
第 8 章,共 12 章
萨莉哈与娜伊玛
Saliha and Naima
فصل ہشتم: نعیمہ کی خالہ زاد بہن صالحہ نے اس کو آ کر منایا، کھانا کھلایا اور اسی کے ساتھ نعیمہ خالہ کے یہاں چلی گئی
ابھی فہمیدہ یہ بات پوری بھی نہیں کرنے پائی تھی کہ صالحہ کی ڈولی آ پہنچی۔ اترنے کے ساتھ خالہ سے یہی پوچھا کہ آپا نے کچھ کھایا پیا یا نہیں۔
خالہ: کچھ بھی نہیں۔
صالحہ: ہیں کہاں؟
خالہ: درے کے اندر کوٹھری میں۔
صالحہ: آخر بات کیا ہوئی تھی؟
خالہ: کیا علیم نے تم سے کچھ نہیں کہا؟
صالحہ: اتنا ہی کہا کہ لڑائی ہوئی ہے، صبح سے کھانا نہیں کھایا۔ میں ہر چند پوچھتی رہی، کچھ نہیں بتایا اور کہا کہ بھائی، وہیں چل کر پوچھ گچھ لینا۔
تب خالہ نے شروع سے آخر تک سب ماجرا کہہ سنایا۔
صالحہ بڑی دانشمند لڑکی تھی اور اگرچہ نعیمہ سے عمر میں چھوٹی تھی، مگر دونوں میں بڑا ہی میل ملاپ تھا۔ صالحہ کو جو وقت پیش آنے والی تھی، اس کو سوچ کر اس نے خالہ سے کہا، "ان شاءاللہ آپا کو میں راضی کر لوں گی۔ مگر میرے سوائے اس مکان میں دوسرا کوئی آدمی نہ رہے، کیونکہ گھر میں جتنے آدمی ہیں، آخر سب اس حال سے واقف ہیں۔ ان میں سے کوئی سامنے آ جائے گا تو آپا کو حجاب ہوگا۔"
بات صالحہ نے معقول سوچی تھی، کیونکہ جب ایک مجمع میں کسی آدمی کی بے عزتی ہوتی ہے تو جو لوگ اس کی تفضیح دیکھ چکے ہیں، وہ سب کو اپنا دشمن ٹھہرا لیتا ہے۔ شاید اس خیال سے کہ یہ سب کھڑے دیکھتے رہے اور انھوں نے میری کچھ مدد نہ کی۔ اور ان میں سے جب کوئی شخص سامنے آتا ہے تو اس ستم رسیدہ کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اسی نے مجھ کو فضیحت کرایا تھا۔ پس ضرور اس کے غصے کو ترقی اور اس کے غضب کو زیادتی ہوتی ہے۔ اور بے چاری بیدارا نے جو ناحق ایک دولتی کھائی تو اسی وجہ سے، ورنہ اس کا کیا قصور تھا۔ وہ ماں بیٹیوں کے بیچ میں بولی نہیں، چالی نہیں۔ نہ کسی طرح کا دخل دیا، نہ کسی کی طرفداری کی۔ اور دخل دینے کی فرصت کسے ملی۔
ماں بیٹیوں میں ایک بات پر رد و کد ہونی شروع ہوئی جیسے ہمیشہ ہوا کرتی ہے۔ ماں نے دفعتاً بیٹی کو طمانچہ کھینچ مارا۔ غرض بات کی بات میں مار کٹائی، ہار جیت سب کچھ ہو گیا۔ گھر والے دیکھتے کے دیکھتے ہی رہے۔ صالحہ نے جو اپنا انتظام خالہ کو سنایا، انھوں نے بھی پسند کیا اور سب لوگوں سے کہہ دیا کہ اس قطعے میں کوئی نہ جائے۔ ہر ایک کو سونے بیٹھنے کا ٹھکانا بتا دیا اور اپنے واسطے یہ تجویز کی کہ ہم گھر والے سب مردانے میں پردہ کرا کر سو رہیں گے۔ بلکہ صالحہ نے کہا بھی، آپ کوٹھے پر سوئیں۔ خالہ نے جواب دیا کہ ابھی مجھ کو ان بڑے میاں کلیم کے ساتھ سر مارنا ہے۔
صالحہ: کیا ان سے بھی لڑائی ہوئی ہے؟
خالہ: لڑائی کیسی، ان سے تو جھمٹم چھنا ہو رہی ہے۔
صالحہ: کس بات پر؟
خالہ: بات تو اتنی سی ہے کہ باپ نے ان کو نماز روزے کے واسطے نصیحت کرنے کو اپنے پاس اوپر بلوایا۔ یہ نہیں گئے۔
صالحہ: خالو جان نے بلوایا اور یہ نہیں گئے؟
خالہ: تم کو نہ جانے پر تعجب ہوتا ہے۔ باتیں سنو تو حیران رہ جاؤ۔ باپ کو دیوانہ اور مجنون، نماز کو کٹھ اگ، دین کے پیشواؤں کو ملّانے، قلاوزیے، مردہ شو، ٹکر گدے، بھک منگے بتاتے ہیں۔
صالحہ: کسی نے آپ سے غلط کہہ دیا ہوگا۔
خالہ: میرے رو در رو۔
صالحہ: پھر کسی سے ان کو سمجھوا دیا ہوتا۔
خالہ: ایک سمجھانا؟ علیم نے بہتیرا سر مارا۔ میں شام سے اب تک کہتے کہتے تھک گئی۔ جن مصیبتوں سے آج کا دن کٹا ہے، خدا ہی جانتا ہے۔ دانہ تک میرے یا حمیدہ کے منہ میں گیا ہو تو جس طرح کی چاہو قسم لے لو۔ اس طرح نعیمہ کا فکر، کلیم کا تردد، اور سب سے بڑھ کر نعیمہ کے بچے کا سنبھالنا کہ آج اس کو دن بھر روتے گزرا ہے۔
صالحہ: آپ کھانا کھائیے۔ دوسرا وقت بھی ناوقت ہو گیا۔ یقین ہے کہ آپ کے کھاتے کھاتے میں آپا کے واسطے کھانا منگواتی ہوں۔
خالہ: میری کیا جلدی ہے؟ میں کھا ہی لوں گی۔ حمیدہ بے چاری کے صبر کو دیکھو کہ اس نے کھانے کا نام بھی تو نہیں لیا۔ کل اسی وقت کا کھائے ہوئے ہے۔ خالی پیٹ میں دن بھر پانی انڈیلتی رہی ہے۔ میں نے ہر چند کہا، نہ مانا۔ آخر بھوکی سو رہی۔
صالحہ: کیا آپ حمیدہ پر بھی خفا ہوئی تھیں؟
خالہ: مطلق نہیں۔ اس نے بہن کے افسوس میں کھانا نہیں کھایا۔ بہن کا وہ حال کہ بس چلے تو جان کے مار ڈالنے میں تامل نہیں، اور اس کی یہ کیفیت کہ بہن پر اتنا دم دیتی ہے، بھانجے کو اس قدر چاہتی ہے کہ رات کو بھی ساتھ لے کر سوتی ہے۔
صالحہ: حمیدہ کو آپ جگائیے اور اطمینان سے آپ بھی کھانا کھائیے اور اس کو بھی کھلائیے۔ آپا کی اب کچھ فکر نہ کیجیے۔
یہ کہہ کر صالحہ اندر مکان میں گھستے ہی پکاری، "کیوں بی، میری آپا کہاں ہیں؟" گھر میں کوئی ہو تو جواب دے۔ سب سے پہلے باورچی خانے میں گئی، وہاں نہ دیکھا۔ دالان میں آئی، وہاں بھی نہ پایا۔ سہ درے میں ڈھونڈتی پھری۔ غرض ٹال مٹول کرتے کرتے آخرکار سہ درے کی کوٹھری کے پاس آ کر جھانکنے لگی جہاں نعیمہ تھی۔ نعیمہ دن بھر تو فرش پر پڑی رہی، مگر صالحہ کی آواز سننے کے ساتھ جلدی سے اٹھ، منہ لپیٹ پلنگ پر جا لیٹی اور دروازے کی طرف پیٹھ کر لی۔ صالحہ نے پہلے تو انجان بن کر پوچھا، "یہ پلنگ پر کون لیٹا ہے؟" پھر آپ ہی کہنے لگی، "آہا! آپا ہیں! اس اکیلی کوٹھری میں اور اتنے سویرے!" اتنا کہا اور دوڑ کر نعیمہ کو لپٹ گئی۔
نعیمہ نے جب سے صالحہ کی آواز سنی، اس کو ایک طرح کی حیرت تھی کہ سان نہ گمان، دفعتاً یہ کہاں سے آ موجود ہوئی! مگر یہ بات اس کے ذہن میں بھی نہیں گزری کہ بلوائی آئی ہے۔ نعیمہ نے اس وقت سے اپنے تئیں ایسا بنا لیا کہ گویا دیر سے پڑی سوتی ہے۔ بھاری سی آواز بنا کر بولی، "اے ہے! بھائی، ہم کو دق نہ کرو۔ ہم کو سونے دو۔"
صالحہ: ہائے بی آپا! میں ہوں صالحہ۔ اٹھو، منہ کھولو۔ ابھی سے کیوں سو رہیں؟ جی کیسا ہے؟
اگرچہ نعیمہ نے چاہا تھا کہ صالحہ پر اپنی کیفیت ظاہر نہ کرے، مگر اس نے ایسی ہمدردی سے پوچھا کہ نعیمہ ضبط نہ کر سکی اور رونے لگی۔ اس کو روتا دیکھ کر صالحہ نے اور اصرار سے پوچھنا شروع کیا، "کیا سر دکھتا ہے؟ پیٹ میں درد ہے؟ بچے کا جی کیسا ہے؟ سسرال والوں نے کچھ کہلا بھیجا ہے؟ گھر میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟" صالحہ بہتیرا پوچھتی تھی، مگر نعیمہ ہاتھوں سے پرے دھکیلتی جاتی تھی اور کچھ جواب نہیں دیتی تھی۔ آخر صالحہ نے کہا، "نہ بتاؤ تو مجھی کو کھاؤ۔" تب نعیمہ خفا ہو کر بولی، "چل، مکارہ۔ مجھی سے باتیں بنانے آئی ہے۔ کیا تجھ کو خبر نہیں؟"
صالحہ: ابھی مولوی ہدایت صاحب کے وعظ سے اٹھی چلی آئی ہوں۔ یہاں آئی تو خالہ اماں اور گھر والے سب مردانے مکان میں ہیں۔ اتنا سنا کہ بڑے بھائی خفا ہو کر گھر سے جا رہے ہیں۔ مجھ کو تم سے ملنے کی جلدی تھی۔ اماں کو سلام کر سیدھی اندر چلی آئی۔ یہاں آ کر دیکھا تو نہ آدم نہ آدم زاد۔ تم کو سارے گھر میں ڈھونڈتی پھری۔
نعیمہ: کیوں؟ بڑے بھائی کس بات پر گھر سے نکل رہے ہیں؟
صالحہ: لوگ آپس میں کہہ رہے تھے کہ خالو ابا نے کہلا بھیجا ہے، نماز پڑھیں تو میرے گھر میں رہیں، ورنہ جہاں چاہیں چلے جائیں۔
نعیمہ: آگ لگے اس نماز کو۔ یہ اب گھر میں کسی کو تھوڑا ہی رہنے دے گی۔ یہ حمیدہ کے سوائے سبھی کو نکلوائے گی۔
صالحہ: تو کیا آپا تم بڑے بھائی ہی کے واسطے پڑی رو رہی تھیں؟
نعیمہ: مجھ کو تو بے چارے بڑے بھائی کی خبر بھی نہیں۔ ان سے پہلے میں خود آپ نکلنے کو بیٹھی ہوں۔
صالحہ: توبہ آپا توبہ! کیسی بدفال منہ سے نکالتی ہو کہ خدا پناہ میں رکھے! اللہ نہ کرے کہ کسی بھلے مانس اشراف کی بہو بیٹی گھر سے نکلے۔
نعیمہ: جب سے اس نماز روزے کا چرچا ہمارے گھر میں ہوا ہے، ملنساہٹ اور شرافت سب گئی گزری ہوئی۔ اب آئی ہو تو دو چار دن رہ کر ہر ایک کا رنگ ڈھنگ دیکھنا۔ نہ وہ زمین رہی، نہ وہ آسمان۔ گھر کا باوا آدم ہی بدل گیا ہے۔ نہ وہ ہنسی ہے، نہ وہ دل لگی ہے۔ نہ وہ چرچے ہیں، نہ وہ مذاق ہے۔ نہ وہ چہچہے ہیں۔ گھر میں ایک اداسی چھائی رہتی ہے۔ ورنہ ابھی ایک مہینے کا مذکور ہے کہ محلے کی عورتیں تمام تمام دن بھری رہا کرتی تھیں۔ کوئی گیت گا رہی ہے، کوئی کہانی کہہ رہی ہے۔ یہ ہمسائی عجوبہ کچھ اس طرح کی زندہ دل ہیں کہ ہر روز نئی نئی نقلیں کر کے سب کو ہنساتے ہنساتے لٹا لٹا دیتی تھیں۔ اب کوئی گھر میں آ کر تھوکتا بھی نہیں۔ گھر ہے کہ کم بخت اکیلا بھائیں بھائیں کیا کرتا ہے۔
صالحہ: آخر اس کا سبب کیا؟
نعیمہ: سبب تمہاری خالہ جان اور حمیدہ کے ابا جان کی بدمزاجی۔ کسی کو کیا غرض، کیا مطلب کہ اپنے کام کاج کا حرج کرے اور پرائے گھر آ کر بیٹھے۔ کیا لوگوں کے گھروں میں بیٹھنے کی جگہ نہیں؟ لوگوں کی خاطرداری ہوتی تھی، محبت سے ان کے ساتھ پیش آتی تھیں، لوگ دوڑتے آتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ ہر وقت منہ کپے کی طرح پھولا رہتا ہے۔ غیر آدمی کیوں برداشت کرنے لگے؟ سب کے سب چلتے پھرتے نظر آئے۔ ابا جان کے اچھا ہونے پر ڈومنیوں نے سینکڑوں ہی پھیرے کیے۔ سبھی نے کہا۔ ہمسائی عجوبہ نے منتیں کیں، ہاتھ جوڑے۔ ایک نہ مانی۔ آخر وہ رت جگا تو خاک بھی نہ ہوا۔ نگوڑے مسجد کے ملّانوں کو بلا کر کھلا دیا۔ اب تو بوا دن رات کا وظیفہ ہے۔ وہ دیکھو، تخت پر ہر وقت نماز کا چھیترا بچھا رہتا ہے۔ وضو کا کلھڑا، کیا مجال کہ کسی وقت پاس سے الگ ہو جائے۔ کام کاج سے فارغ ہوئیں تو یا نماز پڑھنے کھڑی ہو گئیں یا کتاب پڑھنے بیٹھ گئیں۔ ایک حمیدہ کٹنی ان کو ایسے مل گئی ہے اور ان کو اکسایا کرتی ہے۔ میرا بس چلے تو کٹیا کو ایسا ماروں کہ یاد کرے۔
صالحہ: اے ہے! حمیدہ تو نگوڑی ایسی غریب اور بھولی لڑکی ہے کہ میں نے آج تک کوئی اس کی شرارت کی بات دیکھی کیا سنی بھی نہیں۔ اور تم کو تو اتنا چاہتی ہے کہ کاہے کو کوئی بہن کسی بہن کو چاہے گی۔ رمضان کی بات مجھ کو اب تک نہیں بھولی۔ تم کو یاد ہوگا کہ اخیر عشرے میں میں نے اس کو بلوا بھیجا تھا۔ گھر میں سبھی کو افطاری تقسیم ہوتی تھی۔ اس کو بھی حصہ ملتا تھا۔ بچہ سمجھ کر ہر چیز میں سے کچھ کچھ زیادہ دے دیتے تھے۔ مگر اس کو منہ پر رکھنا قسم تھا۔ لوگ کھاتے اور یہ منہ دیکھتی۔ بہتیرا سمجھاتے کہ بھائی، یہ کیا بُری عادت ہے؟ چیز ہوتے ساتے تم نہیں کھاتیں۔ مگر یہ اللہ کی بندی چکھتی بھی تو نہیں تھی۔ پہلے مجھ کو خیال ہوا کہ شاید کنجوسی کی وجہ سے نہیں کھاتی۔ مگر میں نے پوچھا تو کہنے لگی، "آپا کے بغیر کوئی چیز میرے حلق سے نہیں اترتی۔" دیکھو، دن بھر تمہارے لڑکے کو لیے پھرتی ہے اور لڑکے کو بھی ایسا آرام ملتا ہے کہ کیسا ہی پھڑکتا ہو، اس کی گود میں گیا اور چپ۔ اور تمہاری کیا خصوصیت ہے، ہر ایک سے وہ اسی طرح محبت سے ملتی ہے۔ میں تو تم سے سچ کہوں، مجھ کو تو بہت ہی پیار آتا ہے۔ جب آتی ہوں، خوب بھینچ بھینچ کر کئی دفعہ گلے لگاتی ہوں۔
نعیمہ: جس کو دیکھتی ہوں، حمیدہ ہی کا کلمہ پڑھتا ہے، اور میری یہ کیفیت ہے کہ اس کو دیکھ دیکھ کر میری آنکھوں میں خون اترتا ہے۔
صالحہ: اچھی، کیوں؟
نعیمہ: مجھ کو اماں سے اسی نے بُرا بنوایا۔ ورنہ آج تک مجھ کو اماں نے کبھی ہوں بھی نہیں کہا تھا۔ یا آج چھوٹتے کے ساتھ نہ بات نہ چیت، مجھ کو تھپڑ مارا۔ خیر الٰہی، حمیدہ بندی تجھ کو انھی ہاتھوں سے اماں جوتیاں ماریں، تب میرے کلیجے میں ٹھنڈک پڑے۔ اور جیسی تو آج کل سر چڑھی ہے، ویسی ہی نظروں سے گرے، تب میرے دل کی مراد بر آئے۔
صالحہ: خالہ اماں نے تم کو تھپڑ مارا؟ یہ کب اور کیوں؟
نعیمہ: آج صبح ذرا کی ذرا لڑکا حمیدہ کو دے کر میں منہ دھونے چلی گئی۔ تم کہتی ہو کہ بھانجے پر فدا ہے، لڑکے کو روتا زمین پر ٹپک دیا۔ اس کو اتنا بھی ترس نہ آیا کہ ابھی پسلی کے دکھ سے مر مر کر بچا ہے۔ یوں جو زمین پر بٹھائے دیتی ہوں، ایسا نہ ہو کہ اس کو صبح کی ٹھنڈی ہوا لگ جائے اور پھر بیمار پڑے۔ بس اتنا قصور میرا ضرور ہے کہ میں نے ہولے سے حمیدہ کو ہاتھ لگایا۔ ہاتھ لگانا تھا کہ وہ نیلہائی دھڑام سے تخت پر گر پڑی۔ کہیں ذرا سی خراش آ گئی۔
صالحہ: کیا کہوں، مجھ کو تو یقین نہیں آتا کہ حمیدہ بھانجے کو بے سبب زمین پر روتا ہوا چھوڑ دے اور خالہ جان حمیدہ کی طرف ہو کر تم کو ماریں۔ بھلا جاؤں، خالہ جان سے پوچھوں۔
نعیمہ: حمیدہ کے بٹھا دینے کا سبب میں بتاؤں۔ ان کی نماز قضا ہوتی تھی اور ان کی اماں جان اس بات پر بگڑیں کہ میں نے نماز کو کیوں بُرا کہا۔
صالحہ: پھر تم نے نماز کو بُرا کہا تھا؟
نعیمہ: کہا تھا اور اب بھی کہتی ہوں۔ اماں جان کو تو کچھ نہیں کہا۔ نماز کو بُرا کہنا ان کو بُرا کیوں لگا؟
صالحہ: بھلا کوئی آدمی تمہارے ماں باپ کو بُرا کہے تو تم کو بُرا لگے یا نہ لگے؟
نعیمہ: اماں جان کو کوئی شوق سے بُرا کہے۔ مجھ کو ذرا بُرا لگنے کا ہی نہیں۔
صالحہ: آج یا سدا سے؟
نعیمہ: (مسکرانے لگی اور بولی) کم بخت بے حیا ہنسی کو دیکھو کہ خود بخود چلی آتی ہے۔ بوا، ایسی باتیں ہم سے نہ کرو۔
صالحہ: کیا خوب! میں تمہارے ایسے غصے سے نہیں ڈرتی۔ بہت کرو گی، خالہ جان نے تم کو ایک طمانچہ مارا ہے، تم مجھ کو دو طمانچے مار لینا۔ لیکن اماں باوا کا اتنا پاس نہیں تھا تو سسرال والوں سے لڑیں کیوں؟
نعیمہ: بات بات میں ناحق کوئی بُرا کہا کرے تو جی نہ جلے؟
صالحہ: میں یہ کب کہتی ہوں کہ نہ جلے۔ لیکن خالہ جان نے نماز کا پاس کیا اور ان کو تمہاری بات بُری لگی تو بے جا کیا ہوا؟
نعیمہ: تو کیا نماز ان کی اماں جان ہے یا نانی؟
صالحہ: جن کو ایمان ہے، ان کو اماں سے بڑھ کر پیاری اور نانی سے زیادہ عزیز ہے۔
نعیمہ: تو کیا میں تمہارے نزدیک بے ایمان ہوں؟
صالحہ: آدمی ہی بے ایمان بھی ہوتے ہیں۔ جو بے ایمانوں کا کام کرے، وہ بے ایمان۔ میں ہوئی تو میں اور تم ہوئیں تو تم۔
نعیمہ: دیکھو صالحہ! خدا کی قسم، ایسی باتوں پر لڑائی ہو جائے گی۔ بے ایمان تم ہوگی، تمہارے رہتے سہتے بے ایمان ہوں گے۔
صالحہ: خدا کے فضل سے تو میں بے ایمان نہیں ہوں۔ مگر رہتے سہتے کون ہوئے؟ تم؟
نعیمہ: بھلا ایمان سے کہنا، تم نے میری کون سی بات بے ایمانوں کی سی دیکھی؟
صالحہ: ایمان سے مت کہلواؤ۔
نعیمہ: نہیں، نہیں، خدا کی قسم۔ بھلا کوئی بات تو بتا دو۔
صالحہ: پھر بُرا تو نہیں مانو گی؟
نعیمہ: سچی بات میں بُرا ماننے کی کیا وجہ؟
صالحہ: سچ اور ایمان کی بات تو یہ ہے کہ تمہارے قول و فعل کوئی بھی ایمانداروں کے سے نہیں۔ اور مجھ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے؟ تم خود ہی بتا دو کہ فلانا کام ایمان والوں کا سا کرتی ہوں۔ کھانا پینا، سونا، گھر کا کام دھندا، بچوں کا پالنا، یہ تو دنیا میں بُرے بھلے سب ہی کیا کرتے ہیں۔ بھلا ایک کام تو ایسا بتاؤ جس سے تمہارا ایماندار ہونا پہچانا جائے۔
نعیمہ: بھلا دنیا میں تمہارے نزدیک کوئی ایمان دار ہے یا نہیں؟
صالحہ: کیوں نہیں۔ اللہ کے بندے سینکڑوں، ہزاروں۔
نعیمہ: بھلا میں بھی کسی کا نام سنوں؟
صالحہ: دور کیوں جاؤ۔ یہ تمہاری گلی ہی میں ایک حضرت بی رہتی ہیں، جن کے نواسے بھائی علیم کے ساتھ مدرسے میں پڑھنے جاتے ہیں۔ پس ایمان دار ان کو کہتے ہیں۔ دیکھو تو کیا نیک زندگی ہے۔
نعیمہ: میں تو ان کو دن بھر سیتے ہی دیکھتی ہوں۔
صالحہ: سچ ہے۔ مگر خدا کے واسطے غریب غربا کے کپڑے مفت اور امیروں کے مزدوری پر۔ لیکن جتنی سلائی ہوتی ہے، سب اللہ کے نام دے دیتی ہیں۔ ایک پیسہ اپنے اوپر خرچ نہیں کرتیں۔ یہ عمر اور کڑاکے کے جاڑوں میں پہر رات رہے سے اٹھ کر خدا کی عبادت۔ گھر میں نوکر نہیں، چاکر نہیں۔ اپنے ہاتھوں سے سارے گھر کا کام کاج۔ اور اس پر نماز کی یہ پابندی کہ نمازِ تہجد تک قضا نہیں ہونے پاتی۔ محلے میں کتنی لڑکیوں کو انھوں نے پڑھنا سکھایا، کتنوں کو حیوان سے انسان بنایا، اور حسبۃً للہ، بے غرض، بے مطلب۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مسجد کے کوئی پندرہ بیس مسافر دونوں وقت روٹی پکوانے کو آٹا بھیج دیتے ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے سب کا آٹا گوندھنا پکانا، گھر سے دال سالن جو کچھ وقت پر موجود ہو، دینا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سالن نہیں بچا، آپ روکھی ہی روٹی کھا کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ بے چارے مسافر اکثر جوار باجرے کا آٹا لے آتے ہیں۔ وہ تو آپ رکھ لیتی اور اپنے گھر سے ان کو گیہوں کی روٹی بھیج دیتی ہیں۔ ایک دن باجرے کی روٹی، وہ بھی روکھی، بیٹھی کھا رہی تھیں۔ نوالہ حلق سے نہیں اترتا تھا۔ ہر ہر لقمے کے بعد پانی پینے کی ضرورت ہوتی تھی۔ جو میں جا نکلی تو مجھ کو دیکھ کر کہنے لگیں، "بیٹا، مجھ کو باجرے کی روٹی بہت بھاتی ہے۔ کچھ ایسی سوندھی، میٹھی اور خستہ ہوتی ہے کہ سبحان اللہ!"
ایک طالبِ علم نے ان سے گاڑھے کی مرزائی سلوائی، اور شاید وہ پہلا ہی کپڑا تھا کہ اس بے چارے کو سلوانے کا اتفاق ہوا۔ اس واسطے کہ جب وہ شخص کپڑا لے کر دروازے پر آیا تو حضرت بی نے اس سے کہا کہ بیٹا، اپنی پرانی مرزائی بھیج دو کہ اس کو دیکھ کر قطع کر لوں۔ اس نے نہایت حسرت کے ساتھ کہا کہ مائی صاحبہ، میرے پاس مرزائی نہیں ہے۔
حضرت بی: بیٹا، مرزائی نہ ہو تو انگرکھا ہی سہی، خیر۔ کچھ انگل تو مل جائے گی۔
طالبِ علم: انگرکھا بھی نہیں۔
مجبوراً اندر پردے میں حضرت بی صاحب نے اس سے پوچھا کہ کمر کتنی ہے؟ چولی کتنی نیچی رہے گی؟ آستین کس قدر لمبی رہے گی؟ طالبِ علم نے بتایا۔ لیکن دیکھا تو کپڑا کم کرتا تھا۔ تب اس طالبِ علم نے کہا کہ مائی صاحب، جس طرح ہو سکے کھینچ تان کر اس میں بنا دو اور آج نمازِ جمعہ سے پہلے سی دو کہ الوداع کا دن ہے، میں جامع مسجد میں پہن کر جاؤں۔ غرض مرزائی سی گئی تو اس کے بدن پر ٹھیک نہ آئی۔ وہ بے چارہ مایوس ہو کر رو دیا، اور اس ناامیدی میں حضرت بی صاحب پر ایسا خفا ہوا کہ شاید گھر کی کوئی لونڈی پر بھی نہیں ہوتا۔ اندھی، بے وقوف، بے تمیز، پھوہڑ، بدسلیقہ، بے رحم، جو کچھ اس کے منہ میں آیا، بے دریغ کہہ دیا۔ باوجودیکہ گھر میں سب کو بُرا معلوم ہوا، لیکن حضرت بی صاحب روتی جاتی تھیں اور الٹی اس کی استمالت کرتی تھیں۔ بڑے نواسے کا نیا چکن کا کرتا اس کو دیا، لیکن اس نے دور اٹھا کر پھینک دیا اور کہا کہ مجھ کو بدن ڈھکنے کے واسطے کپڑے کی ضرورت ہے۔ یہ واہیات کپڑا میرے کس کام کا ہے جس کو پہن کر آدمی ننگے کا ننگا۔ حضرت بی نے اپنے نواسوں کی تمام گٹھڑیاں کھول ڈالیں۔ خاصہ، تن زیب، ململ، ڈھاکہ پاٹن، ڈوریہ، نینوں، سینوں، سوزن کار، طرح طرح کے خوش وضع اور طرح دار کپڑے اس کو دکھائے، اور ایک اس کو پسند نہ ہوا۔ کسی کو تو اس نے کہا، مردوں کے استعمال کے قابل نہیں۔ کسی کی نسبت تجویز کیا کہ یہ متکبروں کی پوشاک ہے۔ آخر حضرت بی نے بازار سے کورا لٹھا منگوا، نمازِ جمعہ سے پہلے اس کی مرزائی تیار کی، تب وہ طالبِ علم ٹلا۔ حضرت بی کی طرح کوئی اپنا پتا مارے، تب ایمان کا دعویٰ کرے۔ اب تم خود غور کر لو کہ دن رات میں تم ایمان داروں کے سے کتنے کام کرتی ہو۔
نعیمہ: ایک حضرت بی ایسی ہوئیں۔ بھلا کوئی دوسری عورت بھی شہر میں اس مزاج کی ہے؟
صالحہ: چونکہ تم اس طرح کے لوگوں سے نفرت کرتی ہو، اس واسطے تم کو معلوم نہیں، ورنہ شہر میں بہتیرے خدا کے نیک بندے پڑے ہیں۔ کہاں تک ان کے نام گنواؤں۔ ہے کیا، کوئی کم کوئی زیادہ۔ ایک میری ہی اماں ہیں۔ وہ بھی اپنے محلے کی حضرت بی ہیں۔
نعیمہ: دو چار آدمی اس طرح کے ہوئے سہی۔ میں تو اپنی ہی جیسی عورتیں اکثر دیکھتی ہوں۔
صالحہ: بے شک دنیا میں نیک کم ہیں اور بُرے بہت۔
نعیمہ: میں جانتی ہوں عورتوں کے واسطے بہت نماز روزے کی کچھ ضرورت نہیں۔ بس ان کی یہی عبادت ہے کہ گھر کے کام کاج دیکھیں، بچوں کی خبرگیری کریں۔ ان کو خانہ داری کے بکھیڑوں سے اتنی فرصت کہاں ملتی ہے کہ نماز پڑھا کریں۔ مرد البتہ، نہ کھانے پکانے کا فکر نہ بچوں کا جھگڑا، جتنی چاہیں عبادت کریں۔
صالحہ: مردوں کا کمانے کا تھوڑا کام ہے کہ بے چارے دن بھر اسی میں لگے رہتے ہیں۔ محلے کے دیکیوں کو دیکھو، منہ اندھیرے سے جو کھٹکھٹ شروع کرتے ہیں تو آدھی رات تک کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ پھر بھی جتنا خدا کا خیال مرد رکھتے ہیں، عورتیں کم بخت اس کا آدھا پاؤ بھی نہیں رکھتیں۔
نعیمہ: چاہے تم کچھ ہی کہو، عورت مرد کی برابری تو ہرگز نہ ہوگی۔ ضرور اللہ میاں نے عورتوں کے حق میں کچھ نہ کچھ آسانی رکھی ہوگی۔
صالحہ: سبب؟
نعیمہ: بھلا کہیں نگوڑی عورتوں سے محنت ہو سکتی ہے؟
صالحہ: عبادت میں نہ چھپر اٹھانا نہ لکڑیاں ڈھونی ہیں کہ عورتیں کمزوری کا عذر اور نزاکت کا حیلہ پیش کریں۔ بلکہ ایک حساب سے عورتوں کو زیادہ عبادت کرنی چاہیے، کیونکہ اوّل تو عورتوں کو عبادت کی فرصت زیادہ ملتی ہے، دوسرے خدا کی نعمتوں سے عورتیں زیادہ حصہ پاتی ہیں۔ کھانے پینے میں مرد عورت سب برابر ہوتے ہیں۔ کپڑے میں مرد بے چارے ایک تو عورتیں دس۔ عورتوں کا ایک پائجامہ مردوں کا ایک برس کا لباس۔ اور یوں بھی عورتوں کی پوشاک عموماً عمدہ اور بیش قیمت ہوتی ہے بہ نسبت مردوں کے۔ بڑی رقم ہے زیور۔ عورتوں کو سونے کی کان میں قبر کھود کر گاڑو، تب بھی بس نہیں۔ مرد بے چارے جو ثقہ اور وضع دار ہیں، چاندی کا چھلا تک بھی نہیں پہنتے۔ اس پر عورتیں عبادت میں کمی کریں تو ان کی وہی کہاوت ہے کہ کھانے کو زچہ اور کام کو ننھا بچہ۔
نعیمہ: تم تو اچھی میری قسمت کی سچ مچ مولوی صاحب بن کر آئیں۔
صالحہ: مولویوں کے درجے مولویوں کے ساتھ ہیں۔ میں بے چاری کس لائق ہوں، مولویوں کی جوتیوں کی برابری بھی نہیں کر سکتی۔
نعیمہ: افسوس ہے کہ تم ہماری اماں کے یہاں پیدا نہ ہوئیں۔
صالحہ: افسوس کی کیا بات ہے؟ بلکہ میں تو سمجھیں ہوں کہ شکر کا مقام ہے۔
نعیمہ: کیوں؟
صالحہ: تم بتاؤ کہ تم نے کیا سمجھ کر افسوس کیا؟
نعیمہ: میں نے تو یہ سمجھ کر افسوس کیا کہ تم ہماری اماں کے یہاں ہوئی ہوتیں تو دونوں کو اچھا تھا۔ ہماری اماں تم ہی جیسی بیٹی ڈھونڈتی ہیں، اور تم بھی امیر گھر پاتیں تو کھانا، کپڑا، زیور، نوکر، سبھی طرح کی خوشی تھی۔
صالحہ: اگر اس خوشی کا یہی نتیجہ ہے کہ آدمی خدا کو بھول جائے تو میرے نزدیک یہ تمام فراغت دنیا کا جنجال اور آخرت کا وبال ہے۔ کون چار دن کی خوشی کے واسطے ہمیشہ ہمیشہ کی مصیبت مول لے۔ مجھ کو خدا کے فضل سے پیٹ بھر روٹی اور تن بدن ڈھانک لینے کو کپڑا، رہنے کو مکان، لیٹنے کو چارپائی، پینے کو پانی، دم لینے کو ہوا، سب کچھ میسر ہے۔ میں نہیں جانتی کہ مجھ کو دنیا میں کوئی اور چیز بھی درکار ہے۔ سوائے اس کے کہ تم نے پتھر، یعنی سونا چاندی، مجھ سے زیادہ اپنے اوپر لاد لیے ہیں، اور بوجھ کے صدمے سے کان تمہارے کٹے پڑتے ہیں، ناک تمہاری چھد گئی ہے۔ اور تو کوئی فرق تم میں اور اپنے میں نہیں پاتی۔ میں یہ نہیں کہتی کہ خدانخواستہ تم کو کھانے کی تکلیف ہے۔ مگر صورت تمہاری یہ ہے کہ بدن پر بوٹی نہیں، ہاتھ پاؤں میں جان نہیں۔ ہر سال جلاب، ہر مہینے فصد، آئے دن دوا۔ مجھ کو دیکھو کہ خدا کے فضل سے تم سے دگنی نہیں تو ڈیوڑھی میں بھی شک نہیں۔ ایک ہاتھ سے تمہارے دونوں ہاتھ پکڑ لوں تو بیوی صاحب سے ہلا بھی نہ جائے۔
نعیمہ: بیماری بھی امیری کا تمغہ ہے۔ نگوڑے بھوکے جن کے پیٹ کو روٹی میسر نہیں، وہ کیا بیمار پڑیں گے۔
صالحہ: یہاں تمغے اور خلعت کا مذکور نہیں۔ تکلیف اور آرام میں گفتگو ہے۔
نعیمہ: جی تو خوش کر لو۔ لومڑی کو جب انگور نہیں ملتے تو ان کو کھٹا کہا کرتی ہے۔
صالحہ: اپنی اپنی سمجھ ہی تو ہے۔ تم میرے تئیں جانتی ہو کہ یہ تکلیف میں ہے، اور میں کہتی ہوں کہ تم ایسے عذاب میں مبتلا ہو کہ خدا دشمن کو بھی نصیب نہ کرے۔ کھانے پینے کے عیش و آرام جو تم کو میسر ہیں، ان کا نتیجہ تو یہ ہے کہ تم سدا کی دکھیا اور ہمیشہ کی روگی بن رہی ہو۔ رہا کپڑا، کچھ تم ہی اس کو پہن کر اپنے جی میں خوش ہوتی ہوگی۔ ابھی خالو جان یا بڑے بھائی آ جائیں تو سوائے اس کے کہ تم ان کے سامنے ہٹ بیٹھو، اور کیا تدبیر ہے؟ رہا زیور، جس کی زکوٰۃ نہ خیرات، اس سے بیڑیاں بہتر، طوق اور ہتھکڑی اچھی۔ بڑی خوشی محبت اور میل ملاپ کی ہوتی ہے۔ اس کا یہ حال ہے کہ تم ماں سے بُری، حمیدہ کی دشمن، ساس سسرال سے بگاڑ، میاں سے ناموافقت، نوکر شاکی، لونڈیاں نالاں۔ اسی پر تم اپنے تئیں سمجھتی ہو کہ خوش ہوں؟ ابھی تم پڑی رو رہی تھیں یا ہنس رہی تھیں؟
نعیمہ: سبحان اللہ! آپ بھی کیا آدمی ہیں۔ کیا گھروں میں کبھی لڑائی نہیں ہوا کرتی؟ چار برتن پاس رکھ دیتے ہیں تو وہ کبھی نہ کبھی کھڑکھڑا اٹھتے ہیں۔
صالحہ: اگر ایسا ہی سمجھتیں تو اتنی بات کا بتنگڑ نہ بناتیں۔
نعیمہ: میں نے کیا بتنگڑ بنایا؟
صالحہ: تم ہی اپنے دل میں سوچو۔ اماں کے ہاتھ لگانے پر یہ آفت۔ صبح سے اب تک آپ بھوکی مریں، سارے گھر کو بھوکا مارا۔ شاباش بوا، شاباش! لڑو ماں سے، روٹھو خدا سے۔
نعیمہ: ہیر پھیر کر تم کو خدا کا تذکرہ کرنا ضرور۔ بھلا میں کب خدا سے روٹھی؟
صالحہ: رزق خدا کا یا ماں باپ کا؟
نعیمہ: اللہ ری علامہ! دیکھو تو کیسی اینچ پینچ کی باتیں کرنا آتی ہیں!
صالحہ: تم کو پیچ و تاب کی باتیں آتی ہیں تو مجھ کو اینچ پینچ کی۔
نعیمہ: غصہ یہی تو ہے۔
صالحہ: اچھا غصہ ہے۔ باؤلا غیظ، دیوانہ غضب۔ ادھر بے جان پر اور ادھر بے زبان پر۔
نعیمہ: بے جان اور بے زبان کیا؟
صالحہ: کھانا بے جان اور بے زبان تمہارا بچہ نادان۔ میں نے سنا ہے کہ تم نے اس کا بھی خوب کچلا کیا۔
نعیمہ: کیا تو کسی کو کیا؟ اپنا بچہ شوق سے مارا، خوشی سے کچلا کیا۔
صالحہ: تم اپنے بچے کو شوق سے مارو اور خوشی سے کچلا کرو، پھر خالہ جان نے تم کو ایک تھپڑ ہولے سے مارا تو کیا غضب ہوا؟ جیسی تم اپنے بچے کی ماں، وہ تمہاری ماں۔
نعیمہ: ماں ماں برابر، لیکن بچہ بچہ برابر نہیں۔
صالحہ: لیکن تم دونوں میں زیادہ تر واجب الرعایت کون ہے؟
نعیمہ: میں۔
صالحہ: میں کے گلے پر چھری۔ کیا واجب الرعایت نکلی، میں! ذرا منہ تو دھو رکھو۔
نعیمہ: دیکھو، بڑوں کے ساتھ بے ادبی۔
صالحہ: بڑوں نے کی تو چھوٹوں نے سیکھی۔
نعیمہ: اجی، وہ کچھ بھی رعایت میرے ساتھ نہ کریں۔ اللہ مالک ہے۔
صالحہ: کیوں جھوٹ بولتی ہو؟
نعیمہ: بس سب کچھ کہنا، جھوٹی نہ کہنا۔ اس کی مجھ کو بڑی چڑ ہے۔ جو کوئی مجھ کو جھوٹی کہتا ہے تو میرے تن بدن میں آگ ہی تو پھک جاتی ہے۔
صالحہ: بھلا پھر تم اللہ کو مالک سمجھتی ہو جو کہتی ہو؟
نعیمہ: کوئی ایسا بھی بندہ بشر ہے جو اللہ کو مالک نہیں سمجھتا؟
صالحہ: اللہ کو مالک سمجھتیں تو ایسی بے جا بات بول اٹھتیں جس پر خالہ جان خفا ہوئیں، اور بجا خفا ہوئیں؟
نعیمہ: میں نے جان بوجھ کر تھوڑی ہی کہی تھی، منہ سے نکل گئی۔
صالحہ: لیکن کبھی خالو جان کی شان میں ایسی بات تمہارے منہ سے نہیں نکلتی، بلکہ خالو جان تو خیر، شاید بڑے بھائی جان کو بھی ایسا سخت کلمہ کہو تو ان کو کتنا بُرا لگے گا۔ کیا خدا کو بُرا نہ لگا ہوگا؟
یہ سن کر نعیمہ کسی قدر ڈری اور اس نے ہولے ہولے اپنے کلوں پر طمانچے مارے اور منہ سے بھی توبہ توبہ کہا۔
صالحہ: بس سمجھ لو کہ ایسا ہی ایک طمانچہ خالہ جان نے مارا سہی۔
نعیمہ: تو میں کیا کچھ کہتی ہوں یا میں نے کچھ کہا؟
صالحہ: اے کاش! تم سب کچھ کہہ لیتیں اور یہ ستم نہ کرتیں۔
نعیمہ: کیا؟
صالحہ: سارے دن گھر بھر کو بھوکا مارا۔ بچہ تمام دن دودھ کو پھڑکا۔ بیدارا بے چاری سہ درے میں پڑی پڑی ہائے ہائے کر رہی ہے۔ نہیں معلوم کہاں اس کے بے موقع لات لگی ہے کہ اب تک اس کا سانس پیٹ میں نہیں سمایا۔ اور پھر کہتی ہو کیا کیا؟
نعیمہ: خیر، اب تو جو کچھ ہونا تھا، ہو چکا۔
صالحہ: ہو تو نہیں چکا، ہو رہا ہے۔ لوگ بھوکے بیٹھے ہیں۔ بچہ پھڑکے چلا جاتا ہے۔
نعیمہ: اچھی، کچھ یہ بھی زبردستی ہے؟ ماروں اور رونے نہ دوں؟
صالحہ: تم کو اتنی بڑی ہو کر رونے کا نام لیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟
نعیمہ: جب مار کھانے میں غیرت نہ ہوئی تو رونے میں کیا شرم تھی۔
صالحہ: ماں ہوئی، استانی ہوئی، اگر ان کی مار کھانا بے عزتی ہے تو دنیا بے عزت ہے۔
نعیمہ: تم کو مار پڑی ہوتی تو جانتیں کہ عزت کی بات ہے یا بے عزتی کی؟
صالحہ: استانی جی کی مار تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ اماں جان نے بھی مجھ کو کوئی بیسیوں ہی دفعہ مارا ہوگا۔
نعیمہ: اب بڑے ہونے پر؟
صالحہ: اب میں کوئی بات ہی ایسی نہیں کرتی کہ ان کے خلافِ مزاج ہو۔
نعیمہ: میں نے بھی تو یہ سمجھ کر نہیں کہا تھا کہ اماں جان کو اتنا بُرا لگے، اور نہ کبھی پہلے اماں جان کو نماز روزے کا ایسا خیال ہوا جیسا کہ اب ہے۔
صالحہ: لیکن جب تم کو خالہ جان کئی مرتبہ روک چکی تھیں تو تم کو ان کی ممانعت کے خلاف پھر وہی بات نہیں کہنی چاہیے تھی۔
نعیمہ: کیوں جی، خدا کو میری بات بُری لگتی تو جو کچھ ہونا تھا، اسی وقت ہو نہ چکتا؟
صالحہ: پہلے تو یہ بتاؤ کہ بات بے جا اور بُری تھی یا نہیں؟
نعیمہ: خیر، بُری ہی سہی۔
صالحہ: سہی کیا معنی؟ شدت سے بُری اور بے جا تھی کہ تم اپنے بھائی تک کو ایسا کلمہ نہیں کہہ سکتیں۔ ایسی ہی باتوں کا نام کفر اور شرک ہے۔ مگر اس سے کہ تم کو فوراً سزا نہیں ملی، خوش نہیں ہونا چاہیے۔ خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں۔ عجب کیا ہے کہ ایسی ہی باتوں کا وبال تم کو گھر میں بسنے نہیں دیتا۔
نعیمہ: اماں مجھ کو تنہائی میں مار لیتیں تو مجھ کو اتنا رنج نہ ہوتا۔
صالحہ: سبحان اللہ! خطا بہ بازار و سزا در پسِ دیوار۔
نعیمہ: اچھا، پھر اب تمہاری مرضی کیا ہے؟
صالحہ: مرضی یہ ہے کہ چل کر خالہ جان کے روبرو ہاتھ جوڑو، ان کے پاؤں پڑو، اپنا قصور معاف کراؤ، کھانا آپ کھاؤ، دوسروں کو کھانے دو، بچے کو دودھ پلاؤ، حمیدہ کو بلا کر گلے لگاؤ، بیدارا کی دلداری اور تشفی کرو۔
نعیمہ: لو اور سنو۔ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔ میں ہی پٹوں اور میں ہی ہاتھ جوڑوں۔ اگر میرا قصور ہوتا بھی تو ہاتھ تو بندی نے آج تک نہ کسی کے آگے جوڑے اور نہ اب مجھ سے جوڑے جائیں۔ رہی حمیدہ، تم کہتی ہو گلے لگاؤ، اور میرا بس چلے تو اس کو جیتا نہ چھوڑوں۔ اور کھانے کی جو تم نے کہی، تو مجھ کو اب اس گھر کا نمک تک چکھنا حرام ہے۔ غرض جتنی باتیں تم نے کہیں، سوچ سمجھ کر تم ایسی ہی کہیں کہ ایک بھی مجھ سے شدنی نہیں۔ خیر، تمہاری خاطر سے ننھے کو دودھ پلاؤں گی۔ جاؤ، اسے لے آؤ۔ ورنہ ارادہ تو یہی تھا کہ اس کا اور اپنا دونوں کا خون کر دوں۔
صالحہ: اللہ اکبر! بی آپا! میں نہیں جانتی تھی کہ تمہارا غصہ اس قدر غضب کا بجھا ہوا ہے۔
نعیمہ: میرا مزاج تو سدا سے اسی طرح کا ہے۔ مجھ سے کسی بات کی برداشت نہیں ہوتی۔
صالحہ: اب تم سے زیادہ کہنا لاحاصل ہے۔ بس معلوم ہو گیا کہ تم اپنی خوشی کی ہو۔
نعیمہ: جو بات کرنی تھی، وہ تو میں نے پہلے ہی کہہ دی کہ ننھے کو دودھ پلا دوں گی۔
صالحہ: تمام دن تو تم کو بے آب و دانہ گزر گیا، اور عمر بھر کے بدلے کا تم نے ایسا لمبا روزہ رکھا کہ پہر رات گزری مگر افطار ہونے میں نہیں آیا، اور نہ ابھی اس کے افطار ہونے کی امید ہے۔ تو دودھ رہا کہاں ہوگا کہ تم ننھے کو پلاؤ گی؟
نعیمہ: رہے یا نہ رہے، مگر میں اس گھر کا کھانا کھاؤں، مردار کھاؤں۔
صالحہ: پھر آخر کرو گی کیا؟ یہ تو ممکن نہیں کہ بے کھائے گزر ہو۔ ایک ہی وقت میں دیکھو تمہارا کیا حال ہو گیا ہے۔ اب رات کو خالی پیٹ نیند بھی نہیں آئے گی۔
نعیمہ: میں تو جانے کو تیار بیٹھی ہوں۔ تم نہ آ جاتیں تو اب تک کبھی کی چلی بھی گئی ہوتی۔
صالحہ: کہاں؟ سسرال؟
نعیمہ: اگر میں سسرال جاؤں تو گڑھے سے نکلوں اور کنوئیں میں گروں۔
صالحہ: پھر کہاں؟
نعیمہ: جہاں سینگ سمائیں۔
صالحہ: باؤلی ہوئی ہو؟ کیسی باتیں کرتی ہو؟ اگر خالہ جان یہ بات سن پائیں، نہیں معلوم کیا آفت برپا کریں۔ اور گھر سے باہر قدم نکالنا تو بڑی بات ہے۔
نعیمہ: تم کیا سمجھیں؟ میں اپنی ہمسائی کے یہاں جانے کو کہہ رہی ہوں۔ کیا یوں ہر روز میں ہمسائی کے گھر نہیں جاتی ہوں؟
صالحہ: وہ جانا اور ہے، اور گھر سے لڑ کر بے حکم پاؤں باہر نکالنا دوسری بات ہے۔ خبردار! ایسا لفظ بھول کر بھی منہ سے مت نکالنا۔ نہیں معلوم کیا سے کیا ہو جائے۔ اور خود ہمسائی جن کے برتے پر پھولی ہو، تم کو اپنے دروازے کے اندر قدم تو رکھنے دینے ہی کی نہیں۔ چاہو جا دیکھو۔ اور فرض کیا کہ تم یہاں سے نکلنے پائیں اور ہمسائی کی بھی ایسی ہی شامت آئی اور انھوں نے تم کو گھر میں آنے دیا، تو ان کو خود دو دو وقت کھانا میسر نہیں آتا، تم کو کہاں سے کھلائیں گی؟
نعیمہ: نوج، میں ان کے یہاں کیوں کھانے لگی؟ کیا میرے پاس زیور نہیں؟ ابھی تو پٹاری میں کچھ نہ ہوگا تو چالیس پچاس روپے پڑے ہوں گے۔
صالحہ: گڑ کھاؤں، گلگلوں سے پرہیز۔ جن کا کھانا، انھی کا بنوایا ہوا زیور، انھی کے دیے ہوئے روپے۔ ہم تو جب جانیں کہ ان کی چیز بھی صرف نہ کرو۔ اور ہمسائی، اوّل تو میں حیران ہوں کہ تم کو بٹھاتیں تو کہاں بٹھاتیں۔ کلھیا جتنا گھر، اس میں بھی ایک آپ، ایک میاں، تین بیٹے، بہوئیں اور ان کے بچے۔ دو بیٹیاں مہمان آئی ہوئی ہیں۔ ان کے گھر میں تل رکھنے کی جگہ تو ہے ہی نہیں۔ بے چاری آپ تو ڈیوڑھی میں چارپائی بچھا کر سوتی ہیں۔ تم کو رات کے وقت کہاں لٹاتیں اور کہاں سلاتیں؟ اور تم کو غیر مردوں میں جاتے ہوئے شرم نہ آتی؟ اور پھر ہمسائی تم کو پناہ دیتی بھی تو خالہ جان ہی کا پاس کر کے۔ غرض قربان جائیے تمہاری عقل کے۔ تدبیر بھی سوچی تو اوندھی، علاج بھی تجویز کیا تو الٹا۔ اس سے بہتر تھا کہ تم سسرال چلی جاتیں۔
نعیمہ: نہ سسرال جاؤں نہ یہاں کھاؤں۔
صالحہ: تم کو اختیار ہے، جو چاہو سو کرو۔ لیکن کیا لڑائی تمہارے کھانے پر ہوئی ہے؟
نعیمہ: کھانے پر تو لڑائی نہیں ہوئی، لیکن میں ان کے گھر پر یوں نہ پڑی ہوتی تو مجال تھی کہ کوئی مجھ کو ہاتھ لگا لیتا۔
صالحہ: کرتیں کیا؟
نعیمہ: برابر سے میں بھی مارتی۔
صالحہ: بُرا مت ماننا۔ یہی نیت ہے تو تم گھر میں بھی بس چکیں۔ ماں کا یہ وقر، یہ ادب! مجھ کو تو اگر میری اماں جان بے خطا، بے قصور جوتیاں پر جوتیاں مار لیں تو ان شاءاللہ آنکھ بھی ان کے سامنے نہ کروں۔ اور دنیا جہان کی بیٹیوں کا یہی قاعدہ، یہی دستور ہے۔ تم ان کی بیٹی، وہ تمہاری ماں۔ کسی کو تمہارے معاملے میں کیا دخل؟ مگر آپا جان، دین تو گیا ہی گزرا ہوا، یہ لچھن دنیا میں بھی خوش اور آباد رہنے کے نہیں۔ خدا تم کو اتنی سمجھ دے کہ تم انھی باتوں کو اپنی خانہ ویرانی کا سبب سمجھو۔ مجھ کو حیرت ہے کہ کیونکر یہ بات تمہارے دل نے تسلیم کی کہ خالہ جان کو تمہارا رہنا ناگوار ہے اور انھوں نے اس وجہ سے تمہارے ساتھ سختی کی کہ وہ تم کو اپنے پاس دیکھ نہیں سکتیں۔ بھلا دنیا میں کوئی ماں بھی اس طرح کی ہوگی؟ تمہاری خانہ ویرانی کا رنج تم سے زیادہ ان کو ہے۔ ذرا اس کا مذکور آ جاتا ہے تو ان کے آنسو نکل پڑتے ہیں۔ حاضر غائب دعا کیا کرتی ہیں کہ الٰہی، میری نعیمہ کو اس کے گھر آباد کر۔ بھلا تم ہی انصاف کرو کہ سوائے اس بات کے تم نے ان کی کسی اور بات سے بھی ان کا رخ بدلا ہوا پایا؟ کھانے میں ان کو یہ اہتمام رہتا ہے کہ پہلے تم اور پیچھے وہ۔ اور میں نے ہفتوں رہ کر دیکھا ہے، خالو جان اور بڑے بھائی جان تک کو سادی چپاتیاں ملتی ہیں اور تمہارے دو پراٹھے انھوں نے ناغہ نہیں ہونے دیے۔ چار پیسے روز کا سودا جو تمہارا سدا کا معمول ہے، تم ہی بتاؤ، کبھی نہیں بھی دیا؟ ایک دن حمیدہ نے ضد کی تھی اور کہا تھا کہ میں بھی چار پیسے لوں گی، تو جھڑک دیا کہ ہاں، اب تو بڑی بہن کی برابری کرنے لگی۔ آٹھویں دن کی مہندی، مہینے کے مہینے چوڑیاں۔ تم ہی بولو، یہ دستور کبھی قضا ہوا ہے؟ کپڑے لوگ ایسے جہیز میں بھی نہیں دیتے جو وہ تم کو گھر میں پہناتی ہیں۔ بھلا بے گوٹے کا دوپٹہ، بے ہمک کا پائجامہ کبھی تم کو پہنایا ہے؟ تیل، عطر، پان، پھول، مہندی، سرمہ، مسی، لاکھ، منجن اور ابٹنا، یہی عورتوں کی چیزیں ہیں۔ سچ کہنا، تم کو کبھی ان میں سے کسی چیز کے مانگنے کی ضرورت ہوتی ہے؟ خدمت کو لونڈی جدا، لڑکے کی کھلائی الگ۔ بلکہ سچ پوچھو تو کنوار پنے سے کہیں زیادہ قدر ہوتی ہے۔ خالہ جان ایک دن تمہارے دوپٹے میں بیٹھی تولی ٹانک رہی تھیں۔ خالو جان کی قبا میں بند ٹانکنے تھے، کچہری جانے کو دیر ہوتی تھی۔ اس پر خالو جان نے کہا کہ لڑکی کا دوپٹہ رہنے دو، پھر ہو رہے گا۔ پہلے میری قبا میں بند ٹانک دو۔
خالہ جان: واہ! لڑکی سر کھولے بیٹھی ہے۔ تم کو ایسی کیا جلدی ہے؟ ابھی تو دھوپ بھی چبوترے سے نہیں اتری۔
خالو جان: کیا سادہ دوپٹہ اوڑھنا منع ہے؟
خالہ جان: وہ بے چاری کیا کچھ کہتی ہے؟
خالو جان: تو تم اپنی ہی طرف سے خیر خواہی کے اہتمام میں لگی رہتی ہو۔
خالہ جان: میں ہوں کس قابل، مگر خیر، جو کچھ ہو سکتا ہے، کیے جاتی ہوں۔ مجھ کو ہر وقت اس بات کا خیال لگا رہتا ہے کہ اس کا دل ہے غم زدہ۔ ایسا نہ ہو کہ کسی چیز کو اس کی طبیعت چاہے اور یہ لحاظ کے مارے منہ سے نہ کہہ سکے اور ارمان جی کا جی ہی میں رہ جائے۔
اگر خالہ جان کو تمہارے ساتھ عداوت تھی تو خود کھانا کھا لیتیں۔ دشمن کا یہی کام ہے کہ فاقے میں ساتھ دے اور شریکِ مصیبت ہو؟ وہ حمیدہ جس کو تم کہتی ہو کہ پاؤں تو مار مار کر پرزے اڑا دوں، آج دن بھر اس کو تمہارے واسطے روتے گزرا ہے۔ یہ عمر اور اتنا صبر کہ صبح سے اب تک دانہ اس کے منہ میں نہیں گیا۔ نگوڑی ایسے بے سدھ پڑی ہے کہ گویا جان نہیں۔ ان لوگوں کا وہ حال اور تمہاری یہ کیفیت۔ ایک ذرا سی بات میں تمہارا دل اس قدر بھر گیا کہ ساری نیکی برباد، کل سلوک اکارت، تمام احسان غارت۔ پھر بھلا تم سے کوئی کیا توقع رکھے اور کس منہ پر تم سے ملے؟
نعیمہ: بھائی، یہ بات تو تمہاری واجبی ہے کہ ہمیشہ سے اماں جان مجھ کو بہت چاہتی ہیں، لیکن خدا جانے ان کو کیا ہو گیا تھا کہ بے تحاشا مار بیٹھیں۔
صالحہ: اچھا پھر، یونہی سمجھو کہ آدمی ہی تو ہیں۔ انھی سے زیادتی ہو گئی سہی۔ لیکن کیا انصاف ہے کہ اس ایک زیادتی کی وجہ سے ان کی عمر بھر کی مہربانی اور شفقت اور عنایت اور رعایت اور دل سوزی اور ہمدردی اور خیر خواہی اور پرورش اور نفع رسانی، ایک دم سے سب پر پانی پھیر دیا جائے؟
نعیمہ: مجھ کو رہ رہ کر ان کا تھپڑ کم بخت یاد آتا ہے۔
صالحہ: اس واسطے کہ تم نے ان کے حقوق بھلا رکھے ہیں۔
نعیمہ: کیا اماں جان نے تم سے کہا ہے کہ سمجھا بجھا کر نعیمہ کو خطا معاف کرانے کے لیے بلا لاؤ؟
صالحہ: ہرگز نہیں۔ ان کو تمہاری خطا معاف کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ نقصان تمہارا ہے یا ان کا؟ اور شاید ان کے دل میں یہ بات آئی بھی ہو تو تمہارے مزاج کو دیکھ کر بھلا ان کو یہ توقع ہو سکتی ہے کہ تم خطا کا اقرار اور معافی کی درخواست کرو گی؟
نعیمہ: بھلا اور جو میں گئی اور اماں جان منہ سے نہ بولیں تو مجھ کو اور شرمندگی ہوگی۔
صالحہ: ممکن ہے نہ بولیں، کیونکہ تمہاری خطا معمولی خطا نہیں ہے۔ مگر وہ پھر ماں ہیں، اور ماں بھی کیسی، بچوں پر اور خصوصاً تم پر دل سے فدا، جان سے قربان۔ شاید تم کو کوٹھری سے نکلتا ہوا دیکھ کر عجب نہیں کہ دوڑ کر خود تم سے لپٹ جائیں اور تم کو منہ سے کہنے کی بھی نوبت نہ آئے۔
نعیمہ: جی تو چاہتا ہے کہ جاؤں اور چلی بھی جاؤں، مگر شرم آتی ہے۔ بھلا کل پر رکھیں تو کیسا؟
صالحہ: تم کو خدا کا خوف نہیں آتا کہ سارا گھر فاقے سے ہے؟ رات بھر میں تمہارا اور ان سب کا کیا حال ہوگا؟
نعیمہ: بھائی، ہاتھ جوڑنے کو تو رہنے دو۔ کھانا اپنے نام سے منگوا بھیجو۔
صالحہ: اجی، مجھ سے کہو تو کھانے کو بھی رہنے دوں۔ بھوکی مرو گی تم یا تمہاری بہنیں۔ مگر بے صفائی کھانے کا لطف نہیں۔ ادھر تم افسردہ، ادھر وہ آزردہ۔ کھانا کیا خاک کھایا جائے گا؟ بس اتنی دیر کی بات ہے کہ تم کوٹھری کے باہر تک چلو۔
نعیمہ: بھائی، بس۔ زیادہ ہم کو دق مت کرو۔ کھانا منگواؤ، میں کھا لوں گی۔
صالحہ: ہو تو تم اپنی ضد کی پوری۔ کھانا کھاؤ گی تو کسی پر احسان کرو گی؟ کوٹھری سے باہر تک چلو تو البتہ میں جانوں کہ تم کو میری خاطر عزیز تھی۔
نعیمہ: چلو، بس۔ مجھ کو بچوں کی طرح مت پھسلاؤ۔ یہ بھی تمہاری خاطر ہے کہ میں مان گئی، ورنہ نعیمہ بندی ادھر کی دنیا ادھر ہو جاتی، ایک کی تو سنتی ہی نہیں۔
صالحہ: خاک مان گئیں؟ پتھر مان گئیں؟ میں اس کو منا منانا نہیں سمجھتی۔ کیا کروں، رات زیادہ گزر گئی اور لوگ بھوک سے بدحواس ہیں، ورنہ تم کو یہ دعویٰ ہے کہ میں کسی کی نہیں سنتی، اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ بات واجبی ہو تو کیا معنی کہ سننے والا اس کو تسلیم نہ کرے۔ اور دیکھو، میری اس وقت کی بات یاد رکھنا کہ تم کو خالہ جان کے آگے ہاتھ جوڑنے پڑیں گے۔
نعیمہ: خیر، جب پڑیں گے، تب جوڑ بھی لیں گے۔
اس کے بعد صالحہ کوٹھری سے نکل کر دوسرے قطعے میں خالہ کے پاس گئی۔ بہت سے لوگ سو گئے تھے، کچھ اونگھ رہے تھے۔ فہمیدہ اکیلی بیٹھی ہوئی دل ہی دل میں نہیں معلوم کیا باتیں کر رہی تھی کہ صالحہ جاتے کے ساتھ ہی بولی: "خالہ جان، مبارک! میرا اور آپا جان کا کھانا دے دیجیے۔"
فہمیدہ سنتے کے ساتھ چونک سی پڑی اور کہنے لگی، "سچ کہو؟"
بھانجی: آپ خود ان کو کھاتے ہوئے دیکھ لیں، تب تو سہی۔
خالہ: بھائی، تم نے تو کمال ہی کیا۔ کیونکر منایا؟ کس طرح سمجھایا؟ مجھ کو تو امید نہ تھی کہ وہ کسی ڈھب سے سیدھی ہوگی۔ اس کا غصہ ہے، خدا کی پناہ، جیسے کسی کو جن چڑھتا ہے۔ نہیں معلوم تم نے کیا سحر کیا کہ ایسے بھوت کو اتارا۔ ہم سب لوگ تو دن بھر ہلاک ہوئے، کوئی حکمت نہ چلی، کوئی تدبیر پیش رفت نہ ہوئی۔
صالحہ: میں تو ان کو یہاں آپ کے پاس لاتی اور آپ کے پاؤں پر ان کا سر رکھوا دیتی، لیکن کیا کروں، رات زیادہ گزر گئی اور لوگ بھوک سے بے تاب۔ خیر، ان شاءاللہ بشرطِ خیریت پھر دیکھا جائے گا۔ لائیے، کھانا نکالیے۔ اور جاؤں حمیدہ کو بھی جگاؤں، ہوشیار کروں کہ اس کا تو اور بھی بُرا حال ہوا ہوگا۔
خالہ نے تو کھانا نکالا اور صالحہ نے جا حمیدہ کو اٹھا بٹھایا۔ حمیدہ سوئی کیا تھی، ضعف و ناتوانی کی غفلت میں پڑی ہاتھ پاؤں توڑ رہی تھی۔ صالحہ کی آواز سنتے ہی آنکھ کھولنے سے پہلے کھڑی ہو گئی اور بڑی بہن کو سلام کیا۔ صالحہ نے پیار سے گلے لگا کر گودی میں لے لیا اور کہا، "حمیدہ، اس قدر سویرے تم سو رہا کرتی ہو؟"
حمیدہ: اماں جان سے پوچھ لیتی ہوں، اور جب وہ کہہ دیتی ہیں کہ ہاں، وقت آ گیا، تو نمازِ عشاء پڑھ کر سو رہتی ہوں۔
صالحہ: تم نے کچھ کھانے کو بھی کھایا؟
حمیدہ شرمندہ ہو کر چپ ہو رہی۔
صالحہ: بھوک لگی ہے؟
حمیدہ نے اس کا بھی کچھ جواب نہ دیا۔
صالحہ: چلو، ہم تم کو کھانا کھلائیں۔
حمیدہ: ہماری اماں جان نے کھانا کھایا؟
صالحہ: اماں جان بھی تمہارے ساتھ کھائیں گی۔
حمیدہ: اور ہماری آپا جان؟
صالحہ: تم کو دنیا جہان سے کیا مطلب؟ جس کو بھوک لگی ہوگی، آپ کھا لے گا۔
حمیدہ: ہے ہے! آپا جان نہ کھائیں اور میں کھا لوں؟ اچھی، خدا کے لیے تم کسی طرح آپا جان کو سمجھاؤ۔ آج انھوں نے تمام دن کچھ نہیں کھایا۔ ننھا دودھ کے لیے پھڑک پھڑک کر آخر سو گیا۔
یہ کہہ کر حمیدہ رونے لگی تو صالحہ نے اس کی تشفی کی، "حمیدہ، رو مت۔ آپا بھی کھائیں گی۔" غرض کوئی ڈیڑھ پہر رات گئے سب نے کھانا کھایا۔ صالحہ اور نعیمہ نے ایک ساتھ کوٹھری میں، اور باقی سب لوگوں نے اپنے اپنے دستور کے مطابق۔ کھانا کھانے کے بعد سو سلا رہے۔ مگر صالحہ اور نعیمہ میں کچھ گفتگو کھانے کے بعد بھی ہوئی۔ خود ہی نعیمہ بولی، "کیوں صاحب، اب تو آپ خوش ہوئیں؟ جو کچھ آپ نے کہا، میں نے کیا۔"
صالحہ: خوش تو میں تب ہوتی کہ جب صفائی ہو گئی ہوتی۔
نعیمہ: اچھی، اب بھی صفائی میں کچھ باقی رہ گیا؟ رفتہ رفتہ دس پانچ دن میں بول چال بھی ہونے لگے گی۔
صالحہ: دس پانچ دن؟
نعیمہ: اور کیا کل؟
صالحہ: ابھی تھوڑی دیر ہوئی کہ تم نے خود کہا کہ کل پر رکھو۔
نعیمہ: میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ میں کل بولنے بھی لگوں گی۔
صالحہ: تو خاک بھی صفائی نہیں ہوئی۔
نعیمہ: کھانا میں نے کھایا، اماں جان نے کھایا، حمیدہ نے کھایا۔ ننھا دیکھو دودھ پی رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر صفائی کیا ہوگی؟
صالحہ: خیر، میری زبردستی سے تم سب نے ایک ایک دو دو نوالے کھا لیے ہیں۔ میں اس کو کھانا نہیں سمجھتی۔ دودھ پلانے والی عورت کچھ نہ کھائے، تب بھی چار چپاتیاں تو کھائے۔ تم نے پاؤ ٹکڑا بھی نہ کھایا۔ چاولوں کو ہاتھ نہ لگایا۔ تمہارے سبب میں بھی بھوکی اٹھ کھڑی ہوئی۔ سمجھتی تھی کہ خیر، صبح کو اس کی کسر نکل جائے گی۔ سو تم نے ابھی سے امید توڑ دی۔
نعیمہ: سچ تو یہ ہے کہ اب اس گھر میں مجھ کو اپنا گزر ہوتا ہوا معلوم نہیں ہوتا، اور اب میرا جی لگنا بھی مشکل ہے۔
صالحہ: کیوں؟
نعیمہ: میں نے تم سے کہا نہیں کہ یہاں تو ایک مہینے سے ابا کا مزاج، اماں کے تیور، گھر کا رنگ ڈھنگ، سب کچھ بدلا ہوا ہے۔ اگرچہ مجھ سے ابھی تک نماز روزے کا تذکرہ نہیں کیا، لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ جب بڑے بھائی تک نوبت پہنچ گئی تو بھلا میں بے چاری کس گنتی میں ہوں۔ وہ، اللہ رکھے، اوّل تو مرد، دوسرے سب میں بڑے، تیسرے خدا کے فضل سے چنداں ان کے محتاج و دست نگر بھی نہیں۔ آج الگ ہو جائیں تو ان کی پلاؤ کی رکابی کہیں نہیں گئی۔ جس رجواڑے میں جا کھڑے ہوں گے، اپنی شاعری کے ہنر سے مصاحب یا ناظم یا چکلہ دار ہو جائیں گے۔ میں بدنصیب، ایک تو پردے میں بیٹھنے والی، دوسرے ایسا کوئی ہنر نہیں آتا کہ چار پیسے کا سہارا ہو۔ اس روزِ بد کی کیا خبر تھی، ورنہ آنکھوں دیکھتے دیکھتے ساتھ والی لڑکیاں کیسے کیسے کام سیکھ گئیں کہ ہنر کی بدولت گھر بیٹھے بادشاہت کر رہی ہیں۔ مجھ کو کہیں اپنا ٹھکانا نظر نہیں آتا۔ ماں باپ کے گھر ایسی پڑی ہوں جیسے گلی میں کتا۔ خدا واسطے کو کسی نے ٹکڑا ڈال دیا تو کھا لیا، ورنہ میرا کیا زور اور کون دعویٰ۔ ابا جان تو پہلے ہی سے کچھ واسطہ سروکار نہیں رکھتے۔ لڑکیوں سے بولنے اور بات کرنے کی ان کو عادت نہیں۔ اماں جان کا ایک سہارا تھا، سو انھوں نے ایسی دست درازی شروع کی کہ اب خدا ہی ان کے ہاتھ کو روکے گا تو رکے گا، ورنہ چھوٹا تو ہے ہی۔
صالحہ: آپا، تم اس قدر بے دل کیوں ہوتی ہو؟ کیا نماز کچھ ایسا بڑا مشکل کام ہے کہ اس کی وجہ سے تمام دقتیں تم کو پیش آتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں؟
نعیمہ: بوا، میں تو ہنسی دل لگی کی عادی ہوں۔ بھلا مجھ سے یہ اونگھتی اداس زندگی کاہے کو نبھے گی؟ لڑائی تو خیر آج ہوئی ہے، میرا تو کئی دن سے جی گھبرا رہا تھا۔
صالحہ: پھر آخر تم نے تدبیر کیا سوچی ہے؟
نعیمہ: ایک بات میری سمجھ میں آتی ہے۔ وہ یہ کہ میں تمہارے یہاں چلی جاؤں۔
صالحہ یہ سن کر چپکی ہوئی اور دیر تک چپ رہی تو نعیمہ بولی، "تم تو سن کر ایسی دم بخود ہوئیں کہ گویا میں سچ مچ تمہارے گھر جا رہی ہوں۔ ڈرو مت۔ میں نے تو تمہاری محبت آزمانے کے لیے ایک بات کہی، ورنہ میں نہ کہیں آؤں نہ جاؤں۔ یہ تو کیا، اس سے بھی زیادہ مصیبت ہو تو میں دوسرے کا احسان نہ اٹھاؤں۔"
صالحہ: یہ تم نے کوئی نرالی ادا سیکھی ہے؟ چھیڑ چھیڑ کر لڑنا۔ گھر جیسے میرا، ویسے تمہارا۔ جن کا گھر ہے، میں ان کی بیٹی اور تم بیٹیوں سے بڑھ کر۔ جاؤ گی تو اپنی خالہ کے گھر جاؤ گی، اور احسان اٹھاؤ گی تو اپنی خالہ کا اٹھاؤ گی۔ میں تم کو لے جانے والی کون اور منع کرنے والی کون؟
نعیمہ: اچھا تو میں پوچھتی ہوں کہ اگر میں چلی جاؤں تو خالہ جان کیا کہیں گی؟
صالحہ: جو میں کہتی ہوں، جو تمہاری اماں جان کہتی ہیں، وہی تمہاری خالہ جان کہیں گی۔ وہی ہر شخص کہے گا جو سنے گا۔ کیا خالہ جان جہان سے باہر یا انوکھی ہیں؟
نعیمہ: اجی، گھر سے تو نہ نکال دیں گی؟
صالحہ: یہاں تم کو گھر سے کوئی نکال رہا ہے جو وہاں سے خدانخواستہ نکال دے گا؟ نہیں معلوم اب تم کیسی باتیں کرنے لگی ہو۔ ایک اماں سے کیا لڑیں، سارے کنبے کو دشمن ٹھہرا لیا۔
نعیمہ: لیکن خالہ جان بے چاری غریب آدمی ہیں۔ کہاں سے میرا خرچ اٹھائیں گی؟
صالحہ: اب ایسی بھی گئی گزری ہوئی نہیں کہ مہینے بیس دن تم کو نہیں رکھ سکتیں۔
نعیمہ: مہینہ بیس دن کیسا، میں تو ساری عمر کے لیے جاتی ہوں۔
صالحہ: خدا نہ کرے کہ ساری عمر خالہ کے یہاں پڑی رہو۔ اللہ تم کو اپنے گھر آباد کرے اور تمہاری ماں کا کلیجا ٹھنڈا ہو۔
نعیمہ: میں بھی یہی سوچ کر جاتی ہوں کہ چند روز وہاں رہوں گی تو اماں جان کو بھی لڑائی جھگڑے کی باتیں بھول بسر جائیں گی۔ پھر بلوا بھیجیں گی تو چلی آؤں گی۔
صالحہ: میرے نزدیک بھی جانے میں کچھ قباحت کی بات نہیں، مگر اماں جان سے اجازت لے لو۔
نعیمہ: کیونکر پوچھوں؟
صالحہ: یہ بھی کوئی بڑا کام ہے؟ ابھی ان کے پاس چلی جاؤ اور جا کر کہو، میں خالہ جان کے یہاں جاتی ہوں۔ وہ کہہ دیں گی اچھا۔
نعیمہ: سچ کہنا، کہیں چلی نہ جاؤں۔ اتنا کام تم نہیں کر دیتیں؟
صالحہ: نہیں، میں نہیں کرتی۔
نعیمہ: ہماری بہن نہیں؟
صالحہ: نہیں، میں بہن نہیں بنتی۔ بیوی صاحب کو اتنا سمجھایا، خاک بھی اثر نہ ہوا۔
نعیمہ: نوج، کوئی ایسا بے مروت ہو۔
صالحہ: تم سے بھی بڑھ کر؟
نعیمہ: میری اچھی بہن۔
صالحہ: خیر، میں پوچھ دوں گی۔ لیکن کیا تم خالہ جان سے رخصت ہو کر نہ چلو گی اور چلتے وقت ان سے نہ ملو گی؟
نعیمہ: اس وقت جیسی ہوگی، دیکھی جائے گی۔
صالحہ: سنو بوا، اگر تمہارے دل میں دغا ہو تو پہلے سے کہہ دو۔ ایسا نہ ہو میں پوچھنے جاؤں اور تم بے ملے چل دو۔ ناحق مجھ کو شرمندگی ہو۔
نعیمہ: نہیں، میں نے تمہارے چھیڑنے کو کہا تھا۔ بھلا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ چلتے وقت اماں جان سے نہ ملوں؟ تم جاؤ، پوچھ آؤ۔
صالحہ: اس وقت رات زیادہ ہو گئی ہے۔ آخر صبح کی نماز میں خالہ جان کے ساتھ پڑھوں گی، اسی وقت پوچھ لوں گی۔
نعیمہ: اچھا پھر ڈولیوں کو تو اڈے پر اسی وقت کہلا بھیجو، ورنہ شاید وقت پر نہ ملیں۔
صالحہ: نہ ملیں گی تو ہمارے محلے سے آ جائیں گی۔
نعیمہ: اس میں دیر ہوگی۔
صالحہ: کیا شادی میں جا رہے ہیں کہ دیر ہوگی تو دلہن رخصت ہو جائے گی؟
نعیمہ: نہیں، چلنا ہے تو بس منہ اندھیرے چل دیں۔ ننھا ڈولی میں ڈرتا ہے۔
صالحہ: خیر، اسی وقت کہلا دیا جائے گا۔
اس کے بعد نعیمہ اور صالحہ دونوں سو رہیں۔ ابھی تارے چھٹکے ہوئے تھے کہ صالحہ اپنے معمول پر نمازِ صبح کے واسطے اٹھی۔ نعیمہ اس وقت غفلت کی نیند پڑی سو رہی تھی۔ نماز سے فارغ ہو کر صالحہ خالہ کے پاس جا کھڑی ہوئی اور بولی، "بس خالہ، اب میں جاؤں گی۔"
خالہ: ایں؟ ایسی جلدی؟ ع تم آگ لینے آئیں تھیں، پر کیا آئیں کیا چلیں۔
صالحہ: دس پندرہ دن بعد پھر آ جاؤں گی۔
خالہ: ذرا نعیمہ کے مزاج کو ٹھکانے لگنے دیا ہوتا۔
صالحہ: وہ بھی تو میرے ساتھ جانے کو کہتی ہیں۔
خالہ: سچ کہو؟
صالحہ: مجھ سے کہہ بھی دیا ہے کہ تم پوچھ لو۔
خالہ: اس کی مرضی ہے یا تم نے صلاح دی ہے؟
صالحہ: خود ان ہی کی مرضی ہے۔
خالہ: بھلا کچھ یہ بھی کہتی تھیں، کتنے دنوں کے واسطے؟
صالحہ: دنوں کی تعیین تو مجھ سے نہیں بیان کی۔
خالہ: خیر، اس نے دنوں کی تعیین نہیں کی تو میں تم سے کہے دیتی ہوں۔ آٹھ دن سے زیادہ مت رکھنا۔ ہماری بہن بے چاری غریب آدمی ہیں، ان کو تکلیف ہوگی۔
صالحہ: اب تو جب تک ان کا جی چاہے۔
خالہ: تم لیے تو جاتی ہو، مگر اتنا تو کرنا کہ اس کو بھی نیک ہدایت دینا۔
صالحہ: جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا، سمجھاؤں گی اور ان کو مولویوں کے وعظ سنواؤں گی۔ خدا کی ذات سے امید تو ہے کہ ضرور اثر ہوگا۔
اس کے بعد صالحہ نے گھر کے نوکر سے پوچھا کہ ڈولیوں کے واسطے رات کو جو کہلا بھیجا تھا، آئیں یا نہیں؟ معلوم ہوا کہ ڈولیاں توپ سے پہلے دروازے پر لگی ہوئی ہیں۔ تب صالحہ کوٹھری کی طرف چلی، اس غرض سے کہ نعیمہ کو جگائے اور اجازت کی خوش خبری سنائے۔ دیکھا تو نعیمہ پلنگ پر نہیں۔ سمجھی کہ دوسرے قطعے میں بچے کا منہ دھلاتی ہوگی، مگر وہاں بھی نعیمہ کو نہ پایا۔ معلوم ہوا کہ جب صالحہ خالہ کے ساتھ باتیں کر رہی تھی، نعیمہ چپکے سے اٹھ، بچے کو لے کر کوٹھری کی راہ ہو کر ڈولی میں جا سوار ہوئی۔ بے رخصت ہوئے چل دی۔ اب یہ کیا موقع تھا کہ ڈولی واپس منگائی جائے۔ ناچار صالحہ اکیلی خالہ کو سلام رخصت کرنے گئی تو خالہ نے کہا، "اے لڑکی، ایسی کیا بھاگڑ مچی ہے؟ نعیمہ کو اٹھنے دو۔ ناشتا کھا پی لو، تب جانا۔"
صالحہ: آپا تو گئیں بھی۔
خالہ: یہ کب؟
صالحہ: جس وقت میں بعد نماز آپ سے باتیں کر رہی تھی، اسی وقت وہ سوار ہو گئیں۔
خالہ: کیسی چپکے سے نکل گئی کہ میں نے اسے جاتے بھی نہ دیکھا۔
صالحہ: کھڑکی کی راہ سے گئیں۔
خالہ: تب ہی۔ مگر صالحہ، تم نے دیکھا اس کا غصہ؟ کتنا تم نے اس کے ساتھ سر مارا۔ میں باہر کھڑی ہوئی تمہاری باتیں سنتی تھی۔ لیکن اس کا یہ اثر ہوا کہ بے ملے چل دی۔ بھلا کہیں ایسا بھی غضب ہوا ہے کہ بیٹی ماں کے گھر سے یوں چلی جائے؟ اگر میں اس کی باتوں پر جاؤں تو جیتے جی صورت نہ دیکھوں۔ لیکن کیا کروں، یہ دل کم بخت مانتا نہیں۔ اس مزاج کی بدولت ان حالوں کو یہ پہنچ گئی، مگر ذرا اس کو خیال نہیں، مطلق اس کو پروا نہیں۔ دیکھیے اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہے، کیا اس کے نصیب میں بدا ہے۔ اس کے غم نے مجھ کو کھا لیا اور میں اس کے سوچ میں تمام ہو گئی۔
صالحہ: آپ رنج نہ کیجیے اور دل کو سنبھالیے۔ اب آپ نے ان باتوں کا خیال کیا ہے تو ان شاءاللہ رفتہ رفتہ سب درست ہو جائیں گے۔ یہی ہے کہ کوئی دیر کوئی سویر۔
اب ہم نعیمہ کو اسی جگہ چھوڑتے ہیں۔ جو اس کو پیش آیا اور جیسا اس کا انجام ہوا، پھر بیان کریں گے۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。