Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 10

The Brothers' Theft; Bakavali Comes to the World of Men

شہزادوں کی چوری؛ بکاؤلی انسانوں کی دنیا میں

Pandit Dayashankar Naseem

Script
Size

ملنا چاروں شہزادوں کا اور چھن جانا گل بکاولی کا تاج الملوک سے اور بینا ہونا چشم زین الملوک کا

ہے بسکہ یہ چرخ جور پیشہیوں خار رہ قلم ہے ریشہ

یہ جا کے اسی جگہ پہ ناگاہآ پہنچے وہ چاروں غول گمراہ

کہتے تھے کہ واہ رے مقدراس شکل سے پھر کے جاتے ہیں گھر

کیا رنگ زمانے نے دکھائےگل لینے گئے تھے داغ لائے

کس منہ سے پدر کے آگے جائیںکیونکر بے پھول منہ دکھائیں

ٹھہرائی کہ اور پھول لے جائیںکحال کو بیوقوف ٹھہرائیں

اک باد ہوائی توڑ کر پھولکہنے لگے پھول پھول کر غول

کیا پھول ہے کیا اثر ہے اس میںہو جاتی ہیں روشن اندھی آنکھیں

وہ کور کہ ہو چکا تھا بینادیکھا اس نے جو یہ قرینا

بولا کہ یہ گل وہ گل نہیں ہےاس پھول کی اور گل زمیں ہے

وہ جوگی جو جاتے ہیں اگر آئیںدکھلائیں وہ گل تو آنکھیں کھل جائیں

میں کور ابھی ہو چکا ہوں بینااندھا نہیں اب ہوا ہوں بینا

چاروں کو تھی حسرت گل ترچوبائی ہوا کی طرح چل کر

اس جوگی کے جب برابر آئےباہم کہا دیکھو پھول لائے

گل ہے کہ علاج نور ہے یہگل ہے کہ چراغ طور ہے یہ

جوگی یعنی وہ شاہزادہبولا کہ بکو نہیں زیادہ

پاتے اگر اس درخت کی چھاؤںرکھتے ہی نہ تم زمین پر پاؤں

ڈینگ آپ کی سب فضول ہے یہوہ گل یہ نہیں وہ پھول ہے یہ

یہ کہہ کے جو جیب سے نکالاان مفت بروں نے ہاتھ ڈالا

قوت میں وہ چار تھے یہ بیکسشورش میں وہ چار موج یہ خس

غولوں نے بزور پھول اڑایااس خضر کو راستہ بتایا

گل پانے سے بسکہ سرخرو تھےگھوڑوں پہ ہوا کے مثل بو تھے

تعجیل سے رو براہ آئےگل لے کے حضور شاہ آئے

گل لائے جو نور دیدہ دلخواہآنکھوں کی طرح پھڑک گیا شاہ

پنجے سے پلک کے پھول اٹھایااندھے نے گل آنکھوں سے لگایا

نور آ گیا چشم آرزو میںآیا پھر آب رفتہ جو میں

خورشید بصر گہن سے چھوٹاخیرات کے در کا قفل ٹوٹا

دولت جو پاس تھی لٹائیزر بخشا گل کی رونمائی

ایک ایک کو اس قدر دیا زرمحتاج و گدا ہوئے تونگر

سجوائے طرب کے کارخانےبجوائے خوشی کے شادیانے

پہنچنا بکاولی کا دارالخلافت زین الملوک میں اور وزیر ہو کر تاج الملوک کی تلاش میں رہنا

گلچیں کا جو اب پتا ملا ہےیوں شاخ قلم سے گل کھلا ہے

وہ باد چمن چمن خراماںیعنی وہ بکاولی پریشاں

گلشن سے جو خاک اڑاتی آئیاس شہر میں آتے آتے آئی

دیکھا تو خوشی کے چہچہے تھےگلچیں کے شگوفے کھل رہے تھے

گلبانگ زناں تھا جو جہاں تھاایک ایک ہزار داستاں تھا

پاتے ہی پتا خوشی سے پھولیشاد ایسی ہوئی کہ رنج بھولی

جادو سے بنی وہ آدمی زادانسانوں میں آ ملی پری زاد

سلطان کی سواری آ رہی تھیصورت جو نگاہ کی پری تھی

پوچھا اے آدم پری روانسان ہے پری ہے کون ہے تو

کیا نام ہے اور وطن کدھر ہےہے کونسا گل چمن کدھر ہے

دی اس نے دعا کہا بصد سوزفرخ ہوں شہا میں ابن فیروز

گل ہوں تو کوئی چمن بتاؤںغربت زدہ کیا وطن بتاؤں

گھر بار سے کیا فقیر کو کامکیا لیجیے چھوڑے گاؤں کا نام

پوچھا کہ سبب کہا کہ قسمتپوچھا کہ طلب کہا قناعت

باتوں پہ فدا ہوا شہنشاہلایا بصد امتیاز ہمراہ

چہرے سے امیرزادہ پایاگھر لا کے وزیر اسے بنایا

نذریں لے بندگان درگاہدستور سے آ ملے بصد جاہ

دربار میں چاروں شاہزادےدیکھا کھلے وہ دل کے سادے

چاہا گلچیں کا امتحاں لےپوچھا کہ نگیں جو لے کہاں لے

بتلانے لگے وہ چاروں ناداںکوئی یمن اور کوئی بدخشاں

جانا کہ جو گل یہ لائے ہوتےخاتم کے نگیں بتائے ہوتے

تجویز میں تھا یہ صاحب فکرآیا تاج الملوک کا ذکر

نقش اس کو ہوا کہ بس وہی ہےان سادوں سے کندہ کب ہوئی ہے

ظاہر نہ کیا بطون اپناطالع سے لیا شگون اپنا

منزل گہ رہرواں بنا کےشام و سحر اس میں آپ آ کے

رہرو کو دیا بہ لطف و اکرامآتے آرام جاتے پیغام

آباد ہونا تاج الملوک کا گلشن نگاریں بنوا کے اور شہرہ ہونا

تعمیر مکاں کے ہیں جو آثاریوں خامہ ہے بہر بیت معمار

شہزادہ کہ عازم وطن تھاگل پانے سے خوش چمن چمن تھا

اندھے کو کیا جب اس نے بینااور داغیوں نے وہ پھول چھینا

سوچا کہ خوشی خدا کی غم کھاؤحمالہ دیونی کو بلواؤ

نقل ارم اک مکاں بنا کےرکھو پریوں کو اس میں لا کے

بال آگ پہ رکھتے آندھی آئیوہ دیونی بال باندھی آئی

تنہا اسے دیکھ کر کہا ہیںمحمودہ کیا ہوئیں کہا ہیں

دریا پہ ہوں ان کو چھوڑ آیامسکن کے لیے تمھیں بلایا

لیکن وہ مکان وہ حوض وہ باغجو باغ بکاولی کو دے داغ

حمالہ نے دیووں کو کیا یادآئے تو کہا یہ بن ہو آباد

ویرانے کو گل زمیں بناؤگلزار جواہریں بناؤ

صناع طلسم کار تھے وہگلشن کے لیے بہار تھے وہ

دیووں نے ادھر محل بنایاکشتی سے وہ دخت رز کو لایا

حمالہ اس کی مادر پیرمحمودہ سے ہوئی بغلگیر

کچھ دیووں کو چھوڑ کر وہیں پررخصت ہو کر چلی گئی گھر

گلشن میں سمن بروں کو لایانسریں بدنوں سے گھر بسایا

دونوں کو محل میں لا کے رکھاپھل نخل مواصلت کا چکھا

دیووں کو کہا کہ بہر تمکیںآباد ہو گلشن نگاریں

دیو آدمی بن کے بن میں آئےآتے جاتے کو گھیر لائے

جو سن کے خبر گیا ادھر کوجنت سے وہ پھر پھرا نہ گھر کو

ازبسکہ قریب شہر تھا باغخورشید افق نظر پڑا باغ

مفلس زردار امیر قلاشنوکر تاجر فقیر خوش باش

گھر چھوڑ کے چل بسے سب انساںپھر تن میں نہ آئے صورت جاں

ملاقات ٹھہرنی زین الملوک اور تاج الملوک کی آپس میں

گلشن جو بنا جواہر آگیںیوں صفحہ قلم سے ہے نگاریں

ساعد نام ایک مہ لقا تھادلبر کا غلام باوفا تھا

صحرا سے جو سیر کر کے آیالکڑی کے چکا کے بوجھ لایا

دلوائے ہر ایک کو پے قوتالماس و عقیق و لعل و یاقوت

تھی بسکہ وہ جا خلاصۂ دہرکچھ ٹھہرے کچھ آئے جانب شہر

کف میں وہ جو لعل بے بہا تھےمن پاتے ہی لوگ اژدہا تھے

شحنے نے سنا پکڑ بلایالے کر اظہار ساتھ لایا

دیکھا تو جلوہ گاہ امیداک دائرہ تھا برنگ خورشید

دروازے پہ دیووں کا تھا پہرابھجوا کے خبر وہ شحنہ ٹھہرا

جب واں سے طلب ہوا تو درباںلائے اسے پیشگاہ سلطاں

آداب کیا ادب سے ٹھہراحیرت زدہ دور سب سے ٹھہرا

ان لوگوں کو لے گیا تھا ہمراہمعروض کیا کہ یا شہنشاہ

کم مایہ یہ لوگ ہیں بظاہرچوری کے تو یہ نہیں جواہر

ساعد نے کہا کہ ہے یہ حاسدنیت ہوئی ہوگی اس کی فاسد

حضرت یہ وہی تو ہیں تبردارجا ان سے نہ بولیو خبردار

پھر کر انھیں پاؤں شحنہ بے آسآیا زین الملوک کے پاس

کی عرض کہ باغ اک بنا ہےیہ شہر اجڑ کے وہ بسا ہے

جو کوئی ہے اس جگہ پہ جاتاڈھیروں ہے جواہرات پاتا

حضرت نے کہا کہ بک نہ خیرہقاروں کا وہیں ہے کیا ذخیرہ

فرخ کہ وزیر باخرد تھاسلطاں کا مشیر نیک و بد تھا

بولا کہ شہا یہ بات کیا ہےنیرنگ و فسوں کا گھر بڑا ہے

ہر چند کہ طرفہ حال ہے یہکچھ دور نہیں مثال ہے یہ

حکایت ایک عورت کے مرد بن جانے کی دیو کے جادو سے

اک ملک میں ایک صاحب فوجرکھتا تھا محل میں بارور زوج

تھا داغ پسر مقدر اس کوجننی تھی ہمیشہ دختر اس کو

ازبسکہ وہ شاہ تھا بداخترکرتا تھا حسد سے قتل دختر

اک بار محل میں پھر حمل تھاوہ شاہ کہ ظلم میں مثل تھا

کھا بیٹھا قسم کہ اب کی باریبیٹا جو نہ دے جناب باری

اقبال کا کچھ نہ جانے اوجکر ڈالیے ذبح دختر و زوج

کنیا تھی غرض کہ راس اس کیپوری نہ ہوئی وہ آس اس کی

سلطان کا جو عہد بے خلل تھاگھر والوں کو خوف کا محل تھا

ملحوظ بہ دل تھا پردۂ رازسیارہ شناسوں سے کیا ساز

ہر چند ستارہ ماں کا تھا ماندتھی چاندنی شہرہ کر دیا چاند

پھر اہل نجوم محرم رازبانوئے ملک سے ہو کے دمساز

بیٹے کا وہ زائچہ بنا کےگویا ہوئے دست بستہ آ کے

حضرت یہ پسر ہے نیک اختربدیمن مگر ہے ایک اختر

جب تک نہ چلے یہ اپنے پاؤںحضرت نہ پسر کے سامنے ہوں

حیلہ کر کے چھپائی یکچندبیتاب ہوا جب آرزومند

وہ گندم جو نما تھی بالیمردانہ لباس سے نکالی

خوش ہو کے پدر نے بہر شادیٹھہرائی کہیں کی شاہزادی

بن ٹھن کے عروس شکل دامادشادی کو چلی بجان ناشاد

اک شب کسی دشت میں تھے ڈیرےاور روز نکاح تھا سویرے

خیمے سے وہ بے قرار نکلیاس چھالے سے مثل خار نکلی

دیکھا تو اندھیری رات سنساناک عالم ہو ہے اور بیاباں

اک دیو وہاں پہ گشت میں تھاجویائے شکار دشت میں تھا

دیکھا تو کہا خضر ملے آؤمنہ کھولو عدم کی راہ بتلاؤ

بولا وہ کہ سن تو آدمی زادکیوں تنگ ہے جی سے کیا ہے بیداد

اے مرد خدا خدا کی سوگندکہہ کس لیے ہے تو آرزومند

بولی وہ کہ یہ خیال ہے خامخنجر کا ہو کیا نیام سے کام

کہہ کر کھلے بندوں جی کی تنگیبے ننگ ہوئی وہ شوخ ننگی

آنکھیں جھپکا کے دیو بولاتو کیا کھلی پردہ تو نے کھولا

خاطر تری لے طلسم دکھلاؤںتو مجھ سی بنے میں تجھ سا بن جاؤں

موند آنکھ کہا تو موند لی آنکھکھول آنکھ کہا تو کھول دی آنکھ

پائے مردانگی کے پر تودامن میں سے دی چراغ نے لو

تھالی میں یہاں اگا صنوبرواں شیشہ رہا ترش کے ساغر

اب یاں سے ہے قصہ مختصر طولفرخ کہ وہ تھا وزیر معقول

بولا کہ شہا جو یہ ہوا ہےاس بات کا پھر وجود کیا ہے

شہ نے کہا سن وزیر دانابے دیکھے سنے کو کس نے مانا

یاد آئی مجھے بھی اک روایتیہ کہہ کے بیان کی حکایت

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.