Urdu in Translation
Search
Bookmark

Chapter 12 of 20

Faizabad: Mother and Brother

۱۱: فیض آباد میں ماں اور بھائی

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

Script
Size

سن چکے حال تباہی کا مری، اور سنواب تمہیں کچھ مری تقریر مزا دیتی ہے

بونڈی سے بیگم صاحب اور برجیس قدر نیپال کو روانہ ہوئے۔ سید قطب الدین لڑائی میں مارے جا چکے تھے۔ میں بہ ہزار مشکل فیض آباد آئی۔ پہلے سرائے میں اتری، پھر ترپولیے کے پاس ایک کمرا کرائے کو لے لیا، میراثی نوکر رکھ لیے، گانا بجانا شروع کر دیا۔

فیض آباد میں رہتے ہوئے اب مجھے چھ مہینے گزر چکے ہیں۔ وہاں کی آب و ہوا طبیعت کے بہت موافق ہے۔ دل لگا ہے۔ آٹھویں دسویں کوئی نہ کوئی مجرا آ جاتا ہے۔ اس پر بسر ہے۔ تمام شہر میں میرے گانے کی دھوم ہے۔ جہاں مجرا ہوتا ہے ہزاروں آدمی ٹوٹ پڑتے ہیں۔ میرے کمرے کے نیچے لوگ تعریفیں کرتے ہوئے نکلتے ہیں۔ میں دل میں خوش ہوتی ہوں۔ کبھی کبھی خواب و خیال کی طرح بچپن کی باتیں بھی یاد آتی ہیں، اور اس کے ساتھ ہی دل میں ایک جوش سا پیدا ہوتا ہے۔ مگر انتزاعِ سلطنت، غدر، برجیس قدر یہ سب سانحے آنکھوں کے سامنے گزر چکے ہیں۔ کلیجا پتھر کا ہو گیا ہے۔ ماں باپ کے تصور کے ساتھ ہی یہ خیال آتا ہے خدا جانے اب کوئی زندہ بھی ہو یا نہ ہو۔ اگر ہو تو اب ان کو مجھ سے کیا مطلب۔ وہ اور عالم میں ہوں گے۔ میں اور عالم میں ہوں۔ خون کا جوش سہی مگر کوئی غیرت دار آدمی مجھ سے ملنا گوارا نہ کرے گا۔ اب ان سے ملنے کی کوشش کرنا ان کو رنج دینا ہے۔ گھر کا خیال آتے ہی یہ باتیں دل میں آتی تھیں۔ پھر طبیعت اور طرف متوجہ ہو جاتی تھی۔

لکھنؤ کی یاد اکثر ستاتی تھی، مگر جب انقلاب کا خیال آتا تھا، دل بھر جاتا تھا۔ اب وہاں کون ہے، کس کے لیے جاؤں، خانم جیتی ہیں تو کیا ہوا، ان سے اب کیوں کر بنے گی۔ وہ وہی اگلی حکومت جتائیں گی۔ مجھے اب ان کی قید میں رہنا کسی طرح منظور نہ تھا۔ جو مال میر صاحب کی بہن کے پاس امانت تھا، وہ اب کیا ملے گا۔ تمام لکھنؤ لٹ گیا، میر صاحب کا گھر بھی لٹ گیا ہوگا۔ اس کا اب خیال ہی بے کار ہے۔ اور اگر نہیں لٹا تو ابھی اس کی ضرورت ہی کیا ہے، میرے ہاتھ گلے میں جو کچھ موجود ہے وہ کیا کم ہے۔

ایک دن کمرے میں بیٹھی ہوں۔ ایک صاحب شریفانہ صورت ادھیڑ سے تشریف لائے۔ میں نے پان بنا کر دیا، حقہ بھروا دیا۔ حالات دریافت کرنے پر معلوم ہوا بہو بیگم صاحب کے عزیزوں سے ہیں، وثیقہ پاتے ہیں۔ میں نے باتوں باتوں میں مقبرے کی روشنی کی تمہید اٹھا کے پرانے ملازموں کا ذکر چھیڑا۔

میں: اگلے نوکروں میں اب کون کون رہ گیا ہے؟

نواب صاحب: اکثر مر گئے، نئے نئے نوکر ہیں۔ اب وہ کارخانہ ہی نہیں رہا، بالکل نیا انتظام ہے۔

میں: اگلے نوکروں میں ایک بڈھے جمعدار تھے۔

نواب: ہاں تھے، مگر تم کیا جانو؟

میں: غدر سے پہلے میں ایک محرم میں فیض آباد آئی تھی۔ مقبرے پر روشنی دیکھنے گئی تھی۔ انہوں نے میری بڑی خاطر کی تھی۔

نواب: وہی جمعدار نا! جن کی ایک لڑکی نکل گئی تھی؟

میں: مجھے کیا معلوم؟ (دل میں، ہائے افسانہ اب تک مشہور ہے!)

نواب: یوں تو کئی جمعدار تھے، اور اب بھی ہیں، مگر روشنی وغیرہ کا انتظام غدر سے پہلے وہی کرتے تھے۔

میں: ایک لڑکا بھی ان کا تھا۔

نواب: تم نے لڑکے کو کہاں دیکھا؟

میں: اسی دن ان کے ساتھ تھا۔ ایسی بھی شکل ملتے کم دیکھی ہے۔ بن کہے میں پہچان گئی تھی۔

نواب: جمعدار غدر سے پہلے ہی مر گئے، وہی لڑکا ان کی جگہ نوکر ہے۔

اس کے بعد بات ٹالنے کے لیے میں نے اور کچھ حالات ادھر ادھر کے پوچھے۔ نواب صاحب نے سوز پڑھنے کی فرمائش کی، میں نے دو سوز سنائے۔ بہت محظوظ ہوئے۔ رات کچھ زیادہ آ گئی تھی، گھر تشریف لے گئے۔

باپ کے مرنے کا حال سن کر مجھے بہت رنج ہوا۔ اس دن رات بھر رویا کی۔ دوسرے دن بے اختیار جی چاہا بھائی کو جا کے دیکھ آؤں۔ دو دن کے بعد ایک مجرا آ گیا، اس کی تیاری کرنے لگی۔ جہاں کا مجرا آیا تھا، وہاں گئی۔ محلے کا نام یاد نہیں۔ مکان کے پاس ایک بہت پرانی املی کا درخت تھا، اسی کے نیچے شمگیرہ تانا گیا تھا۔ گرد قناتیں تھیں۔ بہت بڑا مجمع تھا۔ مگر لوگ کچھ ایسے ہی ویسے تھے۔ قناتوں کے پیچھے اور سامنے کھپریلوں میں عورتیں تھیں۔ پہلا مجرا کوئی نو بجے شروع ہوا، بارہ بجے تک رہا۔ اس مقام کو دیکھ کے وحشت سی ہوتی تھی۔ دل امڈا چلا آتا تھا۔ صاف یہیں جی میں آتا تھا کہ یہیں میرا مکان ہے۔ یہ املی کا درخت وہی ہے جس کے نیچے میں کھیلا کرتی تھی۔ جو لوگ محفل میں شریک تھے۔ ان میں سے بعض آدمی ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے ان کو میں نے کہیں دیکھا ہے۔ شبہ مٹانے کے لیے میں قناتوں سے باہر نکلی۔ گھروں کی قطع کچھ اور ہو گئی تھی۔ اس سے خیال ہوا شاید یہ وہ جگہ نہ ہو۔ ایک مکان کے دروازے کو غور سے دیکھا کی۔ دل کو یقین ہو گیا تھا کہ یہی میرا مکان ہے۔ جی چاہتا ہے کہ مکان میں گھسی چلی جاؤں، ماں کے قدموں پر گر پڑوں، وہ گلے لگا لیں۔ مگر جرأت نہ ہوتی تھی، اس لیے کہ میں جانتی ہوں دیہات میں رنڈیوں سے بہت ہی پرہیز کرتے ہیں۔ دوسرے باپ بھائی کی عزت کا خیال تھا۔ نواب صاحب کی باتوں سے معلوم ہو چکا تھا کہ جمعدار کی لڑکی کا نکل جانا لوگوں کو معلوم ہے۔ پھر جی کہتا تھا ہائے کیا غضب ہے! صرف ایک دیوار کی آڑ ہے۔ ادھر میری اماں بیٹھی ہوں گی اور میں یہاں ان کے لیے تڑپ رہی ہوں۔ ایک نظر صورت دیکھنا ہی ممکن نہیں۔ کیا مجبوری ہے!

اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ ایک عورت نے آ کے پوچھا "تمہی لکھنؤ سے آئی ہو؟"

میں: ہاں (اب تو میرا کلیجہ ہاتھوں اچھلنے لگا)

عورت: اچھا تو ادھر چلی آؤ، تمہیں کوئی بلاتا ہے۔

میں اچھا کہہ کر اس کے ساتھ چلی۔ ایک ایک پاؤں گویا سو سو من کا ہو گیا تھا۔ قدم رکھتی کہیں تھی اور پڑتا کہیں تھا۔

وہ عورت اس مکان کے دروازے پر مجھ کو لے گئی جسے میں اپنا مکان سمجھے ہوئے تھی۔ اس مکان کی ڈیوڑھی میں ایک چارپائی پر مجھ کو بٹھا دیا۔ اندر کے دروازے پر ٹاٹ کا پردہ پڑا ہوا تھا، اس کے پیچھے دو تین عورتیں آ کر کھڑی ہوئیں۔

ایک: لکھنؤ سے تمہی آئی ہو؟

میں: جی ہاں۔

دوسری: تمہارا نام کیا ہے؟

میں: (جی میں تو آیا کہہ دوں امیرن، مگر دل کو تھام کے) امراؤ جان۔

پہلی: تمہارا وطن خاص لکھنؤ ہے؟

میں: (اب مجھ سے ضبط نہ ہو سکا، آنسو نکل پڑے) اصلی وطن تو یہی ہے، جہاں کھڑی ہوں۔

پہلی: تو کیا بنگلے کی رہنے والی ہو؟

میں: (آنکھوں سے آنسو برابر جاری تھے، بہ مشکل جواب دیا) جی ہاں۔

دوسری: کیا تم ذات کی پتریا ہو؟

میں: ذات کی پتریا تو نہیں ہوں، تقدیر کا لکھا پورا کر رہی ہوں۔

پہلی: (خود رو کے) اچھا تو روتی کیوں ہو؟ آخر کہو پھر تم کون ہو؟

میں: (آنسو پونچھ کے) کیا بتاؤں کون ہوں، کچھ کہتے بن نہیں پڑتا۔

اتنی باتیں میں نے بہت دل سنبھال کے کی تھیں۔ اب بالکل تابِ ضبط نہ تھی، سینے میں دم رکنے لگا تھا۔

اتنے میں دو عورتیں پردے کے باہر نکلیں۔ ایک کے ہاتھ میں چراغ تھا، اس نے میرے منہ کو ہاتھ سے تھام کے کان کی لو کے پاس غور سے دیکھا اور یہ کہہ کر دوسری کو دکھایا "کیوں، ہم نہ کہتے تھے وہی ہے؟"

دوسری "ہائے میری امیرن" کہہ کے لپٹ گئی۔ دونوں ماں بیٹیاں چیخیں مار مار کے رونے لگیں، ہچکیاں بندھ گئیں۔ آخر دو عورتوں نے آ کر چھڑایا۔

اس کے بعد میں نے اپنا سارا قصہ دہرایا۔ میری ماں بیٹھی سنا کی اور رویا کی۔ باقی رات ہم دونوں وہیں بیٹھی رہیں۔ صبح ہوتے میں رخصت ہوئی۔ ماں نے چلتے وقت جس حسرت بھری نگاہ سے مجھے دیکھا تھا وہ نگاہ مرتے دم تک مجھے نہ بھولے گی، مگر مجبوری۔ روز روشن نہ ہونے پایا تھا کہ سوار ہو کر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ دوسرا مجرا صبح کو ہوتا، مگر میں نے گھر پر آ کے کل روپیہ مجرے کا واپس دے دیا اور بیماری کا بہانہ کہلا بھیجا۔ دولہا کے باپ نے آدھا روپیہ پھیر دیا۔ اس دن، دن بھر میرا جو حال رہا خدا ہی پر خوب روشن ہے۔ کمرے کے دروازے بند کر کے دن بھر پلنگ پر پڑی رویا کی۔

دوسرے دن شام کو کوئی آدھی رات گئے ایک جوان سا آدمی، سانولی رنگت، کوئی بیس بائیس کا سن، پگڑی باندھے سپاہیوں کی ایسی وردی پہنے میرے کمرے میں آیا۔ میں نے حقہ بھروا دیا۔ پان دان میں پان نہ تھے، ماما کو بلا کے چپکے سے کہا پان لے آؤ۔ اتفاق سے اور کوئی بھی اس وقت نہ تھا، کمرے میں میں ہوں اور وہ ہے۔

جوان: کل تمہی مجرے کو گئی تھیں؟ (یہ اس تیور سے کہا کہ میں جھجک گئی۔)

میں: ہاں

اتنا کہہ کے اس کے چہرے کی طرف جو دیکھا، یہ معلوم ہوتا تھا جیسے آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہے۔

جوان: (سر نیچا کر کے) خوب گھرانے کا نام روشن کیا؟

میں: (اب سمجھی کہ یہ کون شخص ہے) اس کو تو خدا ہی جانتا ہے۔

جوان: ہم سمجھے تھے کہ تم مر گئیں مگر تم اب تک زندہ ہو۔

میں: بے غیرت زندگی تھی، نہ مری۔ خدا کہیں جلد موت دے!

جوان: بے شک۔ اس زندگی سے موت لاکھ درجے بہتر تھی۔ تمہیں تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا تھا، یا کچھ کھا کے سو رہی ہوتیں۔

میں: خود اتنی سمجھ نہ تھی اور نہ آج تک کسی نے یہ نیک صلاح دی، اب سہی

جوان: اگر ایسی ہی غیرت دار ہوتیں تو اس شہر میں کبھی نہ آتیں اور آئی بھی تھیں تو اس محلے میں مجرے کو نہ آنا تھا جہاں کی رہنے والی تھیں۔

میں: ہاں اتنی خطا ضرور ہوئی، مگر مجھے کیا معلوم تھا۔

جوان: اچھا اب تو معلوم ہو گیا۔

میں: اب کیا ہوتا ہے۔

جوان: (بہت ہی غصہ ہو کے) اب کیا ہوتا ہے! اب کیا ہوتا ہے! اب (چھری کمر سے نکال کے مجھ پر جھپٹا۔ دونوں ہاتھ پکڑ کے گلے پر چھری رکھ دی) یہ ہوتا ہے۔ اتنے میں ماما بازار سے پان لے کے آئی۔ اس نے جو یہ حال دیکھا لگی چیخنے۔ "ارے دوڑو، بیوی کو کوئی مارے ڈالتا ہے۔"

جوان: (چھری گلے سے ہٹا کے، ہاتھ چھوڑ دیے) عورت کو کیا ماروں اور عورت بھی کون بڑی ...... اتنا کہہ کے دہاڑیں مار مار کے رونے لگا۔

میں پہلے ہی رو رہی تھی۔ جب اس نے گلے پر چھری رکھی تھی، جان کے خوف سے ایک دھچکا سا کلیجے پر پہنچا تھا، اس سے دم بخود سی ہو گئی تھی۔ جب وہ چھوڑ کے رونے لگا، میں بھی رونے لگی۔

ماما نے دو ایک چیخیں ماری تھیں۔ جب اس نے یہ حال دیکھا، کچھ چپ سی ہو رہی۔ ادھر میں نے اشارے سے منع کیا۔ ایک کنارے کھڑی ہو گئی۔

جب دونوں خوب رو دھو چکے۔

جوان: (ہاتھ جوڑ کے) اچھا تو اس شہر سے کہیں چلی جاؤ

میں: کل چلی جاؤں گی، مگر ایک مرتبہ ماں کو اور دیکھ لیتی۔

جوان: بس اب دل سے دور رکھو، معاف کرو۔ کل اماں نے تمہیں گھر پر بلا لیا، میں نہ ہوا، نہیں تو اسی وقت وارا نیارا ہو جاتا۔ محلے بھر میں چرچے ہو رہے ہیں۔

میں: تم نے دیکھ لیا، جان سے تو میں ڈرتی نہیں۔ مگر ہائے تمہاری جان کا خیال ہے۔ تم اپنے بچوں کے سر پر سلامت رہو! خیر اگر جیتے رہے تو کبھی نہ کبھی خیر و عافیت سن ہی لیا کریں گے۔

جوان: برائے خدا کسی سے ہمارا ذکر نہ کرنا۔

میں: اچھا۔

وہ جوان تو اٹھ کے چلا گیا۔ میں اپنے غم میں مبتلا تھی، ماما نے اور جان کھانا شروع کی۔ "یہ کون تھے؟"

میں: رنڈی کے مکان پر ہزار آدمی آتے ہیں۔ کوئی تھے، تمہیں کیا؟

بہرطور ماما کو ٹال دیا۔ رات کی رات سو رہی، صبح کو اٹھ کے لکھنؤ چلنے کی تیاری کی، شاموں شام شکرم کرائے کر کے روانہ ہو گئی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.