Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 7 de 18

The Revolt of 1857 and the Rampur Pension

حالات غدر و کتاب دستنبو اور وظیفۂ رامپور

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

حالات غدر و کتاب دستنبو

غدر کے زمانے میں مرزا دلی سے بلکہ گھر سے بھی باہر نہیں نکلے۔ جوہیں بغاوت کا فتنہ اٹھا انھوں نے گھر کا دروازہ بند کر لیا، اور گوشۂ تنہائی میں غدر کے حالات لکھنے شروع کیے۔

اگرچہ فتح دہلی کے بعد مہاراج پٹیالہ کی طرف سے حکیم محمود خاں مرحوم اور ان کے ہمسایوں کے مکان پر، جن میں ایک مرزا بھی تھے، حفاظت کے لیے پہرہ بیٹھ گیا تھا؛ اس لیے وہ فتحمند سپاہیوں کی لوٹ کھسوٹ سے محفوظ رہے؛ مگر پھر بھی ان کو طرح طرح کی کلفتیں اٹھانی پڑیں۔ مرزا کے چھوٹے بھائی، جو تیس برس کی عمر میں دیوانے ہو گئے تھے، اور اخیر دم تک اسی حالت میں رہے؛ جب مرزا نے دلی میں سکونت اختیار کی تو ان کو بھی اپنے ساتھ یہیں لے آئے تھے۔ مرزا کے مکان سے ان کا مکان تقریباً دو ہزار قدم کے فاصلے پر تھا۔ ایک دربان اور ایک کنیز، کہ دو نو عمر رسیدہ تھے، ان کے پاس رہتے تھے۔ جب دلی فتح ہو گئی، اور شہر اہل دہلی سے خالی ہو گیا، اور رستے بند ہو گئے؛ اس وقت مرزا بھائی کی طرف سے سخت پریشان رہنے لگے۔ بھائی کے کھانے پینے سونے مرنے اور جینے کی مطلق خبر نہ تھی۔ ایک روز یہ خبر آئی کہ مرزا یوسف کے مکان میں بھی کچھ سپاہی گھس آئے تھے، اور جو کچھ اسباب ملا، لے گئے۔ پھر ایک دن وہی بڈھا دربان، جو مرزا یوسف کی ڈیوڑھی پر رہتا تھا، یہ خبر لایا کہ پانچ روز سخت تپ میں مبتلا رہ کر آج آدھی رات گذرے مرزا یوسف کا انتقال ہو گیا۔ اس وقت نہ کفن کے لیے کپڑا بازار میں مل سکتا تھا؛ نہ غسال اور گورکن کا کہیں پتا تھا؛ نہ شہر سے قبرستان تک جانا ممکن تھا؛ مگر مرزا کے ہمسایوں نے ان کی بڑی مدد کی۔ پٹیالہ کی فوج کے ایک سپاہی کو، جو حفاظت کے لیے تعینات تھا، اور مرزا کے دو آدمیوں کو ساتھ لیا؛ اور مرزا صاحب کے ہاں سے دو سفید چادریں لے کر مرزا یوسف کے مکان پر پہنچے۔ اور بعد غسل اور تجہیز و تکفین کے، مسجد کے صحن میں، جو مکان کے قریب تھی، دفن کر دیا۔ مرزا نے دستنبو میں اس مقام پر یہ اشعار لکھے ہیں:

دریغ آں کہ اندر درنگ ثہ بیست[1]سہ دہ شاد و سی سال ناشاد زیست

بہ خاک، بالیں ز خشتش نبودبجز خاک در سرنوشتش نبود

خدایا بریں مردہ بخشائشےکہ نادیدہ در زیست آسائشے

سروشے بہ دلجوئے او فرستروانش بجاوید مینو فرست

اور بھائی کے مرنے کی تاریخ اس طرح لکھی ہے:

ز سال مرگ ستمدیدہ میرزا یوسفکہ زیستے بجہاں در ز خویش بیگانہ

یکے در انجمن از من ہمے پژوہش کردکشیدم آہے و گفتم: دریغ دیوانہ

اس میں لفظ آہے کا تخرجہ دریغ دیوانہ میں سے کیا ہے۔

ایک روز کچھ گورے مرزا کے مکان میں بھی گھس آئے تھے۔ راجہ کے سپاہیوں نے ہر چند روکا، مگر انھوں نے کچھ التفات نہیں کیا۔ مرزا دستنبو میں لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنی نیک خوئی سے گھر کے اسباب کو بالکل نہیں چھیڑا؛ مگر مجھے، اور دو نو بچوں کو، اور دو تین نوکروں کو، مع چند ہمسایوں کے، کرنل براؤن کے روبرو، جو میرے مکان کے قریب حاجی قطب الدین سوداگر کے گھر میں مقیم تھے، لے گئے۔ کرنل براؤن نے بہت نرمی اور انسانیت سے ہمارا حال پوچھا اور ہنس کر رخصت کر دیا۔

لطیفہ

سنا ہے کہ مرزا جب کرنل براؤن کے روبرو گئے تو اس وقت کلاہ پاپاخ ان کے سر پر تھی۔ انھوں نے مرزا کی نئی وضع دیکھ کر پوچھا کہ "ول، تم مسلمان؟" مرزا نے کہا "آدھا۔" کرنل نے کہا اس کا کیا مطلب؟ مرزا نے کہا "شراب پیتا ہوں؛ سور نہیں کھاتا۔" کرنل یہ سن کر ہنسنے لگا۔ پھر مرزا نے وزیر ہند کی چٹھی، جو ملکۂ معظمہ کے مدحیہ قصیدے کی رسید اور جواب میں آئی تھی، دکھائی۔ کرنل نے کہا تم سرکار کی فتح کے بعد پہاڑی پر کیوں نہ حاضر ہوئے؟ مرزا نے کہا "میں چار کہاروں کا افسر تھا؛ وہ چاروں مجھے چھوڑ کر بھاگ گئے؛ میں کیونکر حاضر ہوتا؟" کرنل نے نہایت مہربانی سے مرزا اور ان کے تمام ساتھیوں کو رخصت کر دیا۔

اس مقام پر مرزا اپنی کتاب دستنبو میں لکھتے ہیں کہ "سچ بات کا چھپانا آزادوں کا کام نہیں ہے۔ میں آدھا مسلمان، کہ جس طرح قید کیش و ملت سے آزاد ہوں اسی طرح بدنامی اور رسوائی کے خوف سے وارستہ ہوں۔ میری مدت سے یہ عادت تھی کہ رات کو فرنچ[2] کے سوا کچھ کھاتا پیتا نہ تھا؛ اور اگر وہ نہ ملتی تھی تو مجھ کو نیند نہ آتی تھی۔ اگر جوانمرد، خدا دوست، خدا شناس، دریا دل مہیش داس ہندوستانی شراب، جو رنگ میں فرنچ سے مشابہ، اور بو میں اس سے بہتر تھی، مجھے نہ بھیجتا تو میں ہرگز جاں بر نہ ہوتا۔" اس کے بعد یہ رباعی لکھی ہے:

رباعی

از دیر دلم وایہ[3] ز ہر در می جستاز بادۂ ناب یک دو ساغر می جست

فرزانہ مہیش داس بخشید بمنآبے[4] کہ برائے خود سکندر می جست

چونکہ اس وقت مسلمانوں سے شہر خالی ہو گیا تھا، مرزا کے ہندو دوستوں کے سوا، جو ان کے پاس برابر آتے رہتے تھے، اور ہر طرح سے ان کی غمخواری کرتے تھے، کوئی ان کا غمخوار نہیں رہا تھا۔ مرزا کی معاش کے صرف دو ذریعے تھے؛ سرکاری پنشن، اور قلعے کی تنخواہ؛ سو یہ دو نو ذریعے مسدود ہو گئے تھے۔ شہر کے تمام مسلمان عمائد، جو مرزا کے دوست اور عزیز تھے، اپنی اپنی حالت میں گرفتار تھے۔ اس کے سوا گھر میں جس قدر بی بی کے پاس زیور یا کوئی اور قیمتی چیز تھی، جب شہر لٹنے لگا، تو وہ دوسری جگہ گاڑنے دابنے کے لیے بھیج دیا؛ جہاں سے فتحمند سپاہ نے کھود کر سب نکال لیا۔ مگر مرزا نے اس تنگی و عسرت کی حالت میں بھی اپنے متعدد نوکروں میں سے کسی کو جواب نہیں دیا، اور جو حالت اپنے اور ان کے متعلقین پر خوش و ناخوش گذری اس میں نوکر بھی برابر شریک رہے۔ نوکروں کے علاوہ جن لوگوں کے ساتھ مرزا امن کے زمانے میں ہمیشہ سلوک کرتے تھے وہ اس حالت میں بھی مرزا کو ستاتے تھے، اور چار و ناچار ان کی بھی مرزا کو خبر لینی پڑتی تھی۔ مرزا لکھتے ہیں کہ "اس ناداری کے زمانے میں جس قدر کپڑا، اوڑھنا، اور بچھونا گھر میں تھا سب بیچ بیچ کر کھا گیا؛ گویا اور لوگ روٹی کھاتے تھے اور میں کپڑا کھاتا تھا۔" اس کے بعد کتاب کو اس طرح ختم کرتے ہیں کہ "اس بازیچۂ اطفال، یعنی کتاب دستنبو، کے لکھنے میں کب تک خامہ فرسائی کی جائے؟ جو حالت کہ اس وقت درپیش ہے ظاہر ہے؛ کہ اس کا انجام یا موت ہے، یا بھیک مانگنا۔ پہلی صورت میں یقیناً یہ داستان ناتمام رہنے والی ہے، اور دوسری صورت میں نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؛ کہ کسی دکان سے دھتکارے گئے، اور کسی دروازے سے کوڑی پیسا کچھ مل گیا۔ پس اپنی ذلت و رسوائی کے سوا اب اس میں لکھنے کو کچھ باقی نہیں رہا۔ قدیم پنشن اگر مل بھی گئی تو بھی کام چلتا نظر نہیں آتا؛ اور نہ ملی تو تو کام ہی تمام ہے۔ مشکل یہ ہے کہ دو نو صورتوں میں، چونکہ اس شہر کی آب و ہوا اب خستہ دلوں کو راس آتی معلوم نہیں ہوتی، ضرور شہر چھوڑنا اور کسی اور بستی میں جا کر بسرام کرنا پڑے گا۔"

وظیفۂ رامپور

غدر کے بعد دو برس تک مرزا کا یہی حال رہا۔ مگر دو برس بعد نواب یوسف علی خاں مرحوم، رئیس رامپور، نے سو روپیہ ماہوار ہمیشہ کے لیے مرزا کے واسطے مقرر کر دیا، جو نواب کلب علی خاں مرحوم نے بھی بدستور مرزا کے اخیر دم تک جاری رکھا۔ اور غدر سے تین برس بعد جب مرزا ہر ایک الزام سے بری ثابت ہوئے سرکاری پنشن بھی جاری ہو گئی۔

لطیفہ

جب نواب یوسف علی خاں کا انتقال ہو گیا اور مرزا تعزیت کے لیے رامپور گئے، چند روز بعد نواب کلب علی خاں مرحوم کا نواب لفٹنٹ گورنر سے ملنے کو بریلی جانا ہوا۔ ان کی روانگی کے وقت مرزا بھی موجود تھے۔ چلتے وقت نواب صاحب نے معمولی طور پر مرزا صاحب سے کہا "خدا کے سپرد۔" مرزا نے کہا "حضرت! خدا نے تو مجھے آپ کے سپرد کیا ہے، آپ پھر الٹا مجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں۔"

حواشی

[1] ثہ بیست یعنی ساٹھ۔ دوسرے مصرع میں سہ دہ سے مراد تیس ہے۔

[2] فرنچ وہ چیز جو فرانس سے منسوب ہو، اور یہاں اس سے فرانس کی شراب مراد ہے۔

[3] بھیک

[4] یعنی آب حیواں

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.