
Chapter 3 of 10
The Rose Taken from Bakavali's Garden
باغِ بکاؤلی سے گل لانا
پہنچنا تاج الملوک کا سرنگ کھدوا کر باغ بکاولی میں اور گل لے کر پھرنا
کرتا ہے جو طے سواد نامہیوں حرف ہیں نقش پائے خامہ
وہ دامن دشت شوق کا خاریعنی تاج الملوک دل زار
اک جنگلے میں جا پڑا جہاں گردصحرائے عدم بھی تھا جہاں گرد
سائے کو پتا نہ تھا شجر کاعنقا تھا نام جانور کا
مرغان ہوا تھے ہوش راہینقش کف پا تھے ریگ ماہی
وہ دشت کہ جس میں پر تگ و دویا ریگ رواں تھی یا وہ رہرو
ڈانڈا تھا ارم کے بادشاہ کااک دیو تھا پاسباں بلا کا
دانت اس کے تھے گورکن قضا کےدو نتھنے رہ عدم کے ناکے
سر پر پایا بلا کو اس نےتسلیم کیا قضا کو اس نے
بھوکا کئی دن کا تھا وہ ناپاکفاقوں سے رہا تھا پھانک کر خاک
بے ریشہ یہ طفل نوجواں تھاحلوا بے دود بے گماں تھا
بولا کہ چکھوں گا ہیں یہ انساناللہ اللہ شکر احسان
شہزادہ کہ منہ میں تھا اجل کےاندیشہ سے رہ گیا دہل کے
پل مارنے کی ہوئی جو دیریسبحان اللہ شان تیری
اشتر کئی جاتے تھے ادھر سےپر آرد و روغن و شکر سے
وہ دیو لپک کے مار لایاغراتے ہوئے شکار لایا
اونٹوں کی جو لوتھیں دیو لایادم اس کا نہ اس گھڑی سمایا
تیورا کے وہیں وہ بار بر دوشبیٹھا تو گرا گرا تو بے ہوش
چاہا اس نے کہ مار ڈالویا بھاگ سکو تو راستا لو
وہ اونٹ تھے کاروانیوں کےسب ٹھاٹھ تھے میہمانیوں کے
میدا بھی شکر بھی گھی بھی پایاخاطر میں یہ اس بشر کے آیا
میٹھا اس دیو کو کھلاؤگڑ سے جو مرے تو زہر کیوں دو
حلوے کی پکا کے اک کڑھائیشیرینی دیو کو چڑھائی
ہر چند کہ تھا وہ دیو کڑواحلوے سے کیا منہ اس کا میٹھا
کہنے لگا کیا مزا ہے دلخواہاے آدمی زاد واہ وا واہ
چیز اچھی کھلائی تو نے مجھ کوکیا اس کے عوض میں دوں میں تجھ کو
بولا وہ کہ پہلے قول دیجےپھر جو میں کہوں قبول کیجے
وہ ہاتھ پر اس کے مار کر ہاتھبولا کہ ہے قول جان کے ساتھ
بولا وہ کہ قول اگر یہی ہےبدعہدی کے پر نہیں سہی ہے
گلزار ارم کی ہے مجھے دھنبولا کہ ارے بشر وہ گلبن
خورشید کے ہم نظر نہیں ہےاندیشے کا واں گزر نہیں ہے
واں موج ہوا ہوا پہ اژدرواں ریگ زمیں زمیں پہ اخگر
ہوتا جو نہ قول کا سہارابچتا نہ یہیں تو خیر ہارا
رہ جا مرا بھائی ایک ہے اورشاید کچھ اس سے بن پڑے طور
اک ٹیکرے پر گیا بلایاوہ مثل صدائے کوہ آیا
حال اس سے کہا کہ قول ہاراہے پیر یہ نوجواں ہمارا
مشتاق ارم کی سیر کا ہےکوشش کرو کام خیر کا ہے
حمالہ نام دیونی ایکچھوٹی بہن اس کی تھی بڑی نیک
خط اس کو لکھا بایں عبارتاے خواہر مہرباں سلامت
پیارا ہے مرا یہ آدمی زادرکھیو اسے جس طرح مری یاد
انسان ہے چاہے کچھ جو سازشمہمان ہے کیجیو نوازش
خط لے کے بشر کو لے اڑا دیوپہنچا حمالہ پاس بے ریو
بھائی کا جو خط بہن نے پایابھیجے ہوئے کو گلے لگایا
اس دیونی پاس اک حسیں تھیزنبور کے گھر میں انگبیں تھی
محمودہ نام دخت آدملے آئی تھی دے کے دیونی دم
جوڑا ہم جنس ہاتھ آیامحمودہ کے گلے لگایا
دن بھر تو الگ تھلگ ہی تھے وہدو وقت سے شام کو ملے وہ
تھے ضبط و حیا کے امتحاں میںپردہ رہا ماہ میں کتاں میں
آپس میں کھلے نہ شرم سے وہخاطر کی طرح گرہ رہے وہ
بولا وہ فسردہ دل سحرگاہکیا سرد ہوا ہے واہ وا واہ
بولی وہ کہ ہونے کو ہوا ہےجو غنچے کو گل کرے صبا ہے
بولا وہ یہی تو چاہتا ہوںگل پاؤں تو میں ابھی ہوا ہوں
پیراہن گل کی بو تھی مطلوبیوسف نے کہا وہ حال یعقوب
اول کہی بد نگاہی اپنیبعد اس کے وہ سب تباہی اپنی
کھولی تھی زبان منہ اندھیرےکہتے سنتے اٹھے سویرے
پوچھا حمالہ نے مری جانہم جنس ملا نکالے ارمان؟
بولی وہ کہ کہتے آتی ہے شرمدل سرد رہا بغل رہی گرم
ناکامی کے جب وہ طور سمجھیوہم اس کو ہوا کچھ اور سمجھی
پوچھا کہ بتا تو روگ کیا ہےدرماں ہے کہ درد لا دوا ہے
بولی وہ کہ ہے تو درد لیکنتم چاہو تو ہے دوا بھی ممکن
وہ بولی جو تو کہے زباں سےتارے تو اتاروں آسماں سے
چہرے کو چھپا کے زیر چادرمحمودہ نے کہا کہ مادر
باپ اس کا ہے اندھے پن سے مجہولمطلوب بکاولی کا ہے پھول
دل داغ اس کا برائے گل ہےنرگس کے لیے ہوائے گل ہے
ساعی تھی بدل یہ کہنے والیراہ اس نے سرنگ کی نکالی
دیووں سے کہا کہ چوہے بن جاؤتا باغ ارم سرنگ پہنچاؤ
سن حاجت نقب بہر گلگشتکترا چوہوں نے دامن دشت
پوشیدہ زمیں کے دل میں کی راہحد باندھ کے خوش پھرے اسی راہ
جب مہر تہ زمیں سمایااس نقب کی رہ وہ آدم آیا
صحن چمن ارم میں اک جابوٹا سا تہ زمیں سے نکلا
کھٹکا جو نگاہبانوں کا تھادھڑکا یہی دل کا کہہ رہا تھا
گوشے میں کوئی لگا نہ ہووےخوشہ کوئی تاکتا نہ ہووے
گو باغ کے پاسباں غضب تھےخوابیدہ برنگ سبزہ سب تھے
نرگس کی کھلی نہ آنکھ یکچندسوسن کی زباں خدا نے کی بند
خوش قد وہ چلا گل و سمن میںشمشاد رواں ہوا چمن میں
ایوان بکاولی جدھر تھاحوض آئنہ دار بام و در تھا
رکھتا تھا وہ آب سے سوا تابچندے خورشید چندے مہتاب
پھول اس کا اندھے کی دوا تھارشک جام جہاں نما تھا
پانی کے جو بلبلوں میں تھا گلپہنچا لب حوض سے نہ چنگل
پوشاک اتار اتر کے لایاپھولا نہ وہ جامے میں سمایا
گل لے کے بڑھا ایاغ برکفچوری سے چلا چراغ برکف
بارہ دری واں جو سونے کی تھیسو خوابگہ بکاولی تھی
گول اس کے ستوں تھے ساعد حورچلمن مژگان چشم مخمور
دکھلاتا تھا وہ مکان جادومحراب سے در سے چشم و ابرو
پردہ جو حجاب سا اٹھایاآرام میں اس پری کو پایا
بند اس کی وہ چشم نرگسی تھیچھاتی کچھ کچھ کھلی ہوئی تھی
سمٹی تھی جو محرم اس قمر کیبرجوں پہ سے چاندنی تھی سرکی
لپٹے تھے جو بال کروٹوں میںبل کھا گئی تھی کمر لٹوں میں
چاہا کہ بلا گلے لگائےسوتے ہوئے فتنے کو جگائے
سوچا کہ یہ زلف کف میں لینیہے سانپ کے منہ میں انگلی دینی
یہ پھول انھیں اژدہوں کا ہے منیہ کالے چراغ کے ہیں دشمن
گل چھن کے ہنسی نہ ہووے بالکلخندہ نہ ہو برق حاصل گل
پھر سمجھیں گے ہے جو زندگانیکچھ نام کو رکھ چلو نشانی
انگشتری اپنی اس سے بدلیمہر خط عاشقی سند لی
آہستہ پھرا وہ سرو بالاسایہ بھی نہ اس پری پہ ڈالا
ہیبت سا زمیں کے دل میں آیااندیشہ کی طرح سے سمایا
جب نقب افق سے مہر تاباںنکلا تو وہ ماہرو شتاباں
گل ہاتھ میں مثل دست بیضااس نقب کی آستیں سے نکلا
وہ دیونی اور وہ دخت انساںدونوں تھیں اسی کی منتظر واں
گل لے کے جب آ ملا وہ گلچیںاس نقب کی رخنہ بندیاں کیں
آوارہ ہونا بکاولی کا تاج الملوک گلچیں کی تلاش میں
گل کا جو الم چمن چمن ہےیوں بلبل خامہ نعرہ زن ہے
گلچیں نے وہ پھول جب اڑایااور غنچۂ صبح کھلکھلایا
وہ سبزۂ باغ خواب آرامیعنی وہ بکاولی گل اندام
جاگی مرغ سحر کے غل سےاٹھی نکہت سی فرش گل سے
منہ دھونے جو آنکھ ملتی آئیپر آب وہ چشم حوض پائی
دیکھا تو وہ گل ہوا ہوا ہےکچھ اور ہی گل کھلا ہوا ہے
گھبرائی کہ ہیں کدھر گیا گلجھنجھلائی کہ کون دے گیا جل
ہے ہے مرا پھول لے گیا کونہے ہے مجھے خار دے گیا کون
ہاتھ اس پہ اگر پڑا نہیں ہےبو ہو کے تو پھول اڑا نہیں ہے
نرگس تو دکھا کدھر گیا گلسوسن تو بتا کدھر گیا گل
سنبل مرا تازیانہ لاناشمشاد انھیں سولی پر چڑھانا
تھرائیں خواصیں صورت بیدایک ایک سے پوچھنے لگی بھید
نرگس نے نگاہ بازیاں کیںسوسن نے زباں درازیاں کیں
پتا بھی پتے کو جب نہ پایاکہنے لگیں کیا ہوا خدایا
اپنوں میں سے پھول لے گیا کونبیگانہ تھا سبزے کے سوا کون
شبنم کے سوا چرانے والااوپر کا تھا کون آنے والا
جس کف میں وہ گل ہو داغ ہو جائےجس گھر میں ہو گل چراغ ہو جائے
بولی وہ بکاولی کہ افسوسغفلت سے یہ پھول پر پڑی اوس
آنکھوں سے عزیز گل مرا تھاپتلی وہی چشم حوض کا تھا
نام اس کا صبا نہ لیتی تھی میںاس گل کو ہوا نہ دیتی تھی میں
گلچیں کا جو ہائے ہاتھ ٹوٹاغنچے کے بھی منہ سے کچھ نہ پھوٹا
او خار پڑا نہ تیرا چنگلمشکیں کس لیں نہ تو نے سنبل
او باد صبا ہوا نہ بتلاخوشبو ہی سنگھا پتا نہ بتلا
بلبل تو چہک اگر خبر ہےگل تو ہی مہک بتا کدھر ہے
لرزاں تھی زمیں یہ دیکھ کہرامتھی سبزے سے راست مو بر اندام
انگلی لب جو پہ رکھ کے شمشادتھا دم بخود اس کی سن کے فریاد
جو نخل تھا سوچ میں کھڑا تھاجو برگ تھا ہاتھ مل رہا تھا
رنگ اس کا غرض لگا بدلنےگلبرگ سے کف لگی وہ ملنے
بدلے کی انگوٹھی ڈھیلی پائیدست آویز اس کے ہاتھ آئی
خاتم تھی نام کی نشانیانسان کی دست برد جانی
ہاتھوں کو ملا کہا کہ ہیہاتخاتم بھی بدل گیا ہے بدذات
جس نے مجھے ہاتھ ہے لگایاوہ ہاتھ لگے کہیں خدایا
عریاں مجھے دیکھ کر گیا ہےکھال اس کی جو کھینچیے سزا ہے
یہ کہہ کے جنوں میں ہو غضبناکخوں روئی لباس کو کیا چاک
گل کا سا لہو بھرا گریباںسبزے کا سا تار تار داماں
دکھلا کے کہا سمن پری کواب چین کہاں بکاولی کو
تھی بسکہ غبار سے بھری وہآندھی سی اٹھی ہوا ہوئی وہ
کہتی تھی پری کہ اڑ کے جاتیگلچیں کا کہیں پتا لگاتی
ہر باغ میں پھولتی پھری وہہر شاخ پہ جھولتی پھری وہ
جس تختے میں مثل باد جاتیاس رنگ کے گل کی بو نہ پاتی
بے وقت کسی کو کچھ ملا ہےپتا نہیں حکم بن ہلا ہے
پہنچنا تاج الملوک کا ایک اندھے فقیر کے تکیے پر اور آزمانا گل کا
پھرنا جو وطن کا مدعا ہےاب صفحہ پہ یوں قلم پھرا ہے
وہ گلشن مدعا کا گلچیںیعنی تاج الملوک حق بیں
جس وقت وہ گل چمن سے لایامحمودہ خوش ہوئی کہ آیا
کہنے لگی لو مراد پائیبولا وہ جو یاں سے ہو رہائی
گل کی وہ غرض کر آشکاراجوبن کی طرح اسے ابھارا
جب دیو سیاہ شب سے مہتابرخصت ہوا جیسے چشم سے خواب
اور گل لیے آفتاب تاباںہنگام سحر ہوا شتاباں
وہ مہروش اور وہ ماہ پیکراس دیونی پاس آئے مضطر
گل کی وہ غرض جتائی اس کورخصت کی طلب سنائی اس کو
کیا کہتی وہ دیونی کہا جاؤدیووں سے کہا کہ تخت لے آؤ
دو بال دیے کہ لو مری لاگجب وقت پڑے دکھائیو آگ
دیو ان کو سریر پر بٹھا کےپرواز کناں ہوا پہ جا کے
بولے کہ کدھر چلو گے کہہ دوفردوس کے رخ کہا ادھر کو
وہ مڑ کے ادھر کو اڑ کے آئےگلزار میں بیسوا کے لائے
وقت سحر اور خنک ہوا تھیگلگشت چمن میں بیسوا تھی
چار آنکھیں ہوئیں تو تھی شناساقدموں پہ گری وہ سایہ آسا
صدقے ہو کر کہا خوش آئےجس گل کی ہوا لگی تھی لائے
ہمراہ یہ کون دوسری ہےسایہ ہے کہ ہمقدم پری ہے
بولا شہزادہ شکر ہے ہاںپر ہے گل آرزو سے داماں
محمودہ نام ہیں جو یہ ساتھپھول ان کے سبب سے آ گیا ہاتھ
جیتا جو پھرا وہ رشک شمشادقیدی کیے بیسوا نے آزاد
شہزادے نے بھائیوں کے لے نامبھجوایا برائے داغ پیغام
جھوٹوں اس نے تھا ان کو تایاسچوں کھوٹوں نے داغ کھایا
داغا تو چلے تفنگ سے وہچھوٹے قید فرنگ سے وہ
چھوڑا ہوس گل و چمن کوچاروں داغی پھرے وطن کو
بندوں کو کیا جب اس نے آزادآیا لب جو وہ رشک شمشاد
اسباب کو کشتیوں پہ کر بارسونپا سب ناخدا کو گھر بار
جب متصل آ گیا وطن کےخندے یاد آئے مرد و زن کے
سوچا کہ میں خود ہوں خانہ بربادکیا جانیے کیا پڑے گی افتاد
لازم ہے کہ گل اپنے ہاتھ رکھیےموقع نہیں بھیڑ ساتھ رکھیے
لنگر کا کیا انھیں اشارہخود کشتی سے کر گیا کنارہ
وہ پوربی کر کے جوگیا بھیسجھنگلے کی راہ سے چلا دیس
تکیے پہ فقیر پیر اندھااک گوشے میں آنکھیں مانگتا تھا
تھا نقش قدم سا خاک رہ پرٹھہرا وہ مسافر اس جگہ پر
بے تجربہ تھی نمائش گلواجب تھی آزمائش گل
پتلی پہ زر گل آزمایاسونے کو کسوٹی پر چڑھایا
گل سے ہوئی چشم کور تاباںہو جیسے چراغ سے چراغاں
منہ دیکھ کے اس نے دیں دعائیںپنجے سے مژہ کے لیں بلائیں
گل کے جو اثر سے شاداں تھاگلچیں وہ ہوا سے ہم عناں تھا
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.