Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 4 sur 20

La musique et l'école du maulvi

Music and the Maulvi's Schoolroom

۳: موسیقی کی تعلیم اور مولوی صاحب کا مکتب

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

Écriture
Taille

اک حال میں انساں کی بسر ہو نہیں سکتیاب رنگ طبیعت کا بدل جائے تو اچھا

مرزا رسوا صاحب! خانم کا مکان تو آپ کو یاد ہوگا، کس قدر وسیع تھا، کتنے کمرے تھے۔ ان سب میں رنڈیاں (خانم کی نوچیاں) رہتی تھیں۔ بسم اللہ (خانم کی لڑکی) اور خورشید میری ہم سن تھی۔ ان کی ابھی رنڈیوں میں گنتی نہ تھی۔ ان کے علاوہ دس گیارہ ایسی تھیں جو الگ الگ کمروں میں رہتی تھیں۔ ہر ایک کا عملہ جدا تھا، ہر ایک کا دربار علیحدہ ہوتا تھا۔ ایک سے ایک خوب صورت تھی۔ سب گہنے پاتے سے آراستہ، ہر وقت بنی ٹھنی، تولواں جوڑے پہنے۔ سادے کپڑے جو ہم لوگ روزمرہ پہنے رہتے تھے، وہ اور رنڈیوں کو عید بقرعید میں نصیب نہیں ہوتے۔ خانم کا مکان کیا تھا، ایک پرستان تھا۔ جس کمرے میں جا نکلو، سوائے ہنسی مذاق، گانے بجانے کے کوئی اور چرچا نہ تھا۔ اگرچہ میں کم سن تھی، مگر پھر بھی عورت ذات بڑی ہوشیار ہوتی ہے، اپنے مطلب کی سب سمجھتی تھی۔

بسم اللہ اور خورشید کو گاتے ناچتے دیکھ کر میرے دل میں خود بخود ایک امنگ سی پیدا ہوئی۔ بجائے خود گنگنانے اور تھرکنے لگی۔ اسی عرصے میں میری تعلیم بھی شروع ہو گئی۔ میری طبیعت فنِ موسیقی کے بہت ہی مناسب پائی گئی۔ آواز بھی پکے گانے کے لائق تھی۔ سرگم صاف ہونے کے بعد استاد نے استائی شروع کرا دی۔ استاد جی بہت اصول سے تعلیم دیتے تھے۔ ہر ایک راگ کا سر بیورہ زبانی یاد کرایا جاتا تھا اور وہی گلے سے نکلواتے تھے۔ مجال نہ تھی کوئی سر کومل سے اتی کومل، سدھ سے اسدھ یا تیور سے تیور تر ہو جائے۔ اور میری بھی حجتیں کرنے کی عادت تھی۔ پہلے تو استاد جی (خدا کرے ان کی روح شرمندہ نہ ہو) ٹال دیا کرتے تھے۔ ایک دن خانم صاحب کے سامنے میں رام کلی گا رہی تھی، دھیوت سدھ لگ گئی۔ استاد جی نے نہ ٹوکا۔ خانم صاحب نے پھر اسی کو کہوایا۔ میں نے پھر اسی طرح کہا۔ استاد جی پھر باخبر نہ ہوئے۔ خانم صاحب نے میری طرف گھور کے دیکھا۔ میں استاد جی کا منہ دیکھنے لگی۔ انہوں نے سر جھکا لیا۔ پھر تو خانم نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔

خانم: بھلا استاد جی، یہ کیا تھا؟ رام کلی میں اوچار دھیوت سے ہے اور وہی سر ٹھیک نہیں۔ میں آپ سے پوچھتی ہوں، دھیوت کومل ہے یا سدھ؟

استاد: کومل۔

خانم: اور چھوکری نے کیا کہا تھا؟

استاد: سدھ۔

خانم: پھر آپ نے ٹوکا کیوں نہیں؟

استاد: کچھ مجھے خیال نہ رہا۔

خانم: واہ، خیال کیوں نہیں رہا۔ اسی لیے میں نے دوبارہ کہوایا۔ پھر بھی آپ منہ میں گھنگھنیاں بھرے بیٹھے رہے۔ آپ اسی طرح چھوکریوں کو تعلیم دیتے ہیں؟ ابھی کسی سمجھ دار کے سامنے اس طرح گاتی تو کیا وہ میرے جنم میں تھوکتا۔

استاد جی اس وقت تو بہت ہی خفیف ہوئے، چپ ہو رہے، مگر دل میں بات لیے رہے۔ استاد جی اپنے کو نائک سمجھتے تھے اور تھے بھی ایسے ہی۔ اس دن خانم کا ٹوکنا ان کو بہت ناگوار ہوا۔

ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ میں سوہا گا رہی ہوں، خانم بھی موجود ہیں۔ میں نے استاد جی سے پوچھا: "گندھار اس میں کومل ہے یا اتی کومل؟"

استاد جی: اتی کومل۔

خانم: خاں صاحب! ماشاء اللہ! یہ میرے سامنے!

استاد جی: کیوں؟

خانم: اور پھر آپ مجھی سے پوچھتے ہیں "کیوں؟" سوہا میں گندھار اتی کومل ہے؟ بھلا آپ تو کہیے۔

استاد جی: گندھار کومل کو اتی کومل لگ گئے۔

خانم: بس آپ ہی قائل ہو جیے۔ خود آپ "کومل" کہیں اور چھوکری کو "اتی کومل"۔ یا تو آپ چھوکری کو بہکاتے ہیں یا مجھے کستے ہیں۔ خاں صاحب! میں کچھ عطائی نہیں۔ خاک چاٹ کے کہتی ہوں، گلے سے چاہے نہ ادا ہو، مگر ان کانوں نے کیا نہیں سنا؟ میں بھی ایسے ویسے گھرانے کی شاگرد نہیں ہوں۔ میاں غلام رسول کو آپ جانتے ہوں گے۔ ان باتوں سے کیا فائدہ۔ اگر بتانا ہو تو دل سے بتائیے، نہیں تو معاف کیجیے۔ میں کوئی اور بندوبست کر لوں گی۔ چھوکریوں کو غارت نہ کیجیے۔

استاد جی: بہت خوب!

یہ کہہ کر اٹھ گئے۔ کئی دن نہیں آئے۔ خانم خود تعلیم دینے لگیں۔ چند روز کے بعد خلیفہ جی بیچ میں پڑے، قسما قسمی ہو کے ملاپ ہو گیا۔ اس دن سے استاد جی ٹھیک ٹھیک بتانے لگے۔ بتاتے نہ تو کرتے کیا، وہ خانم کو اتنا نہ سمجھتے تھے۔ مجھے عمر بھر حیرت رہی کہ خانم زیادہ جانتی ہیں یا استاد جی، کیوں کہ بہت سی باتیں جو خانم سے معلوم ہوئیں، استاد جی ان کو نہ بتا سکتے تھے یا جان بوجھ کے نہ بتاتے تھے۔ لاکھ قسما قسمی ہو چکی تھی، مگر پھر بھی یہ لوگ گُر کی باتیں نہیں بتاتے۔ مجھے کچھ ایسا شوق ہو گیا تھا کہ جہاں کسی بات میں شک ہوا، یا میں سمجھتی کہ استاد جی ٹال لیتے ہیں، استاد جی کے جانے کے بعد خانم صاحب سے پوچھ لیتی تھی۔ وہ بھی میرے اس شوق سے بہت خوش ہوتی تھیں۔ بسم اللہ کو لعنتیاں دیا کرتی تھیں۔ بسم اللہ پر بہت محنت ہوئی، مگر ٹپہ ٹھمری کے سوا کچھ نہ آیا، اس پر بھی لے سے ہانوں رہیں۔ خورشید کی آواز اچھی نہ تھی۔ صورت پری کی، گلا ایسا جیسے پھٹا بانس۔ ہاں، ناچنے میں اچھی تھی اور یہی اس نے سیکھا بھی تھا۔ ان کا مجرا صرف ناچ کا ہوتا تھا۔ یوں گانے کو ایک آدھ چیز سیدھی سادی گا بھی دیتی تھیں کہ گانے کا نام ہو جائے۔

خانم کی نوچیوں میں بیگا جان گانے میں فرد تھیں، مگر صورت وہ کہ رات کو دیکھو تو ڈر جاؤ۔ سیاہ جیسے الٹا توا، اس پر چیچک کے داغ، پاؤ بھر قیمہ بھر دو تو سما جائے۔ لال لال آنکھیں، بھدی ناک بیچ میں سے پچکی ہوئی، موٹے موٹے ہونٹ، بڑے بڑے دانت، فربہ انتہا سے زیادہ، اس پر ٹھنگنا قد۔ بونی ہتھنی کی لوگ پھبتی کستے تھے۔ مگر قیامت کا گلا تھا۔ معلومات بہت اچھی تھیں۔ مور چھنا انہی کے گلے سے نکلتے سنا۔ میں جب ان کے کمرے میں جا نکلتی، مارے فرمائشوں کے دق کر دیتی تھی۔

میں: باجی! ہاں، ذرا سرگم تو کہنا۔

بیگا: سنو: سا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی۔

میں: میں یہ نہیں مانتی، سرتیاں الگ الگ کر کے بتاؤ۔

بیگا: لڑکی! تو بہت ستاتی ہے۔ اپنے استاد جی سے کیوں نہیں پوچھتی؟

میں: اللہ! باجی، تم ہی بتا دو۔

بیگا: سا ۴، رے ۳، گا ۲، ما ۴، پا ۴، دھا ۳، نی ۲۔ دیکھ، بائیس ہوئیں؟

میں: (شرارت سے) اوئی، میں نے نہیں گنیں، پھر کہو۔

بیگا: جا، اب نہیں کہتی۔

میں: واہ! میں تو کہوا کر چھوڑوں گی۔

بیگا: پھر وہی! کہہ دیا، لے اب نہ ستا۔

میں: ہاں، اب کی گنیں۔ "نی" میں دو ہیں نا؟

بیگا: ہاں، دو۔

میں: تو ٹھیک بائیس ہوئیں۔ اب تینوں گرام کہہ دو۔

بیگا: لے اب ٹہلیے، کل آئیے گا۔

میں: اچھا، تنبورہ اٹھا لاؤں، کچھ گاؤ۔

بیگا: کیا گاؤں؟

میں: دھناسری۔

بیگا: کیا گاؤں؟ استائی، دھرپد، ترانہ؟

میں: اللہ! باجی، دھرپد گاؤ۔

بیگا: لے سن:
تن کی تپ تب ہی مٹے جب پیارے کو درشٹ بھر دیکھوں گی
جب درشن پاؤں گی ان کا تب ہی جی جنم اپنا لیکھوں گی
اشٹ جام دھیان موہے واکو رہت ہے، رہے نا جانوں کب درشن تھیلوں گی
جو کو ہو پربھو پیارے سے ملا دے، وا کے پائن میں سیس ٹیکوں گی

خانم جان کی نوچیوں کو صرف ناچ گانے کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی، بلکہ لکھنے پڑھنے کے لیے مکتب بھی تھا۔ مولوی صاحب نوکر تھے۔ حسبِ دستور میں بھی مکتب میں بھیجی گئی۔ مولوی صاحب کا نورانی چہرہ، سفید کترواں داڑھی، صوفیانہ لباس، ہاتھ میں عمدہ عمدہ فیروزے اور عقیق کی انگوٹھیاں، خاکِ پاک کی تسبیح، اس میں سجدہ گاہ بندھی ہوئی، ہرونی کی جریب، چاندی کی شام، بہت ہی نفیس ڈیڑھ خمہ حقہ، افیون کی ڈبیا، پیالی، غرضیکہ جملہ تبرکات آج تک نظر میں ہیں۔ کیا ستھرا مذاق تھا! وضع دار بھی ایسے کہ کسی زمانے میں بوا حسینی سے حسبِ اتفاق کچھ رسم ہو گیا تھا، آج تک اسے نباہے جاتے تھے۔ بوا حسینی بھی انہیں دین و دنیا کا شوہر سمجھتی تھیں۔ بڑھیا بڈھے میں اس مزے کی باتیں ہوتی تھیں کہ جوانوں کو حوصلہ ہوتا تھا۔ مکان کہیں زید پور کی طرف تھا۔ گھر پر خدا کے دیے گاؤں گراؤں، مکان، بیوی، جوان لڑکے لڑکیاں، سب کچھ موجود تھا، مگر خوب جب لکھنؤ میں تحصیلِ علم کے لیے تشریف لائے، یہیں کے ہو رہے۔ شاید دو چار مرتبہ گئے ہوں گے۔ اکثر عزیز ملنے کو یہیں چلے آتے تھے۔ گھر سے کبھی کبھی کچھ روپیہ بھی آیا کرتا تھا۔ دس روپے خانم صاحب دیتی تھیں۔ یہ سب بوا حسینی کو ملتا تھا۔ کھانے پینے، حقہ افیون کی تاک بوا حسینی لیتی تھیں۔ تحویل دار بھی بوا حسینی تھیں۔ کپڑا بوا حسینی بنوا دیتی تھیں۔ خانم صاحب بھی مولوی صاحب کو بہت مانتی تھیں، بلکہ مولوی صاحب کی وجہ سے بوا حسینی کی عزت کرتی تھیں۔

یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ میری پرورش بوا حسینی نے اپنے ذمے لی تھی، اس لیے مجھ پر مولوی صاحب کی توجہ خاص تھی۔ یہ تو میں اپنی زبان سے نہیں کہہ سکتی کہ مجھے کیا سمجھتے تھے، پاسِ ادب مانع ہے۔ اور لڑکیوں سے زیادہ مجھ پر تاکید تھی۔ مجھ ایسی کندۂ ناتراش کو انہوں نے آدمی بنا دیا۔ یہ انہی کی جوتیوں کا صدقہ ہے کہ جس امیر رئیس کی محفل میں گئی، حیثیت سے زیادہ میری عزت ہوئی۔ انہی کی بدولت آپ ایسے لائق فائق صاحبوں کے جلسے میں منہ کھولنے کی جرأت ہوئی، شاہی درباروں میں شرکت کا فخر حاصل ہوا، اعلیٰ درجے کی بیگمات کے محل میں گزر ہوا۔

مولوی صاحب نے بہت ہی شفقت سے مجھے پڑھایا تھا۔ الف بے ختم ہونے کے بعد کریما، ماقیما، محمود نامہ صرف رواں پڑھا کے آمد نامہ یاد کرا دیا۔ اس کے بعد گلستاں شروع کرا دی۔ دو سطریں پڑھاتے تھے۔ سبق حفظ کرایا جاتا تھا، خصوصاً اشعار۔ لفظ لفظ کے معنی، فقرے فقرے کی ترکیب نوکِ زبان تھی۔ لکھنے پڑھنے پر بھی محنت کی۔ املا درست کرایا گیا، خط لکھوائے گئے۔ گلستاں کے بعد اور کتابیں فارسی کی پانی ہو گئی تھیں۔ سبق اس طرح ہوتا تھا جیسے آموختہ پڑھا جاتا ہے۔ عربی کی صرف نحو اور دو ایک رسالے منطق کے پڑھے۔ سات آٹھ برس مولوی صاحب کے پاس پڑھتی رہی۔ شاعری کے شوق کی ابتدا اور انتہا سے آپ خود واقف ہیں، بیان کی کوئی ضرورت نہیں۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.