Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 8 de 18

Qati'-e Burhan and the Controversy

قاطع برہان اور اس کی مخالفت و تائید

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

قاطع برہان

جب مرزا دستنبو کو ختم کر چکے، اور اب بھی تنہائی اور سناٹے کا وہی عالم رہا؛ اس وقت سوا اس کے اور کیا چارہ تھا کہ دوات اور قلم کو مونس اور رفیق سمجھیں، اور کچھ لکھ پڑھ کر اپنا غم غلط کریں، اور دل بہلائیں۔ مرزا پاس اس وقت سوائے برہان قاطع اور دساتیر کے کوئی کتاب موجود نہ تھی۔ برہان کو اٹھا کر سرسری نظر سے دیکھنا شروع کیا۔ پہلی ہی نگاہ میں کچھ بے ربطیاں سی معلوم ہوئیں۔ پھر زیادہ غور سے دیکھا تو اکثر لغات کی تعریف غلط پائی۔ ایک ایک لفظ متعدد فصلوں میں مختلف صورتوں سے لکھا دیکھا۔ شعرا نے جو الفاظ بطور مجاز و کنایہ کے استعمال کیے ہیں ان کا ذکر بطور مستقل لغات کے دیکھا۔ طریقۂ بیان اکثر بھونڈا اور اصول لغت نگاری کے خلاف پایا۔ بہت سے لغات کی ایسی تفسیر بھی دیکھی جس کے معنی بالکل سمجھ میں نہ آئے۔ مرزا نے یادداشت کے طور پر جو مقام قابل اعتراض نظر آئے ان کو ضبط کرنا شروع کیا۔ شدہ شدہ وہ ایک کتاب بن گئی، جس کا نام قاطع برہان رکھا گیا، اور سنہ ۱۸۶۲ء میں چھپ کر شائع ہو گئی۔ پھر مرزا نے سنہ ۱۸۶۵ء میں باضافۂ دیگر مضامین و فوائد اس کو دوسری بار چھپوایا اور اس کا نام درفش کاویانی رکھا۔

یہاں دو چار مثالیں ان الفاظ کی درج کرنی مناسب معلوم ہوتی ہیں جن پر مرزا نے صاحب برہان کا تخلیہ کیا ہے۔ مثلاً صاحب برہان نے عنبر ارزاں کے معنی گیسوئے رسول مقبول کے لکھے ہیں؛ اور پھر کہتا ہے کہ اس کو عنبر لرزاں بھی کہتے ہیں۔ مرزا صاحب برہان کی غلطی کا منشا یہ بتاتے ہیں کہ اس نے نظامی کا یہ شعر دیکھا ہے جو نعت میں ہے: "بوے کزاں عنبر لرزاں دہی؛ گر بدو عالم دہی ارزاں دہی۔" پس عنبر لرزاں میں استعارہ کو اصلی لغت قرار دیا اور دوسرے مصرع میں ارزاں کے موقع اور محل کو بالکل نہیں سمجھا، اور آنحضرتؐ کی زلف عنبر بو جو دو نو جہان کے بدلے میں بھی ارزاں ہو، اس کا نام عنبر ارزاں رکھ دیا۔ یا مثلاً برہان میں لکھا ہے "قافلہ شد بمعنی قافلہ رفت یعنی قافلہ سالار رفت، کہ کنایہ از فوت شدن پیغمبر باشد۔" اول تو قافلہ شد کو ایک لغت قرار دینا ہی بے معنی ہے؛ پھر اس کے معنی قافلہ سالار رفت کہنا اور قافلہ سالار کے جانے سے وفات سرور کائنات مراد لینا غلط در غلط اور خبط در خبط ہے۔ مرزا غلطی کا منشا مولانا نظامی کے اس شعر کو بتاتے ہیں: "قافلہ شد واپسی ما ببیں؛ اے کس ما بیکسی ما ببیں۔" یہ شعر مخزن اسرار کی مناجات میں واقع ہوا ہے مگر مرزا نے سہو سے اس کو جامی کی طرف منسوب کیا ہے۔ شعر کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے دوست اور رفیق اور ساتھی سب چل دیے، اب تیرے سوا کوئی ہمارا یار و مددگار نہیں ہے۔ یا مثلاً صاحب برہان لکھتا ہے کہ "ششش ضرب نتیجۂ خوب کنایہ از گوہر و زر باشد، و کنایہ از اشک، و کنایہ از شکر و عسل و اقسام میوہ ہا ہم ہست، و بحذف ضرب ہم بنظر آمدہ کہ شش نتیجۂ خوب باشد۔" مرزا نے جو اس کا خاکا اڑایا ہے وہ طول طویل ہے؛ خلاصہ یہ ہے کہ اس مرکب اور بے معنی جملے کو لغت قرار دینا صاحب برہان ہی کا کام ہے۔ اور اس طرح کے صدہا الفاظ ہیں جن پر مرزا نے گرفت کی ہے، اور طرح طرح کی لغزشیں اور بے ربطیاں ہیں جو بغیر اس کے کہ درفش کاویانی کو اول سے آخر تک دیکھا جائے ذہن نشین نہیں ہو سکتیں۔

جس وقت مرزا نے قاطع برہان لکھی ہے نہ اس وقت ان کے پاس ایک قلمی برہان کے سوا کوئی فرہنگ لغات تھی، اور نہ کوئی اور ایسا سامان موجود تھا جس پر تحقیق لغت کی بنیاد رکھی جاتی۔ جو کچھ انھوں نے لکھا یا محض اپنی یادداشت کے بھروسے پر، اور یا ذوق و وجدان کی شہادت سے لکھا۔ باایں ہمہ، چند مقامات کے سوا، جہاں فی الواقع مرزا سے لغزش ہوئی ہے، اور بعض غلطیوں کا انھوں نے خود بھی اقرار کیا ہے، ان کے تمام ایراد واجبی معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ درفش کاویانی لکھتے وقت معلوم ہوتا ہے کہ فضلائے کلکتہ کی مصححہ و مطبوعہ برہان مرزا کے پیش نظر تھی۔

قاطع برہان کی مخالفت

اس کتاب کا شائع ہونا تھا کہ ہر کس و ناکس مرزا کی مخالفت پر کمربستہ ہو گیا۔ ایک قاطع برہان کے جواب میں محرق قاطع، قاطع قاطع، مؤید برہان، ساطع برہان وغیرہ چند رسالے لکھے گئے۔

مخالفت کی وجہ

مخالفت کی وجہ ظاہر ہے۔ تقلید نہ صرف امور مذہبی میں بلکہ ہر چیز، ہر کام، ہر علم، اور ہر فن میں ایسی ضروری شے ہو گئی ہے کہ تحقیق کا خیال نہ خود کسی کے دل میں خطور کرتا ہے؛ اور نہ کسی دوسرے کو اس قابل سمجھا جاتا ہے کہ سلف کے خلاف کوئی بات زبان پر لائے۔ جو کتاب سو دو سو برس پہلے لکھی جا چکی ہے وہ وحی منزل کی طرح واجب التسلیم سمجھی جاتی ہے۔ پس مرزا کے اعتراضات برہان قاطع پر کیسے ہی صحیح اور واجبی ہوتے؛ ممکن نہ تھا کہ ان کی سختی کے ساتھ مخالفت نہ کی جاتی۔

بعض لوگوں کو یہ خیال ہے کہ مرزا نے جو از راہ شوخی طبع کے صاحب برہان کا جابجا خاکہ اڑایا ہے اور کہیں کہیں الفاظ ناملائم بھی غیظ و غضب میں ان کے قلم سے ٹپک پڑے ہیں زیادہ تر اس وجہ سے مخالفت ہوئی؛ مگر یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ اگر مرزا صاحب برہان کی نسبت ایسے الفاظ نہ لکھتے تو بھی مخالفت ضرور ہوتی۔ کیونکہ ہندوستان کے پرانے تعلیم یافتہ، جو آج کل ایک نہایت کس مپرس حالت میں ہیں، ان کے لیے کنج خمول و گمنامی سے نکلنے کا کوئی موقع اس کے سوا باقی نہیں رہا کہ کسی سربرآوردہ اور ممتاز آدمی کی کتاب کا رد لکھیں اور لوگوں پر یہ ظاہر کریں کہ ہم بھی کوئی چیز ہیں۔

جو رسالے قاطع برہان کے جواب میں لکھے گئے ہیں جب ان کو سرسری نظر سے دیکھا جاتا ہے تو مرزا کے اعتراضوں کے اکثر جواب بہت صحیح معلوم ہوتے ہیں۔ ہر ایک مجیب برہان کی تائید اس طرح کرتا ہے کہ جس طرح صاحب برہان نے لغت کی تحقیق کی ہے؛ اسی طرح فرہنگ جہانگیری، یا فرہنگ رشیدی، یا سراج اللغات، یا مؤید الفضلا، یا ہفت قلزم، یا کسی اور فرہنگ میں لکھا ہے۔ اور اس سے بادی النظر میں صاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا کا اعتراض غلط ہے۔ مگر جب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ فارسی لغات کی اکثر فرہنگیں ہندوستان میں لکھی گئی ہیں، اور جو فرہنگ سب سے پہلے لکھی گئی تھی پچھلوں نے زیادہ تر اسی کا تتبع کیا ہے؛ تو کسی مجیب کے جواب کی کچھ وقعت باقی نہیں رہتی۔

قاطع برہان کی تائید

ایران کے ایک مشہور مصنف رضا قلی خاں ہدایت نے سنہ ۱۸۷۳ء میں، یعنی مرزا کی وفات سے چار برس بعد، فارسی لغت کی ایک مبسوط کتاب لکھی ہے، جو فرہنگ ناصری کے نام سے موسوم ہے، اور مرزا کی وفات سے دس بارہ برس بعد ہندوستان میں آئی ہے۔ ظاہر ہے کہ فارسی لغات کے متعلق جو کچھ اس نے لکھا ہے وہ بہرحال ان فرہنگ نگاروں کی تحقیقات سے، جنھوں نے ہندوستان میں بیٹھ کر فارسی لغت کی کتابیں لکھی ہیں، زیادہ معتبر اور زیادہ اطمینان کے لائق ہوگا۔ اس نے اپنی فرہنگ کے شروع میں ایک باب فرہنگ جہانگیری، فرہنگ رشیدی، اور برہان قاطع تینوں کی غلطیوں اور لغزشوں کے بیان میں منعقد کیا ہے اور اس کے بعد ایک باب میں صرف برہان قاطع کی غلطیاں ظاہر کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ اندلس ایک جزیرہ ہے ایک پہاڑ کے اوپر، یا غرناطہ ایک صوبہ ہے ہندوستان کا، یا چکاک کے تین معنی لکھے ہیں؛ پیشانی، قبالہ نویس، اور مہرکن (اور یہ تینوں معنی غلط لکھے ہیں)؛ یا کروخ جو ایک قریہ ہے مضافات ہرات میں اس کو برہان میں لکھا ہے "قریہ ایست از قرائے عالم۔" یہاں از راہ طنز صاحب فرہنگ ناصری لکھتا ہے "فی الحقیقت تحقیقے دقیق فرمودہ است۔" اسی طرح بہت سی غلطیاں صاحب برہان کی اس باب میں ظاہر کی ہیں۔ اور اس کے سوا اپنی تمام فرہنگ میں جابجا اس کا تخلیہ کیا ہے۔

جو اعتراض مرزا نے برہان پر وارد کیے ہیں؛ ان کی بھی جابجا فرہنگ ناصری سے تائید ہوتی ہے۔ ازاں جملہ لفظ آبجیں، استخر و اصطخر، جمدر، باختر، راوش و زاوش، کاربکیا، ویژہ و اویژہ، اور اسی طرح کے اور بہت سے الفاظ کی تحقیق فرہنگ ناصری میں مرزا کے بیان کے مطابق پائی جاتی ہے۔ اس کے سوا برہان کے بیان کو جہاں مرزا نے بے معنی اور مہمل بتایا ہے؛ رضا قلی خاں بھی اس کو مہمل بتاتا ہے۔ مثلاً لفظ انجگک کی تفسیر میں صاحب برہان لکھتا ہے "ہر چند فراش خیال جاروب سنبل بر جل خرسک ریش زند از پوست آں پاک نتواند۔" مرزا اس کی نسبت لکھتے ہیں "فقرۂ اخیر مگر کلام دیوست؛ ہرگاہ خوبی تحقیق چناں و حسن عبارت چنیں باشد مقصود اصلی کہ معلوم کردن مجہولاتست از برہان قاطع چگونہ حاصل تواں کرد۔" رضا قلی از راہ طنز اسی فقرے پر یہ لکھتا ہے "دریں مقام ایں انشائے بدیع و بیان بلیغ زادۂ طبع لطیف ایشاں بودہ، برہان ذوق سلیم و سلیقۂ مستقیم صاحب برہان خود ہمیں عبارات بس است۔ تا ازیں بیش از تو چہ آید۔" اسی طرح برہان کی اکثر مہمل عبارتیں نقل کر کے اس پر ہنستا ہے اور کہتا ہے کہ "در ولایت ہند کہ نہ ترکی دانند و نہ پارسی ضبط و تصحیح لغات فارسی کے توانند۔" ایک جگہ صاحب برہان جامع (جو کہ ایرانی ہے) کا قول برہان قاطع کے باب میں نقل کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ "برہان قاطع میں لغات بغیر سند اور شواہد کے ذکر کیے گئے ہیں؛ ان پر اعتبار نہ کرنا چاہیے۔ اس میں کنایات کو بھی علیحدہ لغت قرار دیتا ہے، اور سریانی و عبرانی و ترکی و ژند و پاژند کے غیر مستعمل لغات کے بیان میں، اور ایک ایک لغت کو بار بار مختلف صورتوں سے ذکر کرنے میں، تطویل لاطائل کرتا ہے۔" اس کے بعد رضا قلی، صاحب برہان جامع کی تصدیق، اور اس کے ساتھ اتفاق رائے، کرتا ہے۔ چونکہ مرزا کی لائف میں یہ بیان بے مزہ معلوم ہوگا اس لیے ہم اس سے قطع نظر کرتے ہیں؛ جس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھنا ہو وہ فرہنگ ناصری کو خود ملاحظہ کرے۔

اگرچہ مرزا نے قاطع برہان میں بعض اعتراض غلط کیے ہیں؛ خصوصاً لفظ افسوس کے متعلق ایک بڑی فاحش غلطی کی ہے، کہ اس کو لفظ عربی الاصل ماخوذ از اسف قرار دیا ہے؛ اور اس غلطی کا انھوں نے آخرکار خود بھی اعتراف کیا ہے؛ اور عربی الفاظ کی تحقیق سے اپنی لاعلمی ظاہر کی ہے؛ اور ممکن ہے کہ اس کے سوا اور بھی کہیں کہیں ان سے غلطی ہوئی ہو؛ لیکن اگر انصاف سے دیکھا جائے تو قاطع برہان کے دیکھنے سے مرزا کی سلامتی طبع اور ذوق صحیح کا کافی ثبوت ملتا ہے؛ اور، جیسا کہ وہ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ "فارسی زبان کے قواعد و ضوابط میرے ضمیر میں اس طرح جاگزیں ہیں جیسے فولاد میں جوہر،" فی الواقع فارسی زبان سے ان کو فطری مناسبت معلوم ہوتی ہے۔ جو رائے کہ انھوں نے محض اپنے وجدان سلیم کی ہدایت سے برہان کی نسبت قائم کی تھی وہی رائے ایران کے محققوں نے اس کی نسبت ظاہر کی ہے، اور جو غلطیاں اور بے ربطیاں مرزا نے برہان میں بتائی ہیں، وہ اور ان کے سوا اور بے شمار غلطیاں صاحب فرہنگ ناصری نے اس میں نشان دی ہیں۔ اس سے زیادہ ایک ہندوستانی محقق کی سلامتی طبع کا اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے؟

مرزا نے قاطع برہان کے اخیر میں چند فوائد لکھے ہیں؛ انھیں سے فائدۂ اول کا ماحصل یہ ہے کہ "ان فوائد کے پیش کرنے میں چونکہ خود نمائی کی بو آتی ہے اس لیے شاید لوگ یہ کہیں کہ خود ہندوستانی ہو کر اور ہندوستانیوں کو مسلم نہ جاننا اور خود زباندانی کا دعوے کرنا بے معنی ہے۔ سو میں اقرار کرتا ہوں کہ میرا دادا توران سے آیا تھا، اور میرا باپ دلی میں پیدا ہوا، اور میں آگرے میں۔ حاشا کہ میں اپنے تئیں اہل زبان سمجھتا ہوں؛ میں بلاشبہ زباندان ہوں؛ اور میری زباندانی اولاً خداداد سلامتی طبع کی بدولت ہے؛ جو غلطی کو قبول نہیں کرتی اور بغیر سچائی کے تسلی نہیں پاتی۔ دوسرے اس وجہ سے ہے کہ میری طبیعت فارسی زبان سے فطرۃً مناسب واقع ہوئی ہے۔ تیسرے مولانا عبد الصمد کے فیض صحبت سے، جو مجھ کو دو برس تک برابر حاصل رہا۔ چودہ برس کی عمر میں میں نے اس سے تربیت پائی؛ اور باون برس مشق سخن کی۔ اب، کہ مجھ کو چھیاسٹھواں سال ہے، میں خدا کا شکر کرتا ہوں، اور خدا کے سوا کوئی نہیں جان سکتا، کہ ان باون برسوں میں اس نے کس قدر معنی کے دروازے مجھ پر کھولے ہیں؛ اور میری فکر کو کس درجہ کی بلندی بخشی ہے۔ افسوس کہ لوگوں نے میرے کلام کی خوبی کو نہ سمجھا؛ اور زیادہ تر افسوس یہ کہ وہ شان ایزدی کی شناخت سے محروم رہے؛ اور میری نظم و نثر کے کرشموں کو آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا۔ گویا نظیری جنت آرامگاہ کا مقطع میرے حسب حال ہے:

تو نظیری ز فلک آمدہ بودی چو مسیحباز پس رفتی و کس قدر تو نشناخت دریغ"

جتنے آدمیوں نے قاطع برہان کے جواب لکھے ہیں ان میں سے بعض کے جواب مرزا نے بھی لکھے ہیں اور ان جوابوں میں زیادہ تر ظرافت اور شوخی طبع سے کام لیا ہے۔ کہیں ان کے طرز بیان کا خاکا اڑایا ہے، کہیں ان کی تحقیقات کا مضحکہ کیا ہے۔

لطیفہ

مولوی امین الدین کی کتاب "قاطع قاطع" کا جواب مرزا نے کچھ نہیں دیا؛ کیونکہ اس میں فحش اور ناشائستہ الفاظ کثرت سے تھے۔ کسی نے کہا حضرت! آپ نے اس کا کچھ جواب نہیں لکھا۔ مرزا نے کہا "اگر کوئی گدھا تمھارے لات مارے تو کیا تم بھی اس کے لات مارو گے؟"

ایک شخص مرزا احمد علی بیگ، متوطن کلکتہ ہیں، جنھوں نے مرزا کے خلاف ایک مبسوط کتاب مؤید البرہان لکھی ہے؛ جس کے لکھتے وقت تمام ایشیاٹک سوسائٹی کا کتب خانہ قاطع برہان کے چند اوراق کی تردید کے لیے چھان مارا ہے، اور مثل اور مجیبوں کے مرزا کے کسی اعتراض کو تسلیم نہیں کیا۔ اور جو سبک الفاظ مرزا نے صاحب برہان کی نسبت استعمال کیے تھے ویسے ہی الفاظ مرزا کی نسبت استعمال کیے ہیں۔ اپنے تئیں اصفہانی الاصل قرار دیا ہے اور ٹیک چند بہار اور قتیل کی بہت تعریف کی ہے اور اپنی کتاب کی تعریف میں تقریظیں اور تاریخیں لکھوا کر کتاب کے آخر میں چھپوائی ہیں۔ اس کے جواب میں مرزا نے ایک رسالہ موسوم بہ تیغ تیز لکھا ہے؛ اور ایک فارسی قطعہ بھی ان کو لکھ کر بھیجا ہے، جس کے چند اشعار یہاں نقل کیے جاتے ہیں، جو لطف سے خالی نہیں:

خواجہ را از اصفہانی بودن آبا چہ سودخالقش در کشور بنگالہ پیدا کردہ است

با قتیل و جامع برہان و لالہ ٹیک چندلابہ[1] و شوگیری و لطف و مدارا کردہ است

داوری گاہے[2] بنا فرمود و در وے ہر سہ رامنصف و صدر امین و صدر اعلیٰ کردہ است

گر چنیں با ہندیاں دارد تولا در سخنمن ہم از ہندم چرا از من تبرا کردہ است

مطلب از بد گفتن من چیست؟ گویا نیک مردمزد ایں کار از حق آمرزش تمنا کردہ است

صاحب علم و ادب! وانگہ ز افراط غضبچوں سفیہاں دفتر نفرین و ذم وا کردہ است

در جدل دشنام کار سوقیاں باشد، بلے!ننگ دارد علم از کارے کہ آغا کردہ است

انتقام جامع برہان قاطع می کشدآں چہ ما کردیم با وے خواجہ با ما کردہ است

من سپاہی زادہ ام گفتار من باید درشتوائے بر وے گر بتقلید من اینہا کردہ است

زشت گفتم، لیک داد بذلہ سنجی دادہ امشوخی طبعے کہ دارم ایں تقاضا کردہ است

می کند تائید برہاں لیک برہاں ناپدیدنیست جز تسلیم قولش ہر چہ انشا کردہ است

سستی طرز خرام خامۂ برہاں نگاریا ندانستست یا دانستہ اخفا کردہ است

بہر من توہین و بہر خویشتن تحسیں جابجاہم مرا، ہم خویش را، در دہر رسوا کردہ است

یافتم از دیدن تاریخہائے آں کتابخود بدم گفت و باحباب خود ایما کردہ است

غازیاں ہمراہ خویش آورد از بہر جہادتا نہ پنداری کہ ایں پیکار تنہا کردہ است

قاطع برہان اور اس کے متعلق مرزا کی جس قدر تحریریں ہیں ان میں اعتراضوں اور جوابوں کے علاوہ بہت سے بیش بہا فائدے اور لطیف و دلچسپ حکایتیں اور لطائف و ظرافت بھی درج ہیں۔

لطیفہ

لفظ فراز کو صاحب برہان اضداد میں سے گنتا ہے اور فراز کردن کے معنی بند کرنا اور کھولنا دو نو بتاتا ہے۔ مگر مرزا اس کو اضداد میں نہیں گنتے؛ بلکہ اس کے معنی صرف بند کرنے کے بتاتے ہیں؛ اور جو اشعار مخالفوں نے سند میں پیش کیے ہیں مرزا نے انھیں اشعار سے اپنے دعوے کی تائید کی ہے۔ مگر چونکہ ہندوستان کے تمام فرہنگ نگاروں نے فراز کو اضداد میں شمار کیا ہے۔ اس کی بابت مرزا لکھتے ہیں کہ "اس کو اضداد میں قرار دینا ویسا ہی اجماع ہے جیسا کہ اہل شام نے خلافت یزید پر اجماع کیا تھا۔"

لطیفہ

صاحب برہان کی چند عامیانہ غلطیاں اور اس کے بیان کی بے ربطیاں ظاہر کرنے کے بعد ایک جگہ لکھتے ہیں "خدا پرستاں! از بہر خدا ایں عربی نفہم فارسی نداں (یعنی جامع برہان) نمی پرسم کہ کیست؛ می پرسم کہ چیست؟" ایک اور جگہ نہایت طیش میں آ کر لکھتے ہیں "چوں شناسائی حقیقت جوہر لفظ ندارد فرہنگ چرا می نگارد؟ بوریا می بافت، رسن می تافت، ہیزم می فروخت، گلخن می افروخت۔"

مرزا نے ایک فارسی رسالے کے مؤلف پر، جو قاطع برہان کے جواب میں لکھا گیا تھا، اور جو فحش و دشنام سے بھرا ہوا تھا، ازالۂ حیثیت عرفی کی نالش بھی کی تھی؛ مگر جب کامیابی کی امید نہ رہی تو آخرکار انھوں نے راضی نامہ داخل کر دیا۔ اثنائے تحقیقات میں دلی کے بعض اہل علم عدالت میں اس بات کے استفسار کے لیے بلائے گئے تھے کہ جو فقرے مدعی نے اپنے دعوے کے ثبوت میں پیش کیے ہیں آیا فی الواقع ان سے فحش و دشنام مفہوم ہوتا ہے یا نہیں؟ انھوں نے غریب ملزم کو سزا سے بچانے کے لیے ان فقروں کے ایسے معنی بیان کیے جن سے ملزم پر کوئی الزام عائد نہ ہو۔

لطیفہ

ان مولویوں کا مرزا سے ملنا جلنا تھا۔ کسی نے پوچھا حضرت! انھوں نے آپ کے برخلاف شہادت کیوں دی؟ مرزا نے اپنا فارسی کا یہ شعر پڑھا:

بہر چہ درنگری جز بجنس مائل نیستعیار بیکسی من شرافت نسبی ست[3]

حواشی

[1] لابہ: خوشامد۔ شوگیری: طرف داری۔

[2] داوری گاہ: محکمہ۔

[3] یعنی میری بیکسی کی وجہ شرافت نسبی ہے؛ کیونکہ ہر شخص اپنی جنس کی طرف مائل ہوتا ہے؛ چونکہ شرافت نسبی میں کوئی میرا ہم جنس نہیں ہے اس لیے کوئی میرا ساتھ نہیں دیتا۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.