Urdu in Translation
Search
Bookmark

Chapter 5 of 20

Gauhar Mirza

۴: گوہر مرزا

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

Script
Size

ہم نہیں ان میں جو پڑھ لیتے ہیں طوطے کی طرحمکتبِ عشق و وفا تجربہ آموز بھی تھا

مکتب میں مجھ سمیت تین لڑکیاں تھیں اور ایک لڑکا تھا گوہر مرزا۔ حد کا شریر اور بدذات۔ سب لڑکیوں کو چھیڑا کرتا تھا۔ کسی کو منہ چڑھا دیا، کسی کے چٹکی لے لی، اس کی چوٹی پکڑ کے کھینچ لی، اس کے کان دکھا دیے۔ دو لڑکیوں کی چوٹی ایک میں جکڑ دی۔ کہیں قلم کی نوک توڑ ڈالی، کہیں کتاب پر دوات الٹ دی۔ غرض اس کے مارے ناک میں دم تھا۔ لڑکیاں بھی خوب دھپیاتی تھیں اور مولوی صاحب بھی قرار واقعی سزا دیتے تھے، مگر وہ اپنی آنی بانی سے نہ چوکتا تھا۔ سب سے بڑھ کر میری گت بناتا تھا، کیوں کہ میں سب سے انیلی اور گیگلی سی تھی اور مولوی صاحب کے دباؤ میں بھی رہتی تھی۔ میں نے بھی مولوی صاحب سے کہہ کہہ کر اکثر مار پٹوائی، مگر بے غیرت کسی طرح باز نہ آیا۔ آخر میں ہی چٹکیاں کھاتے کھاتے عاجز آ گئی۔ میری فریاد پر مولوی صاحب اس کو اس بے دردی سے سزا دیتے تھے کہ خود مجھے ترس آ جاتا تھا۔

گوہر مرزا کے اس مکتب میں آنے کا سبب بھی بوا حسینی تھی۔ نواب سلطان علی خان ایک بڑے عالی خاندان رئیس تھے۔ توپ دروازے میں رہتے تھے۔ ان سے اور بنو ڈومنی سے رسم تھا۔ انہی سے یہ لڑکا پیدا ہوا۔ اگرچہ بنو سے اور نواب صاحب سے اب ترکِ ملاقات ہوئے مدت گزر گئی تھی، مگر دس روپے ماہ بماہ لڑکے کی پرورش کے لیے دیے جاتے تھے اور بیگم صاحبہ سے چوری چھپے کبھی کبھی بلا کے دیکھ بھی لیا کرتے تھے۔ بنو قاضی کے باغ کی رہنے والی تھیں، وہیں بوا حسینی کے بھائی کا گھر تھا۔ کھڑکی درمیان میں تھی۔ گوہر مرزا بچپن ہی سے ذات شریف تھے۔ تمام محلے کا ناک میں دم کر رکھا تھا۔ کسی کے گھر میں ڈھیلا پھینک دیا، کسی کی کنکیا چھین لی، کسی کی مرغی کی ٹانگیں توڑ دیں۔ کسی لڑکے سے چڑیوں کا پنجرہ دیکھنے کا مانگا، اس نے دے دیا، آپ نے کھڑکی کی تیلی کھول دی، سب چڑیوں پھر سے اڑ گئیں۔ غرض کہ طرح طرح کے آزار دیتے تھے۔ آخر ماں نے عاجز ہو کر محلے کی مسجد میں ایک مولوی صاحب کے پاس بٹھا دیا۔ اس کی ٹوپی پھاڑ ڈالی، ایک لڑکے کی جوتی کنویں میں ڈال دی۔ ایک دن مولوی صاحب نماز پڑھ رہے تھے، حضرت نے ان کا نیا چڑھواں جوتا حوض میں تیرا دیا، خود بیٹھے ہوئے سیر دیکھ رہے ہیں۔ اتنے میں کہیں سے مولوی صاحب سر پر پہنچ گئے۔ اب تو گوہر مرزا کی خوب ہی مرمت ہوئی۔ مولوی صاحب نے مارے طمانچوں کے منہ لال کر دیا، اور کان پکڑے ہوئے بنو کے گھر پر لے آئے۔ دروازے پر سے پکار کے کہا: "لو صاحب اپنا لڑکا، ہم اسے نہ پڑھائیں گے۔" یہ کہہ کر مولوی صاحب تو ادھر گئے، گوہر مرزا مظلوم صورت بنائے روتا ہوا گھر میں آیا۔ اس وقت اتفاق سے بوا حسینی بنو سے بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھیں۔ لڑکے کا جو یہ حال دیکھا، آپ کو بہت ہی ترس آیا۔ لڑکے کے کرتوتوں سے تو آگاہ تھیں نہیں، مولوی صاحب کو برا بھلا کہنے لگیں۔

بوا حسینی: اے ہے، مولوی کاہے کو، موا قصائی ہے۔ لڑکے کا منہ مارے طمانچوں کے سجا دیا۔ اے لو، کان بھی تو لہولہان کر دیے۔ نا بی بی! ایسے مولوی سے کوئی نوج پڑھوائے۔ آخر ہمارے مولوی صاحب بھی تو پڑھاتے ہیں۔ کیسا چمکار کے، دلار کے پڑھاتے ہیں۔

بنو نے چھوٹتے ہی کہا: "پھر بوا حسینی، اس کو بلا سے اپنے مولوی صاحب ہی کے پاس لے جاؤ۔"

بوا حسینی: لے تو جاؤں، مگر بہت دور ہے۔

بنو: تمہارے بھائی کے ساتھ صبح کو بھجوا دیا کروں گی، شام کو بلوا لیا کروں گی۔

بوا حسینی: اچھا تو بھجوا دیا کرو۔

مولوی صاحب سے کچھ پوچھنا نہ تھا، اس لیے کہ بوا حسینی کو اپنے حسنِ خدمت پر پورا بھروسا تھا۔ جانتی تھیں کہ مولوی صاحب انکار تو کریں گے نہیں۔

دوسرے دن علی بخش (بوا حسینی کے بھائی کا نام تھا) گوہر مرزا کو ساتھ لیے، مٹھائی کا خوان سر پر رکھے بوا حسینی کے پاس پہنچے۔ بوا حسینی نے خوشی خوشی مٹھائی تقسیم کی، لڑکے کو مولوی صاحب کے پاس بٹھا دیا۔

گوہر مرزا سب سے زیادہ مجھی کو ستاتا تھا۔ دن رات داد بیداد کا غل رہتا تھا۔ مولوی صاحب نے اس کو بہت بہت مارا، مگر اس نے مجھے ستانا نہ چھوڑا۔ اسی طرح کئی برس گزر گئے۔ آخر میری اس کی صلح ہو گئی، یا یوں کہیے کہ میں اس کے ستانے کی خوگر ہو گئی۔

گوہر مرزا کے اور میرے سن میں کچھ ہی فرق ہوگا۔ شاید وہ مجھ سے دو ایک سال بڑا ہو۔ جس زمانے کا حال لکھ رہی ہوں، میرا سن کوئی تیرہ برس ہوگا اور گوہر مرزا کو چودھواں پندرھواں سال تھا۔

گوہر مرزا کے ستانے سے اب مجھ کو مزا آنے لگا تھا۔ اس کی آواز بہت اچھی تھی (ڈومنی کا لڑکا تھا)، قدرتی لے دار، بتانے میں مشاق، بوٹی بوٹی پھڑکتی تھی۔ ادھر میں لے سر سے آگاہ۔ جب مولوی صاحب مکتب میں نہ ہوتے تھے، خوب جلسہ ہوتا تھا۔ میں گانے لگی، وہ بتانے لگا۔ کبھی وہ گا رہا ہے، میں تال دے رہی ہوں۔ گوہر مرزا کی آواز پر اور رنڈیاں بھی فریفتہ تھیں۔ ہر ایک کمرے میں بلایا جاتا تھا۔ اس کے ساتھ میرا جانا بھی ایک ضروری بات تھی، کیونکہ بغیر میری اس کی سنگت کے لطف نہ آتا تھا۔ سب سے زیادہ امیر جان اس کے گانے پر غش تھیں۔

مرزا صاحب! آپ کو امیر جان یاد تو ہوں گی؟

رسوا: یاد ہیں، کہے جاؤ۔

امیر جان کا وہ زمانہ جب وہ مفتخر الدولہ بہادر کی ملازمہ تھیں، اللہ رے جوبن کے ٹھاٹھ! وہ اٹھتی ہوئی جوانی!
کھلتی کھلتی وہ چمپئی رنگت
بھولی بھالی وہ موہنی صورت
بانکی بانکی ادائیں ہوش ربا
ترچھی ترچھی نگاہیں قہرِ خدا
بوٹا سا قد، چھریرا بدن، نازک نازک ہاتھ پاؤں!

رسوا: اب تو میں نے جب ان کو دیکھا ہے، انگنی پر ڈالنے کے لائق تھیں۔ ایسی بری صورت ہو گئی تھی کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔

امراؤ: کہاں دیکھا تھا؟

رسوا: انہی کے گھر میں دیکھا تھا، جن کے کمرے کے سامنے ایک شاہ صاحب گیروے کپڑے پہنے، ہزار دانے کی تسبیح ہاتھ میں لیے کھڑے رہتے تھے۔ ادھر سے جو نکلتا اس کو سلام کر لیتے تھے، کبھی کسی سے سوال نہیں کرتے تھے۔

امراؤ: سمجھ گئی! وہ شاہ صاحب ان کے عاشقوں میں تھے۔

رسوا: جی ہاں، کیا میں نہیں جانتا!

امراؤ: اچھا تو اب وہیں رہتی ہیں؟

رسوا: انہی کی مصاحبت میں ہیں۔

امراؤ: اور ان کا حال کیا ہے؟

رسوا: وہ ایک حکیم صاحب پر مرتی ہیں۔

امراؤ: کون حکیم صاحب؟

رسوا: آپ نہیں جانتیں، نام بھی بتا دوں گا تب بھی آپ نہیں سمجھیں گی، پھر کیا فائدہ؟

امراؤ: خیر، کچھ بتا دیجیے، میں سمجھ جاؤں گی۔

رسوا: وہ نخاس ......

امراؤ: خوب جانتی ہوں۔ یہی امیر جان اس زمانے میں ایسی تھیں کہ لوگ ان کو ایک نظر دیکھنے کی آرزو کرتے تھے۔ مزاج میں وہ تمکنت تھی کہ ایسے ویسے کا تو ذکر ہی کیا ہے، اچھے اچھوں کی دعا قبول نہ ہوتی تھی۔ ٹھاٹھ بھی ایسے ہی تھے۔ چار چار مہرباں ساتھ۔ ایک گڑگڑی لیے ہے، ایک کے ہاتھ میں پنکھیا ہے، ایک کے پاس خاصدان ہے۔ خدمت گار وردیاں پہنے سواری کے ساتھ دوڑتے جاتے ہیں۔

امیر جان گوہر مرزا کے گانے پر غش تھیں۔ خود گانا جانتی نہیں تھیں، مگر گانا سننے کا بڑا شوق تھا۔ گوہر مرزا بچپنے ہی سے رنڈیوں کا کھلونا تھا۔ ہر ایک اس پر دم دیتی تھی۔ صورت شکل بھی پیار کرنے کے قابل تھی۔ رنگ تو کسی قدر سانولا تھا، مگر ناک نقشہ قیامت کا پایا تھا۔ اس پر نمک اور جامہ زیبی، شوخی، شرارت، کوئی بات ......!

رسوا: کیوں نہ ہو، کس ماں کا بیٹا تھا!

امراؤ: اہاہ! تو کیا آپ نے بنو کو بھی دیکھا تھا؟

رسوا: (مسکراتے ہوئے) جی ہاں، آپ یہی قیاس کر لیجیے۔

امراؤ: مرزا صاحب! آپ کے مذاق بھی کیا در پردہ ہوتے ہیں!

رسوا: خیر، آپ نے تو پردہ فاش کر دیا۔

امراؤ: تو اچھا، اب تھوڑی دیر مذاق ہی رہے۔ میری سرگزشت کو آگ لگائیے۔

رسوا: مذاق کے لیے شب بھر باقی ہے، آپ اپنا قصہ کہیے۔

امراؤ: دیکھیے، دوسری ہوئی۔ اچھا سنیے۔

صبح سے دس گیارہ بجے تک تو مولوی صاحب کے پاس سے کس کی مجال تھی کہ دم بھر کے لیے کہیں کھسک جائے۔ اس کے بعد مولوی صاحب خاصہ کھانے جاتے تھے۔ اس وقت ہم کو فرصت ملتی تھی۔ پھر ایک ایک کمرا ہے اور ہم ہیں۔ آج امیر جان کے پاس، کل جعفری کے کمرے میں، پرسوں بہن کے ہاں۔ پھر جہاں جاؤ خاطر مدارات، میوہ مٹھائیاں، حقہ پان۔

رسوا: آپ بچپن ہی سے حقہ پیتی ہیں؟

امراؤ: جی ہاں! گوہر مرزا کی دیکھا دیکھی مجھے بھی ہوس ہوئی تھی، شوقیہ پیتی تھی، پھر نگوڑی لت ہو گئی۔

رسوا: گوہر مرزا صاحب تو چنڈو بھی پیتے تھے۔ عجب نہیں آپ نے اس میں بھی ان کی ہوس کی ہو؟

امراؤ: خدا نے اس سے تو آج تک بچایا، مگر ہاں افیون کی قسم نہیں کھاتی، وہ بھی اب شروع کی ہے۔ کربلائے معلیٰ سے آنے کے بعد نزلے کی شدت ہوئی، آئے دن زکام رہتا تھا۔ حکیم صاحب نے کہا افیون کھاؤ، کھانے لگی۔

رسوا: اور وہ چیز نزلے کو روکنے والی؟

امراؤ: اب اس کا ذکر نہ کیجیے۔

رسوا: کیا تائب ہو گئیں؟

امراؤ: مدت سے۔

رسوا: واقعی کیا بری چیز ہے، اپنا تو یہ حال ہے:
بعد توبہ کے بھی ہے دل میں یہ حسرت باقی
دے کے قسمیں کوئی اک جام پلا دے ہم کو

امراؤ: ہائے کیا شعر کہا ہے! مرزا صاحب! قسمیں دلانے کو تو میں ہوں، پینے نہ پینے کا آپ کو اختیار ہے۔

رسوا: آپ بھی شغل کیجیے گا؟

امراؤ: توبہ!

رسوا: توبہ!
ابر بھی ہے، ہوائے سرد بھی ہے
پھر وہ، یادش بخیر، یاد آئی

امراؤ: بس اب طبیعت کو روکیے، جمائیاں آنے لگیں۔ اللہ اس ذکر کو جانے دیجیے۔

رسوا: جانے دیجیے۔

امراؤ: مذاق سے بھی معاف رکھیے۔
اب نہ ہم منہ لگائیں گے اس کو
یاد آئی تو خیر یاد آئی!

رسوا: واللہ امراؤ جان، کیا شعر ہے!

امراؤ: تسلیم۔
دیکھ کے مشہدِ ادا ان کو
لالہ و گل کی سیر یاد آئی!

رسوا: ماشاء اللہ! طبیعت زوروں پر ہے۔ کیوں نہ ہو، عالمِ شباب کے ذکر کی تاثیر ہے۔

امراؤ: جی نہیں، شراب کے ذکر کی تاثیر ہے:
زاہدو! آج ہم کو پھر وہ شے
جس سے ہے تم کو بیر، یاد آئی

رسوا: آہاہاہا! کیا قافیہ نکالا ہے، اور کہا بھی خوب ہے!

امراؤ:
کعبے سے پھر کے ہم ہوئے گمراہ
پھر وہی راہِ دیر یاد آئی

رسوا: اے کیا کہنا! یہ "کعبے سے پھر کے" کیا خوب کہا ہے!

امراؤ: مرزا صاحب! اسے مطلع نہ کر دیجیے:
پھر کے کعبے سے سیر یاد آئی
پھر ہمیں راہِ دیر یاد آئی

رسوا: خاصہ۔

امراؤ:
روشِ وحش و طیر یاد آئی
دشتِ وحشت کی سیر یاد آئی

رسوا: یہ مطلع بھی برا نہیں ہے۔

امراؤ: یہ شعر ملاحظہ ہو:
ہم کو بنتُ العنب سے شکوہ ہے
کیوں ہمیں اس بغیر یاد آئی

رسوا: میں تو کہتا ہوں کہ طبیعت آج جودت پر ہے۔ اچھا، یہ شعر سن لیجیے اور پھر اپنا قصہ دہرانا شروع کیجیے:
ہوا بھی، ابر بھی، گلزار بھی، شراب بھی ہو
یہ سب تو ہو، مگر اگلا سا وہ شباب بھی ہو

امراؤ: واہ مرزا صاحب! آپ نے تو دل ہی مردہ کر دیا۔ خیر، آمدم بر سرِ مطلب۔ اسی طرح سے کئی برس میری زندگی کے خانم کے مکان پر گزرے۔ اس درمیان میں کوئی ایسا واقعہ نہیں گزرا جس کا بیان ضروری ہو۔ ہاں، خوب یاد آیا۔ بسم اللہ کی مسی بڑی دھوم سے ہوئی۔ میری آنکھوں کے دیکھتے شاہی سے لے کر اب تک پھر ویسی مسی نہیں ہوئی۔ دلارام کی بارہ دری اس جلسے کے لیے سجائی گئی تھی۔ اندر سے باہر تک روشنی تھی۔ شہر کی رنڈیاں، ڈوم، ڈھاڑی، کشمیری بھانڈ سب ہی تو تھے۔ دور دور سے ڈیرہ دار طوائفیں بلائی گئی تھیں۔ بڑے بڑے نامی گویے دلی سے آئے تھے۔ سات دن رات گانے بجانے کی صحبت رہی۔ خانم نے جیسا دل کھول کے حصے تقسیم کیے ہیں، اس کا آج تک شہرہ ہے۔ بسم اللہ خانم کی اکلوتی لڑکی تھی، جو کچھ نہ ہوتا کم تھا۔ نواب چھبن صاحب نے اپنی دادی نواب عمدۃ الخاقان بیگم کا ورثہ پایا تھا۔ بہت ہی کم سن نواب زادہ تھا۔ خانم نے خدا جانے کن ترکیبوں سے کپا مارا، بے چارہ پھنس ہی تو گیا۔ پچیس تیس ہزار روپے نواب صاحب کے اس جلسے میں خرچ ہوئے۔ اس کے بعد بسم اللہ نواب صاحب کی ملازم ہوئیں۔ دم ہوش چاہتے تھے۔

مرزا صاحب! جو باتیں آپ مجھ سے پوچھتے ہیں، ان کا میری زبان سے نکلنا سخت مشکل ہے۔ یہ سچ ہے کہ رنڈیاں بے باک ہوتی ہیں، مگر اس بے باکی کا ایک خاص زمانہ ہوتا ہے۔ سن کا تقاضا بھی کوئی چیز ہے۔ جوشِ جوانی کی وجہ سے جو باتیں اپنی حد سے گزر جاتی ہیں، سن سے اتر کر ان میں کمی ضرور ہونا چاہیے تاکہ اعتدال قائم رہے۔ آخر رنڈیاں بھی عورت ذات ہیں، ان باتوں کے پوچھنے سے آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟

رسوا: کچھ تو فائدہ ہے جو میں اصرار کر کے پوچھتا ہوں۔ اگر آپ خواندہ نہ ہوتیں تو آپ کے یہ سب عذر قابلِ سماعت ہوتے۔ پڑھے لکھوں کو ایسی بے جا شرم نہیں چاہیے۔

امراؤ: اوئی! تو کیا پڑھنے لکھنے سے آنکھوں کا پانی ڈھل جاتا ہے؟ یہ آپ نے خوب کہی!

رسوا: اچھا اچھا، تو آپ کہیے، فضول باتوں سے میرا وقت ضائع نہ کیجیے۔

امراؤ: کہیں کسی اخبار میں نہ چھپوا دیجیے گا۔

رسوا: اور آپ کیا سمجھتی ہیں؟

امراؤ: ہائے فضیحت! توبہ کیجیے، یہ مجھے بھی آپ اپنی طرح رسوا کریں گے۔

رسوا: خیر، اگر میرے ساتھ آپ رسوا ہوں گی تو کوئی قباحت نہیں:
رسوا سے کیوں ملے ہو محبت جتا کے تم
چھوڑوں گا اب نہ میں تمہیں رسوا کیے بغیر

امراؤ: نوج آپ سے کوئی محبت کرے!
زاہد سے گفتگو ہو کہ ناصح سے بحث ہو
بنتی نہیں ہے ذکر کسی کا کیے بغیر

رسوا: کس کا شعر ہے؟

امراؤ: یہ آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں؟

رسوا: ہاں سمجھا۔ تو یہ کہیے کہ آپ نے بھی یہ غزل سنی ہے۔

امراؤ:
جاتے ہیں جان بیچ کے بازارِ عشق میں
ہم آئیں گے نہ حسن کا سودا کیے بغیر

رسوا: اور وہ شعر یاد ہے، "تقاضا کیے بغیر"؟

امراؤ:
وعدہ ہو یا کہ قول، وہ ایسے ہی نادہند
ملتا نہیں کچھ ان سے تقاضا کیے بغیر

رسوا: اور کوئی شعر یاد ہے؟

امراؤ: اور تو کوئی یاد نہیں آتا۔

رسوا: یہ تو بہت بڑی غزل تھی، دیکھنا کہیں پڑی ہو تو مجھے دکھانا۔

امراؤ: انہی سے نہ منگوا لو؟

رسوا: خود جا کے لکھ لاؤں تو ممکن ہے۔ وہ تو ہرگز نہ لکھیں گے۔

امراؤ: یہ بھی کوئی بات ہے؟

رسوا: جی ہاں، آپ کو نہیں معلوم، مسودے کے سوا غزل صاف کرنے تک کی قسم ہے۔

امراؤ: اچھا، ایک دن ہم اور آپ دونوں چلیں۔ ہاں، ایک شعر یاد آیا:
ہر چند اس میں آپ ہی بدنام کیوں نہ ہوں
باز آئیں گے نہ وہ مرا چرچا کیے بغیر
اور سنیے:
غیروں کو ہے ستم کے تقاضے کا حوصلہ
چھوڑیں گے یہ نہ عشق کو رسوا کیے بغیر

رسوا: میری بھی غزل اسی طرح میں تھی، مگر خدا جانے کیا ہوئی، صرف مقطع یاد رہ گیا تھا۔

امراؤ: مقطع پھر سنائیے، کیا خوب کہا ہے!

رسوا:
رسوا سے کیوں ملے ہو محبت جتا کے تم
چھوڑوں گا اب نہ میں تمہیں رسوا کیے بغیر

امراؤ: واقعی خوب کہا ہے! مگر اس میں آپ کے تخلص نے خاص لطف دیا ہے۔

رسوا: تخلص کا ذکر نہ کیجیے۔ ایک عنایت فرما کی عنایت سے شہر میں اب کئی رسوا موجود ہیں۔ لوگ خواہ مخواہ اپنے اچھے خاصے تخلص چھوڑ کے رسوا ہوئے جاتے ہیں۔ وہ تو کہیے میرا نام نہیں جانتے، نہیں تو کیا عجب ہے لوگ نام بھی بدل ڈالیں۔ مگر میں تو خوش ہوں، اس لیے کہ انگریزی رسم کے مطابق باپ بیٹوں کا نام ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ سب میرے روحانی فرزند ہیں۔ جس قدر نسل ترقی کرے گی، میرا نام روشن ہوگا۔

رسوا: لے اب ٹالیے نہ، جو کچھ میں نے پوچھا ہے وہ کہنا ہی پڑے گا۔

امراؤ: کیا زبردستی؟ کیا بے شرمی کی باتیں آپ پوچھتے ہیں۔

رسوا: بیاہ براتوں میں گالیاں گانے سے زیادہ بے شرمی نہ ہوگی!

امراؤ: آپ کے لکھنؤ میں تو رنڈیاں گالیاں نہیں گاتیں، ڈومنیاں البتہ گاتی ہیں، وہ بھی عورتوں میں۔ دیہات کی رنڈیوں کو گانا پڑتی ہیں مردوں میں۔ واقعی مرزا صاحب، شہر ہو یا دیہات، یہ رسم تو کچھ اچھی نہیں ہے۔

رسوا: آپ کے کہنے سے اچھی نہیں ہے۔ ہم نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کانوں سے سنا ہے، اچھے اچھے شریف مرد آدمی عورتوں میں گھس کے شوقیہ گالیاں سنتے ہیں۔ ماں بہنیں پنی جا رہی ہیں اور یہ خوش ہیں، باچھیں کھلی جاتی ہیں۔ آج خدا نے یہ دن دکھایا۔ کاش خدا یہ دن نہ دکھاتا۔ اس کے علاوہ برات کی رات بھر اور صبح کو جو بے ہودگیاں باعصمت بہو بیٹیوں میں ہوتی ہیں، اس کا ذکر بھی فحش سے خالی نہیں۔ خیر، ان باتوں کو رہنے دیجیے، آپ بیتی کہیے۔ ہم کوئی مصلحِ قوم نہیں جو ان باتوں پر نکتہ چینی کریں۔

امراؤ: آپ نہ مانیے گا، لے سنیے۔

جب سے بسم اللہ کی مسی ہوئی، خورشید جان اور امیر جان کے کارخانے دیکھے، میرے دل میں ایک خاص قسم کی امنگ پیدا ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ ایک خاص رسم (جس سے بالکل ناواقف تھی) کے ادا ہونے کے بعد بسم اللہ سے بسم اللہ جان اور خورشید سے خورشید جان ہو گئیں۔ بے باکی کی سند حاصل ہو گئی، آزادی کا خلعت مل گیا۔ اب یہ لوگ مجھ سے علیحدہ ہو گئے۔ میں ان کی نگاہوں میں حقیر سی معلوم ہوتی تھی۔ وہ مردوں کے ساتھ بے تکلف ہنسی مذاق کرنے لگی تھیں۔ ان کے کمرے جدا جدا سجا دیے گئے تھے۔ نواڑ کے پلنگ ڈوریوں سے کسے ہوئے، فرش پر ستھری چاندنی کھنچی ہوئی، بڑے بڑے نقشی پاندان، مقابے، حسن دان، خاصدان، اگالدان اپنے قرینوں سے رکھے ہوئے۔ دیواروں پر حلبی آئینے، عمدہ عمدہ تصویریں، چھت میں چھت گیریاں لگی ہوئی، جس کے درمیان ایک مختصر سا جھاڑ، ادھر ادھر ہانڈیاں۔ سرِ شام سے دو کنول روشن ہو جاتے ہیں۔ دو دو مہریاں، دو دو خدمت گار ہاتھ باندھے کھڑے ہیں۔ خوب صورت نوجوان رئیس زادے ہر وقت دل بہلانے کو حاضر۔ چاندی کی گڑگڑی منہ سے لگی ہوئی ہے، سامنے پاندان کھلا ہوا ہے، ایک ایک کو پان لگا کے دیتی جاتی ہیں۔ اٹھتی ہیں تو لوگ بسم اللہ کہتے ہیں، چلتی ہیں تو لوگ آنکھیں بچھائے دیتے ہیں۔ یہ ہیں کہ کسی کی پرواہ ہی نہیں کرتیں۔ جو ہے انہی کے حکم کا تابع ہے۔ حکومت بھی وہ کہ زمین آسمان ٹل جائے، مگر ان کا کہنا نہ ٹلے۔ فرمائشوں کا تو ذکر ہی کیا، بن مانگے لوگ کلیجہ نکال نکال کر دیے جاتے ہیں۔ کوئی دل ہتھیلی پر رکھے ہوئے ہے، کوئی جان قربان کرتا ہے۔ یہاں کسی کی نذر ہی نہیں قبول ہوتی، کوئی بات نظر میں نہیں سماتی۔ بے پروائی یہ کہ جان بھی دے دے تو ان کے نزدیک کوئی مال نہیں۔ غرور ایسا کہ ہفت اقلیم کی سلطنت ان کی ٹھوکر پر ہے۔ ناز وہ جو کسی سے اٹھایا نہ جائے، مگر اٹھانے والے اٹھاتے ہیں۔ انداز وہ جو مار ہی ڈالے، مگر مرنے والے مرے ہی جاتے ہیں۔ ادھر اس کو رلا دیا، ادھر اسے ہنسا دیا۔ کسی کے کلیجے میں چٹکی لے لی، کسی کا دل تلووں سے مسل ڈالا۔ بات بات میں روٹھی جاتی ہیں، لوگ منا رہے ہیں۔ کوئی ہاتھ جوڑ رہا ہے، کوئی منت کر رہا ہے۔ قول کیا اور مکر گئیں، قسم کھائی اور بھول گئیں۔ محفل بھر میں سب کی نگاہیں ان کی طرف ہیں، یہ آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتیں۔ پھر جدھر دیکھ لیا، ادھر ہی سب دیکھنے لگے۔ جس پر ان کی نگاہ پڑتی ہے اس پر ہزاروں نگاہیں پڑتی ہیں۔ رشک کے مارے لوگ جلے جاتے ہیں اور یہ جان جان کے جلا رہی ہیں، اور لطف یہ کہ دل میں کچھ بھی نہیں۔ وہ بھی ہیچ ہے، یہ بھی ہیچ ہے، فقط بناوٹ۔ اگر وہ بے چارہ اس فریب میں آ گیا، پھر کیا تھا، پہلے بظاہر خود مرنے لگیں:
آج کل ان کو بہت ہے مری خاطر منظور
یا مری یا مرے دشمن کی قضا آئی ہے
مریں ان کے دشمن، آخر اسی کو مار ڈالا، اب جا کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑی۔ اس غریب کے گھر میں رونا پیٹنا پڑا ہے، یہ بیٹھی یاروں کے ساتھ قہقہے لگا رہی ہیں۔

مرزا صاحب! ان سب باتوں کو آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور بیان کر سکتے ہیں، مگر یہ کرشمے دیکھ کے جو کچھ میرے دل پر گزرتی تھی، ان کو میں ہی خوب جانتی ہوں۔ عورت کو عورت سے جو رشک ہوتا ہے اس کی کچھ انتہا نہیں ہے۔ سچ تو یہ ہے، اگرچہ مجھے کہتے ہوئے شرم آتی ہے، میرا دل چاہتا تھا کہ سب کے چاہنے والے مجھی کو چاہیں اور سب کے مرنے والے مجھی پر مریں۔ نہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کے دیکھیں، نہ کسی پر جان دیں۔ مگر میری طرف کوئی آنکھ اٹھا کے بھی نہیں دیکھتا تھا۔ بوا حسینی کی کوٹھری جو در و دیوار سے لے کر چھت تک دھوئیں سے سیاہ تھی، اس کے ایک طرف جھلنگا پلنگ پڑا ہوا تھا۔ اس پر ہم اور بوا حسینی رات کو پڑ رہتے تھے۔ ایک طرف اس کوٹھری میں چولھا بنا ہوا تھا، اس کے پاس دو گھڑے رکھے ہوئے تھے۔ یہیں دو بدقلعی پتیلیاں، لگن، توا، رکابیاں، پیالے ادھر ادھر پڑے رہتے تھے۔ ایک کونے میں آٹے کی مٹکی رکھی رہتی تھی۔ اس کے اوپر دو تین دالیں، نمک، مصالحہ ہنڈیوں میں، اسی کے پاس جلانے کی لکڑیاں، سوختے، مصالحہ پیسنے کی سل، بٹا۔ خلاصہ یہ کہ تمام کرکری خانہ یہیں تھا۔ چولھے کے اوپر دیوار میں دو کیلیں لگی تھیں، کھانا پکاتے وقت اس پر چراغ رکھ دیا جاتا تھا۔ چراغ میں پتلی سوت کی بتی پڑی ہے۔ موا اندھا اندھا جل رہا ہے۔ لاکھ اکساؤ، لو اونچی نہیں ہوتی۔ اس کوٹھری کی آرائش میں دو چھینکے بھی تھے۔ ان میں سے ایک میں پیاز رہتی تھی اور دوسرے میں سالن، دال کی پتیلی، چپاتیاں مولوی صاحب کے واسطے ڈھانک کے رکھ دی جاتی تھیں۔ پیاز والا چھینکا تو چولھے کے قریب تھا، اگر پلنگ پر اچانک اٹھ کھڑی ہوئی تو سالن کی یہ پتیلی کھٹ سے سر میں لگی۔ صبح سے گیارہ بجے تک مولوی صاحب کی قمچیاں، اور شام سے نو بجے تک استاد کی جھڑکیاں اور سارنگی کے گزوں کی مار۔ یہ ہمارا پیار اخلاص تھا۔ یہ سب کچھ تھا، مگر میں اپنے کرتوتوں سے باز نہ آتی تھی۔

اول اول تو مجھے آئینہ دیکھنے کا شوق ہوا۔ اب میرا سن چودہ برس کا تھا۔ ادھر بوا حسینی کوٹھری سے ٹلیں، ادھر میں نے ان کی پٹاری سے آئینہ نکالا، اپنی صورت دیکھنے لگی۔ اپنا ناک نقشہ اور رنڈیوں سے ملاتی تھی۔ مجھے اپنے چہرے بھر میں کوئی چیز بری نہ معلوم ہوتی تھی، بلکہ اوروں سے اپنے کو بہتر سمجھتی تھی، اگرچہ درحقیقت ایسا نہ تھا۔

رسوا: تو کیا آپ کی صورت کسی سے بری تھی؟ اب بھی سینکڑوں سے اچھی ہو، اس وقت تو اور بھی جوبن ہوگا۔

امراؤ: تسلیم! خیر، اب اس تعریف کو رہنے دیجیے، بالکل بے محل اور بے موقع ہے، معاف کیجیے گا۔ مگر ہاں، اس وقت میرا ایسا ہی خیال تھا اور یہ خیال میری جان کے لیے آفت تھا۔ میں دل ہی دل میں کہتی تھی، ہائے مجھ میں کیا برائی ہے جو کوئی میری طرف توجہ نہیں کرتا۔

رسوا: یہ تو ممکن نہیں کہ کسی کی آپ کی طرف توجہ نہ ہو، نگاہیں ضرور پڑتی ہوں گی، مگر بات یہ تھی کہ آپ کی مسی نہیں ہوئی تھی۔ خانم سے لوگ ڈرتے تھے، اس لیے آپ سے کوئی نہ بولتا ہوگا۔

امراؤ: شاید یہی ہو، مگر مجھے اتنی تمیز کہاں تھی۔ میری تو وہ مثل تھی "بی دولتی اپنے جیسے میں آپ کھولتی"۔ اپنی ہمجولیوں کو دیکھ دیکھ کے پھکی جاتی تھی، کھانا پینا حرام تھا، راتوں کی نیند اڑ گئی تھی۔

اسی زمانے میں پھر کنگھی چوٹی کا شوق ہوا۔ کنگھی کرتے وقت اور بھی صدمہ ہوتا تھا، اس لیے کہ کوئی چوٹی گوندھنے والا نہ تھا۔ جب بسم اللہ کی چوٹی نواب چھبن صاحب اپنے ہاتھ سے گوندھتے تھے، میرے سینے پر سانپ لوٹ جاتا تھا۔ یہاں کون تھا؟ وہی بوا حسینی، وہ بھی جب انہیں فرصت ہوئی، نہیں تو دن دن بھر بال کھلے ہیں، سر جھاڑ منہ پہاڑ پھر رہی ہوں۔ آخر میں نے اپنے ہاتھ سے چوٹی گوندھنا سیکھا۔ اور سب رنڈیاں دن میں تین جوڑے بدلتی تھیں، یہاں وہی آٹھویں دن۔ پوشاک بھی بھاری نہ تھی۔ وہ لوگ کار چوبی جوڑے پہنتی تھیں، یہاں وہی گلبدن کا پاجامہ، ململ کا دوپٹا، بڑی بڑائی ہوئی لچکے کی تیلی دے دی گئی۔

اس پر بھی کپڑے بدل کے میرا جی چاہتا تھا کہ مردوں میں جا کے بیٹھوں۔ کبھی بسم اللہ کے کمرے میں چلی گئی، کبھی امیر جان کے پاس، مگر جہاں جاتی تھی کسی نہ کسی بہانے سے اٹھا دی جاتی تھی۔ ان لوگوں کو میرا بیٹھنا ناگوار تھا۔ سب کو اپنی مزیداریوں کا خیال تھا، مجھے کون بیٹھنے دیتا!

اور نہ بیٹھنے دینے کا ایک اور بھی سبب تھا کہ ان دنوں میری طبیعت میں شرارت کسی قدر سما گئی تھی۔ جہاں بیٹھی، کسی کو ٹھینگا دکھا دیا، کسی کو منہ چڑھا دیا، کسی کے چٹکی لے لی۔ ہر طرح مردوں سے لگاوٹ کرتی تھی۔ اس وجہ سے لوگ میرے بیٹھنے کے روادار نہ تھے۔

مرزا صاحب! آپ سمجھ سکتے ہیں کہ گوہر مرزا ایسے وقت اور اس حالت میں مجھے کس قدر غنیمت معلوم ہوتا تھا، اس لیے کہ وہ مجھ سے پیار کی باتیں کرتا تھا۔ میں اس کو چھیڑتی تھی، وہ مجھے چھیڑتا تھا۔ میں اسی کو اپنا چاہنے والا سمجھتی تھی، اور وہ بھی ان دنوں مجھ کو چاہتا تھا۔ جب صبح مکتب میں آتا، کہیں دو نارنگیاں جیب میں پڑی ہیں، مجھے چپکے سے دے دیں۔ کسی دن حلوا سوہن کی ٹکیہ لیتا آیا، مجھ کو کھلا دی۔ ایک دن نہیں معلوم کہاں سے ایک روپیہ لایا تھا، وہ بھی مجھے حوالے کر دیا۔ ہزاروں روپے میں نے اپنی زندگی میں اپنے ہاتھ سے اٹھائے ہوں گے، مگر اس ایک روپے کے پانے کی خوشی کبھی نہ بھولوں گی۔ اس سے پہلے مجھے پیسے تو بہت ملے تھے، مگر روپیہ کبھی نہ ملا تھا۔ وہ روپیہ بہت دنوں تک میں نے جگو رکھا، اس لیے کہ اس کے صرف کی کوئی ضرورت مجھے نہ تھی، اور اگر تھی بھی تو یہ خیال تھا کہ اگر یہ صرف کرتی ہوں کہ لوگ پوچھیں گے کہاں سے ملا، تو کیا بتاؤں گی؟ رازداری کی سمجھ مجھے بھی آ گئی تھی، اور یہ سمجھ بغیر سنِ تمیز کو پہنچے نہیں آتی۔ بے شک میں سنِ تمیز کو پہنچ چکی تھی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.