
Chapter 5 of 10
The Captive Bird's Advice; Secrets Revealed; the Letters
مرغِ اسیر کی نصیحت؛ بھید کھلنا؛ نامہ و جواب
حکایت نصیحت گری مرغ اسیر اور نافہمی صیاد کی
اک مرغ ہوا اسیر صیاددانا تھا وہ طائر چمن زاد
بولا جب اس نے باندھے بازوکھلتا نہیں کس طمع پہ ہے تو
بیچا تو ٹکے کا جانور ہوںگر ذبح کیا تو مشت پر ہوں
پالا تو مفارقت ہے انجامدانا ہو تو مجھ سے لے مرے دام
بازو میں نہ تو مرے گرہ باندھسمجھاؤں جو پند اسے گرہ باندھ
سن کوئی ہزار کچھ سنائےکیجیے وہی جو سمجھ میں آئے
قابو ہو تو کیجیے نہ غفلتعاجز ہو تو ہاریے نہ ہمت
آتا ہو تو ہاتھ سے نہ دیجےجاتا ہو تو اس کا غم نہ کیجے
طائر کے یہ سن کلام صیادبن داموں ہوا غلام صیاد
بازو کے جو بند کھول ڈالےطائر نے تڑپ کے پر نکالے
اک شاخ پہ جا چہک کے بولاکیوں پر مرا کیا سمجھ کے کھولا
ہمت نے مری مجھے اڑایاغفلت نے تری مجھے چھڑایا
دولت نہ نصیب میں تھی تیرےتھا لعل نہاں شکم میں میرے
دے کر صیاد نے دلاساچاہا پھر کچھ لگائے لاسا
بولا وہ کہ دیکھ کر گیا جعلطائر بھی کہیں نگلتے ہیں لعل
ارباب غرض کی بات سن کرکر لیجیے یک بیک نہ باور
فرخ یہ وہی مثل نہ ہووےدیکھ آ جو تجھے دہل نہ ہووے
مشتاق تو تھا چلا وہ دستوردکھلائی دیا وہ بقعۂ نور
نقشے میں وہ گلشن نگاریںگلزار ارم سے تھا خوش آئیں
حیرت تھی کہ یہ طلسم کیا ہےپردیس میں ہوں کہ گھر مرا ہے
اس سوچ میں تخت گہ تک آیاحیراں وہ وزیر شہ تک آیا
آداب اک کر کے حسب دستورٹھہرا تو وہ بادشاہ مستور
سمجھا کہ حسین آدمی ہےکیا جانے کہ خود بکاولی ہے
پوچھا کہ کدھر سے آئے کیا نامبولا وہ کہ نام سے ہے کیا کام
انسان ہوں بندۂ خدا ہوںبھیجا زین الملوک کا ہوں
گستاخی معاف آپ آئےبن گھیر لیا مکان بنائے
بہکا کے بسائے مردم شہرحضرت کا بڑا ہے آپ پر قہر
دعویٰ یہ ہے یاں زمیں دابیآبادی میں آئی ہے خرابی
خیر اب بھی رفع شر جو چاہوسر آنکھوں سے چل کے جبہہ سا ہو
بولا وہ کہ فتنہ گر نہیں ہمشر جن سے ہو وہ بشر نہیں ہم
درویشی میں دل کے بادشا ہیںمسند کے تکیے پر گدا ہیں
دستور کہ عرض کر چکا تھامثل دل بدگماں رکا تھا
بولا چلو صلح درمیاں ہوباہم مہ و مہر کا قراں ہو
بولا وہ فقیر کی بلا جائےمشتاق جو ہو وہ شوق سے آئے
بولا وہ کہ خیر تا بفردااٹھ جائے گا درمیاں سے پردا
یہ کہہ کے پھرا وزیر آیاپہنچا تو وہ شہر خالی پایا
شہزادہ و شہ محل میں تھے واںبرہم زدہ بزم کے چراغاں
شہ نے جو وزیر آتے دیکھافرخ فرخ پکار اٹھا
سلطاں کے نثار ہو کے دستوربولا کہ بلائے شاہ ہو دور
دیکھ آیا میں وہ مکان یاقوتہے معدن لعل و کان یاقوت
تختہ ہے زمردیں کہ مینوگلشن ہے جواہریں کہ جادو
نقشہ کہوں کیا نگار خانہجادو کا تمام کارخانہ
دیووں کی بنائی ہے وہ بنیادرہنے والے ہیں آدمی زاد
واں صاحب تاج و تخت جو ہےدرویش ہے شاہ نام کو ہے
دیو اس کے عمل میں آ گئے ہیںجادو کے محل بنا گئے ہیں
کل آپ بھی چل کے کیجیے سیروعدہ کر آیا ہوں کہا خیر
بھید کھلنا چھپے ہوؤں کا ایک ایک پر
اب خامے سے وا شگاف یوں ہےدل ملنے کی راہ صاف یوں ہے
فرخ جو گیا تو شاہزادہسوچا کہ ہوں ٹھاٹھ کل زیادہ
رکھا آتش پر دوسرا بالحاضر ہوئی دیونی قوی بال
دعوت کی اسے خبر سنائیدیووں کے رخ اس نے آنکھ اٹھائی
ہمچشموں نے چتون اس کی تاڑیپلکوں سے زمین بن کی جھاڑی
غولوں سے بھرا جو تھا بیاباںپھولوں سے بنا دیا خیاباں
صناعی انھوں نے رات بھر کیمشتاق نے واں وہ شب سحر کی
بجتے ہی گجر وہ شاہ ذی جاہچاروں شہزادے لے کے ہمراہ
جو جو امرا تھے سب بلا کےفرخ کو خواصی میں بٹھا کے
مشرق سے رواں ہوا دلاورجس طرح افق سے شاہ خاور
بجلی سے جو زرق برق آئےفرش ابر کی طرح بچھتے پائے
دیکھا تو تمام دشت گلزاردائیں بائیں دورستہ بازار
شہ کہتا تھا دشت پر خسک تھافرخ کہتا تھا کل تلک تھا
غافل تھے کہ سبز باغ ہے یہاپنے ہی جگر کا داغ ہے یہ
تجویز رہے تھے سب کے سب دنگجادو افسوں طلسم نیرنگ
اتنے میں سنا کہ صاحب تاججتنا بڑھے آگے سب ہو تاراج
کیا لشکری اور کیا شہنشاہسناٹے میں تھے کہ اللہ اللہ
دیکھے جو جواہرات کے ڈھیرسب من کی ہوس سے ہو گئے سیر
شہزادے نے آمد ان کی پائیکی تا در خانہ پیشوائی
دونوں میں ہوئیں جو چار آنکھیںدولت کی کھلیں ہزار آنکھیں
ایوان جواہریں میں آئےالماس کے شہ نشیں میں آئے
وہ چتر کے زیر سایہ بیٹھےافسر سب پایہ پایہ بیٹھے
جو جو کہ تواضعات ہیں عاملے آئے خواص نازک اندام
چکنی ڈلی عطر الائچی پاننقل و مے و جام و خوان الوان
رغبت سے انھیں کھلا پلا کےبولا شہزادہ مسکرا کے
اس تاج شہی میں کے نگیں ہیںکے نام و نشان دلنشیں ہیں
سلطاں نے کہا بصد لطافتیہ چار ہیں عنصر خلافت
اک اور ہوا تھا قابل خشموہ نور بصر تھا دشمن چشم
جب لائے یہ گل بکاولی کانکلا تب خار روشنی کا
پوچھا اس نے وہ اب کدھر ہےسلطاں نے کہا کہ کیا خبر ہے
پوچھا شاہزادے نے کہ یا شاہصورت سے ہے اس کی کوئی آگاہ
اک ان میں سے چشم آشنا تھاکوکا اسی شاہزادے کا تھا
بولا کہ حضور ادھر تو دیکھیںدیکھا تو کہا مری نظر میں
صورت وہی رنگ رو وہی ہےلہجہ وہی گفتگو وہی ہے
یہ سنتے ہی اس نے خندہ کر کےسر پاؤں پہ رکھ دیا پدر کے
سر قدموں سے شاہ نے اٹھایافرزند کو چھاتی سے لگایا
لے لے کے بلائیں کاکلوں کیپیشانی چومی پیٹھ ٹھونکی
عرض اس نے کیا کہ دو پرستارپابوسی شہ کی ہیں طلبگار
حضرت نے کہا بلائیے خیراٹھ جائیں جو بیٹھے ہوں یہاں غیر
شہزادے نے اک مکاں بتایاایک ایک اٹھا ادھر کو آیا
سب اٹھ گئے پر وہ چاروں باغیبیٹھے رہے فرش گل پہ داغی
شہزادہ اٹھا محل میں آیاپردے تلک ان کو ساتھ لایا
دلبر سے کہا میں جب کہوں آؤتو کہیو یہ چاروں داغی اٹھواؤ
در پردہ سکھا کے باہر آیابے پردہ حضور شہ بلایا
دلبر نے کہا نہ جاؤں گی میںقربان گئی نہ آؤں گی میں
اٹھ جائیں یہ چاروں سست بنیادداغی ہوئے ہیں غلام آزاد
چاروں کا یہ سنتے ہی اڑا رنگیکبارگی شاہ ہو گیا دنگ
دکھلائی دیے جو بیٹھے بے رخدیکھا تاج الملوک کے رخ
یاں دل پہ تھے داغ واں سریں پریاں نام پہ حرف واں نگیں پر
وہ جعل وہ ہار وہ غلامیوہ گھات وہ جیتنا تمامی
وہ دسترس اور وہ پامردیوہ بیکسی اور وہ دشت گردی
وہ دیو کی بھوک اور وہ تقریروہ حلوے کی چاٹ اور وہ تحریر
وہ سعی وہ دیونی کی صحبتمحمودہ کی وہ آدمیت
تجویز کے وہ سرنگ کی راہاور موش دوانیاں وہ دلخواہ
وہ سیر چمن وہ پھول لیناوہ عزم وطن وہ داغ دینا
وہ کور کے حق میں خضر ہوناوہ غولوں سے مل کے پھول کھونا
وہ بال کو آگ کا دکھاناوعدے پہ وہ دیونی کا آنا
وہ نزہت گلشن نگاریںوہ دعوت بادشہ وہ تمکیں
گزرا تھا جو کچھ بیاں کیا سبپنہاں تھا جو کچھ عیاں کیا سب
انگشتری پری دکھا کرکھلوائی سریں کی مہر محضر
پہلے تو بہت وہ منہ چڑھے ڈھیٹآخر داغی دکھا گئے پیٹ
اٹھوا کے انھیں وہ دو خوش آئیںپابوسی شہ کو سر سے آئیں
حضرت نے سمجھ کے حسن خدمتدونوں کو دیے خطاب و خلعت
نذریں ان دونوں نے دکھائیںرخصت ہو کر محل میں آئیں
مسند سے شہ اٹھ کے بے محابابولا بیٹے سے جان بابا
روشن کیا دیدۂ پدر کومادر کے بھی چھلکے آنسو پونچھو
مشتاق کو رو براہ پایاہمرہ اسے تا بخانہ لایا
ماں نے دیکھا جو وہ دلاوراشکوں کے گہر کیے نچھاور
وہ طفل بھی گر پڑا قدم پرمانند سرشک چشم مادر
ہر خویش و بیگانہ سے ملا وہپھر اپنی جگہ پہ آ گیا وہ
غائب ہو جانا فرخ یعنی بکاولی کا اور رلوانا تاج الملوک کو گلشن نگاریں سے اور متفق ہو کر گلزار ارم میں رہنا
کھلنے پہ جو ہے طلسم تقدیراب خامے نے یوں کیا ہے تحریر
فرخ وہ بادشہ کا دستوریعنی وہ بکاولی مستور
مطلوب کا سن سمجھ کے سب حالچاہے کہ نکالے کچھ پر و بال
سوچی کہ دلا شتاب کیا ہےپھر سمجھیں گے اضطراب کیا ہے
اس وضع کا پاس کر گئی وہتغییر لباس کر گئی وہ
فرخ کہنے تک آدمی تھیپھر وہ ہی بکاولی پری تھی
غربت سے چلی وطن میں آئیصحرا سے اڑی چمن میں آئی
پژمردہ خواصوں میں پڑی جانصدقے ہوئی کوئی کوئی قربان
اس غنچہ میں اک سمن پری تھیوہ ہم نفس بکاولی تھی
بولی کہو کیا کیا کہا خوببے کچھ کیے پھر بھی آئی کیا خوب
مانگا کاغذ دوات خامہلکھا گلچیں کے نام نامہ
نامہ
اے یوسف چشم زخم یعقوبوے رشک برادران منکوب
اے دلبر دلبراں دغا بازوے دیو سوار عرش پرواز
اے آب تہ زمین نیرنگوے نقب دوان باغ گلرنگ
اے پردہ کشائے بے حجابیوے دزد حنائے دستیابی
اے رہرو رو برہ نہادہوے صرصر گل بباد دادہ
اے بے سر و برگ گلشن آراوے لعل نمائے سنگ خارا
اے بے خبر طلسم صورتوے بے بصر رخ ضرورت
اے باعث عزم میزبانیوے صاحب بزم مہربانی
اے آئینہ دار خود نمائیوے سرمۂ چشم آشنائی
اے پردہ کشائے روئے پنہاںوے داغ نمائے پشت اخواں
تو باغ ارم سے لے گیا گلتو مجھ سی پری کو دے گیا جل
بے رخ ترے واسطے ہوئی میںفرخ ترے واسطے ہوئی میں
تجھ کو ترے باپ سے ملایامجھ کو یہ ملا کہ تجھ کو پایا
جو جو اسرار تھے نہانیسب تجھ سے سنے تری زبانی
کیا لطف جو غیر پردہ کھولےجادو وہ جو سر پہ چڑھ کے بولے
چاہا تھا کروں سرے سے پامالکر شکر سمجھ کہ تھا خوش اقبال
کیا کہیے کہ صورت اور کچھ تھیوقت اور ضرورت اور کچھ تھی
اب تک ہیں وہ خار جی کے جی میںجلد آ کہ ہے مصلحت اسی میں
آئے گا تو درگزر کروں گیورنہ میں بہت سا شر کروں گی
داغوں پہ دیے ہیں داغ تو نےدکھلائے ہیں سبز باغ تو نے
کانٹوں میں اگر نہ ہو الجھناتھوڑا سا لکھا بہت سمجھنا
پھر خط کی نہ ہو امیدواریالقط ہے قلم کی دوستداری
یہ لکھ کے کہا سمن پری کوچالاک ہے تو ہی قاصدی کو
یہ خط یہ انگوٹھی لے ابھی جاپورب کی سمت کو چلی جا
رستے میں ہے گلشن نگاریںرہتا ہے وہیں مرا وہ گلچیں
خاتم کے نشاں سے نامہ دیجوٹھہری رہیو جواب لیجو
خط خاتم لے کے وہ ہوائیپتا ہوئی اور پتے پہ آئی
وہ باغ کہ تھا جواہر آگیںثابت ہوا گلشن نگاریں
وہ آدم حور وش پری رویعنی تاج الملوک خوش خو
گلگشت میں تھا کسی روش پرمحمودہ دائیں بائیں دلبر
قاصد نے جو رخ پری دکھایادھیان اس کو بکاولی کا آیا
پہچانتے ہی نگین خاتمبے شبہ ہوا یقیں کا عالم
پرتو پہ وہ یوں چلا تڑپ کےانگارے پہ جیسے کبک لپکے
دھوکا تھا فقط بکاولی کاقاصد نے دیا وہ خط پری کا
گو سرمہ خموشی نے کھلایاتحریر کو آنکھوں سے لگایا
قاصد سے کلام لطف بولاخط صورت چشم شوق کھولا
وہ نامہ کہ عنبریں رقم تھاقسمت کا نوشتہ یک قلم تھا
تحریر تھی سرگزشت ساریکچھ یاس تھی کچھ امیدواری
منگوا کے وہیں دوات و خامہتحریر کیا جواب نامہ
جواب نامہ
اے شاہ ارم کی دخت گلفامفرخ لقب و بکاولی نام
اس نام کے اس لقب کے صدقےاس نامہ کے اس طلب کے صدقے
میں نے جو غرض سے جی چرایاتو نے کیوں آ کے منہ چھپایا
میری جو بدی ہوئی تھی کچھ یوںتو نیک تھی بے ملے گئی کیوں
تو جائے تو کیوں نہ آئے افسوسافسوس افسوس ہائے افسوس
تقدیر پھری پھری نہیں توامید گئی گئی نہیں تو
اے کاش میں کچھ بھی سانس پاتاجی کھول کے داغ دل دکھاتا
معلوم تو ہے کہ شوق کیا تھاجو کھینچ کے یاں سے لے گیا تھا
اب مجھ میں وہ دم اجی کہاں ہےوہ دل وہ جگر وہ جی کہاں ہے
مر جاؤں اگر طلب میں تیریمیں کیا کہ خبر نہ پہنچے میری
قابل وہاں آنے کے کہاں ہوںیاں بھی جو رہا تو نیم جاں ہوں
تجھ سے مری خاطر اب کہاں جمعتو نشتر شعلہ میں رگ شمع
تو برق دماں میں خرمن خارتو سیل رواں میں خستہ دیوار
تو جوشش یم میں مور بے پرمیں نقش قدم تو باد صرصر
دھڑکا ہے یہی تو جان دوں گامر جاؤں گا اب نہ میں جیوں گا
ہو تجھ سی پری جو خصم جانیانساں کی ہے مرگ زندگانی
منظور جو ہو حیات میریتو مان لے ایک بات میری
حمالہ کو بھیج آ کے لے جائےشاید مجھے زندہ پا کے پہنچائے
بھیجا نہ اسے تو جان لیناآساں ہے یہاں بھی جان دینا
یہ لکھ کے جو خط سے ہاتھ اٹھایاقاصد نے لیا جواب لایا
مطلوب کا خط وہ پڑھ رہی تھیدیکھا تو وہ دیونی کھڑی تھی
پوچھا کہ اری تجھے خبر ہےگلچیں مرا کونسا بشر ہے
وہ صدقے ہوئی کہا بلا کوںبے دیکھے کسی کا نام کیا لوں
یہ سن کے وہ شعلہ ہو بھبھوکابولی کہ تجھے لگاؤں لوکا
تیرا ہی تو ہے فساد مردارداماد کو گل دیا مجھے خار
گل نقب کی راہ لے گیا چورزندہ کروں اس موئے کو درگور
حمالہ جلی ہوں کیا کہوں میںداماد کو لا تو ٹھنڈی ہوں میں
آگاہی جو دیونی نے پائیبگڑی ہی ہوئی بات یوں بنائی
محمودہ ہے اک کنیز زادیانساں سے ہوئی ہے اس کی شادی
میرا تو نہیں قصور ہے کچھشاید اس کا فتور ہے کچھ
مجرم جو وہ ہے تو لو میں لائییہ کہہ کے اٹھی چلی ہوائی
آئی تو یہ زار نیم جاں تھاآپ اپنی قضا کا نوحہ خواں تھا
حمالہ کو دیکھتے ہی رو روپوچھا کہ تو لینے آئی مجھ کو
بولی وہ بنے بگاڑ کیا ہےچل دیکھ تو چھیڑ چھاڑ کیا ہے
کچھ بول کے زیر لب وہ دل زارہیجان میں تپ کے جیسے بیمار
لرزہ سا چڑھا جو دیونی پرمانند حواس اڑی وہ مضطر
اس سمت سے پہنچی یہ عقیلہواں آئی پری کی ماں جمیلہ
شکوہ کرنے لگی پری سےیوں کہنے لگی بکاولی سے
گلزار کی سیر خوب بھائیبرسوں سے نہیں تو گھر بھی آئی
بے طرح گلوں کی ہے تو شیداگلچیں نہ ہوا ہو کوئی پیدا
کھلتے ہیں کچھ انتظار کے طوررخ میری طرف نظر کہیں اور
مادر کے کلام سن کے دختربولی کہ چمن تو ہے مرا گھر
میں کیا جانوں مجھے خبر کیارخ کس کو کہتے ہیں نظر کیا
تقریر جو بھولے پن کی پائیوہ سادہ دل اٹھ کے گھر کو آئی
جب اٹھ گئی یہ تو دیونی ووحاضر ہوئی لے کے آدمی کو
آیا تو وہ منتظر تھی خونخواراندیشے سے کانپ اٹھا گنہگار
واں غصہ بھری غضب کی چتونپلکوں سے یہاں نظر پہ چلمن
واں سرمۂ چشم گرم تسخیریاں قطرۂ اشک تر گلوگیر
واں پھانسنے کو بلا وہ گیسویاں تاب سخن نہیں سر مو
بولی وہ پری بصد تاملکیوں جی تمھیں لے گئے تھے وہ گل
کیا کہتی ہوں میں ادھر تو دیکھومیری طرف اک نظر تو دیکھو
ہے یا نہیں یہ خطا تمھاریفرمائیے کیا سزا تمھاری
قابو میں پری کے تھا سلیماںبولے بتلائے کیا پشیماں
کی عرض رضا ہے جو خوشی ہوعاشق کی سزا جو پوچھتی ہو
مشکیں زلفوں سے مشکیں کسواؤکالے ناگوں سے مجھ کو ڈسواؤ
تلوار سے قتل ہو جو منظورابرو کے اشارے سے کرو چور
زنداں میں جو زندہ بھیجنا ہواپنے دل تنگ میں جگہ دو
یہ سن کے وہ شوخ مسکرا کےبولی اسے چھاتی سے لگا کے
گلچیں تو نہیں فقط چمن کامحرم ہے سارے تن بدن کا
رخ دیکھ چکی ہوں اب ترا میںمنہ دوسرے کو دکھاؤں کیا میں
یہ کہہ کے لبوں سے قند گھولےمستی نے دلوں کے عقدے کھولے
کاوش پہ ہوا گہر کے الماسغنچہ نے بجھائی اوس سے پیاس
واں غنچۂ یاسمیں تھا گلناریاں دامن سرو ارغواں زار
واں صبح صفا تھی گل بداماںپھولی رخ مہر پر شفق یاں
کیا آگے لکھوں کہ اب سر دستہوتا ہے دوات میں قلم مست
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.