Urdu in Translation
Поиск
Закладка

Глава 14 из 18

Judging Poetry, Commendations and a Critical Eye

داد سخن، تقریظ اور محققانہ نظر

Altaf Husain Hali

Письмо
Размер

داد سخن

ہماری سوسائٹی میں جو ایک عام دستور ہے کہ جو شخص اپنا کلام سناتا ہے اس کے ہر ایک شعر پر، خواہ اچھا ہو خواہ برا، برابر تحسین و آفرین کی جاتی ہے اور اچھے اور برے شعر میں کچھ تمیز نہیں کی جاتی؛ مرزا کی عادت بالکل اس کے برخلاف تھی۔ کوئی کیسا ہی معزز و محترم آدمی ہو جب تک اس کا کوئی شعر فی الواقع مرزا کو پسند نہ آتا تھا وہ ہرگز اس کی تعریف نہ کرتے تھے۔ اخیر عمر میں تو ان کا ثقل سماعت انتہا کو پہنچ گیا تھا؛ مگر پہلے ایسا حال نہ تھا۔ وہ کسی قدر اونچی آواز سے بات چیت اور شعر و سخن سن لیتے تھے؛ مگر جب تک کوئی شعر ان کے دل میں نہ چبھتا تھا ٹس سے مس نہ ہوتے تھے۔ ان کے بعض معاصرین اس بات سے آزردہ رہتے تھے؛ اور اسی لیے ان کی شاعری پر نکتہ چینیاں کرتے تھے۔ مگر مرزا، باوجودیکہ ان کی طبیعت نہایت صلح جو واقع ہوئی تھی، شعر کی داد دینے کا جو طریقہ انھوں نے اختیار کیا تھا اس کو وہ کبھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے۔

انصاف

لیکن جو شعر ان کے دل میں چبھ جاتا تھا اس کی تعریف بھی ایسی کرتے تھے جو مبالغے کی حد کو پہنچ جاتی تھی۔ وہ درحقیقت کسی کے خوش کرنے کے لیے ایسا نہیں کرتے تھے؛ بلکہ ذوق سخن ان کو بے اختیار کر دیتا تھا۔ شیخ ابراہیم ذوق، جن کی نسبت مشہور ہے کہ مرزا کو ان سے چشمک تھی، ایک روز جب کہ مرزا شطرنج میں مصروف تھے، منشی غلام علی خاں مرحوم نے ان کا یہ شعر کسی دوسرے شخص کے سنانے کو پڑھا:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گےمر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

خاں مرحوم کہتے تھے کہ مرزا کے کان میں بھی اس کی بھنک پڑ گئی؛ فوراً شطرنج چھوڑ دی اور مجھ سے کہا بھیا تم نے کیا پڑھا؟ میں نے پھر وہ شعر پڑھا۔ پوچھا کس کا شعر ہے؟ میں نے کہا ذوق کا۔ یہ سن کر نہایت متعجب ہوئے؛ اور مجھ سے بار بار پڑھواتے تھے اور سر دھنتے تھے۔ ہم بھی دیکھتے ہیں کہ مرزا نے اپنے اردو خطوں میں اس شعر کا جابجا ذکر کیا ہے۔ جہاں عمدہ شعر کی مثالیں دی ہیں وہاں اس شعر کو ضرور لکھا ہے۔ اسی طرح مومن خاں کا جب یہ شعر سنا:

تم مرے پاس ہوتے ہو گویاجب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

تو اس کی بہت تعریف کی اور یہ کہا "کاش مومن خاں میرا سارا دیوان لے لیتا اور صرف یہ شعر مجھ کو دے دیتا۔" اس شعر کو بھی انھوں نے اپنے متعدد خطوں میں نقل کیا ہے۔ اسی طرح سودا کا یہ شعر بھی ایک مقام پر لکھا ہے:

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازارلیکن کوئی خواہاں نہیں واں جنس گراں کا

ایک صحبت میں نواب مرزا خاں داغ کے اس شعر کو بار بار پڑھتے تھے اور اس پر وجد کرتے تھے:

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیںادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے

بعض اوقات وہ اپنے شاگردوں کے کلام سے اس قدر متاثر ہوتے تھے کہ ان کی تعریف میں شاید ان کا دل بڑھانے کو حد سے زیادہ مبالغہ کرتے تھے۔ انھوں نے اخیر عمر میں اپنے ایک شاگرد کی غزل دیکھ کر اس کی بے انتہا تعریف کی؛ اور یہ کہا "کہ اگر میں اب رشک کرنے کے قابل ہوتا تو تم محسود ہوتے اور میں حاسد۔"

تقریظ لکھنے کا ڈھنگ

مرزا پر تقریظوں کی بے انتہا فرمایشیں ہوتی تھیں۔ اور، جیسا کہ ظاہر ہے، تعریف کی مستحق فی الحقیقہ بہت ہی کم کتابیں ہوتی ہیں۔ مرزا کی طبیعت چونکہ صلح جو اور مرنج و مرنجاں واقع ہوئی تھی وہ کسی سے انکار تو نہیں کرتے تھے؛ مگر تقریظ نگاری کا انھوں نے ایسا طریقہ اختیار کیا تھا کہ کوئی بات راستی کے خلاف بھی نہ ہو اور صاحب کتاب خوش بھی ہو جائے۔ بہت سا حصہ تمہید میں، یا مصنف کی ذات اور اس کے اخلاق، یا اس کی محبت اور دوستی کے بیان میں، یا اور لطیف اور پاکیزہ باتوں کے ذکر میں ختم ہو جاتا تھا۔ اخیر میں کتاب کی نسبت چند جملے جو اصلیت سے خالی نہ ہوتے تھے، اور مصنف کے خوش کرنے کے لیے کافی ہوتے تھے، لکھ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ لوگ مرزا سے شکایت کرتے تھے کہ آپ نے ستائش میں مضائقہ کیا ہے۔

تقریظ دیوان تفتہ

جب مرزا نے منشی ہرگوپال تفتہ کے دیوان کی تقریظ، جو کلیات نثر غالب میں موجود ہے، لکھ کر بھیجی تو انھوں نے بھی اسی قسم کی شکایت کی تھی۔ مرزا اس کے جواب میں لکھتے ہیں: "کیا کروں اپنا شیوہ ترک نہیں کیا جاتا۔ وہ روش ہندوستانی فارسی لکھنے والوں کی مجھ کو نہیں آتی کہ بالکل بھاٹوں کی طرح بکنا شروع کروں۔ میرے قصیدے دیکھو؛ تشبیب کے شعر بہت پاؤ گے؛ اور مدح کے شعر کمتر۔ نثر میں بھی یہی حال ہے۔ نواب مصطفے خاں کے تذکرے کی تقریظ کو ملاحظہ کرو کہ ان کی مدح کتنی ہے؟ مرزا رحیم الدین بہادر حیا تخلص کے دیوان کے دیباچے کو دیکھو۔ وہ جو تقریظ انطباع دیوان حافظ کی، جان جاکوب بہادر کی فرمایش سے لکھی ہے اس کو دیکھو؛ کہ فقط ایک بیت میں ان کا نام اور ان کی مدح آئی ہے اور باقی نثر میں اور ہی اور مطالب ہیں۔ واللہ باللہ اگر کسی شاہزادے یا امیرزادے کے دیوان کا دیباچہ لکھتا تو اس کی مدح اتنی نہ کرتا کہ جتنی تمھاری مدح کی ہے۔ ہم کو اور ہماری روش کو اگر پہچانتے تو اتنی مدح کو بہت جانتے۔ قصہ مختصر تمھاری خاطر کی اور ایک فقرہ تمھارے نام کا بدل کر اس کے عوض ایک فقرہ اور لکھ دیا ہے۔ اس سے زیادہ بیشی میری روش نہیں۔ ظاہراً تم خود فکر نہیں کرتے؛ اور حضرات کے بہکانے میں آ جاتے ہو۔ وہ صاحب تو بیشتر اس نظم و نثر کو مہمل کہیں گے۔ کس واسطے کہ ان کے کان اس آواز سے آشنا نہیں۔ جو لوگ کہ قتیل کو اچھا لکھنے والوں میں جانیں گے وہ نظم و نثر کی خوبی کو کیا پہچانیں گے۔"

تقریظ تصحیح آئین اکبری

(سر) سید احمد خاں نے جب نہایت جانفشانی اور عرقریزی سے آئین اکبری کی تصحیح کی تو دلی کے مشاہیر نے اس پر نثر میں تقریظیں لکھی تھیں؛ اور مرزا نے نظم میں ایک مثنوی لکھی تھی، جو ان کے کلیات میں موجود ہے۔ باوجودیکہ مرزا کو سرسید کی خاطر بہت عزیز تھی[1]، اور وہ ان سے اور ان کے خاندان سے مثل یگانوں کے ملتے تھے؛ مگر چونکہ مرزا ابو الفضل کی طرز تحریر کو پسند نہیں کرتے تھے، اور جو آئین اس کتاب میں لکھے ہیں ان کو اس زمانے کے آئینوں کے مقابلے میں ہیچ و پوچ سمجھتے تھے، اور تاریخ کا مذاق، جیسا کہ خود انھوں نے اعتراف کیا ہے، بالکل نہ رکھتے تھے؛ اس لیے آئین اکبری کی تصحیح کو انھوں نے ایک فضول کام سمجھا۔ گو ان کی یہ رائے غلط ہو یا صحیح، مگر جو کچھ آئین اکبری اور اس کی تصحیح کی نسبت ان کا خیال تھا اس کو تقریظ میں ظاہر کیے بغیر نہیں رہے۔ چنانچہ اس مثنوی کے اول کے چند شعر ہم اس مقام پر نقل کرتے ہیں:

مژدہ یاراں را کہ ایں دیریں کتابیافت از اقبال سید فتح باب

دیدہ بینا آمد و بازو قویکہنگی پوشید تشریف نوی

دیں کہ در تصحیح آئیں رائے اوستننگ و عار ہمت والائے اوست

دل بہ شغلے بست و خود را شاد کردخود مبارک[2] بندۂ آزاد کرد

گوہرش را آنکہ نتواند ستودہم بریں کارش ہمی داند ستود

بر چنیں کارے کہ اصلش ایں بودآں ستاید کش ریا آئیں بود

من کہ آئین ریا را دشمنمدر وفا اندازہ دان خود منم

گر بدیں کارش نگویم آفریںجائے آں دارد کہ جویم آفریں

اس کے بعد انگریزوں کے آئین و قانون و ایجادات کسی قدر بیان کیے ہیں اور لکھا ہے کہ ان چیزوں کے سامنے پچھلے آئین سب تقویم پارینہ ہو گئے ہیں؛ اس کے بعد لکھتے ہیں:

طرز تحریرش اگر گوئی خوش ستنے فزوں از ہر چہ می جوئی خوش ست

ہر خوشے را خوشترے ہم بودہ استگر سرے ہست افسرے ہم بودہ است

مبدأ فیاض را مشمر بخیلنور می ریزد رطب ہا زاں نخیل[3]

مردہ پروردن مبارک کار نیستخود بگو کاں نیز جز گفتار نیست

غالب آئین خموشی دلکش ستگرچہ خوش گفتی نہ گفتن ہم خوش ست

در جہاں سید پرستی دین تستاز ثنا بگذر دعا آئین تست

ایں سراپا فرہ و فرہنگ راسید احمد خان عارف جنگ را

ہر چہ خواہد از خدا موجود بادپیشکارش طالع مسعود باد

چونکہ اس تقریظ میں آئین اکبری کی تنقیص کی گئی تھی اور سرسید نے جو ایک نہایت مفید کام کیا تھا اس کی کچھ داد نہیں دی گئی تھی بلکہ اس کو غیر مفید ظاہر کیا گیا تھا اس لیے انھوں نے آئین اکبری کے آخر میں مرزا کی تقریظ کو نہیں چھپوایا۔

محققانہ نظر

مرزا کی دراکی اور عالی فطرتی کی بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ، باوجودیکہ ایسی سوسائٹی میں گھرے ہوئے تھے جس میں سلف کی تقلید سے ایک قدم تجاوز کرنا ناجائز سمجھا جاتا تھا، اپنے فن میں محققانہ چال چلتے تھے؛ اور اندھا دھند اگلوں کی تقلید ہرگز نہ کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جامع برہان قاطع کی شہرت اور ناموری ان کو اس کا تخطیہ کرنے سے مانع نہیں ہوئی۔ وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ "یزداں دل دانا و چشم بینا بہر آں دادہ است کہ کار دانش و بینش ازیں ہر دو گوہر پذیرفتہ گیریم؛ و ہر چہ بنگریم جز بدستوری دانش آں را نپذیریم۔ استادی و شاگردی پیری و مریدی نیست کہ تنہا اعتقاد بس باشد؛ و بدیں کلمۂ مشہور کہ 'پیر من خس ست و اعتقاد من بس ست' از بازپرس ایمنی روے دہد۔" حالانکہ وہ ایران کے نامور شعرا کا نہایت ادب کرتے تھے اور ان کا ذکر ہمیشہ تعظیم اور احترام کے ساتھ کرتے تھے؛ پھر بھی اندھوں کی طرح ان کی تقلید نہ کرتے تھے۔ جو امور سماع اور نقل سے علاقہ رکھتے تھے ان میں ان کے کلام کو بے چون و چرا تسلیم کرتے تھے؛ مگر جو باتیں عقل اور درایت سے تعلق رکھتی ہیں ان میں ان کی تقلید کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ ایک خط میں حزیں کا، جس کو وہ بہت بڑا استاد جانتے تھے، یہ مطلع نقل کرتے ہیں "ز ترکتازی آں نازنیں سوار ہنوز؛ ز سبزہ می دمد انگشت زینہار ہنوز۔" پھر لکھتے ہیں کہ "اس مطلع میں ایک ہنوز زائد اور بیہودہ ہے؛ متتبع کے واسطے سند نہیں ہو سکتا؛ یہ غلط محض ہے؛ یہ سقم ہے؛ یہ عیب ہے؛ اس کی کون پیروی کرے گا۔ حزیں تو آدمی تھا؛ یہ مطلع اگر جبرئیل کا ہو تو اس کو سند نہ جانو؛ اور اس کی پیروی نہ کرو۔" ایک خط میں منشی ہرگوپال کو لکھتے ہیں "یہ نہ سمجھا کرو کہ اگلے جو لکھ گئے ہیں وہ حق ہے؛ کیا آدمی احمق پیدا نہیں ہوتے تھے؟"

حق پسندی

مرزا کے کلام پر اگر کوئی ٹھیک اعتراض کرتا تھا، یا کوئی عمدہ تصرف ان کے شعر میں کرتا تھا؛ اس کو فوراً تسلیم کر لیتے تھے؛ اور شعر کو بدل ڈالتے تھے۔ مثنوی درد و داغ میں ان کا ایک مصرع تھا "خوک شد و پنجہ زدن ساز کرد۔" جب مرزا نے یہ مثنوی تحفۂ ناطق مکرانی کو بھیجی تو اس نے مرزا کو لکھا "خوک سم دارد نہ پنجہ؛ اگر نزدیک اساتذہ اطلاق سم و پنجہ بیک محل روا باشد اعلام باید فرمود۔" مرزا نے اس کے جواب میں صاف لکھ بھیجا کہ اگر کلیات فارسی کے چھپنے سے پہلے آپ کا خط پہنچ جاتا تو میں اس لفظ کو بدل ڈالتا؛ اور اس مصرع کو اس طرح بنا دیتا "خوک شد و بدنفسی ساز کرد۔" چنانچہ جب مرزا کا کلام دوسری بار چھپا تو انھوں نے یہ مصرع اسی طرح بنا دیا۔

مرزا کے ایک فارسی قصیدے کی تشبیب کا یہ شعر ہے:

ہمچناں در تتق غیب ثبوتے دارندبوجودے کہ ندارند ز خارج اعیاں

مرزا صاحب خود مجھ سے کہتے تھے کہ میں نے ثبوتے کی جگہ نمودے لکھا تھا۔ مولوی فضل حق کو جب یہ شعر سنایا تو انھوں نے کہا کہ اعیان ثابتہ کے لیے نمود کا لفظ نامناسب ہے؛ اس کی جگہ ثبوت بنا دو۔ چنانچہ طبع ثانی میں انھوں نے بجائے نمود کے ثبوت بنا دیا ہے۔ اسی طرح ایک قصیدے کے مطلع کا پہلا مصرع یہ ہے:

عید اضحیٰ بسر آغاز زمستاں آمد

مرزا نے اول عید قرباں لکھا تھا؛ پھر نواب مصطفے خاں مرحوم کے کہنے سے عید اضحیٰ بنایا گیا۔ حالانکہ نواب موصوف خود مرزا سے مشورۂ سخن کرتے تھے اور مومن مرحوم کے بعد ہمیشہ انھیں کو اپنا کلام دکھاتے تھے۔ ان باتوں کے بیان کرنے سے مرزا کی لغزشیں خلقت کو دکھانی مقصود نہیں ہیں بلکہ انصاف اور حق پسندی کی شریف خصلت، اور وہ ملکہ جس کے بغیر انسان کبھی ترقی نہیں کر سکتا، مرزا کی ذات میں دکھانا مقصود ہے۔ جن لوگوں میں اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی قابلیت نہیں ہوتی ان کا اپنے فن میں ترقی کرنا ناممکن ہے۔

حواشی

[1] مرزا آثار الصنادید کی تقریظ میں سرسید کی نسبت لکھتے ہیں "با ہمگنانش ولیست از فرزانگی بآئین بردمی دانا؛ و با منش پایانش [illegible] از انجمن نشینی بپیوند خون یا ..."

[2] مبارک بندہ آزاد کردن عبث کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اس میں لطف یہ ہے کہ ابو الفضل کے باپ کا نام مبارک تھا۔

[3] اپنی شاعری اور انشا پردازی کی طرف اشارہ ہے۔ ۱۲

Что оставила в вас эта глава?

Войдите, чтобы отреагировать

Обсуждение

Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.

Понравилась глава? Поделитесь строкой из неё.