
Глава 9 из 12
Kalim se marcha; Nasuh quema la biblioteca
Kalim Leaves; Nasuh Burns the Library
فصل نہم: کلیم باپ سے ناخوش ہو کر گھر سے نکل گیا۔ نصوح نے کلیم کا تکلف خانہ اور بے ہودہ کتاب خانہ جلا دیا
نعیمہ تو صبح ہوتے گئی، مگر کلیم رات ہی کو گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ جب صالحہ ڈولی سے اتری تو لوگ اس سے ملنے ملانے میں مصروف ہوئے۔ کلیم آنکھ بچی تو دروازہ کھول، باہر۔ اتنا بھی تو نہ کیا کہ رات کا وقت ہے، لاؤ کسی سے دروازے کے واسطے کہتا جاؤں۔ جب نعیمہ کو کھانا کھلایا، سب گھر والے کھا پی کر فارغ ہو گئے اور فہمیدہ سونے کے ارادے سے مکان میں آئی تو دیکھا کہ باہر کا دروازہ چوپٹ کھلا پڑا ہے۔ کلیم کو ادھر دیکھا، ادھر دیکھا، کہیں پتا نہیں۔ سمجھی کہ موقع پا کر چل دیا۔ لیکن اس وقت نہ تو کلیم اس ارادے سے گیا تھا کہ پھر نہ آئے اور نہ فہمیدہ کو ایسا گمان ہوا۔ رات گئی تھی زیادہ، بات کا چرچا کرنا مناسب نہ جان کر سب لوگ سو سلا رہے۔
نصوح نمازِ صبح پڑھ کر مسجد سے واپس آ رہا تھا کہ اس کو گلی کے نکڑ پر نعیمہ کی اور ڈیوڑھی سے نکلتی ہوئی صالحہ کی ڈولی ملی۔ کلیم کی نافرمانیوں پر غصہ تو اسے رات ہی بہتیرا کچھ آیا اور بار بار اس کے دل نے چاہا کہ اس وقت ادھر یا ادھر جو کچھ ہو فیصلہ کر دے، لیکن چند در چند باتوں کے لحاظ سے وہ زہر کا سا گھونٹ پی کر چپ ہو رہا اور مشکل سے اپنی طبیعت کو اس بات پر رضامند کیا کہ پیامِ زبانی کا اثر اور تحریر کا نتیجہ تو معلوم ہوا، ایک مرتبہ اور رُو در رُو کہہ کر بھی دیکھ لو۔ اس پر بھی نہ سمجھے تو اپنا سر کھائے۔
اس ارادے سے وہ پہلے مردانے مکان میں آ کر ٹھہرا۔ جب کلیم اس کو نظر نہ آیا تو اس نے نوکروں سے پوچھا۔ کسی نے صاف جواب نہ دیا۔ تب وہ نوکروں پر خفا ہوا کہ تم لوگ کیسے نالائق ہو کہ مجھ کو اس بدبخت کا ٹھیک پتا نہیں دیتے۔ تم اپنے پندار میں اس کے حق میں خیر خواہی کر رہے ہو، مگر میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تمہاری رازداری نہ صرف اس کم بخت کے حق میں زبوں ہے بلکہ تمہارے حق میں بھی اس کا نتیجہ اچھا نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اس کی عادت اس قدر سویرے اٹھنے کی نہیں ہے۔ ضرور ہے کہ تم نے اس کو جگا کر کہیں ٹال دیا ہے۔ میں نے تم کو اپنی آسائش کے لیے خاص خاص خدمتوں پر مامور کر رکھا ہے۔ اگر تمہاری وجہ سے میرے انتظامِ خانہ داری میں خلل واقع ہو تو تم میرے نوکر نہیں بلکہ دشمن ہو، ملازم نہیں ہو بلکہ بدخواہ ہو۔ اگر میں اس ناشدنی کو فرزندی سے عاق کروں گا تو تم سب کو بھی اس کے ساتھ نوکری سے برطرف۔
نصوح کا یہ کلام سن کر اعلیٰ ادنیٰ سب نوکر تھرا اٹھے، اور جو ان میں سب سے زیادہ سلیقہ مند تھا، دست بستہ ہو کر بولا کہ حضور کا عتاب غلاموں کے سر و چشم پر، مگر شب کو مکان زنانہ رہا اور خانہ زادوں کو اجازت ہوئی کہ اپنے اپنے گھر جا کر سوئیں۔ اس وقت صاحبزادے صاحب گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ نمک خواروں نے صبح آ کر ان کا جمال نہیں دیکھا۔ جناب بیگم صاحب سے حضور اس کا حال دریافت فرمائیں۔ خانہ زادوں سے ایسی کور نمکی نہ ہوگی کہ حضور سے کوئی بات مخفی رکھیں۔
یہ سن کر نصوح اندر گیا اور حسبِ عادت سب لوگ سلامِ صبح کرنے کے واسطے جمع ہو گئے۔ فہمیدہ اس وقت تک تلاوت میں مصروف تھی، مگر تھوڑی دیر میں فارغ ہو گئی تو نصوح نے کہا، "کیوں صاحب، بی صالحہ گئیں؟"
فہمیدہ: کبھی کی گئیں۔ اب تک وہ گھر بھی پہنچ گئی ہوں گی۔
نصوح: اور دوسری ڈولی کس کی تھی؟
فہمیدہ: تمہاری بڑی صاحبزادی کی۔
نصوح: مان کر گئیں یا بگڑ کر؟
فہمیدہ: کچھ مان کر، کچھ بگڑ کر۔
نصوح: یہ کیا؟
فہمیدہ: صالحہ نے، خدا اس کو جزائے خیر دے، بہت کچھ سمجھایا اور آدھی رات تک اپنا سر خالی کیا۔ بارے اس کے کہنے سے انہوں نے اپنا قہری روزہ تو افطار کیا، لڑکے کو بھی دودھ پلایا۔ یہ تو ان کا مننا تھا۔ بگڑنا یہ کہ صبح کو بے ملے، بے رخصت ہوئے، ڈولی میں بیٹھ چل دیں۔ میں صالحہ سے باتیں کرتی رہی، میں نے اس کو جاتے کو بھی نہ دیکھا۔
نصوح: خیر، ان سے تو خدا نے سبکدوش کیا۔ اب صاحبزادے صاحب کی کہو۔ وہ کہاں ہیں؟
سب چھوٹے بڑوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے کہ ہم کو مطلق خبر نہیں۔
نصوح: کب سے غائب ہیں؟
فہمیدہ: مغرب کے بعد سے برابر میرے پاس بیٹھا تھا۔ میں اس کو سمجھاتی رہی۔ تمہارا خط آیا، اس کو پڑھا۔ اتنے میں صالحہ کی ڈولی آ پہنچی۔ میں اس سے باتیں کرنے لگی۔ پھر لوگوں کو کھانا دیا دلایا۔ اس میں کوئی پہر ڈیڑھ پہر رات چلی گئی۔ سونے کو جو گئی تو دیکھا کہ مکان خالی پڑا ہے۔
نصوح: الحمدللہ! خس کم جہاں پاک۔ لیکن میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اس میں کس کی خطا ہے؟ میری یا اس کی؟
فہمیدہ: خطا صریح اسی کی ہے۔ میں خواہ مخواہ ہی تمہاری خطا بتا دوں؟ تم نے اس کو ایک دفعہ چھوڑ دو دفعہ بلایا۔ خط لکھا۔ بس حد ہو گئی۔ علیم نے بہتیرا سمجھایا۔ میں نے بہت کچھ کہا سنا۔ وہ اپنی شاعری کے آگے کس کی سنتا ہے؟ تم تک جانے ہی کی اس نے ہامی نہ بھری۔ میں نے کہا تھا کہ کھانے پینے سے فراغت پا کر پھر اس کے ساتھ سر ماروں گی۔ اسی غرض سے مردانے مکان میں پردہ کرایا، مگر وہ پہلے ہی سے نکل گیا۔ کوئی کیا کرے، اپنی اپنی قسمت، اپنی اپنی تقدیر۔
نصوح: جس طرح یہ نالائق میرے ساتھ پیش آیا، نعیمہ نے تمہارے ساتھ اس کا دسواں حصہ بھی نہیں کیا۔
اس کے بعد نصوح نے منجھلے بیٹے علیم سے کہا، "بھلا تم نے اس کے بچھونے یا کتابوں میں تو دیکھا ہوتا۔ شاید وہ کچھ لکھ کر رکھ گیا ہو۔ افسوس ہے کہ اس کے نفسِ سرکش نے اس کو مجھ تک نہ آنے دیا، ورنہ میں تو ہر طرح اس کے عذرات سننے اور اس کے وجوہات پر لحاظ کرنے اور معقولیت کے ساتھ سمجھانے کے لیے موجود تھا۔"
علیم: یہ بات میرے ذہن میں نہیں گزری، مگر میں اب ان کی چیزوں میں دیکھے لیتا ہوں۔ اگرچہ مجھ کو اب بھی ایسی امید نہیں ہے کہ وہ کچھ لکھ کر گئے ہوں، کیونکہ اگر لکھنا ہی منظور ہوتا تو وہ آپ کے خط کا جواب ہی نہ دیتے؟ دوسرے ان کو اتنی فرصت کہاں ملی۔ کل شام کو اس بات کا چرچا شروع ہوا اور میں جانتا ہوں کہ صالحہ کے آتے ہی وہ تشریف لے گئے۔ اس اثنا میں برابر میں ان کے پاس نہ تھا، اور میرے چلے جانے کے بعد اماں جان۔
نصوح: پھر بھی میں اس کو داخلِ اتمامِ حجت سمجھ کر چاہتا ہوں کہ احتیاطاً اس کی چیزوں میں دیکھ لیا جائے۔ چلو، میں بھی تمہارا شریک ہوں گا۔
ہر چند علیم کو منظور نہ تھا کہ بھائی کی چیزوں پر باپ کی نظر پڑے، مگر باپ کو منع بھی نہ کر سکتا تھا۔ آخر باہر مردانے میں آ کر نصوح نے نوکروں سے پوچھا کہ کلیم کا اسباب کس جگہ رہتا ہے؟
نوکر: حضور، صاحبزادے صاحب نے دو کمرے لے رکھے ہیں۔ اس دکھن والے کمرے کا نام انہوں نے (بچے ہی تو ہیں) عشرت منزل رکھ چھوڑا ہے۔ جب ان کے ہمجولی آتے ہیں تو سب اسی کمرے میں بیٹھ کر کھیلا اور باتیں کیا کرتے ہیں۔ اتر والے کمرے کو خلوت خانہ فرمایا کرتے ہیں۔ اس میں ان کے پڑھنے لکھنے کی کتابیں ہیں۔
نصوح عشرت منزل اور خلوت خانہ کا نام سن کر چونکا ہوا اور اس نے نوکروں سے کہا کہ اچھا، پہلے عشرت منزل کو کھولو۔ چنانچہ عشرت منزل کو کھولا گیا تو ایک تکلف خانہ تھا۔ کمرے کے بیچ میں چوکیوں کا فرش، اس پر دری، اس پر سفید چاندنی اس خوش سلیقگی کے ساتھ تنی ہوئی کہ کہیں دھبے یا سلوٹ کا نام نہیں۔ صدر کی جانب گجرات کا نفیس قالین بچھا ہوا، گاؤ تکیہ لگا ہوا۔ سامنے اگالدان، لبِ قالین پیچوان۔ چوکیوں کے گرداگرد کرسیاں تھیں، تو لکڑی کی لیکن آئینے کی طرح شفاف اور چمکتی ہوئی۔ چھت میں پٹا پٹی کی گوٹ کا پنکھا لٹکا ہوا، ہلانے کے واسطے نہیں بلکہ دکھانے کے لیے۔ اس کے پہلو میں جھاڑ، جھاڑوں کے بیچ رنگ رنگ کی ہانڈیاں۔ چھت کیا تھی، بلا مبالغہ آسمان کا نمونہ تھا، جس میں پنکھا بجائے کہکشاں کے تھا، جھاڑ بمنزلۂ آفتاب اور ماہتاب، اور ہانڈیاں ہوبہو جیسے ستارے۔ چھت کے مناسبِ حالت دیواریں تصویروں اور قطعات اور دیوار گیریوں سے آراستہ تھیں۔
نصوح اس ساز و سامان کو تھوڑی دیر ایک سکتے کے عالم میں کھڑا دیکھتا رہا۔ اس کے بعد ایک آہ کھینچ کر بولا کہ افسوس! کتنی دولتِ خداداد اس بے ہودہ نمائش اور تکلف آرائش میں ضائع کی گئی ہے۔ کیا اچھا ہوتا کہ روپیہ محتاجوں کی امداد اور غریبوں کی کار برآری میں صرف کیا جاتا۔ اس کے بعد اس کی نگاہ مقابل صدر پر جا پڑی۔ کیا دیکھتا ہے کہ آمنے سامنے دو میزیں لگی ہیں۔ ایک پر گنجفہ، شطرنج، چوسر، تاش، کھیل کی چیزیں اور ارگن باجے رکھے تھے۔ دوسری پر گلدان اور عطردان وغیرہ کے علاوہ ایک نہایت عمدہ طلائی جلد کی موٹی سی کتاب۔ نصوح نے نہایت شوق سے اس کتاب کو کھولا۔ وہ تصویروں کا البم تھا، مگر تصویریں کسی عالم، حافظ اور درویش، خدا پرست کی نہیں: ملکھو پکھاوجی، تان سین، خان گویا، میر ناصر احمد بین نواز، صمد خاں پہلوان، کھلونا بھانڈ، حیدر علی قوال، نتھو ہیجڑا، قاری علی پھکڑ، عدو جواری، اس قسم کے لوگوں کی۔
شیشہ آلات کی وجہ سے نصوح نے دیوار والی تصویروں کو بغور نہیں دیکھا تھا۔ اب البم کو دیکھ کر اسے خیال آیا۔ آنکھ اٹھا کر دیکھتا ہے تو وہ تصویریں اور بھی بے ہودہ تھیں۔ قطعے اور طغرے، اگرچہ ان کا سوادِ خط پاکیزہ تھا، مگر مضمون و مطلب دین کے خلاف، مذہب کے برعکس۔ نصوح نے وہیں سے ایک میز فرش اٹھا کر ان سب کی خبر لینی شروع کی، اور بات کی بات میں کل چیزوں کو توڑ پھوڑ برابر کیا، اور جو کچھ باقی رہا اس کو صحن میں رکھ کر آگ لگا دی۔ پھر نوکروں کو حکم دیا کہ اچھا، اب خلوت خانہ کھولو۔ اس میں تکلف کے معمولی ساز و سامان کے علاوہ کتابوں کی ایک الماری تھی۔ دیکھنے میں تو اتنی جلدیں تھیں کہ انسان ان کی فہرست لکھنی چاہے تو سارے دن میں بھی تمام نہ ہو، لیکن کیا اردو، فارسی، سب کی سب کچھ ایک ہی طرح کی تھیں: جھوٹے قصے، بے ہودہ باتیں، فحش مطلب، لچر مضمون، اخلاق سے بعید، حیا سے دور۔ نصوح ان کتابوں کی جلد کی عمدگی، خط کی پاکیزگی، کاغذ کی صفائی، عبارت کی خوبی، طرزِ ادا کی برجستگی پر نظر کرتا تھا تو کلیم کا کتاب خانہ اس کو ذخیرۂ بے بہا معلوم ہوتا تھا، مگر معنی و مطلب کے اعتبار سے ہر ایک جلد سوختنی اور دریدنی تھی۔ اسی تردد میں اس کو دوپہر ہو گئی۔ کئی مرتبہ کھانے کے لیے گھر سے اس کی طلب ہوئی، مگر اس کو فرصت نہ تھی۔ بار بار کتابوں کو الٹ پلٹ کر دیکھتا تھا اور رکھ رکھ دیتا تھا۔ آخر کار یہی رائے قرار پائی کہ ان کا جلا دینا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ بھری الماری کتابیں لکڑی کنڈے کی طرح اوپر تلے رکھ آگ لگا دی۔
نصوح کا یہ برتاؤ دیکھ کر اندر باہر تک تہلکہ اور زلزلہ پڑ گیا۔ علیم دوڑا دوڑا اپنا کلیاتِ آتش اور دیوانِ شرر اٹھا لایا اور باپ سے کہا کہ جناب، میرے پاس بھی یہ دو کتابیں اسی طرح کی ہیں۔ نصوح نے ان کتابوں کو بھی دو چار جگہ سے کھول کر دیکھا اور کہا کہ واقع میں ان کے مضامین بھی جہاں تک میں دیکھتا ہوں، برے اور بیہودہ ہیں، لیکن تمہاری نسبت مجھ کو خدا کے فضل سے اطمینان ہے۔ چاہو تو اپنی کتابوں کو رہنے دو، اگرچہ ان کا مطالعہ میرے نزدیک خالی از معصیت نہیں ہے۔
علیم: کتاب جب کہ دیکھنے اور پڑھنے کے لائق نہیں تو اس کا رکھنا بے سود بلکہ خطرناک ہے۔ بہتر ہوگا کہ ان کو بھی جلا دیا جائے۔
نصوح: شاید تم میری خاطر کہہ رہے ہو اور تم کو پیچھے تاسف ہو۔
علیم: مجھ کو ہرگز تاسف نہ ہوگا، بلکہ خوشی ہوگی کہ جلائی جائیں۔ کہاں وہ عمدہ نصیحت کی کتاب جو مجھ کو پادری صاحب نے دی تھی اور کہاں یہ خرافات۔ میں جانتا ہوں کہ بھائی جان کی کتابوں پر یہ اسی پادری صاحب والی کتاب کا وبال پڑا۔ ڈرنے کا مقام اور عبرت کی جگہ ہے۔
نصوح: لیکن کیا ضرور ہے کہ تمہاری کتابیں بھی اسی وبال میں داخل ہوں؟
علیم: ان کے نام بھی جلنا جلنا پکارتے ہیں۔ ارشاد ہو تو جھونک دوں؟
نصوح: تمہاری مرضی ہے تو بسم اللہ۔
علیم نے آتش کو دہکتی آگ اور شرر کو جلتے انگاروں میں پھینک دیا۔ علیم کی دیکھا دیکھی میاں سلیم نے بھی "واسوخت امانت" لا باپ کے حوالے کی اور کہا کہ ایک دن کوئی کتاب فروش کتابیں بیچنے لایا تھا۔ بڑے بھائی صاحب نے فسانۂ عجائب، قصۂ گل بکاؤلی، آرائشِ محفل، مثنوی میر حسن، مضحکاتِ نعمت خاں عالی، منتخب غزلیاتِ چرکیں، ہزلیاتِ جعفر زٹلی، قصائد و ہجویاتِ مرزا رفیع سودا، دیوانِ جان صاحب، بہارِ دانش باتصویر، اندر سبھا، دریائے لطافت میر انشاء اللہ خاں، کلیاتِ رند وغیرہ بہت سی کتابیں اس سے لی تھیں۔ میں بیٹھا ہوا تھا۔ مجھ کو دیکھ کر بولے، "کیوں سلیم، تم بھی کوئی کتاب لو گے؟"
میں: جو آپ تجویز فرمائیں۔
بھائی جان: کون سی کتاب تم کو لے دوں؟ یہ کتابیں جو میں نے لی ہیں، اول تو میرے شوق کی ہیں، دوسرے تم کو ان کا مزہ نہیں ملے گا۔
کتاب والے کی ساری گٹھڑی میں سے یہ واسوخت اور دیوانِ نظیر اکبر آبادی انہوں نے میرے لیے نکالیں اور کہا کہ واسوخت تو خیر، مگر یہ دیوان بڑی عمدہ کتاب ہے۔ میاں بدبد کے اشعار آج تک کسی نے جمع نہیں کیے تھے، اس کے حاشیے پر وہ بھی ہیں۔
چونکہ بھائی جان نے دیوان کی بہت تعریف کی تھی، میں نے اس کو نہایت شوق سے کھولا تو پہلے ہی چوہوں کا اچار نکلا۔ اس کے مضمون سے میری طبیعت کچھ ایسی کھٹی ہوئی کہ میں نے دونوں کتابیں پھیر دیں۔ مگر بھائی جان نے یہ واسوخت زبردستی میرے سر مڑھی۔ ایک دن اتفاق سے حضرت بی کے بڑے نواسے نے اس کو میرے جزدان میں دیکھ کر کہا کہ آہا میاں سلیم! تم بڑے چھپے رستم نکلے۔
میں: کیوں؟
حضرت بی کا نواسہ: تم کو ایسی کتابوں کا بھی شوق ہے؟
میں: مجھ کو بھائی جان نے لے دی ہے۔ کیوں؟ کیا یہ کتاب اچھی نہیں؟
حضرت بی کا نواسہ: اچھی بری تو میں نہیں جانتا، لیکن اگر نانی اماں دیکھ پائیں گی تو شاید ہم لوگوں کو تمہارے پاس اٹھنے بیٹھنے کی ممانعت کریں۔ بھلا کوئی ایسی گندی باتوں کی کتاب بھی پڑھتا ہے؟
تب سے میں نے اس کتاب کو لا کر ردی میں ڈال دیا تھا۔ آج مجھ کو یاد آ گیا تو میں نے کہا کہ یہ بھی اپنی مراد کو پہنچ جائے۔
جب کلیم کا خرمنِ عیش و عشرت جل بھن کر خاک سیاہ ہو گیا تو نصوح اندر گھر میں گیا اور بیوی نے اس سے پوچھا، "کیوں؟ جس پرچے کی جستجو تھی، ملا؟"
نصوح: نہیں، پرچہ تو نہیں ملا، لیکن میرا مطلب حاصل ہو گیا۔
فہمیدہ: وہ کیا؟
نصوح: مجھ کو اس بات کی تلاش تھی کہ کلیم کے دلی خیالات معلوم کر لوں کہ آخر اس کو جو اس قدر گریز ہے کہ میرے پاس آنے سے بھی اس نے انکار کیا تو اس کی وجہ کیا ہے؟
فہمیدہ: پھر کیا وجہ تم نے دریافت کی؟
نصوح: وجہ کیا دریافت کی، اس کی ساری حقیقت معلوم ہو گئی، بلکہ شاید رُو در رُو گفتگو کرنے سے بھی یہ بات پیدا نہ ہوتی جو مجھ کو اب حاصل ہے۔
فہمیدہ: آخر کچھ میں بھی تو سنوں۔
نصوح: میں نے اس کے عشرت منزل اور خلوت خانے کو دیکھا اور اس کے کتاب خانے کی سیر کی۔
فہمیدہ: عشرت منزل اور خلوت خانہ کیسا؟
نصوح: تم تو کچھ مجھ سے بھی زیادہ بے خبر ہو۔ آج تک تم کو یہ بھی معلوم نہیں کہ صاحبزادۂ بلند اقبال نے دو کمرے اپنے واسطے خاص کر رکھے ہیں۔ ایک کا نام عشرت منزل رکھ چھوڑا ہے اور دوسرے کا خلوت خانہ۔ جس کمرے میں ان کے شیاطین الانس جمع ہوتے ہیں، وہ عشرت منزل ہے، اور جہاں استراحت فرماتے ہیں، وہ خلوت خانہ۔ اور اسی خلوت خانے میں کتاب خانہ بھی ہے۔
فہمیدہ: اتنی بات تو میں بھی جانتی ہوں کہ کلیم نے دو کمرے لے رکھے ہیں، مگر عشرت منزل اور خلوت خانہ میں نے آج ہی سنا ہے۔
نصوح: تم نے ان کمروں کو اندر سے بھی دیکھا؟
فہمیدہ: نہیں۔ مردانے میں کبھی کاہے کو جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ کل رات البتہ علیم کے اصرار پر پردہ کروا کے گئی تھی۔
نصوح: خوب ہوا کہ تم نے ان کمروں کو نہ دیکھا۔
فہمیدہ: کیوں؟
نصوح: اب میں ان کمروں کی تمام تر تفضیح تم سے کیا بیان کروں۔
فہمیدہ: کوئی کہتا تھا کہ تم نے غصے میں آ کر دیوان خانے میں آگ لگا دی۔
نصوح: اگرچہ وہ مکان جس میں وحشیوں کے سے کام ہوتے ہیں، اسی قابل ہے، مگر میں نے مکان میں تو آگ نہیں لگائی۔
فہمیدہ: کچھ دھواں سا تو مردانے میں ضرور اٹھ رہا تھا۔
نصوح: وہ تو چند کتابیں تھیں جن کو میں نے بے ہودہ سمجھ کر جلا دیا۔
فہمیدہ: ایسے غصے سے بھی خدا پناہ میں رکھے!
نصوح: غصے کی تو اس میں کوئی بات نہ تھی۔
فہمیدہ: کتاب کا جلانا غصے کی بات نہیں تو عقل کی بات ہے؟ میں نے سنا ہے کہ کاغذ کا جلانا بڑا گناہ ہے، چہ جائیکہ کتاب۔ لوگ کہیں ذرا سا پرزہ پڑا پاتے ہیں تو اٹھا کر آنکھوں سے لگاتے ہیں۔ کتاب کو بھولے سے ٹھوکر لگ جاتی ہے تو توبہ توبہ کر کے چومتے اور ماتھے چڑھاتے ہیں۔
نصوح: تم سچ کہتی ہو، مگر یہ لوگوں کی زیادتی ہے۔ کاغذ بھی کپڑے کی طرح بے جان چیز ہے۔ کتاب کے عمدہ مضامین جن میں دین داری اور خدا پرستی اور نیکوکاری کا بیان ہوتا ہے، وہ البتہ قابلِ ادب ہیں۔
فہمیدہ: خیر، کچھ ہی سہی، مگر کتاب ہے تو ادب کی چیز۔ پھر تم نے جلائی کیوں؟
نصوح: جن کتابوں کو میں نے جلایا، ان کے مضامین کفر اور شرک اور بے دینی اور بے حیائی اور فحش اور بدگوئی اور جھوٹ سے بھرے ہوئے تھے۔
فہمیدہ: کتابوں میں ایسی بری بری باتیں بھی ہوتی ہیں؟
نصوح: کتابیں بھی آدمی بناتے ہیں، اور آدمی ایسی خلوق سرکش ہے کہ اس نے تمام دنیا میں بدی اور نافرمانی پھیلا رکھی ہے۔ کیا تم شعر اور شاعری کے نام سے واقف نہیں ہو؟
فہمیدہ: واقف کیوں نہیں۔ کتابوں میں اکثر شعر ہوتے ہیں، مگر ان میں تو کوئی بری بات دیکھنے میں نہیں آئی۔ سنتی ہوں کہ کلیم کو شعر بنانے کا بڑا شوق ہے، اور مردوں میں یہ بڑی تعریف کی بات گنی جاتی ہے۔
نصوح: شاعری اپنی ذات سے بری نہیں، بلکہ اس اعتبار سے کہ زبان دانی کی عمدہ لیاقت کا نام شاعری ہے، ضرور تعریف کی بات ہے۔ لیکن لوگوں نے ایک عام دستور قرار دے رکھا ہے کہ اس لیاقت کو ہمیشہ برے اور بے ہودہ خیالات میں صرف کرتے ہیں۔ اس وجہ سے دینداروں کی نظر میں شاعری عیب و گناہ ہے۔ اب شاعری اسی کا نام ہے کہ کسی کی ہجو کیجیے کہ وہ داخلِ غیبت ہے، یا مدحِ بے جا لکھیے کہ وہ کذب و بطالت ہے، یا عشق و عاشقی کے ناپاک اور خیالات میں کوئی مضمون سوچیے کہ وہ خلافِ شریعت ہے، یا مسائلِ دین اور اہلِ دین کے ساتھ تمسخر و استہزاء کیجیے کہ وہ کفر و معصیت ہے۔
فہمیدہ: یہ مجھ کو آج معلوم ہوا کہ پڑھنے لکھنے کی چیزوں میں بھی لوگوں نے خرابیاں پیدا کی ہیں۔
نصوح: کیا تم کو اپنا گلستان پڑھنا یاد نہیں؟
فہمیدہ: یاد کیوں نہیں۔ بس دن حمیدہ کا دودھ چھڑایا ہے، اس کے اگلے دن میں نے گلستان شروع کی تھی۔
نصوح: بھلا تم کو یہ بھی یاد ہے کہ میں تمہارے سبق سے آگے آگے جا بجا سطروں کی سطروں پر سیاہی پھیر دیا کرتا تھا، بلکہ بعض دفعہ صفحے کے صفحے ایسے آ پڑے کہ مجھ کو اوپر سے سادہ کاغذ لگا کر ان کو چھپانے کی ضرورت ہوئی۔
فہمیدہ: خوب اچھی طرح یاد ہے۔ چوتھائی کتاب سے کم نہ کٹی ہوگی۔
نصوح: تم پڑھتی تھیں، تب چوتھائی بھی کٹی۔ اگر کوئی دوسری عورت یا لڑکی پڑھتی تو میں آدھی کی خبر لیتا۔ وہ تمام بیہودہ باتیں تھیں جن کو میں کاٹتا اور چھپاتا پھرتا تھا۔
فہمیدہ: سچ کہو! میں تو سمجھی تھی کہ مشکل جان کر چھڑوا دیتے ہیں۔
نصوح: بڑی مشکل یہ تھی کہ میں ان واہیات اور فحش باتوں کو تمہارے رو برو بیان نہیں کر سکتا تھا۔ پھر یہ اس کتاب کا حال ہے جو پند و اخلاق میں ہے، اور تصنیف بھی ایسے بزرگ کی ہے کہ کوئی مسلمان ایسا کمتر نکلے گا کہ ان کا نام لے اور شروع میں حضرت اور آخر میں رحمۃ اللہ علیہ یا قدس سرہٗ العزیز نہ کہے، یعنی ان کا شمار اولیاء اللہ میں ہے۔ اور جو کتابیں میں نے جلائیں، کتابیں کاہے کو تھیں: گالی، پھکڑ، ہزلیات، بڑبکواس، ہذیان، خرافات۔ میں نہیں جانتا کہ ان میں سے کون سا نام ان کے لیے زیادہ زیبا ہے۔
فہمیدہ: مگر جلانا کیا ضرور تھا؟ پڑی رہنے دی ہوتیں یا بک جاتیں، آخر داموں کی تھیں۔
نصوح: شاید اگلی گرمیوں کا ذکر ہے کہ بدرو میں سانپ نکلا اور اس کو دیکھ کر چھوٹے بڑے سب ایسے خوفزدہ ہو گئے تھے کہ صحن میں نکلنا بیٹھنا چھوڑ دیا تھا، اور کیسا کچھ تقاضا تھا کہ جس طرح ہو سکے سانپ کو پکڑوا کر مار ڈالنا چاہیے۔ سانپ کی نسبت تم نے ہرگز نہیں کہا تھا کہ پڑا ہی رہنے دو، شاید کوئی سپیرا دو چار ٹکے پیسے دے کر مول لے جائے گا۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ کتابیں سانپ سے زیادہ موذی اور اس سے کہیں زیادہ خطرناک تھیں، اور ان کی قیمت چوری ٹھگی کے مال سے بڑھ کر۔ کلیم کو اور پھنکار کیا ہے؟ اسی سانپ کا زہر اس کو چڑھا ہوا ہے اور شیطان نے یہی منتر اس پر پڑھ کر پھونک دیا ہے۔
فہمیدہ: پھر آخر اس زہر کا تریاق اور اس منتر کا توڑ بھی کچھ ہے یا نہیں؟
نصوح: کیوں نہیں۔ دین و اخلاق کی کتابیں۔ مگر کوئی ان کو دیکھنے والا بھی تو ہو۔ نہ یہ کہ ہر روز نئے سانپ سے کٹواتے جاؤ اور تریاق سے بھاگو اور نفرت رکھو، تو انجام کیا ہوگا؟ لا محالہ ہلاکت۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.