Urdu in Translation
Search

Chapter 24 of 26

第二十三个故事:三个讲究的婆罗门

Tale 23: The Three Fastidious Brahmins

تئیسویں کہانی

马兹哈尔·阿里·汗·维拉

Script
Size

تئیسویں کہانی

بیتال بولا اے راجا! دھرم پور نام نگر، وہاں کا دھرمج نام راجا، اس کے شہر میں گوبند نام براہمن، چاروں بید چھہوں شاستر کا جاننے والا تھا، اور اپنے دھرم کرم سے ساودھان۔ اور ہری دت، سوم دت، یگیہ دت، برہم دت اس کے چار بیٹے تھے، بڑے پنڈت بڑے چتر اور اپنے باپ کی آگیا میں سدا رہتے تھے۔ کتنے ایک دن پیچھے بڑا بیٹا اس کا مر گیا، اور وہ بھی اس کے دکھ سے مرنے لگا۔ تس سمے وہاں کے راجا کا پروہت بشنو شرما آن اسے سمجھانے لگا، کہ یہ منش جس سمے ماں کے گربھ میں آتا ہے، پہلے وہیں دکھ پاتا ہے۔ دوسرے جوانی میں کام کے بس ہو پریتم کے بیوگ سے ایذا سہتا ہے۔ تیسرے بوڑھا ہو اپنے شریر کے نربل ہونے سے اذیت میں پڑتا ہے۔

غرض سنسار میں جنم لینے سے دکھ بہت ہوتے ہیں اور سکھ تھوڑا۔ کیونکہ یہ سنسار دکھ کا مول ہے، اگر کوئی درخت کی پھننگ پر جا چڑھے، یا پہاڑ کی چوٹی پر جا بیٹھے، یا پانی میں چھپ رہے، یا لوہے کے پنجرے میں گھس رہے، یا پاتال میں جا چھپے، تو بھی کال نہیں چھوڑتا۔ اور پنڈت، مورکھ، دھنوان، نردھن، گیانی، اگیانی، بلوان، نربل کیسا ہی کوئی ہووے پر یہ سرو بھکشی کال کسی کو نہیں چھوڑتا۔ تمام سو برس کی منش کی آربل ہے، تس میں سے آدھی تو رات میں جاتی ہے، اور آدھی کی آدھی بال اور بردھ اوستھا میں۔ شیش جو رہی سو بباد، بیوگ، سوگ میں گزرتی ہے۔ اور جی جو ہے پانی کی ترنگ کی طرح چنچل ہے، اس سے اس منش کو سکھ کہاں، اور اب کل یگ کے سمے ستیہ وادی منش ملنے درلبھ ہیں، اور دن بدن دیس اجڑتے ہیں، راجا لوبھی ہوتے ہیں، پرتھوی مند پھل دیتی ہے، چور دراچاری پرتھوی میں اپادھ کرتے ہیں، اور دھرم تپ، ست، سنسار میں تھوڑا رہا ہے، راجا کٹل، براہمن لالچی، لوگ لگائی کے بس ہوئے، ستری چنچل ہوئیں، پتا کی نندا پتر کرنے لگے، اور متر شترتا۔

اور دیکھو جس کا ماما کنہیا اور پتا ارجن، تس ابھی منیو کو بھی کال نے نہ چھوڑا۔ اور تس سمے منش کو جم لے جاتا ہے، لکشمی اس کے گھر میں رہتی ہے، اور ماں باپ جورو لڑکا بھائی بندھو کوئی کام نہیں آتا۔ بھلائی برائی پاپ پنیہ ہی ساتھ جاتا ہے، اور رہی کنبے کے لوگ اسے مرگھٹ میں لے جا جلا دیتے ہیں۔ اور دیکھو ادھر رات بیتت ہوتی ہے، ادھر دن آتا ہے۔ ادھر چاند است ہے، ادھر سورج ادے۔ ایسے جوانی جاتی ہے بڑھاپا آتا ہے، اسی طرح سے کال بیتا چلا جاتا ہے، پر یہ دیکھ کر منش کو گیان نہیں ہوتا۔

اور دیکھو ستیہ یگ میں مان دھاتا ایسا راجا کہ جس نے دھرم کے جس سے ساری پرتھوی کو چھا دیا تھا۔ اور تریتا میں شری رام چندر راجا کہ جس نے سمندر کا پل باندھ، لنکا سا گڑھ توڑ، راون کو مارا۔ اور دواپر میں یدھشٹر نے ایسا راج کیا کہ جس کا جس اب تک لوگ گاتے ہیں۔ پر کال نے انہیں بھی نہ چھوڑا۔ اور آکاش کے اڑنے والے پنچھی، اور سمدر کے رہنے والے جیو سمے پائے وے بھی آپتیہ میں آ پڑتے ہیں۔ اس سنسار میں آ کے دکھ سے کوئی نہیں چھوٹا، اس کا موہ کرنا ورتھا ہے۔ اس سے اتم یہ ہے کہ دھرم کاج کیجیے۔

اس طرح سے جب بشنو شرما نے سمجھایا، تب اس براہمن کے جی میں آیا کہ اب پنیہ کاج کیجیے۔ یہ من میں اس نے سوچ اپنے بیٹوں سے کہا کہ میں یگیہ کرنے بیٹھتا ہوں، تم سمدر سے جا کر کچھوا لے آؤ۔ اپنے باپ کی آگیا پا، ایک دھیمر سے جا کر انہوں نے کہا کہ ایک روپیا لے اور کچھوا پکڑ دے۔ اس نے لیا اور پکڑ دیا۔ تب ان میں سے بڑے بھائی نے مجھلے سے کہا تو اٹھا لے، ان نے چھوٹے سے کہا بھائی تو اٹھا لے اس نے کہا کہ میں اسے نہ چھوؤں گا، میرے ہاتھ میں درگندھ آوے گی، اور میں بھوجن کرنے میں چتر ہوں۔ مجھلا بولا کہ میں ناری رکھنے میں چتر ہوں۔ بڑے نے کہا کہ میں سیج پر سونے میں چتر ہوں۔

اسی طرح تینوں بباد کرنے لگے، اور کچھوے کو وہاں چھوڑ، جھگڑتے ہوئے راجا کے دوار پر جا دوار پال سے انہوں نے کہا، کہ تین براہمن فریادی آئے ہیں، یہ جا کے تو راجا سے کہہ۔ یہ سن کے دربان نے راجا کو خبر دی، راجا نے بلوا کر پوچھا کہ تم کس واسطے آپس میں جھگڑتے ہو؟ تب ان میں سے چھوٹا بولا کہ مہاراج! میں بھوجن چتر ہوں۔ مجھلے نے کہا کہ پرتھوی ناتھ! میں ناری چتر ہوں۔ بڑے نے کہا کہ دھرماوتار! میں سیج چتر ہوں۔ یہ سن راجا نے کہا اپنی اپنی پرکشا دو، انہوں نے کہا بہت اچھا۔

راجا نے اپنے رسوئیے کو بلا کر کہا کہ بھانت بھانت کے بنجن اور پکوان بنا، اس براہمن کو اچھی طرح بھوجن کرواؤ۔ یہ سن رسوئیے نے جا، رسوئی تیار کر، اس بھوجن چتر کو لے جا تھال پر بٹھایا، چاہے کہ وہ گراس اٹھا منہ میں دے، کہ اس میں درگندھ آئی، اسے چھوڑ ہاتھ دھو راجا کے پاس آیا، راجا نے پوچھا کہ تو نے سکھ سے بھوجن کیا؟ تب اس نے کہا کہ مہاراج! ان میں درگندھ آئی، میں نے بھوجن نہ کیا۔ پھر راجا نے کہا درگندھ کا کارن کہہ۔ اس نے کہا مہاراج! مرگھٹ کی بھومی کے چانول تھے، مردے کی بو اس میں سے آتی تھی، اس کارن نہ کھایا۔ یہ سن کے راجا نے اپنے بھنڈاری کو بلا کر پوچھا، ارے! یہ کس گاؤں کے چانول تھے؟ اس نے کہا مہاراج! شو پور کے۔ راجا نے کہا وہاں کے کسان کو بلاؤ۔ تب بھنڈاری نے اس گاؤں کے زمیندار کو حضور میں بلوایا، راجا نے پوچھا، یہ کس بھومی کے ہیں؟ اس نے کہا کہ مہاراج؟ شمشان کے ہیں۔ یہ سن کے راجا نے اس براہمن کے لڑکے سے کہا کہ تو سچ بھوجن چتر ہے۔

پھر ناری چتر کو بلوا، ایک مکان میں پلنگ بچھوا سب خوشی کے سامان رکھوا، ایک اچھی ستری کو بلوا اس کے پاس رکھوا دیا، اور وے دونوں آپس میں لیٹے ہوئے باتیں کرنے لگے۔ راجا چھپ کے جھروکے سے دیکھنے لگا، اور اس براہمن نے چاہا کہ اس کا بوسہ لے، اس میں اس کے منہ سے باس پا، منہ پھیر سو رہا۔ راجا نے یہ چرتر دیکھ، اپنے مندر میں جا کر آرام کیا، بھور کے سمے دربار میں آ اس براہمن کو بلا کے پوچھا کہ اے براہمن! آج کی رات تو نے سکھ سے کاٹی؟ اس نے کہا مہاراج! سکھ نہ پایا۔ پھر راجا نے کہا کس کارن؟ براہمن نے کہا اس کے منہ سے بکری کی گندھ آتی تھی، اس سے جیو میرا بہت بے چین رہا۔

یہ سن راجا نے دلالہ کو بلا کر پوچھا کہ اسے تو کہاں سے لائی تھی، اور یہ کون ہے؟ اس نے کہا یہ میری بہن کی بیٹی ہے، جب تین مہینے کی تھی تب اس کی ماں مر گئی، اور میں نے اسے بکری کا دودھ پلا پلا کر پالا ہے۔ یہ سن راجا نے کہا سچ تو ناری چتر ہے۔ پھر سیج چتر کو اچھے اچھے بچھونے کروا پلنگ پر سلوایا، پربھات ہوئے راجا نے اسے بلا کر پوچھا، تو رات بھر سکھ سے سویا؟ ان نے کہا مہاراج! رات بھر نیند نہ آئی۔ راجا نے کہا، کس کارن؟ اس نے کہا مہاراج! اس سیج کی ساتویں تہہ میں ایک بال ہے، وہ میری پیٹھ میں چبھتا تھا، اس سے نیند نہ آئی۔ یہ سن راجا نے اس بچھونے کی ساتویں تہہ میں دیکھا تو ایک بال نکلا، تب اس سے کہا کہ تو سچ سیج چتر ہے۔

اتنی بات کہہ بیتال نے پوچھا، ان تینوں میں کون اتی چتر ہے؟ راجا بیر بکرماجیت نے کہا، جو سیج چتر ہے۔ یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا، راجا بھی وہیں جا، اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.