
Глава 12 из 18
Food, Mangoes and Wine
غذا، آموں کی رغبت اور ناؤ نوش کی عادت
غذا
مرزا کی نہایت مرغوب غذا گوشت کے سوا اور کوئی چیز نہ تھی۔ وہ ایک وقت بھی بغیر گوشت کے نہیں رہ سکتے تھے؛ یہاں تک کہ مسہل کے دن بھی انھوں نے کھچڑی یا شولہ کبھی نہیں کھایا۔ اخیر میں ان کی خوراک بہت کم ہو گئی تھی۔ صبح کو وہ اکثر شیرۂ بادام پیتے تھے۔ دن کو جو کھانا ان کے لیے گھر میں آتا تھا اس میں صرف پاؤ سیر گوشت کا قورمہ ہوتا تھا۔ ایک پیالے میں بوٹیاں، دوسرے میں لعاب یا شوربا، ایک پیالی میں ایک پھلکے کا چھلکا شوربے میں ڈوبا ہوا، ایک پیالی میں کبھی کبھی ایک انڈے کی زردی، ایک اور پیالی میں دو تین پیسہ بھر دہی، اور شام کو کسی قدر شامی کباب، یا سیخ کے کباب؛ بس اس سے زیادہ ان کی خوراک اور کچھ نہ تھی۔
لطیفہ
ایک روز دوپہر کا کھانا آیا، اور دسترخوان بچھا؛ برتن تو بہت سے تھے؛ مگر کھانا نہایت قلیل تھا۔ مرزا نے مسکرا کر کہا "اگر برتنوں کی کثرت پر خیال کیجیے تو میرا دسترخوان یزید کا دسترخوان معلوم ہوتا ہے؛ اور جو کھانے کی مقدار کو دیکھیے تو بایزید کا۔"
آموں کی رغبت
فواکہ میں آم ان کو نہایت مرغوب تھا۔ آموں کی فصل میں ان کے دوست دور دور سے ان کے لیے عمدہ عمدہ آم بھیجتے تھے؛ اور وہ خود اپنے بعضے دوستوں سے تقاضا کر کر کے آم منگواتے تھے۔ ان کے فارسی مکتوبات میں ایک خط ہے جو غالباً کلکتے کے قیام کے زمانے میں انھوں نے امام باڑہ کے متولی صاحب کو آموں کی طلب میں لکھا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں "تخم تشکم بندہ ام، و قدرے ناتواں؛ ہم آرائش خواں جویم، و ہم آسائش جاں۔ خردوراں دانند کہ ایں ہر دو صفت بانبہ اندر ست؛ و اہل کلکتہ برآنند کہ قلمرو انبہ ہگلی بندر ست۔ آرے انبہ از ہگلی، و گل از گلشن؛ ایثار از جناب، و سپاس از من۔ شوق می سگالد کہ تا پایان موسم دو سہ بار بخاطر دلی نعمت خواہم گذشت۔ و آز می نالد کہ حاشا بدیں مایہ برخورداری خورسند نخواہم گشت۔"
لطیفہ
ایک روز مرحوم بہادر شاہ آموں کے موسم میں چند مصاحبوں کے ساتھ، جن میں مرزا بھی تھے، باغ حیات بخش یا مہتاب باغ میں ٹہل رہے تھے۔ آم کے پیڑ رنگ برنگ کے آموں سے لد رہے تھے۔ یہاں کا آم بادشاہ یا سلاطین یا بیگمات کے سوا کسی کو میسر نہیں آ سکتا تھا۔ مرزا بار بار آموں کی طرف غور سے دیکھتے تھے۔ بادشاہ نے پوچھا "مرزا اس قدر غور سے کیا دیکھتے ہو؟" مرزا نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا "پیر و مرشد یہ جو کسی بزرگ نے کہا ہے 'بر سر ہر دانہ بنوشتہ عیاں؛ کایں فلاں ابن فلاں ابن فلاں'، اس کو دیکھتا ہوں کہ کسی دانے پر میرا اور میرے باپ دادا کا نام بھی لکھا ہے یا نہیں۔" بادشاہ مسکرائے اور اسی روز ایک بہنگی عمدہ عمدہ آموں کی مرزا کو بھجوائی۔
لطیفہ
حکیم رضی الدین خاں جو مرزا کے نہایت دوست تھے ان کو آم نہیں بھاتے تھے۔ ایک دن وہ مرزا کے مکان پر برآمدے میں بیٹھے تھے؛ اور مرزا بھی وہیں موجود تھے۔ ایک گدھے والا اپنے گدھے لیے ہوئے گلی سے گذرا۔ آم کے چھلکے پڑے تھے؛ گدھے نے سونگھ کر چھوڑ دیے۔ حکیم صاحب نے کہا دیکھیے آم ایسی چیز ہے جسے گدھا بھی نہیں کھاتا۔ مرزا نے کہا بے شک گدھا نہیں کھاتا۔
مرزا کی نیت آموں سے کسی طرح سیر نہ ہوتی تھی۔ اہل شہر تحفۃً بھیجتے تھے، خود بازار سے منگواتے تھے؛ باہر سے دور دور کا آم بطور سوغات کے آتا تھا؛ مگر حضرت کا جی نہیں بھرتا تھا۔
لطیفہ
نواب مصطفے خاں مرحوم ناقل تھے کہ ایک صحبت میں مولانا فضل حق اور مرزا اور دیگر احباب جمع تھے؛ اور آم کی نسبت ہر شخص اپنی اپنی رائے بیان کر رہا تھا کہ اس میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہییں۔ جب سب لوگ اپنی اپنی کہہ چکے تو مولانا فضل حق نے مرزا سے کہا کہ تم بھی اپنی رائے بیان کرو۔ مرزا نے کہا بھئی میرے نزدیک تو آم میں صرف دو باتیں ہونی چاہییں؛ میٹھا ہو اور بہت ہو۔ سب حاضرین ہنس پڑے۔
ناؤ نوش کی عادت
مرزا کو مدت سے رات کو سوتے وقت کسی قدر پینے کی عادت تھی۔ جو مقدار انھوں نے مقرر کر لی تھی اس سے زیادہ کبھی نہیں پیتے تھے۔ جس بکس میں بوتلیں رہتی تھیں اس کی کنجی داروغہ کے پاس رہتی تھی؛ اور اس کو سخت تاکید تھی کہ اگر رات کو سرخوشی کے عالم میں مجھ کو زیادہ پینے کا خیال پیدا ہو تو ہرگز میرا کہنا نہ ماننا؛ اور کنجی مجھ کو نہ دینا۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ وہ رات کو کنجی طلب کرتے تھے؛ اور نشے کی جھانجھ میں داروغہ کو بہت برا بھلا کہتے تھے؛ مگر داروغہ نہایت خیرخواہ تھا ہرگز کنجی نہ دیتا تھا۔ اول تو وہ مقدار میں بہت کم پیتے تھے؛ دوسرے اس میں دو تین حصے گلاب ملا لیتے تھے، جس سے اس کی حدت اور تیزی کم ہو جاتی تھی۔ چنانچہ ایک جگہ کہتے ہیں:
آسودہ باد خاطر غالب کہ خوے اوستآمیختن بہ بادۂ صافی گلاب را
مگر باوجود اس قدر احتیاط اور اعتدال کے اس کافر نشے کی عادت نے آخرکار مرزا کی صحت کو سخت صدمہ پہنچایا، جس کی شکایت سے ان کے تمام اردو رقعات بھرے ہوئے ہیں۔
مرزا کے خاص خاص شاگرد اور دوست، جن سے نہایت بے تکلفی تھی، اکثر شام کو ان کے پاس جا کر بیٹھتے تھے؛ اور مرزا سرور کے عالم میں اس وقت بہت پر لطف باتیں کیا کرتے تھے۔
لطیفہ
ایک روز میر مہدی مجروح بیٹھے تھے؛ اور مرزا پلنگ پر پڑے ہوئے کراہ رہے تھے۔ میر مہدی پاؤں دابنے لگے۔ مرزا نے کہا بھئی تو سید زادہ ہے؛ مجھے کیوں گنہگار کرتا ہے؟ انھوں نے نہ مانا؛ اور کہا آپ کو ایسا ہی خیال ہے تو پیر دابنے کی اجرت دے دیجیے گا۔ مرزا نے کہا ہاں اس کا مضائقہ نہیں۔ جب وہ پیر داب چکے انھوں نے اجرت طلب کی۔ مرزا نے کہا "بھیا کیسی اجرت؟ تم نے میرے پاؤں دابے؛ میں نے تمھارے پیسے دابے؛ حساب برابر ہوا۔"
لطیفہ
ایک دن قبل غروب آفتاب کے مرزا صاحب شام کا کھانا کھا رہے تھے اور کھانے میں صرف شامی کباب تھے۔ میں بھی وہاں موجود تھا اور ان کے سامنے بیٹھا رومال سے مکھیاں جھل رہا تھا۔ مرزا نے کہا "آپ ناحق تکلیف فرماتے ہیں؛ میں ان کبابوں میں سے آپ کو کچھ نہ دوں گا۔" پھر آپ ہی یہ حکایت بیان کی کہ "نواب عبد الاحد خاں کے دسترخوان پر ان کے مصاحبوں اور عزیزوں اور دوستوں کے لیے ہر قسم کے کھانے چنے جاتے تھے؛ مگر خاص ان کے لیے ہمیشہ ایک چیز تیار ہوتی تھی۔ وہ اس کے سوا اور کچھ نہ کھاتے تھے۔ ایک روز ان کے لیے مزعفر پکا تھا؛ وہی ان کے سامنے لگایا گیا۔ مصاحبوں میں ایک ڈوم بہت منہ لگا ہوا تھا جو اس وقت دسترخوان پر موجود تھا۔ نواب نے اس کو کھانا دینے کے لیے خالی رکابی طلب کی۔ اس کے آنے میں دیر ہوئی۔ نواب کھانا کھاتے جاتے تھے اور خالی رکابی بار بار مانگتے تھے۔ وہ مصاحب نواب کے آگے رومال ہلانے لگا؛ اور کہا 'حضور اور رکابی کیا کیجیے گا؛ اب یہی خالی ہوئی جاتی ہے۔' نواب یہ فقرہ سن کر پھڑک گئے اور وہی رکابی اس کی طرف سرکا دی۔"
لطیفہ
ایک دفعہ رات کو پلنگ پر لیٹے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے۔ تاروں کی ظاہری بے نظمی اور انتشار دیکھ کر بولے "جو کام خودرائی سے کیا جاتا ہے اکثر بے ڈھنگا ہوتا ہے۔ تاروں کو تو دیکھو کس ابتری سے بکھرے ہوئے ہیں؟ نہ تناسب ہے، نہ انتظام ہے، نہ بیل ہے، نہ بوٹا ہے؛ مگر بادشاہ خود مختار ہے؛ کوئی دم نہیں مار سکتا۔"
لطیفہ
ایک دن سید سردار مرزا مرحوم شام کو چلے آئے۔ جب تھوڑی دیر ٹھیر کر وہ جانے لگے تو مرزا خود اپنے ہاتھ میں شمعدان لے کر کھسکتے ہوئے لب فرش تک آئے تاکہ روشنی میں جوتا دیکھ کر پہن لیں۔ انھوں نے کہا قبلہ و کعبہ آپ نے کیوں تکلیف فرمائی؟ میں اپنا جوتا آپ پہن لیتا۔ مرزا نے کہا "میں آپ کا جوتا دکھانے کو شمعدان نہیں لایا؛ بلکہ اس لیے لایا ہوں کہ کہیں آپ میرا جوتا نہ پہن جائیں۔"
اگرچہ شاعری کی حیثیت سے انھوں نے شراب کی جابجا تعریف کی ہے مگر اعتقاداً وہ اس کو بہت برا جانتے تھے؛ اور اپنے اس فعل پر سخت نادم تھے۔ باوجود اس کے انھوں نے کبھی اپنے اس فعل کو چھپایا نہیں۔
لطیفہ
شراب کے متعلق ان کی ظرافت آمیز باتیں بہت مشہور ہیں۔ ایک شخص نے ان کے سامنے شراب کی نہایت مذمت کی اور کہا کہ شراب خوار کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ مرزا نے کہا بھائی جس کو شراب میسر ہے اس کو اور کیا چاہیے جس کے لیے دعا مانگے۔
لطیفہ
ایک خط کو اس طرح شروع کرتے ہیں: "بے مے نکند در کف من خامہ روائی؛ سر دست ہوا آتش بے دود کجائی۔ میر مہدی! صبح کا وقت ہے۔ جاڑا خوب پڑ رہا ہے۔ انگیٹھی سامنے رکھی ہوئی ہے۔ دو حرف لکھتا ہوں؛ ہاتھ تاپتا جاتا ہوں۔ آگ میں گرمی سہی مگر وہ آتش سیال کہاں کہ جب دو جرعے پی لیے فوراً رگ و پے میں دوڑ گئی۔ دل توانا ہو گیا، دماغ روشن ہو گیا، نفس ناطقہ کو تواجد بہم پہنچا۔ ساقی کوثر کا بندہ اور تشنہ لب!!! ہائے غضب ہائے غضب۔" یہ خط غدر کے بعد اس زمانے میں لکھا ہے جب پنشن وغیرہ سب بند ہے اور بسبب عسرت و تنگدستی کے کچھ پیتے پلاتے نہیں ہیں۔
لطیفہ
میر مہدی مجروح نے جے پور سے خط بھیجا ہے اور وہاں جو کسی تقریب میں کئی سو من مصری کا شربت مہمانوں کے لیے کیا گیا تھا اس کا ذکر لکھا ہے؛ اس کے جواب میں مرزا لکھتے ہیں: "میر احمد حسین و مرزا قربان بیگ نامۂ شمارا خواندند و بہ ذوق شربت ہفت صد من نبات ہر دو را آب در دہن گشت۔ سخن از بادۂ ناب نبود؛ ورنہ مرا نیز دل از جا رفتے۔"
مرزا نے غزلیات و قصائد و قطعات و رباعیات میں شراب کے متعلق جس قدر مضمون باندھے ہیں وہ خواجہ حافظ اور عمر خیام سے کم نہ ہوں گے؛ یہاں ایک شعر اردو غزل کا اور ایک فارسی غزل کا اور ایک فارسی رباعی لکھی جاتی ہے:
کل کے لیے کر آج نہ خست شراب میںیہ سوء ظن ہے ساقی کوثر کے باب میں
خجلت نگر کہ در رخستانم نیافتندجز روزۂ درست بہ صہبا کشودہ
رباعی
غالب بسخن گرچہ گشت ہمسر نیستاز نشۂ ہوش ہیچ اندر سر نیست
مے خواہی و مفت و نقد و آنگہ بسیار!!!ایں بادہ فروش ساقی کوثر نیست
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.