Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 17 из 18

Pupils and Friends

شاگرد اور احباب

Altaf Husain Hali

Письмо
Размер

شاگردوں کی کثرت

مرزا صاحب کے شاگرد اطراف ہندوستان میں بے شمار تھے۔ ان کی وسعت اخلاق اور عام رضاجوئی نے یہ دائرہ بہت وسیع کر دیا تھا۔ جو شخص اصلاح کے لیے ان کے پاس غزل بھیجتا تھا ممکن نہ تھا کہ وہ اس کے خط کا جواب اور اس کی غزل میں اصلاح دے کر نہ بھیجیں۔ اگرچہ مرزا کی فطرت شاعری میں اپنے طبقے کے لوگوں سے اس قدر بلند واقع ہوئی تھی کہ وہ کسی شاگرد یا مستفید کو اپنے ساتھ ساتھ نہیں لے چل سکتے تھے، جیسا کہ انھوں نے خود ایک فارسی شعر میں اس مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے؛ وہ کہتے ہیں:

ما ہمائے گرم پروازیم فیض از ما مجوےسایہ ہمچوں دود بالا می رود از بال ما

باایں ہمہ اہل دہلی و نواح دہلی میں چند اصحاب جو مرزا کے فیض صحبت اور مشورۂ سخن سے زیادہ مستفید ہوئے تھے ان کے ارشد تلامذہ سمجھے جاتے تھے؛ جیسے نیر رخشاں، عارف، سالک، مجروح، علائی، تفتہ وغیرہم۔ ان کے سوا خاص اہل دہلی میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو عرفاً مرزا کے شاگرد نہیں سمجھے جاتے تھے لیکن درحقیقت ان کے شاگرد معنوی تھے؛ جیسے نواب مصطفے خاں مرحوم، جنھوں نے مومن خاں مرحوم کی وفات کے بعد ہمیشہ اپنا کلام، فارسی ہو یا اردو، مرزا ہی کو دکھایا؛ یا جیسے سید غلام علی خاں[1] مرحوم متخلص بہ وحشت، جو مرزا کے حد سے زیادہ ماننے والے اور معتقد اور ان کی صحبت سے مستفیض رہے تھے۔ مرزا نے انھیں دو نو صاحبوں کی طرف اپنی ایک اردو غزل کے مقطع میں اشارہ کیا ہے اور کہا ہے:

وحشت و شیفتہ اب مرثیہ لکھیں شایدمر گیا غالب آشفتہ نوا کہتے ہیں

لطیفہ

یہ دو نو صاحب باہم نہایت گہری دوستی رکھتے تھے؛ یہاں تک کہ ان کی دوستی عشق کے درجے تک پہنچ گئی تھی۔ ایک دفعہ، جبکہ راقم بھی جہانگیر آباد میں موجود تھا، سید غلام علی خاں مرحوم نواب صاحب سے ملنے کو آئے ہوئے تھے؛ اور مرزا صاحب نے بھی ان کا یہاں آنا سن لیا تھا۔ انھیں دنوں میں مرزا کا خط نواب صاحب کے نام آیا؛ اس میں خاں صاحب کو بھی سلام لکھا تھا؛ اور اخیر میں خواجہ حافظ کے مشہور شعر کا پہلا مصرع اس طرح بدل کر لکھا تھا:

"چو با حبیب نشینی و چاے[2] پیمائیبیاد آر حریفان بادہ پیما را"

ایک عزیز نے یہ لطیفہ سن کر کہا کہ خواجہ حافظ کے اصل شعر میں اس قدر لطف نہ تھا جیسا کہ اس موقع پر مرزا صاحب کے اس تصرف سے اس میں لطف پیدا ہو گیا۔

مرزا صاحب کے ان شاگردوں کا حال، جن کے نام کے بہت سے خطوط اردوئے معلیٰ اور عود ہندی میں مرزا کے لکھے ہوئے موجود ہیں، یہاں لکھنے کی ضرورت نہیں؛ اس لیے ہم صرف دو صاحبوں کا مختصر ذکر اس مقام پر لکھتے ہیں؛ ایک نواب ضیاء الدین احمد خاں مرحوم اور دوسرے نواب مصطفے خاں مرحوم؛ کہ غالباً ان دو نو بزرگوں میں سے کسی کے نام کا کوئی خط مرزا کے اردو مکاتبات میں نہیں ہے جس سے ان کی خصوصیت مرزا صاحب کے ساتھ خاص و عام کو معلوم ہو۔

نواب ضیاء الدین احمد خاں

نواب ضیاء الدین احمد خاں، جو فارسی میں نیر اور اردو میں رخشاں تخلص کرتے تھے، قطع نظر کمال شاعری و انشا پردازی کے تاریخ، جغرافیہ، علم انساب، علم اسماے رجال، تحقیق لغات اور جنرل انفارمیشن (عام واقفیت) میں اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ انھوں نے فنون مذکورہ میں کوئی مستقل تصنیف اپنے نام سے نہیں چھوڑی؛ لیکن اکثر مصنفین ان سے مدد لیتے تھے اور جو مشکل پیش آتی تھی اس میں ان سے مشورہ کرتے تھے؛ خصوصاً الیٹ صاحب نے جو ہندوستان کی تاریخ کئی جلدوں میں لکھی ہے اس کی تصنیف و ترتیب میں نواب ممدوح نے بے انتہا مدد پہنچائی تھی، جس کا مصنف نے اپنی کتاب کے دیباچے میں خود اعتراف کیا ہے۔

چونکہ نواب ممدوح اہل کمال کے عاشق تھے اور خاص کر مرزا صاحب سے ان کی حقیقی چچازاد بہن منسوب تھیں اس لیے مرزا کے ساتھ ان کو خاص تعلق تھا۔ وہ فارسی اور اردو دو نو زبانوں میں فکر شعر کرتے تھے؛ مگر زیادہ تر فارسی نظم و نثر لکھتے تھے اور مرزا کے قدم بقدم چلتے تھے۔ مرزا نے جو ایک قصیدہ نہایت بلیغ و لطیف نواب ممدوح کی شان میں لکھا ہے اور جس میں ان کا استاد ہونے پر فخر کیا ہے اس کے کچھ اشعار مختلف مقامات سے التقاط کر کے یہاں لکھے جاتے ہیں:

صد آفتاب تواں ساختن بہ بازیچہز ذرہ کہ بود در ضیاے نیر من

نہ ایں سپہر و نہ ایں مہر عالمے دگر ستمن آسمانم و او مہر نور گستر من

من آں سپہر کہ دانم چنانکہ مہر بماہبہ مہر نور دہد نیر منور من

من آں سپہر کہ ہر دم رسد عطیۂ فیضبہ سعد اکبر گردوں ز سعد اصغر من

منم خزینۂ راز و در خزینہ سرازضیاے دین محمد کہیں برادر من

بدین و دانش و دولت یگانۂ آفاقبعمر کہتر و از روے رتبہ مہتر من

بمہر دل بہ برادر دہم نہ یعقوبمکہ پور خویش بود دلستان و دلبر من

سخن سراے نوائیں نواے را نازمبنالہ ہمنفس من بہ شور ہمسر من

بنکتہ شیوۂ شاگرد من بمن ماناستصنم بصورت خود مے تراشد آزر من

اگرچہ اوست ارسطو و من فلاطونمبود بپایہ ارسطوے من سکندر من

زمین کوے مرا آسماں کند ہر صبحطلوع نیر روشن ز طرف منظر من

اگر شوم بہ مثل آتشے شرارہ فشاںشود بقاعدۂ ہمدمی سمندر من

بہ بحر گر فتدم رہ بود سفینۂ منبہ تخت گر بودم راے گردد افسر من

بہ مہر دوست دہم دل نشاط خاطر منبہ کین خصم نہم رخ لواے لشکر من

گرم ز غصہ تبہ گشتہ کار مونس منورم ز کار فرو ماندہ دست یاور من

زہے ز روے تو پیدا فروغ دانش و دادبدیں فروغ جہانتاب گشتہ اختر من

ز تو کہ آئنۂ فیض صحبت اوئیہواے دیدن غالب فتادہ در سر من

مرا ستودی[3] و گفتی کہ من از آن توامفداے آں تو بادا اقل و اکثر من

سعادت و شرف چوں منے بود ز کمالنہ بس بود کہ بود چوں توئے ثنا گر من؟

نواب محمد مصطفے خاں

نواب محمد مصطفے خاں مرحوم، جو فارسی میں حسرتی اور اردو میں شیفتہ تخلص کرتے تھے، اگرچہ مرزا کے تلامذہ میں شمار نہیں ہوتے تھے بلکہ جب تک مومن خاں مرحوم زندہ رہے انھیں سے مشورۂ سخن کرتے رہے؛ لیکن خان موصوف کی وفات کے بعد ریختہ اور فارسی دو نو زبانوں میں وہ برابر مرزا کو اپنا کلام دکھاتے تھے؛ اور اگر ہمارا قیاس غلط نہ ہو تو مرزا کے بعد ان کے معاصرین میں سے کسی کی فارسی غزل ان کی غزل سے لگا نہیں کھاتی تھی؛ اور شعر کا جیسا صحیح مذاق ان کی طبیعت میں پیدا کیا گیا تھا ویسا بہت ہی کم دیکھنے میں آیا ہے۔ لوگ ان کے مذاق کو شعر کے حسن و قبح کا معیار جانتے تھے۔ ان کے سکوت سے شاعر کا شعر خود اس کی نظر سے گر جاتا تھا اور ان کی تحسین سے اس کی قدر بڑھ جاتی تھی۔ یہی وہ شخص تھے جن کی نسبت مرزا غالب فرماتے ہیں:

غالب بہ فن گفتگو نازد بدیں ارزش کہ اوننوشت در دیوان غزل تا مصطفیٰ خاں خوش نکرد[4]

نواب ممدوح کی شان میں بھی مرزا کا ایک فارسی قصیدہ ان کے دیوان میں موجود ہے، جس میں اول فخریہ تشبیب لکھی ہے؛ فخریہ اشعار لکھتے لکھتے کہتے ہیں:

دست رد بر تاج قیصر مے نہمپشت پا بر تخت خاقاں مے زنم

خردہ مے گیرند بر من قدسیاںگر نفس در مدح سلطاں مے زنم

آں ہماے تیز پروازم کہ بالدر ہواے مصطفیٰ خاں مے زنم

عرفی و خاقانیش فرماں پذیرسکہ در شیراز و شروان مے زنم

او خرامد مست و من چاؤش واربانگ بر اجرام و ارکاں مے زنم

گلشن کویش گذرگاہ من ستدوش در رفتن برضواں مے زنم

خوبی خویش بد آموز من ستدم ز یاری مے زنم ہاں مے زنم

مہر ورزی بیں کہ باشم ہمنشیںمن کہ زانو پیش درباں مے زنم

بشنو دیے آنکہ باد آں را بردنالہ گر در کنج زنداں مے زنم

بنگر دیے آنکہ کلک آں را کشدنقش گر بر صفحۂ جاں مے زنم

حواشی

[1] یہ صاحب دلی کے ممتاز لوگوں میں تھے۔ ان کے والد کا نام سید فرحت اللہ خاں تھا اور مولانا رشید الدین خاں مرحوم کے داماد تھے۔ قطع نظر علم و فضل کے اردو اور فارسی دو نو زبانوں میں نہایت خوش بیان اور شعر کا مذاق اعلیٰ درجے کا رکھتے تھے۔ اول سرکار انگریزی میں ملازم رہے، پھر الور میں فوجدار ہو گئے، پھر لکھنؤ میں نواب سعید الدولہ مرحوم نائب وزیر کے توسط سے، کہ ان سے قرابت قریبہ رکھتے تھے، ایک معزز خدمت پر ممتاز ہو گئے؛ وہاں سے پھر الور چلے آئے تھے اور غدر تک وہیں رہے۔ غدر کے بعد اخیر عمر تک سررشتۂ تعلیم میں منسلک رہے؛ اور نواب مصطفے خاں مرحوم ان کی ہر حال میں مدد کرتے رہے۔ ۱۲

[2] چونکہ نواب صاحب شراب سے مجتنب تھے اور مرزا پیتے تھے اس لیے ان کی نسبت چاے پیمائی اور اپنی نسبت بادہ پیما کا لفظ کہا۔

[3] معلوم ہوتا ہے کہ نواب نے مرزا کی مدح میں کوئی قصیدہ لکھا تھا جس کی طرف ان دو نو بیتوں میں اشارہ ہے۔ ۱۲

[4] یعنی پسند نہ کر دہ

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.