Urdu in Translation
搜索

第 8 章,共 25 章

Viaje del segundo derviche: la historia de Hatim Tai

The Second Darvesh: The Story of Hatim Tai

سیر دوسرے درویش کی: قصہ حاتم طائی کا

Mir Amman

文字
字号

جب دوسرے درویش کے کہنے کی نوبت پہنچی، وہ چار زانو ہو بیٹھا اور بولا۔

اے یارو! اس فقیر کا ٹک ماجرا سنو!
میں ابتدا سے کہتا ہوں تا انتہا سنو!
جس کا علاج کر نہیں سکتا کوئی حکیم
ہے گا ہمارا درد نپٹ لا دوا سنو!

اے دلق پوش! یہ عاجز بادشاہ فارس کے ملک کا ہے۔ ہر فن کے آدمی وہاں پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ اصفہان نصف جہاں مشہور ہے۔ ہفت اقلیم میں اس اقلیم کے برابر کوئی ولایت نہیں کہ وہاں کا ستارہ آفتاب اور وہ ساتوں کواکب میں نیر اعظم ہے۔ آب و ہوا وہاں کی خوشی اور لوگ روشن طبع اور صاحب سلیقہ ہوتے ہیں۔ میرے قبلہ گاہ نے، جو بادشاہ اس ملک کے تھے لڑکپن سے قاعدے اور قانون سلطنت کی تربیت کرنے کے واسطے بڑے بڑے دانا ہر ایک علم اور کسب کے چن کر میری اتالیقی کے لیے مقرر کیے تھے تو تعلیم کامل ہر نوع کی پا کر قابل ہوں۔ خدا کے فضل سے چودہ برس کے سن و سال میں سب علم سے ماہر ہوا۔ گفتگو معقول نشست و برخاست پسندیدہ اور جو کچھ بادشاہوں کو لائق اور درکار ہے سب حاصل کیا اور یہی شوق شب و روز تھا کہ قابلوں کی صحبت میں قصے ہر ایک ملک کے اور احوال اوالعزم بادشاہوں اور نام آوروں کا سنا کروں۔

ایک روز ایک مصاحب دانا نے کہ خوب تواریخ داں اور جہاں دیدہ تھا، مذکور کیا کہ اگرچہ آدمی کی زندگی کا کچھ بھروسا نہیں، لیکن اکثر وصف ایسے ہیں کہ ان کے سبب سے انسان کا نام قیامت تک زبانوں پر بخوبی چلا جائے گا۔ میں نے کہا اگر تھوڑا سا احوال اس کا مفصل بیان کرو تو میں بھی سنوں اور اس پر عمل کروں۔ تب وہ شخص حاتم طائی کا ماجرا اس طرح سے کہنے لگا۔

قصہ حاتم طائی کا

حاتم طائی کے وقت میں ایک بادشاہ عرب کا نوفل نام تھا۔ اس کو حاتم کے ساتھ بہ سبب نام آوری کے دشمنی کمال ہوئی۔ بہت سا لشکر فوج جمع کر کر لڑائی کی خاطر چڑھ آیا۔ حاتم تو خدا ترس اور نیک مرد تھا، یہ سمجھا کہ اگر میں بھی جنگ کی تیاری کروں تو خدا کے بندے مارے جائیں گے۔ اور بڑے خوں ریزی ہو گی۔ اس کا عذاب میرے نام لکھا جائے گا۔ یہ بات سوچ کر تن تنہا اپنی جان لے کر پہاڑ کی کھوہ میں جا چھپا۔

جب حاتم کے غائب ہونے کی خبر نوفل کو معلوم ہوئی، سب اسباب گھر بار حاتم کا قرق کیا اور منادی کرا دی جو کوئی حاتم کو ڈھونڈ کر پکڑ لاوے پانچ سو اشرفی بادشاہ کے سرکار سے انعام پاوے۔ یہ سن کر سب کو لالچ آیا اور جستجو حاتم کی کرنے لگے۔ ایک روز ایک بوڑھا، اس کی بڑھیا دو تین بچے چھوٹے چھوٹے ساتھ لیے ہوئے لکڑیاں توڑنے کے واسطے اس غار کے پاس جہاں حاتم پوشیدہ تھا، پہنچے اور لکڑیاں اس جنگل سے چننے لگے، بڑھیا بولی کہ اگر ہمارے کچھ دن بھلے آتے تو حاتم کو کہیں ہم دیکھ پاتے اور اس کو پکڑ کر نوفل کے پاس لے جاتے تو وہ پانچ سو اشرفی دیتا ہم آرام سے کھاتے اس دکھ دھندے سے چھوٹ جاتے۔ بوڑھے نے کہا۔ کیا ٹر ٹر کرتی ہے؟ ہماری طالع میں یہی لکھا ہے کہ روز لکڑیاں توڑیں اور سر پر دھر کر بازار میں بیچیں، تب لون روٹی میسر آوے یا ایک روز جنگل سے باگھ لے جاوے۔ لے اپنا کام کر۔ ہمارے ہاتھ حاتم کاہے کو آوے گا اور بادشاہ روپے دلاوے گا؟ عورت نے ٹھنڈی سانس بھری اور چپکی ہو رہی۔

یہ دونوں کی باتیں حاتم نے سنیں، مرومی اور مروت سے بعید جانا کہ اپنے تئیں چھپائے اور جان کو بچائے اور ان دونوں بے چاروں کو مطلب تک نہ پہنچائے۔ سچ ہے اگر آدمی میں رحم نہیں تو وہ انسان نہیں، اور جس کی جی میں درد نہیں وہ قصائی ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انساں کوورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں

غرض حاتم کی جواں مردی نے نہ قبول کیا کہ اپنے کانوں سے سن کر چپکا ہو رہے۔ وونہیں باہر نکل آیا اور اس بوڑھے سے کہ اے عزیز! حاتم میں ہی ہوں۔ میرے تئیں نوفل کے پاس لے چل۔ وہ مجھے دیکھے گا اور جو کچھ روپے دینے کا اقرار کیا ہے تجھے دیوے گا۔ پیر مرد نے کہا، سچ ہے کہ اس صورت میں بھلائی اور بہبودی البتہ ہے، لیکن وہ کیا جانے تجھ سے سلوک کرے، اگر مار ڈالے تو میں کیا کروں؟ یہ مجھ سے ہرگز نہ ہو سکے گا کہ تجھ سے انسان کو طمع کی خاطر دشمنی کے حوالے کروں۔ وہ مال کتنے دن کھاؤں گا اور کب تک جیئوں گا؟ آخر مر جاؤں گا، تب خدا کو کیا جواب دوں گا۔

حاتم نے بہتیری منت کی کہ مجھے لے چل۔ میں اپنے خوشی سے کہتا ہوں اور ہمیشہ اسی آرزو میں رہتا ہوں کہ مرا جان مال کسو کے کام آوے تو بہتر ہے۔ لیکن وہ بوڑھا کسی طرح راضی نہ ہوا۔ تب حاتم نے کہا کہ اگر تو مجھے نہ لے جائے گا تو میں آپ سے آپ بادشاہ کے پاس جا کر کہتا ہوں کہ اس بوڑھے نے مجھے جنگل میں ایک پہاڑ کی کھوہ میں چھپا رکھا تھا۔ وہ بوڑھا ہنسا اور بولا، بھلائی کے بدلے برائی ملے تو یا نصیب! اس رد و بدل کے سوال جواب میں آدمی اور بھی آ پہنچے، بھیڑ لگ گئی۔ افسوس کرتا ہوا پیچھے پیچھے ساتھ ہو لیا۔ جب نوفل کے رو برو لے گئے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کون پکڑ لایا؟ ایک بد ذات سنگ دل بولا کہ ایسا کام سوائے ہماری اور کون کر سکتا ہے؟ یہ فتح ہمارے نام ہے ہم نے عرش پر جھنڈا گاڑا ہے۔ ایک لن ترانی والا ٹینگ مارنے لگا کہ میں کئی دن سے دوڑ دھوپ کر کر جنگل سے پکڑ لیا ہوں۔ میری محنت پر نظر کیجئے اور جو قرار ہے، سو دیجئے۔ اسی طرح اشرفیوں کے لالچ سے ہر کوئی کہتا تھا کہ یہ کام مجھ سے ہوا۔ وہ بوڑھا چپکا ایک کونے میں لگتا ہوا سب کی شیخیاں سن رہا تھا اور حاتم کی خاطر روتا تھا۔ جب اپنی اپنی دلاوری اور مردانگی سب کہہ چکے۔ تب حاتم نے بادشاہ سے کہا اگر سچ بات پوچھو تو یہ ہے کہ وہ بوڑھا جو الگ سب سے کھڑا ہے، مجھ کو لایا ہے، اگر قیافہ پہچان جانتے ہو تو دریافت کرو اور میرے پکڑنے کی خاطر جو قبول کیا ہے پورا کرو کہ ساری ڈیل میں زبان حلال ہے۔ مرد کو چاہیے جو کہے سو کرے۔ نہیں تو جیبھ حیوان کو بھی خدا نے دی ہے۔ پھر حیوان اور انسان میں کیا تفاوت ہے؟ نوفل نے اس لکڑہارے بوڑھے کو پاس بلا کر پوچھا کہ سچ کہہ، اصل کیا ہے؟ حاتم کو کون پکڑ لایا؟ اس بیچارے نے سر سے پاؤں تک جو گذرا تھا راست کہہ سنایا اور کہا حاتم میری خاطر آپ سے چلا آیا ہے۔ نوفل یہ ہمت حاتم کی سن کر متعجب ہوا کہ بل بے تیری سخاوت اپنی جان کا بھی خطر نہ کیا۔ جتنے جھوٹ دعوے حاتم کو پکڑ لانے کے کرتے تھے، حکم ہوا کہ ان کی ٹنڈیاں کس کر پانچ سو اشرفی کے بدلے پانچ پانچ سو جوتیاں اس کے سر پر لگاؤ کہ ان کی جان نکل پڑے۔ وونہیں تڑ تڑ جوتیاں پڑنے لگیں کہ ایک دم میں سر ان کے گنجے ہو گئے۔ سچ ہے، جھوٹ بولنا ایسی ہی گناہ ہے کہ کوئی گناہ اس کو نہیں پہنچتا۔ خدا سب کو اس بلا سے محفوظ رکھے اور جھوٹ بولنے کا چسکا نہ دے۔ بہت آدمی جھوٹ موٹ بکے جاتے ہیں لیکن آزمائش کے وقت سزا پاتے ہیں۔ غرض ان سب کو موافق ان کے انعام دے کر، نوفل نے اپنے دل میں خیال کیا کہ حاتم ایسے شخص سے کہ ایک عالم کو اس سے فیض پہنچتا ہے اور محتاجوں کی خاطر جان اپنی دریغ نہیں کرتا اور خدا کی راہ میں سرتاپا حاضر ہے دشمنی رکھنی اور اس کا مدعی ہونا مرد آدمیت اور جواں مردی سے بعید ہے۔ وونہیں حاتم کا ہاتھ بڑی دوستی اور گرم جوشی سے پکڑ لیا اور کہا کیوں نہ ہو جب ایسی ہو تب ایسی ہو تواضع تعظیم کر کر پاس بٹھلایا اور حاتم کو ملک و املاک اور مال و اسباب جو ضبط کیا وونہیں چھوڑ دیا، نئے سر سے سرداری قبیلۂ طے کی اسے دی اور اس بوڑھے کو پانچ سو اشرفیاں خزانے سے دلوا دیں وہ دعا دیتا ہوا چلا گیا۔

جب یہ ماجرا حاتم کا میں نے تمام سنا جی میں غیرت آئی اور یہ خیال گزرا کہ حاتم اپنی قوم کا رئیس تھا، جن نے سخاوت کے باعث یہ نام پیدا کیا کہ آج تلک مشہور ہے۔ میں خدا کے حکم سے بادشاہ تمام ایران کا ہوں، اگر اس نعمت سے محروم رہوں تو بڑا افسوس ہے۔ فی الواقع دنیا میں کوئی بڑا داد و دہش سے نہیں۔ اس واسطے کہ آدمی جو کچھ دنیا میں دیتا ہے اس کو عوض عاقبت میں لیتا ہے۔ اگر کوئی ایک دانہ بوتا ہے تو اس جتنا کچھ پیدا ہوتا ہے۔ یہ بات دل میں ٹھہرا کر میر عمارت کو بلوا کر حکم کیا کہ ایک مکان عالی شان جس کے چالیس دروازے بلند اور بہت کشادہ ہوں، باہر شہر کے جلد بنواؤ۔ تھوڑے عرصے میں ویسی ہی عمارت جیسا دل چاہتا تھا بن کر تیار ہوئی اور اس مکان میں ہر روز ہر وقت فجر سے شام تک محتاجوں اور بے کسوں کے تئیں روپے اشرفیاں دیتا، اور جو کوئی جس چیز کا سوال کرتا، میں اسے مالا مال کرتا۔

غرض چالیس دروازوں سے حاجت مند آتے اور جو چاہتے سو لے جاتے۔ ایک روز کا یہ ذکر ہے کہ ایک فقیر سامنے کے دروازے سے آیا اور سوال کیا۔ میں نے اسے ایک اشرفی دی۔ پھر وہی دوسرے دروازے سے ہو کر آیا، دو اشرفیاں مانگیں۔

میں نے پہچان کر درگزر کی اور دیں۔ اسی طرح اس نے ہر ایک دروازے سے اور ایک ایک اشرفی بڑھانا شروع کیا اور میں بھی جان بوجھ کر ان جان ہوا، اور اس کے سوال موافق دیا گیا۔ آخر چالیس دروازے کی راہ سے آ کر چالیس اشرفیاں مانگیں۔ وہ بھی میں نے دلوا دیں اتنا کچھ لے کر وہ درویش پھر پہلے دروازے سے گھس آیا اور سوال کیا۔ مجھے بہت برا معلوم ہوا۔ میں نے کہا سن اے لالچی تو کیسا فقیر ہے کہ ہر گز فقیر کے تینوں حرفوں سے واقف نہیں؟ فقیر کا عمل ان پر چاہیے۔ فقیر بولا۔ بھلا داتا تم ہی بتاؤ میں نے کہا " ف " سے فاقہ، " ق " سے قناعت " ر " سے ریاضت نکلتی ہے، جس میں یہ باتیں نہ ہوں وہ فقیر نہیں۔ اتنا جو تجھے ملا ہے، اس کو کھا پی کر پھر آئیو اور جو مانگے گا لے جائیو۔ یہ خیرات احتیاج رفع کرنے کے واسطے ہے نہ جمع کرنے کے لیے۔ اے حریص! چالیس دروازوں سے تو نے ایک اشرفی سے چالیس اشرفیوں تک لیں، اس کا حساب تو کر کہ ریوڑی کے پھیری طرح کتنی اشرفیاں ہوئیں اور اس پر بھی تجھے حرص پھر پہلے دروازے سے لے آئی۔ اتنا مال جمع کر کے کیا کرے گا؟ فقیر کو چاہیے کہ ایک روز کی فکر کر لے اور دوسرے دن پھر نئی روزی رازق دینے والا موجود ہے۔ اب حیا و شرم پکڑ اور صبر و قناعت کا کام فرما۔ یہ کیسی فقیری ہے جو تجھے مرشد نے بتائی ہے؟

فقیر یہ میری بات سن کر خفا اور بد دماغ ہوا اور جتنا مجھ سے لے کر جمع کیا تھا سب زمیں میں ڈال دیا اور بولا۔ بس بابا اتنے گرم مت ہو۔ اپنی کائنات لے کر رکھ چھوڑو، پھر سخاوت کا نام لیجئو۔ سخی ہونا بہت مشکل ہے۔ تم سخاوت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اس منزل کو کب پہنچو؟ ابھی دلی دور ہے۔ سخی کے بھی تین حروف ہیں۔ پہلے ان پر عمل کرو تب سخی کہلاؤ گے۔ جب میں ڈرا اور کہا بھلا داتا! اس کے معنی مجھے سمجھاؤ۔ کہنے لگا۔ س سے سمائی اور خ سے خوف الٰہی اور ی سے یاد رکھنا اپنی پیدائش اور مرنے کو، جب تلک اتنا نہ ہو لے، تو سخاوت کا نام لے، اور سخی کا درجہ ہے کہ اگر بدکار ہو، تو بھی دوست خدا کا ہے، اس فقیر نے بہت ملکوں کے سیر کی ہے، لیکن سوائے بصرے کی بادشاہ زادی کے کوئی سخی دیکھنے میں نہ آیا۔ سخاوت کا خاصہ خدا نے اس عورت پر قطع کیا ہے اور سب نام چاہتے ہیں، پر ویسا کام نہیں کرتے۔ یہ بھی سن کر میں نے بہت منت کی اور قسمیں دیں کہ میری تقصیر معاف کرو اور جو چاہیے سو اور میرا دیا ہرگز نہ لیا اور یہ بات کہتا ہوا چلا۔ اب اپنی ساری بادشاہت مجھے دے تو اس پر بھی نہ تھوکوں اور نہ دھر ماروں، وہ تو چلا گیا پر بصرے کی بادشاہ زادی کی یہ تعریف سننے سے دل بے کل ہوا۔ کسی طرح کل نہ تھی۔ اب یہ آرزو ہوئی کہ کسو صورت سے بصرے چل کر اس کو دیکھا چاہیے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。