Urdu in Translation
Search

Chapter 11 of 18

Character: Courtesy, Generosity, Memory and Wit

اخلاق، مروت، فراخ حوصلگی، حافظہ اور ظرافت

Altaf Husain Hali

Script
Size

مرزا کے اخلاق و عادات و خیالات

اخلاق

مرزا کے اخلاق نہایت وسیع تھے۔ وہ ہر ایک شخص سے، جو ان سے ملنے جاتا تھا، بہت کشادہ پیشانی سے ملتے تھے۔ جو شخص ایک دفعہ ان سے مل آتا تھا اس کو ہمیشہ ان سے ملنے کا اشتیاق رہتا تھا۔ دوستوں کو دیکھ کر وہ باغ باغ ہو جاتے تھے؛ اور ان کی خوشی سے خوش اور ان کے غم سے غمگین ہوتے تھے۔ اس لیے ان کے دوست ہر ملت اور ہر مذہب کے، نہ صرف دہلی میں بلکہ تمام ہندوستان میں، بے شمار تھے۔ جو خطوط انھوں نے اپنے دوستوں کو لکھے ہیں ان کے ایک ایک حرف سے مہر و محبت و غمخواری و یگانگت ٹپکی پڑتی ہے۔ ہر ایک خط کا جواب لکھنا وہ اپنے ذمے فرض عین سمجھتے تھے۔ ان کا بہت سا وقت دوستوں کے خطوں کے جواب لکھنے میں صرف ہوتا تھا۔ بیماری اور تکلیف کی حالت میں بھی وہ خطوں کے جواب لکھنے سے باز نہ آتے تھے۔ وہ دوستوں کی فرمایشوں سے کبھی تنگدل نہ ہوتے تھے۔ غزلوں کی اصلاح کے سوا اور طرح طرح کی فرمایشیں ان کے بعض خالص و مخلص دوست کرتے تھے اور وہ ان کی تعمیل کرتے تھے۔ لوگ ان کو اکثر بیرنگ خط بھیجتے تھے مگر ان کو کبھی ناگوار نہ گذرتا تھا۔ اگر کوئی شخص لفافے میں ٹکٹ رکھ کر بھیجتا تھا تو سخت شکایت کرتے تھے۔ انھوں نے میسور کے ایک شہزادے کو اپنی کوئی کتاب بھیجی ہے؛ اس نے کتاب کی رسید لکھی ہے، اور قیمت دریافت کی ہے۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں "حرف پرسش مقدار قیمت چرا بزبان قلم رفت؟ ہنجار نوازش نیازمنداں بے نوا نہ اینست۔ بے سرمایہ ام نہ فرومایہ؛ سخنورم نہ سوداگر؛ مؤینہ پوشم نہ کتاب فروش؛ پذیرندۂ عطایم نہ گیرندۂ بہا۔ ہر چہ آزادگاں بشہزادگاں فرستند نذر ست؛ و ہر چہ شاہزادگاں بآزادگاں بخشند تبرک۔ بیع و شرا نیست؛ چون و چرا نیست۔ ہر چہ فرستادہ ام ارمغان ست؛ و ہر چہ خواہم فرستاد ارمغاں خواہد بود۔"

مروت

مروت اور لحاظ مرزا کی طبیعت میں بدرجۂ غایت تھا۔ باوجودیکہ اخیر عمر میں وہ اشعار کی اصلاح دینے سے بہت گھبرانے لگے تھے؛ باایں ہمہ کبھی کسی کا قصیدہ یا غزل بغیر اصلاح کے واپس نہ کرتے تھے۔

لطیفہ

ایک صاحب کو لکھتے ہیں "جہاں تک ہو سکا احباب کی خدمت بجا لایا۔ اوراق اشعار لیٹے لیٹے دیکھتا تھا اور اصلاح دیتا تھا۔ اب نہ آنکھ سے اچھی طرح سوجھے، نہ ہاتھ سے اچھی طرح لکھا جائے۔ کہتے ہیں کہ شاہ شرف بو علی قلندر کو بسبب کبر سن کے خدا نے فرض اور پیمبر نے سنت معاف کر دی تھی۔ میں متوقع ہوں کہ میرے دوست بھی خدمت اصلاح اشعار مجھ پر معاف کریں۔ خطوط شوقیہ کا جواب جس صورت سے ہو سکے گا لکھ دیا کروں گا۔"

لطیفہ

باوجود اس کے بھی لوگ مرزا کو برابر ستاتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ کہیں مرزا تفتہ نے یہ لکھ دیا تھا کہ آپ نے بسبب ذوق سخن کے اصلاح اشعار منظور فرمائی تھی۔ اس کے جواب میں لکھتے ہیں "لاحول ولا قوۃ! کس ملعون نے بسبب ذوق شعر کے اشعار کی اصلاح منظور رکھی؟ اگر میں شعر سے بیزار نہ ہوں تو میرا خدا مجھ سے بیزار۔ میں نے تو بطریق قہر درویش بجان درویش لکھا تھا؛ جیسے اچھی جورو برے خاوند کے ساتھ مرنا بھرنا اختیار کرتی ہے میرا تمھارے ساتھ وہ معاملہ ہے۔"

فراخ حوصلگی

اگرچہ مرزا کی آمدنی قلیل تھی مگر حوصلہ فراخ تھا۔ سائل ان کے دروازے سے خالی ہاتھ بہت کم جاتا تھا۔ ان کے مکان کے آگے اندھے، لنگڑے، لولے اور اپاہج مرد و عورت ہر وقت پڑے رہتے تھے۔ غدر کے بعد ان کی آمدنی کچھ اوپر ڈیڑھ سو روپیہ ماہوار کی ہو گئی تھی؛ اور کھانے پینے کا خرچ بھی کچھ لمبا چوڑا نہ تھا؛ مگر وہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد اپنی بساط سے زیادہ کرتے تھے؛ اس لیے اکثر تنگ رہتے تھے۔

غدر کے بعد ایک بار میں نے خود دیکھا کہ نواب لفٹنٹ گورنر کے دربار میں ان کو حسب معمول سات پارچے کا خلعت مع تین رقوم جواہر کے ملا تھا۔ لفٹنٹی کے چپراسی اور جمعدار قاعدے کے موافق انعام لینے کو آئے۔ مرزا صاحب کو پہلے ہی معلوم تھا کہ انعام دینا ہوگا؛ اس لیے انھوں نے دربار سے آتے ہی خلعت اور رقوم جواہر بازار میں فروخت کرنے کے لیے بھیج دی تھیں۔ چپراسیوں کو الگ مکان میں بٹھا دیا اور جب بازار سے خلعت کی قیمت آئی تب ان کو انعام دے کر رخصت کیا۔

وہ اپنے ان دوستوں کے ساتھ جو گردش روزگار سے بگڑ گئے تھے نہایت شریفانہ طور سے سلوک کرتے تھے۔ دلی کے عمائد میں سے ایک صاحب، جو مرزا کے دلی دوست تھے، اور غدر کے بعد ان کی حالت سقیم ہو گئی تھی، ایک روز چھینٹ کا فرغل پہنے ہوئے مرزا سے ملنے کو آئے۔ مرزا نے کبھی ان کو مالیدہ یا جامہ وار وغیرہ کے چغوں کے سوا ایسا حقیر کپڑا پہنے نہیں دیکھا تھا۔ چھینٹ کا فرغل ان کے بدن پر دیکھ کر دل بھر آیا۔ ان سے پوچھا کہ یہ چھینٹ آپ نے کہاں سے لی؟ مجھے اس کی وضع بہت ہی بھلی معلوم ہوتی ہے؛ آپ مجھے بھی فرغل کے لیے یہ چھینٹ منگوا دیں۔ انھوں نے کہا یہ فرغل آج ہی بن کر آیا ہے، اور میں نے اسی وقت اس کو پہنا ہے؛ اگر آپ کو پسند ہے تو یہی حاضر ہے۔ مرزا نے کہا جی تو یہی چاہتا ہے کہ اسی وقت آپ سے چھین کر پہن لوں مگر جاڑا شدت سے پڑ رہا ہے آپ یہاں سے مکان تک کیا پہن کر جائیں گے؟ پھر ادھر ادھر دیکھ کر کھونٹی پر سے اپنا مالیدہ کا نیا چغہ اتار کر انھیں پہنا دیا اور اس خوبصورتی کے ساتھ وہ چغہ ان کی نذر کیا۔

وہ ایک خط میں لکھتے ہیں "قلندری و آزادگی و ایثار و کرم کے جو دواعی میرے خالق نے مجھ میں بھر دیے ہیں بقدر ہزار ایک ظہور میں نہ آئے۔ نہ وہ طاقت جسمانی کہ ایک لاٹھی ہاتھ میں لوں اور اس میں شطرنجی اور ایک ٹین کا لوٹا مع سوت کی رسی کے لٹکا لوں اور پیادہ پا چل دوں؛ کبھی شیراز جا نکلا، کبھی مصر میں جا ٹھیرا، کبھی نجف جا پہنچا۔ نہ وہ دستگاہ کہ ایک عالم کا میزبان بن جاؤں۔ اگر تمام عالم میں نہ ہو سکے نہ سہی؛ جس شہر میں رہوں اس شہر میں تو بھوکا ننگا نظر نہ آئے۔ خدا کا مقہور، خلق کا مردود، بوڑھا، ناتوان، بیمار، فقیر، نکبت میں گرفتار۔ میرے اور معاملات کلام و کمال سے قطع نظر کرو؛ وہ جو کسی کو بھیک مانگتے نہ دیکھ سکے اور خود در بدر بھیک مانگے وہ میں ہوں۔"

حافظہ

جیسی مرزا کی طبیعت میں دراکی اور ذہن میں جودت اور سرعت انتقال تھی اسی طرح ان کا حافظہ بھی نہایت قوی تھا۔ ہم اوپر لکھ چکے ہیں کہ ان کے گھر میں کتاب کا کہیں نشان نہ تھا؛ ہمیشہ کرایے کی کتابیں منگوا لیتے تھے؛ اور ان کو دیکھ کر واپس بھیج دیتے تھے۔ مگر جو لطیف یا کام کی بات کتاب میں نظر پڑ جاتی تھی ان کے دل پر نقش ہو جاتی تھی۔ فارسی کلام میں وہ کوئی لفظ یا محاورہ یا ترکیب ایسی نہیں برتتے تھے جس کی سند اہل زبان کے کلام سے نہ دے سکتے ہوں۔ کلکتے میں جن لوگوں نے ان کے کلام پر اعتراض کیے تھے، اور جن کے جواب میں مرزا نے مثنوی باد مخالف لکھی تھی؛ ان کو مثنوی کے علاوہ ایک ایک اعتراض کے جواب میں دس دس بارہ بارہ سندیں اساتذہ کے کلام سے لکھ کر علیحدہ بھیجی تھیں؛ چنانچہ انھوں نے اپنے خطوط میں ان کو مفصل بیان کیا ہے۔ برہان قاطع پر جو کچھ انھوں نے لکھا وہ محض اپنی یادداشت کے بھروسے پر لکھا۔ فکر شعر کا یہ طریقہ تھا کہ اکثر رات کو عالم سرخوشی میں فکر کیا کرتے تھے؛ اور جب کوئی شعر سرانجام ہو جاتا تھا تو کمربند میں ایک گرہ لگا لیتے تھے۔ اسی طرح آٹھ آٹھ دس دس گرہیں لگا کر سو رہتے تھے؛ اور دوسرے دن صرف یاد پر سوچ سوچ کر تمام اشعار قلمبند کر لیتے تھے۔

شعر فہمی

شعر فہمی اور کتاب فہمی میں وہ ایک مستثنیٰ آدمی تھے۔ کیسا ہی مشکل مضمون ہو وہ اکثر ایک سرسری نظر میں اس کی تہ کو پہنچ جاتے تھے۔ نواب مصطفے خاں مرحوم گلشن بیخار میں مرزا کی نسبت لکھتے ہیں "مضامین شعری را کماہو حقہ می فہمد، و بجمیع نکات و لطائف پے می برد؛ و ایں فضیلتیست کہ مخصوص خواص اہل سخن است۔ اگر طبع سخن شناس داری بایں نکتہ می رسی؛ چہ، خوش فکر اگرچہ کمیابست اما خوش فہم کمیاب تر۔ خوشا حال کسیکہ از ہر دو شربے یافتہ، و حظے ربودہ۔ بالجملہ چنیں نکتہ سنج نغز گفتار کمتر مرئی شدہ۔"

سخن سنجی

نواب ممدوح نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا جس سے مرزا کی سخن سنجی کا بہت بڑا ثبوت ملتا ہے۔ مولانا آزردہ نے "دور نہیں"، "حور نہیں" اس زمین میں غزل لکھی تھی۔ اس میں اتفاق سے مطلع بہت اچھا نکل آیا تھا۔ مولانا نے اپنی غزل دوستوں کو سنا کر ان سے کہا کہ اگرچہ بحر دوسری ہے مگر اسی ردیف و قافیے میں نظیری کی بھی ایک غزل ہے جس کا مطلع یہ ہے "عشق عصیانست اگر مستور نیست؛ کشتۂ جرم زباں مغفور نیست۔" ظاہر ہے کہ اگر نظیری ہندی نژاد ہوتا اور اسی زمین میں، جس میں ہماری غزل ہے، اردو غزل لکھتا تو اس کا مطلع اس طرح ہوتا "عشق عصیاں ہے اگر مخفی و مستور نہیں؛ کشتۂ جرم زباں ناجی و مغفور نہیں۔" آؤ آج مرزا غالب کے ہاں چلیں اور، بغیر اس کے کہ قائل کا نام لیا جائے، اپنا مطلع اور نظیری کے مطلع کا یہی اردو ترجمہ (جو اوپر مذکور ہوا) مرزا کو سنائیں اور پوچھیں کہ "کون سا مطلع اچھا ہے۔" چونکہ نظیری کا مطلع اردو ترجمے سے بہت پست ہو گیا تھا، سب کو یقین تھا کہ مرزا نظیری کے مطلع کو ناپسند کریں گے اور مولانا آزردہ کے مطلع کو ترجیح دیں گے۔ چنانچہ مولانا اور نواب صاحب اور بعض اور احباب مرزا کے ہاں پہنچے۔ معمولی بات چیت کے بعد مولانا نے کہا کہ اردو کے دو مطلع ہیں؛ ان میں آپ محاکمہ کیجیے کہ کون سا مطلع اچھا ہے؟ اور بطور مبہم کے اول نظیری کے مطلع کا یہی ترجمہ پڑھا۔ ابھی مولانا اپنا مطلع پڑھنے نہیں پائے تھے کہ مرزا اس مطلع کو سن کر سر دھننے لگے؛ اور متحیر ہو کر پوچھنے لگے کہ یہ مطلع کس نے لکھا؟ اور اس قدر تعریف کی کہ مولانا آزردہ کو یہ امید نہ رہی کہ اس سے زیادہ میرے مطلع کی داد ملے گی۔ چنانچہ انھوں نے اپنا مطلع نہیں پڑھا؛ اور سب لوگ نہایت تعجب کرتے ہوئے وہاں سے اٹھے۔

کتاب فہمی

مرزا حقائق و معارف کی کتابیں اکثر مطالعہ کرتے تھے اور ان کو خوب سمجھتے تھے۔ نواب ممدوح فرماتے تھے کہ میں شاہ ولی اللہ کا ایک فارسی رسالہ، جو حقائق و معارف کے نہایت دقیق مسائل پر مشتمل تھا، مطالعہ کر رہا تھا؛ اور ایک مقام بالکل سمجھ میں نہ آتا تھا۔ اتفاقاً اسی وقت مرزا صاحب آ نکلے۔ میں نے وہ مقام مرزا کو دکھایا۔ انھوں نے کسی قدر غور کے بعد اس کا مطلب ایسی خوبی اور وضاحت کے ساتھ بیان کیا کہ شاہ صاحب بھی شاید اس سے زیادہ نہ بیان کر سکتے۔

حسن بیان اور ظرافت

مرزا کی تقریر میں ان کی تحریر اور ان کی نظم و نثر سے کچھ کم لطف نہ تھا اور اسی وجہ سے لوگ ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کے مشتاق رہتے تھے۔ وہ زیادہ بولنے والے نہ تھے؛ مگر جو کچھ ان کی زبان سے نکلتا تھا لطف سے خالی نہ ہوتا تھا۔ ظرافت مزاج میں اس قدر تھی کہ اگر ان کو بجائے حیوان ناطق کے حیوان ظریف کہا جائے تو بجا ہے۔ حسن بیان، حاضر جوابی، اور بات میں سے بات پیدا کرنا ان کی خصوصیات میں سے تھا۔

لطیفہ

ایک دفعہ جب رمضان گذر چکا تو قلعے میں گئے۔ بادشاہ نے پوچھا مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟ عرض کیا پیر و مرشد ایک نہیں رکھا۔

لطیفہ

ایک دن نواب مصطفے خاں کے مکان پر ملنے کو آئے۔ ان کے مکان کے آگے چھتہ بہت تاریک تھا۔ جب چھتے سے گذر کر دیوانخانے کے دروازے پر پہنچے تو وہاں نواب صاحب ان کے لینے کو کھڑے تھے۔ مرزا نے ان کو دیکھ کر یہ مصرع پڑھا "کہ آب چشمۂ حیواں درون تاریکیست۔" جب دیوانخانے میں پہنچے تو اس کے دالان میں بسبب شرق رویہ ہونے کے دھوپ بھری ہوئی تھی۔ مرزا نے وہاں یہ مصرع پڑھا "ایں خانہ تمام آفتاب ست۔"

لطیفہ

ایک صحبت میں مرزا میر تقی کی تعریف کر رہے تھے۔ شیخ ابراہیم ذوق بھی موجود تھے؛ انھوں نے سودا کو میر پر ترجیح دی۔ مرزا نے کہا "میں تو تم کو میری سمجھتا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ آپ سودائی ہیں۔"

لطیفہ

مولوی امام بخش صہبائی مرحوم کی رائے پنج رقعہ اور مینا بازار کی نسبت یہ تھی کہ یہ دو نو تحریریں بھی مثل سہ نثر کے ملا ظہوری کی ہیں مگر مرزا اس کے خلاف تھے۔ ایک جلسے میں دو نو صاحب موجود تھے۔ اتفاق سے یہ ذکر چھڑ گیا۔ مرزا نے کہا "قطع نظر اس کے کہ سہ نثر کی اور پنج رقعہ و مینا بازار کی طرز میں بون بعید ہے؛ ظہوری کی شان سے نہیں ہے کہ وہ نثر کے ساتھ نظم نہ لکھے۔ تمام سہ نثر میں ایسا ایک صفحہ بھی مشکل سے نکلے گا جس میں نثر ہو اور نظم نہ ہو۔ برخلاف اس کے تمام پنج رقعہ و مینا بازار میں ایک شعر کے سوا، کہ وہ بھی ظہوری کا نہیں ہے، نظم کا کہیں پتا نہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جو شخص نظم و نثر دو نو چیزوں پر برابر قدرت رکھتا ہو اس کی نثر میں کہیں نظم نہ پائی جائے۔" مولانا صہبائی نے کہا "ایسے اتفاقات اکثر ہو جاتے ہیں؛ یہ محض ایک اتفاق کی بات ہے۔" مرزا نے کہا "بے شک! مگر یہ ایسا اتفاق ہوگا کہ ایک شخص ہر ایک لحاظ سے نہایت سنجیدہ، شایستہ، اور معقول آگے کا آدمی ہے؛ مگر اتفاق سے کبھی کبھی کاٹ بھی کھاتا ہے۔" یہ سن کر سب لوگ ہنس پڑے؛ اور مولانا صہبائی مسکرا کر خاموش ہو رہے۔

لطیفہ

مکان کے جس کمرے میں مرزا دن بھر بیٹھتے اٹھتے تھے وہ مکان کے دروازے کی چھت پر تھا؛ اور اس کے ایک جانب ایک کوٹھڑی تنگ و تاریک تھی، جس کا در اس قدر چھوٹا تھا کہ کوٹھڑی میں بہت جھک کر جانا پڑتا تھا؛ اس میں ہمیشہ فرش بچھا رہتا تھا اور مرزا اکثر گرمی اور لو کے موسم میں دس بجے سے تین چار بجے تک وہاں بیٹھتے تھے۔ ایک دن، جبکہ رمضان کا مہینا اور گرمی کا موسم تھا، مولانا آزردہ ٹھیک دوپہر کے وقت مرزا سے ملنے کو چلے آئے۔ اس وقت مرزا صاحب اسی کوٹھڑی میں کسی دوست کے ساتھ چوسر یا شطرنج کھیل رہے تھے۔ مولانا بھی وہیں پہنچے؛ اور مرزا کو رمضان کے مہینے میں چوسر کھیلتے ہوئے دیکھ کر کہنے لگے کہ "ہم نے حدیث میں پڑھا تھا کہ رمضان کے مہینے میں شیطان مقید رہتا ہے؛ مگر آج اس حدیث کی صحت میں تردد پیدا ہو گیا۔" مرزا نے کہا "قبلہ! حدیث بالکل صحیح ہے؛ مگر آپ کو معلوم رہے کہ وہ جگہ جہاں شیطان مقید رہتا ہے وہ یہی کوٹھڑی تو ہے۔"

الغرض مرزا کی کوئی بات لطف اور ظرافت سے خالی نہ ہوتی تھی۔ اگر کوئی ان کے تمام ملفوظات جمع کرتا تو ایک ضخیم کتاب لطائف و ظرائف کی تیار ہو جاتی۔

خودداری

باوجودیکہ مرزا کی آمدنی اور مقدور بہت کم تھا؛ مگر خودداری اور حفظ وضع کو وہ کبھی ہاتھ سے نہ دیتے تھے۔ شہر کے امرا و عمائد سے برابر کی ملاقات تھی۔ کبھی بازار میں بغیر پالکی یا ہوادار کے نہیں نکلتے تھے۔ عمائد شہر میں سے جو لوگ ان کے مکان پر نہیں آتے تھے؛ وہ بھی کبھی ان کے مکان پر نہیں جاتے تھے۔ اور جو شخص ان کے مکان پر آتا تھا وہ بھی اس کے مکان پر ضرور جاتے تھے۔

لطیفہ

ایک روز کسی سے مل کر نواب مصطفے خاں مرحوم کے مکان پر آئے؛ میں بھی اس وقت وہاں موجود تھا؛ نواب صاحب نے کہا آپ مکان سے سیدھے یہیں آتے ہیں یا کہیں اور بھی جانا ہوا تھا؟ مرزا نے کہا مجھ کو ان کا ایک آنا دینا تھا؛ اس لیے اول وہاں گیا تھا؛ وہاں سے یہاں آیا ہوں۔

لطیفہ

ایک دن دیوان فضل اللہ خاں مرحوم، چرٹ میں سوار، مرزا کے مکان کے پاس سے بغیر ملے نکل گئے۔ مرزا کو معلوم ہوا تو انھوں نے ایک رقعہ دیوان جی کو لکھا؛ مضمون یہ "کہ آج مجھ کو اس قدر ندامت ہوئی ہے کہ شرم کے مارے زمین میں گڑا جاتا ہوں۔ اس سے زیادہ اور کیا نالائقی ہو سکتی ہے کہ آپ کبھی نہ کبھی تو اس طرف سے گذریں اور میں سلام کو حاضر نہ ہوں۔" جب یہ رقعہ دیوان جی پاس پہنچا وہ نہایت شرمندہ ہوئے اور اسی وقت گاڑی میں سوار ہو کر مرزا صاحب سے ملنے کو آئے۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.