Urdu in Translation
بحث

الفصل 9 من 25

رحلة الدرويش الثاني: السفر إلى البصرة

The Second Darvesh: The Road to Basra

سیر دوسرے درویش کی: بصرے کا سفر

مير أمّن

الخط
الحجم

اس عرصے میں بادشاہ نے وفات پائی اور تخت پر میں بیٹھا۔ سلطنت ملی پر وہ خیال نہ گیا۔ وزیر اور امیروں سے، جو پائے تختِ سلطنت کے اور کان مملکت کے تھے، مشورت کی کہ سفر بصرے کا کیا چاہتا ہوں۔ تم اپنے کام میں مستعد رہو۔ اگر زندگی ہے تو سفر کی عمر کوتاہ ہوتی ہے، جلد پھر میں آتا ہوں۔ کوئی میرے جانے پر راضی نہ ہوا۔ لاچار دل تو اداس ہو رہا تھا۔ ایک دن بغیر سبب کے کہے سنے، چپکے سے وزیرِ با تدبیر کو بلا کر مختار اور وکیل مطلق اپنا کیا اور سلطنت کا مدار المہام بنایا۔ پھر میں نے گیروا بسر پہن فقیر بھیس کر، اکیلے راہ بصرے کی لی۔ تھوڑے دنوں میں اس کی سرحد میں جا پہنچا۔ تب سے یہ تماشا دیکھنے لگا کہ جہاں رات کو جا کر مقام کرتا، نوکر چاکر اسی ملکہ کے استقبال کر کر ایک مکان معقول میں اتارتے، اور جتنا لوازمہ ضیافت کا ہوتا ہے، بخوبی موجود ہو کر اور خدمت میں دست بستہ تمام رات حاضر رہتے، دوسرے دن دوسری منزل میں یہی صورت پیش آتی۔ اسی آرام سے مہینوں کی راہ طے کی۔ آخر بصرے میں داخل ہوا۔ وونہیں ایک جواں شکیل، خوش لباس، نیک خُو، صاحبِ مروت کہ دانائی اس کے قیافے سے ظاہر تھی، میرے پاس آیا اور نپٹ شیریں زبانی سے کہنے لگا کہ میں فقیروں کا خادم ہوں، ہمیشہ اسی تلاش میں رہتا ہوں کہ جو کوئی مسافر، فقیر یا دنیا دار اس شہر میں آوے، میرے گھر میں قدم رنجہ فرماوے، سوائے ایک مکان کے یہاں بدیسی کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ آپ تشریف لے چلئے اور مقام کو زینت بخشیے اور مجھے سرفراز کیجئے۔

فقیر نے پوچھا، صاحب کا اسمِ شریف کیا ہے۔ بولا اس گمنام کا نام بیدار بخت ہے۔ اس کی خوبی اور تملق دیکھ کر یہ عاجز اس کے ساتھ چلا اور اس کے مکان میں گیا۔ دیکھا تو ایک عمارت عالی لوازم شاہانہ سے تیار ہے۔ ایک دالان میں اس نے لے جا کر بٹھایا اور گرم پانی منگوا کر ہاتھ پاؤں دھلوائے اور دستر خوان بچھوا کر مجھ تن تنہا کے روبرو بکاول نے ایک تورا چن دیا۔ چار بشقاب، ایک میں یخنی پلاؤ، دوسری میں قورما پلاؤ، تیسری میں متنجن پلاؤ اور چوتھی میں کوکو پلاؤ اور ایک قاب زردے کی اور کئی طرح کے قلئے، دو پیازہ، نرگسی، بادام، روغن جوش اور روٹیاں کئی قسم کی باقر خانی، تنکی شیرمال، گاؤدیدہ، گاؤ زبان، نعمت نان، پراٹھے، اور کباب کوفتے کے، مرچ کے تکے، خاگینہ، ملغوبہ شب دیگ، دم پُخت، حلیم، ہریسا، سموسے، ورتی، قبولی، فرنی، شیر برنج، ملائی، حلوہ، فالودہ، پن بھتا، نمش، آب شورہ، ساق عروس، لوزیات، مربہ اچار دان، دہی کی قلفیاں، یہ نعمتیں دیکھ کر روح بھر گئی۔ جب ایک ایک نوالہ ہر ایک سے لیا، پیٹ بھی بھر گیا، تب کھانے سے ہاتھ کھینچا۔ وہ شخص مجوز ہوا کہ صاحب نے کیا کھایا؟ کھانا تو سب امانت دھرا ہے بے تکلف اور نوشِ جان فرمائیے۔ میں نے کہا شرم کیا ہے خدا تمہارا خانہ آباد رکھے۔ جو کچھ میرے پیٹ میں سمایا سو میں نے کھایا اور ذائقے کی اس کے کیا تعریف کروں کہ اب تک زبان چاٹتا ہوں اور جو ڈکار آتی ہے سو معطر۔ لو اب مزید کرو۔ جب دسترخوان اٹھا تو زیر انداز کاشانی مخمل کا مقیش بچھا کر چلمچی، آفتابہ طلائی لا کر بیسن دان میں سے خوشبو دار بیسن دے کر گرم پانی سے میرے ہاتھ دھلائے۔ پھر پان دان جڑاؤ میں گلوریاں سونے کی بھر کر پکھروٹوں میں بندھی ہوئیں اور چو گھروں میں گلوریاں، چکنی سپاریاں اور لونگ الائچیاں، روپہلے ورقوں میں منڈھی ہوئی لا کر رکھیں۔ جب میں پانی پینے کو مانگتا تب صراحی برف میں لگی ہوئی آب دار لے آتا۔

جب شام ہوئی فانوسوں میں کافوری شمعیں روشن ہوئیں۔ وہ عزیز بیٹھا ہوا باتیں کرتا رہا۔ جب پہر رات بیت گئی، بولا اب اس چھپر کھٹ میں کہ جس کے آگے دلدار پیش گیر کھڑا ہے، آرام کیجئے۔ فقیر نے کہا اے صاحب! ہم فقیروں کو ایک بوریا یا مرگ چھالا بستر کے لئے بہت ہے۔ یہ خدا نے تم دنیا داروں کے واسطے بنایا ہے۔ کہنے لگا۔ یہ سب اسباب درویشوں کی خاطر ہے۔ کچھ میرا مال نہیں۔ اس کے بجد ہونے سے اس بچھونے پر، کہ پھولوں کی سیج جیسا نرم تھا، جا کر لیٹا۔ دونوں پٹیوں کی طرف گلدان اور چنگیریں پھولوں کی چنی ہوئیں اور عود سوز اور لخلخے روشن تھے، جیدھر کی کروٹ لیتا دماغ معطر ہو جاتا۔ اس عالم میں سو رہا۔

جب صبح ہوئی ناشتے کو بھی بادام، پستے، انگور، انجیر، ناشپاتی، انار، کشمش، چھوہارے اور میوے کا شربت لا کر حاضر کیا۔ اسی طور سے تین دن رہا۔ چوتھے روز میں نے رخصت مانگی۔ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا شاید اس گنہگار سے صاحب کی خدمت گاری میں کچھ قصور ہوا کہ جس کے باعث مزاج تمہارا مکدر ہوا، میں نے حیران ہو کر کہا برائے خدا یہ کیا مذکور ہے؟ لیکن مہمانی کی شرط تین دن تلک ہے سو میں رہا۔ زیادہ رہنا خوب نہیں اور علاوہ یہ فقیر واسطے سیر کے نکلا ہے۔ اگر ایک ہی جگہ زیادہ رہ جاوے تو مناسب نہیں۔ اس لئے اجازت چاہتا ہے نہیں تو تمہاری خوبیاں ایسی نہیں کہ جدا ہونے کو جی چاہے۔ تب وہ بولا جیسی مرضی لیکن ایک ساعت توقف کیجئے کہ بادشاہ زادی کے حضور میں جا کر عرض کروں۔ اور تم جو جایا چاہتے ہو تو جو کچھ اسباب اوڑھے بچھانے کا اور کھانے کے باسن روپے سونے کے اور جڑاؤ کے اس مہمان خانے میں ہیں، یہ سب تمہارا مال ہے، اس کے ساتھ لے جانے کی خاطر جو فرماؤ تدبیر کی جائے۔ میں نے کہا لا حول پڑھو، ہم فقیر نہ ہوئے، نئے بھاٹ ہوئے۔ اگر یہی حرص دل میں ہوتی تو فقیر کاہے کو ہوتے، دنیا داری کیا بری تھی۔

اس عزیز نے کہا اگر یہ احوال ملکہ سے سنے تو خدا جانے مجھے اس خدمت سے تغیر کر کر کیا سلوک کرے۔ اگر تمہیں ایسی ہی بے پروائی ہے تو ان سب کو ایک کوٹھڑی میں امانت بند کر کر دروازے کو سر بہ مہر کر دو پھر جو چاہو سو کیجو۔

میں قبول نہ کرتا تھا اور وہ مانتا بھی نہ تھا۔ لاچار یہی صلاح ٹھہری کہ سب اسباب کو بند کر کر قفل کر دیا اور منتظر رخصت کا ہوا۔ اتنے میں ایک خواجہ سرا معتبر سر پر سر پیچ اور گوش پیچ اور کمر بندی، باندھے ایک عصا سونے کا جڑاؤ ہاتھ میں اور ساتھ اس کے کئی خدمت گار، معقول عہدے لیے ہوئے اس شان و شوکت سے میرے نزدیک آیا۔ ایسی ایسی مہربانی اور ملائمت سے گفتگو کرنے لگا کہ جس کا بیان نہیں کر سکتا۔ پھر بولا، اے میاں، اگر توجہ اور کرم کر اس مشتاق کے غریب خانے کو اپنے قدم کی برکت سے رونق بخشو تو بندہ نوازی اور غریب پروری سے بعید نہیں۔ شاید شہزادی سنے کہ کوئی مسافر یہاں آیا تھا۔ اس کی تواضع مدارت کسے نے نہ کی، وہ یوں ہی چلا گیا۔ اس واسطے واللہ اعلم مجھ پر کیا آفت لاوے اور کیسی قیامت اٹھاوے، بلکہ حرف زندگی پر ہے۔ میں نے ان باتوں پر نہ مانا۔ تب خواہ مخواہ منتیں کر کر میرے تئیں اور ایک حویلی میں، کہ پہلے مکان سے بہتر تھی، لے گیا۔ اسی پہر شربت اور تفنن کی خاطر میوے کھلائے اور باسن نقرئی و طلائی فرش فروش اور اسباب جو کچھ وہاں تھا مجھے سے کہنے لگا کہ ان سب کے تم مالک مختار ہو۔ جو چاہو سو کرو۔ میں یہ باتیں سن کر حیران ہوا اور چاہا کہ کسی نہ کسی طرح یہاں سے رخصت ہو کر بھاگوں۔ میرے بشرے کو دیکھ کر وہ محلی بولا اے خدا کے بندے، جو تیرا مطلب یا آرزو ہو، سو مجھ سے کہہ، تو حضور میں ملکہ کے جا کر عرض کروں۔ میں نے کہا۔ میں فقیری کے لباس میں دنیا کا مال کیا مانگوں کہ تم بغیر مانے دیتے ہو اور میں انکار کرتا ہوں۔ تب وہ کہنے لگا کہ حرص دنیا کی کسی کے جی سے نہیں گئی۔ چنانچہ کسو کوی نے کبت کہا ہے:

نکھ بن کٹا دیکھے، سمیں بھاری جٹا دیکھے
جوگی کن پھٹا دیکھے، چھار لائے تن میں
موتی انمول دیکھے، سیوڑا سر چھول دیکھے
کرت کلول دیکھے، بن کھنڈی بن میں
بیر دیکھے، سور دیکھے، سب گئی اور کوڑ دیکھے
مایا کے پور دیکھے، پھول رہے دھن میں
اوی انت سکھی دیکھے، جنم ہی کے دکھی دیکھے
پر وے نہ دیکھے، جن کے لوبھ ناہیں من میں

میں نے یہ سن کر جواب دیا کہ یہ سچ ہے، پر میں کچھ نہیں چاہتا۔ اگر فرماؤ تو ایک رقعہ سر بہ مہر اپنے مطلب کا لکھ کر دوں جو حضور ملکہ کے پہنچا دو، تو بڑی مہربانی ہے، گویا تمام دنیا کا مال مجھ کو دیا۔ بولا بسر و چشم کیا مضائقہ میں نے ایک رقعہ لکھا پہلے شکر خدا کیا پھر احوال کہ یہ بندہ خدا کا کئی روز سے اس شہر میں وارد ہے اور سرکار سے سب طرح کی خبر گیری ہوتی ہے۔ جیسی خوبیاں اور نیک نامیاں ملکہ کی سن کر اشتیاق دیکھنے کا ہوا تھا، اس سے چار چند پایا۔ اب حضور کے ارکان دولت یوں کہتے ہیں کہ جو مطلب اور تمنا تیری ہو، سو ظاہر کر۔ اس واسطے بے حجابانہ جو جو دل کی آرزو ہے، سو عرض کرتا ہوں کہ دنیا کے مال کا محتاج نہیں۔ اپنے ملک کا میں بھی بادشاہ ہوں۔ فقط یہاں آنا اور محنت اٹھانا آپ کے اشتیاق کے سبب سے ہوا جو تن تنہا اس صورت سے آ پہنچا۔ اب امید ہے کہ حضور کی توجہ سے خاک نشین مطلب دلی کو پہنچے لائق ہے۔ آگے جو مرضی مبارک۔ لیکن اگر یہ التماس خاکسار کا قبول نہ ہو گا، تو اسی طرح خاک چھانتا پھرے گا اور اس جان بے قرار کو آپ کے عشق میں نثار کرے گا۔ مجنوں اور فرہاد کی مانند جنگل میں یا پہاڑ پر مر رہے گا۔

یہی مدعا لکھ کر اس خوجے کو دیا۔ اس نے بادشاہ زادی تلک پہنچایا۔ بعد ایک دم کے پھر آیا اور میرے تئیں اور اپنے ساتھ محل کی ڈیوڑھی پر لے گیا۔ وہاں جا کر دیکھا تو ایک بوڑھی سی عورت صاحب لیاقت سنہری کرسی پر گہنا پاتا پہنے ہوئے بیٹھی ہے۔ اور کئی خوجے خدمت گار تکلف کے لباس پہنے ہوئے ہاتھ باندھے سامنے کھڑے ہیں۔ میں اسے مختار کار جان کر اور دیرینہ سمجھ کر دست بستہ ہوا۔ اس ماما نے بہت مہربانی سے سلام کیا اور حکم کیا آؤ بیٹھو خوب ہوا تم آئے۔ تمہیں نے ملکہ کے اشتیاق کا رقعہ لکھا تھا؟ میں شرم کھا کر چپ ہو رہا اور سر نیچا۔

ایک ساعت کے بعد بولی کہ اے جوان! پادشاہ زادی نے سلام کہا اور فرمایا کہ مجھ کو خاوند کرنے سے عیب نہیں۔ تم نے میری درخواست کی، لیکن اپنی پادشاہت کا بیان کرنا اور اس فقیری میں اپنے تئیں پادشاہ سمجھنا اور اس کا غرور کرنا نپٹ بے جا ہے۔ اس واسطے کہ سب آدمی آپس میں فی الحقیقت ایک ہیں، لیکن فضیلت دین اسلام کی البتہ ہے اور میں بھی ایک مدت سے شادی کرنے کی آرزومند ہوں، اور جیسے تم دولت دنیا سے بے پروا ہو، میرے تئیں بھی حق تعالیٰ اتنا مال دیا ہے کہ جس کا کوئی حساب نہیں۔ پر ایک شرط ہے کہ پہلے مہر ادا کر لو، اور مہر شاہ زادی کا ایک بات ہے جو تم سے ہو سکے۔

میں نے کہا۔ میں سب طرح حاضر ہوں۔ جان و مال سے دریغ نہیں کرنے کا۔ وہ بات کیا ہے؟ کہو تو میں سنوں۔ تب اس نے کہا آج کے دن رہ جاؤ کل تمہیں کہہ دوں گی۔ میں نے خوشی سے قبول کیا اور رخصت ہو کر باہر آ یا۔

دن تو گزرا، جب شام ہوئی تو اکابر عالم اور فاضل صاحب شرع حاضر ہیں، میں بھی اس جلسے میں جا کر بیٹھا۔ اتنے میں دسترخوان بچھایا گیا۔ اور کھانے اقسام اقسام کے شیریں اور نمکین چُنے گئے۔ وہ سب کھانے لگے تو مجھے بھی تواضع کر کر شریک کیا۔ جب کھانے سے فراغت ہوئی ایک دائی اندر آئی اور بولی کہ بہروز کہاں ہے؟ اسے بلاؤ۔ یساولوں نے وونہیں حاضر کیا۔ اس کی صورت میں بہت مرد آدمی کی سی اور بہت سی کنجیاں روپے سونے کی کمر میں لٹکی ہوئیں۔ سلام علیک کر کے میرے پاس آ کر بیٹھا۔ وہی دائی کہنے لگی کہ اے بہروز! تُو نے جو کچھ دیکھا ہے مفصل اس کا بیان کر۔

بہروز نے یہ داستان کہنی شروع کی اور مجھ سے مخاطب ہو کر بولا اے عزیز ہماری پادشاہ زادی کی سرکار میں ہزاروں غلام ہیں کہ سوداگری کے کام میں متعین ہیں۔ ان میں سے ایک میں بھی ادنا خانہ زاد ہوں۔ ہر ایک ملک کی طرف لاکھوں روپے کا اسباب اور جنس دے کر رخصت فرماتی ہیں جب وہ وہاں سے پھر آتا ہے تب اس سے اس دیس کا احوال اپنے حضور میں پوچھتی ہیں اور سنتی ہیں۔ ایک بار یہ اتفاق ہوا کہ کم ترین تجارت کی خاطر چلا اور شہر نیم روز پہنچا۔ وہاں کے باشندوں کو دیکھا تو سب کا لباس سیاہ ہے اور ہر دم نالہ و آہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان پر کچھ بڑی مصیبت پڑی ہے۔ اس سبب جس سے میں پوچھتا کوئی جواب میرا نہ دیتا۔

اسی حیرت میں کئی روز گزرے۔ ایک دن جونہیں صبح ہوئی۔ تمام آدمی چھوٹے بڑے، لڑکے بوڑھے غریب، غنی، شہر کے باہر چلے۔ ایک میدان میں جا کر جمع ہوئے، اور اس ملک کا بادشاہ بھی سب امیروں کے ساتھ سوار ہوا اور وہاں گیا۔ تب سب برابر قطار باندھ کر کھڑے ہوئے۔

میں بھی ان کے درمیان کھڑا تماشا دیکھتا تھا۔ پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کسو کا انتظار کھینچ رہے ہیں۔ ایک گھڑی کے عرصے میں دور سے ایک جوان پری زاد صاحب جمال پندرہ سولہ برس کا سن و سال، غل اور شور کرتا ہوا اور کف منہ سے جاری زرد بیل کی سواری، ایک ہاتھ میں کچھ لئے مقابل خلق اللہ کے آیا اور اپنے بیل پر سے اترا۔ ایک ہاتھ میں ناتھ اور ایک ہاتھ میں ننگی تلوار لے کر دو زانو بیٹھا۔ ایک گل اندام، پری چہرہ اس کے ہمراہ تھا۔اس کو اس جوان نے وہ چیز جو ہاتھ میں تھی دی۔ وہ غلام لے کر ایک سرے سے ہر ایک کو دکھاتا جاتا تھا، لیکن یہ حالت تھی کہ جو کوئی دیکھتا تھا بے اختیار دھاڑ مار کر روتا تھا۔ اسی طرح سب کو دکھاتا اور رلاتا ہوا سب کے سامنے سے ہو کر اپنے خاوند کے پاس پھر گیا۔

اس کے جاتے ہی وہ جوان اٹھا اور غلام کا سر شمشیر سے کاٹ کر اور سوار ہو کر جیدھر سے آیا تھا، اودھر کو چلا۔ سب کھڑے دیکھا کئے۔ جب نظروں سے غائب ہوا لوگ شہر کی طرف پھرے۔میں ہر ایک سے اس ماجرے کی حقیقت پوچھتا تھا بلکہ روپیوں کا لالچ دیتا اور خوشامد منت کرتا کہ مجھے ذرا بتا دو کہ یہ جوان کون تھا؟ اور اس نے یہ کیا حرکت کی۔ اور کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ ہرگز کسی نے نہ بتلایا اور نہ کچھ میرے خیال میں آیا۔ یہ تعجب دیکھ کر جب میں یہاں آیا اور ملکہ کے روبرو اظہار کیا۔ تب سے پادشاہ زادی بھی حیران ہو رہی ہے اور اس کے تحقیق کرنے کی خاطر دو دلی ہو رہی ہے۔ لہٰذا مہر اپنا یہی مقرر کیا ہے کہ جو شخص اس عجوبے کی کما حقہ خبر لاوے، اس کو پسند فرماوے اور وہی مالک سارے ملک کا اور ملکہ کا ہووے۔

یہ ماجرا تم نے سب سنا۔ اپنے دل میں غور کرو، اگر تم اس جوان کی خبر لا سکو تو قصد ملک نیم روز کا کرو اور جلد روانہ ہو۔ نہیں تو انکار کر کر اپنے گھر کی راہ لو، میں نے جواب دیا کہ اگر خدا چاہے تو جلد اس کا احوال سر سے پاؤں تک دریافت کر کر پادشاہ زادی تک آ پہنچتا ہوں اور کامیاب ہوتا ہوں۔ اور جو میری قسمت بدتر ہے تو اس کا کچھ علاج نہیں، لیکن ملکہ اس کا قول اقرار کریں کہ اپنے کہنے سے نہ پھریں۔ اور بالفعل ایک اندیشہ مشکل میرے دل میں خلش کر رہا ہے۔ اگر ملکہ غریب نوازی اور مسافر پروری سے حضور میں بلاویں اور پردے کے باہر بٹھلا دیں اور میرا التماس اپنے کانوں سنیں اور اس کا جواب اپنی زبان سے فرما دیں تو میری جان جمع ہو، اور مجھ سے سب کچھ ہو سکے۔ یہ میرے مطلب کی بات اس ماما نے روبرو اس پری پیکر کے عرض کی۔ بارے قدردانی کی راہ سے حکم کیا کہ انہیں بلا لو۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.