Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 11 sur 20

La Révolte et la fortune perdue

The Mutiny and the Lost Fortune

۱۰: غدر اور گیا ہوا مال

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

Écriture
Taille

دیکھیے پہنچے کہاں تک سوزشِ دل کا اثرصرصرِ وحشت کا یہ شعلہ ہے بھڑکایا ہوا

نواب ملکہ کشور کی سرکار میں سوز خوانی کا سلسلہ انتزاعِ سلطنت کے زمانے تک رہا۔ اسی اثنا میں شہزادے مرزا اسکندر حشمت عرف جرنیل صاحب کے مجرائیوں میں میرا بھی اسم ہو گیا تھا۔ جنابِ عالیہ اور جرنیل صاحب کلکتے چلے گئے، وہ تعلق منقطع ہو گیا۔

جس زمانے میں باغی فوج نے مرزا برجیس قدر کو مسندِ ریاست پر بٹھایا، میں بہ لحاظِ قدامت اور اس وجہ سے بھی کہ میرا نام شاہی محلات میں اکثر کی زبان پر تھا، مبارک باد دینے کے لیے طلب ہوئی۔ شہر میں ایک اندھیر تھا۔ آج اس کا گھر لٹا، کل وہ گرفتار ہوا، پرسوں اس کے گولی لگی۔ چاروں طرف قیامت کا سماں نظر آتا تھا۔ سید قطب الدین نامی ایک صاحب افسرانِ فوج میں تھے، ان کا تعین درِ دولت پر تھا۔ میرے حال پر بہت عنایت کرتے تھے، اس لیے اکثر وہیں رہنا پڑتا تھا۔ مجرے کے لیے بھی وقت بے وقت طلبی ہو جاتی تھی۔ اب چند روزہ حکومت کے زمانے میں برجیس قدر کے گیارہویں سال کی سالگرہ کا جلسہ بڑی دھوم دھام سے ہوا۔ اس جلسے میں کشمیریوں نے یہ غزل گائی تھی۔
غیرتِ مہتاب ہے برجیس قدر
گوہرِ نایاب ہے برجیس قدر

میں نے ایک غزل اس موقع کے لیے تصنیف کی تھی، اس کا مطلع ہی ہے۔
دل ہزاروں کے تری بھولی ادائیں لیں گی
حسرتیں چاہنے والوں کی بلائیں لیں گی

رسوا: امراؤ جان! تم نے مطلع تو قیامت ہی کا کہا ہے۔ اور کوئی شعر یاد ہو تو پڑھو۔

امراؤ: گیارہ شعر کہے تھے مگر آپ کے سر کی قسم! سوا اس مطلع کے اور کوئی شعر یاد نہیں۔ وہ زمانہ ایسی آفت کا تھا، نگوڑی دن رات جان دھڑکے میں رہتی تھی۔ غزل ایک پرچے پر لکھ لی تھی۔ جس دن تک بیگم صاحب قیصر باغ سے نکلی ہیں، وہ پرچہ میرے پان دان میں تھا۔ پھر جب وہاں سے نکلنا ہوا، ہول جول میں پان دان کیسا، جوتیاں اور دوپٹے تک چھوٹ گئے۔

رسوا: بھلا کچھ یاد ہے؟ بیگم صاحب کس دن قیصر باغ سے نکلی تھیں؟

امراؤ: دن تو یاد نہیں، ہزاری روزے کے دوسرے یا تیسرے دن۔

رسوا: ہاں تمہیں خوب یاد رہا، رجب کی اکیسویں تاریخ تھی۔ بھلا فصل کون سی تھی؟

امراؤ: اخیر جاڑے تھے، نوروز کے چار پانچ دن باقی رہے ہوں گے۔

رسوا: بالکل درست۔ مارچ کی سولہویں تاریخ تھی۔ اچھا تو تم بیگم صاحب کے ساتھ قیصر باغ سے نکلیں؟

امراؤ: جی ہاں، بونڈی تک میں ہمراہ گئی۔ راستے میں نمک حرام اور بزدل افسرانِ فوج کے غمزے اور بیگم صاحب کی خوشامد عمر بھر نہ بھولے گی۔ ایک صاحب کہتے ہیں کہ "لو صاحب ان کے راج میں ہم پیدل چلیں۔" دوسرے صاحب فرماتے ہیں۔ "بھلا کھانے کا تو انتظام درست ہوتا۔" تیسرے صاحب! افیم کو پیٹ رہے ہیں۔ چوتھے اپنی جان کو رو رہے ہیں کہ حقہ وقت پر نہیں ملا۔ جب بہرائچ سے انگریزی فوج نے بونڈی پر دھاوا کیا ہے، اس میں سید قطب الدین مارے گئے۔ بیگم صاحب نیپال کی طرف روانہ ہوئیں، میں اپنی جان بچا کے فیض آباد چلی آئی۔

رسوا: سنا ہے بونڈی میں چار دن کے لیے خوب چہل پہل ہو گئی تھی۔

امراؤ: آپ نے تو سنا ہے، میں نے ان آنکھوں سے دیکھا ہے۔ لکھنؤ کے بھاگے ہوئے سب وہیں جمع ہو گئے تھے۔ بونڈی کا بازار لکھنؤ کا چوک معلوم ہوتا تھا۔

رسوا: اچھا اس قصے سے مجھ کو زیادہ دلچسپی نہیں۔ یہ کہیے کہ وہ مال جو آپ نے میاں فیضو سے لیا تھا، اس کا حشر کیا ہوا؟

امراؤ: (ایک سرد آہ بھر کے) اے ہے یہ نہ پوچھیے۔

رسوا: غدر میں سب لٹ گیا؟

امراؤ: غدر میں لٹ جاتا تو اتنا افسوس نہ ہوتا۔

رسوا: پھر کیا ہوا؟

امراؤ: سارا قصہ دہرانا پڑا۔ جس دن شب کو میں فیضو کے ساتھ بھاگنے والی تھی، میں نے کل زیور اور اشرفیاں ایک پٹاری میں بند کیں، اوپر سے خوب کپڑا لپیٹ دیا۔ خانم کے پچھواڑے ایک میر صاحب رہتے تھے، امام باڑے کے کوٹھے کے دیوار پر چڑھ جاؤ تو ان کے مکان کا سامنا ہو جاتا تھا۔ میں اکثر چارپائی لگا کے اس دیوار پر چڑھ جایا کرتی تھی اور میر صاحب کی بہن سے باتیں کیا کرتی تھیں۔ وہ زیور کی پٹاری میں نے ان کی بہن کے پاس پھینک دی اور ان کے ہاتھ جوڑ کے کہا کہ اس کو حفاظت سے رکھنا۔ انہوں نے فیض آباد سے آنے کے بعد وہ پٹاری اسی طرح گودڑ میں لپٹی ہوئی میرے حوالے کر دی۔ غدر میں تمام دنیا کے گھر لٹے۔ اگر کہہ دیتیں کہ لٹ گئی تو میں ان کا کیا کر لیتی، مگر واہ ری بیوی! ایک حبہ تک نقصان نہیں ہوا۔ ایسے ہی لوگوں سے زمین و آسمان تھما ہوا ہے۔ نہیں تو کب کی قیامت آ جاتی۔

رسوا: بھلا کتنے کا مال تھا؟

امراؤ: کوئی دس پندرہ ہزار کا مال تھا۔

رسوا: اور اب کیا ہوا؟

امراؤ: کیا ہوا؟ جس راہ آیا تھا اسی راہ گیا۔

رسوا: مگر لوگ تو مشہور کرتے ہیں کہ تمہارا ایک حبہ بھی غدر میں نہیں لٹا، سب مال تمہارے پاس ہے۔

امراؤ: اگر مال ہوتا تو ان حالوں میں رہتی جیسی اب رہتی ہوں۔

رسوا: لوگ کہتے ہیں کہ تم نے اپنا بھگل نکالا ہے۔ اگر نہیں ہے تو خرچ کہاں سے چلتا ہے۔ اب بھی کچھ برے حالوں نہیں رہتیں۔ دو آدمی نوکر ہیں۔ خوش خوراک خوش پوشاک بھی ہو۔

امراؤ: خدا رازق ہے۔ جو جس کا خرچ ہے وہ ضرور اس کو ملتا ہے۔ اس مال کا تو ایک حبہ بھی نہیں رہا۔

رسوا: اچھا تو پھر کیا ہوا؟

امراؤ: اب کیا بتاؤں، ایک مہربان ......

رسوا: میں سمجھ گیا۔ یہ گوہر مرزا کی حرکت ہوگی؟

امراؤ: میں اپنے منہ سے نہیں کہتی، شاید آپ کا قیاس غلط ہو۔

رسوا: بے شک تمہارے عالی ظرف ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ دیکھیے وہ چین کر رہے ہیں اور تمہیں پوچھتے تک نہیں۔

امراؤ: مرزا صاحب! رنڈی سے رسم رہا رہا، نہ رہا نہ رہا۔ اب وہ مجھے کیوں پوچھیں۔مدت ہوئی کہ ترکِ ملاقات ہو گئی

رسوا: اب کبھی تشریف بھی لاتے ہیں؟

امراؤ: وہ کاہے کو تشریف لائیں گے۔ میں اکثر جایا کرتی ہوں۔ ان کی بیوی سے محبت ہو گئی ہے۔ ابھی چار دن ہوئے لڑکے کی دودھ بڑھائی کی تھی تو بلا بھیجا تھا۔

رسوا: جب بھی کچھ دے ہی آئی ہوگی؟

امراؤ: جی نہیں، میں کسی قابل ہوں جو کسی کو کچھ دوں گی۔

رسوا: تو وہ مال گوہر مرزا صاحب کے ہاتھ کیسے لگا؟

امراؤ: مرزا صاحب! مال کی کوئی حقیقت نہیں ہے، ہاتھوں کا میل ہے، فقط بات رہ جاتی ہے۔ اب بھی اپنے پیدا کرنے والے کے قربان جاؤں! کبھی ننگی بھوکی نہیں رہتی۔ آپ ایسے قدردانوں کو خدا سلامت رکھے! مجھے کسی بات کی تکلیف نہیں ہے۔

رسوا: اس میں کیا شک ہے۔ وہ تو میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں اب بھی سو سے اچھی، ہزار سے اچھی۔ واللہ! یہ تمہاری نیت کا ثمرہ ہے۔ خدا نے زیارت سے بھی مشرف کیا۔

امراؤ: جی ہاں، مولا نے سب مرادیں پوری کیں۔ اب یہ تمنا ہے:
پھر مجھے کربلا بلا بھیجیں
میری مٹی عزیز ہو جائے
مرزا صاحب میں اس ارادے سے گئی تھی کہ پھر کے نہ آؤں گی مگر خدا جانے کیا تھا کہ لکھنؤ سر پر سوار ہو گیا، مگر اب کی اگر خدا نے چاہا اور جانا ہو گیا، پھر نہ آؤں گی۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.