
Chapitre 15 sur 18
Truthfulness, Patrons and Satire
راست گفتاری، سخن فہموں کی قدر اور ہجو نہ لکھنا
راست گفتاری
حالانکہ ایشیائی شاعری، جس کی بنیاد جھوٹ اور مبالغے پر رکھی گئی ہے، مرزا کی رگ و پے میں سرایت کر گئی تھی، باوجود اس کے وہ روایت اور حکایت اور وعدہ و اقرار اور بات چیت میں نہایت راست گفتار اور صادق اللہجہ تھے۔ اسی لیے جو شخص ان کے وعدے یا اقرار کا یقین نہ کرتا تھا اس سے نہایت ناراض ہوتے تھے۔ تفضل حسین خاں مرحوم خلف دیوان فضل اللہ خاں سے مرزا نے اپنا دیوان مانگا ہے اور اقرار کیا ہے کہ میں اس کو دیکھ کر واپس بھیج دوں گا۔ انھوں نے دیوان کے دینے سے انکار کیا ہے۔ ان کے انکار کے جواب میں مرزا لکھتے ہیں: "کیوں صاحب! یہ چچا بھتیجا ہونا اور شاگردی و استادی سب پر پانی پھر گیا؟ اگر کوئی ہزار یا پانسو کی چیز ہوتی اور میں تم سے مانگتا تو خدا جانے تم کیا غضب ڈھاتے؟ میرا کلام! خرید آٹھ دس روپیے کی! سو وہ بھی میں یہ نہیں کہتا کہ مجھ کو دے ڈالو؛ تم کو مبارک رہے؛ مجھ کو مستعار دو؛ میں اس کو دیکھ لوں؛ جو میرے پاس نہیں ہے اس کی نقل کروں؛ پھر تم کو واپس بھیج دوں؛ اس طرح کی طلب پر نہ دینا دلیل اس کی ہے کہ مجھ کو جھوٹا جانتے ہو؛ میرا اعتبار نہیں، یا یہ کہ مجھ کو آزردہ کرنا اور ستانا بدل منظور ہے۔ وہ کتاب ابھی میرے آدمی کو دے دو۔ باللہ واللہ میں اس میں سے جو میرے پاس نہیں ہے نقل کر کے بھیج دوں گا۔ اگر تم کو واپس نہ دوں تو مجھ پر لعنت؛ اور اگر تم میری قسم کو نہ مانو اور کتاب حامل رقعہ کو نہ دو تو تم کو آفریں۔"
لطیفہ
اسی طرح ایک خط میں نواب علاء الدین خاں کو لکھتے ہیں: "بدست مرگ دلے بدتر از گمان تو نیست۔ مکرر لکھ چکا ہوں کہ قصیدے کا مسودہ میں نے نہیں رکھا؛ مکرر لکھ چکا ہوں کہ مجھے یاد نہیں کون سی رباعیاں مانگتے ہو؛ پھر لکھتے ہو کہ رباعیاں بھیج، قصیدہ بھیج! معنی اس کے یہ کہ تو جھوٹا ہے؛ اب کے تو مقرر بھیجے گا۔ بھائی قرآن کی قسم، انجیل کی قسم، توریت کی قسم، زبور کی قسم، ہنود کے چار بید کی قسم، دساتیر کی قسم، ژند کی قسم، پاژند کی قسم، اوستا کی قسم، گرو کے گرنتھ کی قسم؛ نہ میرے پاس وہ قصیدہ، نہ مجھے وہ رباعیاں یاد۔ کلیات کے باب میں جو عرض کر چکا ہوں:
برہمانم کہ ہستیم و ہمان خواہد بود"
مرزا کی اسی راستبازی کا سبب تھا کہ وہ کوئی کام چھپا کر نہیں کرتے تھے۔ جو دل میں تھا وہی زبان پر تھا۔ جو خلوت میں کرتے تھے وہی جلوت میں بھی کرتے تھے۔ پس اگر ان میں کوئی عیب تھا تو وہی تھا جس کو ہر کس و ناکس جانتا تھا؛ مخفی عیبوں سے وہ بالکل پاک تھے۔
ناقدردانی کی شکایت
وہ اس خیال سے کہ ان کے کلام کی قدر کرنے والے بہت کم تھے اکثر تنگ دل رہتے تھے۔ چنانچہ اس بات کی انھوں نے فارسی اور اردو نظم و نثر میں جابجا شکایت کی ہے۔ ایک روز قلعے سے سیدھے نواب مصطفے خاں کے مکان پر آئے؛ اور کہنے لگے کہ "آج حضور نے ہماری بڑی قدردانی فرمائی۔ عید کی مبارکباد میں قصیدہ لکھ کر لے گیا تھا؛ جب میں قصیدہ پڑھ چکا تو ارشاد ہوا کہ 'مرزا تم پڑھتے بہت خوب ہو۔'" اس کے بعد نواب صاحب اور مرزا زمانے کی ناقدردانی پر دیر تک افسوس کرتے رہے۔
مہر نیمروز میں اس مضمون کو کہ میں نے اپنا کمال شاعری محض ناقدردانوں کی مدح سرائی میں صرف کیا، وہ ایک جگہ اس طرح بیان کرتے ہیں: "سینۂ من نفسے داشت بہ روانی آسا نسیمے کہ از نسترن زار وزد؛ زیاں زدہ من، کہ دم جز بہ ناپالیست نزدم۔ بنان مرا قلمے بود بہ دجلہ باری ابرے کہ از قبلہ خیزد؛ بیہدہ کوش من، کہ باراں بشورہ زار فرو ریختم۔"
سخن فہموں کی قدر
یہی وجہ تھی کہ جب حسن اتفاق سے ان کو کوئی سخن سنج اور سخن فہم میسر آ جاتا تھا تو اس کو ایک نعمت غیر مترقبہ سمجھتے تھے۔ منشی نبی بخش حقیر تخلص، جو ایک زمانے میں کول میں سررشتہ دار تھے، اور جن کی سخن فہمی اور سخن سنجی کی بڑے بڑے لوگوں سے تعریف سنی گئی ہے، کہیں وہ دلی میں آئے ہیں؛ اور مرزا کے مکان پر ٹھیرے ہیں۔ ان کی نسبت منشی ہرگوپال تفتہ کو ایک فارسی خط میں لکھتے ہیں جس کا ماحصل یہ ہے کہ "خدا نے میری بیکسی اور تنہائی پر رحم کیا؛ اور ایسے شخص کو میرے پاس بھیجا جو میرے زخموں کا مرہم، اور میرے درد کا درماں اپنے ساتھ لایا؛ اور جس نے میری اندھیری رات کو روشن کر دیا۔ اس نے اپنی باتوں سے ایک ایسی شمع روشن کی جس کی روشنی میں میں نے اپنے کلام کی خوبی، جو تیرہ بختی کے اندھیرے میں خود میری نگاہ سے مخفی تھی، دیکھی۔ میں حیران ہوں کہ اس فرزانۂ یگانہ یعنی منشی نبی بخش کو کس درجے کی سخن فہمی اور سخن سنجی عنایت ہوئی ہے؟ حالانکہ میں شعر کہتا ہوں اور شعر کہنا جانتا ہوں؛ مگر جب تک میں نے اس بزرگوار کو نہیں دیکھا یہ نہیں سمجھا کہ سخن فہمی کیا چیز ہے؟ اور سخن فہم کس کو کہتے ہیں؟ مشہور ہے کہ خدا نے حسن کے دو حصے کیے؛ آدھا یوسف کو دیا اور آدھا تمام بنی نوع انسان کو۔ کچھ تعجب نہیں کہ فہم سخن اور ذوق معنی کے بھی دو حصے کیے گئے ہوں اور آدھا منشی نبی بخش کے اور آدھا تمام دنیا کے حصے میں آیا ہو۔ گو زمانہ اور آسمان میرا کیسا ہی مخالف ہو، میں اس شخص کی دوستی کی بدولت زمانے کی دشمنی سے بے فکر ہوں؛ اور اس نعمت پر دنیا سے قانع۔"
اپنے عجز کا اقرار
مرزا پر جب شعر کے متعلق کوئی ایسی فرمایش کی جاتی تھی جو ان سے بآسانی سرانجام نہ ہو سکتی تھی تو وہ اس بات کا کچھ خیال نہ کرتے تھے کہ میری شاعری کی شہرت و ناموری پر حرف آئے گا؛ بلکہ صاف لکھ بھیجتے تھے کہ میری طاقت سے باہر ہے۔ ایک بار غالباً مجتہد العصر سید محمد صاحب مرحوم و مغفور نے مرزا سے اس بات کی خواہش کی کہ اردو میں جناب سید الشہدا کا مرثیہ لکھیں۔ چونکہ مرزا ان کی بہت تعظیم کرتے تھے اور ان کے سوال کو رد کرنا نہیں چاہتے تھے ان کے حکم کی تعمیل کے لیے مرثیہ لکھنے بیٹھے۔ چونکہ اس کوچے میں کبھی قدم نہ رکھا تھا، اور فرمایش ایسی چیز کی ہوئی تھی جس کو اور لوگ حد کمال تک پہنچا چکے تھے، اور قویٰ میں انحطاط شروع ہو گیا تھا؛ بمشکل سے مسدس کے تین بند لکھے، جن میں سے پہلا بند ہم کو یاد ہے اور یہاں نقل کیا جاتا ہے:
ہاں اے نفس باد سحر شعلہ فشاں ہواے دجلۂ خوں چشم ملائک سے رواں ہو
اے زمزمۂ قم لب عیسیٰ پہ فغاں ہواے ماتمیان شہ مظلوم کہاں ہو
بگڑی ہے بہت بات بنائے نہیں بنتیاب گھر کو بغیر آگ لگائے نہیں بنتی
ایک یہ اور دو بند اور لکھ کر مجتہد العصر کی خدمت میں بھیج دیے، اور صاف لکھ بھیجا کہ "تین بند صرف امتثال امر کے لیے لکھے ہیں؛ ورنہ میں اس میدان کا مرد نہیں ہوں؛ یہ ان لوگوں کا حصہ ہے جنھوں نے اس وادی میں عمریں بسر کی ہیں؛ مجھ کو ان کے درجے تک پہنچنے کے لیے ایک دوسری عمر درکار ہے۔ پس مجھے اس خدمت سے معذور و معاف رکھا جائے۔" ان کا قول تھا کہ ہندوستان میں انیس اور دبیر جیسا مرثیہ گو نہ ہوا ہے نہ آیندہ ہوگا۔
لطیفہ
بعض اوقات ایسی فرمایشوں سے، جن کے سرانجام کرنے میں ان کو دقت اٹھانی پڑتی تھی، بڑے لطف کے ساتھ پہلو بچاتے تھے۔ یہ بات معلوم ہے کہ مادۂ تاریخ نکالنے سے وہ ہمیشہ گھبراتے تھے۔ ایک بار نواب علاء الدین خاں مرحوم نے اپنے لڑکے کی ولادت کی تاریخ اور اس کے تاریخی نام کی فرمایش کی؛ اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "شیر اپنے بچوں کو شکار کا گوشت کھلاتا ہے؛ طریق صید افگنی سکھاتا ہے؛ جب جوان ہو جاتے ہیں آپ شکار کر کھاتے ہیں۔ تم سخنور ہو گئے، حسن طبع خداداد رکھتے ہو؛ ولادت فرزند کی تاریخ کیوں نہ کہو؟ اسم تاریخی کیوں نہ نکال لو؟ کہ مجھ پیر غمزدہ دل مردہ کو تکلیف دو۔ علاء الدین خاں! تیری جان کی قسم!! میں نے پہلے لڑکے کا جو اسم تاریخی نظم کر دیا تھا، اور وہ لڑکا نہ جیا؛ مجھ کو اس وہم نے گھیرا ہے کہ وہ میری نحوست طالع کی تاثیر تھی۔ میرا ممدوح جیتا نہیں؛ نصیر الدین حیدر، اور امجد علی شاہ ایک ایک قصیدے میں چل دیے۔ واجد علی شاہ تین قصیدوں کے متحمل ہوئے؛ پھر نہ سنبھل سکے۔ جس کی مدح میں دس بیس قصیدے کہے گئے وہ عدم سے بھی پرے پہنچا۔ نا صاحب دہائی خدا کی! میں نہ تاریخ ولادت کہوں گا، نہ نام تاریخی ڈھونڈھوں گا۔"
ہجو نہ لکھنا
باوجودیکہ مرزا کی تمام عمر قصیدہ گوئی اور مدح سرائی میں گذری، اور اکثر ایسا اتفاق ہوا کہ مدح و ستائش کا صلہ ان کو کچھ نہیں ملا، اور جو محنت اور کاوش ان کو قصیدوں کی ترتیب میں کرنی پڑی وہ سب رائگاں گئی؛ مگر انھوں نے کسی کی ہجو میں کوئی قطعہ یا قصیدہ کبھی نہیں لکھا۔ صرف ایک قطعہ، جو مرزا کے مطبوعہ کلیات میں درج نہیں ہے، ہم کو ان کے قلمی مسودات میں دستیاب ہوا ہے، جو میرے دوست اور مرزا صاحب کے عزیز شاگرد لالہ بہاری لال مشتاق دہلوی نے اس کتاب کے لکھتے وقت میرے پاس بھیجے ہیں۔ اس قطعہ کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا نے ایک امیر کی مدح میں ایک فارسی قصیدہ مع عرضداشت کے ارسال کیا ہے، اور اس کا جواب مدت دراز تک مرزا کو نہیں ملا؛ تب مرزا نے بطور تقاضے کے یہ قطعہ بھیجا ہے، جس کو مشکل سے ہجو ملیح کہا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس قطعہ کا مضمون لطف سے خالی نہیں اس لیے ہم اول اس کا خلاصہ اردو زبان میں لکھتے ہیں؛ اس کے بعد قطعہ بجنسہ نقل کیا جائے گا۔
قطعہ کا ماحصل یہ ہے کہ میں نے عقل سے پوچھا کہ میں نے ایسا اور ایسا قصیدہ نواب کی خدمت میں بھیجا تھا، اور اس کے ساتھ عرضداشت بھی گذرانی تھی؛ پھر کیا سبب ہے کہ جواب عنایت نہیں ہوا؟ کیا نواب مجھ سے آزردہ ہو گیا؟ اگر یہ بات ہے تو میں نے ناحق تعریف لکھی۔ خدا جانے میں نے کیا لکھ دیا ہوگا جس پر نواب کو آزردگی ہوئی۔ عقل نے کہا تو کیوں گھبراتا ہے؟ نواب جس ساز و ساماں کے ساتھ صلہ بھیجنا چاہتا ہے وہ جلدی فراہم نہیں ہو سکتا۔ اس نے بہت دن سے حکم دے رکھا ہے کہ دمشق سے دیبا، روم سے مخمل، معدن سے الماس، کان سے سونا، دکن سے ہاتھی، پہاڑ سے زمرد، عراق سے گھوڑا، دریا سے موتی، نیشاپور سے فیروزہ، بدخشاں سے یاقوت، بغداد سے سانڈنی، اصفہان سے تلوار، کشمیر سے پشمینہ، ایران سے زربفت، یہ سب چیزیں فراہم کر کے لائیں؛ تب غالب کو صلہ بھیجا جائے۔ پس جبکہ یہ ساری ڈھیل اس وجہ سے ہے تو اس کو نواب کی آزردگی کی دلیل نہ سمجھنا چاہیے۔ جب عقل نے مجھ کو یہ دم دیا تو میری تمام یاس و ناامیدی امید کے ساتھ بدل گئی۔ میں نے بھی اپنے دل میں کہا کہ جب ممدوح میرے لیے یہ کچھ کرنا چاہتا ہے تو میں بھی اس کے لیے آئینہ اور تاج سکندر سے، انگشتری اور تخت سلیمان سے، جام جمشید عالم غیب سے، آب حیواں چشمۂ خضر سے، عمر ابد، نشاط جاوید، دل کی قوت، ایمان کی مضبوطی اپنے خدا سے، اور اپنی عرضی کا جواب اور قصیدے کا صلہ ممدوح سے کیوں نہ مانگوں۔
قطعہ
گفتم بخرد بخلوت انسکاے شمع و چراغ ہفت ایواں
آیا ز چہ رو بود کہ نوابننوشت جواب نامہ ام ہاں!
آں گونہ عریضۂ کہ دانیدرویش نوشتہ سوے سلطاں
آں گونہ قصیدۂ کہ گوئیاز صفحہ دمیدہ سنبلستاں
ایں ہر دو رسید و نیست پیدازاں سو اثرے بہیچ عنواں
رنجید مگر ز مدح نواباے کاش نہ گشتمے ثنا خواں
ہیہات چہ گفتہ ام کہ باشماز گفتۂ خویشتن پشیماں
عقلم بجواب گفت "غالب!زنہار مخور فریب شیطاں
نواب بفکر ارمغان استتا نامہ فرستدت بساماں
داناکہ بخاطرش گذشتہ استزود آں ہمہ جمع کرد نتواں
زود ست کہ جمع نیز گردددیر ست کہ دادہ است فرماں
تا راہ روان بحر و بر گردآرند بکوشش فراواں
دیبا ز دمشق و مخمل از رومالماس ز معدن و زر از کاں
فیل از دکن و زمرد از کوہتوسن ز عراق و در ز عماں
فیروزۂ نغز از نشاپوریاقوت گزیدہ از بدخشاں
جمازۂ تیز رو ز بغدادشمشیر برندہ از صفاہاں
پشمینۂ قیمتی ز کشمیرزربفت گراں بہا ز ایراں
بالجملہ درنگ چوں ازیں رو ستبر رنج و ملال نیست برہاں"
چوں پیر خرد بدلفریبیگفت ایں ہمہ رازہاے پنہاں
گشتم بدرم امیدواریمرہم بہ زخم یاس و حرماں
گفتم کہ چو با من ایں کرم کردآں قبلہ و قبلہ گاہ اعیاں
ناچار ز راہ حق گذاریتا کردہ شود تلافئ آں
من نیز طلب کنم برایشایں خواہش اگرچہ نیست آساں
آئینہ و تاج از سکندرانگشتر و تخت از سلیماں
از عالم غیب جام جمشیداز چشمۂ خضر آب حیواں
عمر ابد و نشاط جاویدنیروے دل و ثبات ایماں
توفیق جواب نامۂ خویشتوقیع عطا و بذل احساں
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.