Urdu in Translation
Поиск

Глава 19 из 25

Юноша из Азербайджана и заколдованный город

The Youth of Azerbaijan and the City of the Talisman

آذربائیجان کا جوان اور طلسماتی شہر

Мир Амман

Письмо
Размер

میں نے سن کر اس جوان با ایمان پر آفریں کی اور کہا تیری مروت میں کچھ خلل نہیں، اور اس کی بے حیائی اور حرام زدگی میں ہرگز قصور نہیں۔ سچ ہے کتے کی دم کو بارہ برس گاڑو تو بھی ٹیڑھی رہے۔ اس کے بعد میں نے حقیقت ان بارہوں لعل کی، کہ اس کتے کے پٹے میں تھے، پوچھی۔ خواجہ بولا کہ بادشاہ کے صد و بیت سال کی عمر ہو۔ اسی بندر میں جہاں میں حاکم تھا، بعد تین چار سال کے ایک روز بالا خانے پر محل کے، کہ بلند تھا، واسطے سیر اور تماشے دریا و صحرا کے میں بیٹھا تھا اور ہر طرف دیکھتا تھا، ناگاہ ایک طرف جنگل میں کہ وہاں شاہراہ تھی، دو آدمی کی تصویر سی نظر آئی کہ چلے جاتے ہیں، دور بین لے کر دیکھا تو عجیب ہیئت کے انسان دکھائی دیئے۔

چوب داروں کو ان کے بلانے کے واسطے دوڑایا۔ جب وہ آئے تو معلوم ہوا کہ ایک عورت اور ایک مرد ہے۔ رنڈی کو محل سرا میں ملکہ کے پاس بھیج دیا اور مرد کو روبرو بلایا۔ دیکھا تو ایک جوان برس بیس بائیس کا داڑھی موچھ آغاز ہے، لیکن دھوپ کی گرمی سے اس کے چہرے کا رنگ کالے توے کا سا ہو رہا ہے۔ اور سر کے بال اور ہاتھوں کے ناخن بڑھ کر بن مانس کی صورت بن رہا ہے۔ اور ایک لڑکا برس تین چار کا ایک کاندھے پر، اور آستیں کرتے کے بھری ہوئی ہیکل کی طرح گلے میں ڈالی عجیب صورت اور عجیب یہ وضع اس کی دیکھی، میں نے نہایت حیران ہو کر پوچھا۔ اے عزیز کون ہے، اور کس ملک کا باشندہ ہے، اور یہ کیا تیری حالت ہے؟ وہ جوان بے اختیار رونے لگا۔ اور ہمیانی کھول کر میرے آگے زمین پر رکھی اور بولا۔ الجوع الجوع واسطے خدا کے کچھ کھانے کو دو۔ مدت سے گھاس اور بناس پتیاں کھاتا چلا آتا ہوں۔ ایک ذرا قوت مجھ میں باقی نہیں رہی۔ وونہیں نان و کباب اور شراب میں نے منگوا دی۔ وہ کھانے لگا اتنے میں خواجہ سرا محل سے کئی تھیلیاں اس کے قبیلے پاس سے لے آیا۔ میں نے اس سب کو کھلوایا۔ ہر ایک قسم کے جواہر دیکھے کہ ایک ایک دانہ ان کا خراج سلطنت کا کہا چاہیے ایک سے ایک انمول ڈول میں، و رتول میں اور آب داری میں۔ اور ان کی چھوٹ پڑنے سے سارا مکان بو قلموں ہو گیا۔ جب اس نے ٹکڑا کھایا اور ایک جام دارو کا پیا اور دم لیا، حواس بجا ہوئے۔ تب میں نے پوچھا یہ پتھر تجھے کہاں ہاتھ لگے؟ جواب دیا کہ میرا وطن ولایت آذربائیجان ہے۔ لڑکپن میں گھر بار ماں باپ سے جدا ہو کر بہت سختیاں کھنچیں اور ایک مدت تلک میں زندہ درگور تھا۔ اور کئی بار ملک الموت کے پنجے سے بچا ہوں۔ میں نے کہا اے مرد آدمی مفصل کہہ تو معلوم ہو۔ تب وہ اپنا احوال بیان کرنے لگا کہ میرا باپ سوداگر پیشہ تھا۔ ہمیشہ سفر ہندوستان و روم و چین و خطا و فرنگ کا کرتا۔ جب میں دس برس کا ہوا، باپ ہندوستان کو چلا۔ مجھے اپنے ساتھ لے جانے کو چاہا۔ ہر چند والدہ نے اور خالا، ممانی، پھوپھی نے کہا کہ ابھی یہ لڑکا ہے لائق سفر کے نہیں ہوا۔ والد نے نہ مانا اور کہا کہ میں بوڑھا ہوا اگر یہ میرے رو بہ رو تربیت نہ ہو گا تو یہ حسرت قبر میں لے جاؤں گا۔ مرد بچہ ہے اب نہ سیکھے گا؟

یہ کہہ کر مجھے خواہ مخواہ ساتھ لیا اور روانہ ہوا۔ خیر عافیت سے راہ کٹی۔ جب ہندوستان میں پہنچے کچھ جنس وہاں بیچی اور وہاں کے سوغات کر کرے جہاز پر سوار ہوئے کہ جلدی وطن میں پہنچیں۔ بعد ایک مہینے کے ایک روز آندھی اور طوفان آیا اور مینہ موسلادھار برسنے لگا۔ سارا زمین و آسمان دھواں دھار ہو گیا۔ اور پتوار جہاز کی ٹوٹ گئی۔ معلم ناخدا سر پیٹنے لگا۔ دس دن تلک ہوا اور موج جیدھر چاہتی تھی، لئے جاتی تھی۔ گیارھویں روز ایک پہاڑ سے ٹکر کھا کر جہاز پرزے پرزے ہو گیا۔ نہ معلوم کہ باپ اور نوکر چاکر اور اسباب کہاں گیا۔

میں نے اپنے تئیں ایک تختے پر دیکھا۔ سہ شبانہ روز اس پر پڑا بے اختیار چلا گیا۔ چوتھے دن کنارے پر جا لگا۔ مجھ میں فقط جان باقی تھی۔ اس پر سے اتر کر گھٹنوں چل کر بارے کسو نہ کسو طرح زمین پر پہنچا۔ دور سے کھیت نظر آئے اور بہت سے آدمی وہاں جمع تھے، لیکن سب سیاہ فام اور ننگے مادر زاد مجھ سے کچھ بولے، لیکن میں نے ان کی زبان مطلق نہ سمجھی۔ وہ کھیت چنوں کا تھا۔ وہ آدمی آگ کا الاؤ جل کر بوٹوں کے ہولے کرتے تھے اور کھاتے تھے۔ اور کئی ایک گھر میں وہاں نظر آئے۔ شاید ان کی خوراک یہی تھی اور وہیں بستے تھے۔ مجھے بھی اشارات کرنے لگے کہ تو بھی کھا۔ میں نے بھی ایک مٹھی اکھاڑ کر بھونے اور پھانکنے لگا۔ تھوڑا سا پانی پی کر ایک گوشے میں سو رہا۔ بعد دیر کے جب جاگا ان میں سے ایک شخص میرے نزدیک آیا اور راہ دکھانے لگا۔ میں نے تھوڑے سے چنے اور اکھیڑ لیے اور اس راہ پر چلا۔ ایک کف دست میدان تھا گویا صحرائے قیامت کا نمونہ کہا جائے وہی بونٹ کھاتا ہوا چلا جاتا تھا۔ بعد چار دن کے ایک قلعہ نظر آیا۔ جب پاس گیا تو ایک کوٹ دیکھا، بہت بلند تمام پتھر کا، اور ہر ایک النگ اس کی دو کوس کی اور دروازہ ایک سنگ کا تراشا ہوا، ایک قفل بڑا سا جڑا تھا، لیکن وہاں انسان کا نشان نظر نہ پڑا۔ وہیں سے آگے چلا۔ ایک ٹیلا دیکھا کہ اس کی خاک سرمے کے رنگ سیاہ تھی۔ جب اس تل کے پار ہوا تو ایک شہر نظر پڑا، بہت بڑا گرد شہر پناہ اور جا بجا برج، ایک طرف شہر کے دریا تھا، بڑے پاٹ کا، جاتے جاتے دروازے پر گیا اور بسم اللہ کہہ کر قدم اندر رکھا۔ ایک شخص کو دیکھا پوشاک اہل فرنگ کی پہنے ہوئے کرسی پر بیٹھا ہے۔ جوں ان نے مجھے اجنبی مسافر دیکھا اور میرے منہ سے بسم اللہ سنی، پکارا کہ آگے آؤ میں نے جا کر سلام کیا۔ نہایت مہربانی سے سلام کا جواب دیا۔ ترت میز پر پاؤ روٹی اور مسکہ اور مرغ کا کباب اور شراب رکھ کر کہا۔ پیٹ بھر کھاؤ۔ میں نے تھوڑا سا کھا لیا اور پیا اور بے خبر ہو کر سویا۔ جب رات ہو گئی تب آنکھ کھلی۔ ہاتھ منہ دھویا۔ پھر مجھے کھانا کھلایا اور کہا کہ اے بیٹا اپنا احوال کہہ۔ جو کچھ مجھ پر گزرا تھا سب کہہ سنایا۔ تب بولا کہ یہاں تو کیوں آیا؟ میں نے دق ہو کر کہا شاید تو دیوانہ ہے۔ میں نے بعد مدت کے محنت کے اب بستی کی صورت دیکھی ہے۔ خدا نے یہاں تلک پہنچایا اور تو کہتا ہے کیوں آیا ہے۔ کہنے لگا اب تو آرام کر کل جو کہنا ہو گا کہوں گا۔

جب صبح ہوئی بولا کوٹھری میں پھاوڑا اور چھلنی اور توبڑا ہے، باہر لے آ، میں نے دل میں کہا کہ خدا جانے روٹی کھلا کر کیا محنت مجھ سے کروائے گا، لاچار وہ سب نکال کر اس کے روبرو لایا۔ تب اس نے فرمایا کہ اس ٹیلے پر جا اور ایک گز کے موافق گڑھا کھود۔ وہاں سی جو کچھ نکلنے اس چھلنے میں چھان سکے اسے توبڑے میں بھر کر میرے پاس لا۔ میں وہ سب چیزں لے کر وہاں گیا اور اتنا ہی کھود کر چھان چھون کر توبڑے میں ڈالا۔ دیکھا تو سب جواہر رنگ برنگ کے تھے۔ ان کی جوت سے آنکھیں چوندھیا گئیں۔ اس طرح تھیلی کو مونہاں منہ بھر کر اس عزیز کے پاس لے گیا۔ دیکھ کر بولا کہ جو اس میں بھرا ہے تو لے اور یہاں سے جا کر تیرا رہنا اس شہر میں خوب نہیں۔ میں نے جواب دیا کہ صاحب نے اپنی جانب میں بڑی مہربانی کی کہ اتنا کچھ کنکر پتھر دیا لیکن میرے کس کام کا؟ جب بھوکا ہوں گا تو نہ ان کو چبا سکوں گا، نہ پیٹ بھرے گا۔ پس اگر اور بھی دو تو میرے کس کام آئیں گے؟ وہ مرد ہنسا اور کہنے لگا مجھ کو تجھ پر افسوس آتا ہے کہ تو بھی ہماری مانند ملک عجم کا متوطن ہے۔ اس لئے میں منع کرتا ہوں، نہیں تو جان۔ اگر خواہ مخواہ تیرا یہی قصد ہے کہ شہر میں جاؤں تو میری انگوٹھی لیتا جا۔ جب بازار کے چوک میں جاوے تو ایک شخص سفید ریش وہاں بیٹھا ہو گا اور اس کی صورت شکل مجھ سے بہت مشابہ ہے۔ میرا بڑا بھائی ہے۔ اس کو یہ چھاپ دیجئو تو تیری خبر گیری کرے گا۔ اور جو کچھ وہ کہے، اسی کے موافق کام کیجیو، نہیں تو مفت میں مارا جائے گا۔ اور میرا حکم یہیں تلک ہے، شہر میں میرا دخل نہیں۔

میں نے وہ خاتم اس سے لی اور سلام کر کر رخصت ہوا۔ شہر میں گیا۔ بہت خاصہ شہر دیکھا، کوچہ و بازار، صاف اور زن و مرد بے حجاب آپس میں خرید و فروخت کرتے، سب خوش لباس۔ میں سیر کرتا اور تماشا دیکھتا، جب چوک کے چوراہے میں پہنچا، ایسا ازدحام تھا کہ تھالی پھینکے تو آدمی کے سر پر چلی جائے، خلقت کا یہ ٹھٹھ بندھ رہا تھا کہ آدمی کو راہ چلنا مشکل تھا۔ جب کچھ بھیڑ چھٹی، میں بھی دھکم دھکا کرتا ہو آگے گیا، بارے اس عزیز کو دیکھا ایک چوکی پر بیٹھا ہے اور ایک جڑاؤ چاق رو برو دھرا ہے۔ میں نے جا کر سلام کیا اور وہ مہر دی۔ نظر غضب سے میری طرف دیکھا اور بولا۔ کیوں تو یہاں آیا اور اپنے تئیں بلا میں ڈالا؟ مگر میرے بے وقوف بھائی نے تجھے منع نہ کیا تھا؟ میں نے کہا انہوں نے تو کہا لیکن میں نہ مانا اور تمام کیفیت اپنی ابتدا سے انتہا تک کہہ سنائی۔ وہ شخص اٹھا اور مجھے ساتھ لے کر اپنے گھر کی طرف چلا۔ اس کا مکان بادشاہوں کا سا دیکھنے میں آیا، اور بہت سے نوکر چاکر اس کے تھے۔ جب خلوت میں جا کر بیٹھا بہ ملایمت بولا کہ اے فرزند یہ کیا تو نے حماقت کی کہ اپنے پاؤں سے گور میں آیا؟ کوئی بھی اس کم بخت طلسماتی شہر میں آتا ہے؟ میں نے کہا میں اپنا احوال پیشتر کہہ چکا ہوں۔ اب تو قسمت لے آئی، لیکن شفقت فرما کر یہاں کے راہ و رسم سے مطلع کیجئے تو معلوم کروں کہ اس واسطے تم نے اور تمہارے بھائی نے مجھے منع کیا۔ تب وہ جوان مرد بولا کہ بادشاہ اور تمام رئیس اس شہر کے راندے ہوئے ہیں۔ عجب طرح کا ان کا رویہ اور مذہب ہے۔ یہاں بت خانے میں ایک بت ہے کہ شیطان اس کے پیٹ میں سے نام اور ذات اور دین ہر کسو کا بیان کرتا ہے۔ پس جو کوئی غریب مسافر آتا ہے بادشاہ کو خبر ہوتی ہے۔ اسے منڈپ میں لے جاتا ہے اور بت کو سجدہ کرواتا ہے اگر ڈنڈوت کی تو بہتر، نہیں تو اسے دریا میں ڈبوا دیتا ہے۔ اگر وہ چاہے کہ دریا سے نکل کر بھاگے تو آلت اور خصئے اس کے لمبے ہو جاتے ہیں، ایسے کہ زمین میں گھسٹتے ہیں۔ ایسا کچھ طلسم اس شہر میں بنایا۔ مجھ کو تیری جوانی پر رحم آتا ہے۔ مگر تیری خاطر ایک تدبیر کرتا ہوں کہ بھلا کوئی دن تو جیتا رہے اور اس عذاب سے بچے۔

میں نے پوچھا وہ کیا صورت تجویز کی ہے؟ ارشاد ہو۔ کہنے لگا تجھے کتخدا کروں اور وزیر کی لڑکی تیری خاطر بیاہ لاؤں۔ میں نے جواب دیا کہ وزیر اپنی بیٹی مجھے مفلس کو کب دے گا، مگر جب ان کا دین قبول کروں؟ سو مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ کہنے لگا اس شہر کی یہ رسم ہے کو جو کوئی اس بت کو سجدہ کرے، اگر فقیر اور بادشاہ کی بیٹی کو مانگے تو اس کی خوشی کی خاطر حوالے کریں اور اسے رنجیدہ نہ کریں۔ اور میرا بھی بادشاہ کے نزدیک اعتبار ہے اور عزیز رکھتا ہے لہٰذا سب اراکان اور اکابر یہاں کے میری قدر کرتے ہیں۔ اور درمیان ایک ہفتے میں دو دن بت کدے میں زیارت کو جاتے ہیں اور عبادت بجا لاتے ہیں۔ چنانچہ کل سب جمع ہوویں گے میں تجھے لے جاؤں گا۔ یہ کہہ کر کھلا پلا کر سلا رکھا۔ جب صبح ہوئی مجھے ساتھ لے کر بت خانے کی طرف چلا۔ وہاں جا کر دیکھا تو آدمی آتے جاتے ہیں اور پرستش کرتے ہیں۔ بادشاہ اور امیر بت کے سامنے پنڈتوں کے پاس سر ننگے کئے ادب سے دو زانو بیٹھے تھے، اور نا کتخدا لڑکیاں اور لڑکے خوب صورت جیسے حور غلماں چاروں طرف صف باندھے کھڑے تھے۔ تب وہ عزیز مجھ سے مخاطب ہوا کہ اب جو کہوں سو کر۔ میں نے قبول کیا کہ جو فرماؤ سو بجا لاؤں۔ میں نے ویسا ہی کیا بادشاہ نے پوچھا یہ کون ہے اور کیا کہتا ہے؟ اس مرد نے کہا یہ جوان میرے رشتے میں ہے۔ بادشاہ کی قدم بوسی کی آرزو میں دور سے آتا ہے۔ اس توقع پر کہ وزیر اس کو اپنی غلامی میں سربلند کرے۔ اگر حکم بت کلاں کا اور مرضی حضور کی ہووے۔ بادشاہ نے پوچھا کہ ہمارا مذہب اور دین و آئین قبول کرے گا تو مبارک ہے۔ وونہیں بت خانے کا نقار خانہ بجنے لگا اور بھاری خلعت مجھے پہنائی، اور ایک رسی سیاہ میرے گلے میں ڈال کر کھینچتے ہوئے بت کی سنگھاسن کے آگے لے جا کر سجدہ کروا کر کھڑا کیا۔ بت سے آواز نکلی کہ اے خواجہ زادے خوب ہوا کہ تو ہماری بندگی میں آیا، اب ہماری رحمت اور عنایت کا امیدوار رہ۔ یہ سن کر سب خلقت نے سجدہ کیا اور زمین میں لوٹنے لگے اور پکارے دھن ہے کیوں نہ ہو تم ایسے ہی ٹھاکر ہو۔ جب شام ہوئی بادشاہ اور وزیر سوار ہو کر وزیر کے محل میں داخل ہوئے اور وزیر کی بیٹی کو اپنے طور کی ریت رسم کر کے میرے حوالے کیا۔ اور بہت سا دان دہیز دیا اور بہت منت دار ہوئے کہ بہ موجب حکم بڑے بت کے اسے تمہاری خدمت میں دیا ہے ایک مکان میں ہم دونوں کو رکھا اس نازنین کو جو میں نے دیکھا تو فی الواقع اس کا عالم پری کا تھا۔ نکھ سکھ سے درست جو جو خوبیاں پدمنی کی سنی جاتی ہیں، سو سب اس میں موجود تھیں، بفراغت تمام میں نے صحبت کی اور حظ اٹھایا۔ صبح کو غسل کر کر میں بادشاہ کے حجرے میں حاضر ہوا۔ بادشاہ نے خلعت دامادی کی عنایت کی اور حکم فرمایا کہ ہمیشہ دربار میں حاضر رہا کرے۔ آخر کو بعد چند روز کے بادشاہ کی مصاحبت میں داخل ہوا۔

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.