Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 10 de 18

Learning and Accomplishments

عربی، فارسی دانی اور دوسرے کمالات

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

عربی

مرزا نے عربی میں صرف و نحو کے سوا اور کچھ استاد سے نہیں پڑھا تھا؛ مگر چونکہ علم لسان سے ان کو فطری مناسبت تھی، ان کی نظم و نثر اردو و فارسی کے دیکھنے سے کہیں اس بات کا خطرہ تک دل میں نہیں گذرتا کہ یہ شخص عربیت اور فن ادب سے ناواقف ہوگا۔ عربی الفاظ کو انھوں نے ہر جگہ اسی سلیقے سے استعمال کیا ہے جس طرح ایک اچھے فاضل اور ادیب کو استعمال کرنا چاہیے۔

فارسی دانی

شاعری جس کا ملکہ ان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا تھا، اس سے قطع نظر کر کے فارسی زبان اور فارسی الفاظ و محاورات کی تحقیق اور اہل زبان کے اسالیب بیان پر مرزا کو اس قدر عبور تھا کہ خود اہل زبان میں بھی مستثنیٰ آدمیوں کو ایران کے مستند شعرا کی زبان پر اس قدر عبور ہوگا۔

عروض

اس کے سوا فن عروض میں بھی ان کو کافی دستگاہ معلوم ہوتی ہے۔ اکثر بڑے بڑے نامور شعرا کو دیکھا اور سنا گیا ہے کہ باوجود کمال شاعری کے اس فن سے محض ناآشنا ہوتے ہیں، اور سیدھی سیدھی بحروں کے سوا جن کے وزن اور قول کا اندازہ صرف استقامت طبع سے ہو سکتا ہے، اور بحروں میں کلام موزوں نہیں کر سکتے۔ چنانچہ مولانا روم فرماتے ہیں "من ندانم فاعلاتن فاعلات؛ شعر می گویم بہ از قند و نبات۔" مرزا کا ایسا حال نہ تھا؛ چنانچہ فارسی اور اردو میں متعدد غزلیں اور نیز ایک آدھ فارسی قصیدہ ایسی ٹیڑھی بحروں میں انھوں نے لکھا ہے کہ اکثر موزوں طبع بغیر واقفیت عروض کے ان بحروں میں نہیں چل سکتے۔

نجوم

علم نجوم سے کسی قدر، اور اس کی اصطلاحات سے پوری واقفیت ان کو تھی؛ چنانچہ ان کی نظم فارسی میں جابجا اس کا کافی ثبوت ملتا ہے۔

تصوف

علم تصوف سے، جس کی نسبت کہا گیا ہے کہ "برائے شعر گفتن خوب ست،" ان کو خاص مناسبت تھی؛ اور حقائق و معارف کی کتابیں اور رسالے کثرت سے ان کے مطالعے سے گذرے تھے۔ اور سچ پوچھیے تو انھیں متصوفانہ خیالات نے مرزا کو نہ صرف اپنے ہمعصروں میں بلکہ بارھویں اور تیرھویں صدی کے تمام شعرا میں ممتاز بنا دیا تھا۔

تاریخ

فن تاریخ اور سیاق و مساحت وغیرہ سے ان کو مطلق لگاؤ نہ تھا۔ جس زمانے میں کہ وہ خاندان تیموریہ کی تاریخ یعنی مہر نیمروز لکھ رہے ہیں کسی نے ان کو مؤرخ سمجھ کر کچھ سوالات کیے ہیں؛ اس کے جواب میں لکھتے ہیں "میں فن تاریخ و مساحت و سیاق سے آشنا بیگانہ ہوں کہ ان فنون کو سمجھ بھی نہیں سکتا۔ کارپردازان دفتر شاہی خلاصۂ حالات از روئے کتب اردو میں لکھ کر میرے پاس بھیج دیتے ہیں؛ میں اس کو فارسی کر کر حوالے کرتا ہوں۔ میرے ہاں ایک کتاب بھی نہیں۔ میں اسی قدر ہوں کہ نظم و نثر بقدر اپنی استعداد کے لکھ سکتا ہوں؛ مؤرخ نہیں ہوں:

ما قصۂ سکندر و دارا نخواندہ ایماز ما بجز حکایت مہر و وفا مپرس"[1]

خط

مرزا کا خط نستعلیق شفیعا آمیز نہایت شیریں اور دلآویز تھا جیسا کہ اکثر اہل ایران کا ہوتا ہے؛ اور باوجود خوشخطی کے نہایت زود نویس اور تیز دست تھے۔

شعر خوانی

شعر پڑھنے کا انداز بھی خاص کر مشاعروں میں حد سے زیادہ دلکش اور مؤثر تھا۔ میں نے غدر سے چند سال پہلے، جب کہ دیوان عام میں مشاعرہ ہوتا تھا، صرف ایک دفعہ مرزا صاحب کو مشاعرے میں پڑھتے سنا ہے۔ چونکہ ان کے پڑھنے کی باری سب کے بعد آئی تھی اس لیے صبح ہو گئی تھی۔ مرزا نے کہا صاحبو! میں بھی اپنی بھیرویں الاپتا ہوں؛ یہ کہہ کر اول اردو طرح کی غزل اور اس کے بعد فارسی کی غیر طرح نہایت پر درد آواز سے پڑھی۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا مجلس میں کسی کو اپنا قدردان نہیں پاتے؛ اور اس لیے غزلخوانی میں فریاد کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

جس زمانے میں میر نظام الدین ممنون شاہ صاحب کے پرانے مدرسے میں مشاعرہ کرتے تھے، ایک مشاعرے میں مرزا نے اپنا فارسی قصیدہ "دریا گریستن" اور "تنہا گریستن"، جو جناب سید الشہدا کی منقبت میں انھوں نے لکھا تھا، پڑھا۔ سنا ہے کہ مجلس مشاعرہ بزم عزا بن گئی تھی۔ جب تک قصیدہ پڑھا گیا لوگ برابر روتے رہے؛ مفتی صدر الدین خاں مرحوم بھی موجود تھے۔ اتفاق سے اسی حالت میں مینہ بھی برسنے لگا۔ مفتی صاحب نے کہا "آسماں ہم گریست۔"

اسی قصیدے کی نسبت سید اکبر مرزا خلف الصدق ناظر سید حسین مرزا مرحوم بیان کرتے ہیں کہ بندرگاہ بصرہ میں ایک جگہ مجلس عزا تھی، اور بارش ہو رہی تھی۔ بانی مجلس نے مجھ سے کہا کہ تم بھی کچھ پڑھو۔ میرے پاس اس وقت پڑھنے کی کوئی چیز مرثیہ یا کتاب نہ تھی۔ اسی قصیدے کے چند اشعار زبانی یاد تھے؛ میں نے وہی پڑھ دیے۔ پانچ ہی سات شعروں پر مجلس میں خوب رقت ہوئی۔ عرب، عجم، اور ہندی سب اس مجلس میں شریک تھے۔ مجلس کے بعد ہر ایک عجمی مجھ سے پوچھتا تھا کہ یہ اشعار کس شخص کے تھے؟ خصوصاً اس شعر کی بہت تعریف کرتے رہے:

مزد شفاعت و صلۂ صبر و خونبہاہیچ از کسے نخواستہ الا گریستن

وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ایک دفعہ مرزا دبیر مرحوم نے اسی شعر پر مصرعے لگائے تھے مگر ان کو خود پسند نہ آئے اور کہا کہ جس رتبے کا یہ شعر ہے ویسے مصرعے نہیں لگ سکتے۔

حواشی

[1] لطیفہ۔ شمس العلما مولوی ذکاء اللہ سے کسی نے پوچھا کہ مرزا صاحب کو ریاضی میں بھی کچھ دخل تھا یا نہیں؟ انھوں نے کہا ایسا ہی دخل تھا جیسا مجھے شاعری میں ہے۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.