
Chapter 25 of 26
Tale 24: The Rejuvenated Hermit
چوبیسویں کہانی
چوبیسویں کہانی
بیتال نے کہا اے راجا! کلنگ دیس میں ایک یگیہ شرما نام براہمن، تس کی ستری کا نام سوم دتا، اتی روپ وتی تھی۔ وہ براہمن یگیہ کرنے لگا، اس میں اس ستری کے ایک سندر لڑکا ہوا۔ جب وہ پانچ برس کا ہوا، تب باپ اس کا شاستر پڑھانے لگا۔ بارہ برس کی عمر میں وہ سب شاستر پڑھ کے بڑا پنڈت ہوا، اور سدا اپنے باپ کی سیوا میں رہنے لگا۔ کتنے ایک دن بیتے وہ لڑکا مر گیا، اس کے سوگ سے ماتا پتا چلا چلا رونے لگے۔ یہ خبر پا سارے کنبے کے لوگ دھائے، اور اس لڑکے کو ارتھی میں باندھ کر شمشان میں لے گئے، اور وہاں جا اسے دیکھ دیکھ آپس میں کہنے لگے، دیکھو ایسے پر بھی سندر لگتا ہے۔
اسی طرح سے باتیں کرتے تھے اور چتا چنتے تھے، کہ وہاں ایک جوگی بھی بیٹھا تپسیا کر رہا تھا۔ یہ بات سن وہ اپنے جی میں بچارنے لگا کہ میرا شریر اتی بردھ ہوا۔ جو اس لڑکے کے شریر میں پیٹھوں تو سکھ سے جوگ کروں۔ یہ سوچ کر اس لڑکے کے شریر میں پیٹھ، کروٹ لے، رام کرشن کہہ ایسا اٹھ بیٹھا، جیسے کوئی سوتے سے اٹھ بیٹھے۔ یہ دیکھ تمام لوگ اچنبھے میں ہو، اپنے اپنے گھر آئے، اور اس کے باپ کو یہ اچرج دیکھ بیراگ ہوا۔ اور وہ جوگی پہلے ہنسا پیچھے رویا۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا اے راجا بکرم! کہہ وہ کیوں ہنسا اور کیوں رویا؟ تب راجا نے کہا، جوگی کو اس کے شریر میں جاتے دیکھ اور یہ بدیا سیکھ کر ہنسا، اور اپنے شریر کے چھوڑنے کے موہ سے رویا، کہ ایک دن اسی طرح مجھے بھی اپنا شریر چھوڑنا پڑے گا۔ یہ سن بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا، اور راجا بھی پیچھے جا، اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.