Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 13 de 18

Faith and Belief

اسلام پر یقین، مذہب اور سلامتی طبع

Altaf Husain Hali

Escritura
Tamaño

اسلام پر یقین

مرزا اسلام کی حقیقت پر نہایت پختہ یقین رکھتے تھے اور توحید وجودی کو اسلام کا اصل اصول اور رکن رکین جانتے تھے۔ اگرچہ وہ بظاہر اہل حال سے نہ تھے؛ مگر جیسا کہ کہا گیا ہے "من احب شیئاً اکثر ذکرہ،" توحید وجودی ان کی شاعری کا عنصر بن گئی تھی۔ اس مضمون کو انھوں نے جس تجرد اور اصناف سخن میں بیان کیا ہے غالباً نظیری اور بیدل کے بعد کسی نے نہیں بیان کیا۔ مرزا کے حق میں اگر اور کچھ نہیں تو عرفی کا یہ شعر ضرور صادق آتا ہے:

امید ہست کہ بیگانگئ عرفی رابہ دوستی سخن ہائے آشنا بخشند

انھوں نے تمام عبادات اور فرائض و واجبات میں سے صرف دو چیزیں لے لی تھیں؛ ایک توحید وجودی اور دوسرے نبی اور اہل بیت نبی کی محبت؛ اور اسی کو وہ وسیلۂ نجات سمجھتے تھے۔

اگرچہ شاعر کے کلام سے اس کے عقائد پر استدلال نہیں ہو سکتا مگر جو بات دل سے نکلتی ہے وہ چھپی نہیں رہتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح اکثر حکمائے اسلام نے نعیم جسمانی سے انکار کیا ہے مرزا بھی اس کے قائل نہ تھے؛ چنانچہ انھوں نے اس خیال کو اپنے شاعرانہ انداز میں متعدد جگہ ظاہر کیا ہے۔ ایک جگہ کہتے ہیں:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

یہی خیال ایک فارسی رباعی میں اس طرح ظاہر کیا ہے:

رباعی

گر دیدن زاہداں بجنت گستاخواں دست درازی بہ ثمر شاخ بشاخ

چوں نیک نظر کنی ز روئے تشبیہمانند بہ بہائم و علفزار فراخ

مرزا باوجودیکہ احکام ظاہری کے بہت کم پابند تھے؛ لیکن مسلمانوں کی ذلت کی کوئی بات سن پاتے تھے تو ان کو سخت رنج ہوتا تھا۔ ایک روز میرے سامنے اسی قسم کے ایک واقعہ پر نہایت افسوس کرتے تھے اور کہتے تھے کہ مجھ میں کوئی بات مسلمانی کی نہیں ہے؛ پھر میں نہیں جانتا کہ مسلمانوں کی ذلت پر مجھ کو کیوں اس قدر رنج اور تاسف ہوتا ہے؟ مگر چونکہ طبیعت نہایت شوخ واقع ہوئی تھی، جب کوئی گرم فقرہ سوجھ جاتا تھا پھر ان سے بغیر کہے نہیں رہا جاتا تھا؛ خواہ اس میں ان کو کوئی کافر سمجھے، یا رند مشرب کہے، یا بدمذہب جانے۔

لطیفہ

غدر کے بعد، جبکہ پنشن بند تھی اور دربار میں شریک ہونے کی اجازت نہ ہوئی تھی، پنڈت موتی لال میر منشی لفٹنٹی پنجاب مرزا صاحب سے ملنے کو آئے۔ کچھ پنشن کا ذکر چلا۔ مرزا صاحب نے کہا "تمام عمر میں ایک دن شراب نہ پی ہو تو کافر؛ اور ایک دفعہ نماز پڑھی ہو تو گنہگار؛ پھر میں نہیں جانتا کہ سرکار نے کس طرح مجھے باغی مسلمانوں میں شمار کیا۔"

مذہب

اگرچہ مرزا کا اصل مذہب صلح کل تھا مگر زیادہ تر ان کا میلان طبع تشیع کی طرف پایا جاتا تھا؛ اور جناب امیر کو وہ رسول خدا کے بعد تمام امت سے افضل جانتے تھے۔

ایک بار مرحوم بہادر شاہ نے دربار میں یہ کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ مرزا اسد اللہ خاں غالب شیعی المذہب ہیں۔ مرزا کو بھی اطلاع ہو گئی۔ چند رباعیاں لکھ کر حضور کو سنائیں، جن میں تشیع اور رفض سے تحاشی کی تھی۔ ان میں سے ایک رباعی جو بہت لطیف ہے مجھ کو یاد رہ گئی ہے جو یہاں لکھی جاتی ہے:

رباعی

جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہریکہتے ہیں مجھے وہ رافضی اور دہری

دہری کیونکر ہو جو کہ ہووے صوفی؟شیعی کیونکر ہو ماوراء النہری؟

دہریت اور تصوف میں جو بون بعید ہے وہ ظاہر ہے؛ دہری خدا کے وجود ہی کا قائل نہیں اور صوفی صرف خدا ہی کو موجود جانتا ہے اور ماسوا کو ہیچ سمجھتا ہے؛ پس صوفی دہری کیونکر ہو سکتا ہے؟ چوتھے مصرع کا یہ مطلب ہے کہ ماوراء النہر یعنی ترکستان کے لوگ متعصب سنی ہونے میں ضرب المثل ہیں؛ یہاں تک کہ شیعہ ان کو ناصبی اور خارجی سمجھتے ہیں۔ چونکہ مرزا کی اصل ماوراء النہر سے تھی اس لیے کہتے ہیں کہ ایک ماوراء النہری رافضی یا شیعی کیونکر ہو سکتا ہے؟

جو لوگ مرزا کی طرز مزاج اور طرز کلام سے ناآشنا ہیں وہ شاید یہ سمجھیں کہ مرزا نے بادشاہ کی حضور میں اپنا رسوخ قائم رکھنے کے لیے اپنا مذہب غلط بیان کیا؛ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ سب رباعیاں صرف بادشاہ کے خوش کرنے اور اہل دربار کے ہنسانے کے لیے لکھی گئی تھیں؛ کیونکہ دربار میں ایک متنفس بھی ایسا نہ تھا جو مرزا کو شیعی یا کم سے کم تفضیلی نہ جانتا ہو۔ مرزا اکثر مواقع پر بادشاہ کے خوش کرنے کو اس قسم کے اشعار دربار میں پڑھا کرتے تھے۔ ایک روز سلطان نظام الدین قدس سرہ اور امیر خسرو کی خصوصیت کا ذکر دربار میں ہو رہا تھا؛ مرزا نے اسی وقت یہ شعر انشا کر کے پڑھا:

ملے دو مرشدوں کو قدرت حق سے ہیں دو طالبنظام الدین کو خسرو، سراج الدین کو غالب

لطیفہ

رمضان کا مہینا تھا؛ ایک سنی مولوی مرزا سے ملنے کو آئے۔ عصر کا وقت تھا۔ مرزا نے خدمتگار سے پانی مانگا۔ مولوی صاحب نے تعجب سے کہا "کیا جناب کو روزہ نہیں ہے؟" مرزا نے کہا "سنی مسلمان ہوں؛ چار گھڑی دن رہے روزہ کھول لیتا ہوں۔"

ایک دفعہ بہادر شاہ بہت سخت بیمار ہوئے۔ اس زمانے میں مرزا حیدر شکوہ، جو اکبر شاہ کے بھتیجے اور مرزا سلیمان شکوہ کے بیٹے تھے، وہ بھی لکھنؤ سے آئے ہوئے تھے اور بادشاہ کے ہاں مہمان تھے۔ ان کا مذہب اثنا عشری تھا۔ جب بادشاہ کو کسی طرح آرام نہ ہوا مرزا حیدر شکوہ کی صلاح سے خاک شفا دی گئی اور اس کے بعد بادشاہ کو صحت ہو گئی۔ مرزا حیدر شکوہ نے نذر مانی تھی کہ بادشاہ کو صحت ہو جائے گی تو حضرت عباس کی درگاہ میں جو کہ لکھنؤ میں ہے علم چڑھاؤں گا۔ چنانچہ انھوں نے لکھنؤ جا کر بادشاہ کو عرضداشت بھیجی کہ میرا مقدور نذر ادا کرنے کا نہیں ہے؛ حضور مدد فرمائیں۔ یہاں سے بادشاہ نے کچھ روپیہ مرزا حیدر شکوہ کو بھجوایا اور انھوں نے بڑی دھوم دھام سے علم چڑھایا، جس میں اودھ کا تمام شاہی خاندان اور امرا و علما سب شریک تھے۔ اور مجتہد العصر کے ہاتھ سے علم چڑھوایا گیا۔

اس واقعے کے بعد یہ بات عموماً مشہور ہو گئی کہ بادشاہ شیعہ ہو گئے۔ اس شہرت کا بادشاہ کو بہت رنج ہوا؛ اور حکیم احسن اللہ خاں مرحوم نے اس کے تدارک کے لیے کچھ رسالے شائع کرائے، اور بہت سے اشتہارات کوچوں اور بازاروں میں چسپاں کرائے گئے، اور بادشاہ کے حکم سے مرزا صاحب نے بھی ایک مثنوی فارسی زبان میں لکھی، جس کا نام غالباً دمغ الباطل رکھا گیا تھا، اور جس میں بادشاہ کو تشیع کے اتہام سے بری کیا گیا تھا۔ اس مثنوی میں مرزا نے اپنی طرف سے کوئی بات نہیں لکھی تھی بلکہ جو مضامین حکیم احسن اللہ خاں نے بتائے تھے ان کو فارسی میں نظم کر دیا تھا۔

جب یہ مثنوی لکھنؤ پہنچی تو مجتہد العصر نے مرزا سے دریافت کیا کہ کیا آپ نے خود مذہب شیعہ اور مرزا حیدر شکوہ کی نسبت اس مثنوی میں ایسا اور ایسا لکھا ہے؟ مرزا نے لکھ بھیجا کہ میں ملازم شاہی ہوں؛ جو کچھ بادشاہ کا حکم ہوتا ہے اس کی تعمیل کرتا ہوں۔ اس مثنوی کا مضمون بادشاہ اور حکیم احسن اللہ خاں کی طرف سے اور الفاظ میری طرف سے تصور فرمائے جائیں۔

سلامتی طبع

مرزا کی طبیعت نہایت سلیم واقع ہوئی تھی۔ باوجودیکہ تیزی ذہن اور سلامتی طبع دو نو ایک جگہ بہت کم جمع ہوتی ہیں؛ مرزا میں یہ دو نو باتیں بوجہ اتم موجود تھیں۔ اسی سلامتی طبع کا اقتضا تھا کہ ابتدائے مشق سخن میں جو ٹیڑھا رستہ انھوں نے اختیار کیا تھا، بغیر اس کے کہ کوئی استاد رہبری کرے، جس قدر عقل و تمیز بڑھتی گئی اسی قدر آہستہ آہستہ اس سے انحراف ہوتا گیا؛ اور آخرکار اساتذۂ مسلم الثبوت کی روش مستقیم پر آ رہے۔

مرزا از راہ عجز و انکسار کہا کرتے تھے کہ قصائد کی تشبیب میں تو میں بھی جہاں عرفی و انوری پہنچتے ہیں افتاں و خیزاں پہنچ جاتا ہوں؛ مگر مدح و ستائش میں مجھ سے ان کا ساتھ نہیں دیا جاتا۔ مرزا کا یہ کہنا بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ جو زور ان کی تشبیبوں میں پایا جاتا ہے وہ مدح میں آ کر باقی نہیں رہتا۔ مگر ہم اس کو ان کے نقص شاعری پر محمول نہیں کرتے؛ بلکہ غایت درجے کی سلامت ذہن اور استقامت طبع کی دلیل جانتے ہیں۔ جھوٹی اور بے اصل باتوں کو چمکانا، اور زمین و آسمان کے قلابے ملانا، اور مبالغہ و اغراق کا طوفان اٹھانا فی الحقیقہ شاعر کا کمال نہیں ہے؛ بلکہ جس قدر اس کی طبیعت ان باتوں سے ابا کرتی ہے اسی قدر جاننا چاہیے کہ وہ شاعری سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ مرزا کی ساری عمر قصیدہ گوئی اور مدح سرائی میں گذری؛ کیونکہ ضرورت انسان سے سب کچھ کراتی ہے۔ مگر فی الحقیقہ، جیسا کہ ہم آگے بیان کریں گے، ان کو خوشامد کرنے کا طریقہ جیسا کہ چاہیے ویسا نہیں آتا تھا۔

اس مقام پر ہم ایک واقعہ لکھتے ہیں، جس سے مرزا کی سلامتی طبع کا کسی قدر اندازہ ہو سکتا ہے۔

مسئلۂ امتناع نظیر خاتم النبیین

مولانا فضل حق مرحوم مرزا کے بڑے گاڑھے دوست تھے اور ان کو فارسی زبان کا نہایت مستند شاعر مانتے تھے۔ چونکہ مولانا کو وہابیوں سے سخت مخالفت تھی؛ انھوں نے مرزا پر نہایت اصرار کے ساتھ یہ فرمایش کی کہ فارسی میں وہابیوں کے خلاف ایک مثنوی لکھ دو، جس میں ان کے بڑے بڑے اور مشہور عقیدوں کی تردید اور خاص کر امتناع نظیر خاتم النبیین کے مسئلے کو زیادہ شرح اور بسط کے ساتھ بیان کرو۔ اس مسئلے میں مولانا اسمعیل شہید کی یہ رائے تھی کہ خاتم النبیین کا مثل ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے؛ ممتنع بالذات نہیں ہے۔ یعنی آنحضرت کا مثل اس لیے پیدا نہیں ہو سکتا کہ اس کا پیدا ہونا آپ کی خاتمیت کے منافی ہے؛ نہ اس لیے کہ خدا اس کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے۔ برخلاف اس کے مولانا فضل حق کی یہ رائے تھی کہ خاتم النبیین کا مثل ممتنع بالذات ہے؛ اور جس طرح خدا اپنا مثل پیدا نہیں کر سکتا اسی طرح خاتم النبیین کا مثل بھی پیدا نہیں کر سکتا۔

مرزا صاحب پر یہ فرمایش ہوئی کہ اس مسئلے پر جو رائے مولانا فضل حق کی ہے وہ فارسی نظم میں بیان کی جائے۔ مرزا نے اول عذر کیا کہ مسائل علمی کا نظم میں بیان کرنا مشکل ہے؛ مگر انھوں نے نہ مانا۔ لاچار مرزا نے ایک مثنوی، جو کہ ان کے کلیات میں مثنویات کے سلسلے میں چھٹی مثنوی ہے، لکھ کر مولانا کو سنائی۔ انھوں نے بے انتہا تعریف کی اور یہ کہا کہ اگر میں فارسی شعر میں تمھاری برابر مشاق ہوتا تو بھی ایسی خوبی سے ان مطالب کو نہ ادا کر سکتا۔ مگر جو کچھ مرزا نے مسئلۂ نظیر خاتم النبیین کے باب میں کسی قدر مولانا کی رائے کے خلاف لکھا تھا اس پر مولانا سخت ناراض ہوئے۔ مرزا نے صاف صاف تو یہ نہیں لکھا تھا کہ خدا خاتم النبیین کا مثل پیدا کرنے پر قادر ہے؛ مگر اس مضمون کو اس پیرائے میں ظاہر کیا تھا کہ اس موجودہ عالم میں تو ایک خاتم کے سوا دوسرا خاتم پیدا نہیں ہو سکتا؛ لیکن خدا قادر ہے کہ ایسا ہی ایک اور عالم پیدا کر دے اور اس میں خاتم النبیین کا مثل، جو اس دوسرے عالم کا خاتم النبیین ہو، خلق فرما دے۔ چنانچہ انھوں نے اس مضمون کو اس طرح نظم کیا ہے:

یک جہاں تا ہست یک خاتم بس ستقدرت حق را نہ یک عالم بس ست

خواہد از ہر ذرہ آرد عالمےہم بود ہر عالمے را خاتمے

ہر کجا ہنگامۂ عالم بودرحمۃ للعالمینے ہم بود

کثرت ابداع عالم خوب تر؟یا بیک عالم دو خاتم خوب تر؟

در یکے عالم دو تا خاتم مجوےصد ہزاراں عالم و خاتم بگوے

جب مرزا اول بار مثنوی لکھ کر مولانا کے پاس لائے تو مضمون مذکور کو اس اخیر شعر پر ختم کر کے لائے تھے۔ مولانا نے فرمایا یہ تم نے کیا بکا ہے کہ متعدد عالموں میں متعدد خاتم ہو سکتے ہیں؟ نہیں بلکہ اگر لاکھ عالم خدا پیدا کرے تو بھی خاتم النبیین ایک ہی ہوگا۔ پس اس مضمون کو مثنوی میں سے بالکل نکال ڈالو؛ اور جس طرح میں کہتا ہوں اس طرح بیان کرو۔ مرزا کو نہ وہابیوں سے کچھ خصومت تھی اور نہ ان کے مخالفوں سے کچھ تعلق تھا؛ بلکہ صرف دوست کی رضاجوئی مقصود تھی۔ انھوں نے مولانا کے حکم کی فوراً تعمیل کی۔ جو کچھ پہلے لکھ چکے تھے اس کو تو اسی طرح رہنے دیا مگر اس کے آگے چند اشعار اور اضافہ کر کے کلام کو اس طرح مربوط کر دیا:

غالب ایں اندیشہ نپذیرم ہمےخردہ ہم بر خویش می گیرم ہمے

اے کہ ختم المرسلینش خواندۂدانم از روئے یقینش خواندۂ

ایں الف لامے کہ استغراق راستحکم ناطق معنئ اطلاق راست

منشاء ایجاد ہر عالم یکیستگر دو صد عالم بود خاتم یکیست

اس کے بعد اسی مضمون کو اور زیادہ پھیلایا ہے؛ اور پھر مثنوی کو ان دو شعروں پر، جن میں نظیر خاتم النبیین کے ممتنع بالذات ہونے کی تصریح ہے، ختم کر دیا ہے:

منفرد اندر کمال ذاتی استلاجرم مثلش محال ذاتی است

زیں عقیدت برنگردم والسلامنامہ را در مے نوردم والسلام

اوپر کے بیان سے ناظرین کو معلوم ہوا ہوگا کہ مرزا کی طبیعت میں کس قدر سلامت روی تھی؟ اور اعوجاج سے کس قدر ان کا ذہن ابا کرتا تھا؟ باوجودیکہ مولانا فضل حق نے اس مسئلے کے متعلق جو کچھ ان کی رائے تھی مرزا کے خوب ذہن نشین کر دی تھی اور مرزا اسی کو اپنی مثنوی میں بیان کرنا چاہتے تھے؛ مگر جس طرح ایک ٹیڑھی چیز نلکی میں آ کر سیدھی ہو جاتی ہے اسی طرح مرزا کی راست بیانی نے اس ٹیڑھی رائے کے تمام بل نکال ڈالے اور بغیر اس کے کہ مرزا کو وہابیوں کی حمایت منظور ہو، جو ٹھیک بات تھی وہ ان کے قلم سے بے اختیار ٹپک پڑی۔ پھر اس کے بعد جو کچھ لکھا ہے وہ مولانا کے جبر سے لکھا ہے؛ اس کو مرزا کے اصلی خیالات سے کچھ تعلق نہیں۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.