Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 9 de 18

Anonymous Letters, and Ghalib and the Author

گمنام خطوں میں گالیاں اور راقم کے ساتھ مرزا کا معاملہ

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

گمنام خطوں میں گالیاں

جب یہ مقدمہ داخل دفتر ہو گیا ایک مدت کے بعد لوگوں نے مرزا کے نام گمنام خط متضمن سب و شتم بھیجنے شروع کیے، جن میں شراب نوشی اور بد مذہبی وغیرہ پر سخت نفریں اور طعن و ملامت لکھی ہوتی تھی۔ ان دنوں میں مرزا کی عجب حالت تھی؛ نہایت مکدر اور بے لطف رہتے تھے۔ اور جب چٹھی رساں ڈاک لے کر آتا تھا تو، اس خیال سے کہ مبادا کوئی اسی قسم کا خط نہ آیا ہو، ان کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔

راقم کے ساتھ مرزا کا معاملہ

اتفاق سے انھیں دنوں میں نواب مصطفے خاں مرحوم کے ہمراہ میرا دلی میں آنا ہوا۔ چونکہ مجھ کو ان نالائق گمنام خطوں کے آنے کا حال معلوم نہ تھا؛ ایک روز مجھ سے ایک ایسی غلطی ہو گئی جس کے تصور سے مجھ کو ہمیشہ نہایت شرمندگی ہوتی ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مذہبی خود پسندی کے نشے میں سرشار تھے۔ خدا کی تمام مخلوق میں سے صرف مسلمانوں کو، اور مسلمانوں کے تہتر فرقوں میں سے اہل سنت کو، اور اہل سنت میں سے صرف حنفیہ کو، اور ان میں سے بھی صرف ان لوگوں کو جو صوم و صلوۃ اور دیگر احکام ظاہری کے نہایت تقید کے ساتھ پابند ہیں؛ نجات اور مغفرت کے لائق جانتے تھے۔ گویا دائرۂ رحمت الٰہی کو کوئن وکٹوریا کی وسعت سلطنت سے بھی، جس میں ہر مذہب اور ملت کے آدمی بہ امن و امان زندگی بسر کرتے ہیں، زیادہ تنگ اور محدود خیال کرتے تھے۔ جس قدر کسی کے ساتھ محبت یا لگاؤ زیادہ ہوتا تھا اسی قدر اس بات کی تمنا ہوتی تھی کہ اس کا خاتمہ ایسی حالت پر ہو جو ہمارے زعم میں نجات اور مغفرت کے لیے ناگزیر ہے۔ چونکہ مرزا کی ذات کے ساتھ محبت اور لگاؤ بدرجۂ غایت تھا اس لیے ہمیشہ ان کی حالت پر افسوس آتا تھا۔ گویا یہ سمجھتے تھے کہ روضۂ رضواں میں ہمارا ان کا ساتھ چھوٹ جائے گا؛ اور مرنے کے بعد پھر ان سے ملاقات نہ ہو سکے گی۔ ایک روز مرزا کی بزرگی، استادی، اور کبر سنی کے ادب اور تعظیم کو بالائے طاق رکھ کر خشک مغز واعظوں کی طرح ان کو نصیحت کرنی شروع کی۔ چونکہ ان کا ثقل سماعت انتہا کے درجے کو پہنچ گیا تھا، اور ان سے بات چیت صرف تحریر کے ذریعے سے کی جاتی تھی؛ نماز پنجگانہ کی فرضیت اور تاکید پر ایک لمبا چوڑا لکچر لکھ کر ان کے سامنے پیش کیا، جس میں ان سے اس بات کی درخواست تھی کہ آپ کھڑے ہو کر، یا بیٹھ کر، یا ایما و اشارے سے؛ غرض جس طرح ہو سکے نماز پنجگانہ کی پابندی اختیار کریں۔ اگر وضو نہ ہو سکے تو تیمم ہی سہی؛ مگر نماز ترک نہ ہو۔

مرزا کو یہ تحریک سخت ناگوار گذری؛ اور ناگوار گذرنے کی بات ہی تھی۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ انھیں دنوں میں لوگ گمنام خطوں میں ان کے اعمال و افعال پر بہت نازیبا طریقے سے نفریں و ملامت کر رہے تھے، اور بازاریوں کی طرح کھلم کھلا گالیاں لکھتے تھے۔ مرزا صاحب نے میری لغو تحریر کو دیکھ کر جو کچھ فرمایا وہ سننے کے لائق ہے۔ انھوں نے کہا "ساری عمر فسق و فجور میں گذری؛ نہ کبھی نماز پڑھی، نہ روزہ رکھا، نہ کوئی نیک کام کیا۔ زندگی کے چند انفاس باقی رہ گئے ہیں؛ اب اگر چند روز بیٹھ کر، یا ایما و اشارے سے نماز پڑھی؛ تو اس سے ساری عمر کے گناہوں کی تلافی کیونکر ہو سکے گی؟ میں تو اس قابل ہوں کہ جب مروں میرے عزیز اور دوست میرا منہ کالا کریں، اور میرے پاؤں میں رسی باندھ کر شہر کے تمام گلی کوچوں اور بازاروں میں تشہیر کریں، اور پھر شہر سے باہر لے جا کر کتوں، اور چیلوں، اور کووں کے کھانے کو (اگر وہ ایسی چیز کھانا گوارا کریں) چھوڑ آئیں۔ اگرچہ میرے گناہ ایسے ہی ہیں کہ میرے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کیا جائے؛ لیکن اس میں شک نہیں کہ میں موحد ہوں۔ ہمیشہ تنہائی اور سکوت کے عالم میں یہ کلمات میری زبان پر جاری رہتے ہیں 'لا الٰہ الا اللہ، لا موجود الا اللہ، لا مؤثر فی الوجود الا اللہ۔'"

شاید اسی روز، جب کہ یہ گفتگو ہو چکی تھی اور مرزا صاحب کھانا کھا رہے تھے، چٹھی رساں نے ایک لفافہ لا کر دیا۔ لفافہ کی بے ربطی اور کاتب کے نام کی اجنبیت سے ان کو یقین ہو گیا کہ کسی مخالف کا ویسا ہی گمنام خط ہے جیسے پہلے آ چکے ہیں۔ لفافہ مجھ کو دیا کہ اس کو کھول کر پڑھو۔ میں جو دیکھتا ہوں تو فی الحقیقت سارا خط فحش و دشنام سے بھرا ہوا تھا۔ پوچھا کس کا خط ہے؟ اور کیا لکھا ہے؟ مجھے اس کے اظہار میں تامل ہوا۔ فوراً میرے ہاتھ سے لفافہ چھین کر فرمایا کہ شاید آپ کے کسی شاگرد معنوی کا لکھا ہوا ہے۔

لطیفہ

پھر اول سے آخر تک خود پڑھا۔ اس میں ایک جگہ ماں کی گالی بھی لکھی تھی۔ مسکرا کر کہنے لگے کہ "اس الو کو گالی دینی بھی نہیں آتی۔ بڈھے یا ادھیڑ آدمی کو بیٹی کی گالی دیتے ہیں؛ تاکہ اس کو غیرت آئے۔ جوان کو جورو کی گالی دیتے ہیں؛ کیونکہ اس کو جورو سے زیادہ تعلق ہوتا ہے۔ بچے کو ماں کی گالی دیتے ہیں؛ کہ وہ ماں کے برابر کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ یہ قرم ساق جو بہتر برس کے بڈھے کو ماں کی گالی دیتا ہے اس سے زیادہ کون بے وقوف ہوگا؟"

اس کے بعد میں ان سے رخصت ہو کر چلا آیا۔ دوسرے روز حضرت نے ایک غزل لکھ کر میرے پاس بھیجی، جس میں اگرچہ میرے نام اور تخلص کی تصریح نہ تھی لیکن اس کے بعض مضامین اور اشارات سے معلوم ہوا کہ اس میں جو طعن و تعریض ہے وہ میرے ہی نسبت ہے۔ غزل یہ ہے:

بمقصدے کہ مر آں را رہ خدا گویندبرو برو کہ ازاں سو بیا بیا گویند

کسے کہ پائے ندارد چگونہ راہ رودخود اہل شرع دریں داوری چہا گویند

ز رمز نخل انا اللہ گوے نا آگاہحدیث جلوہ گہ موسیٰ و عصا گویند

مگر ز حق نبود شرم حق پرستاں راکہ نام حق نبرند و ہمیں انا گویند

ز قول شاں نبود دل نشین اہل نظرجز آں صفات کہ از ذات کبریا گویند

نخواندہ در کتب و ناشنیدہ از فقہابغیر بے مزہ واگویہ ہا کہ واگویند

دم از "وجودک ذنب"[1] زنند بے خبراںچساں عطیۂ حق را گناہ ما گویند

بلے! گناہ بود دعوئ وجود از ماباہل راز چنیں گوے تا بجا گویند

دگر ملامتیاں را چہ زہرۂ پاسخاگر بخشم گرایند و ناسزا گویند

نکردہ زر مس خود را و بہر عرض فریببہ پیش خلق حکایت ز کیمیا گویند

کساں کہ دعوئ نیکی ہمی کنند، مرااگر نہ نیک شمارند، بد چرا گویند!

طمع مدار کہ یابی خطاب مولانابس است ہمچو توئے را کہ پارسا گویند

بگوے مژدہ، کہ در دہر کار غالب زارازاں گذشت کہ درویش و بے نوا گویند

اس غزل کو دیکھ کر مجھ کو اس بات کا موقع ملا کہ مرزا کے کمال شاعری کی نسبت جو خیالات مکنون خاطر ہیں، اور کبھی ان کے اظہار کی نوبت نہیں آئی؛ ان کو کسی قدر شکایت کے ساتھ ایک مختصر قطعہ میں بیان کیا جائے۔ چنانچہ قطعۂ ذیل ترتیب دے کر مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا:

قطعہ

تو اے کہ رونق پیشینیاں بہم شکستز نظم و نثر تو کاندر زمان ما گفتی

چہ نغمہ ہا کہ بقانون ذوق سنجیدیچہ بذلہ ہا کہ بانداز دلربا گفتی

رسید نشۂ عرفاں چو ذکر مے راندیشگفت خاطر یاراں گر از صبا گفتی

دوید ریشہ بدلہا چو حرف مہر زدیدمید نخل تمنا چو از وفا گفتی

گہر بہ بزم فشاندی اگر ثنا خواندیاثر ز لفظ دواندی اگر دعا گفتی

ہزار عقدۂ سربستہ باز بگشودیہزار نکتۂ پوشیدہ برملا گفتی

ز سر تفرقہ و جمع قصہ ہا راندیز سیر انفس و آفاق رازہا گفتی

برآمد از دل بیگانگاں ترانۂ ذوقبہ محفلے کہ سخن ہائے آشنا گفتی

لطیفہ ہا کہ بہ لفظ و بیاں نمی گنجیدتو چوں فرشتہ ز غیب آمدی و وا گفتی

بحق لطف کلامت کہ ہست بر دل ماکہ پایۂ سخن افراشتند تا گفتی

تو اے کہ ہر سخن نغز تو بدل جا کردجز آں کہ در حق حالی برمز وا گفتی

ہر آنچہ گفتۂ اندر جواب عرض نیازخطا بود کہ بگیرم اگر خطا گفتی

ولے بعربدہ از حرف چند باخویشمکہ گر نگفتہ ام آخر تو از کجا گفتی

عجب کہ قاعدہ دان نیازمندی راسفیہ و معجب و خود بین و خود نما گفتی

عجب کہ چاشنی اندوز خاکساری رارہین ذوق نوا سنجئ انا گفتی

عجب کہ منفعلے را ز نقد ناسرہ اشبہ زرق در گرہ و عرض کیمیا گفتی

نہ راہ حرف بسوئیت نہ جائے من بدلتجواب چیست اگر پرسم از کجا گفتی

اگر نہ روئے سخن با تو بود، می گفتمچگونہ گفتی؟ و چوں گفتی؟ و چرا گفتی؟

ولیک شرط ادب نیست بر تو خردہ گرفتہر آنچہ در حق من گفتۂ بجا گفتی

جس زمانے میں یہ واقعہ پیش آیا اس زمانے میں مجھ کو نواب محمد مصطفے خاں مرحوم متخلص بہ شیفتہ و حسرتی، رئیس جہانگیر آباد کے ہاں تعلق تھا، اور ان دنوں میں وہ دلی آئے ہوئے تھے، اور میں انھیں کے مکان پر مقیم تھا۔ جب یہ قطعہ مرزا صاحب کی نظر سے گذرا تو انھوں نے چار بیت کا ایک نہایت لطیف قطعہ نواب مرحوم کے پاس لکھ کر بھیجا جو ذیل میں درج ہے:

قطعہ

تو اے کہ شیفتہ و حسرتی لقب داریہمی بہ لطف تو خود را امیدوار کنم

چو حالی از من آشفتہ بے سبب رنجیدتو گر شفیع نگردی بگو چہ کار کنم

دوبارہ عمر دہندم اگر بفرض محالبراں سرم کہ دراں عمر ایں دو کار کنم

یکے ادائے عبادات عمر پیشینہدگر بہ پیشگہ حالی اعتذار کنم

اگرچہ مجھ کو شرم آتی ہے کہ مرزا کے عالی رتبہ کلام کے ساتھ اپنا کم وزن و بے وقعت کلام ناظرین کے سامنے بار بار پیش کروں؛ مگر مقام اور موقع اس بات کا مقتضی ہے کہ جس واقعہ کا ذکر چھڑ گیا ہے اس کو انجام تک پہنچایا جائے۔ مرزا صاحب کے اس قطعہ پر میں نے ایک اور قطعہ لکھ کر ان کی خدمت میں بھیجا جو ذیل میں لکھا جاتا ہے:

قطعہ

تو اے کہ عذر فرستادہ بسوئے رہیسزد کہ جان گرامی براں نثار کنم

شکایتے کہ تواں گفت عین اخلاصشگرم تو دوست شماری ہزار بار کنم

نماند قاعدۂ شکر بے ریا بجہاںاساس دوستی از شکوہ استوار کنم

چو شکوہ جز بتقاضائے دوستی نبودز غیر شکر و شکایت ز دوستدار کنم

سرشت پاک و دل صاف دادہ اند مرابحرف تلخ دلے خالی از غبار کنم

خوش آں کہ ساز کنم از تو شکوۂ بیجاتو اعتذار کنی و من افتخار کنم

خوش آں کہ عذر تو چوں در کند مرا از بیخدگر بہ پیش تو تمہید اعتذار کنم

براں سرم کہ اگر مرگ اماں دہد زیں پسز کارہائے جہاں خاصہ ایں دو کار کنم

ز کردہ توبہ نمایم ز گفتہ استغفاردگر سپاس تو پنہان و آشکار کنم

جب یہ قطعہ مرزا صاحب کے پاس پہنچا اس پر یہ لکھ کر کہ "بس اب بیت بحثی موقوف" میرے پاس بھیج دیا؛ اس کے بعد پھر اور کچھ نہیں لکھا گیا۔

حواشی

[1] یہ ایک مشہور قول صوفیۂ کرام کا ہے۔ میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو لکھ کر دیا تھا اس میں ایک موقع پر یہ جملہ بھی لکھا گیا تھا۔ مرزا اس پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کو تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ "وجود ایک عطیۂ الٰہی ہے؛ پس اس کو ہمارا گناہ کیونکر کہا جا سکتا ہے؟ البتہ دعوی وجود گناہ ہے۔ اگر اہل راز سے اس طرح کہا جائے تو وہ تسلیم کر سکتے ہیں۔" مگر معلوم رہے کہ جن لوگوں کا یہ قول ہے کہ "وجودک ذنب" وہ ایک وجود واجب کے سوا اور کسی وجود کے قائل نہیں ہیں۔ وحدت وجود ان کا اصل اصول ہے۔ پس ان کے نزدیک وجود ماسوا عطیۂ حق نہیں ہے بلکہ وہم و خیال انسانی کے مخترعات میں سے ہے؛ اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ "وجودک ذنب"۔ ۱۲

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.