستارے کا ہےاس چاند کو کیا گہن لگا ہے
رحم اپنی جوانی پر ذرا کرمنہ دیکھ تو آئینہ منگا کر
صورت تری زار ہو گئی ہےگل ہو کے تو خار ہو گئی ہے
ہے ہے تری عقل کس نے کھوئیناجنس کو چاہتا ہے کوئی
سہتی نہیں آگ ماہیٔ تررہتا نہیں پانی میں سمندر
مذکور نہیں ہے کچھ حسد کاساتھی نہیں کوئی کار بد کا
روشن ہے جو کچھ کیا ہے اندھیرپھیر اپنی سمجھ کا ہے پھیر
محبوس کیا ہے تجھ کو ہر چندتوبہ کا تو در نہیں کیا بند
بھولے سے بھی کر نہ یاد آدمپھر گھر وہی تو وہی وہی ہم
اے شمع نہ سوچ گر بد و نیکرشتہ کاٹے گا تجھ سے ہر ایک
سمجھانے سے تھا ہمیں سروکاراب مان نہ مان تو ہے مختار
تو قید جفا میں ہے کہ ہم ہیںتو دام بلا میں ہے کہ ہم ہیں
غم راہ نہیں کہ ساتھ دیجےدکھ بوجھ نہیں کہ بانٹ لیجے
جھنجھلائی بکاولی کہ بس بساب ایک کہو گی تم تو میں دس
رنجور جو ہوں تو میں تمہیں کیامجبور جو ہوں تو میں تمہیں کیا
مانا مری حالت اب ردی ہےبہتر ہے وہی جو کچھ بدی ہے
بلبل اسی رشک گل کی ہوں میںتم کیا ہو ہزار میں کہوں میں
سوچیں وہ کہ یہ نہیں سمجھتیہے بلکہ برنگ زلف الجھتی
مجنوں ہو اگر تو فصد لیجےسایہ ہو تو دوڑ دھوپ کیجے
کچھ روگ جو درپئے خلش ہودرماں کے لیے دوا دوش ہو
بیماری عشق لا دوا ہےاس باغ کی اور ہی ہوا ہے
آخر یہ تو جی سے اپنے ہے تنگایسا نہ ہو لائے اور کچھ رنگ
یاد آئیں جو ابروان خم داررہتے نہ کہیں گلے پہ تلوار
وہ سبزۂ خط جو یاد آئےجھنجھلا کے کہیں نہ زہر کھائے
کر یاد کہیں چہ ذقن کوکودے نہ کنوئیں میں باؤلی ہو
دیوانے کی مطلق العنانیہے باعث مرگ ناگہانی
تدبیر کا حوصلہ نکالازنجیر کا سلسلہ نکالا
بیڑی تھی رخ جنوں کی کاکلپابوسی گل کو آیا سنبل
جب وحشت عشق ہو زیادہزنجیر ہے بیش پا فتادہ
شوریدہ بکاولی غضب تھیزنجیروں میں بھی وہ بند کب تھی
بڑھتی جب دل کی بیقراریپڑھتی یہ غزل بہ آہ و زاری
غزل
عالم کا ترے جہاں بیاں ہےبیتابی دل جہاں جہاں ہے
زنجیر جنوں کڑی نہ پڑیودیوانے کا پانوں درمیاں ہے
ذرے کا بھی چمکے گا ستارہقائم جو زمین و آسماں ہے
جو داغ کہ مہر ہے فلک پردل میں مرے اب تلک نہاں ہے
کس سوچ میں ہو نسیم بولوآنکھیں تو ملاؤ دل کہاں ہے
آنا تاج الملوک کا صحرائے طلسم سے روح افزا پری کے ساتھ فردوس میں
بہر گہر طلسم اخلاصہے بحر سخن میں خامہ غواص
وہ قطرۂ بارش جدائیوہ غرقۂ بحر آشنائی
وہ پادشہ حباب افسریعنی تاج الملوک مضطر
بے مہری چرخ سے جو ناگاہگرداب کے ہالے کا ہوا ماہ
جو ماہ سپہر برتری تھاسو ماہی بحر ابتری تھا
بادل سا وہ بحر آسماں جوشبجلی سا تھا لہر سے ہم آغوش
دریا تھا نہ بحر تھا نہ جیحوںطوفان طلسم جوش افسوں
گرتے تو وہ پانی سر سے گذراابھرا تو نہ کچھ نظر سے گذرا
موجوں کی عوض تھی چین داماںگرداب کے بدلے تھا گریباں
آگے جو بڑھا جزیرہ دیکھااشجار کا واں ذخیرہ دیکھا
جس پھل کو چھوا جو پھر کیا غورہاتھ آیا نہ کچھ حباب کے طور
جانا کہ طلسم کا ہے جنگلہے یاں کے درخت کا یہی پھل
اور آگے بڑھا وہ بحر اوہامڈوبا خورشید ہو گئی شام
ڈر جانوروں کا جی میں پیٹھااک نخل کہن پہ چڑھ کے بیٹھا
ناگاہ سنی صدائے پر خوفآیا اک اژدہا پئے طوف
صورت میں پہاڑ کی نشانیسیرت میں بلائے ناگہانی
منہ کھول کے سانپ اک نکالااس کالے نے من زمیں پہ ڈالا
لہرا لہرا کے اوس چاٹیبن میں کالوں نے رات کاٹی
جب صبح ہوئی تو منہ میں ڈالاکالے نے من اژدہے نے کالا
وہ جا کے افق میں مہر چمکامن افعی شب کے منہ سے نکلا
سوچا وہ کہ لیجے من کسی طوردشمن کا تھا سامنا کیا غور
کچھ گائیں کلیلیں کر رہی تھیںبن میں ہری دوب چر رہی تھیں
دودھ ان کا دوہا پیا کہا لوگوبر کے انھیں کے چھوت پھیکو
نکلا جو پھر آ کے شب کو اژدرگلخن سے دھواں دھوئیں سے اخگر
گوبر پھینکا تو دب گیا منبادل میں چھپا وہ ماہ روشن
بے روشنی اندھے ہو گئے وہمن ڈھونڈتے آپ کھو گئے وہ
من لے کے جو اس نے مہرہ ماراشب کاٹ کے صبحدم سدھارا
دو مرغ تھے بیٹھے اک شجر پرمادہ لگی پوچھنے کہ او نر
میں تجربہ کر چکی جہاں کاکھلتا نہیں کچھ طلسم یاں کا
مادہ سے یہ سن کے بول اٹھا نرہے طرفہ طلسم اس جگہ پر
وہ پیڑ جو حوض پر لگا ہےطوبیٰ سے خواص میں سوا ہے
اک سانپ ہے واں پہ چوٹ کرتامارے سے نہیں کسی کے مرتا
لیکن جو یہ بندۂ خدا جائےتا حوض قدم قدم چلا جائے
لپکے گا خود اس کو دیکھ کر سانپمنہ چادر آب میں یہ لے ڈھانپ
ابھرے گا لگا کے جب یہ غوطابن جائے گا آدمی سے طوطا
اندیشہ نہ اپنے دل میں لائےاڑ کر یہ اسی شجر پہ جائے
سب خشک ہے ایک ہی ہری ڈالدو رنگ کے پھل ہیں سبز اور لال
پہلے تو یہ لال پھل کو کھائےانسان کا رنگ روپ پائے
پھر توڑے اس کے سبز پھل کوپھل کچھ اسے دے رہیگا کل کو
جس شخص کے پاس وہ ثمر ہوہتھیار نہ اس پہ کارگر ہو
لکڑی میں اثر یہ ہے کہ دشمنبن جاتا ہے موم اگر ہو آہن
دو ہاتھوں میں لے جو کاندھے سےاڑتا پھرے جیسے مرغ پر سے
ٹوپی جو بنائے چھیل کر چھالدکھلائی نہ دے نظر کی تمثال
پتے کی صفت بیان کیا ہودم بھر میں بھرے جراحتوں کو
منہ میں رہے گوندا اس کا جب تکلگتی نہیں بھوک پیاس تب تک
تھا ملہم غیب مرغ گویاسنتے ہی ادھر چلا وہ جویا
کالے نے جہاں سے کی سیاہیوہ حوض میں تھا مثال ماہی
طوطا بن کر شجر پہ آ کرپھل کھا کے بشر کا روپ پا کر
پتے پھل گوند چھال لکڑیاس پیڑ سے لے کے راہ پکڑی
ہاتھ آ جو گئی عصا کی تاثیرپرّاں ہوا صورت عصافیر
اڑتا ہوا واں سے دور جا کرٹھہرا دم لینے اک جگہ پر
من ران کو چیر کر چھپایاپتے سے وہ زخم سب بھر آیا
اک حوض پر آب و تاب دیکھاسرچشمۂ آفتاب دیکھا
غوطہ جو لگا کے سر اٹھایاوہ حوض وہ آب کچھ نہ پایا
دکھلائی برے دنوں نے شامتمردی کی رہی نہ کچھ علامت
حوض اس کی ہوئی یہ دیکھتے ہیفوارہ تو گم خزانہ باقی
سختی جو دکھاتا تھا مقدرچھاتی پہ دھرا کچوں سے پتھر
نامردی سے اپنی نعرہ زن ہوبیچاری چلی کسی طرف کو
آگے سے جوان ایک خوش قدآتا تھا دنوں کی جیسے آمد
باہم زن و مرد نے کیا میلدریا سے ملا وہ قطرہ زن سیل
بارے جو پڑی گھڑا اس کے بے قیدامید سے رہ گئی وہ نومید
جب جنتے نہانے کا دن آیاغوطہ کسی حوض میں لگایا
ابھرے تو نہ حوض تھا نہ وہ روپپانی کے عوض تھی دشت کی دھوپ
مردی نے جو پھر وجود پایاپستانوں کو بے نمود پایا
ترکش پہ نگاہ کی تو تھا تیرقبضے میں پھر آئی کھو کے شمشیر
گو شمع بنا چراغ دامنروشن نہ ہوا وہ زنگ و روغن
تھا مردم دیدۂ طلسماتخال رخ و رنگ رو مساوات
اک دیونی مردہ دل سی مبہوتپستاں سے قد اس کا نخل تابوت
زنبور سیاہ خال اس کےبرگد کی جٹائیں بال اس کے
گٹھا لئے سر پہ لکڑیوں کاچلتی تھی سموم کا سا جھونکا
شہزادہ کہ تھا کریہہ منظروہ روسیہ اس کو سمجھی شوہر
گٹھا وہ دیا کہ بیچ لا جاکیجو نہیں دیر جلد آ جا
حیرت زدہ شاہزادہ ناچارراہی ہوا سر پہ رکھ کے انبار
جب بڑھ کے ہوا نظر سے اوجھلہلکا ہوا پھینک پھانک بوجھل
واں سے جو بڑھا تو ایک چشمہپر آب تھا چشم منتظر سا
غوطہ جو لگا کے سر ابھاراپایا وہی رنگ و روپ سارا
کھویا ہوا مال ہاتھ آیابولا وہ کہ شکر ہے خدایا
خورشید مرا گہن سے چھوٹازنگ آئینۂ بدن سے چھوٹا
یا رب یہی اب میں چاہتا ہوںیہ چشمہ پھر آنکھ سے نہ دیکھوں
نادان ہو جو آبرو کو کھوئےاس پانی سے ہاتھ منہ کو دھوئے
یہ کہہ کر کاندھے رکھ کے لاٹھیگھوڑوں پہ ہوا کے باندھی کاٹھی
کھانے کو شجر کا گوند تھا پاسکیا دخل کہ بھوک لگتی یا پیاس
دیکھا ناگاہ کوہ البرزاک دیو سیاہ تھا لئے گرز
ٹوپی وہ جو سر پہ چھال کی تھیعریانی میں پردہ حال کی تھی
اس دیو کے آگے سے بڑھا وہسایہ سا پہاڑ پر چڑھا وہ
گریاں لب حوض اک پری تھیفوارے کی طرح رو رہی تھی
پر جوش و خروش اسے جو پایاروپوش نے تاج سر اٹھایا
دیکھا جو پری نے آدمی زادآہستہ کہا کہ خانہ برباد
رستہ ترا کھو گیا کہاں سےکھا جائے گا دیو بھاگ یاں سے
بولا وہ بشر کہ دیو کیساہم کو تو ملا نہ کوئی ایسا
بولی وہ پری کہ جا کہا مانسر پر ہیں ترے قضا کے سامان
بولا وہ کہ بیقراری کیا ہےتم اپنی کہو ہماری کیا ہے
کیوں روتی ہو کس کی یاد میں ہوکیا رنج ہے کس فساد میں ہو
بولی وہ حسیں کہ میں پری ہوںاس دیو کے بس میں آ گئی ہوں
فردوس کا بادشہ مظفرروح افزا جس کی ہوں میں دختر
سردار کرور دیوؤں کا ہےسلطان ارم مرا چچا ہے
اک دن میں چلی چچا کے گھر کوماندی تھی بکاولی خبر کو
رستے سے یہ دیو پھانس لایااب تک تو خدا نے ہے بچایا
نام اس سے بکاولی کا سن کررونے جو لگا وہ سر کو دھن کر
پوچھا اس نے کہ آدمی زادتو کیوں رو دیا کہا کہ فریاد
واں خرمن عیش پر پڑی برقیاں فسوں میں میں ہوا غرق
واں پھانس چبھی ہے اس کو غم کییاں سانس نہیں ہے ایکدم کی
بولی وہ کہ چھوٹتے اگر ہمرکھتے ترے زخم دل پہ مرہم
بولا وہ کہ چل کہا کہ ناداںوہ دیو کہاں کہاں تو انساں
دیوؤں سے بھی لڑ سکا ہے کوئیسایے کو پکڑ سکا ہے کوئی
بولا وہ کہ جی بجھا نہ جانیدیو آگ تو آدمی ہے پانی
ہر چند کہ انس و جاں میں ہے لاگدب جاتی ہے مشت خاک سے آگ
بولی وہ کہ سن تو آدمی زادوہ دیو ہے تیری کیا ہے بنیاد
تجھ پاس تو اک عصا ہی جانیلاٹھی سے جدا نہ ہوگا پانی
بولا وہ کہ یہ جو لٹھ مرا ہےموسیٰ کا عصا ہے اژدہا ہے
یہ کہہ کے جتائے جوہر اپنےسامان دکھائے یکسر اپنے
ٹوپی جو اتار لی تھی سر سےپھر رکھ کے نہاں ہوا نظر سے
لٹھ کاندھے پہ رکھ ہوا پہ جا کرظاہر ہوا ٹوپی کو اٹھا کر
یہ شعبدہ دیکھ کر پری نےاڑ چلنے کے پائے کچھ قرینے
تسکیں جو ہوئی پری کے جی کووہ آدمی لے اڑا پری کو
وہ دیو پری کو اڑتے پا کراچکا تو ملا ہوا پہ جا کر
شہزادے نے اپنے سر کی ٹوپیجلدی سے پری کے سر پہ رکھ دی
بدلی میں چھپی وہ ماہ روشنبجلی سے عیاں ہوا یہ پرفن
وہ دیو کہ تھا پری پہ لپکاحیرت زدہ آدمی پہ لپکا
شہزادہ کہ لٹھ سے برق دم تھابادل سا ہوا کا ہم قدم تھا
دیکھا جو یہ دیو نے گذاراپتھر اک اٹھا کے پھینک مارا
وہ سنگ گراں حربۂ غولتاثیر سے پھل کی بن گیا پھول
لٹھ اس کا پڑا تو وہ ہوا چورجس طرح عصا سے جام بلور
غل کر کے زمیں پر گرا دیوموجود ہوئے ہزارہا دیو
بادل کی طرح جو امڈے دشمنلاٹھی سے ہوا وہ برق خرمن
موسیٰ کا عصا تھا لٹھ جواں کاایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانکا
سرمہ کیا کوہ پیکروں کاجی چھوٹ گیا دلاوروں کا
ٹوپی کو اتار کر پری نےچومے قدم بشر پری نے
شہزادے نے تاج سر پہ رکھالٹھ کاندھے پہ دل سفر پہ رکھا
فردوس میں جا کے صورت حورماں باپ سے آ ملی وہ مہجور
دیوؤں کی وہ سرکشی سنائیانساں کی وہ مردمی جتائی
سن سن کے اڑے حواس ان کےلائے نہ یقیں قیاس ان کے
پوچھا کہ وہ ہے کہا کہ ہاں ہےپوچھا کہ کہاں کہا کہ یہاں ہے
یہ سنتے ہی اس نے تاج اٹھایاحیرانوں کو شعبدہ دکھایا
بال اس کے وبال سے بڑھے تھےناخن بھی ہلال سے بڑھے تھے
تن خاکی تھا جان آتشیں تھیعریانی قبائے پوستیں تھی
صورت سے فقیر تھا بروگیکی آؤ بھگت سمجھ کے جوگی
حسن آرا اس پری کی مادرباپ اس کا بادشہ مظفر
قدموں پہ گری کہا ادب سےحرمت رہی آپ کے سبب سے
بولا وہ خدا خدا کرو واہہے جملہ جہاں کا مالک اللہ
قادر وہی کبریا وہی ہےآخر وہی ابتدا وہی ہے
بولی وہ کہ حق ہے جو ہے فرمانتم وقت کے اپنے ہو سلیمان
کھولو کمر اور لطف فرماؤشربت پیو میوہ ہائے تر کھاؤ
بولا وہ کہ اشتہا کسے ہےکھانے کا مزا رہا کسے ہے
سیاح کو کیا قیام سے کارشبنم نہیں جاگزیں گلزار
درویش رواں رہے تو بہترآب دریا بہے تو بہتر
روح افزا بول اٹھی اجی واہہم جانے نہ دینگے تم کو واللہ
آرام کرو کرم کرو آؤہم رام ہوئے نہ رم کرو آؤ
مجمع سے الگ مکان میں لائیآرام کی جا قرار پائی
اصحاب نیاز کھانے لائےارباب نشاط گانے آئے
تھا اپنے ہی سوچ میں وہ سنساندھن راگ کی تھی نہ رنگ کا دھیان
بے وقت وہ راگ خوش نہ آیابے فصل وہ پھاگ خوش نہ آیا
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.