Urdu in Translation
Search
Bookmark

Chapter 10 of 20

The Begum's Garden in Kanpur

۹: کانپور میں بیگم کا باغ

Mirza Muhammad Hadi Ruswa

Script
Size

اتفاقاتِ زمانہ سے یہ کچھ دور نہیںیوں بھی ہوتا ہے کہ بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں

بچھڑے ہوئے مل جاتے ہیں، اور پھر کب کے بچھڑے ہوئے؟ وہ جن کے ملنے کا سان و گمان بھی نہ ہو۔ ایک دن کا واقعہ سنیے۔ کانپور میں رہتے ہوئے کوئی چھ مہینے گزر گئے ہیں۔ اب شہرت کی یہ حد پہنچی ہے کہ بازاروں اور گلیوں میں میری گائی ہوئی غزلیں لوگ گاتے پھرتے ہیں۔ شام کو میرے کمرے میں بہت اچھا مجمع رہتا ہے۔ گرمیوں کے دن ہیں، کوئی دو بجے کا وقت ہوگا، میں اپنے پلنگ پر اکیلی لیٹی ہوں۔ ماما باورچی خانے میں خراٹے لے رہی ہے۔ ایک خدمت گار کمرے کے باہر بیٹھا پنکھے کی ڈوری کھینچ رہا ہے۔ خس کی ٹٹیاں خشک ہو گئی ہیں۔ میں آدمی کو آواز دیا ہی چاہتی تھی کہ پانی چھڑک دے کہ اتنے میں کمرے کے نیچے کسی نے آ کر پوچھا "لکھنؤ سے جو رنڈی آئی ہے اس کا کمرا یہی ہے؟" درگا بنیے (جس کی دکان نیچے تھی) نے جواب دیا "ہاں یہی ہے"۔ پھر دریافت کیا "دروازہ کہاں ہے؟" اس نے بتا دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک بڑی بی کوئی ستر برس کا سن، گوری سی، منہ پر جھریاں پڑی ہوئیں، بال جیسے روئی کا گالا، کمر جھکی ہوئی، سفید ململ کا دوپٹہ، تن زیب کا کرتا، نین سکھ کا پاجامہ بڑے بڑے پائینچوں کا پہنے، ہاتھوں میں چاندی کے موٹے موٹے کڑے، انگلیوں میں انگوٹھیاں، جریب ہاتھ میں، ہانپتی کانپتی ہوئی آئیں اور سامنے فرش پر بیٹھ گئیں۔ ایک کالا سا لڑکا کوئی دس بارہ برس کا ان کے ساتھ تھا۔ وہ کھڑا رہا۔

بڑی بی: لکھنؤ سے تمہی آئی ہو؟

میں: جی ہاں!

اتنا کہہ کے میں پلنگ سے نیچے اتر آئی، پان دان آگے کھسکایا، آدمی کو حقے کے لیے آواز دی۔

بڑی بی: ہماری بیگم نے تمہیں یاد کیا ہے۔ لڑکے کی سالگرہ ہے۔ زنانہ جلسہ ہوگا۔ تمہارا مجرا کیا ہے؟

میں: بیگم صاحب مجھ کو کیا جانیں؟

بڑی بی: اے تمام شہر میں تمہارے گانے کی دھوم ہے۔ دوسرے تمہارے بلانے کا یہ بھی ایک سبب ہے کہ بیگم صاحب خود بھی لکھنؤ کی رہنے والی ہیں۔

میں: اور آپ بھی تو لکھنؤ کی ہیں؟

بڑی بی: تم نے کیوں کر جانا؟

میں: کہیں بات چیت کا قرینہ چھپا رہتا ہے۔

بڑی بی: ہاں، میں بھی وہیں کی رہنے والی ہوں۔ اچھا تو اپنا مجرا تو بتاؤ، ابھی بہت کام پڑا ہے۔

میں: مجرا تو میرا کھلا ہے۔ سب جانتے ہیں، پچاس روپے لیتی ہوں۔ مگر بیگم صاحب لکھنؤ کی رہنے والی ہیں اور انہوں نے قدر کر کے بلایا ہے، تو ان سے کچھ نہ لوں گی۔ جلسہ کب ہے؟

بڑی بی: آج شام کو۔ اچھا تو یہ روپیہ کھچڑی کا تو لو۔ باقی وہاں آ کے سمجھ لینا۔

میں: (روپیہ لے لیا) اس کی کوئی ضرورت نہ تھی، مگر اس خیال سے کہ بیگم صاحب برا نہ مانیں روپیہ لیے لیتی ہوں۔ اچھا اب کہیے کہ مکان کہاں ہے؟

بڑی بی: مکان تو ذرا دور ہے۔ نواب گنج میں ہے۔ یہ لڑکا سرِ شام آئے گا، اسی کے ساتھ چلی آنا۔ مگر اتنا خیال رہے کہ کوئی مرد ذات تمہارے ملنے والوں میں سے تمہارے ساتھ نہ ہو۔

میں: اور سازندے؟

بڑی بی: سازندے، خدمت گار ان کی مناہی نہیں ہے، کوئی اور نہ ہو۔

میں: جی نہیں، یہاں میرا کون ایسا ملاقاتی ہے جسے ساتھ لاؤں گی، خاطر جمع رکھیے۔

اتنے میں خدمت گار نے حقہ تیار کیا۔ میں نے اشارہ کیا بڑی بی کے سامنے لگا دو۔ بڑی بی مزے لے لے کے حقہ پینے لگیں۔ میں ایک پان پر کتھا چونا لگا کے، ڈلیوں کا چورا ڈبیا میں پڑا ہوا تھا۔ ایک چٹکی اس کی اور الائچی کے دانے پان دان کے ڈھکنوں پر کچل کے گلوری بنا کے بڑی بی کو دینے لگی۔

بڑی بی: ہائے بیٹا! دانت کہاں سے لاؤں جو پان کھاؤں۔

میں: آپ کھائیے تو، میں نے آپ ہی کے لائق پان بنایا ہے۔

بڑی بی سمجھ گئیں۔ پان لے کے کھایا، بہت ہی خوش ہوئیں۔ "ہائے ہمارے شہر کی تمیزداری!" اتنا کہہ کے دعائیں دیتی ہوئیں رخصت ہوئیں۔ چلتے چلتے کہہ گئیں۔ "ذرا دن سے آ جانا۔ گھڑی بھر دن رہے گرہ لگائی جائے گی۔"

میں: اگرچہ مجرے کا یہ دستور نہیں ہے، مگر خیر بیگم صاحب نے یاد کیا ہے تو میں سویرے سے حاضر ہو کر مبارک باد گاؤں گی۔

واقعی وطن کی قدر باہر جا کے ہوتی ہے۔ کانپور میں سینکڑوں جگہ مجرے ہوئے مگر کہیں جانے کا ایسا اشتیاق نہیں ہوا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ جلدی سے شام ہو جائے اور میں روانہ ہوں۔ گرمیوں کا دن پہاڑ ہوتا ہے، خدا خدا کر کے اتنا دن کٹا۔ پانچ بجتے بجتے لڑکا آ موجود ہوا۔ میں پہلے ہی سے بنی ٹھنی بیٹھی تھی۔ سازندوں کو بلوا رکھا تھا۔ لڑکے نے ان کے مکان کا پتا بتا دیا، میں سوار ہو کے روانہ ہو گئی۔

بیگم کا مکان شہر سے کوئی گھنٹے بھر کا راستہ تھا۔ چھ بجے میں وہاں پہنچی۔ نہر کے کنارے ایک باغ تھا جس کے چاروں طرف مینڈ پر ناگ پھنی اور دوسرے خاردار درخت اس طرح برابر بٹھائے گئے تھے جس سے ایک دیوار سی بن گئی تھی۔ باغ کی قطع بالکل انگریزی تھی۔ تاڑ، کھجور اور طرح طرح کے خوب صورت درخت قرینے سے لگائے گئے تھے۔ روشوں پر سرخی کٹی ہوئی تھی۔ چاروں طرف سبزہ تھا۔ جا بجا کھنگروں کی پہاڑیاں سی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر انواع و اقسام کے پہاڑی درخت پتھروں کے اندر سے اگے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ پہاڑیوں کے ارد گرد دوب جمائی گئی تھی۔ باغ میں ہر چہار طرف پکے بربے بنے ہوئے تھے، ان میں صاف موتی سا پانی بہہ رہا تھا۔ مالی نلوں اور فواروں کے ذریعے سے پانی دے رہے تھے۔ پتیوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔ دن بھر کی دھوپ کھائے ہوئے پھولوں میں جو اب پانی پہنچا تھا، کیسے تر و تازہ اور شاداب تھے۔

سالگرہ کی رسم کوٹھی میں ادا ہوئی تھی۔ عورتوں کے گانے کی آواز آئی۔ باہر میں نے مبارک باد گائی۔ پھر آپ ہی آپ شیام کلیان کی ایک چیز شروع کر دی۔ کوئی سننے والا نہ تھا، آپ ہی آپ گایا کی، پھر چپ ہو رہی، بیگم صاحب نے ایک اشرفی اور پانچ روپے انعام کے بھیجے۔ تھوڑی دیر میں شام ہو گئی، چاند نکل آیا، چاندنی پھیل گئی۔ تالاب کے پانی میں ماہتاب کا عکس موجوں سے مل کر عجب کیفیت دکھا رہا تھا۔

باغ کے ایک کنارے پر بہت عالی شان کوٹھی تھی۔ وسطِ باغ میں ایک پختہ تالاب بنا ہوا تھا۔ اس کے گرد ولایتی پھولوں کے نانڈے نہایت خوب صورتی سے سجے ہوئے تھے، اسی تالاب سے ملا ہوا ایک اونچا چبوترا تھا۔ اس کے درمیان ایک مختصر سا ہوادار چوبی بنگلہ تھا۔ اس کے ستونوں پر رنگ آمیزی کی ہوئی تھی۔ اس تالاب میں پانی نہر سے آ کے گرتا تھا۔ پانی کے گرنے کی آواز سے دل میں ٹھنڈک پہنچتی تھی۔ واقعی عجیب عالم تھا۔ شام کا سہانا وقت، ستھری ہوا، رنگ رنگ کے پھولوں کی مہک۔ ایسی فضا میں نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ چبوترے پر سفید چاندنی کا فرش تھا، مسند تکیہ لگا ہوا تھا۔ اس کے سامنے ہم لوگ بٹھائے گئے۔ کوٹھی سے لے کر اس چبوترے تک گلاب کی بیلوں سے ایک چھتا سا بنایا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ اسی راہ سے بیگم صاحب تشریف لاتی ہیں۔ سامنے چلمنیں پڑی ہوئی تھیں۔ چبوترے پر دو سبز مردنگیں روشن ہو گئیں۔ مجھے گانے کا حکم ہوا۔ میں نے کدارے کی ایک چیز شروع کر دی۔ بڑی دیر تک گایا کی۔ اتنے میں ایک مہری ہاتھوں میں دو سبز کنول لیے ہوئے باہر نکلی۔ مسند کے سامنے رکھ دیے۔ سازندوں سے کہا تم لوگ وہ سامنے شاگرد پیشہ میں چلے جاؤ، وہیں کھانا بھیج دیا جائے گا۔ اب یہاں زنانہ ہوگا۔ جب وہ لوگ اٹھ گئے، بیگم صاحب برآمد ہوئیں۔ میں تعظیم کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔ انہوں نے مجھ کو قریب بلایا، خود مسند پر بیٹھ گئیں۔ گانے کے لیے حکم کی منتظر تھی اور بیگم کی صورت غور سے دیکھ رہی تھی۔
حیرانیٔ نگاہ تماشا کرے کوئی
صورت وہ روبرو ہے کہ دیکھا کرے کوئی

پہلے تو وہ باغ اور وہاں کی فضا دیکھ کے مجھے پرستان کا شبہ ہوا تھا مگر اب یقین ہو گیا۔ پری میرے سامنے گاؤ تکیے سے لگی بیٹھی ہے۔ مانگ نکلی ہوئی ہے۔ چوٹی کمر تک پڑی ہوئی، سرخ و سفید رنگت، اونچا ماتھا، کھنچی ہوئی بھویں، بڑی بڑی آنکھیں، گال جیسے گلاب کی پتیاں، چھوٹی ناک، چھوٹا سا دہانہ، پتلے پتلے نازک ہونٹ۔ نقشے بھر میں کوئی چیز ایسی نہ تھی جس سے بہتر میرے خیال میں کوئی چیز آ سکتی ہو۔ اس پر اعضا کا تناسب اور سینے کا ابھار پن کس قدر خوش نما تھا۔ سینکڑوں عورتیں میری نظر سے گزر گئیں مگر میں نے اس بلا کی صورت کبھی نہ دیکھی تھی۔ خورشید سے بہت جھجک ملتی تھی۔ مگر کہاں خورشید کہاں وہ! خورشید کی صورت میں پھر ڈومنی پنا تھا۔ اس میں یہ امیرانہ رعب، یہ تمکنت، یہ بھاری بھرکم پن کہاں! دوسرے خورشید ان کے سامنے کسی قدر بھدی معلوم ہوتی تھی۔ ان کا کامنی سا نازک چھریرا بدن اس نے کہاں پایا۔ دوسرے اس کی صورت پر آٹھ پہر اداسی برستی تھی، جب دیکھو بروگن بنی تھی۔ بیگم صاحب بہت خوش مزاج معلوم ہوتی ہیں۔ بات کرتی ہیں گویا منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ ہر بات پر خود بہ خود ہنسے دیتی ہیں مگر کسی کو مجالِ کلام نہیں۔ واقعی سادگی میں تکلف اور تمکنت کے ساتھ شوخی انہی میں دیکھی۔ دولت مندوں کی خوشامد سب کرتے ہیں مگر عورت ذات ہو کے کہتی ہوں کہ ایسوں کی خوشامد بھی اگر بے غرض کی جائے تو کوئی عیب نہیں۔ لباس اور زیور بھی اسی صورت کے لائق تھا۔ مہین بسنتی دوپٹا کندھوں سے ڈھلکا ہوا، کیچلی کا شلوکا پھنسا پھنسا، سرخ گرنٹ کا پاجامہ، کانوں میں صرف یاقوت کے آویزے، ناک میں ہیرے کی کیل، گلے میں سونے کا سادہ طوق، ہاتھوں میں موتیوں کی سمرنیں، بازوؤں پر نورتن، پاؤں میں سونے کی بیڑیاں۔ چہرے کی خوب صورتی، لباس کی سادگی اور زیور کی مناسبت، یہ سب چیزیں میری آنکھوں کے سامنے تھیں اور میں نقشِ حیرت بنی بیٹھی تھی۔ بغور صورت دیکھ رہی تھی۔ میں اور میری صورت تو جیسی کچھ ہے، وہ اس وقت آپ کے سامنے ہے، مگر یقین ہی کیجیے گا، ان کی توجہ بھی کسی اور طرف نہ تھی، مجھی کو دیکھ رہی تھیں۔ دونوں طرف سے نگاہیں لڑی ہوئی تھیں۔ میرے دل میں بار بار ایک خیال آتا تھا مگر اس کے اظہار کا موقع نہ تھا۔ کہوں تو کیوں کر کہوں۔ ایک مہری پس پشت کھڑی پنکھا جھل رہی ہے، دو سامنے کھڑی ہیں۔ ایک کے ہاتھ میں چاندی کی ڈبیا، دوسری کے پاس خاص دان۔ بڑی دیر تک نہ بیگم صاحب نے مجھ سے بات چیت کی اور نہ میں کچھ بول سکی۔ آخر انہوں نے سلسلۂ کلام اس طرح شروع کیا۔

بیگم: تمہارا نام کیا ہے؟

میں: (ہاتھ باندھ کے) امراؤ۔

بیگم: "خاص لکھنؤ میں مکان ہے۔"

(یہ سوال کچھ اس رخ سے کیا گیا تھا کہ مجھے جواب دینا مشکل ہوا، خصوصاً اس موقع پر، اس لیے کہ اگر کہتی ہوں کہ لکھنؤ میں مکان ہے تو ایک مطلب جو میرے دل میں تھا فوت ہو جاتا ہے۔ فیض آباد بتاتی ہوں تو بے محل افشائے راز کا خیال ہے، آخر بہت سوچ سمجھ کے)

میں: جی ہاں، پرورش تو لکھنؤ میں پائی ہے۔

جواب دینے کو تو دے دیا، مگر اس کے ساتھ ہی خیال ہوا کہ اب جو سوال کیا جائے گا تو پھر وہی دقت پیش آئے گی۔ میرا خیال غلط نہ تھا، اس لیے کہ فوراً بیگم صاحب نے پوچھا۔

بیگم: تو کیا پیدائش لکھنؤ کی نہیں ہے؟

اب حیران ہوں کہ کیا جواب دوں۔ تھوڑی دیر سکوت کیا، جیسے کچھ سنا ہی نہ تھا۔ آخر اس بات کو ٹال کے۔

میں: حضور کا دولت خانہ لکھنؤ میں ہے؟

بیگم: کبھی لکھنؤ میں تھا، اب تو کانپور ہی وطن ہو گیا۔

میں: میرا بھی یہی ارادہ ہے۔

بیگم: کیوں؟

میں: (اس سوال کا جواب دینا بھی دشوار تھا۔ کون قصہ بیان کرتا) اب کیا عرض کروں، بیکار سمع خراشی ہوگی۔ حال ناگفتہ بہ ہے۔ کچھ ایسے ہی واقعات پیش آئے کہ لکھنؤ جانے کو جی نہیں چاہتا۔

بیگم: چلو اچھا ہے، تو ہمارے پاس بھی کبھی کبھی چلی آیا کرو۔

میں: آنا کیسا، میرا تو ابھی سے جانے کو جی نہیں چاہتا۔ اول تو آپ کی قدردانی، دوسرے یہ باغ، یہ فضا، ممکن ہے کہ کوئی ایک بار دیکھے اور دوبارہ دیکھنے کی ہوس نہ ہو؟ خصوصاً مجھ جیسی خفقانی مزاج کی عورت کے لیے تو یہاں کی آب و ہوا اکسیر کا خواص رکھتی ہے۔

بیگم: اے ہے! تمہیں یہ جنگلہ بہت پسند آیا۔ نہ آدمی نہ آدم ذات، بیہات خدا کی ذات، شہر سے کوسوں دور، چار پیسوں کا سودا منگاؤ تو آدمی صبح کا گیا شام کو آتا ہے۔ چھائیں چھائیں، شیطان کے کان بہرے، کوئی بیمار ہو تو جب حکیم صاحب شہر سے آئیں، یہاں دشمنوں کا خاتمہ ہو جائے۔

میں: حضور اپنی اپنی طبیعت! مجھے تو بہت ہی پسند ہے۔ میں تو جانتی ہوں کہ اگر یہاں رہوں تو مجھے کسی چیز کی ضرورت ہی نہ ہو۔ دوسرے ایسے مقام پر بیمار ہونا کیا ضرور ہے۔

بیگم: جب میں پہلے پہل آئی تھی تو میرا بھی یہی خیال تھا۔ کچھ دنوں یہاں رہ کے معلوم ہوا کہ شہر کے رہنے والے ایسے مقام پر نہیں رہ سکتے۔ شہر میں ہزار طرح کا آرام ہے۔ اور سب باتوں کو جانے دو، جب سے نواب کلکتے گئے ہیں، راتوں کو ڈر کے مارے نیند نہیں آتی۔ یوں تو خدا کے دیے، سپاہی، پاسی، خدمت گار اس وقت بھی دس مرد نوکر ہیں۔ عورتوں کی گنتی نہیں۔ مگر پھر بھی ڈر لگتا ہے۔ میں تو دو چار دن اور راہ دیکھتی ہوں، اگر نواب جم جم آئے تو میں شہر میں کوئی مکان لے کے جا رہوں گی۔

میں: قصور معاف ہو، آپ کا مزاج وہمی ہے۔ ایسے ایسے وسواس دل میں نہ لایا کیجیے۔ شہر میں جائیے گا تو قدرِ عافیت کھلے گی۔ وہ گرمی ہے کہ آدمی پکے جاتے ہیں۔ دوسرے بیماریاں، خدا اپنی پناہ میں رکھے!

یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ اتنے میں کھلائی بچے کو لے کر آئی۔ تین برس کا لڑکا تھا، ماشاء اللہ گورا گورا، خوب صورت۔ ایسی پیاری پیاری باتیں کرتا تھا جیسے مینا۔ بیگم نے کھلائی سے لے کے گود میں بٹھا لیا۔ تھوڑی دیر کھلا کدا کے پھر کھلائی کو دینے لگیں کہ میں نے ہاتھ بڑھا کے لے لیا۔ بڑی دیر تک لیے رہی اور پیار کیا کی، پھر کھلائی کو دے دیا۔

میں: یوں تو شاید نہ بھی آتی، مگر میاں کو دیکھنے تو ضرور ہی آؤں گی۔

بیگم: (مسکرا کے) اچھا کسی طرح ہو، آنا ضرور۔

میں: ضرور ضرور حاضر ہوں گی۔ یہ آپ بار بار کیوں فرماتی ہیں۔ میں تو اس قدر حاضر ہوں گی کہ حضور کو دوبھر ہو جاؤں گی۔

اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ بیگم نے میرے گانے کی بہت تعریف کی۔ اسی اثنا میں خاصہ والی نے آ کے کہا کہ خاصہ تیار ہے۔ بیگم نے کہا چلو کھانا کھا لو۔

میں: بہت خوب!

بیگم مسند سے اٹھ کھڑی ہوئیں، میں بھی ساتھ ہی اٹھی۔ میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ مہریوں کو اشارہ کیا تم یہیں ٹھہرو۔ ہم کھانا کھا کے یہیں بیٹھیں گے۔

میں: واقعی اس وقت کا سماں تو ایسا ہے کہ جانے کو جی نہیں چاہتا۔

بیگم: تو کیا کھانا یہیں منگوا لیا جائے؟

میں: جی نہیں! اچھا، کھانا کھا کے چلے آئیں گے۔

بیگم: (ایک مہری سے) ان کے ساتھ کے آدمیوں کو کھانا دلوا دیا گیا؟

مہری: (ہاتھ باندھ کے) حضور! دلوا دیا گیا۔

بیگم: اچھا انہیں رخصت کرو۔ ہم نے دوسرا مجرا معاف کیا۔ امراؤ جان کھانا کھا کے جاویں گی۔

اس کے بعد بیگم اور ہم دونوں کوٹھی کی طرف چلے۔ ایک مہری آگے آگے فانوس لیے جاتی تھی۔ چپکے سے میرے کان میں کہا "مجھ کو تم سے بہت باتیں کرنا ہیں، مگر آج اس کا موقع نہیں۔ کل تو مجھے فرصت نہ ہوگی، پرسوں تم صبح آنا اور کھانا یہیں کھانا۔"

میں: مجھے بھی کچھ عرض کرنا ہے۔

بیگم: اچھا تو آج کچھ نہ کہو۔ چلو کھانا کھا لیں، اس کے بعد تمہارا گانا سنیں گے۔

میں: پھر سازندوں کو تو حضور رخصت کر دیا۔

بیگم: ہم کو مردوں کے ساتھ گانا اچھا نہیں معلوم ہوتا۔ میری ایک خواص خوب طبلہ بجاتی ہے۔ اس پر گانا۔

میں: بہت خوب!

اب ہم کوٹھی کے زینے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ بہت وسیع کوٹھی تھی اور اس طرح سلیقے سے سجی ہوئی تھی کہ شاہی کوٹھیوں کے دیکھنے کے بعد اگر کوئی کوٹھی دیکھی تو یہی دیکھی۔ پہلے برآمدہ ملا، اس کے بعد کئی کمروں سے ہو کے گزرے۔ ہر ایک نئے طرز سے سجا ہوا تھا۔ ہر کمرے کا فرش فروش اور شیشہ آلات ایک نئے رنگ اور نئے طرز کا تھا۔ آخر ہم اس کمرے میں پہنچے جہاں دسترخوان چنا ہوا تھا۔ دسترخوان پر دو عورتیں اور منتظر تھیں۔ ان میں سے ایک چٹھی نویس تھی، ایک مصاحب۔ ان دونوں کا لباس بھی بہت ہی زرق برق تھا۔

دسترخوان پر کئی قسم کے پلاؤ، بریانی، مزعفر، متنجن، سفیدہ، شیر برنج، باقر خانیاں، کئی طرح کے سالن، کباب، اچار، مربے، مٹھائیاں، دہی، بالائی، غرض کہ ہمہ قسم کی نعمت موجود تھی۔ لکھنؤ سے نکلنے کے بعد آج کھانے کا مزہ آیا۔ بیگم ہر طرح کی چیزیں میرے سامنے رکھتی جاتی تھیں۔ میں اگرچہ کسی قدر تکلف سے کھانا کھاتی تھی مگر ان کے اصرار نے ضرورت سے زیادہ کھلایا۔

بیسن دانی اور تسلہ آیا، ہاتھ منہ دھو کے سب نے پان کھائے۔ پھر اسی چبوترے پر جلسہ جما۔ اس جلسے میں صرف بیگم صاحب ہی نہ تھیں۔ چٹھی نویس، مصاحبین، مغلانیاں، پیش خدمتیں، مہریاں، مامائیں، سب ملا کے کوئی دس بارہ عورتیں تھیں۔

بیگم صاحب نے حکم دیا کہ طبلے کی جوڑی اور ستار اٹھا لاؤ۔ ایک مصاحب، جو طبلہ بجانے میں مشاق تھی، طبلہ بجانے لگی، خود بیگم صاحب ستار چھیڑنے لگیں، مجھے گانے کا حکم دیا۔

کھاتے کھاتے گیارہ بج چکے تھے۔ جب ہم گانے کو بیٹھے ہیں ٹھیک بارہ بجے کا وقت تھا۔ اس وقت وہ باغ، جس میں بہت سا روپیہ صرف کر کے جنگل اور پہاڑ کی گھاٹیوں کے نمونے بنائے گئے تھے، عجب وحشت ناک سماں دکھا رہا تھا۔ ایک طرف چاند اس عالی شان کوٹھی کے ایک گوشے سے تھوڑی دور پر گنجان درختوں کی شاخوں سے نظر آتا تھا۔ مگر اب ڈوبنے ہی کو تھا۔ تاریکی روشنی پر چھائی جاتی تھی جس سے ہر چیز بھیانک معلوم ہونے لگی۔ درخت جتنے اونچے تھے اس سے کہیں بڑے نظر آتے تھے۔ ہوا سن سن چل رہی تھی۔ سرو کے درخت سائیں سائیں کر رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی کا عالم تھا۔ مگر تالاب میں پانی گرنے کی آواز بلند ہو گئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی پرندہ اپنے آشیانے میں چونک کر ایک ہانک بول دیتا تھا یا شکاری جانوروں کے ہول سے جو چڑیاں اڑتی تھیں اس سے پتے کھڑک جاتے تھے یا کبھی کوئی مچھلی تالاب میں اچھل پڑتی تھی۔ مینڈک اپنا بے تکا راگ گا رہے تھے۔ جھینگر آس دے رہے تھے۔ سوائے اس چبوترے کے جہاں دس بارہ جوان جوان عورتیں رنگ رنگ کے لباس پہنے اور طرح طرح کے زیور آراستہ جلسہ جمائے بیٹھی تھیں، اور کوئی آس پاس نہ تھا۔ ہوا کے جھونکوں سے کنول بجھ گئے تھے۔ صرف دو مردنگوں کی روشنی تھی، ان کے بھی شیشے سبز۔ تاروں کا عکس تالاب کے پانی میں ہلکورے لے رہا تھا۔ ہر طرف اندھیرا تھا۔ طلسمات کا عالم تھا۔ وقت اور مقام کی مناسبت سے میں نے سوہنی کی ایک چیز شروع کر دی۔ اس راگنی کے بھیانک سروں نے دلوں پر اپنا اثر کیا تھا۔ سب مبہوت بیٹھے تھے۔

مارے خوف کے باغ کی طرف دیکھا نہ جاتا تھا۔ خصوصاً گنجان درختوں کے نیچے اندھیرا گھپ تھا۔ سب ایک دوسرے کی صورت دیکھ رہے تھے۔ گویا وہ جلسہ امن کی جگہ تھی، اور جدھر نگاہ اٹھا کے دیکھو ایک ہو کا عالم تھا۔ اوروں کا کیا ذکر، خود میرا کلیجہ دھڑک رہا تھا۔ دل ہی دل میں کہتی تھی بیگم نے سچ کہا تھا، بے شک یہ جگہ رہنے کے لائق نہیں ہے۔ اسی اثنا میں گیدڑ کے بولنے کی آواز آئی، اس نے اور بھی دلوں کو دہلا دیا، اس کے بعد کتے بھونکنے لگے۔ اب تو مارے دہشت کے یہ حال تھا کہ کسی کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔ اتنے میں بیگم صاحب نے گاؤ تکیے سے ذرا اونچی ہو کے اپنے سامنے کچھ دیکھا اور زور سے ایک چیخ مار کے مسند پر گر پڑیں اور سب عورتیں بھی اسی طرف دیکھنے لگیں، میں بھی مڑ کے دیکھنے لگی۔

بیگم صاحب کو میں سمجھ چکی تھی کہ وہمی ہیں، مگر اب جو دیکھتی ہوں تو ان کے وہم کی حقیقت نظر آنے لگی۔ سامنے سے دس پندرہ آدمی منہ پر ڈھاٹے باندھے، ننگی تلواریں ہاتھ میں، دوڑتے چلے آتے ہیں۔ عورتوں کے چلانے سے بیگم کے نوکر چاکر، خدمت گار، پاسی سب اسی طرف کو چلے۔ کوئی نہتا، کسی کے ہاتھ میں لاٹھی۔ مگر ڈاکو زیادہ تھے اور یہاں آدمی کم تھے۔ کئی تو راستے ہی سے فرار ہو گئے، چار پانچ آدمی چبوترے تک پہنچ ہی گئے۔ انہوں نے عورتوں کو بیچ میں کر لیا اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہو کے کھڑے ہو گئے۔ عورتوں میں سے کسی کو ہوش نہ تھا، سب غش کی حالت میں بے دم پڑی تھیں۔ ایک میں، خدا جانے کیا پتھر دل تھا، کہ بیٹھی رہی۔ مارے ہول کے دم نکلا جاتا تھا۔ یا اللہ! دیکھیے کیا ہوتا ہے۔

بیگم کے آدمیوں میں سے جن کے پاس حربے تھے، وہ آگے بڑھنے ہی کو تھے کہ سرفراز نامی ایک سپاہی نے روکا۔

سرفراز: (اپنے ساتھیوں سے) ٹھہرو، ابھی جلدی نہ کرو۔ پہلے ہمیں ان لوگوں کا عندیہ معلوم کر لینے دو۔ (ڈاکوؤں سے) تم لوگ کس ارادے سے آئے ہو؟

ایک ڈاکو: جس ارادے سے آئے ہیں تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔

سرفراز: وہی میں پوچھتا ہوں، جان کے خواہاں ہو یا مال کے؟

دوسرا ڈاکو: ہمیں جان سے کوئی غرض نہیں۔ کوئی باپ مارے کا بیر ہے؟ ہاں جس ارادے سے آئے ہیں اس میں تم مزاحم ہو گئے تو دیکھا جائے گا۔

سرفراز: (کسی قدر سخت ہو کے) تو کیا بہو بیٹیوں کی آبرو لو گے؟ اگر یہ مقصد ہو ...... (سرفراز پوری بات بھی کرنے نہ پایا تھا کہ کسی نے ڈاکوؤں کی طرف سے کہا)

کوئی ڈاکو: نا صاحب! کسی کی بہو بیٹیوں سے کیا واسطہ۔ کیا ہمارے بہو بیٹیاں نہیں ہیں؟ عورتوں کے کوئی ہاتھ لگا سکتا ہے؟

سرفراز: (خوش ہو کے) تو پھر یہی میں پوچھتا ہوں۔ اچھا تو بھائیو ہم ابھی تمہیں کمروں کی کنجیاں منگائے دیتے ہیں، اور جو عورتیں وہاں ہیں ان کو یہاں بلوائے لیتے ہیں۔ گھر کی مالک بیگم یہیں ہیں۔ تم شوق سے کوٹھی میں جاؤ، جو جی چاہے اٹھا لے جاؤ۔ رہا عورتوں کا زیور وہ بھی ہم اتروائے دیتے ہیں۔ ہمارا مالک کچھ اس سے غریب نہ ہو جائے گا۔ خدا کے حکم سے لاکھوں روپیہ بینک گھر میں جمع ہے۔ علاقے سے جو آتا ہے اس کا ذکر نہیں۔

ڈاکو: اس سے بہتر کیا ہے۔ مگر اس میں دغا نہ ہو۔

سرفراز: سپاہی کے پوت دغا نہیں کرتے، خاطر جمع رکھو۔

اتنا کہنا تھا کہ میری اس کی نگاہیں چار ہوئیں۔ میں نے پہچان تو لیا، بولنے کا قصد کیا، مگر دل میں ایسی دہشت سمائی ہوئی تھی کہ منہ سے آواز نہ نکلتی تھی کہ اتنے میں خود اس نے آگے بڑھ کے کہا "بھابی! تم یہاں کہاں؟"

میں: جب سے تمہارے بھائی قید ہو گئے یہیں ہوں۔

فضل علی: یہاں کس کے پاس؟

میں: رہتی تو شہر میں ہوں لیکن یہاں میری ایک بہن بیگم صاحب کے پاس نوکر ہیں، ان سے ملنے آئی تھی۔

فضل علی: تمہاری بہن کہاں ہیں؟

میں: یہیں ہیں۔ جب سے تم لوگوں کے آنے کا ہنگامہ ہوا بے چاری غش میں پڑی ہیں۔ میری طرح تو ہیں نہیں، بے چاری پردہ نشیں ہیں؟

فضل علی: پردہ نشیں ہیں؟

میں: جوانی میں رانڈ ہوئیں، جب سے امیر رئیسوں کی نوکریاں کرتی پھرتی ہیں۔

فضل علی: (اپنے ساتھیوں سے) یہاں سے ایک پیسے کی چیز لینا میرے نزدیک تو حرام ہے اور نہ میں اس معاملے میں تمہارے ساتھ ہوں۔

ایک ڈاکو: یہ کیا، پھر آئے کیوں تھے؟

فضل علی: جس ارادے سے آئے، تمہیں معلوم ہے، مگر کسی کا خیال بھی ہے۔ مجھ سے نہیں ہو سکتا کہ فیضو بھائی کی آشنا اور اس کی بہن کا اسباب لوٹوں، یا جس سرکار سے ان لوگوں کا توسل ہو وہاں دست درازی کروں۔ اگر وہ قید میں سنے گا تو کیا کہے گا!

اس بات پر ڈاکوؤں کے آپس میں بہت جھگڑا ہونے لگا، مگر سب فضل علی کا دباؤ مانتے تھے، کوئی دم نہ مار سکتا تھا۔ پھر بھی خالی ہاتھ پھر جانا کچھ ایسی سہل بات نہ تھی۔ سب ڈاکو غل مچاتے تھے "فاقوں مرتے ہیں، کریں تو کیا کریں۔ ایک موقع ملا بھی تو اسے خان صاحب چھوڑے دیتے ہیں۔ آخر پیٹ کہاں سے پالیں۔"

جب فضل علی اپنے گروہ سے جل کے الگ کھڑے ہوئے تو ان کے ساتھ ہی ساتھ ایک اور شخص سیاہ فام سا یہ کہتا ہوا نکلا۔

وہ شخص: خان صاحب، میں بھی تمرے ساتھ ہوں۔

غور سے جو دیکھتی ہوں، معلوم ہوا کہ فیض علی کا سائیس ہے۔ میں نے اسے بلایا۔ علیحدہ لے جا کے باتیں کیں۔ وہ اشرفی اور روپے جو بیگم صاحب نے انعام دیے تھے، چپکے سے اسے دے دیے۔

فضل علی: (سرفراز خان سے) بھائی میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم جانو اور یہ لوگ۔

سرفراز: میں ان لوگوں کو بھی راضی کیے دیتا ہوں۔ مگر یہاں سے چلو۔ عورتیں پریشان ہو رہی ہیں۔ ذرا ان کو ہوش میں آنے دو۔ ہم تم لوگوں کو خوش کریں گے۔ ڈاکو وہاں سے چلے گئے۔ بیگم صاحب ابھی تک بے ہوش پڑی تھیں۔ دانت بیٹھ گئے تھے۔ میں تالاب سے ہاتھ میں پانی لائی، ان کے منہ پر چھینٹے دیے۔ بڑی مشکل سے ہوش میں آئیں۔ میں نے کہا "سنبھل کے بیٹھیے، خدا کے صدقے سے وہ آفت ٹل گئی۔ خاطر جمع رکھیے۔" اور عورتوں کو بھی پانی چھڑک کر اٹھایا۔ سب اٹھ کے بیٹھیں۔ جب اطمینان ہو گیا تو میں نے کل قصہ بیان کیا۔ بیگم صاحب بہت خوش ہوئیں۔ سرفراز خان کو بلا بھیجا۔

سرفراز: سرکار کچھ دے دیجیے، بغیر اس کے کام نہ چلے گا۔ اس وقت نہ امراؤ جان یہاں ہوتیں نہ یہ آفت ٹلتی۔

بیگم: کسی نہ کسی وقت کی محبت کام آ ہی جاتی ہے۔

میں نے اس بات کا جواب نہ دیا، اس لیے کہ میں سمجھ گئی کہ اس وقت گھبراہٹ میں یہ راز کی بات ان کے منہ سے نکل گئی ہے۔ اس موقع پر ایسی باتوں کا اظہار ان کی شان کے خلاف ہے۔

میں: جی نہیں۔ میں نے کیا کیا۔ یہ بھی اتفاق تھا۔

مختصر یہ کہ بیگم نے صندوقچہ منگایا۔ پانچ سو نقد اور پانچ پانچ سو کا سونے چاندی کا زیور دے کے انہیں ٹالا۔ سب کی جان میں جان آئی۔ بیگم کا اس وقت کا کہنا مجھے آج تک یاد ہے۔

بیگم: کیوں امراؤ جان! باغ میں رہنے کا مزا دیکھا؟

میں: حضور سچ کہتی تھیں۔

اب صبح کے تین بج گئے تھے، سب لوگ اٹھ اٹھ کے کوٹھی میں گئے۔ ان لوگوں کے ساتھ میں بھی اٹھی۔ کوٹھی کے برآمدے میں ایک پلنگ میرے لیے بچھوا دیا گیا۔ نیند کسے آتی۔ رات بھر جاگ رہی۔ صبح ہوتے سب سو گئے۔ میری آنکھ بھی لگ گئی۔ ابھی نیند بھر کے سونے نہ پائی تھی کہ میرے خدمت گار سواری لے کے آ گئے۔ مجھے جگوایا، میں آنکھیں ملتی ہوئی باہر گئی۔

خدمت گار: آپ تو خوب یہاں آئیں، رات بھر ہم لوگ راہ دیکھا کیے۔

میں: کیوں کر آتی۔ سواری کو تو رخصت کر دیا تھا۔

خدمت گار: اچھا تو اب چلیے۔ لکھنؤ سے لوگ آپ کے پاس آئے ہیں۔

میں سمجھ گئی۔ ہو نہ ہو بوا حسینی اور گوہر مرزا ہوں گے۔ آخر پتا لگا لیا نا!

میں: اچھا چلتی ہوں، سواری لائے ہو؟

خدمت گار: حاضر ہے۔

جب میں نے جانے کا قصد کیا دو ایک عورتیں اور جاگ چکی تھیں۔ مجھ کو روکا کہ بیگم صاحب سے مل کے جائیے گا۔ میں نے کہا اس وقت کام ہے، بیگم صاحب خدا جانے کب سو کے اٹھیں گی۔ ایسا ہی ہے تو پھر آؤں گی۔

عورتیں: بھلا اب کیا آؤ گی۔

گھر پر جو آ کے دیکھتی ہوں، بوا حسینی اور میاں گوہر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بوا حسینی میرے گلے سے لپٹ گئیں، رونے لگیں، میں بھی رونے لگی۔

بوا حسینی: اللہ بیٹی! کیا سخت دل کر لیا۔ تمہیں کسی کی محبت ہی نہیں۔

میں بجائے خود شرمندہ تھی، جواب کیا دیتی، جھوٹ موٹ رونے لگی۔

معمولی گفتگو کے بعد بوا حسینی نے اسی دن لکھنؤ چلنے کا ارادہ کر لیا۔ میں نے لاکھ اصرار کیا کہ ٹھہر جاؤ، انہوں نے نہ مانا۔ زیادہ عجلت کی وجہ یہ تھی کہ مولوی صاحب بیمار تھے، بوا حسینی کو دم بھر کہیں کا ٹھہرنا شاق تھا۔ ایسی ہی میری محبت تھی، جو چلی آئی تھیں۔ وہ دن کانپور سے اسباب وغیرہ کے باندھنے اور مکان کے کرائے اور نوکروں چاکروں کے حساب کرنے میں تمام ہوا۔ پوری شکرم کرائے پر لی تھی۔ ضروری اسباب اس پر لاد لیا اور فضول سامان نوکروں کو دے دیا۔ دوسرے دن لکھنؤ پہنچ گئی۔ پھر وہی آب و دانہ ہے، وہی مکان، وہی کمرا، وہی آدمی۔
وحشتِ جنوں کی سیر میں بہلا ہوا تھا دل
زنداں میں لائے پھر مجھے احباب گھیر کے

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.