
Capítulo 6 de 18
The Mughal Court, Children and 'Arif
خطاب و منصب، اولاد اور عارف
خطاب و منصب
۱۲۶۶ھ میں مرحوم ابو ظفر سراج الدین بہادر شاہ نے مرزا کو خطاب نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ اور چھ پارچے کا خلعت مع تین رقوم جواہر، یعنی جیغہ و سرپیچ و حمائل مروارید کے، دربار عام میں مرحمت فرمایا، اور خاندان تیموری کی تاریخ نویسی کی خدمت پر بمشاہرۂ پچاس روپیہ ماہوار کے مامور کیا۔ اور یہ قرار پایا کہ احترام الدولہ حکیم احسن اللہ خاں مرحوم مختلف تاریخوں سے مضامین التقاط کر کے مرزا کے حوالے کیا کریں، اور مرزا ان تمام مطالب کو اپنی طرز خاص کی فارسی نثر میں بیان کریں۔ اور کتاب دو حصوں پر تقسیم کی جائے۔ پہلے حصے میں کچھ مختصر حال ابتدائے آفرینش سے صاحبقران تیمور گورکاں تک، اور کسی قدر مفصل حالات تیمور سے نصیر الدین ہمایوں کے اخیر زمانے تک بیان کیے جائیں۔ اور دوسرے حصے میں جلال الدین اکبر بادشاہ سے لے کر سراج الدین بہادر شاہ کے زمانے تک تمام واقعات شرح و بسط کے ساتھ درج کیے جائیں۔ مرزا نے تمام کتاب کا نام "پرتوستان" اور اس کے پہلے حصے کا نام "مہر نیمروز" اور دوسرے حصے کا نام "ماہ نیم ماہ" تجویز کیا تھا۔ ان کو اپنی دو ترکیبوں پر ناز تھا: ایک "ماہ نیم ماہ" اور دوسرے "رستخیز بیجا"[1]۔ مرزا کہتے تھے کہ چودھویں رات کے چاند کو ماہ چاردہ اور ماہ دو ہفتہ تو پہلے لوگوں نے اکثر باندھا ہے؛ مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے ماہ نیم ماہ کسی نے نہیں باندھا۔ یہ ترکیب خاص میری تراشی ہوئی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ دوسرا حصہ یعنی ماہ نیم ماہ بالکل نہیں لکھا گیا۔ مہر نیمروز ختم ہونے کے بعد مرزا نے ذرا آرام لینے کے لیے چند روز توقف کیا تھا اور ارادہ تھا کہ جلد دوسرا حصہ شروع کریں، کہ اتنے میں غدر ہو گیا اور اس حصے کا صرف نام ہی نام رہ گیا۔
حیدرآباد سے ایک صاحب نے مرزا سے ماہ نیم ماہ کو طلب کیا تھا؛ اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "ماہ نیم ماہ اسمیست کہ مسمیٰ ندارد۔ چوں از سرنوشت گردن نتواں پیچید، سرگذشت باز گویم: ہرگاہ یک نیمہ از پرتوستان انجام یافت، و مہر نیمروز نام یافت، لختے درنگ ورزیدہ شد، تا نفس راست کردہ آید۔ ناگاہ کار فرمارا روز فرو رفت، و روزگار سر آمد؛ و دولت دیرینۂ ترکمانان قراچاریہ سپری گشت۔ ماہ نیم ماہ ہمچوں ماہ بست و ہشت شبہ ناپدیدار، و نامش بعنوان بے نشانی در مہر نیمروز آشکار ماند۔"
خدمت اصلاح اشعار بادشاہ
سنہ ۱۲۷۱ ہجری میں، جبکہ شیخ ابراہیم ذوق کا انتقال ہو گیا، بادشاہ کے اشعار کی اصلاح بھی مرزا سے متعلق ہو گئی تھی۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ مرزا اس کام کو با دل ناخواستہ سرانجام کرتے تھے۔ ناظر حسین مرزا مرحوم کہتے تھے کہ ایک روز میں اور مرزا صاحب دیوان عام میں بیٹھے تھے کہ چوبدار آیا اور کہا کہ حضور نے غزلیں مانگی ہیں۔ مرزا نے کہا ذرا ٹھیر جاؤ؛ اور اپنے آدمی سے کہا کہ پالکی میں کچھ کاغذ رومال میں بندھے ہوئے رکھے ہیں وہ لے آؤ۔ وہ فوراً لے آیا۔ مرزا نے جو اس کو کھولا تو اس میں سے آٹھ نو پرچے، جن پر ایک ایک دو دو مصرع لکھا ہوا تھا، نکالے۔ اور اسی وقت دوات قلم منگوا کر ان مصرعوں پر غزلیں لکھنی شروع کیں؛ اور وہیں بیٹھے بیٹھے آٹھ یا نو غزلیں تمام و کمال لکھ کر چوبدار کے حوالے کیں۔ ناظر مرحوم کہتے تھے کہ ان تمام غزلوں کے لکھنے میں ان کو اس سے زیادہ دیر نہیں لگی کہ ایک مشاق استاد چند غزلیں صرف کہیں کہیں اصلاح دے کر درست کر دے۔ جب چوبدار غزلیں لے کر چلا گیا تو مجھ سے کہا کہ حضور کی کبھی کبھی کی فرمائشوں سے آج مدت کے بعد سبکدوشی ہوئی ہے۔ اگرچہ مرزا صاحب جو کچھ اپنی طرز خاص میں لکھتے تھے، نظم ہو یا نثر، اس کو بڑی کاوش اور جانکاہی سے سرانجام کرتے تھے؛ چنانچہ خود انھوں نے جابجا اس کی تصریح کی ہے؛ مگر جب کبھی اپنی خاص روش پر چلنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی اس وقت ان کو فکر پر زیادہ زور ڈالنا نہیں پڑتا تھا۔
بدیہہ گوئی
سنہ ۱۸۶۱ء میں، جبکہ نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم کلکتے گئے ہوئے ہیں، مولوی محمد عالم مرحوم نے، جو کلکتے کے ایک دیرینہ سال فاضل تھے، نواب صاحب سے بیان کیا کہ جس زمانے میں مرزا صاحب یہاں آئے ہوئے تھے، ایک مجلس میں، جہاں مرزا بھی موجود تھے، اور میں بھی حاضر تھا، شعرا کا ذکر ہو رہا تھا۔ اثنائے گفتگو میں ایک صاحب نے فیضی کی بہت تعریف کی۔ مرزا نے کہا "فیضی کو جیسا لوگ سمجھتے ہیں ویسا نہیں ہے۔" اس پر بات بڑھی۔ اس شخص نے کہا فیضی جب پہلی ہی بار اکبر کے روبرو گیا تھا، اس نے ڈھائی سو شعر کا قصیدہ اسی وقت ارتجالاً کہہ کر پڑھا تھا۔ مرزا بولے "اب بھی اللہ کے بندے ایسے موجود ہیں کہ دو چار سو نہیں تو دو چار شعر ہر موقع پر بداہۃً کہہ سکتے ہیں۔" مخاطب نے جیب میں سے ایک چکنی ڈلی نکال کر ہتھیلی پر رکھی اور مرزا سے درخواست کی کہ اس ڈلی پر کچھ ارشاد ہو۔ مرزا نے گیارہ شعر کا قطعہ اسی وقت موزوں کر کے پڑھ دیا، جو کہ ان کے دیوان ریختہ میں موجود ہے، اور جس کا پہلا شعر یہ ہے:
ہے جو صاحب کے کف دست پہ یہ چکنی ڈلیزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے
اولاد
مرزا صاحب کے اولاد کچھ نہ تھی۔ ابتدا میں سات بچے پے درپے ہوئے؛ مگر کوئی زندہ نہیں رہا۔ اس لیے ایک مدت سے وہ اور ان کی بی بی تنہا زندگی بسر کرتے تھے۔ مگر غدر سے چند سال پہلے، جبکہ ان کی بی بی کے بھانجے زین العابدین خاں عارف کا انتقال ہو گیا، اور ان کے دو نو بچے، ایک باقر علی خاں اور دوسرے حسین علی خاں، صغیر سن رہ گئے، تو مرزا اور ان کی بی بی نے چھوٹے لڑکے حسین علی خاں کو، جو اس وقت بہت کم عمر تھا، اپنے سایۂ عاطفت میں لے لیا۔ مرزا حسین علی خاں کو حقیقی اولاد سے بھی کچھ بڑھ کر عزیز رکھتے تھے، اور کبھی آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے، اور حد سے زیادہ ناز برداری کرتے تھے۔
جب زین العابدین خاں کی والدہ کا انتقال ہو گیا تو حسین علی خاں کے بڑے بھائی باقر علی خاں کو بھی مرزا نے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ یہ دو نو خوش فکر اور راہل اور نیک خو اور نہایت شریف مزاج تھے۔
افسوس ہے کہ مرزا کی وفات کے بعد دو نو تھوڑے تھوڑے فاصلے سے جوان عمر میں فوت ہو گئے۔
عارف
زین العابدین خاں عارف سے مرزا صاحب کو غایت درجے کا تعلق تھا؛ کچھ تو قرابت کے سبب، اور زیادہ تر اس وجہ سے کہ وہ نہایت خوش فکر اور معنی یاب طبیعت رکھتے تھے، اور باوجود پرگوئی کے نہایت خوش گو تھے؛ ان کو حد سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔ اسی لیے جب وہ جوان عمر میں فوت ہو گئے تو مرزا اور ان کی بی بی پر سخت حادثہ گذرا۔ مرزا نے ان کے مرنے پر ایک غزل بطور نوحے کے لکھی ہے جو نہایت بلیغ اور دردناک ہے؛ چنانچہ اس کے چند شعر ہم اس مقام پر نقل کرتے ہیں:
لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اورتنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جاؤںمانا کہ نہیں آج سے اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گےکیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلک پیر! جواں تھا ابھی عارفکیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہ شب چار دہم تھے مرے گھر کےپھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم ایسے کہاں کے تھے کھرے داد و ستد کےکرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمھیں نفرت سہی، نیر سے لڑائیبچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
گذری نہ بہر حال یہ مدت خوش و ناخوشکرنا تھا جواں مرگ! گذارا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہو غالبقسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
حواشی
[1] "رستخیز بیجا" غدر کی تاریخ کا مادہ ہے۔ اس میں رستخیز کے اعداد یعنی ۱۲۷۷ میں سے "جا" کے عدد یعنی (۴) کا تخرجہ کیا ہے۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.