
الفصل 16 من 18
Home Life, Last Years and Death
خانگی تعلقات، اخیر عمر اور وفات
خانگی تعلقات
مرزا کی بی بی، جو الٰہی بخش خاں معروف کی بیٹی تھیں، وہ نہایت متقی، پرہیزگار اور نماز روزہ کی سخت پابند تھیں۔ جس قدر مرزا مذہبی معاملات میں بے مبالات تھے اسی قدر ان کی بی بی احکام مذہبی کی پابند تھیں؛ یہاں تک کہ بی بی کے کھانے پینے کے باسن الگ اور شوہر کے الگ رہتے تھے۔ باایں ہمہ بی بی شوہر کی خدمتگذاری اور خبرگیری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرتی تھیں۔ مرزا صاحب ہمیشہ مردانے مکان میں رہتے تھے مگر ان کے کھانے اور دوا ٹھنڈائی اور جڑاول وغیرہ کا انتظام سب گھر میں سے ہوتا تھا۔ مرزا میں جب تک چلنے پھرنے کی طاقت رہی ہمیشہ وقت معین پر ایک بار وہ گھر میں ضرور جاتے تھے۔ اور بی بی اور ان کے تمام رشتہ داروں کے ساتھ نہایت عمدہ برتاؤ رکھتے تھے، اور اپنی جان سے بڑھ کر ان کی ضروریات اور اخراجات کا خیال رہتا تھا۔ مگر چونکہ شوخی اور ظرافت ان کی گھٹی میں پڑی تھی ان کی زبان و قلم سے بی بی کی نسبت اکثر ایسی باتیں نکل جاتی تھیں جن کو ناواقف آدمی نفرت یا بے تعلقی پر محمول کر سکتا ہے۔
لطیفہ
کسی نے امراؤ سنگھ نام ایک شاگرد کی دوسری بی بی کے مرنے کا حال مرزا کو لکھا، اور اس میں یہ بھی لکھا کہ اس کے ننھے ننھے بچے ہیں؛ اب اگر تیسری شادی نہ کرے تو کیا کرے؟ اور بچوں کی کس طرح پرورش ہو؟ مرزا اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "امراؤ سنگھ کے حال پر اس کے واسطے رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے۔ اللہ اللہ!!! ایک وہ ہیں کہ دو دو بار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں، اور ایک ہم ہیں کہ ایک اوپر پچاس برس سے جو پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے تو نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے، نہ دم ہی نکلتا ہے۔ اس کو سمجھاؤ کہ بھائی تیرے بچوں کو میں پال لوں گا؛ تو کیوں بلا میں پھنستا ہے۔" وہ ہمیشہ تعلقات خانگی کو جداً یا ہزلاً ایک سخت مصیبت بتایا کرتے تھے۔
لطیفہ
جاڑے کے موسم میں ایک دن طوطے کا پنجرا سامنے رکھا تھا۔ طوطا سردی کے سبب پروں میں منہ چھپائے بیٹھا تھا۔ مرزا نے دیکھ کر کہا "میاں مٹھو! نہ تمھارے جورو نہ بچے، تم کس فکر میں یوں سر جھکائے بیٹھے ہو؟"
لطیفہ
ایک دفعہ مرزا مکان بدلنا چاہتے تھے۔ ایک مکان آپ خود دیکھ آئے؛ اس کا دیوانخانہ تو پسند آ گیا، مگر محلسرا خود نہ دیکھ سکے۔ گھر پر آ کر اس کے دیکھنے کے لیے بی بی کو بھیجا۔ وہ دیکھ کر آئیں تو ان سے پسند ناپسند کا حال پوچھا۔ انھوں نے کہا اس میں تو لوگ بلا بتاتے ہیں۔ مرزا نے کہا کیا دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی بلا ہے؟
یہاں مرزا کا ایک قطعہ اور ایک رباعی مقتضائے مقام کے موافق لکھی جاتی ہے:
قطعہ
گیر کہ در روز حشر چوں تو بگفتیبر سر دوزخ نہند تیرہ تن من
لیک نباشد دراں مضیق مصیبتدر طلب نان و جامہ کشمکش از زن
لیک نباشد دراں مقام صعوبتشور تقاضاے نارواے مہاجن
رباعی
اے آں کہ براہ کعبہ روئے داریدانم کہ گزیدہ آرزوئے داری
زیں گونہ کہ تند می خرامی دانمدر خانہ زنے ستیزہ خوئے داری
لطیفہ
مرزا اپنی شوخی طبع کے ہاتھ سے مجبور تھے، اور کسی موقع پر خوش طبعی کرنے سے نہ چوکتے تھے۔
مرزا الٰہی بخش خاں معروف، جن کے تقدس اور بزرگی کے سبب ان کے بڑے بھائی زانوے ادب تہ کر کے ان کے سامنے بیٹھتے تھے، اور جو مرزا کے خسر ہونے کے سبب ان کے قبلہ و کعبہ تھے، ان کے آگے بھی مرزا اپنی شوخی سے باز نہ آتے تھے۔ وہ لوگوں کو مرید بھی کیا کرتے تھے، اور جب بہت سے مرید ہو جاتے تھے تو ان کو اپنے سلسلے کے تمام مشائخ کا شجرہ لکھوا کر ایک ایک کاپی سب کو تقسیم کیا کرتے تھے۔ انھوں نے مرزا کو شجرہ دیا کہ اس کی نقل کر دو۔ آپ نے شجرہ کی نقل اس طرح کی کہ ایک نام لکھ دیا، دوسرا حذف کر دیا، تیسرا پھر لکھ دیا، چوتھا پھر ساقط۔ غرضکہ اسی طرح بہت سے حذف و اسقاط کر کے نقل اور اصل جا کر ان کے حوالے کی۔ وہ دیکھ کر بہت خفا ہوئے کہ یہ کیا غضب کیا؟ مرزا نے کہا حضرت! آپ اس کا کچھ خیال نہ فرمائیے؛ شجرہ در اصل خدا تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے؛ سو زینے کی ایک ایک سیڑھی اگر بیچ میں سے نکال دی جائے تو چنداں حرج واقع نہیں ہوتا؛ آدمی ذرا اچک اچک کر اوپر چڑھ سکتا ہے۔ وہ یہ سن کر بہت جز بز ہوئے؛ اور وہ نقل پھاڑ ڈالی اور کسی اور شخص سے اس کی نقل کرائی؛ اور مرزا ہمیشہ کے لیے اس تکلیف سے چھوٹ گئے۔
موت کی آرزو
مرزا یا تو اس وجہ سے کہ ان کی زندگی فی الواقع مصائب اور سختیوں میں گذری تھی، اور یا اس لیے کہ ان پر ناملائم حالتوں کا بہت زیادہ اثر ہوتا تھا؛ آخر عمر میں موت کی بہت آرزو کیا کرتے تھے۔ ہر سال اپنی وفات کی تاریخ نکالتے اور یہ خیال کرتے کہ اس سال ضرور مر جاؤں گا۔
لطیفہ
۱۲۷۷ ہجری میں انھوں نے اپنے مرنے کی تاریخ یہ کہی کہ "غالب مرد۔" اس سے پہلے کئی مادے غلط ہو چکے تھے۔ منشی جواہر سنگھ جوہر تخلص، جو مرزا صاحب کے مخصوصین میں سے تھے، ان سے مرزا صاحب نے اس مادے کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا حضرت! انشاء اللہ یہ مادہ بھی غلط ثابت ہوگا۔ مرزا نے کہا "دیکھو صاحب تم ایسی فال منہ سے نہ نکالو؛ اگر یہ مادہ مطابق نہ نکلا تو میں سر پھوڑ کر مر جاؤں گا۔"
لطیفہ
ایک دفعہ شہر میں سخت وبا پڑی۔ میر مہدی حسین مجروح نے دریافت کیا کہ حضرت! وبا شہر سے دفع ہوئی یا ابھی تک موجود ہے؟ اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "بھئی کیسی وبا؟ جب ایک ستر برس کے بڈھے اور ستر برس کی بڑھیا کو نہ مار سکے تو تف برایں وبا!" اسی قسم کی اور بہت سی باتیں اور حکایتیں ان سے منقول ہیں، جن سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ وہ آخر عمر میں مرنے کے کس قدر آرزومند تھے۔
اخیر عمر کی حالت
مرنے سے کئی کئی برس پہلے سے چلنا پھرنا بالکل موقوف ہو گیا تھا۔ اکثر اوقات پلنگ پر پڑے رہتے تھے۔ غذا کچھ نہ رہی تھی۔ چھ چھ سات سات دن میں اجابت ہوتی تھی۔ طشت چوکی پلنگ کے پاس ہی کسی قدر اوجھل میں لگی رہتی تھی۔ جب حاجت معلوم ہوتی تھی تو پردہ ہو جاتا تھا؛ آپ بغیر استعانت کسی نوکر چاکر کے، کپڑے اتار کر، بیٹھے ہی بیٹھے کھسکتے ہوئے چوکی پر پہنچتے تھے۔ پلنگ پر سے چوکی تک جانا؛ چوکی پر چڑھنا؛ چوکی پر دیر تک بیٹھے رہنا؛ اور پھر چوکی سے اتر کر پلنگ تک آنا؛ ایک بڑی منزل طے کرنے کے برابر تھا۔ مگر خطوں کے جواب اس حالت میں بھی برابر، یا خود پلنگ پر پڑے پڑے لکھتے تھے، یا کسی دوسرے آدمی کو بتاتے جاتے تھے، وہ لکھتا جاتا تھا۔
مرض الموت کی حالت
مرنے سے چند روز پہلے بیہوشی طاری ہو گئی تھی۔ پہر پہر دو دو پہر کے بعد چند منٹ کے لیے افاقہ ہو جاتا تھا؛ پھر بیہوش ہو جاتے تھے۔ جس روز انتقال ہوگا اس سے شاید ایک دن پہلے میں ان کی عیادت کو گیا تھا؛ اس وقت کئی پہر کے بعد افاقہ ہوا تھا۔ اور نواب علاء الدین احمد خاں مرحوم کے خط کا جواب لکھوا رہے تھے۔ انھوں نے لوہارو سے حال پوچھا تھا؛ اس کے جواب میں ایک فقرہ اور ایک فارسی شعر، جو غالباً شیخ سعدی کا تھا، لکھوایا۔ فقرہ یہ تھا کہ "میرا حال مجھ سے کیا پوچھتے ہو؟ ایک آدھ روز میں ہمسایوں سے پوچھنا۔" اور شعر کا پہلا مصرع مجھے یاد نہیں رہا؛ دوسرا مصرع یہ تھا "نکرد ہیچ مدارا ابن سر تو سلامت۔" مرنے سے پہلے اکثر یہ شعر ورد زبان رہتا تھا:
دم واپسیں بر سر راہ ہےعزیزو! اب اللہ ہی اللہ ہے
تاریخ وفات
آخر، ذیقعدہ ۱۲۸۵ ہجری کی دوسری اور فروری ۱۸۶۹ء کی پندرھویں کو، تہتر برس اور چار مہینے کی عمر میں دنیا سے رحلت کی؛ اور درگاہ حضرت سلطان نظام الدین قدس سرہ میں اپنے خسر کے پایین مزار دفن کیے گئے۔ ان کی وفات کی تاریخیں، جو مدت تک ہندوستان کے اردو اخباروں میں چھپتی رہیں، وہ گنتی اور شمار سے باہر ہیں؛ صرف ایک تاریخ، جس میں دس بارہ آدمیوں کو توارد ہوا، یاد رکھنے کے قابل ہے (یعنی "آہ غالب بمرد" ۱۲۸۵) جس کو مختلف لوگوں نے مختلف طور پر قطعات میں منتظم کیا تھا۔ تاریخوں کے علاوہ مرزا قربان علی بیگ سالک، میر مہدی حسین مجروح، اور مؤلف کتاب ہذا نے اردو میں، اور منشی ہرگوپال تفتہ نے فارسی میں، مرزا کے مرثیے بھی لکھے تھے، جو اسی زمانے میں چھپ کر شائع ہو گئے تھے۔
جنازے کی نماز
مرزا کے جنازے پر، جب کہ دلی دروازے کے باہر نماز پڑھی گئی، راقم بھی موجود تھا، اور شہر کے اکثر عمائد اور ممتاز لوگ، جیسے نواب ضیاء الدین احمد خاں، نواب محمد مصطفے خاں، حکیم احسن اللہ خاں وغیرہم، اور سب اہل سنت اور امامیہ دو نو فرقوں کے لوگ جنازے کی مشایعت میں شریک تھے۔ سید صفدر سلطان نبیرۂ بخشی محمود خاں نے نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم سے کہا کہ مرزا صاحب شیعہ تھے؛ ہم کو اجازت ہو کہ ہم اپنے طریقے کے موافق ان کی تجہیز و تکفین کریں۔ مگر نواب صاحب نے نہیں مانا؛ اور تمام مراسم اہل سنت کے موافق ادا کیے گئے؛ اس میں شک نہیں کہ نواب صاحب سے زیادہ ان کے اصلی مذہبی خیالات سے کوئی شخص واقف نہیں ہو سکتا تھا؛ مگر ہمارے نزدیک بہتر ہوتا کہ شیعہ اور سنی دو نو مل کر یا علیحدہ علیحدہ ان کے جنازے کی نماز پڑھتے، اور جس طرح زندگی میں ان کا برتاؤ سنی اور شیعہ دو نو کے ساتھ یکساں رہا تھا اسی طرح مرنے کے بعد بھی دو نو فرقے ان کی حق گذاری میں شریک ہوتے۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.