
Chapitre 18 sur 26
Conte 17 : L’adepte à l’esprit partagé
Tale 17: The Double-Minded Seeker
سترھویں کہانی
سترھویں کہانی
بیتال بولا اے راجا! اجین نگری کا مہاسین نام راجا تھا، اور وہاں کا باسی دیو شرما براہمن۔ جس کے بیٹے کا نام گناکر۔ وہ بڑا جواری ہوا، یہاں تلک کہ جو کچھ اس براہمن کا دھن تھا سو جوئے میں ہار دیا۔ تب سارے کنبے کے لوگوں نے گناکر کو گھر سے نکال دیا، اور اس سے کچھ نہ بن آیا۔ لاچار ہو کر وہاں سے چلا تو کتنے دنوں میں ایک شہر میں آیا۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ ایک جوگی دھونی لگائے بیٹھا ہے۔ اسے ڈنڈوت کر یہ بھی وہاں بیٹھ گیا۔
جوگی نے اس سے پوچھا تو کچھ کھائے گا؟ اس نے کہا مہاراج! دو گے تو کیوں نہ کھاؤں گا۔ جوگی نے ایک آدمی کی کھوپڑی میں کھانا بھر کے اسے لا دیا، اس نے دیکھ کر کہا، اس کپال کا ان میں نہ کھاؤں گا۔ جب ان نے بھوجن نہ کیا، تب جوگی نے ایسا منتر پڑھا کہ ایک یکشنی ہاتھ جوڑ آن کے حاضر ہوئی، اور بولی، مہاراج! جو آگیا ہو سو کروں۔ جوگی نے کہا اس براہمن کو اچھا بھوجن دے۔ اتنا سن کے اس نے ایک اچھا سا مندر بنا اس میں سب سکھ کے سامان رکھ کے اسے یہاں سے اپنے ساتھ لے گئی، اور چوکی پر بٹھا بھانت بھانت کے بنجن اور پکوان تھال بھر بھر اس کے روبرو رکھے۔
اس نے من مانتا جو بھایا سو کھایا۔ اس کے بعد پاندان اس کے سنمکھ رکھ دیا، اور کیسر چندن گلاب میں گھس کر اس کے بدن میں لگایا۔ پھر اچھے وستر سگندھوں سے باس کر پہنا، پھولوں کی مالا گلے میں ڈال، وہاں سے پلنگ پر لا بٹھایا، کہ اتنے میں سانجھ ہوئی، اور یہ بھی اپنی تیاری کر سیج پر جا بیٹھی، اور اس براہمن نے ساری رین سکھ چین سے کاٹی۔
جب بھور ہوئی وہ یکشنی اپنے استھان پر گئی، اور اس نے جوگی کے پاس آن کر کہا، کہ سوامی! وہ تو چلی گئی، اب میں کیا کروں۔ جوگی بولا، وہ بدیا کے بل سے آئی تھی، اور جسے بدیا آتی ہے اس کے پاس رہتی ہے۔ اس نے کہا، مہاراج! یہ بدیا مجھے دو تو میں سادھوں۔ تب جوگی نے ایک منتر اس کو دیا اور کہا کہ اس منتر کو چالیس دن آدھی رات کے سمے جل میں بیٹھ ایک چت ہو کے سادھ۔
اسی طرح سے یہ سادھنے کو جایا کرتا، اور انیک انیک طرح کے بھئے نظر آتے، پر یہ کسو سے نہ ڈرتا۔ جب کہ وہ مدت ہو چکی، تو اس نے جوگی سے آ کر کہا، کہ مہاراج! جتنے دن آپ نے کہے تھے میں سادھ آیا۔ اس نے کہا کہ اتنے دن اب آگ میں بیٹھ کر سادھ۔ اس نے کہا مہاراج! ایک بیر اپنے کٹمب سے مل آؤں، پھر آ کے سادھوں گا۔
یہ جوگی سے کہہ، بدا ہو، اپنے گھر کو گیا، اور کنبے کے لوگوں نے اسے جو دیکھا تو گلے لگا لگا رونے لگے، اور اس کے باپ نے کہا، اے گناکر! اتنے دنوں تو کہاں تھا، اور کس واسطے گھر کو بسارا؟ اے پتر! ایسے کہا ہے، جو پتی برتا ستری کو چھوڑ کے جدا رہتا ہے، اور جوان ناری کو پیٹھ دیتا ہے، یا جو جسے چاہتا ہے وہ اسے نہیں چاہتا، وہ چنڈال کے سمان ہوتا ہے۔ اور ایسے کہا ہے، گرہستی دھرم برابر کوئی نہیں۔ اور گھر والی کے برابر کوئی سنسار میں سکھ دینے والی نہیں۔ اور جو ماتا پتا کی نندا کرتے ہیں سو ادھم نر ہیں، اور ان کی گتی مکتی کبھی نہیں ہوتی، ایسا برہما نے کہا ہے۔
تب گناکر بولا، کہ یہ شریر رکت اور ماس کا بنا ہوا ہے، سو کیڑوں کی کھان ہے۔ اور سبھاؤ اس کا یہ ہے، کہ ایک روز کی خبر نہ لیجیے تو درگندھ آتی ہے۔ جو ایسے شریر سے پریتی کرتے ہیں سو مورکھ ہیں، اور جو اس سے ہت نہیں کرتے وے پنڈت ہیں۔ اور اس شریر کا یہی دھرم ہے کہ بار بار جنم لیتا ہے اور مٹتا ہے، ایسے شریر کا کیا بھروسا کیجیے؟ اسے بہتیرا پوتر کیجیے، پر یہ پوتر نہیں ہوتا۔ جیسے مل کا بھرا گھڑا اوپر کے دھونے سے پاک نہیں ہوتا۔ اور کوئلے کو کوئی بہتیرا دھووے پر وہ دھولا نہیں ہوتا۔ اور جس شریر میں مل کے سوت سدا بہا کریں، وہ کس طرح سے شدھ ہوں۔
اتنا کہہ پھر بولا کہ، کس کی ماں؟ کس کا باپ؟ کس کی جورو؟ کس کا بھائی؟ اس سنسار کی یہی ریت ہے کہ کتنے آتے ہیں اور کتنے جاتے ہیں۔ جو یگیہ اور ہوم کے کرنے والے ہیں، سو اگنی کو ایشور جانتے ہیں، اور جو کم عقل ہیں سو پرتیما کر بھگوان کو مانتے ہیں، اور جوگی لوگ اپنے گھٹ میں ہی ہری جانتے ہیں۔ ایسے گرہستی دھرم کو میں نہ کروں گا، بلکہ جوگ ابھیاس کروں گا۔ اتنا کہہ اس نے گھر سے بدا لے، جوگی کے پاس آ، اگنی میں بیٹھ منتر سادھا، پر یکشنی نہ آئی، تب جوگی کے پاس گیا، اور جوگی نے اس سے کہا کہ، بدیا تجھے نہ آئی؟ پھر ان نے کہا، ہاں مہاراج! نہ آئی۔
اتنا قصہ کہہ بیتال بولا، کہ اے راجا! کہو کس کارن اسے بدیا نہ آئی؟ راجا بولا کہ، وہ سادھک دوچتا ہوا، اس لیے نہ آئی؟ اور ایسے کہا ہے، کہ ایک چت ہونے سے منتر سدھ ہوتا ہے، اور دوچت ہونے سے نہیں ہوتا۔ اور ایسے بھی کہا ہے کہ جو دان کے ہین ہیں، تن کی کیرتی نہیں ہوتی۔ اور جو ست سے ہین ہیں، انہیں لاج نہیں۔ جو نیاؤ سے ہین ہیں، تنہیں لکشمی نہیں ملتی۔ اور جو دھیان کے ہین ہیں، انہیں بھگوان نہیں ملتا۔
یہ سن بیتال نے کہا، کہ جو سادھک منتر سدھ کرنے کے لیے آگ میں بیٹھا وہ کس طرح دوچتا ہوا؟ راجا نے کہا کہ منتر سادھنے کی بریاں جب وہ اپنے کٹمب سے ملنے گیا، اس سمے جوگی نے کرودھ کر اپنے من میں کہا، کہ ایسے دو دلے سادھک کو میں نے بدیا کیوں سکھائی، اس لیے اسے بدیا نہ آئی۔ اور ایسے کہا ہے کہ منش کتنا ہی پراکرم کرے، پر کرم اس کے ساتھ رہتا ہے، اور کتنا ہی کام اپنی بدھی سے کرے پر کرم کا لکھا ہی ملتا ہے۔ یہ سن کر بیتال پھر اسی درخت پر جا لٹکا، اور راجا بھی اس کے پیچھے ہی جا اسے باندھ، کاندھے پر رکھ، لے چلا۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.