
第 17 章,共 26 章
第十六个故事:守住正法的国王
Tale 16: The King Who Kept His Dharma
سولھویں کہانی
سولھویں کہانی
بیتال بولا اے راجا بیر بکرماجیت! چندر شیکھر نام ایک نگر ہے، کہ وہاں کا رہنے والا رتن دت سیٹھ تھا۔ اس کے ایک بیٹی تھی، انمادنی تھا اس کا نام۔ جب وہ جوبن وتی ہوئی، تب اس کے باپ نے وہاں کے راجا سے جا کر کہا، مہاراج! میرے گھر میں ایک کنیا ہے، جو آپ کو اس کی چاہ ہو تو لیجیے، نہیں میں اور کسی کو دوں۔ یہ سن راجا نے دو تین پراچین داسوں کو بلا کر کہا، اس سیٹھ کی پتری کے لکشن جا کے دیکھ آؤ۔ وے راجا کی آگیا سے سیٹھ کے گھر آئے، اور اس لڑکی کا روپ دیکھ سبھی موہت ہوئے۔
حسن ایسا گویا اندھیرے گھر کا اجالا، آنکھیں مرگ کی سی، چوٹی ناگن سی، بھویں کمان سی، ناک کیر کی سی، بتیسی موتی کی سی لڑی، ہونٹھ کندوری کی مانند، گلا کپوت کا سا، کمر چیتے کی سی، ہاتھ پاؤں کومل کمل سے، چندر مکھی، چمپا برنی، ہنس گونی، کوکل بینی جس کے روپ کو دیکھ اندر کی اپسرا بھی لجائے۔ اس پرکار کی سندری سب سلکشن بھری دیکھ انہوں نے آپس میں بچار کیا، ایسی جو ناری راجا کے گھر میں جائے گی، تو راجا اس کا ادھین ہوئے گا، اور راج کاج کی چنتا کچھ نہ کرے گا، اس سے بہتر یہ ہے کہ راجا سے کہیے، وہ کلکشنی ہے، آپ کے جوگ نہیں۔
یہ بچار کر وہاں سے راجا کے پاس آ کر انہوں نے یہ نویدن کیا، مہاراج! اس کنیا کو ہم نے دیکھا، وہ آپ کے لائق نہیں۔ یہ سن کے راجا نے سیٹھ سے کہا میں بیاہ نہ کروں گا۔ پھر سیٹھ نے اپنے گھر آ کیا کام کیا کہ بلبھدر جو راجا کا سیناپتی تھا، اس کے ساتھ اپنی پتری کا بواہ کر دیا۔ وہ اس کے گھر میں رہنے لگی۔ ایک دن کا ذکر ہے، راجا کی سواری اس راہ سے نکلی، اور وہ بھی اس سمے سنگار کیے اپنے کوٹھے پر کھڑی تھی۔ اتفاقاً راجا کی اور اس کی چار نظریں ہوئیں۔ راجا اپنے من میں کہنے لگا، یہ دیو کنیا ہے یا اپسرا ہے، یا نر کنیا ہے۔
غرض اس کا روپ دیکھ، موہت ہو گیا اور وہاں سے نپٹ بے قرار ہو، اپنے مندر کو آیا۔ اس کا منہ دیکھ دوار پال بولا مہاراج! آپ کے شریر میں کیا بتھا ہے؟ راجا نے کہا، آج میں نے آتے ہوئے باٹ میں ایک کوٹھے پر سندر ستری دیکھی ہے، میں نہیں جانتا ہوں کہ وہ حور یا پری یا انسان ہے، کہ اس کے روپ نے ایک بارگی میرا من موہ لیا، اس سے بے کل ہوں۔ یہ سن کے دربان نے عرض کی، مہاراج! اسی سیٹھ کی لڑکی ہے، جو آپ کا سیناپتی بلبھدر ہے، وہ اسے بیاہ لایا ہے۔ راجا نے کہا، میں نے جن لوگوں کو لکشن دیکھنے بھیجا تھا، انہوں نے ہم سے چھل کیا۔ یہ کہہ راجا نے چوبدار کو فرمایا، انہیں جلدی لے آؤ۔ راجا کی یہ آگیا پا چوبدار انہیں بلا لایا۔
جب وے راجا کے سنمکھ آئے، تو راجا نے کہا، میں نے جس لیے تمہیں بھیجا تھا، اور جو میری اچھا تھی، سو تم نے نہ کی۔ بلکہ اپنے جی سے ایک بات جھوٹی بنا کر مجھے اتر دیا، اور آج میں نے اپنی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ وہ ایسی سندر ناری سب گن پوری ہے کہ اس سمے اس سی ملنی کٹھن ہے۔ یہ سن کے انہوں نے کہا مہاراج! جو آپ فرماتے ہیں سو سچ ہے، پر ہم نے اسے کلکشنی جس واسطے حضور میں عرض کیا تھا، سو وہ مدعا سنیے۔ آپس میں ہم نے یہ بچارا، ایسی سندر ناری جو مہاراج کے گھر میں جائے گی تو مہاراج دیکھتے ہی اس کے بس ہوں گے، اور راج کاج سب چھوڑ دیں گے تو راج بھنگ ہوگا، اس بھئے سے ہم نے ایسا بنا کر کہا تھا۔
یہ سن کے راجا نے ان سے تو کہا، کہ تم سچ کہتے ہو۔ پر اس کی یاد میں راجا کو نپٹ بے چینی تھی، اور سب لوگوں پر راجا کی بے قراری ظاہر تھی، کہ اتنے میں بلبھدر بھی آ پہنچا، اور ان نے ہاتھ جوڑ راجا کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کی، ہے پرتھوی ناتھ! میں آپ کا داس، وہ آپ کی داسی اور اس کے ہیت آپ اتنا کشٹ پاویں؟ اس سے مہاراج آگیا دیجیے کہ وہ حاضر ہو۔ یہ بات سن راجا نہایت کرودھ کر کے بولا، برانی ستری کے پاس جانا بڑا ادھرم ہے، یہ بات کیا تو نے مجھ سے کہی، کیا میں ادھرمی ہوں جو ادھرم کروں؟
برانی ستری ماتا کی سمان ہے، اور برانا دھن ماٹی برابر۔ سنو بھائی! جیسا اپنا جی آدمی سمجھے، ویسا ہی سب کا جی سمجھے۔ پھر بلبھدر بولا، وہ میری داسی ہے، جب میں نے آپ کو دی، پھر بیگانی ستری کیوں کر ہوئی؟ راجا نے کہا، جس کام کے کرنے سے سنسار میں کلنک لگے سو کام میں نہ کروں گا۔ پھر سیناپتی نے عرض کیا مہاراج! اسے میں گھر سے نکال، اور جگہ رکھ، بیسوا کر، آپ کے پاس لاؤں گا۔ تب راجا نے کہا جو تو ستی ناری کو بیسوا کرے گا تو میں تجھے بڑا ڈنڈ دوں گا۔
یہ کہہ راجا اس کی یاد میں چنتا کر کے دس دن میں مر گیا۔ پھر بلبھدر سیناپتی نے اپنے گرو سے جا کر پوچھا، میرا سوامی انمادنی کے کارن موا، اب مجھے کیا کرنا اچت ہے، سو آگیا کیجیے۔ اس نے کہا، سیوک کا دھرم یہ ہے، سوامی کے پیچھے اپنا جی دے۔ یہ سن کے بخشی وہاں گیا جہاں راجا کے تئیں جلانے کو لے گئے تھے، جتنی دیر میں راجا کی چتا تیار ہوئی، اس نے بھی سنان پوجا سے فراغت کی، اور جب چتا میں آگ دی، تب یہ بھی چتا کے پاس گیا، اور سورج کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا، اے سورج دیوتا! میں من بچ کرم کر کے یہی کامنا مانگتا ہوں کہ جنم جنم اسی سوامی کو پاؤں، اور تیرا گن گاؤں۔ اتنا کہہ، ڈنڈوت کر، آگ میں کود پڑا۔
یہ خبر سن انمادنی اپنے گرو کے پاس گئی، اور اس سے سب کہہ کے پوچھا مہاراج! ستری کا دھرم کیا ہے؟ اس نے کہا، ماتا پتا نے جس کے تئیں اپنی کنیا دی، اسی کی سیوا کرنے سے وہ کلونتی کہلاتی ہے۔ اور دھرم شاستر میں ایسا لکھا ہے کہ جو ناری اپنے سوامی کے جیتے تپ برت کرتی ہے، وہ اپنے سوامی کی عمر کم کرتی ہے، اور انت کال کو نرک میں پڑتی ہے۔ پر اتم یہ ہے، کیسا ہی سوامی ہین ہو اسی کی سیوا کرنے سے اس کی مکتی ہوتی ہے، اور جو ناری شمشان میں ستی ہونے کی کامنا کر جتنے پاؤں زمین پر رکھتی ہے، اتنے اشومیدھ یگیہ کرنے کے پھل ہوتے ہیں، اس میں کچھ سندیہ نہیں، اور ستی ہونے کے سمان ناری کو کوئی دھرم نہیں۔ یہ سن ڈنڈوت کر، اپنے گھر کو آئی، اور سنان دھیان کر، بہت سا دان براہمنوں کو دے، چتا کے پاس جا ایک پری کرما کر بولی، کہ اے ناتھ! میں تیری داسی جنم جنم ہوں۔ اتنا کہہ یہ بھی آگ میں جا بیٹھی اور جل گئی۔
اتنی کتھا کہہ بیتال بولا، اے راجا! ان تینوں میں کس کا ست ادھک ہوا؟ راجا بیر بکرماجیت نے کہا، اس راجا کا۔ بیتال نے کہا کس طرح؟ راجا بولا، سیناپتی کی دی ہوئی ستری کو چھوڑا، اور اسی کے واسطے جان دی، پر دھرم رکھا۔ سوامی کے لیے سیوک کو جی دینا اچت ہے، اور پتی کے لیے ستری کو ستی ہونا لازم ہے، اس کارن راجا کا ست ادھک ہوا۔ بیتال اتنا سن، اسی ترور میں جا لٹکا، راجا بھی پیچھے پیچھے جا، پھر اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。