
Capítulo 20 de 25
La fortaleza de los muertos; la liberación del visir
The Tomb-Fortress; the Vizier Set Free
مردوں کا قلعہ؛ وزیر کی رہائی
بادشاہ میرے صحبت سے نہایت محظوظ ہوتے اور اکثر خلعت اور انعام عنایت کرتے۔ اگرچہ دنیا کے مال میں غنی تھا، اس واسطے کہ میرے قبیلے کے پاس اتنا نقد و جنس اور جواہر تھا کہ جس کی حد و نہایت نہ تھی۔ دو سال تک بہت عیش و آرام سے گزری۔ اتفاقا وزیر زادی کو پیٹ رہا۔ جب ستواں مہینہ ہوا اور نواں مہینہ گزر کر پورے دن ہوئے، پیڑیں لگیں۔ دائی جنائی آئی تو میرا لڑکا پیٹ میں سے نکلا۔ ایسا وش جچہ کو چڑھا کہ وہ مر گئی۔ میں مارے غم کے دیوانہ ہو گیا کہ یہ کیا آفت ٹوٹی۔ اس کے سرہانے بیٹھا روتا تھا۔ ایک بارگی رونے کی آواز سارے محل میں بلند ہوئی اور چاروں طرف سے عورتیں آنے لگیں۔ جو آتی تھی ایک دو ہتڑ میرے سر پر مارتی اور منہ کے مقابل کھڑی رہتی اور رونا شروع کرتی، نزدیک تھا کہ جان نکل جاوے۔ اتنے میں کسو نے پیچھے سے گریبان میرا کھینچ کر گھسیٹا۔ دیکھوں تو وہی مرد عجمی ہے جس نے مجھے بیاہا تھا۔ کہنے لگا کہ احمق تو کس لیے روتا ہے؟ میں نے کہا اے ظالم یہ تو نے کیا بات کہی؟ میری بادشاہت لٹ گئی، آرام خانہ داری کا گیا گزرا۔ تو کہتا ہے کیوں غم کرتا ہے! وہ عزیز تبسم کر کے بولا کہ اب اپنی موت کی خاطر رو۔ میں نے پہلے ہی تجھے کہا تھا کہ شاید اس شہر میں تیری اجل لے آئی ہو، سو ہی ہوا۔ اب سوائے مرنے کے تیری رہائی نہیں۔ آخر لوگ مجھے پکڑ کر بت خانے میں لے گئے۔ دیکھا تو بادشاہ اور امرا اور چھتیس فرقے رعیت پرجا وہاں جمع ہیں اور وزیر زادی کا مال اموال سب دھرا ہے۔ جو چیز جس کا جی چاہتا ہے لیتا ہے اور اس کی قیمت کے روپے دھر دیتا ہے۔ غرض سب اسباب کے نقد روپے ہوئے۔ ان روپیوں کا جواہر خریدا گیا اور صندوقچے میں بند کیا اور ایک دوسرے صندوق میں نان، حلوہ اور گوشت کے کباب اور میوہ خشک و تر کھانے کی چیزیں لے کر بھریں اور لاش اس بی بی ایک صندوق میں رکھ کر صندوق آزوقے کا ایک اونٹ پر لدا دیا، اور مجھے سوار کیا اور صندوقچہ جواہر کا میری بغل میں دیا، اور سارے برہمن آگے بھجن کرتے سنکھ بجاتے چلے، اور پیچھے ایک خلقت مبارک بادی کہتے ہوئے ساتھ ہوئی۔ اس طور سے اسی دروازے سے کہ میں پہلے روز آیا تھا، شہر کے باہر نکلا۔ جونہیں داروغہ کی نگاہ مجھ پر پڑی رونے لگا اور بولا کہ کم بخت اجل گرفتہ میری بات نہ سنی اور اس شہر میں جا کر مفت اپنی جان دی۔ میری تقصیر نہیں۔ میں نے منع کیا تھا۔ ان نے یہ کہی، لیکن میں تو ہکا بکا ہو رہا تھا۔ نہ زبان یاری دیتی تھی کہ جواب دوں، نہ اوسان بجا تھے کہ دیکھئے انجام میرا کیا ہوتا ہے۔
آخر اسی قلعہ کے پاس جس کا میں نے پہلے روز دروازہ بند دیکھا تھا، لے گئے اور بہت سے آدمیوں نے مل کر قفل کو کھولا۔ تابوت اور صندوق کو اندر لے چلے۔ ایک پنڈت میرے نزدیک آیا اور سمجھانے لگا کہ مانس ایک دن جنم پاتا ہے اور ایک روز ناس ہوتا ہے۔ دنیا کا یہ اوگن ہے اب یہ تیری استری اور پوست اور دھن اور چالیس دن کا اسباب بھوجن کا موجود ہے اس کو لے اور یہاں رہ جب تلک بڑا بت تجھ پر مہربان ہووے میں نے غصے میں چاہا کہ اس بت پر اور وہاں کے رہنے والوں پر اور اس ریت رسم پر لعنت کہوں اور برہمن کو دھول دھپا کروں۔ وہی مرد عجمی اپنی زبان میں مانع ہوا کہ خبردار ہرگز دم مت مار۔ اگر کچھ بھی بولا تو اسی وقت تجھے جلاویں گے۔ خیر جو تیری قسمت میں تھا سو ہوا۔ اب خدا کے کرم سے امیدوار رہ۔ شاید اللہ تجھے یہاں سے جیتا نکالے۔
آخر سب مجھے تن تنہا چھوڑ کر اس حصار سے باہر نکلے اور دروازہ پھر مقفل کر دیا۔ اس وقت میں اپنی تنہائی اور بے بسی پر بے اختیار رویا اور اس عورت کو اور لوتھ پر لاتیں مارنے لگا کہ اے مردار اگر تجھے جنتے ہی مر جانا تھا تو بیاہ کاہے کو کیا تھا اور پیٹ سے کیوں ہوئی تھی؟ مار مور کر پھر چپکا بیٹھا۔ اس میں دن میں چڑھا اور دھوپ گرم ہوئی سر کا بھیجا پکنے لگا۔ اور تعفن کے مارے روح نکلنے لگی۔ جیدھر دیکھتا ہوں، مردوں کی ہڈیاں اور صندوق جواہر کے ڈھیر لگے ہیں۔ تب کئی صندوق پرانے لے کر نیچے اوپر رکھے کہ دن کو دھوپ سے اور رات کو اوس سے بچاؤ۔ آپ پانی کی تلاش کرنے لگا۔ ایک طرف جھرنا سا دیکھا کہ قلعے کی دیوار میں پتھر کا تراشا ہوا گھڑے کے منہ کے موافق ہے۔ بارے کئی دن اس پانی اور کھانے سے زندگی ہوئی۔ آخر آزوقہ تمام ہوا۔ میں گھبرایا اور خدا کی جناب میں فریاد کی۔ وہ ایسا کریم ہے کہ دروازہ کوٹ کا کھلا اور ایک مرد کو لائے۔ اس کے ساتھ ایک پیر مرد آیا۔ جب اسے بھی چھوڑ کر گئے۔ یہ دل میں آیا کہ اس بوڑھے کو مار کر اس کے کھانے کا صندوق سب کا سب لے لے۔ ایک صندوق کا پایا ہاتھ میں لے کر اس پاس گیا۔ وہ بچارا سر زانو پر دھرے حیران بیٹھا تھا۔ میں نے پیچھے سے آ کر اس کے سر میں ایسا مارا کہ سر پھٹ کر مغز کو گودا نکل پڑا اور فی الفور جاں بحق تسلیم ہوا۔ اس کا آزوقہ لے کر میں کھانے لگا، مدت تلک یہی میرا کام تھا کہ جو زندہ مردے کے ساتھ آتا، اسے میں مار ڈالتا اور کھانے کا اسباب لے کر بہ فراغت کھاتا۔
بعد کتنی مدت ایک مرتبہ ایک لڑکی تابوت کے ہمراہ آئی، نہایت قبول صورت، میرے دل نے نہ چاہا کہ اسے بھی ماروں۔ ان نے مجھے دیکھا اور مارے ڈر کے بے ہوش ہو گئی۔ میں اس کا بھی آزوقہ اٹھا کر اپنے پاس لے آیا، لیکن اکیلا نہ کھاتا۔ جب بھوک لگتی کھانا اس کے نزدیک لے جاتا اور ساتھ مل کر کھاتا۔
جب اس عورت نے دیکھا کہ یہ شخص مجھے نہیں ستاتا، دن بہ دن اس کی وحشت کم ہوئی اور رام ہوتی چلی۔ میرے مکان میں آنے جانے لگی۔ ایک روز اس کا احوال پوچھا کہ تو کون ہے؟ اس نے جواب دیا کہ میں بادشاہ کے وکیل مطلق کی بیٹی ہوں۔ اپنے چچا کے بیٹے سے منسوب ہوئی تھی۔ شب عروسی کے دن اسے قولنج ہوا۔ ایسے درد سے تڑپنے لگا کہ ایک آن کی آن میں مر گیا۔ مجھے اس کے تابوت کے ساتھ لا کر یہاں چھوڑ گئے۔ تب اس نے میرا احوال پوچھا۔ میں نے بھی تمام و کمال بیان کیا اور کہا خدا نے تجھے میری خاطر یہاں بھیجا ہے۔ وہ مسکرا کر چپکی ہو رہی۔
اس طرح کئی دن میں آپس میں محبت زیادہ ہو گئی۔ میں نے اسے ارکان مسلمانی کے سکھا کر کلمہ پڑھایا اور متعہ کر کر صحبت کی۔ وہ بھی حاملہ ہوئی ایک بیٹا پیدا ہوا۔ قریب تین برس کے اسی صورت سے گزری۔ جب لڑکے کا دودھ بڑھایا۔ ایک روز بی بی سے کہا کہ یہاں کب تلک رہیں اور کس طرح یہاں سے نکلیں؟ وہ بولی خدا نکالے تو نکلیں۔ نہیں تو ایک روز یونہیں مر جائیں۔ مجھے اس کے کہنے پر اور اپنے رہنے پر کمال رقت آئی۔ روتے روتے سو گیا۔ ایک شخص کو خواب میں دیکھا کہ کہتا ہے پرنالے کی راہ سے نکلنا ہے تو نکل۔ میں مارے خوشی کے چونک پڑا اور جورو کو کہا کہ لوہے کی میخیں اور سیخیں جو پرانے صندوق میں ہیں جمع کر کے لے آؤ تو اس کو کشادہ کروں۔ غرض میں اسی موری کے منہ پر میخ رکھ کر پتھر سے ایسا ٹھونکتا کہ تھک جاتا۔ ایک برس کی محنت میں وہ سوراخ اتنا بڑا ہوا کہ آدمی نکل سکے۔
بعد اس کے مردوں کی آستینوں میں اچھے اچھے جواہر چن کر بھرے اور ساتھ لے کر اسی راہ سے ہم تینوں باہر نکلے۔ خدا کا شکر کیا اور بیٹے کو کاندھے پر بٹھایا۔ ایک مہینہ ہوا ہے کہ شاہراہ چھوڑ کر مارے ڈر کے جنگل پہاڑوں کی راہ سے چلا آتا ہوں، جب گرسنگی ہوتی ہے گھاس پات کھاتا ہوں۔ قوت بات کہنے کی مجھ میں نہیں۔ یہ میری حقیقت ہے جو تم نے سنی۔
بادشاہ سلامت! میں نے اس کی حالت پر ترس کھایا اور حمام کروا کر اچھا لباس پہنوایا اور اپنا نائب بنایا اور میرے گھر میں ملکہ سے کئی لڑکے پیدا ہوئیے، لیکن خورد سالی میں مر گئے ایک بیٹا پانچ برس کا ہو کر مرا۔ اس کے غم میں ملکہ نے وفات پائی۔ مجھے کمال غم ہوا اور وہ ملک بغیر اسکے کاٹنے لگا۔ دل اداس ہو گیا۔ ارادہ عجم کا کیا۔ بادشاہ سے عرض کر کر خدمت شاہ بندر کی اس جوان کو دلوا دی۔ اس عرصے میں بادشاہ بھی مر گیا۔ میں اس وفادار کتے کو اور سب مال خزانہ جواہر لے کر نیشا پور میں آ رہا۔ اس واسطے کہ بھائیوں کے احوال سے کوئی واقف نہ ہووے۔ میں خواجہ سگ پرست مشہور ہوا۔ اس بدنامی میں دگنا محصول آج تک بادشاہ ایران کی سرکار میں بھرتا ہوں۔
اتفاقا یہ سوداگر بچہ وہاں گیا۔ اس کے وسیلے سے جہاں پناہ کا قدم بوس کیا میں نے پوچھا کیا یہ تمہارا فرزند نہیں؟ خواجہ نے جواب دیا قبلہ عالم! یہ میرا بیٹا نہیں آپ ہی کی رعیت ہے، لیکن اب میرا مالک اور وارث جو کچھ کہے سو یہی ہے یہ سن کر سوداگر بچے سے میں نے پوچھا کہ تو کس تاجر کا لڑکا ہے اور تیرے ماں باپ کہاں رہتے ہیں؟ اس لڑکے نے زمین چومی اور جان کی امان مانگی اور بولا کہ یہ لونڈی سرکار کے وزیر کی بیٹی ہے۔ میرا باپ حضور کے عتاب میں بے سبب اسی خواجہ کے لعلوں کے پڑا۔ اور حکم یوں ہوا کہ اگر ایک سال تک اس کی بات کرسی نشین نہ ہو گی تو جان سے مارا جائے گا۔ میں نے سن کر یہ بھیس بنایا اور اپنے تئیں نیشا پور پہنچایا۔ خدا نے خواجہ کو بہ مع کتے اور لعلوں کو حضور میں حاضر کر دیا۔ آپ نے تمام احوال سن لیا۔ امیدوار ہوں کہ میرے بوڑھے باپ کی مخلصی ہو۔
یہ بیان وزیر زادی سے سن کر خواجہ نے ایک آہ کی اور بے اختیار گر پڑا۔ جب گلاب اس پر چھڑکا گیا تب ہوش میں آیا اور بولا کہ ہائے کم بختی! اتنی دور سے رنج و محنت کھینچ کر میں اس توقع پر آیا تھا کہ اس سوداگر بچے کو متبنیٰ کر کر اپنا فرزند کروں گا اور اپنے مال متاع کا اس کو ہبہ نامہ لکھ دوں گا تو میرا نام رہے گا اور سارا عالم اسے خواجہ زادہ کہے گا سو میرا خیال خام ہوا اور بالعکس کام ہوا۔ ان نے عورت ہو کر مجھ مرد پیر کو خراب کیا۔ میں رنڈی کے چرتر میں پڑا۔ اب میری وہ کہاوت ہوئی گھر میں رہے، نہ تیرتھ گئے، منڈ منڈا فضیحت۔ القصہ مجھے اس کی بے قراری اور نالہ و زاری پر رحم آیا۔ خواجہ کو نزدیک بلایا اور کان میں مژدہ اس کے وصل کا سنایا کہ غمگین مت ہو اسی سے تیری شادی کر دیں گے۔ خدا چاہے تو اولاد تیری ہو گی اور یہی تیری مالک ہو گئی۔ اس خوشخبری کے سنتے سے فی الجملہ اس کو تسلی ہوئی۔ تب میں نے کہا کہ وزیر زادی کو محل میں لے جاؤ اور وزیر کو پنڈت خانے سے لے آؤ اور حمام میں نہلاؤ اور خلعت سرفرازی کی پہناؤ اور جلد میرے پاس لاؤ۔ جس وقت وزیر آیا، لب فرش تک اس کا استقبال فرمایا اپنا بزرگ جان کر گلے لگایا، اور نئے سر سے قلمدان اور وزارت کا عنایت فرمایا اور خواجہ کو بھی جاگیر و منصب دیا اور ساعت سعید دیکھ کر وزیر زادی سے نکاح پڑھوا کر منسوب کیا۔
کئی سال میں دو بیٹے اور ایک بیٹی اس کے گھر میں پیدا ہوئی۔ چنانچہ بڑا بیٹا ملک التجار ہے اور چھوٹا ہماری سرکار کا مختار ہے۔ اے درویشو! میں نے اس لیے یہ نقل تمہارے سامنے کی کل کی رات دو فقیروں کی سرگذشت میں نے سنی تھی۔ اب تم دونوں جو باقی رہے ہو یہ سمجھو کہ ہم اسی مکان میں بیٹھے ہیں اور مجھے اپنا خادم اور اس گھر کو اپنا تکیہ جانو، بے وسواس اپنی اپنی سیر کا احوال کہو اور چندے میرے پاس رہو۔ جب فقیروں نے بادشاہ کی طرف سے بہت خاطر داری دیکھی، کہنے لگے خیر جب تم نے گداؤں سے الفت کی اور تو ہم دونوں بھی اپنا ماجرا بیان کرتے ہیں سنئے۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.