
Chapter 7 of 10
Bakavali's Wedding
بکاؤلی کا بیاہ
آنا بکاولی کا روح افزا کی خبر کو جمیلہ کے ساتھ اور تاج الملوک سے مل کر جانا سات دن بعد
بچھڑوں کے جو ملنے کا بیاں ہےیوں خامہ خوشی سے تر زباں ہے
روح افزا کو جو کھو کے پایامژدہ وہ شاہ ارم تک آیا
جانا تھا یگانگی میں لازمچلنے کو ہوئی جمیلہ عازم
وہ ساکن خانۂ سلاسلیعنی وہ بکاولی بے دل
کہتی تھی کہ پیچ سے نکلتیخواہاں یہ ہوئی کہ میں بھی چلتی
سن کے قیدی کی زار نالیزنجیر کے پیچ سے نکالی
تخت ان کی سواریوں کے آئےاڑتے وہ ہوا کے جھونکے آئے
بانوئے شہ ارم جمیلہدخت اس کی بکاولی عقیلہ
روح افزا سے ہوئیں بغلگیرصورت پوچھی کہا کہ تقدیر
کہہ سن کے مبارک و سلامتبیٹھ اٹھ کے ہوئی جمیلہ رخصت
روح افزا نے کہا چچی جانتم جاؤ رہیں بکاولی یاں
خاطر سے کہا کہ خیر لیکنلیجاؤں گی خود میں ساتویں دن
یہ کہہ کے وہ وحشت مجسمآہو سی ارم کو کر گئی رم
روح افزا نے کہا بہن سےبہتر کوئی جا نہیں چمن سے
گلگشت کریں چلو کہا خیرکیا جانے کہ ہوگی سیر میں سیر
چل پھر کے ہنسی ہنسی میں پوچھاکھونا ملنا بہن یہ کیا تھا
روح افزا نے کہا کہ ہمشیرمیں نے یہ سنا کہ تو ہے دلگیر
واللہ کہ چھان کر خدائیتیرے پیارے کو ڈھونڈھ لائی
سمجھی وہ ہنسی کہا سڑن ہوناداں ہو کیا کہوں بہن ہو
ہم کو یہ ہنسی نہیں گواراپیارا ہووے گا وہ تمہارا
پیارا جو نہ تھا تو کھو گئیں کیوںبدراہ بھی آپ ہو گئیں کیوں
بولی وہ کہ آشنا تمہاراپیارا نہیں پیاری کا ہے پیارا
گر اس کی تلاش میں میں کھوئیبدراہ نہ کہہ سکے گا کوئی
جو چاہو کہو جواب کیا دوںقائل نہیں ہوتی ہو دکھا دوں
وہ جوگی وہ دھونی اور وہ آسندکھلایا تو تھی اسی کی جوگن
دیکھا تو دکھا رہی ہے تقدیرکوشش کا اثر کشش کی تاثیر
روح افزا ان کے بیچ میں واںقالب تھی میان جان و جاناں
دونوں کا بدل تھا وصل منظورمانند حجاب ہو گئی دور
وہ غرقۂ بحر ظلم و بیداددریا رویا سنا کے افتاد
خاطر کی کدورتیں عیاں کیںچشموں کی وہ صورتیں بیاں کیں
رو رو کے بکاولی دل افگاربولی کہ خدا کو علم ہے یار
پھرتا تھا تو چشم و دل میں میرےدیدے مرے نقش پا تھے تیرے
مشکل مجھے اپنا تھامنا تھاہر وقت قضا کا سامنا تھا
ہمچشم پھرے تھے مثل مژگاںہمسایہ تھے سب کشیدہ داماں
گھر میں رہنا گراں تھا میرازنجیر کا گھر مکاں تھا میرا
جو کہہ کے سڑن پکارتا تھاپتھر سا کھینچ مارتا تھا
سختی سہی یا کڑی اٹھائیافتاد تھی جو پڑی اٹھائی
طالع سے کسے تھی ایسی امیدنکلا ہے کدھر سے آج خورشید
کیوں منہ پہ شفق خوشی سے پھولیکیا شام وصال راہ بھولی
یہ کہہ کے ملے بہم وہ ایسےصفحے خط تواماں کے جیسے
اک جان دو تن تھی سرو بالاصحبت کا مزا ہوا دوبالا
دربان سی تھی در پہ روح افزاتھا پیش نظر حیا کا پردا
جب بیٹھے ہوس نکال کے وہوارد ہوئی دیکھ بھال کے وہ
بول اٹھی بکاولی کہ واریمحرم کا ہے کام پردہ داری
وہ بولی مجھے تو کچھ نہ آیاتم نے مگر اب تو ہے سکھایا
کیا جانیں ابھی بدا ہے کیا کیااس عمر میں سیکھنا ہے کیا کیا
بارے وہ مہ دو ہفتہ باہمیک ہفتہ رہے انیس و ہمدم
سمجھے ہفتے کی میہمانیہر ہفت عروس شادمانی
وعدے پہ جمیلہ ساتویں دنآئی تو تھا حیلہ غیر ممکن
ساتھ اس کے رواں ہوئی وہ گلروہوش اس کے رواں ہوئے کہے تو
چاہا کہ وہ تاج رکھ کے سر پررہئے روپوش ساتھ چل کر
دامن کو پکڑ کے روح افزابولی کہ کدھر کیا ارادا
الفت کے بہت نہ جوش میں آؤکچھ خیر ہے تم کو ہوش میں آؤ
نافہمی سے خوار ہو چکے ہواب تو سیکھو کہ کھو چکے ہو
کار مشاطہ خود نہ کیجےانگارے کو ہاتھ سے نہ لیجے
جلدی تمہیں کیا ضرور دم لوبیدل نہ ہو قول لو قسم لو
گھبراؤ نہ پا کے نامرادیغم کھاؤ جو چاہتے ہو شادی
سوچا تو نہ تھا صلاح الجھنادانائی تھی بات کا سمجھنا
پیغام لیجانا حسن آرا کا بکاولی کی شادی کیواسطے
بیدل نے جگہ جو جی میں پائییوں خامے نے کی زباں کشائی
وہ شکر گذار روح افزاماں سے بولی کہ حسن آرا
واجب ہے ادائے حق مہماںاحسان کا عوض نہیں جز احساں
حسن آرا نے کہا کہ بہترجو اپنے سے ہو نہیں میں باہر
بولی وہ کہ یہ فقیر جوگیہے عشق بکاولی کا روگی
میں اس کے سبب بچی ہوں جی سےیہ میرے سبب ملے پری سے
راز ان کا کیا جو آشکاراراضی ہوئی سن کے حسن آرا
بلوا کے مصور اک کہن سالکھچوائی اس آدمی کی تمثال
وہ صورت حال ارم میں لائیخلوت میں جمیلہ پاس آئی
چھیڑا کہ ہو مہ سے عقد پرویںپیوند نہال گل ہو نسریں
واجب نہیں اب تامل ایںبھریے وہیں تک نہ چھلکے جبیں
بولی وہ جمیلہ کیا بتاؤںتو اپنی ہے تجھ سے کیا چھپاؤں
سودا ہے مری بکاولی کوہے چاہ بشر کی باؤلی کو
مشہور ہے ضد انس و جانییکجا نہیں رہتے آگ پانی
حسن آرا نے کہا جمیلہمجھ کو یہ نہیں پسند حیلہ
کاوش تری بے ثبات ہے یہسو بات کی ایک بات ہے یہ
دو دل جو ہوں چاہنے پہ راضییہ جان لے کیا کرے گا قاضی
بولی وہ جمیلہ ہوش میں آؤجا کر کسی اور کو یہ سمجھاؤ
تجویز کی آپ کے میں قرباںلے جائے مری پری کو انساں
حسن آرا نے کہا کہ خاموششعلہ کو کیا ہے کس نے خس پوش
اسباب نہ جمع کر ضرر کےرکھ پنبہ نہ داغ پر شرر کے
بولی وہ جمیلہ پھر کروں کیاوہ بولی نہ سمجھی کہتی ہوں کیا
جب دل ہی پری کا آ گیا ہےانسان ہے تو کیا مضائقہ ہے
انسان ہی تھے حضرت سلیماںانسان ہی تھے مسیح دوراں
یہ قطرۂ بحر کبریائیدریا ہے جو ہوئے آشنائی
کیا شکوہ اگر پری نہ سمجھےافسوس جو آدمی نہ سمجھے
دم دھاگے میں رشتہ نفس کےپھندے میں پھنسا ہے پیش و پس کے
بیاہ ہونا بکاولی کا تاج الملوک کے ساتھ اور رہنا ارم میں
شادی کے لئے ہے کلک شنجرفانگشت قبول دیدۂ حرف
حسن آرا تھی جو نیک تدبیردکھلائی جمیلہ کو وہ تصویر
پہچان کے خال و خط سے اندازوہ چپ جو رہی تو یہ سخن ساز
بولی کھو گئیں کیوں کہا کہ ماناپر کھوئے ہوئے کا کیا ٹھکانا
وہ بولی کہ اس سے تجھ کو کیا ہےہم نے تو سمجھ کے کچھ کیا ہے
ٹھہری یہ غرض کہ آج کی راتفیروز شہ آگے چھیڑیے بات
جب سونے کو وہ محل میں آیاافسانۂ عشق اسے سنایا
یاد اس نے کیا بکاولی کولے آئے اڑا کے اس پری کو
تصویر بشر دکھائی اس کوشادی کی خبر سنائی اس کو
دیکھا تو نہ فرق تھا سر موجانچے خط و خال و چشم و ابرو
نقشے سے وہی نگار پایاقسمت کا لکھا سا آگے آیا
کہنے لگی دل میں یا الٰہیشر ہو نہ کہیں یہ خیر خواہی
پیارے سے نہ ہو خلاف وعداکیا سوچتی ہوں نصیب اعدا
دیکھا تو وہ بھیدی حسن آراکرتی تھی اسی کے رخ نظارا
روح افزا کا جو آ گیا دھیانتسکیں ہوئی آئی جان میں جان
جانا کہ بہار فصل سے ہےیہ نقل مطابق اصل سے ہے
اقرار میں تھی جو بے حیائیشرمائی لجائی مسکرائی
حسن آرا نے کہا مبارکایجاب اس نے کیا مبارک
سج دھج یہ بنی ادھر بنائےبن ٹھن کے بنا ادھر سے آئے
سیارہ شناس کو بلایاساعت ٹھہرائی دن دکھایا
شادی کی خبر سے خوش خوش آئیمشتاق کو خوش خبر سنائی
راتوں کو جو گنتے تھے ستارےدن گننے لگے خوشی کے مارے
واں مہندی نے چومے پائے خورشیدیاں سبز ہوا نہال امید
وہ واں پہ گلاب سے نہائییاں تازگی آبرو نے پائی
واں غازے سے رخ شفق میں خورشیدیاں جم گیا منہ پہ رنگ امید
افشاں ہوئی واں ستارہ افشاںیاں جیغہ سے روشنی دو چنداں
واں مانگ سے رنگ کہکشاں ماندیاں شملۂ سر سے ہالے میں چاند
واں زلف نے کھائے پیچ پر پیچطرہ کلغی پہ یاں تھا سر پیچ
آنچل ہوئے واں نقاب عارضسہرا ہوا یاں حجاب عارض
زیبا ہوا واں بدن پہ گہنایاں جامۂ وفا کا اس نے پہنا
محرم کے کسے گئے ادھر بندہمت کا بندھا ادھر کمر بند
واں گل سے بہار بوستاں تھیآرائش تخت گل یہاں تھی
الماس کے واں تھے جھاڑ فانوسیاں جلوہ فروش تخت طاؤس
مہتاب سے چاندنی کا واں فرشیاں چرخی سے چرخ میں سر عرش
واں جلوے حنائی انگلیوں کےیاں روشنی کے تھے پنج شاخے
بادل سے وہ واں گرج رہے تھےیاں دھوم سے باجے بج رہے تھے
واں پریوں میں ذکر آدمی زادنوشہ کے جلو میں یاں پریزاد
گلگوں تھا کسی کا باد رفتارگلرنگ کسی کا تھا ہوا دار
ہاتھی تھے تو مستیوں کی دھت تھیگھوڑے تھے تو چابکی کی لت تھی
وہ ماہ کہ تھا سوار شبدیزتھا پا بہ رکاب شوق مہمیز
در تک جو برات ادھر سے آئیکی سب نے ادھر سے پیشوائی
فیروز و مظفر ایسے دو شاہپر نور تھے جیسے مہر اور ماہ
باران گلاب و بارش گلہو کر بڑھے آگے با تجمل
سلطان فیروز رشک جم تھانوشہ مسند پہ جم کے بیٹھا
ہریالے بنے کا شور و غل تھاسنبل کا چنور تو چتر گل تھا
گل سے خوانوں میں زردہ لایاان غنچہ دہانوں کو کھلایا
خورشید سا آفتابہ لائےمنہ ہاتھ ہر ایک کے دھلائے
قلیان پئے مشکبو دھواں دھاربیڑے چکھے پان کے مزیدار
جب عقد کے ان کی ساعت آئیدو رشتوں میں اک گرہ لگائی
یکجا کئے وہ عروس و دامادوہ جان پری یہ آدمی زاد
حیرت نے آئینہ دکھایاشربت دیدار نے پلایا
زلفیں ہوئیں چہرے کی بلا چیںٹونا وہ نگاہیں سحر آگیں
جو چہرۂ آتشیں پہ تل تھااسپند نگاہ بد بدل تھا
جوڑی جو ملی بنے بنی کیسنگت ہوئی راگ راگنی کی
جو گائنیں تھیں سہانے گائیںلیتے ہوئے نیگ راگ لائیں
حق پا کے جو رکھتی تھیں قدامتبول اٹھیں مبارک و سلامت
پیارا تھا بنے بنی کا جوڑاخلوت میں دولہا دلہن کو چھوڑا
پریاں کہ ہزارہا بھری تھیںارمان سے سب وہاں سے نکلیں
بے پردگی ہوتی تھی جو ان میںدروازوں نے بند کر لیں آنکھیں
طومار حجاب کو کیا طےساغر پہ جھکا وہ شیشۂ مے
مستانہ ملا دلہن سے نوشاہصحبت ہوئی دخت رز سے دلخواہ
مست آنکھیں تھیں رشک جام سرشارلبریز ہوئی شراب دیدار
گردن بھی صراحئ مے نابہاتھ آئی وہ بہر مستئ خواب
جب اوڑھی عروس مہ نے چادرنکلا پردے سے مہر خاور
ثابت جو شب کو تھے ستارےخورشید نکلتے ہی سدھارے
یعنی دولہا دلہن سحر گاہنکلے آرام گہ سے دلخواہ
منہ گھر کو براتیوں نے موڑامحفوظ دولہا دلہن کو چھوڑا
وہ حوض گلاب میں نہایایاں رخ پہ عرق گلاب پایا
واں جوڑا چست و تنگ بدلایاں جوڑے کے منہ کا رنگ بدلا
وہ راگ کا دیکھنے لگا رنگیاں پردے میں چھیڑ تھی خوش آہنگ
رخصت ہونا تاج الملوک کا بکاولی کو لیکر اور آنا گلشن نگارین میں
غربت سے جواب سر وطن ہےکلک و زباں یہ حرف زن ہے
شادی ہو کر وہ خانہ آبادسوچا کہ بنا میں خانہ داماد
غربت میں وطن کی دھن سمائیاس فیل کو یاد ہند آئی
خلوت میں ہوا پری سے گویادنیا میں ہیں سب وطن کے جویا
پانی تہ خاک کو رواں ہےلو شعلہ کی سوئے آسماں ہے
عزم سفر وطن سمجھ کربولی وہ بکاولی کہ بہتر
چلیے گا تو ساتھ ہیں بلا عذررہئے گا تو بندگی میں کیا عذر
ہاتھ اس کا پکڑ کے باہر آئیماں باپ کے پاس دختر آئی
ہوتے ہی دوچار خویش و دختردو سے ہوئے چار اس جگہ پر
وہ تینوں تھے قوم کے پریزادچوتھا ان میں یہ آدمی زاد
چومی اس نے زمین خدمتغربت سے وطن کی چاہی رخصت
فیروز شہ و جمیلہ بانودونوں ہوئے سن کے سر بزانو
غوطے میں جو آ گئے وہ یکسربولی ماں باپ سے وہ دختر
پردیسیوں سے جو کی ہے نسبتاب کیجے ہنسی خوشی سے رخصت
دعوے نہیں کچھ دئے ہوئے پرقائم رہئے کئے ہوئے پر
لازم جو ہو اس میں کد نہ کیجےسائل کا سوال رد نہ کیجے
بولی وہ کہ بخت تھا زبردستخورشید کو ذرے نے کیا پست
انساں سے جھکی پری کی گردنکانٹے سے رکا ہوا کا دامن
یہ کہہ کے منگائے دو ہوا دارسو دیو بلائے باد رفتار
ہو کر دیوؤں کے زینت دوشرخصت وہ ادھر ہوئے ادھر ہوش
اشکوں سے شگون لیا نرالاآئینۂ رخ پہ پانی ڈالا
سونپا مختار کو جو مجبورگھر پاس تھا اور وہ منزلوں دور
آئے تو وہ باغ سحر بنیادتھا آب و ہوائے خوش سے آباد
خیل و خدم اس کے منتظر تھےمانند حواس منتشر تھے
پہچان کے سب نے غل مچایاآیا تاج الملوک آیا
داخل جو ہوئے محل کے اندرمحمودا لپکی دوڑی دلبر
پوچھا خوش خوش کہا کہ دم لودیکھو یہ کون ہیں قدم لو
دلبر یہ وہی بکاولی ہےمحمودا دیکھ کیا پری ہے
سبحان اللہ کہہ کے دلبربولی کہ یہ گھر ہوا منور
محمودا نے کہا مبارکخوشنودی آشنا مبارک
ان مختصروں نے جب دیا طولبولی وہ بکاولی کہ معقول
یہ سمجھو تو کچھ نہیں ہے تکرارخوش پوش ہیں ایک جوڑے و چار
درجے درجے رہیں وہ ذی ہوشہمخانہ و ہمدم و ہم آغوش
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.